Ayah 2:71قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْتَمِیْ الْحَرَثَ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیْھَا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ( کہا ( خدا) فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ تو محنت والی اور نہ زمین جوتتی اور نہ کھیتی کو پانی دیتی صحیح وسالم بےداغ ( بےدھبّہ) لا تسقی الحرث میں لا زائد ہے۔ یہ دونوں فعل یعنی تثیر اور لا تسقی، ذلول کی صفت ہیں۔ مسلمۃ کے یا تو یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عیوب سے صحیح سالم رکھا ہو یا یہ مطلب کہ اسے گائے کے مالک نے کام لینے سے سلامت رکھا ہو۔ جو رنگ کھال مخالف ہو اسے شیۃ بولتے ہیں عدۃ کی وزن پر وشی یشی کا مصدر وشی اور شیۃ ہے جب کسی شے کے رنگ کے ساتھ دوسرا رنگ ملا دیا ہو تو اسے وشی سے تعبیر کرتے ہیں جزری نے کہا ہے کہ وشی کے معنی نقش کرنے کے ہیں۔
قَالُوا الْـــــٰٔنَ جِئْتَ بالْحَقِّ ( وہ بولے ہاں اب تم ٹھیک پتہ لائے) یعنی اے موسیٰ تم نے اب پوری حقیقت اس گائے کی بیان کی ہے۔ القصہ بنی اسرائیل ایسی گائے کی ٹوہ میں لگے اور بہت تلاش و جستجو کی کہیں ایسی گائے نہ ملی آخر الامر نہایت کدو کاوش کے بعد وہ گائے اسی جوان کے پاس ملی کہ جس کا قصہ ابھی بیان ہوا ہے اس کی کھال بھر سونا دیا اور خریدا۔
فَذَبَحُوْھَا وَ مَا کَادُوْا یَفْعَلُوْن ( سو انہوں نے ذبح کیا اور لگتے نہ تھے کہ کریں گے) یعنی ان کے بار بار پوچھنے اور آپس میں اختلاف کرنے یا قاتل کے ظاہر ہونے سے جو رسوائی ہوتی اسی کے خوف سے یا ایسی صفات کی گائے نہ ملنے کے سبب یا اس کی قیمت کی گرانی سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ بنی اسرائیل گائے ذبح نہ کریں گے۔
Ayah 2:72وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا ( اور وہ وقت یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا یہ اس قصہ کا شروع ہے اور اس سے پہلے جو بیان ہوا وہ اس کے بعد کا واقعہ ہے۔
فَادَّارَءْتُمْ فِیْھَا ( پھر لگے تم ایک دوسرے پر دھرنے) یعنی اس قصہ کو تم میں سے ایک دوسرے کے سر دھرتا تھا اور خود اپنے کو بری کرتا تھا۔
وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ ( اور اللہ کو اس کا فاش کرنا تھا) صیغہ اسم فاعل بمعنی مستقبل ہے کیونکہ کلام کرنے کے وقت زمانہ آئندہ کی حکایت ہے اسی واسطے اسے عمل دیا گیا ہے جیسے باسِطٌ ذِرَاعَیْہِ میں باسط کو عمل دیا گیا ہے کیونکہ وہ حال ماضیہ کی حکایت ہے۔
مَّا کُنْتُمْ تَکْتُموُْن ( جو تم چھپاتے تھے) یعنی قاتل قتل کو چھپاتا تھا۔
Ayah 2:73فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ ( تو ہم نے کہا مارو اس ( مردے) کو) ادّٰرَئتم پر عطف ہے اور ان دونوں کے درمیان کلام جملہ معترضہ ہے اور اضربوہ میں ضمیر ہ بتاویل شخص نفس کی طرف راجع ہے۔
بِبَعْضِھَا ( اس گائے) کے ایک ٹکڑے سے) مطلب یہ ہے کہ مردے کو گائے کے ٹکڑے پارچہ سے خواہ کوئی ٹکڑا پارچہ ہو مس کردو ( یعنی گائے کا پارچہ لے کر اس مردے سے چھوا دو ) اور بیان کلام میں اختصار ہے تقدیر عبارت یہ ہے : فضرب فحیی یعنی مردے کو ارشاد کے موافق گائے کے ٹکڑے سے لگایا تو وہ زندہ ہوگیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس ہڈی کو لگایا تھا جو غضروف کے متصل ہے اور وہ ایسا مقام ہے کہ وہاں کی چوٹ لگنے سے جاندار بےجان ہوجاتا ہے بعض نے کہا دم کی ہڈی سے لگایا تھا اور بعض نے کہا زبان سے اور بعض نے کہا دائیں ران لگائی تھی۔ الحاصل وہ مقتول بحکم الٰہی اٹھ کھڑا ہوا اس کے حلقوم کی رگیں خون میں تر بتر تھیں اٹھتے ہی بول پڑا کہ مجھے فلاں شخص نے قتل کیا ہے یہ کہہ کر پھر مردہ ہو کر گرپڑا اور اس کا قاتل میراث سے محروم رہا۔ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ کوئی قاتل اس گائے والے قاتل کے بعد اپنے مقتول کا وارث نہیں ہوا۔
کذٰلِکَ ( اسی طرح) ذٰلک سے اس مقتول کے زندہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔
یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی ( اللہ تعالیٰ مردے جلاتا) یہ یا تو ان لوگوں کو خطاب ہے جو اس مقتول کے زندہ ہونے کے وقت موجود تھے اور یا اس آیت کے نزول کے وقت جو لوگ تھے انہیں ارشاد ہے اور ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان ہی لوگوں کو ارشاد ہے جو اس واقعہ میں موجود تھے کیونکہ آگے ارشاد ہوتا ہے۔
وَ یُرِیْکُمْ اٰیَاتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ( اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے شاید تم سمجھ جاؤ) حاصل تمام آیت کا یہ ہے کہ اے بنی اسرائیل کے احمقو ! دیکھو اللہ تعالیٰ نے جس طرح اس مردہ کو زندہ کردیا اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم اس سے سمجھ لو کیونکہ جو ایک مردہ کے زندہ کرنے پر قادر ہے وہ اسی طرح تمام مردوں کے جگانے پر قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو اس مردہ کو پہلے زندہ نہ کیا اور اس میں یہ شرطیں لگائیں تو اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ عادت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ کسی کام کو بلا کسی ظاہری سبب کے ظہور میں نہیں لاتے اور نیز یہ وجہ ہے کہ اس طرح کرنے میں بندوں کو اپنے مولیٰ سے تقرب اور ایک واجب ادا کرنے کا ثواب اور ایک یتیم کا نفع ہو اور اس قصہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طالب کو چاہئے کہ قرب الٰہی طلب کرے اور قرب والے کو چاہئے کہ اچھی سے اچھی شئے خدا کی راہ میں خرچ کرے اور اس کی قیمت دل کھول کر لگائے۔ ابو داؤد نے روایت کی ہے کہ حصرت عمر ؓ نے ایک نہایت عمدہ اونٹنی قربانی کی جسے تین سو دینار کو خریدا تھا۔
Ayah 2:74ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم ( پھر سخت ہوگئے تمہارے دل) قَساوَۃ اصل میں اس مٹائی کو کہتے ہیں جو سختی و کرختگی لیے ہوئے ہو اور یہاں رحمت و نرمی اور خیر کا دلوں سے نکل جانا مراد ہے اور ایسے ہی قساوۃ پر طول آرزو ذکر سے نسیان اور شہوات نفسانیہ کے اتباع کے پھل پھول لگتے ہیں اور کلمہ ثم ( پھر) یہاں بعد مکانی کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اتنی رقت اور نرمی کے اسباب دیکھنے پر یہ قساوہ ہے جو نہایت بعید ہے ( جیسے کوئی کہے کہ میاں زیدکو ہم نے ہرچند سمجھایا اس نے پھر بھی نہ مانا) تو یہاں لفظ ثم استبعاد کے لیے ہے نہ بعد مکانی کے لیے۔
