2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:29

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سب چیزیں جو زمین میں ہیں تمہارے لیے پیدا کیں پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا تو ان کو ٹھیک سات آسمان بنا دیا اور وہ ہر چیز سے خبردار ہے

ھُوَ الَّذِىْ خَلَقَ لَكُمْ (وہی ہے جس نے بنایا تمہارے لیے) پھر متوجہ ہوا آسمان ( بنانے کی طرف) خَلَقَ لَکُمْ یعنی ( جو کچھ زمین میں ہے وہ دنیا و آخرت میں) تمہارے نفع اور فائدہ مند ہونے کے لیے پیدا کیا ہے دنیا میں ( اس کی تمام چیزوں سے سود مند ہونا تو محتاج دلیل نہیں) بواسطہ یا بلاواسطہ ( دنیا کی) سب چیزوں سے انسان منتفع ہوتا ہے۔ رہا آخرت کا نفع سو وہ یہ ہے کہ دنیا و ما فیہا کو دیکھ کر عبرت حاصل کی جاتی ہے۔ مَّا فِى الْاَرْضِ جَمِيْعًا (سب کا سب جو کچھ زمین میں ہے) اور اس آیۃ کریمہ میں جو نعمت بیان کی گئی ہے وہ نعم مذکورہ آیت سابقہ پر مرتب ہے ( کیونکہ دنیا کی اشیاء سے منتفع ہونا تو ظاہر ہے کہ بعد اعطاء حیات وجود میں آیا ہے) ثُمَّ اسْتَوٰٓى اِلَى السَّمَاۗءِ : پھر آسمان کا قصد کیا ( کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے) ابن عباس ؓ اور اکثرسلف صالحین نے تو یہ تفسیر فرمائی ہے کہ پھر آسمان کی طرف صعود فرمایا۔ اس تفسیر پر یہ آیت مثل الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی (رحمن عرش پر قائم ہوا) کے متشابہات میں سے ہوگی۔ ابن کیسان اور فراء اور نحویوں کی ایک جماعت کا میلان اس طرف ہے کہ استواء کے یہ معنے ہیں کہ آسمان پیدا کرنے کی طرف توجہ و قصد کیا 2 ؂۔ کہتے ہیں کہ استواء بمعنی قصد عرب کے قول استوٰی اِلَیْھِم کا سھم المرسل سے مشتق ہے اور یہ اس وقت بولتے ہیں کہ جب سیدھ باندھ کر بغیر کسی دوسری طرف توجہ کے کسی شے کی جانب کسی نے قصد کیا ہو۔ امام بیضاوی نے کہا ہے کہ ثم استوی میں کلمہ ثم ( پھر) لانے کی دو وجہ ہوسکتی ہیں اول یہ کہ زمین اور اس کی کل چیزیں پیدا کرنے اور آسمان کے پیدا کرنے میں مدت فاصل ہو۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ بات ظاہر فرمائی ہے کہ آسمان کو زمین پر شرف و فضیلت ہے۔ چناچہ دوسرے مقام پر بھی کلمہ ثم ترقی مرتبہ کے لیے ارشاد فرمایا ہے : ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( اور یہ دوسری وجہ ہی صحیح ہے کیونکہ اگر مدت فاصل ہونا مراد ہوگا۔ تو بظاہر دوسری آیت سے تعارض لازم آئے گا اور وہ آیت یہ ہے : وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا (یعنی زمین کو آسمان وغیرہ بنانے کے بعد بچھایا) یہ آیت صاف بول رہی ہے کہ زمین کا بچھانا آسمان کے پیدا کرنے اور اس کے برابر کرنے کے بعد واقع ہوا ہے ( اور جب زمین کا درست کرنا اور بچھانا آسمان کے بعد ہوا ہے تو زمین کی اشیاء ظاہر ہے کہ بطریق اولیٰ آسمان کے بعد ہونگی اور جب آسمان کے بعد ہوئیں توکلمہ ثم کا لانا کس طرح درست ہوگا) علامہ بغوی نے آیہ والْاَرْضَ بَعْدَ ذَالِکَ دَحٰھَا کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اوّل زمین کو مع اس کی پیداوار کے جو اس کے اندر ہے پیدا فرمایا مگر اسے بچھایا نہیں۔ پھر آسمان کی طرف توجہ فرمائی توسات آسمان برابر بنائے پھر اس کے بعد زمین کو پھیلایا بعض نے کہا ہے کہ والْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِکَ دَحٰھَا کے یہ معنی ہیں کہ آسمان کے پیدا کرنے کے ساتھ ہی زمین کو بچھا دیا اور لفظ بعد بمعنی مع ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے : عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ ( یعنی بد خو ہے اور اس سب کے ساتھ بد اصل بھی ہے) یہاں بھی لفظ بعد بمعنی مع ہے۔ علامہ بغوی نے سورة حم السجدہ کی آیت خَلَقَ الْاَرْضَ فِی یَوْمَیْنِ ۔۔ (کی تفسیر میں فرمایا کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ زمین کو اتوار اور پیر دو دن میں بنایا ہے وَ قَدَّ رَفِیْھَا اَقْوَاتَھَا ( اور دو دن یعنی منگل اور بدھ میں اس کے رہنے والوں کی خوراک مقرر کردی) تو یہ دو دن پہلے دو سے مل کر چار روز ہوگئے۔ اسی واسطے فرمایا ہے : وَ قَدَّرَ فِیْھَا اَقْوَاتَھَا فِی اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ ( یعنی زمین میں اس کے رہنے والوں کی خوراک چار دن کے اندر مقرر فرمادی) اس کے بعد فرماتا ہے : فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ ( پھر انہیں پنج شنبہ اور جمعہ دو دن میں سات آسمان بنا دیئے) یہی اقوال سلف سے مستفاد ہے ‘ واللہ اعلم۔ فَسَوّٰىھُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ ( تو انہیں سات آسمان ہموار بنا دئیے) یعنی ہموار و برابر پیدا کئے کہیں ان میں رخنہ اور دراڑ نہیں۔ ھُنَّکی ضمیر السَّمَآءُ کی طرف اس تقدیر پر راجح ہے کہ سماء سے مراد ہیں اجرام سماویہ کیونکہ سماء یا تو جمع ہے یا جمع کے معنی میں ہے اور سَبْعَ سَمٰوٰتٍ اس ضمیر ھُنَّ سے بدل ہے اور السماء کی تفسیر اجرام سے نہ کریں تو اس وقت ضمیر ھُنَّ مبہم ہے ( یعنی کسی کی طرف راجع نہیں اور سَبْعَ سَمٰوٰتاس کی تفسیر ہے) جیسا کہ عرب کے قول رُبُّہٗ رَجُلًا میں ( ضمیر کا مبہم ہے اور رَجُلًا اس کی تفسیر ہے) اب اگر کوئی کہے کہ اہل ارصاد نے تو نو افلاک ثابت کئے ہیں سات یہ اور آٹھواں فلک اطلس جو فلک الافلاک ہے اور نواں فلک ثوابت (1)[ یہاں آٹھویں اور نویں آسمان کی ترکیب ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے کیونکہ اہل ہیئت کے نزدیک آٹھواں آسمان فلک ثوابت اور نواں فلک اطلس یعنی فلک الافلاک ہے۔] یہ دونوں بےجز کے ہیں (2) [ یعنی فلک ثوابت اور فلک اطلس میں افلاک جزئیہ نہیں ہیں، باقی ساتوں افلاک میں افلاک جزئیہ بھی ہیں۔] اور انہوں نے سات افلاک کے کچھ ازاء ثابت کئے ہیں۔ بعض تو ان میں سے تین افلاک سے مرکب ہیں کہ وہ افلاک مرکز کے باہر واقع ہیں اور انہیں ایک کوکب اور ایک متمم حاوی اور ایک متمم محوی ہے اور بعض ان میں سے پانچ افلاک خارج مرکز اور دو متمم حاوی اور دو متمم محوی سے مرکب ہیں اور اس میں اور بھی افلاک ہیں کہ جو بالکل ٹھوس ہیں اور ان میں بالکل خلاء نہیں اور اس میں کواکب متحیرہ قائم ہیں اہل ہیئت نے اس کا نام فلک التدویر رکھا ہے۔ میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہ اہل ہیئت نیافلاک کا شمار کواکب کی حرکات کے اعتبار سے کیا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ کل کواکب اور آفتاب رات دن دورہ کرتے ہیں تو ایک نے افلاک الافلاک ثابت کیا جو تمام کواکب کو مشرق سے مغرب کی طرف حرکت قسریٰ دیتا ہے اور جب یہ دیکھا کہ کواکب سبعہ کے سوا اور کواکب ایک طرح حرکت کرتے ہیں اور کواکب سبعہ سیارہ کی حرکت تیزی اور سستی میں مختلف ہے اور کبھی بروج شمالیہ سے جنوبیہ کی طرف اور کبھی بروج جنوبیہ سے شمالیہ کی طرف حرکت کرتے ہیں تو انہوں نے ان کی حرکات کے موافق فلک کی شمار کی اور جب یہ دیکھا کہ آفتاب کے سوا اور سیاروں کی حرکت کبھی تیز ہوجاتی ہے کبھی دھیمی کبھی مشرق کی طرف ہوتی ہے اور کبھی مغرب کی طرف اور کبھی ٹھہر (3) [ قولہ ٹھہر ٹھہر کر۔ حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ٹھہرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کیونکہ اگر اس طرح افلاک کے درمیان انفصال فرض کرلیا جائے تو جدا جدا افلاک ان کی حرکات سے واجب اور ضروری ہوں گے ( اور اس میں کوئی قباحت نہیں) ہاں محوی کا متحرک ہونا اسی صورت میں لازم ہوسکتا ہے کہ حاوی اور محوی دونوں میں تلاصق اور اتصال ہو اور یہ تعدد افلاک کے علاوہ دوسرا مر ہے ( جس سے یہاں بحث نہیں) (حضرت قاضی صاحب (رح) جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں) میں کہتا ہوں افلاک کے متلاصق ہوتے ہوئے توقف ( ٹھہر جانے) کی وجہ اہل ہیئت کا یہ خیال ہے کہ ہر کوکب اور ایسے ہی شمس و قمر کی دو حرکتیں ہیں۔ ایک حرکت قسری جو نویں فلک کے تابع ہے جس سے اسکا دورہ ایک رات دن میں پورا ہوتا ہے اور اسی حرکت پر رات اور دن کی بناء ہے اور دوسری حرکت طبعی مشرق کی طرف ہے جس سے ان کی حرکتوں میں اختلاف ہوتا ہے اور جس پر فصلوں کا اور مہینوں وغیرہ کے اختلاف کا مدار ہے۔ بلکہ ہر کوکب کی بوجہ قسر کے بہت سی حرکتیں ہیں ایک تو یہی ہے جو فلک الافلاک کے تابع ہے۔ دوسری متممات حاویہ اور محویہ کے قسر کی وجہ سے اور متحیرہ کی طبعی حرکت ان کی تدویرات کی ہی حرکت ہوا کرتی ہے اور جو کوکب کی تدویز نہ ہو تو اس کی حرکت طبعی وہی ہوا کرتی ہے جو اسکے فلک کی ہوتی ہے جس میں وہ مرکوزہوتا ہے اور حرکت قسری تو بدون تلاصق کے متصور ہی نہیں ہوسکتی۔ میرے نزدیک اس مقام کی تحقیق میں شبہات ہیں جن کی گنجائش اس جگہ نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ کواکب اور شمس و قمر سب کے سب آسمان دنیا میں ہیں اور ہر ایک کی علیحدہ اور مختلف حرکت ہے۔ ہر کوکب اپنے فلک میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مچھلی پانی میں ان میں سے کوئی بھی دوسرے فلک کے قسر سے نہیں۔ رات دن اور موسموں کا اختلاف کواکب کی حرکت کے اختلاف سے مربوط ہے۔ یہ بحث طویل ہے۔ یہ مقام اس کے مناسب نہیں۔] ٹھہر کر تو انہوں نے تداویرات متعددہ ثابت کردیں۔ تو اس حساب سے افلاک کی شمار قریب تیس کے پہنچ گئی۔ اگر مفصل بحث دیکھنی منظور ہو تو علم ہیئت (4) [ آسمانوں کی یہ گنتی اور ترتیب اور اتصال ہیئت قدیم کا مسلمہ ہے اکثر علماء تفسیر نے آیات قرآنی کو اسی مسلمہ پر منطبق کرنے کی کوشش کی ہے جو میرے نزدیک تاویل زائغ یا تحریف ہے۔ تحقیقات کائنات کی کوئی آخری حد نہیں نہ کسی قول کو آخری قول کہا جاسکتا ہے نہ کسی مسلمہ کو یقینی قطعی ناقابل شک کہہ سکتے ہیں ہاں اگر تطبیق ہی دینی ہے تو علوم عقلیہ کو نص قرآنی کے مطابق بنانے کی کوشش مضر نہیں منصوصاتِ الٰہیہ کو اصل ناقابل شک قرار دینا ضروری ہے اور تصریحات علماء کو ان کی شہادت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ ہیئت ترتیب اتصالی کی قائل نہیں نہ افلاک کا حصر صرف نو میں کرتی ہے اس وقت تک کی تحقیقات سے اس کائنات کے چالیس کروڑ کرے ثابت ہوچکے ہیں دس کروڑ آسمان اور تیس کروڑ زمینیں ہر آسمان کے آس پاس تین زمینیں ہیں ہر کرہ بعلاقہ کشش اپنی جگہ قائم ہے اور حرکت مستدیر کر رہا ہے کوئی کسی سے متصل نہیں ہر کرہ کا فاصلہ دوسرے کرہ سے لاکھوں میل کا ہے بلکہ بعض کا فاصلہ تو کروڑوں اور اربوں میل تک پہنچتا ہے ہاں ایک کرہ کو دوسرے کرہ کے اوپر یا نیچے کہا جاسکتا ہے اور وہ بھی اضافی طور پر ورنہ حقیقی فوق و تحت تو موجودہ ہیئت میں مفقود الوجود ہے نہ کوئی مرکز عالم ہے نہ محیط کل ہر کرہ کا مرکز اور محیط جدا جدا ہے کسی فلک کے مادۂ تخلیق کی تعیین بھی ابھی تک نہیں ہوسکی کہ کس قسم کے اجزاء سے بنا ہوا ہے اور اس کی فضاء میں کونسے اجزاء موجود ہیں۔ ہاں اگر مجمل لفظ بولا جاسکتا ہے تو برقیات مکفوفہ یا بستہ لہریں یا محدود شعاعیں یا اسی قسم کا کوئی دوسرا لفظ بول سکتے ہیں مگر یہ لفظ بھی صرف فہمائش کے لیے بولا جائے گا حقیقت کی تعبیر کے لیے یہ بھی کافی نہیں پھر ہر فلک کا رنگ حجم اور دوسری کیفیات کا علم حاصل کرنے کے لیے ارشادات نبویہ ہی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا اصطلاحی علوم اس کے واقعی بیان سے قاصر ہیں ہر روز کی تنقیح ترقی پذیر ہے اور ترقی پذیر رہے گی۔ قرآن اور احادیث میں جو سبع سماوات کا لفظ آیا ہے اور عرش و کرسی کی صراحت کی گئی ہے اس کو ہیئت قدیم کی خرافات کی تائید میں پیش کرنا احمقانہ کوشش ہے۔ سبع سماوات کو سات اونچے کرے یعنی سیارات سبعہ کیوں نہ قرار دیا جائے اور عرش و کرسی کو اقتدار الٰہی کیوں نہ کہہ لیا جائے مگر یہ تاویلیں بھی قطعی نہیں۔] کی طرف رجوع کرنا چاہئے جب یہ بات معلوم ہوگئی تو اب جاننا چاہئے کہ اس طرف پر افلاک کا شمار باعتبار حرکات کواکب ثابت کرنا محض باطل اور وہ بھی چند مفروضات پر مبنی ہے کہ وہ بھی بےاصل ہیں ان مفروضات میں سے ایک مفروضہ تو یہ ہے کہ وہ زعم کرتے ہیں کہ توڑ جوڑ اجسام فلکیہ کا بالکل محال ہے اور ایک مفروضہ یہ ہے کہ تمام افلاک ایک دوسرے سے باہم ملے ہوئے ہیں جیسا کہ پیاز کے چھلکے کہ وہ ایک دوسرے سے باہم متصل ہیں اور یہ مقدمات اسے مستلزم ہیں کہ فلک الافلاک کی حرکت سے تمام افلاک میں حرکت جبریہ ہو اور یہ جملہ مفروضات سے جو لازم آتا ہے سب کا سب باطل محض ہے کیونکہ آسمان کا پھٹ جانا عقلاً جائز اور نقلاً واجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (کہ جب آسمان پھٹ جائے گا) اور مثل اس کے بہت سی آیتوں سے آسمان کا پھٹنا ثابت ہوتا ہے اور اسی طرح آسمانوں کا باہم متصل نہ ہونا اور ہر دو آسمان کے مابین مسافت کا ہونا شرعاً ثابت ہے۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک وقت حضور فخر عالم ﷺ اور صحابہ تشریف فرما تھے کہ ایک بادل آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ فرمایا : ابر ہے۔ زمین کے لیے روایت کی مثل ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ایسی قوم کی طرف بھی بھیجتا ہے کہ جو اس کا شکر نہیں کرتی نہ اس سے دعا مانگتی ہے پھر فرمایا جانتے ہو یہ تمہارے اوپر کیا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ عالم ہیں۔ فرمایا آسمان ہے جو ایک سقف محفوظ اور موج بستہ ہے۔ پھر فرمایا جانتے ہو تمہارے اور آسمان کے درمیان کس قدر مسافت ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا اللہ اور رسول ہی کو خبر ہے۔ فرمایا : پانچ سو برس کی پھر فرمایا : جانتے ہو کہ اسکے اوپر کیا ہے ؟ عرض کیا اللہ اور رسول ﷺ کو علم ہے۔ فرمایا ایک اور آسمان ہے کہ اس آسمان اور اس کے مابین پانچ سو برس کی مسافت ہے اسی طرح رسول خدا ﷺ فرماتے رہے اور صحابہ ؓ سنتے رہے اور جواب دیتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ نے سات آسمان گنوائے اور ہر دو آسمان کے درمیان مثل اسی بعد (500) پانچ سو برس کے جو آسمان دنیا اور زمین کے مابین ہے ثابت فرمایا پھر فرمایا جانتے ہو ان سب کے اوپر کیا ہے صحابہ نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ خبر ہے۔ فرمایا ان سب کے اوپر عرش عظیم ہے اس کے اور آسمان کے مابین پانچ سو برس کی مسافت ہے پھر فرمایا جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے صحابہ نے کہا اللہ اور رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں فرمایا زمین ہے پھر فرمایا کچھ خبر ہے کہ اس کے نیچے کیا ہے صحابہ نے مثل سابق ہی جواب دیا۔ فرمایا اس کے نیچے ایک اور زمین ہے اور دونوں زمینوں کے مابین پانچ سو برس کی مسافت ہے غرض کہ حضور ﷺ نے ساتوں زمینیں شمار فرما کر ہر ایک کے مابین پانچسو برس کی مسافت ظاہر فرمائی پھر فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی کہ جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر تم یہاں سے ایک رسّی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤ تو وہ رسّی اللہ کی ذات پر جا کر اترے گی۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی :۔ ھُوَ الْاَوّلُ وَ الْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ ( وہی آخر ہے وہی ظاہر وہی باطن ہے اور وہی ہر شے کو جاننے والا ہے) اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا اس آیت کو تلاوت فرمانا اس پر دلیل قاطع ہے کہ حضور نے ان الفاظ سے کہ وہ رسّی اللہ پر اترے گی یہ مراد لی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت پر اترے گی اور اللہ کا علم ہر مکان میں ہے اور وہ خود عرش پر ہے (چنانچہ اللہ نے خود اپنی نسبت فرمایا ہے : اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْش اسْتَویٰ ( یعنی رحمن عرش پر قائم ہے) میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضور ﷺ کا یہ فرمانا کہ وہ رسّی اللہ پر اترے گی۔ متشابہات (5) [ ظاہر حدیث سے چند امور پر روشنی پڑتی ہے سات آسمان ہیں ہر آسمان کا فاصلہ دوسرے آسمان سے پانچسو برس کی راہ ہے۔ ہر آسمان دوسرے آسمان سے اوپر ہے۔ عرش سب کے اوپر ہے۔ سات زمینیں ہیں ہر زمین کا فاصلہ دوسری زمین سے پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہے اگر زمین کی طرف کوئی رسّی لٹکائی جائے تو ذات خدا پر منتہی ہوگی۔ اس کے ثبوت میں حضور نے آیت : ہو الاول۔۔ تلاوت فرمائی۔ ترمذی کے نزدیک ذات خدا سے علم اور قدرت مراد ہے مؤلف کے نزدیک رسّی کا ذات پر منتہی ہونا متشابہات میں سے ہے ناقابل فہم۔ صوفیہ کے نزدیک اللہ کی معیت بلاکیف ہر شی کے لیے ثابت ہے اس فقیر کے نزدیک حدیث یا جزاء بغیر کسی تاویل کے صحیح ہے اور صوفیہ کا قول بھی حقیقت پر مبنی ہے ترمذی کی تاویل کی ضرورت نہیں نہ حدیث کا آخری حصہ متشابہات میں سے ہے حضور کا آیت : ھو الاول .... کو بطور ثبوت تلاوت فرمانا خود اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ حدیث کا آخری حصہ متشابہات میں سے نہیں ہے ورنہ آیت قرآن کو بطور دلیل نہ پیش کیا جاتا متشابہات یونہی واجب التسلیم ہیں۔ دلیل کی روشنی میں فہم و افہام نازیبا ہے۔ سیاق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت مذکورہ متشابہات میں سے نہیں ہے ورنہ ایک متشابہ کی ثبوت میں دوسرے متشابہ کو پیش کرنا جو بجائے خود ناقابل فہم ہے نہ فقط غیر مفید بلکہ کلام بلغاء کے خلاف ہے۔ ترمذی کا ذات سے علم وقدرت مراد لینا یا آیت مذکورہ کی تاویل میں بعض متکلمین کا یہ کہنا کہ اللہ کے اوّل آخر اور ظاہر باطن ہونے سے مراد ہے اس کی قدرت اور حکمت کا ظاہر اور باطن ہونا۔ قصور علمی کی سپر اندازی اور کلام کو صحیح کرنے کے لیے خود ساختہ توجیہ ہے حقیقی مطلب وہی ہے جو صوفیہ صافیہ نے بیان کیا کہ اللہ ہر چیز کے ساتھ ہے۔ لیکن اس کی معیت بےکیف ہے۔ اس کا کوئی رنگ ہے نہ بو ‘ نہ شکل ‘ نہ مسافت ‘ نہ احتیاج زبانی ‘ نہ اقتران مکانی ذات خداوندی اتنی لطیف ہے کہ اس کی لطافت ہر تصور سے ما وراء ہے وہ ایسی نازک حقیقت ہے جو ہر بےحقیقت کو حقیقت کے لباس میں نمودار کرتی اور ہر جگہ ہر وقت ہر شیء کو محیط ہونے کے باوجود خود نہ مرئی ہے۔ نہ مسموع نہ مشموم نہ ملموس نہ معقول نہ متصور گویا ہر چیز اسی کی پر تو اندازی سے ظاہر ہے ورنہ حقیقت میں بےحقیقت روحانیت کی لطیف ترین تنقیح اور مشاہدات سے قطع نظر کرکے مادی موشگافیاں بھی اسی نتیجہ تک پہنچ جاتی ہیں جس نتیجہ تک صوفی کا مشاہدہ پہنچتا ہے مادۂ اولیٰ کیا ہے۔ جرثومہ اولیٰ جو ہر اوّل کائنات کا سنگ بنیاد۔ اوّل ترین ایٹم کیا ہے اس کی کیا حقیقت ہے پوست کھینچ کر دیکھو تو برقیات مثبت منفی لہریں اور متضاد القویٰ کرنیں ہیں جن میں کوئی رنگ نہیں کوئی بو نہیں لیکن قوام ہے وزن ہے حجم ہے مسافت ہے لیکن مثبت منفی لہروں کی کیا حقیقت ہے محض طاقت خالص قوت جو پیمائش سے خارج ہے ضخامت نہیں رکھتی حجم سے منزہ ہے پھر طاقت اور قوت کی مزید تحلیل کرو۔ قوت برقیہ کی تلطیف کرو تو ایک بےکیف نور ہر روشنی سے بلند اور ہر تصور سے ماوراء ہر طاقت کو طاقت بنانے والا ہر قوت میں چھپا ہوا اور ہر طاقت کے روپ میں جھلکنے والا ملے گا اس سے آگے کی حقیقت ناقابل تعبیر ہے صحیح ہے ” اللہ نور السماوات والارض “ ہر چیز کی تحلیل کرتے جاؤ تو تصور کی آخری حد پر وہی حقیقت ملے گی پھر ہر چیز کی تکثیف ‘ تشکیل ‘ تلوین اور تجسیم کرتے آؤ تو وہی باطن حقیقت سب سے زیادہ ظاہر نظر آئے گی بلکہ وہ ظاہر ہوگی اس کے علاوہ کچھ دست نظر میں نہ آئے گا پس اوّل بھی وہی ہے اور آخر بھی وہی تلطیف کی آخری حد بھی وہی ہے اور تکثیف کا انتہائی نقطہ بھی وہی ہے۔ ہر سلسلہ خیال تحتانی ہو یا فوقانی تکثیف کی جانب اس کو کھینچا جائے یا تلطیف کی جانب اسی حقیقت بےمثال پر جا کر ٹوٹ آئے گا پس وہ ہر شئی کے ساتھ ہے مگر بلا کیف اور ہر مادی مسلسل رسّی اسی کی ذات پر پہنچ کر اترے گی رہا سماوات کا باہمی فاصلہ اور عرش کا سب سے بالا ہونا تو یہ حقیقت بالکل بدیہی ہے کہ اس کائنات میں کوئی کرہ دوسرے سے متصل نہیں ‘ نہ چسپاں ہے ‘ نہ دوسرے کو محیط ایک فضائی خلاء ہے ہر کرہ اس میں معلق ہے اور ہر سیارہ اور ستارہ سریع اور بطی حرکت کے ساتھ ہموار رفتار سے اس میں تیر رہا ہے پانچ سو برس کی راہ کوئی محدود مسافت نہیں معین مقدار نہیں نہ مسافر کی تعیین ہے نہ رفتار کی نہ سرعت اور بطوء کی سفر جسمانی ہے یا نظری یا برقی یا نوری کچھ نہیں معلوم اس لیے اتنا ہی سمجھا جاسکتا ہے کہ کروں کے مابین مسافت بعیدہ ہے اور اقتدار خداوندی سب سے بالا ہے سب سے اعلیٰ ہے ممکن ہے کہ کسی کرہ کو عرش بریں فرمایا ہو اور وہ مظہر نور جمال خصوصیت کے ساتھ اسی طرح ہو جس طرح قلب مؤمن جلوہ گاہ الوہیت ہے۔ واللہ اعلم ] میں سے ہے جیسا کہ آیت : الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی اور ہوسکتا ہے کہ حضور ﷺ کی مراد اس سے یہ ہو کہ وہ رسّی اللہ کے عرش پر اترے گی مضاف کو حذف کردیا گیا ہے۔ اس تقدیر پر حدیث اس پر دلالت کرے گی کہ عرش اور اس کے اندر جس قدر سمٰوٰت ہیں سب کے سب کروی ہیں اور عرش زمین کے اطراف کو محیط ہے تو حدیث کے معنی اس تقدیر پر یہ ہوں گے کہ اگر تم ایک رسّی سب سے نیچے کی زمین کی طرف لٹکاؤتو وہ ساتوں آسمانوں اور اللہ تعالیٰ کے عرش عظیم پر جا کر لگے گی اور صوفیہ کرام کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی معیت بلا کیف ہر شئے کے لئے ثابت ہے اور نیز فرماتے ہیں کہ مؤمن کے قلب پر جو عالم صغیر میں اللہ تعالیٰ کا عرش ہے ایک خاص تجلی ہے اور ایک تجلی خاص کعبہ کے اندر رکھی گئی ہے اور اسی طرح ایک تجلی رحمانی عرش پر واقع ہے جو عالم کبیر کا قلب ہے اور آیت : اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰمیں اسی تجلی کی طرف اشارہ ہے اور اسی لیے بعض نے کہا ہے کہ حدیث سابق میں جو آیا ہے اگر تم ایک رسّی سب سے نیچے کی زمین کی جانب لٹکاؤ تو وہ اللہ کی ذات پر اترے گی اس میں تاویل کی حاجت نہیں بلکہ حقیقتاً اس رسّی کا اللہ پر اترنا جائز ہے اور یہ ایک ایسا مضمون ہے جیسا کہ جناب باری نے اپنے کلام پاک میں فرمایا کہ مجھے بندہ مؤمن کے دل کے سوا کوئی شے بھی سما نہیں سکتی۔ “ (حدیث قدسی) ترمذی اور ابو داوٗد نے بروایت حضرت عباس ؓ ایک حدیث ذکر کی ہے کہ جس میں یہ مضمون ہے کہ آسمان اور زمین کے مابین اکہتر یا بہتر یا تہتر برس کا فاصلہ ہے اور جو آسمان اس سے اوپر ہے اس کے اور اس کے مابین بھی اسی قدر فاصلہ ہے اور اس طرح حضور سرور عالم ﷺ نے سات آسمان تک شمار فرمائے اور فرمایا کہ ساتویں آسمان کے اوپر ایک دریا ہے کہ اس کے نیچے اور اوپر والے حصہ کے مابین اتنا فاصلہ ہے جتنا کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کا پھر اس سب کے اوپر آٹھ فرشتے بز کو ہی 1 ؂ جیسے ہیں کہ ان کے سموں اور سرینوں کے مابین اتنی مسافت ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے کی اور ان کی پشت پر عرش عظیم ہے کہ اس کے اعلیٰ اور اسفل کے درمیان بھی اتنی ہی مسافت ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی اس پر اللہ تعالیٰ ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں یہ اختلاف جو دربارۂ مسافت احادیث میں آیا ہے سو یہ اختلاف یا تو چلنے والوں کے اختلاف کی وجہ سے ہو کہ اگر رفتار تیز ہو تو مسافت کم مدت میں طے ہوگی اور جو دھیمی ہے تو زیادہ مدت لگے گی اور یا یہ وجہ ہو کہ مسافت کا بتلانا منظور نہیں بلکہ اس کی زیادتی بیان کرنی مقصود ہے 2 ؂ اور یہ جو وارد ہوا ہے کہ اکہتر یا بہتر یا تہتر تو یہ راوی کا شک ہے کہ یا تو اکہتر فرمایا یا بہتر یا تہتر واللہ اعلم سلسلہ کلام یہاں بہت طویل ہوگیا ہے۔ حاصل مقصود یہ ہے کہ علم ہیئت بالکل باطل اور نقش بر آب ہے اور عقلاً یہ امر جائز اور شرعاً ثابت ہے کہ تمام کواکب آسمان دنیا میں ثابت ہیں چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : زَیَّنَا السَّمَآء الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ ( یعنی آسمان دنیا کو ہم نے کواکب سے زینت دی) پس تمام کواکب اپنے فلک میں تیز ہو یا دھیمی جس چال سے اللہ میاں چاہتا ہے چلتے ہیں جیسے مچھلی پانی میں تیرتی پھرتی ہے۔ اس تقدیر پر آسمان کو حرکت نہیں۔ واللہ اعلم۔ وَھُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمٌ ( اور وہ ہر شے کو جاننے والا ہے) یہ آیت مضمون سابق کے لیے بمنزلہ دلیل اور علت کے ہے۔ گویا حاصل مرام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ چونکہ تمام اشیاء کی حقیقت کو پوری طرح جانتا ہے اس لیے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ بطرز مناسب کامل اور بطریق احسن نافع پیدا کیا ہے۔ ابو جعفر، ابو عمرو ‘ کسائی اور قالون وَھُوَ اور وھی کو جبکہ ہاء سے پہلے اور واؤ ہو بسکون ہاء پڑھتے ہیں جیسے یہاں اور جیسے : وَھِیَ تَجْرِیْ بِھِم اور ہائے سے پہلے فا یا لام ہو تو جب بھی سکون ہی سے پڑھتے ہیں جیسے فَھُوَ وَلِیُّھُمْ اور اِنَّ اللّٰہَ لَھُوَ الْوَلِیُّ اور فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِ اور لَھِیَ الْحَیْوَان اور کسائی و قالون ثم کے بعد جب ہاء واقع ہو تو اس وقت بھی ہاء کو مساکن کرتے ہیں جیسے : ثُمَّ ھُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ ۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ کسائی اور قالون نے ھُوَ کی ہاء کو آیت : اَنْ یَمِلَّ ھُوَ میں بھی ساکن پڑھا ہے لیکن قراء کے نزدیک بالاتفاق ایسے موقع میں اسکان نہیں۔ شاطبی نے اسی طرح فرمایا ہے۔
Ayah 2:30

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں (اپنا) نائب بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا۔ کیا تُو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت وخون کرتا پھرے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تسبیح وتقدیس کرتے رہتے ہیں۔ (خدا نے) فرمایا میں وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے

وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ ( اور یاد کیجئے اے محمد ﷺ اس وقت کا تذکرہ جبکہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا) اب یہاں سے جناب باری ایک تیسری نعمت کو بیان فرماتے ہیں کیونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کرنا اور انہیں تمام فرشتوں پر فضیلت کا دینا ایسی نعمت ہے کہ کل اولاد آدم کو شامل ہے اور اس کلام سے طاعات کے ادا کرنے اور معاصی سے اجتناب کرنے کی ترغیب مستفاد ہوتی ہے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ حق تعالیٰ نے اوّل آسمان اور زمین اور ملائکہ کو پیدا کیا ملائکہ کو آسمان میں اور جنوں کو زمین میں بسایا۔ جن ایک مدت دراز تک زمین میں آباد رہے۔ پھر ان میں حسد، عداوت اور بغاوت پھیل گئی اور آپس میں فساد اور خون ریزی شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا ایک گروہ زمین کو ان مفسدوں سے پاک کرنے کے لیے بھیجا۔ ان فرشتوں کو بھی جن کہا جاتا تھا اور وہ فرشتے جنت کے محافظ تھے اور ان کا نام جن جنت سے مشتق کیا گیا ہے کیونکہ وہ جنت کے محافظ تھے اور ان سب کا سردار و مرشد اور سب سے زیادہ عالم ابلیس تھا تو وہ سب کے سب بحکم الٰہی زمین پر اترے اور جنوں کو پہاڑوں کی کھو وں اور جزیروں میں نکال دیا اور خود زمین میں آباد ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت ان پر ہلکی فرما دی اور ابلیس کو زمین اور آسمان دنیا کی سلطنت اور جنت کی محافظت عطا فرمائی تو وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی عبادت زمین میں کرتا تھا کبھی آسمان میں کبھی جنت میں بس ان مراتب جلیلہ کے باعث اسے غرور ہوگیا اور اپنے دل میں کہنے لگا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ سلطنت و مرتبہ اس لیے عطا کیا ہے کہ میں سب فرشتوں سے زیادہ بزرگ ہوجاؤں تو حق تعالیٰ نے اسے اور اس کے لشکر کو ذیل کی آیت سے خطاب فرمایا۔ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً ( بیشک میں زمین میں ایک خلیفہ ( نائب) بنانے والا ہوں) علامہ بغوی کی روایت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابلیس فرشتہ تھا اور اس پر آیت : فَسَجَد الْمَلَاءِکَۃُ کُلُّھُمْ اَجْمَعُوْنَ اِلَّا اِبْلِیسَمیں جو استثناء واقع ہوا ہے دلالت کرتا ہے اور جو کوئی یہ کہے کہ مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو ہفتہ کے دن پیدا کیا اور اس میں پہاڑوں کو یکشنبہ کے دن اور درختوں کو دو شنبہ کے دن اور مکروہ کو سہ شنبہ کے دن اور نور کو چہار شنبہ کے دن اور چوپاؤں کو زمین میں پنجشنبہ کے دن پیدا کیا اور حضرت آدم کو جمعہ کے دن تمام مخلوق کے بعد دن کی اخیر ساعت میں مابین عصر اور رات کے پیدا کیا۔ تو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) زمین سے چھ دن بعد پید اکئے گئے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس مدت دراز تک زمین میں آباد رہے ہوں اور پھر انہیں پہاڑوں میں نکال دیا ہو اور اس میں ابلیس مع لشکر خود اور فرشتے ایک عرصہ دراز تک سکونت پذیر رہے ہوں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ فرمایا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں۔ تو جواب اس کا یہ ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جس جمعہ کو حضرت آدم ( علیہ السلام) پیدا کئے گئے ہیں یہ وہی جمعہ ہے جو زمین کے پیدا کرنے کے بعد آیا تھا ممکن ہے کہ وہ جمعہ اور ہو جو مدتوں کے بعد آیا ہو اور یہ تاویل اس حدیث میں ضروری ہے اس لیے کہ اگر یہ تاویل نہ کی جائے گی تو یہ لازم آتا ہے کہ آسمان اور زمین وغیرہ سات روز کے اندر پیدا ہوئے ہیں حالانکہ قرآن مجید سے یہ ثابت ہے کہ آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کئے گئے ہیں۔ واللہ اعلم خلیفہ سے مراد حضرت آدم ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ وہ احکام الٰہیہ اور ضوابط کے اجراء اور بندوں کی ہدایت اور انہیں اللہ کی طرف دعوت دینے اور مراتب قرب پر فائز کرانے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ تھے۔ انکے خلیفہ بنانے کی کچھ یہ وجہ نہ تھی کہ خدا تعالیٰ کو انکی حاجت تھی وہ تو غنی اور بےنیاز ہے اسے کسی شئے کی بھی حاجت نہیں بلکہ وجہ یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) جن لوگوں کے خلیفہ بنائے گئے وہ حق تعالیٰ سے بلاواسطہ مستفیض نہیں ہوسکتے تھے اور نہ اس کے اوامر کو بلاوسیلہ اخذ کرسکتے تھے پھر حضرت آدم ( علیہ السلام) کے بعد ہر نبی خدا کا خلیفہ ہوا۔ قَالُوْٓا (فرشتوں نے عرض کیا) یہ بطور تعجب اور استفاضہ عرض کیا تھا نہ اعتراض اور حسد کے طور پر کیونکہ فرشتوں کی شان میں عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ فرمایا گیا ہے۔ اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُّفْسِدُ فِيْهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاۗءَ ۚ (اے پروردگار) ( کیا تو زمین میں ایسے شخص کو خلیفہ بنائے گا جو اس میں فساد اور خونریزی کرے) فساد اور خونریزی کرنے والوں سے مراد اولاد آدم ( علیہ السلام) ہے ان کا فساد اور خونریزی کرنا انہیں حق تعالیٰ کے اطلاع دینے سے معلوم ہوگیا تھا۔ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ ( حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں) یہ جملہ ترکیب میں حال واقع ہوا ہے جو سبب اشکال کو اور زیادہ قوت دینے والا ہے آیت کے حاصل معنی یہ ہیں کہ اے پروردگار کیا تو نافرمانوں کو خلیفہ بناتا ہے۔ حالانکہ ہم معصوم اور مستحق خلافت ہیں۔ تسبیح کے معنی اللہ تعالیٰ کو برائی سے منزہ اور پاک سمجھنے اور بیان کرنے کے ہیں۔ سبح فی الارض و الماء سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ” دور چلا گیا زمین اور پانی میں “ اور بِحَمْدِکَ محل میں حال کے ہے کہ جس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں اس حال میں کہ تیری حمد بھی اس پر کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں اپنی تسبیح کی توفیق عطا فرمائی۔ وَنُقَدِّسُ لَكَ ( اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں) تقدیس بھی تسبیح کے معنوں میں ہے۔ قدس نجاستوں سے پاک ہوا اور نُقَدِّسُ لَکَ میں لام یا تو زائدہ ہے اور یا زائدہ نہیں۔ زائدہ نہ ہونے کی صورت میں یہ معنی ہونگے کہ ہم تیرے لیے اپنے نفسوں کو گناہوں سے پاک کرتے ہیں یعنی اس وقت نُقَدِّسُ کا مفعول محذوف ہوگا اور زائد ہونے کی صورت میں ظاہر ہے کہ مفعول ضمیر ک ہے۔ فرشتوں نے فساد کے مقابل میں جس سے مراد شرک ہے تسبیح کو قرار دیا اور خونریزی کے مقابل میں تقدیس کو گویا یہ عرض کیا کہ آدمی فساد کریں گے اور ہم ان کے مقابلہ میں تقدیس کرتے ہیں فخر عالم ﷺ سے کسی نے عرض کیا کہ حضور کونسا کلام افضل ہے ؟ فرمایا : وہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لیے اختیار فرمایا اور وہ یہ ہے سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہٖ اس حدیث کو مسلم نے حضرت ابوذر ؓ سے روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ کلمات خلق کے لیے رحمت کے باعث ہیں اور ان ہی کے باعث خلق کو رزق ملتا ہے اسے ابن ابی شیبہ نے حضرت جابر ؓ سے اور علامہ بغوی (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے۔ قَالَ اِنِّىْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ( خدا نے فرمایا میں وہ مصلحتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے نافع اور ابن کثیر اور ابو عمرو نے انّی کو یا کے فتح سے پڑھا ہے اور دوسرے قاریوں نے سکون سے۔ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے یہ جانتے تھے کہ بعض انسان نیک اور فرمانبردار ہونگے اور بعض نافرمان و کفار اس لیے انہیں یہ اعتقاد ہوگیا کہ ملائکہ انسان سے افضل ہیں کیونکہ وہ سب کے سب معصوم ہیں خدا کی نافرمانی نہیں کرتے جو حکم کردیئے گئے اس کے موافق کرتے ہیں اور اسی بناء پر یہ بھی سمجھ گئے کہ ہمیں خلیفہ بنانا اولیٰ اور بشرکو خلافت کا عطا فرمانا فساد کا سبب ہوگا۔ چناچہ جو فسادی تھے ان سے فساد ہی واقع ہوا اور ہو رہا ہے مگر انہوں نے یہ نہ جانا کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کے دلوں میں اپنی حقیقی محبت امانت رکھیں گے کہ اس کے سبب انہیں معیت ذاتیہ اور محبوبیت خالص نصیب ہوگی چناچہ سید المحبوبین سرور کائنات علیہ الصلوٰت والتحیات نے فرمایا : اَلْمَرْ مَع مَنْ اَحَبَّ ۔ 