Sunan Abu Dawood 2927

فرائض کا بیان

2927Sunan Abu Dawood

عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يَقُولُ: الدِّيَةُ للْعَاقِلةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيَّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمْرُ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِح، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ، عَنْمُعَمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَقَالَ فِيهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ.

سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر ؓ نے اپنے قول سے رجوع کرلیا ١ ؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا۔

Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Saeed said: Umar ibn al-Khattab said: Blood-money is meant for the clan of the slain, and she will not inherit from the blood-money of her husband. Ad-Dahhak ibn Sufyan said: The Messenger of Allah ﷺ wrote to me that I should give a share to the wife of Ashyam ad-Dubabi from the blood-money of her husband. So Umar withdrew his opinion. Ahmad ibn Salih said: AbdurRazzaq transmitted this tradition to us from Mamar, from az-Zuhri on the authority of Saeed. In this version he said: The Prophet ﷺ made him governor over the bedouins.

Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آپ کو صحیح حدیث مل گئی، حدیث یا آیت کے مل جانے پر رائے اور قیاس پر اعتماد صحیح نہیں ہے، خلفاء راشدین ؓ کہ جن کی اتباع رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ضروری ہے ان کا یہ حال ہو کہ اپنی رائے و قیاس کو حدیث پہنچتے ہی چھوڑ دیں تو فقہاء و مجتہدین کی رائے کس شمار میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الدیات ١٩ (١٤١٥)، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٢ (٢٦٤٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٢) (صحیح )