طلاق کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 8 · 138 hadiths · Page 7 of 7

2297Sunan Abu Dawood

جس عورت کو تین طلاقیں ہوچکی ہوں وہ دوران عدت ضرورة گھر سے باہر جا سکتی ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: طُلِّقَتْ خَالَتِي ثَلَاثًا فَخَرَجَتْ تَجُدُّ نَخْلًا لَهَا، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَنَهَاهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهَا: اخْرُجِي فَجُدِّي نَخْلَكِ لَعَلَّكِ أَنْ تَصَدَّقِي مِنْهُ أَوْ تَفْعَلِي خَيْرًا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہوسکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو ۔

Al-Qasim ibn Muhammad and Sulayman ibn Yasar reported: Yahya ibn Saeed ibn al-As divorced the daughter of Abdur-Rahman ibn al-Hakam absolutely. Abdur-Rahman shifted her (from there). Aisha (RA) sent a message to Marwan ibn al-Hakam who was the governor of Madina, and said to him: Fear Allah, and return the woman to her home. Marwan said (according to Sulaymans version): Abdur-Rahman forced me. Marwan said (according to the version of al-Qasim): Did not the case of Fatimah daughter of Qays reach you? Aisha (RA) replied: There would be no harm to you if you did not make mention of the tradition of Fatimah. Marwan said: If you think that it was due to some evil (i. e. reason), then it is sufficient for you to see that there is also an evil between the two.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٧ (١٤٨١)، سنن النسائی/الطلاق ٧١ (٣٥٨٠)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٩ (٢٠٣٤)، (تحفة الأشراف: ٢٧٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢١)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٤) (صحیح )
2298Sunan Abu Dawood

جس عورت کا شوہر مر جائے اس کو ایک سال کا خرچ دینا میراث کی آیت سے منسوخ ہو گیا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج اور تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے (سورۃ البقرہ: ٢٤٠) میراث کی آیت نازل ہوجانے کے بعد منسوخ ہوگیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کردیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آجانے کے بعد منسوخ ہوگیا۔

Maimun bin Mihram said “I came to Median and went to Saeed bin Al Musayyab”. I said (to him) Fathimah daughter of Qais was divorced and she shifted from her house. Saeed said “This woman has perverted people. She was arrogant so she was placed with Ibn Umm Makhtum, the blind. ”

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٦٩ (٣٥٧٣)، (تحفة الأشراف: ٦٢٥٠، ١٩١١٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر ٤١ (٤٥٣١)، الطلاق ٥٠(٥٣٤٤) (حسن )
2299Sunan Abu Dawood

شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ، فَدَعَتْ بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةٌ خَلُوقٌ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ثُمّ قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.

حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ ؓ نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ کے والد ابوسفیان ؓ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے ۔ زینب ؓ کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔ زینب ؓ کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر فرمایا: تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب ؓ سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔

Jabir said “My maternal aunt was divorced by three pronouncements and she went out to cut down fruit from her palm trees. A man met her and forbade her (to go out). So she went to the Prophet ﷺ and mentioned it to him. He said “Go out, and cut down fruit from your palm trees for perhaps you may give alms (sadaqah) or do an act of kindness.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١)، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٦)، ٤٧ (٥٣٣٨)، ٥٠ (٥٣٤٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠)، ٥٩ (٣٥٥٧)، ٦٣ (٣٥٦٣)، ٦٧ (٣٥٦٨)، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٦، ١٨٢٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
2299Sunan Abu Dawood

شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے

زینب ؓ کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش ؓ کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوگیا تھا، انہوں نے (بھی) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے سنا: کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔

The Quranic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i. e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them.

