Sunan Abu Dawood 705

نماز کا بیان

705Sunan Abu Dawood

کس چیز کے سامنے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَوْلَى يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نِمْرَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا بِتَبُوكَ مُقْعَدًا، فَقَالَ مَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يُصَلِّي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اقْطَعْ أَثَرَهُ، فَمَا مَشَيْتُ عَلَيْهَا بَعْدُ.

یزید بن نمران کہتے ہیں کہ میں نے تبوک میں ایک اپاہج کو دیکھا، اس نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے سے گدھے پر سوار ہو کر گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اس کی چال کاٹ دے ، تو میں اس دن کے بعد سے گدھے پر سوار ہو کر چل نہیں سکا۔

Yazid bin Namran said: I saw a crippled man at Tabuk. He (the man) said: I passed riding a donkey in front of the Prophet ﷺ who was praying. He said (cursing him): O Allah, cut off his walking. Thenceforth I could not walk.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٦٤، ٥/٣٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی مولی یزید مجہول ہیں )