Sunan Abu Dawood 702

نماز کا بیان

702Sunan Abu Dawood

کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، وَابْنُ كَثِيرٍ الْمَعْنَى، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ الْمُغِيرَةِ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ حَفْصٌ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ، وَقَالَا: عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ قَيْدُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ وَالْمَرْأَةُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ الْأَسْوَدِ مِنَ الْأَحْمَرِ مِنَ الْأَصْفَرِ مِنَ الْأَبْيَضِ ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ (حفص کی روایت میں ہے) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ابوذر ؓ نے کہا جب آدمی کے سامنے کجاوہ کے اگلے حصہ کی لکڑی کے برابر کوئی چیز نہ ہو، تو گدھے، کالے کتے اور عورت کے گزر جانے سے اس کی نماز ٹوٹ جائے گی ١ ؎۔ میں نے عرض کیا: سرخ، زرد یا سفید رنگ کے کتے کے مقابلے میں کالے کتے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے ایسے ہی پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۔

Hafs reported that the Messenger of Allah ﷺ as saying, and the other version of this tradition transmitted through a different chain has: Abu Dharr said (and not the Prophet): If there is not anything like the back of a saddle in front of a man who is praying, then a donkey, a black dog, and a woman cut off his prayer. I asked him: Why has the black dog been specified, distinguishing it from a red, a yellow and a white dog? He replied: My nephew, I also asked the Messenger of Allah ﷺ the same question as you asked me. He said: The black dog is a devil.

Notes · وضاحت
١ ؎: جمہور علماء نے اس روایت کی تاویل یہ کی ہے کہ نماز ٹوٹنے سے مراد نماز میں نقص پیدا ہونا ہے، کیونکہ ان چیزوں کے گزرنے سے مصلی کا دھیان بٹ جاتا ہے اور خشوع و خضوع میں فرق آجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٥٠ (٥١٠)، سنن الترمذی/الصلاة ١٤١ (٣٣٨)، سنن النسائی/القبلة ٧ (٧٥١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٣٨ (٩٥٢)، (تحفة الأشراف: ١١٩٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٤٩، ١٥١، ١٥٥، ١٦٠، ١٦١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٢٨ (١٤٥٤) (صحیح )