امام سے قریب رہنا باعث ثواب ہے اور اس سے دور رہنا نا پسندیدہ ہے
حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَي سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِيَلِنِي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ.
ابومسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور باشعور لوگ میرے قریب رہیں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۔
Abu Masud reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: let those of your who are sedate and prudent be near me, then those who are next to them, then those who are next to them.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصلاة ٢٨ (٤٣٢)، سنن النسائی/الإمامة ٢٣ (٨٠٨)، ٢٦ (٨١٣)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ٤٥ (٩٧٦)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٢٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٥١ (١٣٠٢) (صحیح )