مِنْ بَعدِ ذٰلِکَ ( اس کے بعد) یعنی مقتول کے زندہ کرنے اور تمام نشانیوں کے ظاہر کرنے کے بعد پھر تمہارے دل پتھر ہوگئے۔ کلبی نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد بنی اسرائیل نے یہی کہا کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا۔
فَھِیَ کَالْحِجَارَۃ ( کہ گویا وہ ( سختی میں) پتھر ہیں)
اَو اَشَْدُّ قَسْوَۃً ( بلکہ سختی میں ان سے بھی زیاہ اس کا یہ معنی ہے کہ ان کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہیں۔ یا یہ کہ ان کے دل اس شئے کی مثل ہیں جو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو۔ اس صورت میں اَشَدُّ سے پہلے لفظ مثل محذوف ہوگا اور مضاف الیہ یعنی اَشَدُّاس کے قائم مقام ہوگا اور لفظ اَشَدُّ میں کہ جس کے معنی ہیں بہت زیادہ شدید۔ اس قدر مبالغہ ہے کہ اقسی میں اتنا نہیں اور لفظ او ( یا) یا تو تشبیہ میں اختیار دینے کے لیے ہے ( یعنی یہ مراد ہے کہ اے مخطاب تجھے اختیار ہے کہ ان کے دلوں کو خواہ تو پتھر سے تشبیہ دے یا جو پتھر سے بھی زیادہ کوئی سخت شئے ہو اس سے تشبیہ دے دونوں صورتیں صحیح ہیں) اور یا تردید کے لیے ہے یعنی جو ان کے دلوں کے حالات کو پہچانتا ہو وہ انہیں پتھر سے تشبیہ دے گا پتھر سے بھی زیادہ سخت چیز سے اور مفضل علیہ یعنی حجارۃ کی طرف ضمیر اس لیے راجع نہیں کی گئی کہ اس میں کسی قسم کا التباس نہ تھا خود ظاہر تھا اور حجارۃ ( پتھر) کے ذکر فرمانے اور دوسرے سخت چیزوں مثل لوہا، کا نسی وغیرہ کے ذکر نہ فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ پتھر کے سوا کل چیزیں آگ پر پگل جاتی ہیں اور پتھر آگ پر نہیں پگھلتا آگے بیان فرمایا ہے کہ قساوۃ والے دل اور پتھر میں بڑا فرق ہے پتھر میں ایک طرح کی نرمی اور خیر پائی جاتی اور قلب قاسی میں یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں۔
وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ۭ وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاۗءُ ( اور پتھروں میں تو بعض ایسے بھی ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ کر نکلتی ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جھڑنے لگتا ہے) یعنی بعض پتھر تو ایسے ہیں کہ ان سے نہریں نکلتی ہیں اور بعض ایسے کہ ان سے سوتیں نکلتی ہیں اور پانی جھڑتا ہے جن سے خدا کے بندے فائدہ اٹھاتے ہیں بخلاف کفار کے دلوں کے کہ ان میں بالکل منفعت نہیں۔
وَ اِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھبِطُ مِن خَشْیَۃِ اللّٰہِ ( اور بعض ایسے ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑ تے ہیں) یعنی بعض پتھر ایسے ہیں کہ خدا کے خوف کے سبب پہاڑ سے نیچے آ پڑتے ہیں مگر اے کافرو تمہارے دل ویسے کے ویسے ہی ہیں ان میں ذرا بھی نرمی اور خشوع نہیں آتا۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پتھر تو بےجان چیز ہے اس کو خوف خدا کیسے ہوتا ہے تو بیضاوی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ لفظ خشیۃ ( خوف) کے معنی یہاں مجازی مراد لیے ہیں یعنی اوامرِ الٰہیہ کا اتباع اور انقیاد مراد ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ جواب کچھ نہیں ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اوامر سے بیضاوی نے اوامر تکوینیہ مراد لئے ہیں اور اوامر تکوینیہ کا انقیاد اور اتباع تو خود کفار میں بھی موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ختَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ( اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی) چناچہ کفار نے اس مہر لگانے کا اتباع کیا چناچہ ارشاد ہوتا ہے : وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا ( اور اللہ کے لیے آسمان و زمین میں جو کچھ ہے سب طوعا و کرھاً سجدہ کرتے ہیں) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی آدم کے قلوب اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں میں اس طرح ہیں جیسے ایک قلب وہ اس دل کو جس طرح چاہتا ہے پھیرتا ہے پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا مانگی : اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ ( اے خدا دلوں کے پھیرنے والے ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے پس اس حدیث و آیت سے یہ معلوم ہوگیا کہ انقیاد تکوینی سب میں موجود ہے خواہ کفار ہوں یا مسلمان۔
تحقیقی جواب وہ ہے جو علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے کہ جمادات اور حیوانات میں بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا ایک علم ہے کہ اسے اس صاحب علم کے سوا کوئی اور نہیں جانتا اس لیے تمام جمادات و حیوانات دعا بھی کرتے ہیں اور تسبیح بھی اور خوفِ الٰہی بھی موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ اِنْ مِن شَیْءُ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ ( یعنی ہر شے اللہ کی پاکی اور حمد کرتی ہے) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے : وَالطَّیْرُ صَافَّاتٍ کُلُّ قَدْ عَلِمَ صَلوٰتُہ وَ تَسْبِیْحَہٗ ( دیکھو پرندے کیسی صف باندھے ہوئے ہیں ہر ایک اپنی عبادت اور تسبیح کو جانتا ہے اور اس کی زیادہ تحقیق عذاب قبر کے بیان میں آیت : ثُمَّ یُمِیتُکُمْ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ کی تفسیر میں گذر چکی ہے۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ جناب سرور عالم ﷺ کوہ بثیر پر جلوہ افروز تھے اور کفار حضور کی ٹوہ میں لگے ہوئے تھے کہ پہاڑ بول اٹھا : یا نبی اللہ آپ مجھ پر سے اتر جائیے مجھے خوف ہے کہ کہیں کفار آپ کو پکڑ لیں اور مجھے اس کے سبب اللہ تعالیٰ عذاب کرے اور کوہ ثور نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ یہاں تشریف لے آئیں اور میرے پاس آئیے۔
اور نیز علامہ بغوی نے اپنی سند سے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں مکہ کے اس پتھر کو خوب پہچانتا ہوں جو مجھے میرے نبی ہونے سے پہلے سلام کیا کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں یہ حدیث صحیح ہے اسے مسلم نے روایت کیا ہے حضرت انس ؓ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ کو احد پہاڑ نظر پڑا تو فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم کو دوست رکھتا ہے اور ہم اس کو دوست رکھتے ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں جناب رسول خدا ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی پھر نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ایک وقت کا واقعہ ہے کہ ایک شخص ایک بیل ہانکے لئے جاتا تھا جب چلتے چلتے تھک گیا تو اس پر سوار ہو لیا اور اسے مارا بیل بول پڑا ہم سواری کے لیے پیدا نہیں کئے گئے ہم تو زراعت میں کام آنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں لوگ یہ حیرت انگیز واقعہ دیکھ کر کہنے لگے سبحان اللہ بیل بھی باتیں کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور ابوبکر و عمر اس قصہ کی تصدیق کرتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر ؓ وہاں موجود نہ تھے اور نیز جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص اپنی بکریوں میں تھا کہ ناگاہ ایک بھیڑئیے نے بکری کو جاد بایا وہ ابھی پوری طرح اس کے قابو میں نہ آئی تھی کہ مالک جا پہنچا اور اسے چھڑا لیا بھیڑیا بول اٹھا اب تو تو نے چھڑا لیا مگر جس دن درندوں ہی کا تسلط ہوگا اس وقت انکا کون حامی و مددگار ہوگا اس دن ہمارے سوا کوئی اس کا چرواہا نہ ہوگا لوگوں نے سن کر کہا : سبحان اللہ بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا میں اور ابوبکر و عمر اس قصہ کی تصدیق کرتے ہیں حالانکہ وہ وہاں موجود نہ تھے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ فخر عالم ﷺ کوہ حراء پر تشریف فرما تھا اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علی و طلحہ و زبیر ؓ بھی حاضر تھے کہ ایک پتھر کو جنبش ہوئی حضور ﷺ نے فرمایا ٹھیر جا تجھ پر سوائے ایک نبی یا صدیق یا شہید کے اور کوئی نہیں اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور مسلم نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ ہم مکہ میں جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ سو جب ہم مکہ سے بار ادھر ادھر پہاڑوں اور درختوں میں گئے تو جس درخت یا پہاڑ پر ہمارا گذر ہوتا تھا وہ پکارتا ہے : السَّلامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اور نیز صحیح مسلم میں جابر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ ( منبر تیار ہونے سے پہلے مسجد کے ایک ستون سے جو کھجور کی لکڑی کا تھا تکیہ اور سہارا فرماتے جب منبر تیار ہوگیا اور اس پر آپ جلوہ افروز ہوئے تو وہ ستون بیقرار ہو کر مثل اونٹنی کے رونے لگا حتی کہ اس کی آواز مسجد والوں نے سنی۔ رسول اللہ ﷺ منبر سے نیچے تشریف لائے اور اسے گلے سے لٹکایا وہ اس کے گلے سے لگاتے ہی بالکل چپ ہوگیا ( ان سب احادیث سے معلوم ہوا کہ جمادات میں بھی علم اور حیات ہے) علامہ بغوی کہتے ہیں کہ مجاہد نے فرمایا جو پتھر اوپر سے نیچے آتا ہے۔ وہ اللہ کے ڈر سے نیچے آتا ہے۔
وَ مَااللّٰہ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْن ( اور اللہ تعالیٰ اس سے بیخبر نہیں جو تم کرتے ہو) یہ کفار کو دھمکی ہے۔ ابن کثیر نے تَعْمَلُوْنَ کو یَعْمَلُوْنَ ( یائے تحتانیہ سے) پڑھا ہے اور باقی قراء نے نا سے پڑھا ہے۔
Ayah 2:75اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ ( مسلمانو ! ) کیا تم توقع رکھتے ہو کہ ( یہود) تمہاری بات مان لیں گے اَفَتَطْمَعُوْنَ یہ خطاب ہے تمام مؤمنین اور رسول اکرم ﷺ کو یُوْمِنُوْا کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے لَکُمْ یعنی تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے یا یہ مطلب کہ تمہاری تصدیق کریں گے۔
وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ( حالانکہ ان ہی میں ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ کا کلام سنتے) کلام اللہ سے مراد تورات ہے۔
ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ ( پھر اسے سمجھے پیچھے بدل ڈالتے) یعنی وہ اسے بلاشک وہ شبہ سمجھ گئے اور پھر تحریف کردی جیسا کہ ہمارے حضرت محمد ﷺ کی نعت اور رجم کی آیت میں تبدیل اور تغییر کی۔
وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ( اور وہ جانتے تھے) یعنی وہ اپنے جھوٹے ہونے کو خوب جانتے تھے اس آیت کی یہ تفسیر تو مجاہد اور عکرمہ اور سدی وغیرہ (رح) کے قول کے موافق ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ان کے آباو اجداد میں جواب فریق تھا انہوں نے کلام الٰہی سن سنا کر تحریف کردی۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حسب حکم خداوندی ستر آدمیوں کو اللہ تعالیٰ کے وعدہ گاہ کے لیے انتخاب کرلیا اور انہیں وہاں لے گئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام سنا پھر جب وہاں سے واپس آئے تو جو ان میں سچے تھے انہوں نے تو جس طرح سنا تھا اسی طرح قوم کو پہنچا دیا اور جن کے دلوں میں فساد تھا انہوں نے آکر یہ کہا کہ ہم نے تو یہ سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اخیر میں یہ بھی فرمایا ہے۔ کہ اگر ان احکام کے کرنے کی طاقت رکھتے ہو تو کرو اور اگر نہ چاہو نہ کرو۔ “ پس یہی تحریف تھی حالانکہ وہ جانتے تھے کہ کلام الٰہی ایسا نہیں ہے۔
Ayah 2:76وَاِذَا لَقُوا ( اور جب ملتے ہیں) اس سے مراد وہ یہود ہیں جو لوگوں کو نیک بات بتاتے تھے اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے تھے ان کا ذکر پہلے ہو بھی چکا ہے۔
الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ( مسلمانوں سے) اس سے اہل مدینہ کے مؤمن مراد ہیں۔ مطلب اس تقدیر پر یہ ہے کہ جب مؤمنین نے جناب رسول اللہ ﷺ کے اتباع کی بابت یہود سے مشورہ کیا تو
قَالُوْٓا اٰمَنَّا ( انہوں نے کہا ہم اپنے جی میں تصدیق کرتے ہیں) کہ یہ تمہارے رسول وہی ہیں جن کی نسبت تورات میں خوشخبری دی گئی ہے تمہیں چاہئے کہ تم ان کا اتباع کرو اور ان پر ایمان لاؤ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ منافقین یہود مراد ہیں اور حاصل آیت کا اس بناء پر یہ ہے کہ جب منافقین یہود مؤمنین خالص سے ملتے ہیں تو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری طرح خالص ایمان لے آئے۔
وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ( اور جب اکیلے ہوتے ہیں ایک دوسرے کے پاس) بعض سے کعب بن اشرف اور وہب بن یہود اور دیگر رؤساء یہود مراد ہیں۔
قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاۗجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ ( تو کہتے ہیں کیا تم کہے دیتے ہو مسلمانوں سے وہ علم جو اللہ نے تم پر ظاہر کیا تاکہ تم سے جھگڑیں اس کے ذریعہ تمہارے رب کے آگے) حاصل یہ ہے کہ جب آپس میں ایک جگہ تنہائی میں جمع ہوتے ہیں اور کوئی غیر نہیں ہوتا تو جو کافر اوروں کو ایمان کی ترغیب دیتے ہیں اور خود اپنے کو بھول گئے ہیں ان کو دوسرے کافر برا بھلا کہتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ اے بیوقوفو ! ان سے ایسا برتاؤ مت کرو اور محمد ﷺ کی نعت جو تورات میں اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے وہ ان لوگوں سے نہ کہو ورنہ قیامت میں اللہ کے سامنے ان کو یہ تمہارا کہنا ایک حجت ہوجائے گا کہیں گے کہ اے اللہ یہ لوگ محمد ﷺ کی سچائی کو خوب جانتے تھے اور ہم کو ان کے اتباع کا حکم کرتے اور اس پر بھی کھلم کھلا اور پوشیدہ ہر حالت میں کفر کرتے تھے۔ بیضاوی نے اس موقع پر یہ کہا ہے کہ اس آیت کی اس تفسیر میں مجھے کچھ تامل ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو عالم الاسرار ہے وہ تو دلوں کے حال کو خوب جانتا ہے اگر یہود مسلمانوں سے اس نعت محمدی اور مشورہ کو نہ بھی ظاہر کرتے جب بھی اللہ تعالیٰ اسے جانتا تھا کہ یہود دل میں تو محمد ﷺ کو سچا جانتے ہیں گو تعصب سے ایمان نہیں لاتے پھر جو چھپانے سے کیا کار برآری ہوسکتی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ بیشک یہ بات صحیح ہے کہ چھپانے سے کچھ کام نہ چل سکتا تھا لیکن وہ اپنی غایت بےوقوفی اور حماقت کی وجہ سے اس بات کو جانتے تھے اور یہی سمجھتے تھے کہ چھپانے سے یہ بات چھپ جائے گی۔ چناچہ ان کا اس جہالت اور حماقت سے بھرا ایک اور مضمون بھی دوسرے مقام میں حق تعالیٰ نقل فرماتا ہے وہ یہ ہے : مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ عَلٰی بَشَرٍ مِن شَیْءٍ ( یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا) حالانکہ یہ جانتے تھے کہ تورات حضرت موسیٰ علی نبینا و (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ہے اور شروع پارہ میں اس قوم کے اور قصوں سے خود معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اقوال و افعال کچھ ایسے غیر منضبط تھے کہ معجزات و آیات موسوی دیکھنے کے بعد بھی ان سے دیوانوں اور پاگلوں جیسی حرکتیں صادر ہوتی تھیں اور اس تہدید و تنبیہ پر بھی ان کے کان پر جوں نہ رینگتی تھی اور شروع پارہ میں اصحاب صیب ( بارش والے) کے قصہ میں ہے کہ موت کے ڈر سے ‘ کڑک کے سبب کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے۔ حالانکہ یہ یقین ہے کہ کانوں میں انگلیاں دینا موت کو دفع نہیں کرسکتا۔
اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ ( کیا تم سمجھتے نہیں) سے اس آیت کو ختم کرنا اور اس سے اگلی آیت اس کی تائید کے لیے کافی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ کافروں نے منافقین سے کہا اے بیوقوف تم ان کو سب باتیں کیا اس لیے بتائے دیتے ہو کہ وہ یعنی اصحاب محمد ﷺ تم سے کتاب اللہ کے ذریعہ سے حجت کریں ( یعنی دنیا میں) اب رہی یہ بات کہ عند رَبِّکُمْ کے کیا معنی ہوں گے سو وہ آگے مذکور ہیں اور عند ربکم ( کے معنی میں مجاز لینا پڑے گا یعنی کتاب اللہ سے حجت کرنے کو عِنْدَ رَبِّکُمْ سے تعبیر کردیا ہے چناچہ بولتے ہیں کہ یہ حکم اللہ کے نزدیک اس طرح ہے اور مراد یہ ہوتی ہے کہ کتاب اللہ میں یہ حکم اس طرح ہے یا یہ کہا جائے کے رَبَّکُمْ سے پہلے مضاف لفظ کتاب یا رسول اللہ محذوف ہے یعنی عند کتاب ربکم یا عند رسول ربکم۔ بیضاوی نے گزشتہ تاویلات کو پسند کیا ہے اور اس آیت کو منافقین کا مقولہ بنایا ہے اور جو کھلم کھلا کافر تھے اور لوگوں کو اسلام لانے کا حکم کرتے اور خود اس سے رو گرداں تھے ان کا مقولہ نہیں قرار دیا۔
میں کہتا ہوں کہ تاویلات اول تو سراپا تکلیفات ہیں اور معہذایہ معنی بن بھی نہیں سکتے کیونکہ مؤمنین کا منافقین سے حجت اور نزاع کرنا دنیا میں متصور نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ تو بظاہر حق کے منقاد اور مطیع تھے اگر ان سے خصومت ہوسکتی ہے تو آخرت ہی میں ممکن ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ منافقین کی حرکات ناشائستہ پر جو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کچھ عذاب چکھا دیا تو انہوں نے اس کا ذکر مؤمنین سے کردیا اور پھر آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر عذاب کا دروازہ کھول دیا ہے کیا اس کا ذکر تم ان مؤمنین سے کرتے ہو تو یہ مناسب نہیں ورنہ قیامت میں حق تعالیٰ کے نزدیک حجت کریں گے یعنی اللہ کے نزدیک اپنے مرتبہ کو تم سے زیادہ دیکھیں گے۔ اَفَلَاتَعْقلُوْن ( کیا تمہیں عقل نہیں) یعنی اے بیوقوف یہودیو تمہیں اتنی سمجھ نہیں کہ مؤمنین کا احتجاج کرنا اللہ کے نزدیک اس پر موقوف نہیں کہ تم آپس میں یہ امور ایک دوسرے سے کہو۔ یا خطاب مؤمنین کو ہے اس تقدیر پراَفَتطْمَعُوْنَ کے متعلق ہوگا اور معنی یہ ہوں گے اے مؤمنو ! تم ان سے ایمان کی کیا طمع رکھتے ہو حالانکہ ان کے ایسے حالات تھے کیا تم کو اتنی سمجھ نہیں اور یا ان ہی لوگوں کا مقولہ ہے جو : اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہ الخ کے قائل تھے مطلب اس صورت میں یہ ہوگا تم سمجھتے نہیں کہ یہ تم سے حجت کریں گے۔
Ayah 2:77اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ (کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ (میں ضمیر ان کفار کی طرف ہے جن کا ذکر اول گذر چکا ہے جو اوروں کو ملامت کرتے تھے حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے یہ لوگ جو انہیں ملامت کرتے ہیں اتنا ہی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے ظاہر اور پوشیدہ سب امور کی خبر ہے پس ان کا محمد ﷺ کی نعت کو چھپانا کیا کام آسکتا ہے اور کیا ان سے احتجاج کو دفع کرسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ منافقین کی طرف ضمیر راجع ہو کیونکہ ان کے نفاق کی خبر اگرچہ جناب رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ تو بخوبی جانتا تھا۔ یا تمام یہود کو مرجع ضمیر قرار دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے چھپا کر کفر کرنے اور کھلم کھلا کفر کرنے اور نعت محمد ﷺ اور کلمات الٰہیہ کی تحریف اور تمام حرکات ناشائستہ کو جانتا تھا۔