1 ؂ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے ابن مسعود اور انس ؓ سے اور ابن حبان نے انس ؓ سے روایت کیا ہے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرا بندہ نوافل کے ذریعے مجھ سے قرب طلب کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اسے دوست رکھتا ہوں اور جب میں اسے دوست رکھتا ہوں تو میں ہی اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور میں ہی اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے فرشتوں نے یہ نہ سمجھا کہ بارگاہ الٰہی میں آدمی کو وہ قرب اور منزلت ہوگی کہ دوسرے کے لیے وہ کسی طرح تصور ہی نہیں ہوسکتی اور اس کے نیک بندوں کو مرتبہ تقرب نصیب ہوگا۔ مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کو ایک شخص سے فرمائے گا۔ اے ابن آدم ( علیہ السلام) ! میں بیمار ہوا تھا تو نے میری عیادت نہ کی ؟ وہ کہے گا پروردگار میں آپ کی عیادت کس طرح کرتا آپ تو رب العٰلمین ہیں امراض سے پاک ہیں۔ ارشاد ہوگا تجھے یاد نہیں میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا تو نے اس کی عیادت نہ کی اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا۔ پھر ارشاد ہوگا کہ اے ابن آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا اور تو نے نہ دیا وہ پھر مثل سابق عرض کرے گا 2 ؂۔ جاننا چاہئے کہ اکابر صوفیہ (رح) کے نزدیک یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ جیسے سورج کی روشنی کو زمین اپنی کثافت کے سبب برداشت کرسکتی ہے اور دیگر عناصر لطافت کے سبب متحمل نہیں ہوسکتے اسی طرح تجلی ذاتی کو بھی عنصر خاکی ہی برداشت کرسکتا ہے اور باقی عناصر میں جتنی کثافت ہے اس کے سبب تجلی صفاتی کو تو برداشت کر بھی سکتے ہیں مگر تجلی ذاتی کے متحمل نہیں ہوسکتے اور عالم امر کے لطائف چونکہ لطیف ہیں اس لیے انہیں تجلیات ذاتیہ سے تو حصہ ملتا نہیں لیکن تجلیات ظلیہ سے کچھ بہرہ مل جاتا ہے اور انسان چونکہ ان دس لطائف سے مرکب ہے جو اجزاء عالم کبیر ہیں اور سوائے انسان کے اور افراد عالم میں یہ لطائف مجتمع نہیں اس لیے وہ خلافت کے کے قابل اور اس بار امانت کا حامل ہوا جس کی نسبت حق تعالیٰ نے فرمایا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَامَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا وَ حَمَلَھَا الْاِنْسَانُ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْماً جَھُوْلاً ( نبے شک ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو سب اس کے اٹھانے سے خائف ہوئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا بیشک وہ بڑا ظالم و جاہل تھا) ظالم تو اس لیے فرمایا کہ اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا کہ جس شے کی برداشت کی طاقت نہ تھی اس کی برداشت کی اور جاہل اس لیے کہ اس نے بار امانت کی عظمت کو نہ جانا اور یہ انسان گو بظاہر عالم صغیر کہلاتا ہے مگر واقع میں عالم کبیر سے بڑھ کر ہے۔ چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا : مجھے نہ میری زمین سما سکتی ہے نہ آسمان مگر مؤمن بندہ کامل کا قلب مجھے سما سکتا ہے القصہ جب حق تعالیٰ ملائکہ سے یہ فرما چکا : اِنِّیْ اَعْلَمُ تو حضرت آدم کو ادیم زمین یعنی روئے زمین سے پیدا کیا یعنی زمین سے تمام اقسام کی مٹیاں لے کر اسے مختلف پانیوں سے گوندھا پھر ہموار کرکے روح پھونک دی۔ امام احمد ‘ ابو داوٗد، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن مردویہ، حاکم اور بیہقی (رح) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت کی ہے کہ فخر عالم ﷺ نے فرمایا ہے اللہ نے آدم ( علیہ السلام) کو ایک مشت خاک سے پیدا کیا اور اس مٹی کو تمام روئے زمین کی مٹیوں سے لیا اسی وجہ سے اولاد آدم ( علیہ السلام) میں کوئی سرخ، کوئی گورا، کوئی بین بین، کوئی نرم خو، کوئی ترشرو کوئی ناپاک بدطینت کوئی پاکیزہ منش ہوتا ہے میں کہتا ہوں کہ تمام زمین سے مٹی لینے میں یہ حکمت ہے کہ سب قسم کی استعداد اس میں جمع ہوجائے علامہ بغوی نے کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے آپس میں چرچا کیا کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے پیدا کرے مگر ہم سے زیادہ بزرگ کوئی مخلوق پیدا نہ کرے گا اور بالفرض کوئی مخلوق ہم سے زیادہ بزرگ پیدا بھی کی تو علم میں بہر حال ہم ان سے زیادہ ہونگے کیونکہ ایک تو ہم اس سے پہلے پیدا کئے گئے ہیں اور دوسرے ہم وہ عجائبات دیکھ چکے ہیں جو اس مخلوق نے دیکھے بھی نہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کی فضیلت کو ان پر ظاہر فرمایا چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 2:31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ

وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا (اور سکھا دئیے اللہ تعالیٰ نے آدم کو سب کے نام) مفسرین نے اس میں اختلاف کیا ہے کہ حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے کن چیزوں کے نام سکھلائے۔ جمہور مفسرین تو یہ کہتے ہیں کہ تمام خلائق کے نام سکھلائے بغوی کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ ، مجاہد، قتادہ (رح) نے فرمایا ہے کہ ہر شے کا نام سکھا دیا حتیٰ کہ پیالہ، پیالی کا نام بھی۔ بعض نے کہا ہے کہ جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اور جو آئندہ ہوگا سب کے نام بتلا دیئے ربیع بن انس کہتے ہیں کہ ملائکہ کے نام سکھا دئیے بعض نے کہا اولاد کے نام اور بعض نے کہا ہر قسم کی صنعت اہل تاویل نے کہا تمام لغات سکھا دئیے اسی لیے اولاد آدم مختلف لغت بولتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کل اقوال میرے نزدیک غیر پسندیدہ ہیں کیونکہ بزرگی کا مدارو مبنیٰ کثرت ثواب اور مراتب قرب پر ہے نہ ان امور پر اور جو یہی امور مدار فضیلت ہوتے تو یہ لازم آتا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) حضرت خاتم النبیین سید المرسلین ﷺ سے افضل ہوں۔ کیونکہ آپ : ﷺ فرماتے ہیں ” تم اپنے دنیا کے کاموں میں مجھ سے زیادہ واقف ہو “ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ تمام لغات کے عالم نہ تھے میرے نزدیک یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو تمام اسمائے الٰہیہ تعلیم فرما دیئے اور جو کوئی یہ کہے کہ اسمائے الٰہیہ تو غیر متناہیہ ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : لَوْ کَانَ الْبَحْرَ مِدَادًا لِّکَلِمَاتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ کَلِمَاتُ رَبِّیْ (یعنی اگر سمندر میرے رب کے کلمات لکھنے کے لیے سیاہی ہو تمام سمندر ختم ہوجائے گا قبل اس کے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں اور دوسری جگہ فرمایا : وَ لَو اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْ بَّعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ کَلِمَات اللّٰہِ پس بشر کا متناہی علم اسماء الٰہیہ کو کس طرح محیط ہوسکتا ہے اور نیز ایک حدیث میں وارد ہے کہ سرور عالم ﷺ نے اپنی ایک دعا میں فرمایا خداوندا میں آپ سے اس نام کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں جس سے آپ نے اپنے ذات پاک کو مسمّٰی فرمایا اور جو نام آپ نے اپنی کتاب میں نازل کئے اور جو نام مخلوق میں سے کسی کو سکھلائے اور ان ناموں کے وسیلہ سے جن کا علم کسی کو نہیں۔ ابن حبان ‘ حاکم ‘ ابن ابی شیبہ ‘ طبرانی اور امام احمد نے حضرت ابن مسعود و ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ یہ حدیث صاف اس پر دلالت کر رہی ہے کہ اللہ کے بعض اسماء ایسے بھی ہیں جو اسی کو معلوم ہیں اور مخلوق میں کوئی انہیں نہیں جانتا تو جواب اس اشکال کا یہ ہے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) کو تمام اسماء کا علم حاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں تمام اسماء کا تفصیلی علم دیا گیا تھا اگر یہ مراد ہوتی تو البتہ اشکال مذکور وارد ہوتا یہاں اجمالی علم مراد ہے کیونکہ جب انہیں ذات پاک کی معیت نصیب ہوگئی تو انہیں حق تعالیٰ کے ہر اسم و صفت سے ایسی معیت اور تامہ مناسبت حاصل ہوگئی کہ جب وہ کسی اسم یا صفت کی طرف متوجہ ہوتے تھے وہ صفت یا اسم ان پر پر تو فگن ہوجاتا تھا جیسا کسی شخص کو کسی علم میں ایسا ملکہ اور استعداد حاصل ہو کہ جب وہ کسی مسئلہ کی طرف توجہ کرے تو فوراً مستحضر ہوجائے اگر کوئی معترض اعتراض کرے کہ مفسرین میں سے کسی نے بھی اس آیۃ کے یہ معنی بیان نہیں کئے یہ تو محض تمہاری رائے اور قیاس ہے اور قرآن مجید میں اپنی رائے سے کچھ کلام کرنا حرام ہے جیسا کہ علامہ بغیو نے باسانید متعددہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص قرآن میں اپنی رائے سے کلام کرے اور ایک روایت میں ہے کہ جو بغیر علم کے قرآن میں کچھ کلام کرے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں ڈھونڈ لے تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ ہمارے شیخ امام نے فرمایا ہے کہ قرآن میں اپنی رائے سے کلام کرنے والے کے بارے میں جو وعید آئی ہے یہ وعید اس کے لیے ہے جو اپنی طرف سے بغیر علم کے قرآن کی تفسیر کرے یعنی مثلاً اپنی طرف سے اسباب نزول اور اس کے متعلق کوئی قصہ بیان کرے تو یہ جملہ امور نقل کے متعلق ہیں جب تک کسی سے نہ سنے اس بارے میں اپنی رائے اور عقل سے کوئی بات کہنی جائز نہیں اور تفسیر ماخوذ ہے تفسرہ سے۔ تفسرہ کہتے ہیں قارورہ (پانی کی بوتل) ہو جسے طبیب دیکھ کر مرض کا سبب معلوم کرتا ہے اس کے موافق مفسّر اسی کو کہا جائے گا جو آیت کا سبب نزول اور قصہ بیان کرے اور تفسیر کے معنی اسباب نزول بیان کرنے کے ہوں گے تو اب یہ بات واضح ہوگئی کہ ممنوع وہ تفسیر ہے جس کے معنی اسباب نزول اور شان نزول بیان کرنے کے ہیں اور تاویل کسی آیت کی ناجائز اور حرام نہیں اور تاویل اسے کہتے ہیں کہ آیت کے کوئی معنے جس کا وہ احتمال رکھتی ہے کہ جو ما قبل و ما بعد کے موافق اور کتاب و سنت کے مخالف نہ ہوں بطور استنباط بیان کئے جائیں اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے اور تاویل مشتق ہے اول سے جس کے معنی رجوع کرنے کے ہیں۔ محاورہ ہے۔ اَوَّلْتہ یعنی صَرَّفْتُہٗ ۔ علامہ بغوی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُنْزِلَ الْقُرْانُ عَلٰی سَبْعَۃ اَحْرُفٍ لِکُلِّ اٰیَۃٍ مِّنْھَا ظَھْرٌ وََّ بَطْنٌ وَ لِکُلِّ حَدٍّ مَطْلِعٌ ( یعنی قرآن شریف سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے ہر آیت کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن اور ہر حد کے لیے ایک محل اطلاع ہے۔ (تفسیر بغوی ج ‘ ص : 11) طبرانی نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے اس روایت کو ان لفظوں سے نقل کیا ہے۔ اُنْزِلَ الْقُرْنَ عَلٰی سَبْعَۃٍ اَحْرُفٍ لِکُلِّ حَرْفٍ مِنْھَا ظَھْرٌ وَ بَطْنٌ وَ لِکُلِّ حَرْفٍ حَدٌّ وَ لِکُلِّ حَدٍّ مَطْلِعٌ۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے قول لکل حد مطلع میں مطلع کے معنی مصعد یعنی جائے صعود کے ہیں کیونکہ جسے حق تعالیٰ نے علم عطا فرمایا ہے وہ اپنے علم کے ذریعے سے اس پر صعود کرتا ہے (یعنی معانی کے درجات پر اطلاع پاتا ہے) اور یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ جو آیات میں تدبر و تفکر کرتا ہے حق تعالیٰ اس پر معانی کے وہ ابواب مفتوح فرماتا ہے کہ وہ لوگ ان سے محروم رہتے ہیں حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَ فَوْق کُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ یعنی جو علم والا ہے اس سے زیادہ عالم ہے ختم ہوا کلام امام بغوی (رح) کا۔ میں کہتا ہوں کہ میں نے جو کچھ اس آیت کے تحت میں لکھا ہے اگر اس پر منقول ہونے کے سبب اعتراض کیا جاتا ہے تو اس سے پہلے جو اقوال مفسرین کے گذرے ہیں ان میں سے کوئی قول بھی نہ تو مرفوع و منقول ہے اور نہ ایسا ہے جو صرف رائے سے معلوم نہ ہو سکے اگر تصریحاً مرفوع نہ ہوتا اور رائے سے غیر مدرک ہوتا تب بھی کہہ سکتے تھے کہ یہ مرفوع کے حکم میں ہے۔ بلکہ یہ تمام اقوال تاویلات ہیں جو ان کے افکار کا نتیجہ ہیں اور اسی لئے ان اقوال میں باہم اختلاف ہے پس اسی طرح یہ تاویل جو میں نے لکھی ہے من جملہ ان ہی تاویلات کے ہے۔ ابن عباس ؓ نے جو فرمایا ہے کہ ہر شے کا نام سکھا دیا حتیٰ کہ پیالے اور پیالی کا بھی اور نیز یہ جو بعض نے تفسیر کی ہے کہ جو کچھ ہوا اور جو ہونے والا ہے سب کے نام سکھا دیئے اور تمام ذریتہ کے نام تعلیم فرما دیئے اور بعض نے کہا ہے کہ ہر شے کا بنانا سکھا دیا تو یہ کل اقوال اسماءِ الٰہیہ کی تعلیم کے ( جو ہم نے توجیہ کی ہے) منافی نہیں بلکہ یہ ایسی توجیہ ہے جو ان سب اقوال اور اس سے زائد کو شامل ہے کیونکہ اسماء الٰہیہ میں الاَوَّلُ ہے کہ جس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی شے اس سے پہلے نہ تھی اَلْاخِرُ یعنی کوئی شے اس کے بعد نہیں الظَّاھِرُکوئی شے اس کے اوپر نہیں۔ اَلْبَاطِنُ کوئی شے اس کے نیچے نہیں۔ ابن عباس نے ممکنات کے نام پر اس لیے اکتفا فرمایا تاکہ عوام کی سمجھ میں آجائے اور تمام اکابر کی یہی شان تھی کہ لوگوں سے ان کی عقل کے موافق کلام کیا کرتے تھے فقط واللہ اعلم بحقیقۃ الحال۔ ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَي الْمَلٰۗىِٕكَةِ ( پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے سامنے کیا) مفسرین نے کہا ہے کہ عَرَضَھُمْ میں ضمیر ھم ان اشیاء کی طرف راجع ہے جن کے اسماء حضرت آدم ( علیہ السلام) کو تعلیم کئے گئے تھے اور وہ اشیاء اگرچہ پہلے حقیقتاً مذکور نہیں مگر تقدیراً مذکور ہیں کیونکہ وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاءَ کی تقدیر وَ عَلَّمَ اٰدَمَ اسماء المسمیات ہے مضاف الیہ یعنی المسمیات حذف کرکے الف و لام تعریف کا اس کے عوض مضاف پر لے آئے جیسا کہ آیت اشْتَعَلَ الرَّاسُ شَیْبًا (بھڑک اٹھا سر بڑھاپے سے) میں الراس پر شعر مضاف محذوف ہے اور ضمیر مذکر کی لانا اس بنا پر ہے کہ مسمیات میں عقلاً بھی شامل ہیں اور جب کہ مراد اَلْاَسْمَآئ سے اسماء الٰہیہ ہوں جیسا کہ ہم نے لکھا ہے تو ضمیرعَرَضَھُمْمیں حضرت آدم ( علیہ السلام) کی طرف راجع ہوگی اور ضمیر جمع کی یا تو تعظیم کے لیے لائی گئی یا آدم سے خود حضرت آدم اور ان کی ذریۃ مراد لی جائے کیونکہ اکثر ہوتا ہے کہ اولاد کو دادا کے نام سے نامزد کردیتے ہیں جیسا کہ ربیعہ و مضر کہ یہ نام ان قبیلوں کے جد اعلیٰ کے ہیں اب قبیلہ کو اسی نام سے پکارتے ہیں چناچہ قاضی بیضاوی نے بھی آیت عَلٰی خَوْفٍ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ مِلْءُھُمْ کی تفسیر میں یہی کہا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کی پشت سے نکال کر حضرت انبیاء کو فرشتوں پر پیش کیا اور سب سے عہد لیا اور نیز حضرت محمد ﷺ اور حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) سب سے محکم عہد لیا اور یہ توجیہ یعنی عَرَضَھُمْکی ضمیر حضرت آدم ( علیہ السلام) کی طرف راجع کرتا انسب اور اولیٰ ہے کیونکہ مسمیات ضمیر سے پہلے مذکور نہیں اور نیز ضمیر مذکر عقلاً کی ہے تو بغیر کسی تکلیف کے ضمیر مسمیات کی طرف راجع نہیں ہوسکتی اور چونکہ حضرت آدم ( علیہ السلام) ضمیر سے پہلے مذکور ہیں اس لیے کچھ تاویل و تکلف کی احتیاج نہیں۔ ابی بن کعب ؓ کی قرأۃ عَرَضَھَا اور حضرت ابن مسعودکیعَرَضَھُنَّ ہے اس لیے ان دونوں قرأتوں کے موافق ضمیر اسماء کی طرف راجع ہوگی۔ فَقَالَ (پھر فرمایا) فرشتوں میں خلافت کی صلاحیت نہ ہونے پر ان کو سرزنش کرنے کے لیے فرمایا : اَنْۢبِــُٔـوْنِىْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ ( مجھے ان کے نام بتاؤ) عامہ مفسرین کی تاویل کے موافق ھٰوءُ لَآءِ کا مشارٌ الیہ مسمیات ہوں گے اور میری توجیہ پر حضرت آدم ( علیہ السلام) اور ان کی ذریت اور اسماء کی اضافت ھٰوءُ لَآءِ کی طرف ادنیٰ ملابست اور تعلق کی وجہ سے ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ آدم اور ان کی ذریت کو جو نام ہم نے سکھائے ہیں وہ بتاؤ اس کے بعد معلوم کرنا چاہئے کہ حدیث شریف میں ہے : کُنْتُ نَبِیًّا وَّ اٰدَمُ بَیْنَ الرُّوْحِ وَالْجَسَدِ یعنی رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اس حالت میں نبی تھا کہ جب حضرت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ اس حدیث کو طبرانی نے ابن عباس ؓ سے اور ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن سعد نے ابو الجدعاء سے روایت کیا ہے اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کو جو علوم اور کمال نبوۃ حضور کو عطا فرمانے منظور تھے اور وہ تجلیات ذاتیہ جو انبیاء کے ساتھ مخصوص ہیں سب کی سب اسی وقت عطا فرما دی تھیں۔ جبکہ حضرت آدم مابین روح و جسد تھے یعنی روح جسد کے ساتھ مرکب ہوچکی تھی کیونکہ جو کلیات خالصہ ہیں وہ اس جسد خاکی کے ساتھ مشروط تھیں تو جب حضرت آدم کا جسد بن گیا اور ان کی ذریت کی روحیں ان کی پشت میں جاگزیں ہوگئیں تو وہ سب تجلیات ذاتیہ کے قبول کرنے کے لائق ہوگئے۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ( اگر تم سچے ہو) یعنی اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ جو ہم مخلوق پیدا کریں گے اس سے تم ہی افضل ہو (جیسا کہ تمہارا خیال ہے) تو ان کے نام بتاؤ قنبل اور ورش نے ھٰؤُ لَآءِِ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ میں ہمزہ ثانیہ کو یائے ساکنہ سے بدل کر پڑھا ہے اور قالون بزی ہمزہ اولیٰ کو یاء مکسور سے بدلتے ہیں اور ابو عمرو ہمزہ ثانیہ کو ساقط کرکے پڑھتے ہیں۔ باقی قراء دونوں حمزہ کو ثابت رکھتے ہیں اور جہاں کہیں دو ہمزہ مکسور دو کلموں میں جمع ہوجائیں وہاں بھی یہی اختلاف ہے ورش سے ایک یہ روایت ہے کہ ھٰوءُ لَآء میں ہمزہ ثانیہ کو خاص اس جگہ اور سورة نور میں عَلَی الْبِغَاءِ اِنْ اَرَوْنَ تُحَصُّنًاکی ہمزہ کو یاء مک سورة سے بدلتے ہیں اور ان دو مقام کے سوا وہ قنبل کے موافق ہیں اور جب دو ہمزہ مفتوح دو کلموں میں جمع ہوجائیں جیسے جَآءَ اَجَلُھُمْ تو ورش اور قنبل ہمزہ ثانیہ کو مدہ کرلیتے ہیں جیسا کہ وہ مک سورة کو بھی مدہ کرتے ہیں اور قالون بزی اور ابو عمرو ہمزہ اولیٰ کو ساقط کردیتے ہیں۔ باقی قراء دونوں ہمزہ کی تحقیق کرتے ہیں یعنی کسی کو حذف یا بدل نہیں کرتے اور جب دو ہمزہ مضموم دو کلموں میں جمع ہوں اور یہ اجتماع صرف ایک جگہ سورة احقاف میں ہوا ہے : اَوْلِیَآءُ اُوْلٰءِکَ تو اس ہمزہ کا حکم مثل مک سورة کے ہے اور ورش اور قنبل دوسری ہمزہ کو واؤ ساکن سے اور قالون بزی ہمزہ اول کو واو مضموم سے بدلتے ہیں اور ابو عمر و حمزہ اولیٰ کو ساقط کردیتے ہیں باقی قراء دونوں کو ثابت رکھتے ہیں۔
Ayah 2:32

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

انہوں نے کہا، تو پاک ہے۔ جتنا علم تو نے ہمیں بخشا ہے، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں۔ بے شک تو دانا (اور) حکمت والا ہے

قَالُوْا ( بولے) جب فرشتوں کو ثابت ہوگیا کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) ہم سے زیادہ عالم اور افضل ہیں تو اپنے عجز اور بشر کی افضلیت اور استحقاق خلافت کا اقرار کیا اور اس نعمت کا شکر کیا کہ حق تعالیٰ نے ان کے پیدا کرنے کی حکمت ظاہر فرمائی اس لیے ذیل کی آیت کے مضمون کو عجز وزاری اور تضرع کے ساتھ درگاہ الٰہی میں ( ادا کیا) بولے۔ سُبْحَانَکَ ( تو پاک ہے) سبحانک فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے اس کی تقدیرنُسَبِّحُکَ سُبْحَانًاہے اور یہ معنی ہیں کہ خداوندا آپ کے افعال مصلحتوں اور حکمتوں سے خالی ہونے سے بالکل پاک اور منزہ ہیں۔ لَاعِلْمَ لَنَا ( نہیں ہے ہمیں علم) یعنی ہم آپ کے کسی علم کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ اِلَّا مَا عَلَمْتَنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ( اس کے سوا جو تو نے ہمیں بتادیا ہے بیشک تو اپنی مخلوق کا جاننے والا اور اپنے امر میں حکمت والا ہے۔ ) علیم اور حکیم کے ایک اور معنی بھی ہیں علیم کے معنی حاکم عادل اور حکیم کے معنی اپنے حکم کو محکم اور راست کرنے والا۔ جب فرشتوں نے درگاہ خداوندی میں گذارش کردی اور یہ بھی انہیں اچھی طرح ثابت ہوگیا کہ ہم محض عاجز ہیں تو حق تعالیٰ نے ان پر یہ انعام فرمایا کہ جو علم حضرت آدم ( علیہ السلام) کو عطا فرمایا تھا وہ ان کے ذریعہ سے فرشتوں کو بھی عطا فرمایا چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے :