جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ١ ؎۔
Narrated Jubair bin Mutim: The Messenger of Allah ﷺ as saying: There is no alliance in Islam, and Islam strengthened the alliance made during pre-Islamic days.
Notes · وضاحت
١ ؎: کفار عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا ہم حلیف ہوتا، اور ہر ایک دوسرے کا حق و ناحق میں مدد کرتا تھا، سو فرمایا کہ اسلام میں کفر کی قسم اور عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٠ (٢٥٣٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٨٣) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا، تو ان (یعنی انس) سے کہا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف (عہد و پیمان) نہیں ہے؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے۔
Narrated Anas bin Malik (RA): The Messenger of Allah ﷺ established an alliance (of brotherhood) between the Emigrants and the Helpers in our house. He was asked: Did not the Messenger of Allah ﷺ say: There is no alliance in Islam ? He replied: The Messenger of Allah ﷺ established an alliance between the Emigrants and the Helpers in our house. This he said twice or thrice.
سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر ؓ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا ١ ؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Saeed said: Umar ibn al-Khattab said: Blood-money is meant for the clan of the slain, and she will not inherit from the blood-money of her husband. Ad-Dahhak ibn Sufyan said: The Messenger of Allah ﷺ wrote to me that I should give a share to the wife of Ashyam ad-Dubabi from the blood-money of her husband. So Umar withdrew his opinion. Ahmad ibn Salih said: AbdurRazzaq transmitted this tradition to us from Mamar, from az-Zuhri on the authority of Saeed. In this version he said: The Prophet ﷺ made him governor over the bedouins.
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آپ کو صحیح حدیث مل گئی، حدیث یا آیت کے مل جانے پر رائے اور قیاس پر اعتماد صحیح نہیں ہے، خلفاء راشدین ؓ کہ جن کی اتباع رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ضروری ہے ان کا یہ حال ہو کہ اپنی رائے و قیاس کو حدیث پہنچتے ہی چھوڑ دیں تو فقہاء و مجتہدین کی رائے کس شمار میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٩ (١٤١٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٢ (٢٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٢) (صحیح )