2299Sunan Abu Dawood

شوہر کی وفات پر عورت سوگ منائے

زینب ؓ کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ ؓ کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر فرمایا: تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کرسکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب ؓ سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کرسکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کرسکتی تھی، جب سال پورا ہوجاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں:حفش چھوٹے گھر (تنگ کوٹھری) کو کہتے ہیں۔

Humaid ibn Nafi reported the following three traditions on the authority of Zaynab, daughter of Abu Salamah (RA) : Zainab said: I visited Umm Habibah when her father Abu Sufyan, died. She asked for some yellow perfume containing saffron (khaluq) or something else. Then she applied it to a girl and touched her cheeks. She said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband. Zaynab said: I also visited Zaynab, daughter of Jahsh, when her brother died. She asked for some perfume and used it upon herself. She then said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah ﷺ say when he was on the pulpit: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband. Zaynab said: I heard my mother, Umm Salamah, say: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, the husband of my daughter has died, and she is suffering from sore eyes; may we put antimony in her eyes? The Messenger of Allah ﷺ said: No. He said this twice or thrice. Each time he said: No. The Messenger of Allah ﷺ said: The waiting period is now four months and ten days. In pre-Islamic days one of you used to throw away a piece of dung at the end of a year. Humayd said: I asked Zaynab (RA) : What do you mean by throwing away a piece of dung at the end of a year. Zaynab replied: When the husband of a woman died, she entered a small cell and put on shabby clothes, not touching perfume or any other thing until a year passed. Then an animal such as donkey or sheep or bird was provided for her. She rubbed herself with it. The animal with which she rubbed herself rarely survived. She then came out and was given a piece of dung which she threw away. She then used perfume or something else which she desired. Abu Dawud said: The Arabic word hafsh means a small cell

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٣٠ (١٢٨١)، والطلاق ٤٦ (٥٣٣٦)، ٤٧ (٥٣٣٨)، ٥٠ (٥٣٤٥)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (١٤٨٨)، سنن النسائی/الطلاق ٥٥ (٣٥٣٠)، ٥٩ (٣٥٥٧)، ٦٣ (٣٥٦٣)، ٦٧ (٣٥٦٨)، سنن الترمذی/الطلاق ١٨ (١١٩٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٤ (٢٠٨٤)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٧٦، ١٨٢٥٩)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣٥ (١٠١)، مسند احمد (٦/٣٢٥، ٣٢٦)، سنن الدارمی/الطلاق ١٢ (٢٣٣٠) (صحیح )
2300Sunan Abu Dawood

شوہر کی وفات کے بعد عورت اس کے گھر میں عدت گزارے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ عَجْرَةَ، أَنَّ الْفُرَيْعَةَ بِنْتَ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ وَهِيَ أُخْتُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَخْبَرَتْهَا، أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهَا فِي بَنِي خُدْرَةَ، فَإِنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْبُدٍ لَهُ أَبَقُوا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِطَرَفِ الْقَدُومِ لَحِقَهُمْ فَقَتَلُوهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي، فَإِنِّي لَمْ يَتْرُكْنِي فِي مَسْكَنٍ يَمْلِكُهُ وَلَا نَفَقَةٍ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجْرَةِ أَوْ فِي الْمَسْجِدِ، دَعَانِي أَوْ أَمَرَ بِي، فَدُعِيتُ لَهُ، فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتِ ؟فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ الَّتِي ذَكَرْتُ مِنْ شَأْنِ زَوْجِي، قَالَتْ: فَقَالَ: امْكُثِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ، قَالَتْ: فَاعْتَدَدْتُ فِيهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ أَرْسَلَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَاتَّبَعَهُ وَقَضَى بِهِ.

زینب بنت کعب بن عجرۃ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان ؓ (ابو سعید خدری ؓ کی بہن) نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ کیا وہ قبیلہ بنی خدرہ میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر رہ سکتی ہیں؟ کیونکہ ان کے شوہر جب اپنے فرار ہوجانے والے غلاموں کا پیچھا کرتے ہوئے طرف القدوم نامی مقام پر پہنچے اور ان سے جا ملے تو ان غلاموں نے انہیں قتل کردیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤں؟ کیونکہ انہوں نے مجھے جس مکان میں چھوڑا تھا وہ ان کی ملکیت میں نہ تھا اور نہ ہی خرچ کے لیے کچھ تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں (وہاں چلی جاؤ) فریعہ ؓ کہتی ہیں: (یہ سن کر) میں نکل پڑی لیکن حجرے یا مسجد تک ہی پہنچ پائی تھی کہ آپ ﷺ نے مجھے بلا لیا، یا بلانے کے لیے آپ ﷺ نے کسی سے کہا، (میں آئی) تو پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے اپنے شوہر کے متعلق ذکر کیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اسی گھر میں رہو یہاں تک کہ قرآن کی بتائی ہوئی مدت (عدت) پوری ہوجائے فریعہ ؓ کہتی ہیں: پھر میں نے عدت کے چار مہینے دس دن اسی گھر میں پورے کئے، جب عثمان بن عفان ؓ کا دور خلافت آیا تو انہوں نے مجھے بلوایا اور اس مسئلہ سے متعلق مجھ سے دریافت کیا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے اسی کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا۔

