Sunan Abu Dawood 2307

طلاق کا بیان

2307Sunan Abu Dawood

حاملہ عورت کی عدت کا بیان

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ الْعَلَاءِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَاالْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: مَنْ شَاءَ لَاعَنْتُهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ الْأَرْبَعَةِ الْأَشْهُرِ وَعَشْرًا.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ١ ؎ کرلے کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ٢ ؎۔

Narrated Abdullah ibn Masud (RA) : I can invoke the curse of Allah on anyone who wishes: The smaller surat an-Nisa (i. e. Surat at-Talaq) was revealed after the verse regarding the waiting period of four months and ten days had been revealed.

Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد مباہلہ ہے۔ ٢ ؎: جو کہ سورة البقرہ میں ہے ابن مسعود ؓ کا مطلب یہ کہ ” عام متوفی عنہا زوجہا کے چار ماہ دس دن عدت گزارنے کا حکم سورة بقرہ میں ہے “، اور ” حاملہ متوفی عنہا زوجہا کی عدت صرف وضع حمل تک ہے “ کا تذکرہ سورة طلاق کے اندر ہے جو کہ سورة بقرہ کے بعد اتری ہے اس لئے یہ حکم خاص اس حکم عام کو خاص کرنے والا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩)، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٥٢)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٧ (٢٠٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٥٧٨) (صحیح )