Ayah 2:78وَمِنْھُمْ اُمِّيُّوْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّآ اَمَانِىَّ ( اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ خبر نہیں
رکھتے کتاب کی سوائے باندھی ہوئی آرزوؤں کے) لَا یَعْلَمُوْنَ الْکِتَاب میں کتاب سے مراد تورات ہے اِلَّا اَمَانِیَّ استثنا منقطع ہے امانی جمع امنیہ کی ہے اصل میں امنیہ اس آرزو اور تمنا کو بولتے ہیں جسے انسان اپنے دل ہی دل میں پکاتا ہے یہاں مراد امانی سے وہ جھوٹی باتیں ہیں جنہیں علماء یہود نے گھڑا تھا۔ مجاہد اور قتادہ نے اسی طرح فرمایا ہے۔ قراء نے کہا ہے کہ امانی جھوٹی باتوں کو کہتے ہیں چناچہ حضرت عثمان غنی ؓ کا قول ہے : مَا تمنیت منذ اسلمت ( یعنی جب سے میں مسلمان ہوا ہوں جھوٹ نہیں بولا) یا مراد امانی سے آیت میں وہ من گھڑت آرزوئیں ہیں جو انہوں نے اپنے جی میں بلا دلیل و حجت پکار کہی تھی چناچہ کہا کرتے تھے : لَنْ یََّدْکُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصَارٰی یعنی جنت میں یہود اور نصاری کے سوا کوئی بھی نہ جائے گا اور کہتے تھے : لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اِیَّامًا مَّعْدُوْدَۃ کہ ہم کو جہنم کی آگ گنتی کے چند دن لگے گی۔ حسن اور ابو العالیہ نے اسی طرح فرمایا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اہل کتاب تورات کو کچھ نہیں جانتے سوائے زبانی پڑھنے کے معانی اور مطالب تک رسائی نہیں جیسا کہ دوسرے مقام پر حق تعالیٰ نے فرمایا : اِلَّا اِذَا تَمَنّٰی اَلْقَی الشَّیْطَانُ فِی اُمْنِیَّتِہٖ یعنی جب پڑھتا ہے تو القا کرتا ہے شیطان اس کی قرأت میں۔ یہ ابن عباس ؓ کی تفسیر ہے۔ ابو جعفر نے لفظ امانی کو کل قرآن میں تخفیف یا سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے تشدید سے۔
وَاِنْ ھُمْ اِلَّا يَظُنُّوْنَ ( اور یہ ان کا خیال ہی خیال ہے) مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے گمان کی تقلید کرتے ہیں حقیقت کا علم انہیں خاک نہیں۔
Ayah 2:79فَوَيْلٌ ( پس وائے ہے) لفظ ویل کے معنی حسرت اور ہلاکت کے ہیں۔
زجاج نے کہا ہے کہ ویل ایک کلمہ ہے جو ہلاکت میں پڑنے والا کہا کرتا ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ویل کے معنی شدت عذاب کے ہیں اور سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے اگر اس میں جہنم کے پہاڑ بھی جلائے جائیں تو وہ بھی ریت ہوجائیں اور یا شدت حرارت سے بالکل پگھل کر پانی کی طرح بہ جائیں۔ علامہ بغوی (رح) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے کہ کافر اس میں چالیس برس تک اترتا چلا جائے گا تب بھی اسکی تہہ تک نہ پہنچے گا اور صعود جہنم کی آگ کا پہاڑ ہے کہ اس پر کافر ستر برس تک چڑھا یا جائے گا پھر وہاں سے اتنے ہی برسوں تک گرے گا۔
لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ ( ان پر جو لکھتے ہیں کتاب) کتاب سے تحریف شدہ کتاب مراد ہے۔
بِاَيْدِيْهِمْ (اپنے ہاتھوں سے) تاکید ہے جیسے کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے یہ شے اپنے ہاتھ سے لکھی ہے۔
ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ( پھر کہہ دیتے ہیں یہ خدا کے ہاں سے ہے تاکہ لیویں اس کے ذریعے سے تھوڑے سے دام) ثَمَنًا قَلِیْلاً سے دنیا کا مال متاع مراد ہے اور قلیل اس لیے فرمایا کہ اس حرکت سے جس عذاب کے وہ مستحق ہوئے ہیں اس کی نسبت یہ دنیا کا مال و اسباب کچھ بھی نہیں اگرچہ دنیا میں اس کو بہت شمار کیا جاتا ہو۔ قصہ یہ تھا کہ علماء یہودیہ تو خوب جانتے تھے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نبی برحق ہیں مگر ایمان لانے سے اس لئے ٹھٹکتے تھے کہ اگر ایمان لے آئے تو یہ آمدنی جو ہم کو عام لوگوں سے ان کی مرضی کے موافق مسائل بتا بتا کر اور علم کی قدر دانی کے سبب سے ہو رہی ہے یہ سب گاؤ خورد ہوجائے گی اور نیز یہ بھی سوچتے کہ اگر عوام کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ توریت میں جو صفات نبی آخر الزماں کی لکھی ہیں وہ محمد ﷺ میں سب موجود ہیں تو سب کے سب مسلمان ہوجائیں گے اور ہماری کمائی سب جاتی رہے گی۔ اس لیے تورات میں جو صفت لکھی تھی اسے متغیر کردیا۔ چناچہ تورات میں جناب سرور کائنات فخر عالم رسول مقبول ﷺ کا حلیہ یہ لکھا تھا۔
خوبصورت، اچھے بالوں والے، سرمگیں چشم، متوسط قد والے، اس کی جگہ ان ظالموں نے یہ لکھ دیا۔ لمبے قد والے، نیلگوں چشم، چھدرے بالوں والے جب عام لوگوں نے ان نام نہاد علماء سے پوچھا کہ نبی آخر الزماں کا تورات میں کیا حلیہ لکھا ہے تو انہوں نے یہی متغیر شدہ الفاظ پڑھ دیئے ان سب نے دیکھا کہ محمد ﷺ ان سب احوال سے جدا ہیں اس لیے تکذیب کرنے لگے۔
فَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْهِمْ وَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ ( پس وائے ان پر ان کے ہاتھ کے لکھے 1 سے اور وائے (افسوس) ان پر ایسے مال اور اعمال کی کمائی سے) ۔
Ayah 2:80وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ( اور کہتے ہیں ہم کو آگ چھوئے گی بھی نہیں مگر گنتی کے چند روز) جلد کو کوئی شے ایسی طرح پر لگے جو محسوس ہو اسے مس کہتے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہود یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا کی ساری عمر ساتھ ہزار برس کی ہے ہر ہزار برس کے عوض ایک دن ہم کو عذاب ہوگا اور قتادہ و عطا فرماتے ہیں کہ یہود کی مراد وہ چالیس دن ہیں جن میں ان کے آباو اجداد نے گو سالہ کی عبادت کی تھی۔ حسن اور ابو العالیہ نے فرمایا کہ یہود کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایک امر کے بارے میں عتاب فرمایا تھا اور یہ قسم کھائی تھی کہ چالیس دن ان کو عذاب کروں گا۔ اس لیے ہم کو قسم پوری کرنے کے واسطے صرف چالیس دن عذاب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کے لیے آیت : قل اتخذتم۔۔ نازل فرمائی۔
قُلْ اَتَّخَذْتُمْ ( کیا لے لیا ہے تم نے) یہ استفہام انکاری ہے ابن کثیر اور حفص نے اتخذتم اور اخزتم اور جو اس کے مثل الفاظ ہیں ذکر ظاہر کرکے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے ادغام کیا ہے
عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا ( اللہ سے کوئی عہد) مطلب یہ ہے کہ کیا تم نے اللہ تعالیٰ سے عہد لیا ہے کہ اتنا ہی عذاب کریگا۔
فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗٓ ( کہ ہرگز خلاف نہ کرے گا اللہ اپنے عہد کے) یہ شرط محذوف کا جواب ہے حاصل یہ ہے کہ اگر عہد لے لیتے تو اللہ تعالیٰ ہرگز اپنے عہد کے خلاف نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ میں مخالفت نہیں ہوسکتی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وعدہ کے خلاف کرنا خصائل ذمیمہ میں سے ہے۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ عہد سے توحید کا عہد مراد ہے جیسا کہ آیت : اِلَّامَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَھْدًا میں بھی عہد سے مراد لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہنے کا عہد ہے۔ اس تقدیر پر حاصل معنی آیت کے یہ ہوئے کہ اے بنی اسرائیل تم نے لا الہ الا اللہ کا تو اقرار کیا نہیں کہ تمہارے لیے اللہ کے نزدیک عہد ہوتا۔
اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ( یا جوڑتے ہو اللہ پر جو نہیں جانتے) ام تقولون میں ام متصلہ اور منقطعہ دونوں ہوسکتا ہے۔
Ayah 2:81بَلٰى ( سچ تو یہ ہے) یہود نے جو لاف زنی کی تھی کہ ہم کو جہنم کی آگ صرف چند دنوں لگے گی اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اس کا رَد فرمایا ہے۔
مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً ( کہ جس نے برائی کی) کسب کے معنی لغت میں نفع حاصل کرنے کے ہیں اور سیءۃ ( گناہ) کے ساتھ اس کا تعلق بطور استہزاء کے ہے کیونکہ گناہ تو سراسر نقصان کی شے ہے نفع کی اس میں کونسی بات ہے (جیسے کہتے ہیں کہ میاں آگ کھا رہے ہو مطلب یہ ہوتا ہے کہ کیوں ایسے کام کرتے ہو جس سے آگ میں جاؤ) جیسے آیت : فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَاب اَلَیْم ( پس خوشخبری دیجئے ان کو سخت عذاب کی) میں بشارت کا لفظ استہزاء کے طور پر ہے۔
وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ (اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہوں نے) مطلب یہ ہے کہ گناہ اس پر غالب ہوگئے اور اس کے گرد و پیش کو محیط ہوگئے اور وہ گھیرے ہوئے شخص کی طرح ہوگیا کہ کوئی جانب اس کی ایسی نہ رہی جو گناہوں سے خالی ہو۔ آیت کا یہ مضمون کفار ہی پر صادق ہے جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے اس پر صادق نہیں کیونکہ اس کے ہر جانب اور ہر حصہ کو گناہ محیط نہیں ہوتا بلکہ جس جگہ ایمان ہے وہ حصہ سالم ہے اور اسی بنا پر ابن عباس اور ضحاک اور ابو العالیہ اور ربیع اور دیگر علماء ؓ نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں خطیئتہ سے مراد وہ شرک ہے جس پر آدمی مرجائے۔ اس معنے کے موافق معتزلہ اور خوارج نے جو اس آیت سے یہ نکالا ہے کہ کبیرہ گناہ کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ آیت مرتکب کبیرہ پر صادق ہی نہیں۔ اہل مدینہ خطیء أَتُہٗ جمع کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے مفرد اور حمزہ نے وقف کی حالت میں ہمزہ کو ی سے بدلا ہے اور ادغام کیا ہے ایسے ہی جس جگہ ہمزہ متحرک ہو اور وسط میں واقع ہو اور ماقبل اس کے ی ساکن ہو اور زائد ہو جیسے ھنیئاً مَرِیئاً بَریا۔ بریؤن۔ خطیئتہ۔ خطیئاتکم وغیرہ اور اگر ہمزہ سے پہلے سوائے ی کے کوئی اور حرف ساکن ہو تو اگر وہ الف نہیں تو اس کو ہمزہ کی حرکت دے کر ہمزہ کو ساقط کر دو جیسے شَیئا، و خطاء و المشئمۃ وتجئرون ویسؤن وسئل و الظمان والقرآن و مذؤماً و مسؤلا و سیئت والمردۃ اور اگر ساکن الف ہو خواہ وہ ہمزہ سے بدلا ہوا ہو یا زائدہ تو اس کے بعد ہمزہ کو بین بین کرتے ہیں اور تم کو الف پر مد پڑھنے اور قصر کرنے میں اختیار ہے۔ جیسی نسائکم و ابنائکم و ماءٌ و غثاءٌ و سواءٌ و اٰباءُکم وھاوُم اقرؤا من اٰباءھم و ملٰءِکۃ اور اگر ہمزہ مفتوح ہو اور اس کا ما قبل مکسور ہو تو اس کو ی سے بد لو اور مضموم ہو تو و سے جیسی ننشکم او ان شانئک و لؤ لؤ و یودہ اور اگر ایسی صورت نہ ہو اور ہمزہ ی کی صورت میں نہ ہو تو اس کو بین بین پڑھو اور اگر ی کی صورت میں ہو تو اس ہمزہ کو یاء مضموم سے بدل کر پڑھو جیسی انبئکم سنقرئک اور جس صورت میں ہمزہ متوسط ساکن ہو اور ہمزہ کا ماقبل متحرک ہو تو اس کو خالص حرف سے تسہیل کی حالت میں بدلا جاتا ہے۔ جیسے المؤمنون، یوفکون، الرویا۔
فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ( تو وہی لوگ دوزخی ہیں) یعنی ان کو دوزخ لازم ہے جیسے کہ وہ یہاں اسباب دوزخ کو لازم ہیں۔
ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ : وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 2:82وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 2:83وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ (اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا) یہ عہد تورات کے اندر ہوا ہے۔ میثاق کے معنی مستحکم عہد کے ہیں۔ ابن کثیر ‘ حمزہ اور کسائی نے لاتعبدون کو لا یعبدونیا کے ساتھ صیغہ غائب سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے تا سے پڑھا ہے اور لا تعبدون خبر بمعنی نہی ہے۔ جیسے آیتلا یضار کاتب و لا شہید ( یعنی نہ نقصان پہنچایا جائے لکھنے والا اور نہ گواہ) میں لَا یضاربمعنی نہی ہے اور اسی بنا پر احسنوا اور قولوا کا عطفلا تَعْبُدُوْنَ پر مستحسن ہوگیا اور علامہ بغوی نے کہا ہے کہ اصل کلام تھا ان لا نعبودا واجب ان حذف کردیا تو فعل مرفوع ہوگیا اس تقدیر پر لا تعبدون یا تو میثاق سے بدل ہوگا اور یا میثاق کا بحذف یاء معمول ہوگا ابی بن کعب نے لا تعبدوا ( نہ عبادت کرو) بصیغہ نہی پڑھا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ لا تعبدون .... جواب قسم ہے اور معنی یہ ہیں کہ ہم نے ان کو قسم دی کہ غیر اللہ کی عبادت نہ کریں ...
وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ( اور ماں باپ سے سلوک کرتے رہنا) یہ فعل محذوف کے متعلق ہے تقدیر عبارت کی یا تو یہ ہے : تُحْسِنُوْنَ بالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا یا یہ ہے احسِنُوا بالَْوَا لِدَیْنِ اِحْسَانًا ( یعنی اور احسان کرو والدین کے ساتھ احسان کرنا) اس تقدیر پر لا تعبدون پر معطوف ہوگا اور یا تقدیر عبارت کی یہ لی جائے وَ صَّیْنَاھُمْ بالْوَالِدِیْنَ اِحْسَاناَ ( یعنی ہم نے ان کو والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا) اس صورت میں اس کا عطف اخذنا پر ہوگا اور ماں باپ کے ساتھ سلوک کرنا یہ ہے کہ ان کی خدمت کرے اور ان سے محبت سے پیش آئے اور جب تک ان کا قول اللہ تعالیٰ کے حکم کے مخالف نہ ہو ان کا کہا مانے۔
وَّذِي الْقُرْبٰى ( اور رشتہ دارو) اس کا عطف الوالدین پر ہے اور قربی مثل الحسنٰی کے مصدر ہے۔
وَالْيَتٰىُٰ ( یتیم کی جمع ہے یتیمہ اس بچہ کو کہتے ہیں جس کا باپ نہ رہا ہو۔
وَالْمَسٰكِيْنِ ( جمع ہے مسکین بروزن مفعیل کی اور سکون سے مشتق ہے مسکین کو مسکین اس لیے کہتے ہیں کہ اسے فقر اور تنگدستی نے ایک جگہ ساکن کردیا ہے طبیعت میں چلنے پھرنے کا نشاط نہیں رہا اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ ان پر رحم کھائے اور ان کے حقوق ادا کرے۔
وَقُوْلُوْا للنَّاسِ ( اور کہو لوگوں سے) اس کا احسنوا پر عطف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے قلنا مقدر ہو اور اس کا عطف اخذنا پر ہو۔
حُسْـنًا ( نیک بات) حمزہ اور کسائی اور یعقوب نے حسناً کو حاء اور سین کے فتح سے صیغہ صفت سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے حسناً بضمۂ حاء و سکون سین پڑھا ہے۔ اس صورت میں مصدر ہوگا اور مبالغہ کے طور پر قول کی حسن ( نیکی) کہہ دیا ہے مطلب یہ ہے کہ ایسی بات کہو کہ جو سرتا پا نیکی ہو اور لفظ قولاً حَسَناً ( نیک بات) ہر قسم کی بھلی بات کو شامل ہے۔ ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ کی شان والا اور آپ کی صفت بیان کرنے میں سچی بات کہو اور سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہیں کہ نیک بات لوگوں کو بتاتے رہو اور بری بات سے روکتے رہو یا یہ مطلب کہ آپس کے برتاؤ میں نرم بات بولو یا یہ مراد کہ سچی گواہی دو یا یہ مقصود کہ ایسی بات کہو جس پر ثواب ہو۔
وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ ( اور نما زپڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر تم سب پھرگئے) شروع رکوع سے بنی اسرائیل کو بطور غیبت خطاب فرمایا اور ثم تولیتم صیغہ خطاب سے کلام کا رخ موڑ دیا جو بنی اسرائیل نبی ﷺ کے زمانہ میں اور جو آپ سے پہلے تھے سب کو بطور تغلیب خطاب ہے۔
اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ ( سوائے تھوڑے سے آدمیوں کے تم میں سے) مطلب یہ ہے کہ عہد سے سوائے چندآدمیوں کے سب پھرگئے اور یہ چند آدمی وہ اہل کتاب تھے جو ایمان لے آئے تھے جیسے عبد اللہ بن سلام ؓ وغیرہ
وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ ( اور تم لوگ ہو بھی پھرنے والے) یعنی تمہاری تو عادت ہی عہد سے پھرنے کی ہے یا ثم تولیتم الا قلیلا کے یہ معنی کہ پھر تمہارے باپ ‘ دادے عہد سے پھرگئے اس صورت میں تقدیر عبارت یہ ہوگی ثُمَّ تَوَلَّتْ ابَاکُمْ ( پھر تمہارے باپ دادا عہد سے پھرگئے) اباء مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو قائم مقام کردیا اور فعل کو اس کی طرف مسند کردیا۔ اس صورت میں انتم معرضون کے یہ معنی ہوں گے کہ تم اپنے باپ دادے کی طرح اعراض کرنے والے ہو۔
Ayah 2:84وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَاۗءَكُمْ وَلَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ ( اور وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے اقرار لیا کہ آپس میں خونریزی نہ کرنا اور نہ اپنے شہروں سے اپنے لوگوں کو جلا وطن کرنا) لا تسفکون کی وہی تفسیر ہوگی جو لا تعبدون کی تھی جو شروع رکوع میں گزر چکی۔ اس کے لفظی معنی تو یہ ہیں کہ نہ تو اپنے خون بہائیں اور نہ اپنے شہروں سے اپنی جانوں کو نکالیں۔ مطلب یہ کہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ایسا معاملہ نہ کریں اور ایک دوسرے کے قتل کرنے اور نکالنے کو اپنے قتل کرنے اور نکالنے سے اس لیے تعبیر کیا کہ بنی اسرائیل سب آپس میں باعتبار نسب اور دین کے ایک تھے۔ نیز محاورہ بھی اسی طرح ہے۔ بعض مفسرین نے کہا مطلب یہ ہے ایسے کام نہ کرو جو تمہارے خون بہانے اور جلا وطن کرنے کو مباح کردیں۔ بعض نے فرمایا : لا تخرجوا۔۔ کے یہ معنی کہ تم اپنے ہمسایوں سے برا برتاؤ نہ کرو جس سے نا چار ہو کر وہ نکل جائیں۔
ثُمَّ اَقْــرَرْتُمْ (پھر تم نے ( اس عہد کا) اقرار کیا۔
وَاَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ ( اور تم گواہ ہو) یا تو یہ معنی کہ تم اس بات کے گواہ ہو کہ یہ عہد ہوا تھا اس تقدیر پر و انتم تشہدون ما قبل کی تاکید ہوگی یا یہ مطلب کہ اے موجودہ بنی اسرائیل کے گروہ تم گواہ ہو کہ تمہارے بزرگوں نے ایسا اقرار کیا تھا۔ اس صورت میں ثم اقررتم میں اقرار کی اسناد موجودین کی طرف مجازاً ہوگی۔
Ayah 2:85ثُمَّ اَنْتُمْ ھٰٓؤُلَاۗءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَتُخْرِجُوْنَ فَرِيْـقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِيَارِھِمْ ( پھر وہی تم ہو کہ خون کرتے ہو آپس میں اور نکال دیتے ہو اپنے ایک فرقہ کو ان کے وطن سے) یہاں ثم بعد زمانی کے لیے نہیں بلکہ بعد عہد کے لیے ہے عہد کے توڑ دینے کے استبعاد کو ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے ( جیسے کہتے ہیں کہ میاں ہم نے کہا تم نے پھر بھی نہ مانا) انتم مبتدا ہے اور ھٰوُلَاء خبر ہے اور معنی یہ ہیں پھر تم وہی بد عہد ہو۔ جیسے کہا کرتے ہیں کہ کیا تم وہی شخص ہو جس نے ایسا کیا۔ صفت کے بدلنے کو بمنزلہ ذات کے بدلنے کے ٹھیر کر ایسے کلام کا استعمال کیا کرتے ہیں اور جملہ تقتلون انفسکم یا تو حال ہے اور عامل اس میں معنی اشارہ کے ہیں اور یا انتم ھٰولاءِ کا بیان ہے۔ یا یہ کہا جائے کہ انتم مبتدا ہے اور ھٰولاء تاکید ہے تقتلون انفسکم خبر ہے یا یہ کہا جائے کہ ھٰولاء بمعنی الذی ہے اور جملہ تقتلون۔۔ صلہ ہے اور صلہ موصول مل کر انتم کی خبر ہے یا یہ توجیہ کی جائے کہ ھٰؤلائپر حرف ندا مقدر ہے اور معنی یہ ہیں پھر تم اے لوگو قتل کرتے ہو اپنی جانوں کو۔
تَظٰھَرُوْنَ عَلَيْهِمْ بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ( ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو ان کے مقابلہ میں گناہ اور ظلم سے)
عاصم، حمزہ اور کسائی نے تظاھرون کو باب تفاعل سے ت کو حذف کرکے پڑھا اور اسی طرح سورة تحریم میں پڑھا ہے اور دیگر قراء نے تظاہرون کی ایک ت کو ظ میں ادغام کرکے پڑھا ہے۔ تظاہر کے معنی ایک دوسرے کی مدد کرنا ظہر سے مشتق ہے اور تظاہرون یخرجون کے فاعل یا مفعول یا دونوں سے حال ہے۔
وَاِنْ يَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى ( اور اگر وہی لوگ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں) حمزہ نے اساوی کے بجائے اسرٰی پڑھا ہے اور اساری اور اسرٰی دونوں اسیر کی جمع ہے۔
تُفٰدُوْھُمْ ( تو عوض دے کر انہیں چھڑا لیتے ہو) یعنی ایک قیدی کو دے کر دوسرے قیدی کو چھڑا لیتے ہو۔ ابن کثیر ابو عمرو اور ابن عامر حمزہ اور ابو جعفر نے تفدوھم ( مالی عوض دے کر چھڑا لیتے ہو) پڑھا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ دونوں لفظ یعنی تفادوھم و نفدوھم کے ایک معنی ہیں۔ سدی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں بنی اسرائیل سے یہ عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کریں اور ایک دوسرے کو جلاوطن نہ کریں اور جو غلام یا باندی بنی اسرائیل میں سے کہیں پائیں تو اسے خرید کر آزاد کردیں۔ اس پر جو کچھ انہوں نے عمل کیا اس کا قصہ یہ ہے کہ بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نظر خزرج کے حلیف تھے اور بنو قریظہ اور ان کے حلیف نضیر اور نصیر کے حلیفوں سے قتال کرتے اور جب ایک دوسرے پر غالب آجاتے تو گھروں کو برباد کردیتے اور گھر والوں کو جلا وطن کردیتے تھے لیکن اگر کسی اور موقع پر دونوں گروہوں میں سے کسی گروہ کا کوئی آدمی قید ہوجاتا تو مال جمع کرکے فدیہ دے کر اس کو دونوں گروہ چھڑا لیتے اس پر عرب ان پر طعن کرتے اور کہتے کہ تم ان سے قتال بھی کرتے ہو اور پھر فدیہ دے کر چھڑاتے بھی ہو تو جواب میں کہتے ہمیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا ہے کہ فدیہ دے کر چھڑا لو۔ عرب کہتے ہیں کہ پھر قتال کیوں کرتے ہو تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے شرماتے ہیں کہ ہمارے حلیف ذلیل سمجھے جائیں اپنے حلیفوں کی نصرت کے لیے قتال کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تقتلون انفسکم ..... غرض اللہ تعالیٰ نے ان کو تین احکام ارشاد فرمائے تھے۔
(1) آپس کا قتل و قتال چھوڑنا، (2) جلا وطن کرنے کو ترک کرنا، (3) ایک دوسرے کی مدد کرنا۔ انہوں نے تینوں ارشادوں میں مخالفت کی اور صرف فدیہ دے کر چھڑا لینے کو اختیار کرلیا۔
وَھُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْكُمْ ( حالانکہ حرام کردیا گیا تم پر) ھو یا تو ضمیر شان کی ہے اور یا یخرجون میں جو مصدری معنی ہیں اس کی طرف راجع ہے اور یا اخراج محذوف کی طرف راجع ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی و ان یاتوکم اساری تفادوھم مع ما صدر منکم اخراجھم و ھو محرم علیکم یعنی اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آتے ہیں تو تم عوض دے کر انہیں چھڑ الیتے ہو باوجود اس کے کہ پہلے تمہاری طرف سے نکالنا صادر ہوچکا حالانکہ یہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام کیا گیا ہے۔
اِخْرَاجُهُمْ ( ان کا نکالنا بھی) اور اخیر کی دو صورتوں پر اخراجہم تاکید ہے یا ضمیر ھو کو مبہم مانا جائے اور اخراجہم کو اس کی تفسیر قرار دی جائے اور جملہوَ ھُوم محرم علیکم اخراجہم کو کلام سابق سے مربوط قرار دیا جائے ربط کی تقریر یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے جب فدیہ کا حکم ماننے کے وقت ایک حرام کام یعنی جلا وطن کرنے کا ارتکاب کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ ان کی اطاعت بھی معصیت سے خالی نہیں تو خود معصیت خالص تو کیسی کچھ ہوگی اس تقریر سے خاص جلا وطن کرنے کے حرام ہونے کو مکرر ہونے کو مکرر ذکر فرمانے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی اور بیضاوی نے کہا ہے کہو : ھو محرم علیکم تخرجون فریقاً منکم من دیارھم کے متعلق ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ ” تم ایک فریق کو ان کے وطن سے نکالنتے ہو حالانکہ ان کا نکالنا تم پر حرام کیا گریا ہے “ اور ان کے درمیان جو کلام ہے جملہ معترضہ ہے۔ اس صورت میں نکالنے کے حرام کرنے کو مکرر ذکر فرمانے کی وجہ ظاہرنہ ہوگی۔ واللہ اعلم
اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ ( کیا مانتے ہو کتاب کی بعض بات) بعض الکتاب سے فدیہ کا واجب ہونا مراد ہے۔
وَتَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ( اور نہیں مانتے بعض بات) اس بعض سے مراد قتل اور جلا وطن کرنے کی حرمت ہے۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ حاصل افتومنون۔۔ سے یہ ہے کہ کیسی حماقت اور ظلم کی بات ہے کہ اپنے بھائیوں کو اگر غیر کے پاس پاتے ہو تو فدیہ دے کر سب کو چھڑاتے ہو اور پھر خود اپنے ہاتھ سے انہیں قتل کر ڈالتے ہو۔
فَمَا جَزَاۗءُ مَنْ يَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ ( پس کچھ سزا نہیں اس کی جو کوئی تم میں سے ( اے یہود یہ کام کرتا ہے) ذٰلک سے کتاب کی بعض بات ماننا اور بعض کا انکار کرنا مراد ہے۔ منکم کے مخاطب یہود ہیں۔
اِلَّا خِزْيٌ ( مکر رسوائی) یعنی عذاب اور ذلت اور خزی کے اصل معنی ہیں ایسی ذلت جس سے شرم آئے۔
فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ( دنیا کی زندگی میں) چناچہ یہ رسوائی اور عذاب واقع ہوا۔ قریظہ کے لیے تو یہ رسوائی اور عذاب ہوا کہ قتل ہوئے اور قید کرلیے گئے اور نضیر کے لیے یہ ہوا کہ مقام اذرعات اور اریحا میں نکال دیئے گئے اور وہاں ان پر اور دوسروں پر بھی جزیہ مقرر کیا گیا۔
وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يُرَدُّوْنَ اِلٰٓى اَشَدِّ الْعَذَابِ ( اور قیامت کے دن پہنچائے جائیں گے سخت سے سخت عذاب میں) اس سے جہنم کی ہمیشہ کی آگ مراد ہے۔
وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ( اور اللہ بیخبر نہیں اس سے جو تم کر رہے ہو) ابن کثیر نافع اور ابوبکر نے عما تعملون میں تعملون کو ی بصیغہ غائب پڑھا ہے اور اس صورت میں ضمیر تعملون میں من کی طرف راجع ہوگی جو من یفعل ... میں مذکور ہے اور دیگر قراء نے صیغہ خطاب سے پڑھا ہے۔
Ayah 2:86اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا بالْاٰخِرَةِ ۡ فَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ ( یہی لوگ ہیں جنہوں نے مول لے لی ہے دنیا کی زندگی آخرت کے بدلے سو نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ان کو مدد پہنچے گی) یعنی وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ ہوں گے۔