Zaynab, daughter of Kab ibn Ujrah narrated that Furayah daughter of Malik ibn Sinan, told her that she came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him whether she could return to her people, Banu Khidrah, for her husband went out seeking his slaves who ran away. When they met him at al-Qudum, they murdered him. So I asked the Messenger of Allah ﷺ : Should I return to my people, for he did not leave any dwelling house of his own and maintenance for me? She said: The Messenger of Allah ﷺ replied: Yes. She said: I came out, and when I was in the apartment or in the mosque, he called for me, or he commanded (someone to call me) and, therefore, I was called. He said: what did you say? So I repeated my story which I had already mentioned about my husband. Thereupon he said: Stay in your house till the term lapses. She said: So I passed my waiting period in it (her house) for four months and ten days. When Uthman ibn Affan became caliph, he sent for me and asked me about that; so I informed him, and he followed it and decided cases accordingly.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الطلاق ٢٣ (١٢٠٤)، سنن النسائی/الطلاق ٦٠ (٣٥٥٨)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣١ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطلاق ٣١ (٨٧)، مسند احمد (٦/٣٧٠، ٤٢٠)، سنن الدارمی/الطلاق ١٤ (٢٣٣٣) (صحیح )
2301Sunan Abu Dawood

ان کی رائے جن کے نزدیک مطلقہ کے لئے نقل مکانی درست ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا شِبْلٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَالَابْنُ عَبَّاسٍ: نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: عِدَّتَهَا عِنْدَ أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240. قَالَ عَطَاءٌ: إِنْ شَاءَتِ اعْتَدَّتْ عِنْدَ أَهْلِهِ وَسَكَنَتْ فِي وَصِيَّتِهَا، وَإِنْ شَاءَتْ خَرَجَتْ، لِقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ سورة البقرة آية 240، قَالَ عَطَاءٌ: ثُمَّ جَاءَ الْمِيرَاثُ فَنَسَخَ السُّكْنَى تَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں غير إخراج (سورة البقرہ: ٢٤٠) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کردی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آگیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہوگیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔

Ibn Abbas said “The following verse abrogated the rule of passing her waiting period with her people. A year’s maintenance and residence. She may pass her waiting period now anywhere she wishes. Ata said “If she wishes she can pass her waiting period with the people of her husband and live in the house left by her husband by will. Or she may shift if she wishes according to the pronouncement of Allah the Exalted. But if they leave (the residence) there is no blame on you for what they do. Ata’ said “Then the verses regarding inheritance were revealed. The commandment for living in a house (for one year) was repealed. She may pass her waiting period wherever she wishes.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التفسیر ٤١ (٤٥٣١)، الطلاق ٥٠ (٥٣٤٤)، سنن النسائی/ الکبری/ الطلاق (٥٧٢٥)، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٠) (صحیح )
2302Sunan Abu Dawood

عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ الْقُهِسْتَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ، عَنْ هِشَامٍ، وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ الْجَرَّاحِ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تُحِدُّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا أَدْنَى طُهْرَتِهَا إِذَا طَهُرَتْ مِنْ مَحِيضِهَا بِنُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ. قَالَ يَعْقُوبُ مَكَانَ عَصْبٍ: إِلَّا مَغْسُولًا. وَزَادَ يَعْقُوبُ: وَلَا تَخْتَضِبُ.

ام عطیہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی (اس عرصہ میں) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو (حیض کے مقام پر) استعمال کرے ۔ راوی یعقوب نے: سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے بجائے: دھلے ہوئے کپڑے کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔

Umm Athiyah reported the Prophet ﷺ as saying “A woman must not observe mourning for more than three (days) except for four months and ten days in the case of a husband and she must not wear a dyed garment except one of the types made of dyed yarn or apply collyrium or touch perfume except for a little costus or azfar when she has been purified after her menstrual courses. The narrator Ya’qub mentioned the words “except washed clothes” instead of the words “one of the types made of dyed yarn”. Ya’qub also added “She must not apply Henna”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ١٢ (٣١٣)، الجنائز ٣٠ (١٢٧٨)، الطلاق ٤٧ (٥٣٣٩)، ٤٩ (٥٣٤٢)، صحیح مسلم/الطلاق ٩ (٩٣٨)، سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٤)، ٦٥ (٣٥٦٦)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٥ (٢٠٨٧)، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٦٥)، سنن الدارمی/الطلاق ١٣ (٢٣٣٢) (صحیح )
2303Sunan Abu Dawood

عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَمَالِكُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْحَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ. وَلَيْسَ فِي تَمَامِ حَدِيثِهِمَا. قَالَ الْمِسْمَعِيُّ: قَالَ يَزِيدُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ فِيهِ: وَلَا تَخْتَضِبُ. وَزَادَ فِيهِ هَارُونُ: وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ.

ام عطیہ ؓ سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے، لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ خضاب نہ لگائے اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ: رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے ۔

The tradition mentioned above has also been narrated by Al‘Umm Athiyah from the Prophet ﷺ through a different chain of narrators. The tradition narrated by Yazid bin Harun from Hisham does perfectly correspond to the tradition transmitted by Ibrahim bin Tahman and Abdullah Al Shami from Hisham. The narrator Al Misma’I reported Yazid as saying “I do not know but that he said “she should not dye herself. ” To this the narrator Harun added “She should not wear colored clothes except one of the types made of dyed yarn. ”

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٨١٣٤) (صحیح )
2304Sunan Abu Dawood

عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي بُدَيْلٌ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ وَلَا الْمُمَشَّقَةَ وَلَا الْحُلِيَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَكْتَحِلُ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ نہ زرد اور گیروے رنگ کا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے، نہ خضاب (مہندی وغیرہ) لگائے، اور نہ سرمہ لگائے ١ ؎۔

Narrated Umm Salamah, Ummul Muminin (RA) : The Prophet ﷺ said: A woman whose husband has died must not wear clothes dyed with safflower (usfur) or with red ochre (mishq) and ornaments. She must not apply henna and collyrium.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تمام کام بناؤ سنگار کے ہیں، اس لئے عدت میں ان سے پرہیز ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٦٤ (٣٥٦٥)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٠٢) (صحیح )
2305Sunan Abu Dawood

عدت گزارنے والی عورت کو کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ الضَّحَّاكِ، يَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي أُمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ أَسِيدٍ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ زَوْجَهَا تُوُفِّيَ وَكَانَتْ تَشْتَكِي عَيْنَيْهَا فَتَكْتَحِلُ بِالْجِلَاءِ، قَالَ أَحْمَدُ: الصَّوَابُ: بِكُحْلِ الْجِلَاءِ، فَأَرْسَلَتْ مَوْلَاةً لَهَا إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَتْهَا عَنْ كُحْلِ الْجِلَاءِ، فَقَالَتْ: لَا تَكْتَحِلِي بِهِ إِلَّا مِنْ أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ يَشْتَدُّ عَلَيْكِ فَتَكْتَحِلِينَ بِاللَّيْلِ وَتَمْسَحِينَهُ بِالنَّهَارِ، ثُمّ قَالَتْ عِنْدَ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ وَقَدْ جَعَلْتُ عَلَى عَيْنِي صَبْرًا، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ ؟فَقُلْتُ: إِنَّمَا هُوَ صَبْرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِيهِ طِيبٌ، قَالَ: إِنَّهُ يَشُبُّ الْوَجْهَ، فَلَا تَجْعَلِيهِ إِلَّا بِاللَّيْلِ وَتَنْزَعِينَهُ بِالنَّهَارِ، وَلَا تَمْتَشِطِي بِالطِّيبِ وَلَا بِالْحِنَّاءِ فَإِنَّهُ خِضَابٌ، قَالَتْ: قُلْتُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمْتَشِطُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: بِالسِّدْرِ تُغَلِّفِينَ بِهِ رَأْسَكِ.

ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ جلاء (سرمہ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ جلاء کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آجائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ ؓ نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ ؓ کا جب انتقال ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر ۔

Umm Hakim, daughter of Usayd, reported on the authority of her mother that her husband died and she was suffering from sore eyes. She therefore applied collyrium (jAla). Ahmad said: The correct version is glittering collyrium (kuhl al-jAla). She sent her slave-girl to Umm Salamah, and she asked her about the use of glittering collyrium (kuhl al-jAla). She said: Do not apply it except in the case of dire need which is troubling you. In that case you can use it at night, but you should remove it in the daytime. Then Umm Salamah said: The Messenger of Allah ﷺ came to visit me when Abu Salamah died, and I had put the juice of aloes in my eye. He asked: What is this, Umm Salamah? I replied: It is only the juice of aloes and contains no perfume. He said: It gives the face a glow, so apply it only at night and remove it in daytime, and do not comb yourself with scent or henna, for it is a dye. I asked: What should I use when I comb myself, Messenger of Allah? He said: Use lote-tree leaves and smear your head copiously with them.

Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٦٦ (٣٥٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٠٠) (ضعیف) (اس کے راوی مغیرہ بن الضحاک لین الحدیث ہیں، اور ام حکیم اور ان کی ماں دونوں مجہول ہیں )
2306Sunan Abu Dawood

حاملہ عورت کی عدت کا بیان

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَاهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ الزُّهْرِيِّ يَأْمُرُهُ، أَنْ يَدْخُلَ عَلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثِهَا وَعَمَّا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَفْتَتْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُخْبِرُهُ، أَنَّ سُبَيْعَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ سَعْدِ بْنِ خَوْلَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ عَنْهَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهِيَ حَامِلٌ، فَلَمْ تَنْشَبْ أَنْ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ، فَلَمَّا تَعَلَّتْ مِنْ نِفَاسِهَا تَجَمَّلَتْ لِلْخُطَّابِ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، فَقَالَ لَهَا: مَا لِي أَرَاكِ مُتَجَمِّلَةً، لَعَلَّكِ تَرْتَجِينَ النِّكَاحَ، إِنَّكِ وَاللَّهِ مَا أَنْتِ بِنَاكِحٍ حَتَّى تَمُرَّ عَلَيْكِ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، قَالَتْ سُبَيْعَةُ: فَلَمَّا قَالَ لِي ذَلِكَ، جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي حِينَ أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَفْتَانِي بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِينَ وَضَعْتُ حَمْلِي، وَأَمَرَنِي بِالتَّزْوِيجِ إِنْ بَدَا لِي. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ تَتَزَوَّجَ حِينَ وَضَعَتْ وَإِنْ كَانَتْ فِي دَمِهَا، غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَقْرَبُهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَطْهُرَ.

ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ ؓ کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چناچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ ؓ کے نکاح میں تھیں (وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہوگیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہوگئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک ؓ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں بنی سنوری ہوئی دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم چار مہینے دس دن (کی عدت) گزارے بغیر نکاح نہیں کرسکتی۔ سبیعہ ؓ کا بیان ہے: جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ ﷺ نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہوگئی اور آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کرسکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا ١ ؎۔

Ubaid Allah bin Abdullah bin ‘Utbah said that his father wrote (a letter) to Abd Allaah bin Al Arqam Al Zuhri asking him to visit Subai’ah daughter of Al Harith Al Aslamiyyah and ask her about her story and what the Messenger of Allah ﷺ said to her when she asked his opinion (about her). So, Umar bin Abdullah wrote in reply to Abdullah bin ‘Utbah informing him what she told him. She told that she was under (i. e., the wife of) Saad bin Khawlah who belonged to Banu Amir bin Luwayy. He was one of those who participated in the battle of Badr. He died at the Farwell Pilgrimage while she was pregnant. Soon after his death she gave birth to a child. When she was purified from her bleeding after child birth she adorned herself for seekers in marriage. Then Abu Al Sanabil bin Ba’kah a man from Banu Abd Al Dar entered upon her and said to her “What is the matter seeing you adorned, perhaps you are seeking marriage? I swear by Allah you cannot marry until four months and ten days pass away. Saubai’ah said “When she said this to me, I gathered my clothes on me when the evening came and I came to the Messenger of Allah ﷺ and asked him about that. He told me that I became lawful when I had delivered a child. He suggested me to marry if I wished. Ibn Shihab said “I do not see any harm if she marries when she gives birth to the child, even though she had the bleeding after the child birth, but her husband should not have sexual intercourse till she is purified.

Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے یہ آیت اتری تھی: والذين يتوفون منکم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا یہ آیت سورة بقرہ (آیت: ٢٣٤) کی ہے، اس میں حاملہ اور غیر حاملہ دونوں داخل تھیں، پھر سورة طلاق والی آیت نمبر (٤) وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن نازل ہوئی تو حاملہ کی عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش) قرار پائی اور غیر حاملہ کی چار مہینہ دس دن پہلی آیت کے موافق برقرار رہی اکثر علماء کا یہی مذہب ہے اور بعض علماء کے نزدیک چونکہ دونوں آیتیں متعارض ہیں اس لئے دونوں میں سے جو مدت لمبی أبعد الأجلين ہو اسے اختیار کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ١٠ (٣٩٩١ تعلیقًا)، الطلاق ٣٩ (٥٣٢٠)، صحیح مسلم/الطلاق ٨ (١٤٨٤)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥١٨، ٣٥١٩)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٥٨٩٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٣٢) (صحیح )
2307Sunan Abu Dawood

حاملہ عورت کی عدت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَاالْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ١ ؎ کرلے کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I can invoke the curse of Allah on anyone who wishes: The smaller surat an-Nisa (i. e. Surat at-Talaq) was revealed after the verse regarding the waiting period of four months and ten days had been revealed.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔ ٢ ؎: جو کہ سورة البقرہ میں ہے ابن مسعود ؓ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورة بقرہ میں ہے “، اور ” حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورة طلاق کے اندر ہے جو کہ سورة بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٥٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٥٧٨) (صحیح )
2308Sunan Abu Dawood

ام ولد کی عدت کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُمْ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْمَطَرٍ، عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: لَا تُلَبِّسُوا عَلَيْنَا سُنَّةً، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: سُنَّةَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ، يَعْنِي أُمَّ الْوَلَدِ.

عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ (ہمارے نبی کریم ﷺ کی) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، (سنت یہ ہے کہ) جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کی یعنی ام ولد ١ ؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔

Narrated Amr ibn al-As: Do not confuse us about his Sunnah. Ibn al-Muthanna said: The Sunnah of our Prophet ﷺ is that the waiting period of a slave-mother whose husband has died is four months and ten days.

Notes · وضاحت
١ ؎: ام ولد: ایسی لونڈی جس نے اپنے مالک سے بچہ جنا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٣٣ (٢٠٨٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٤٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٠٣) (صحیح )
2309Sunan Abu Dawood

جس عورت تین طلاقیں ہوجائیں وہ سابقہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتی تاوقتیکہ دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ يَعْنِي ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا، أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الْآخَرِ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کرلیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی؟۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے ١ ؎۔

Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ was asked about a man who divorced his wife three times, and she married another who entered upon her, but divorced her before having intercourse with her, whether she was lawful for the former husband. She said: The Prophet ﷺ replied: She is not lawful for the first (husband) until she tastes the honey of the other husband and he tastes her honey.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم بستری اور صحبت کے بعد طلاق واقع ہونے کی صورت میں نکاح جدید سے وہ پہلے شوہر کی بیوی بن سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الطلاق ٩ (٣٤٣٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٩٥٨)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الشہادات ٣ (٢٦٣٩)، والطلاق ٤ (٥٢٦٠)، والساعة ٣٧ (٥٧٩٢)، واللباس ٦ (٥٨٢٥)، والأدب ٦٨ (٦٠٨٤)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، سنن الترمذی/النکاح ٢٧ (١١١٨)، سنن النسائی/النکاح ٤٣ (٣٢٨٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٢ (١٩٣٢)، مسند احمد (٦/٣٤، ٣٧، ١٩٢، ٢٢٦، ٢٢٩)، سنن الدارمی/الطلاق ٤ (٢٣١٣) (صحیح )
2310Sunan Abu Dawood

زنا سخت ترین گناہ ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى تَصْدِيقَ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ سورة الفرقان آية 68 الْآيَةَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، نیز کہا: نبی اکرم ﷺ کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ (سورۃ الفرقان: ٦٨) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔

Abd Allaah (bin Masud) said “I asked Messenger of Allah ﷺ which sin is the gravest?” He replied “That you associate someone with Allaah, while He has created you”. I again asked “Which then?” He replied “That you commit adultery with the wife of your neighbor. ” Allaah then revealed the following Quranic verse in support of the statement of the Prophet ﷺ “Those who invoke not with Allaah any other god nor slay such life as Allaah has made sacred except for just cause nor commit fornication. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تفسیر سورة البقرة ٣ (٤٤٧٧)، والأدب ٢٠ (٤٧٦١)، والحدود ٢٠ (٦٨١١)، والدیات ٢ (٦٨٦١)، والتوحید ٤٠ (٧٥٢٠)، ٤٦ (٧٥٣٢)، صحیح مسلم/الایمان ٣٧ (٨٦)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (٣١٨٢)، (تحفة الأشراف: ٩٤٨٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٧١، ٤٢٤، ٤٣٤، ٤٦٢) (صحیح )
2311Sunan Abu Dawood

زنا سخت ترین گناہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَتْ مُسَيْكَةُ مِسْكِينَةٌ لِبَعْضِ الأَنْصَارِ، فَقَالَتْ: إِنَّ سَيِّدِي يُكْرِهُنِي عَلَى الْبِغَاءِ، فَنَزَلَ فِي ذَلِكَ: وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ سورة النور آية 33.

ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی ولا تكرهوا فتياتکم على البغاء (سورۃ النور: ٣٣) تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : Musaykah, a slave-girl of some Ansari, came and said: My master forces me to commit fornication. Thereupon the following verse was revealed: But force not your maids to prostitution (when they desire chastity).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٣) (صحیح )
2312Sunan Abu Dawood

زنا سخت ترین گناہ ہے

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، أَخْبَرَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ: غَفُورٌ لَهُنَّ الْمُكْرَهَاتِ.

سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم (النور: ٣٣) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔

Mu’tamir reported on the authority of his father Saeed bin Al Hassan explain the Quranic verse “But if anyone compels them, yet after such compulsion is Allaah oft-forgiving most merciful (to them), said Allaah is oft-forgiving to those (slave girls) who were compelled (to prostitution)

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٦٨٩) (صحیح )
2222Sunan Abu Dawood

حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ رَجُلًا ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَرَأَى بَرِيقَ سَاقِهَا فِي الْقَمَرِ، فَوَقَعَ عَلَيْهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُكَفِّرَ .

ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔

Ikrimah said “A man made his wife like the back of his mother. When he saw the illumination of her shin in the moonlight, he had intercourse with her. He came to the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. He ordered him to atone for it.

2225Sunan Abu Dawood

قَالَ أَبُو دَاوُد: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ عِيسَى يُحَدِّثُ بِهِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: عَنْ عِكْرِمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: كَتَبَ إِلَيَّ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ بِمَعْنَاهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس ؓ سے وہ نبی اکرم ﷺ سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔

Abu Dawud said “I heard Muhammad bin Isa narrating this tradition who said Mu’tamar narrated it to us. And he (Mu’tamar) said “ I heard Al Hakam bin Aban narrating this tradition. He did not mention the name of Ibn Abbas. Abu Dawud said “Al Hussain bin Huraith wrote to me saying “Al Fadl bin Musa narrated from Ibn Abbas to the same effect from the Prophet صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم.