2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:186

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں

وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ( اور جب پوچھیں آپ ﷺ سے میرے بندے میری بابت ( تو کہئے) میں پاس ہی ہوں) عبدالرزاق نے حسن سے روایت کی ہے کہ صحابہ ؓ نے رسول اللہ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ہمارا پروردگار کہاں ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی یہ حدیث مرسل ہے۔ میں کہتا ہوں کیا عجب ہے کہ سائل اعرابی ہو ( اس صورت میں آیت سے ماقبل جو روایت لکھی گئی ہے اس سے موافقت ہوجائے گی) ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ دعا میں کمی مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر آیت : ادعونی استجب لکم ( تم مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا) نازل فرمائی ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم کو یہ معلوم نہیں کہ کس وقت دعا کریں اس کے جواب میں واذا سألک عبادی الخ نازل ہوئی اور علامہ بغوی (رح) نے اس کا شان نزول یہ بیان فرمایا ہے کہ کلبی نے ابو صالح سے اور ابو صالح نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ مدینہ کے یہود نے جناب رسول اللہ سے دریافت کیا کہ اے محمد ! یہ تو بتاؤ کہ پروردگار ہماری دعا کس طرح سنتے ہیں تم تو یہ کہتے ہو کہ آسمان کی ہم سے پانسو برس کی مسافت ہے اور ہر آسمان کا اتنا ہی دل ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ میں کہتا ہوں کہ سائل کو جب اللہ تعالیٰ نے لفظ عبادی ( میرے بندے) کے معزز خلعت سے سر فراز فرمایا ہے اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائل یہودی کافر نہ ہوگا وا اللہ اعلم آیت سے پہلے شان نزول میں ہم نے ان الفاظ سے جو حدیث لکھی ہے کہ سائل نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارا پروردگار کہاں ہے ؟ اگر قریب ہے تو اس سے مناجات کریں اور اگر دور ہے تو پکاریں “ اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ ذکر خفی کو اختیار کرنا چاہئے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ غزوہ خیبر پر تشریف لے گئے تو وہاں پہنچ کر بہت سے لوگ ایک وادی کی طرف جھک پڑے اور بآواز بلند تکبیر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وا اللہ اکبر کہنا شروع کیا حضور نے ارشاد فرمایا کہ لوگو ! اپنی جانوں پر نرمی کرو تم کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکارتے ہو تم تو ایسی ذات کو پکارتے ہو جو سمیع ( بہت سننے والا) اور قریب ( نزدیک) ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے اس کو بخاری نے روایت کیا ہے مفسرین نے کہا ہے کہ انی قریب کے یہ معنی ہیں کہ علم کے اعتبار سے تمہارے قریب ہوں کوئی چیز مجھ پر پوشیدہ نہیں۔ امام بیضاوی نے کہا ہے کہ انی قریب بطور تشبیہ اور تمثیل کے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو جو بندوں کے افعال و اقوال و احوال کا انکشاف تام ہے اس کو اس شخص کے حال سے کہ جو کسی شئ کے قریب ہو اور اس کا پورا حال معلوم ہو تشبیہ دی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ تاویل کرنے کی یہ وجہ ہے کہ قرب کو انہوں نے قرب مکانی میں منحصر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ مکان سے منزہ اور پاک ہے اس لیے اس تاویل کی ضرورت ہوئی اور حق یہ ہے کہ اللہ سبحانہ کو ممکنات سے قرب واقعی ہے کہ اس قرب کا ادراک عقل سے ممکن نہیں بلکہ اس کا ادراک یا تو وحی سے ہوتا ہے اور یا فراست صحیحہ سے اور وہ قرب قرب مکانی کی جنس سے نہیں نہ اس کا کسی مثال سے بیان کرسکتے ہیں اس لیے کہ جب اللہ تعالیٰ بےمثل اور بےنظیر ہیں تو ان کا قرب بھی ایسا ہی ہے نہایت عرق ریزی کے بعد اگر اس کی کوئی مثال ہوسکتی ہے تو یہ ہے کہ اس کا قرب ایسا ہے جیسے کہ شعلۂ جوالہ کا رب دائرہ موہومہ سے کیونکہ شعلہ نہ تو اس دائرہ میں داخل ہے کیونکہ موجود حقیقی اور موجود وہمی میں بہت فرق ہے اور نہ وہ شعلہ اس سے خارج ہے اور نہ اس کا عین ہے اور نہ غیر ہے اور وہ دائرہ سے اتنا قریب ہے کہ وہ دائرہ اپنے سے اتنا قریب نہیں کیونکہ وہ دائرہ خود اس شعلہ ہی سے پیدا ہوا ہے اور اس دائرہ کا وجود خارج میں نہیں بلکہ خارج میں ایک نقطہ خارجیہ کے سبب سے اس کا وجود وہمی پید اہو گیا ہے وا اللہ اعلم۔ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ( قبول کرتا ہوں دعا کرنے والے کی دعا جب مجھ سے دعا کرتا ہے اہل مدینہ نے سوائے قالون اور ابو عمرو کے دعوۃ الداع اذا دعان میں الداع اور دعان کو وصل کی حالت میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے دیگر قراء نے وصل اور وقف دونوں صورتوں میں حذف یاء سے پڑھا ہے اور جہاں کہیں اس قسم کی یا آئی ہے کہ لکھی نہیں جاتی اس میں قراء کا اختلاف ہے بعض اس کو ثابت رکھتے ہیں اور بعض حذف کرتے ہیں اور یعقوب نے اس قسم کی یا کو سب جگہ وصل اور وقف کی حالت میں ثابت کیا ہے اور جو یا لکھنے میں آتی ہے وہ سب کے نزدیک وصل اور وقف دونوں صورتوں میں پڑھی جاتی ہے۔ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِيْ ( تو چاہئے کہ وہ بھی میرا حکم مانیں) یعنی مجھ سے ہی اپنی دعا کی قبولیت طلب کریں استجابۃ کو لام سے اس لیے متعدی کیا ہے کہ طلب اور دعا اللہ کی عبادت ہے اور بعض نے کہا ہے فلیستجیبوا لی کے یہ معنی ہیں کہ بندوں کو بھی چاہئے کہ جب میں ان کو طاعت کے بلاؤں تو قبول کریں جیسا کہ میں ان کی دعائیں قبول کرتا ہوں۔ وَلْيُؤْمِنُوْا بِيْ ( اور مجھ پر ایمان لائیں) بی کی یا کو ورش نے فتحہ سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے ساکن کرکے پڑھا ہے۔ یعنی ایمان پر قائم اور جما رہنا چاہئے یہ معنی اس لیے بیان کیے گئے کہ اصل ایمان تو پہلے ہی سے لائے ہوئے تھے اب جو ایمان کا حکم ہوا ہے تو یہی مراد ہے کہ ایمان پر جمے رہوا ور ادنیٰ یہ ہے کہ ایمان سے مراد ایمان حقیقی ہو جو بعد فناء نفس کے اس ایمان مجازی کے بعد حاصل ہوتا ہے کیونکہ تاسیس یعنی جدید معنی تاکید یعنی پہلے معنی کو مؤکد کرنے سے بہتر ہے۔ لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ ( تاکہ وہ سیدھا راستہ پائیں) یا تو یہ معنی کہ گذشتہ خصال کے پابند رہو اور اللہ سے اپنی راہ یابی کی امید رکھو اور یا یہ معنی کہ خصال گذشتہ پر کار بند رہو تاکہ راہ پاؤ۔ رشد ( راہ یابی) غی ( گمراہی) کی ضد ہے رشد سے مراد مقصود پر پہنچنا ہے اگر کوئی کہے کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا کے قبول فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اور وعدہ خلافی ناجائز ہے حالانکہ بندہ بار ہا دعا کرتا ہے اور قبول نہیں ہوتی۔ علامہ بغوی (رح) نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت کے معنی میں اختلاف ہے۔ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ دعا کے معنی یہاں طاعت کے ہیں اور اجابت ( قبول کرنا) کے معنی ثواب دینے کے ہیں۔ اس لیے کچھ اعتراض وارد نہیں ہوتا اور بعض نے کہا ہے کہ اس آیت کے معنی خاص ہیں اگرچہ الفاظ عام ہیں معنی یہ ہیں کہ میں دعا کرنے والے کی دعا اگر چاہوں تو قبول کرتا ہوں اور اس کی نظیر اور ہم معنی یہ آیت ہے : فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْہِ اِن شَاء یعنی تم جو مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرتے ہو تو اگر اللہ چاہے تو یہ مصائب دفع کردے گا) اس تقدیر پر مقصود اس آیت سے کفار کے اس گمان کو دفع کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری دعا کو نہیں سنتا کیونکہ وہ غائب ہے یا یہ معنی ہوں کہ میں دعا قبول کرتا ہوں اگر قبول کرنا تمہارے لیے بہتر ہو۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اللہ نے فرمایا اگر تم کسی گناہ کے واسطے یا قطع رحم کے لیے دعا نہ کرو اور جلدی نہ مچاؤ تو اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول کرے گا صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ جلدی مچانے کے کیا معنی ؟ فرمایا کہ جلدی مچانا یہ ہے کہ کہہ بیٹھے کہ اے اللہ میں نے آپ سے دعا کی تھی۔ آپ نے قبول نہ فرمائی۔ بس اکتا کر دعا کرنی چھوڑ دی۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے یا یہ معنی ہوں کہ دعا قبول کرتا ہوں اگر بندے کسی امر محال کے طالب نہ ہوں اور بعض نے کہا ہے کہ آیت عام ہے لیکن معنی قبول کرنے کے یہ ہیں کہ میں اس کی پکار سنتا ہوں آیت سے پکار قبول کرنے سے زیادہ کچھ نہیں نکلتا رہی یہ بات کہ آرزو اور تمنا بر آنا یہ دوسری بات ہے آیت میں اس سے کچھ تعرض نہیں اور بعض نے کہا ہے کہ معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے سو اگر مقدر میں اس کے وہ امر ہو جس کے لیے دعا کی ہے تو مل جاتا ہے اور اگر نہ ہو تو اس دعا کا یا تو آخرت میں ثواب ملتا ہے یا دنیا میں کوئی برائی اس سے دور ہوجاتی ہے۔ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو کوئی روئے زمین پر اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتا ہے یا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مانگی ہوئی شے عطا فرماتا ہے۔ یا کوئی برائی اس کی مثل دور کردیتا ہے مگر یہ جب ہے کہ جب کسی گناہ یا قطع رحم کی دعا نہ کر بیٹھے۔ اس حدیث کو علامہ بغوی (رح) نے روایت کیا ہے اور امام احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو مسلمان کسی حاجت کے واسطے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تو اللہ تعالیٰ یا تو اس کو وہ حاجت دیتا ہے اور یا اس کے لیے ذخیرہ کر رکھتا ہے وہاں اس کو ملے گی۔ ترمذی نے بھی حضرت جابر ؓ سے مرفوعاً اس مضمون کو روایت کیا ہے کچھ الفاظ کا تفاوت ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کی دعا اسی وقت قبول فرماتے ہیں یعنی پکار کا جواب دیتے ہیں لیکن اس کی مراد کو اس لیے مؤخر کرتے ہیں تاکہ وہ دعا کرے تو اس کی آواز سنیں اور جس کو اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتے اس کی مراد اور آرزو جلدی پوری کردیتے ہیں کیونکہ اس کی آواز کو پسند نہیں فرماتے اور بعض نے کہا ہے کہ دعا کے بہت سے آداب اور شرائط ہیں اور وہ شرائط قبولیت کے اسباب ہیں جو شخص ان سب اسباب اور آداب کو پوری طرح حاص کرلیتا ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے اور جو اس میں کمی کرتا ہے تو وہ دعا کے اندر اعتداء ( حد سے تجاوز) کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے اس لیے قبولیت کا مستحق نہیں ہوتا۔ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ جو سفر میں ہے اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف دعا کے لیے اٹھاتا ہے اور پراگندہ بال و حال ہے۔ (یعنی اسباب قبولیت کے سب مجتمع ہیں) لیکن حالت یہ ہے کہ کھانا بھی اس کا حرام اور پینا بھی حرام اور پہننا بھی خبیث اور اب تک غذا بھی حرام پھر بھلا کہاں دعا قبول ہو اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہ جس قدر اقوال لکھے گئے ہیں سب صحیح اور درست ہیں اور یہ بات صحیح ہے کہ دعا قبول نہیں ہوتی لیکن کلام اس میں نہیں بحث اس میں ہے کہ مدلول آیت کا کیا ہے سو میرے نزدیک مدلول آیت کا یہ ہے کہ دعا کا مقتضی یہ ہے کہ قبول ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ جواد کریم ہر شے پر قادر ہیں اور جس میں یہ صفات ہوں وہ کسی سائل کو ہرگز عقلاً نقلاً رد نہیں کرتا۔ ترمذی اور ابو داوٗد نے سلمان ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! تمہارا پروردگار بہت حیا والا اور کرم والا ہے جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کو شرم آتی ہے کہ اس کے ہاتھوں کو خالی پھیرے۔ اب رہی یہ بات کہ اکثر دعا کیوں نہیں قبول ہوتی یا قبولیت میں کیوں دیر ہوتی ہے تو اس کی کئی وجوہ ہوتی ہیں کبھی تو کوئی حکمت ہوتی ہے اور یا قبولیت سے کوئی مانع ہوتا ہے اور کسی وقت کوئی شرط مفقود ہوتی ہے یا دعا مانگنے والے کے لیے اس میں کچھ عقوبت ہوتی ہے۔ وا اللہ اعلم۔
Ayah 2:187

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں

اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَام الرَّفَثُ اِلٰى نِسَاۗىِٕكُمْ ( جائز کردیا گیا تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں پاس جانا اپنی بیبیوں کے) لفظ رفث جماع سے کنایہ ہے۔ زجاج نے کہا ہے کہ رفث ایک لفظ جامع ہے جس قسم کا مرد عورتوں سے فائدہ اٹھائیں سب کو شامل ہے اور رفث کو الیٰ سے اس لیے متعدی کیا ہے کہ اس لفظ کے اندرافضا (جماع) کا مضمون ہے اور افضا کا صلہ الٰہی آتا ہے) امام احمد اور ابو داؤد اور حاکم نے عبد الرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کی ہے کہ ابتدا اسلام میں لوگ اوّل شب میں سونے تک کھاتے پیتے تھے عورتوں سے جماع کرتے تھے اور سونے کے بعد سے پھر صبح تک سب چیزوں سے باز رہتے تھے ایک مرتبہ ایسا قصہ ہوا کہ ایک شخص انصاری حرمہ نام نے عشاء کی نماز پڑھی پھر بغیر کچھ کھائے پیئے سو رہے صبح کو یہ حالت ہوئی کہ بھوک پیاس کی بہت شدت تھی اور ایک مرتبہ عمر ؓ کی بھی یہ کیفیت ہوئی کہ بعد سونے کے بی بی سے صحبت کر بیٹھے یہ قصہ جناب رسول اللہ سے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے اسی وقت آیت : احل لکم الخ نازل فرمائی یہ حدیث ابن ابی لیلی سے مشہور ہے اور ابن ابی لیلیٰ نے حضرت معاذ ؓ سے نہیں سنا لیکن اس حدیث کے اور بہت سے شواہد ہے۔ امام بخاری (رح) نے حضرت براء ؓ سے روایت کی ہے کہ اصحاب رسول اللہ کی یہ حالت تھی کہ جب کوئی شخص روزہ رکھتا تھا اور افطار کا وقت آجاتا تھا اور روزہ افطار کرنے سے پہلے ہی سو جاتا تھا تو پھر وہ نہ اس رات کو کھاتا پیتا تھا اور نہ اگلے روز شام تک کچھ کھاتا پیتا تھا ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ قیس بن صرمہ انصاری ؓ روزہ دار تھے جب افطار کا وقت ہوا تو اپنی زوجہ سے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانا ہے اس نے کہا موجود تو نہیں لیکن تمہارے واسطے کہیں سے لاتی ہوں یہ تمام دن تو کام کاج کرتے تھے اس کے جاتے ہی نیند غالب ہوئی سو رہے جب وہ آئی تو ان کو سوتے دیکھ کر بولی۔ بد قسمتی اس کے بعد تو کھا ہی نہیں سکتے تھے۔ دوسرے دن جب دوپہر ہونے آئی تو ضعف کی وجہ سے ان پر غشی طاری ہوگئی یہ قصہ جناب رسول اللہ کے سامنے پیش ہوا اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ بخاری نے حضرت براء ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو لوگ تمام رمضان عورتوں کے پاس نہ جاتے تھے اتفاقاً چند آدمی اپنی بیبیوں سے صحبت کر بیٹھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : علم اللہ انکم الخ نازل فرمائی اور امام احمد اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عبد اللہ بن کعب کے طریق سے ان کے باپ سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رمضان میں لوگوں کی یہ حالت تھی کہ جب کوئی شخص شام کو سو رہتا تھا تو اس پر کھانا پینا اور عورتوں کے پاس جانا سب حرام ہوجاتا تھا دوسرے دن افطار تک حرام رہتا تھا ایک روز رات کو حضرت عمر کو جناب رسول ﷺ اللہ کی خدمت اقدس میں باتوں میں دیر ہوگئی جب وہاں سے تشریف لائے تو بی بی سے مشعول ہونے کا ارادہ فرمایا انہوں نے عذر کیا کہ میں سو گئی تھی حصرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تو نہیں سویا یہ کہہ کر مشغول ہوگئے اور یہی فعل کعب بن مالک ؓ سے ہوگیا صبح کو عمر ؓ نے یہ واقعہ جناب رسول ﷺ اللہ کی خدمت میں عرض کیا۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ ابتداء اسلام میں جب آدمی عشاء کی نماز پڑھ لیتا تھا یا اس سے پہلے سو رہتا تھا تو اس پر کھانا پینا جماع اگلی رات تک سب حرام ہوجاتا تھا اور عمر ؓ بعد نماز عشاء کے اپنی بی بی سے صحبت کر بیٹھے پھر رسول ﷺ اللہ سے عذر کیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے عمر تم کو یہ بات لائق نہ تھی پھر اور بھی چند آدمی کھڑے ہوئے اور انہوں نے بھی اپنا اسی قسم کا واقعہ بیان کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ ( وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس 1 ؂) ترکیب لغوی کے اعتبار سے یہ آیت ایک سوال مقدر کا جواب ہے گویا کوئی سوال کرتا تھا کہ روزوں کی رات میں جماع کے حلال ہونے کی کیا وجہ ہے تو اس کا سبب ارشاد ہوتا ہے کہ تم کو عورتوں سے صبر نہیں ہوسکتا اور کثرت میل جول اور شدت تعلق کی وجہ سے ایسی حالت ہوگئی جیسے ایک دوسرے کا لباس ہو احتراز مشکل تھا اس لیے روزوں کی رات میں جماع حلال کردیا گیا چونکہ مرد اور عورت آپس میں ایک دوسرے سے لپٹتے ہیں اور ہر ایک دوسرے پر مثل لباس کے مشتمل ہوجاتا ہے اس لیے مرد اور عورت دونوں کو ایک دوسرے کے لباس سے تشبیہ دی اور یا اس لیے کہ لباس جس طرح لابس ( پہننے والے) کو چھپا لیتا ہے اسی طرح مرد اور عورت ایک دوسرے کو حرام سے چھپا تا اور روکتا ہے چناچہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نے نکاح کرلیا اس نے دو تہائی دین جمع کرلیا۔ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ ( اللہ نے معلوم کیا کہ تم چوری سے اپنے نقصان کرتے تھے) یعنی بعد عشاء یا بعد سو رہنے کے مجامعت کرکے اپنی جانوں کو عقاب اور سزا کے مقام میں لا کر ان پر ظلم کرتے تھے اور ثواب کا حصہ کم کرتے تھے اختیان میں خیانت سے زیادہ مبالغہ ہے۔ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ( سو اس نے معاف کیا تم کو) یعنی جب تم نے توبہ کرلی تو اللہ تعالیٰ نے بھی معاف کردیا۔ وَعَفَا عَنْكُمْ ( اور درگذر کی تم سے) یعنی تمہارے گناہوں کو محو فرما دیا۔ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْھُنَّ ( پس اب تم ان سے ہم بستر ہو) یعنی اب حلال طور سے مجامعت کرو مباشرت بول کر صحبت مراد لی ہے۔ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ ۠ ( اور چاہو جو اللہ نے لکھ دیا تمہارے لیے) یعنی جو تمہاری قسمت میں اولاد اللہ تعالیٰ نے لکھ دی ہے وہ بذریعہ صحبت کے طلب کرو۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی عورت سے مجامعت کرے تو مناسب یہ ہے کہ مجامعت سے اولاد کی نیت کرے صرف اپنی خواہش ہی پوری کرنے کا ارادہ نہ کرے چناچہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسی عورت سے نکاح کر جو خاوند کو دوست رکھنے والی ہو اور خوب جننے والی ہو کیونکہ میں تمہاری کثرت پر اور امتوں کے سامنے فخر کروں گا۔ اس حدیث کو ابو داؤد اور نسائی نے معقل بن یسار سے روایت کیا ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عزل 2 ؂ مکروہ ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جماع بچہ پیدا ہونے کی جگہ ہی میں مباح ہے۔ صاحب معالم التنزیل ‘ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ ما کتب اللہ سے مراد لیلۃ القدر ہے میں کہتا ہوں کہ یہ معنی سیاق آیت سے بعید ہیں۔ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۠ ( اور کھاتے پینے رہو یہاں تک کہ صاف نظر آنے لگے تمہیں صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے) خیط ابیض سے دن کی روشنی اور خیط اسود سے رات کی سیاہی مراد ہے اور خیط ( دھاگا) اس لیے فرمایا کہ جب صبح ابتداً ظاہر ہوتی ہے تو جنوب سے شمال کو مثل دھاگے کے کھینچ جاتی ہے اور من الفجر من الخیط الابیض سے حال اور اس کا بیان ہے اور خیط اسود کا بیان اس لیے نہیں لائے کہ جب خیط ابیض سے مراد فجر ہوئی تو خیط اسود سے رات مراد ہونا خود ہی سمجھ میں آجائے گا اور من الفجر میں من یا تو تبعیض کے لیے ہے اس تقدیر پر تو یہ معنی ہوں گے کہ اس حال میں کہ وہ خیط ابیض خود فجرکا حصہ ہو اور صراحتاً حتی یتبین الفجر (یہاں تک کہ صبح صاف ظاہر ہوجائے) اس لیے نہیں فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ادنیٰ حصہ بھی ظاہر ہوتے ہی کھانا پیناحرام ہوجاتا ہے اور بغیر ذکر من الخیط الاسود کے اس طرح بھی نہ فرمایا : حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الفجر (یہاں تک کہ سفید دھاری صبح کی تم کو صاف ظاہر ہوجائے۔ ) اس واسطے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ فجر سے مراد صبح صادق ہے کیونکہ صبح صادق ایک سفید دھاری جنوب سے شمال کو پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور اس کے متصل ہی اس سے قبل ایک سیاہ دھاری ہوتی ہے جو غربی جانب پھیلی ہوئی ہوتی ہے اور وہ رات کی سیاہی کا ایک حصہ ہوتی ہے بخلاف فجر کاذب کے کہ وہ بھی ایک سفید دھاری لیکن لمبی شرق و غرب کو ہوتی ہے کہ اس کے بعد تاریکی تمام اطراف کا احاطہ کرلیتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ من الفجر الخیط الاسود اور الخیط الابیض دونوں کا بیان ہو کیونکہ فجر میں دونوں باتیں ہوتی ہیں تاریکی بھی ہوتی ہے اور روشنی بھی اور یہ ترکیب اولیٰ ہے کیونکہ اس صورت میں حال اور ذوالحال میں اجنبی سے فصل لازم نہ آئے گا۔ وا اللہ اعلم سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! بلال کی اذان اور فجر طویل ( یعنی صبح کاذب) کے سبب سے تم سحری کھانے سے مت رکا کرو بلکہ اس فجر سے رکا کرو جو افق میں پھیل جاتی ہے۔ ( یعنی صبح صادق) اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ ( اے لوگو) بلال رات سے ہی اذان دیتے ہیں تو تم ابن ام مکتوم کے اذان دینے تک کھاتے پیتے رہا کرو۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن ام مکتوم ؓ اندھے آدمی تھے اور اذان اس وقت دیتے تھے کہ جب ان سے کئی مرتبہ کہا جاتا تھا کہ صبح ہوگی۔ اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت علی ؓ سے ثابت ہے کہ انہوں نے صبح کی نماز پڑھ کر فرمایا کہ اب سفید دھاری کالی دھاری سے متمیز ہوئی ہے اس روایت کو ابن منذر نے روایت کیا ہے اور اسی طرح ابن منذر نے بسند صحیح حضرت ابوبکر صدیق سے روایت کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر کھانے کی رغبت اور حرص نہ ہوتی تو میں صبح کی نماز پڑھ کر سحری کھایا کرتا اور ابن منذر اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امر فرمایا کہ دروازہ فجر کے دکھائی دینے تک بند رہے۔ پس یہ سب آثار اس پر صاف دال ہیں کہ صبح کے پھیل جانے کے بعد کھانا جائز ہے۔ اب ان اقوال کی کیا توجیہ ہوگی۔ میں کہتا ہوں کہ غیب کی خبر تو اللہ جانے بظاہر ان اقوال کی یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ ابوبکر اور علی ؓ نے یہ سمجھا ہوگا کہ من الفجر میں من سببیہ ہے اور خیط سے حقیقی معنی (دھاگا) مراد ہیں حالانکہ حدیث سے ثابت ہے کہ من الفجر میں من بیانیہ ہے اور خیط ابیض سے مراد صبح ہے اور اسی پر اجماع ہے عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت : حتی یتیبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود نازل ہوئی تو میں نے ایک سیاہ دھاگا اور ایک سپید لیا اور ان کو اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لیا اور رات کو ان کو دیکھا تو مجھ کو دونوں میں کچھ فرق نہ معلوم ہوا صبح کو میں جناب رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ذکر کیا آپ نے فرمایا کہ اس سے تورات کی سیاہی اور دن کی سپیدی مراد ہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ پھر آپ نے فرمایا کہ تو عریض القضا (کم عقل) ہے یہ تو دن کی سپیدی اور ات کی سیاہی ہے۔ سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ جب : کلوا واشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض منالخیط الاسود نازل ہوئی اور اس وقت تک من الفجر نازل نہ ہوا تھا تو بہت سے آدمی یہ کرتے تھے کہ جب روزہ رکھنے کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں پاؤں میں سپید اور سیاہ دھاگا باندھ لیتے اور کھاتے رہتے جب وہ دونوں صاف نظر آنے لگتے اس وقت کھانے پینے سے رکتے جب اللہ تعالیٰ نے من الفجرنازل فرمایا تو انہوں نے جانا کہخیط ابیض اور خیط اسود سے دن اور رات مراد ہیں۔ اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ سہل بن سعد کی حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ من الفجر آیت سے ایک زمانہ کے بعد نازل ہوئی ہے اگر یہ صحیح ہے تو یہ اشکال لازم آتا ہے کہ بیان اپنے مبین سے وقت حاجت سے مؤخر ہو اور یہ جائز نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ خیط ابیض اور اسود کا استعمال دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں شائع وذائع تھا بیان کرنے کی حاجت نہ تھی اور اگر بالفرض بعض لوگوں پر تامل و تدبر نہ کرنے کی وجہ سے پوشیدہ بھی ہو تو پھر بھی یہ مجمل کی قسم سے نہ ہوگا بلکہ اس کو مشکل کہا جائے گا اور مشکل ( اصطلاح میں) اس لفظ کو کہتے ہیں کہ متکلم کو جو کچھ اس سے مقصود ہے اس میں صیغہ کی رو سے یا استعمال مجاز سے خفا آجائے اور وہ خفا ایسا ہو کہ تامل اور طلب سے زائل ہوجاتا ہے اب اس تقدیر پر لفظ من الفجرصرف اس لیے نازل فرمایا تاکہ اور زیادہ وضوح ہوجائے اور جو لوگ کوتاہ فہم ہیں وہ محفوظ کرلیں اور ان کو طلب و تامل کی ضرورت نہ رہے اور باب مجمل سے نہ ہوگا کہ جس کے معنی بغیر شارع کے بتائے سمجھ میں نہ آئیں۔ اس لفظ کے نزول میں دیر ہونے سے کسی قسم کا اشکال نہ رہا اور اگر بالفرض اس کا مجمل ہونا تسلیم بھی کرلیا جائے تو کیا عجب ہے کہ اس کا بیان شارع کی طرف سے وحی غیرتلاوت شدہ میں آچکا ہو اور حدیث سے ثابت ہو ( چناچہ عدی بن حاتم ؓ کی حدیث اس پر دال ہے اور اسکے بعد تائید اور تاکید کے طور پر من الفجر نازل ہوا ہو۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ خیط اسود اور خیط ابیض سے ان کے ظاہری معنی مراد ہیں اور من الفجر اس کا ناسخ ہے اور طحاوی (رح) کے اس قول کی حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث ذیل تائید کرتی ہے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ کے ساتھ بالکل دن نکلے سحری کھائی اتنی بات تھی کہ سورج نکلا نہ تھا۔ ورنہ بالکل روشنی تھی اس حدیث کو سعید بن منصور نیروایت کیا ہے پس کیا بعید ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے جناب سرور کائنات ﷺ کے ساتھ من الفجر کے نزول سے پہلے سحری کھائی ہو۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ لفظ من الفجر مستقل کلام نہیں اور ناسخ کلام مستقل ہوتا ہے تو من الفجر کیسے ناسخ بن سکتا ہے اور اگر اس کو نزول میں متاخر مانا جائے تو پھر کلام سابق کا مخصص بھی نہیں بن سکتا کیونکہ قصر اور تخصیص کے لیے یہ ضروری ہے کہ ماقبل سے متصل ہو تو جب نہ ناسخ بن سکتا ہے اور نہ مخصص تو اس کی کیا توجیہ ہے۔ اس اشکال کا جواب میرے نزدیک یہ ہے کہ اوّل پوری آیت بغیر لفظ من الفجر کے نازل ہوئی پھر ایک مدت کے بعد یہی آیت دوسری مرتبہ قید من الفجر کے ساتھ اتری اس لیے پہلی آیت کی باعتبار حکم اور تلاوت کے ناسخ بن گئی ‘ وا اللہ اعلم۔ فائدہ عدی بن حاتم ؓ کا قصہ من الفجر کے نازل ہونے کے بعد ہوا ہے کیونکہ عدی بن حاتم ؓ 9 ھ میں اسلام لائے ہیں اور روزہ کی آیت 2 ھ میں نازل ہوئی ہے اور لفظ من الفجر اس کے تقریباً ایک سال بعد نازل ہوا تھا۔ پس عدی بن حاتم ؓ ؓ نے جو دو دھاگے تکیہ کے نیچے رکھ لیے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے من الفجر میں من کو سببیہ کے لیے سمجھا تھا وا اللہ اعلم۔ فائدہ جماع کو فجر تک جائز رکھنے سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جنبی کو صبح کے بعد بھی غسل کرنا جائز ہے اور نیز یہ کہ کوئی اگر صبح تک جناب کی حالت میں رہاتو اس کا روزہ بالاتفاق صحیح ہے۔ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى الَّيْلِ ( پھر پورا کرو روزہ کو رات تک) یہ آیت روزہ کے آخر وقت کا بیان ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جب رات کی سیاہی اس طرف چھا جائے اور دن اس طرف منہ پھیرے اور آفتاب غروب ہوجائے تو یہ وقت افطار کا ہے اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے اس آیت سے معلوم ہوا کہ روزہ کی حقیقت کھانے پینے اور جماع سے صبح صادق سے غروب آفتاب تک نیت کے ساتھ رکنا ہے اور نیت کا وجوب لفظ ثم اتموا سے صاف ظاہر ہے کیونکہ اتمام ( پورا کرنا) فعل اختیاری ہے یا یہ کہا جائے کہ روزہ جب عبادت ہے تو اس کے لیے نیت بھی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وَ مَا اُمِرُوا اِلَّا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین یعنی اور ان کو یہی حکم دیا گیا کہ اللہ کی عبادت کریں خالص اسی کی عبادت سمجھ کر اور رسول اللہ فرماتے ہیں کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے اور آدمی کو وہی ملتا ہے جو اسکی نیت ہے اس لیے جس شخص کی نیت اللہ و رسول کی طرف ہجرت کرنے کی ہے اس کو اسی کا ثمرہ ملے گا اور جس کی ہجرت دنیا کی طرف ہے کہ دنیا ملے یا کسی عورت سے نکاح کرے تو اس کو اس کا پھل ملے گا۔ اس حدیث کو تمام محدثین نے سوائے امام مالک (رح) کے روایت کیا ہے لیکن امام مالک (رح) سے بھی بخاری نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث معنی کے اعتبار سے متواتر ہے اور تمام امت محمدیہ نے اس کو قبول کیا ہے اور اس پر سب علماء کا اتفاق ہے کہ ہر عبادت مقصودہ بغیر نیت کے صحیح نہیں اس قاعدہ کا مقتضی یہ تھا کہ نیت پوری عبادت میں شرط ہے لیکن حرج اور تنگی کی وجہ سے یہ تمام اوقات میں ساقط ہوگئی نماز میں تو نیت اوّل جزو یعنی تکبیر تحریمہ کے مقارن ہونا شرط ہوگئی اور دیگر اجزاء میں حکماً اعتبار کرلی جائے گی اور روزہ کے جزو اوّل میں بھی یہ شرط نہیں کیونکہ روزہ کا جزو اوّل طلوع فجر کے وقت ہے اور یہی وقت اکثر غفلت اور سونے کا ہے اس لیے روزہ میں شروع سے پہلے کی نیت بھی کافی ہے اور باقی وقت میں جب تک اس نیت کو توڑے نہیں اعتبار کرلی جائے گی۔ اس میں اختلاف ہے کہ آیا بعد طلوع فجر کے اگر نیت کرے تو روزہ ہوجائے گا یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) تو یہ فرماتے ہیں کہ اگر شرعی دن کے نصف سے پہلے پہلے نیت کرلے تو رمضان اور نذر معین اور نفل کے روزے صحیح ہوجائیں گے اور امام شافعی اور احمد (رح) فرماتے ہیں کہ اگر زوال سے پہلے نیت کرلے تو نفل روزہ صرف صحیح ہے اور روزے صحیح نہ ہوں گے اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی روزہ دن کی نیت سے صحیح نہ ہوگا اور حضرت حفصہ ؓ کی حدیث امام مالک ؓ کی مؤید ہے وہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص طلوع فجر سے پہلے روزے کا عزم نہ کرے اس کا روزہ نہیں۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابو داؤد اور ترمذی اور نسائی اور ابن خزیمہ اور ابن ماجہ اور دار قطنی اور دارمی نے روایت کیا ہے اور ایک روایت میں یہ مضمون ہے کہ جس شخص نے رات سے روزہ کا قطعی ارادہ نہ کیا اس کا روزہ نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جس نے اپنا روزہ فجر سے پہلے نہ ثابت کرلیا اس کا روزہ نہیں۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس حدیث کی نسبت ابو داؤد نے کہا ہے کہ اس حدیث کو مرفوع ہونا صحیح نہیں اور ترمذی نے کہا ہے کہ اس حدیث کا موقوف ہونا صحیح تر ہے تو ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ابن جریج اور عبد اللہ بن ابی بکر نے اس کو مرفوع کہا ہے یہ دونوں اس حدیث کو زہری سے اور زہری سالم سے اور سالم اپنے باپ سے اور وہ ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ سے اور وہ حضور ﷺ سے روایت کرتی ہیں اور ابن جریج اور عبد اللہ بن ابی بکر دونوں ثقہ ہیں اور مرفوع کہنا اس حدیث کا زیادتی ہے اور زیادتی ثقہ کی مقبول ہوا کرتی ہے اور محدثین کی عادت ہے کہ موقوف اور مرسل دونوں کو موقوف کہتے ہیں اور موقوف کا اصح ہونا مرفوع کے صحیح ہونے کے منافی نہیں اور حاکم نے اس حدیث کے مرفوع ہونے کی صورت میں کہا ہے کہ یہ حدیث شرط شیخین پر صحیح ہے اور مستدرک میں کہا ہے کہ شرط بخاری پر صحیح ہے اور بیہقی اور دار قطنی نے کہا ہے کہ اس حدیث کے راوی سب ثقہ ہیں۔ اور اسی مضمون کی حدیث ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے منقول ہے وہ فرماتی ہیں کہ جس شخص نے روزہ کو قبول از فجر ثابت نہ کیا اس کا روزہ نہیں اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن اس کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن عباس ہے۔ ابن حبان (رح) نے اس کو ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے اور ایک یحییٰ بن ایوب ہیں وہ بھی کچھ قوی نہیں۔ اور میمونہ بنت سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جس نے رات سے ٹھان لیا کہ کل کو روزہ رکھوں گا تو اس کو رکھنا چاہئے اور جس نے صبح تک عزم نہ کیا ہو اس کو روزہ نہ رکھنا چاہیے۔ اس کو دار قطنی نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں واقدی راوی کچھ نہیں۔ اور جو لوگ نفل روزہ کے لیے دن کو نیت کرلینا کافی سمجھتے ہیں انکی دلیل حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ جب میرے پاس تشریف لاتے تو فرماتے کہ تمہارے پاس کچھ کھانا ہے جب ہم کہہ دیتے کہ نہیں ہے تو فرماتے کہ بس تو میں روزہ دار ہوں۔ ایک روز کا قصہ ہے کہ آپ تشریف لائے میں نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ ہمارے پاس کچھ حیس (کھجوریں اور گھی و مسکہ وغیرہ سے مرکب کرکے ایک کھانا بنایا جاتا ہے) ہدیہ میں آیا ہے فرمایا کہ لاؤ اور صبح سے تو میں روزہ دار تھا اور مسلم کی روایت میں یہ مضمون ہے کہ حضور ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ ہے میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس کچھ نہیں فرمایا کہ بس تو میں روزہ دار ہوں یہ کہہ کر حضور باہر تشریف لے گئے اس کے بعد ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا جب پھر گھر میں جناب رسول ﷺ اللہ تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ ہمارے پاس کچھ ہدیہ آیا ہے فرمایا کیا ہے میں نے عرض کیا حیس ہے فرمایا لاؤ میں لائی تو حضور نے نوش فرمایا پھر فرمایا کہ صبح سے تو میں روزہ دار تھا اس حدیث کا مالکیہ یہ جواب دیتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جناب رسول ﷺ اللہ نے دن کو روزہ کی نیت کی اور رات سے نیت روزہ کی نہیں تھی بلکہ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضور صبح سے روزہ دار تھے اور رات سے نیت روزہ کی آپ نے فرمائی تھی پھر اپنی زوجہ مطہرہ کے پاس تشریف لائے تھے اور روزہ نفل کو توڑ دیا تھا چناچہ مضمون صبح سے میں روزہ دار تھا “ اس پر صاف دال ہے۔ وَلَا تُـبَاشِرُوْھُنَّ وَاَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ ۙ فِي الْمَسٰجِدِ ( اور نہ ہم بستر ہونا ان سے جس حالت میں کہ تم اعتکاف میں بیٹھے ہو مسجدوں میں) عکوف کے معنی لغت میں کسی شے پر اقامت کرنے اور ٹھہرنے کے ہیں اور اصطلاح اہل شرع میں اعتکاف مسجد میں نیت کے ساتھ اللہ کی عبادت پر ٹھہرنے اور اقامت کرنے کو کہتے ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ یہ آیت چند صحابہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ مسجد میں اعتکاف کرتے تھے جب کسی کو ان میں اپنی زوجہ کے پاس جانے کی ضرورت ہوتی تو اعتکاف سے نکل کر اس سے صحبت کرلیتے اور پھر غسل کرکے مسجد میں آجاتے تھے پھر اس آیت سے رات اور دن دونوں میں اعتکاف سے فارغ ہونے تک عورت کے پاس جانا حرام ہوگیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جماع سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے اور سب کے نزدیک اعتکاف میں جماع حرام ہے لیکن شافعی ؓ فرماتے ہیں کہ اگر بھول کر جماع کرلیا تو جیسے روزہ نہیں فاسد ہوتا اسی طرح اعتکاف بھی فاسد نہیں ہوتا۔ ہم کہتے ہیں کہ اعتکاف اور روزہ فرق ہے اعتکاف کی حالت تو خود اعتکاف کو یاد لانے والی ہے بخلاف روزہ کے کہ روزہ میں کوئی ایسی حالت جدیدہ نہیں ظاہر ہوتی کہ جس سے روزہ یا در ہے اور حسن بصری (رح) اور زہری (رح) سے منقول ہے کہ جو اعتکاف میں اپنی زوجہ سے جماع کرے تو اس پر کفارہ لازم ہے اور کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے لیکن سب علماء کا اس پر اجماع ہے کہ کفارہ نہیں ہے اور اگر شہوت سے بوسہ لیا یا چھوا اور انزال ہوگیا تو سب کے نزدیک اعتکاف باطل ہوگیا اور اگر انزال نہیں ہوا تو فعل حرام ہوا لیکن اعتکاف فاسد نہیں ہوا لیکن امام مالک کے نزدیک اس صورت میں اعتکاف باطل ہوجائے گا اور چھونے سے لذت حاصل کرنا مقصود نہ ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب جناب رسول اللہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے تو اپنا سر مبارک میرے قریب فرما دیتے تھے میں کنگھی کردیتی تھی۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے مسلم کی روایت میں اتنازیادہ ہے کہ حضور گھر میں حاجت انسانی کے سوا اور کسی شے کے لیے تشریف نہ لے جاتے تھے اور : و انتم عاکفون فی المساجد ( اور تم اعتکاف کرنے والے ہومسجدوں میں) سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف سوائے مسجد کے اور جگہ صحیح نہ ہوگا اور مسجد سے مراد وہ مسجد ہے جس میں جماعت ہوتی ہو گھر کی مسجد مراد نہیں اور المساجد کا اطلاق یہ بتارہا ہے کہ اعتکاف ہر مسجد میں درست ہے مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ اور مسجد نبی ﷺ اور مسجد جمعہ کی کوئی خصوصیت نہیں اور حزیفہ ؓ سے مروی ہے کہ مساجد مذکورہ میں صحیح ہوگا دوسری مسجد میں درست نہیں اور عطا فرماتے ہیں کہ مسجد مکہ میں جائز ہوسکتا ہے اور ابن مسیب ؓ مسجد مدینہ میں حصر کے قائل ہیں اور امام مالک کے نزدیک مسجدجمعہ میں صحیح ہے اور امام شافعی (رح) کے بھی پہلے قول میں اسی طرف اشارہ ہے کہ مسجد جمعہ میں اعتکاف درست ہے اور دوسری مسجد میں مشروع نہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ بغض اور عداوت کی چیز بدعات ہیں اور یہ بھی بدعات میں سے ہے کہ گھروں کی مسجدوں میں اعتکاف کیا جائے۔ اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا ہے اور علی ؓ فرماتے ہیں کہ اعتکاف سوائے مسجد جماعت کے اور مسجد میں صحیح نہیں اس کو ابن ابی شیبہ اور عبد الرزاق نے اپنی اپنی مصنف میں لکھا ہے اور حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ لوگو سنو میں یہ امر خوب جانتا ہوں کہ مسجد جماعت کے سوا اور جگہ اعتکاف درست نہیں اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور ابن جوزی نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ جس مسجد میں امام اور مؤذن ہے اس میں اعتکاف صحیح ہے ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ حدیث نہایت ضعیف ہے اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ معتکف کو چاہئے کہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے اور نہ کسی جنازہ پر حاضر ہو اور نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ صحبت کرے اور سوائے بہت ضروری حاجت کے کہیں نہ نکلے اور اعتکاف صحیح ہے۔ ابن جوزی کہتے ہیں کہ یہ حدیث نہایت ضعیف ہے اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ معتکف کو چاہئے کہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے اور نہ کسی جنازہ پر حاضر ہو اور نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ صحبت کرے اور سوائے بہت ضروری حاجت کے کہیں نہ نکلے اور اعتکاف روزہ ہی میں ہوتا ہے بغیر روزہ کے صحیح نہیں اور مسجد جامع کے سوا اور جگہ اعتکاف نہیں اور ایک روایت میں ہے کہ مسجد جماعت کے سوا اور جگہ اعتکاف نہیں۔ مسئلہ رمضان المبارک کے اخیر کے دس دن میں اعتکاف سنت موکدہ ہے کیونکہ حضرت عائشہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے اور وفات تک فرماتے رہے پھر بعد آپ کے آپ کی ازواج مطہرات نے اسی طرح اعتکاف فرمایا اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کی اخیر دس راتوں میں اعتکاف فرماتے تھے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ اللہ رمضان کی اخیر دس راتوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ایک سال اعتکاف نہ فرمایا آئندہ سال بیس رات اعتکاف فرمایا اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ابو داؤد اور ابن ماجہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ رسول ﷺ اللہ اور ازواج مطہرات سے تو بیشک اعتکاف کرنا ثابت ہے لیکن اس کو اکثر صحابہ ؓ نے ترک فرمایا ہے۔ ابن نافع فرماتے ہیں کہ اعتکاف مثل صوم وصال کے ہے کہ حضور ﷺ نے خود کیا ہے اور اوروں کو منع فرمایا ہے اور میرا گمان یہ ہے کہ صحابہ ؓ نے اعتکاف کو اس وجہ سے چھوڑ دیا کہ اس میں ایک تنگی اور شدت ہے اور فرماتے ہیں کہ سلف میں سے کسی سے سوائے ابوبکر بن عبد الرحمن کے اعتکاف کرنا ثابت نہیں اور حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اکثر صحابہ سے اعتکاف کا ترک ثابت ہے میں کہتا ہوں کہ چونکہ اکثر صحابہ نے اس کو ترک فرمایا ہے اسی بنا پر بعض حنفیہ نے اس کو سنت کفایہ فرمایا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْھَا ( یہ خدائی ضابطے ہیں سو ان کے نزدیک بھی نہ جاؤ) تلک کا مشار الیہ احکام مذکورہ بالا ہیں جیسے روزہ میں کھانا پینا جماع کا حرام ہونا اور اعتکاف میں ہم بستری کا نا درست ہونا وغیرہ وغیرہ حدود اللہ یعنی یہ وہ چیزیں ہیں جن سے اللہ نے روک دیا ہے اور اصل معنی حد کے منع ( روکنا) ہیں۔ فلا تقربوھا ( مت قریب جاؤ ان کے) کا مطلب یہ ہے کہ ان حرام کی ہوئی چیزوں کو مت کرو مبالغہ کے لیے۔ فلا تقربوھا ( مت قریب جاؤ) سے تعبیر کیا ہے ( جیسے کہتے ہیں کہ تم اس کام کے پاس بھی نہ پھٹکنا) سورت کے شروع میں یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حلال بھی ظاہر ہے اور حرام بھی ظاہر ہے اور ان دونوں کے درمیان میں بہت سے امور ایسے ہیں کہ جن میں اشتباہ اور دھوکہ ہوتا ہے ان کو بہت سے آدمی نہیں جانتے سو جو شخص ان امور سے بچا اس نے اپنی آبرو اور دین کو بچا لیا اور جو ان امور مشتبہ میں پڑے گا وہ حرام میں جا گرے گا جیسے وہ چرواہا جو خاص چراگاہ ( سلطانی) کے گرد چراتا ہے کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ ( سلطانی) میں واقع ہوجاتا ہے آگاہ رہو کہ ہر بادشاہ کے لیے ایک خاص چراگاہ ہوتی ہے کہ وہ اس میں دوسرے شخص کو دخل نہیں دیتا خبر رکھو کہ اللہ کی محفوظ چراگاہ اس کی حرام کی ہوئی چیزیں ہیں 1 ؂ اور چونکہ حرام شأ کے قریب بھی جانے کو حرام فرمایا ہے اس لیے ہمارے ائمہ نے فرمایا کہ جو چیزیں جماع کی طرف رغبت دلاتی ہیں جیسے شہوت سے چھونا اور بوسہ وغیرہ اعتکاف اور روزہ میں یہ سب حرام ہیں اور اگر چھونے یا بوسہ سے انزال ہوگیا تو روزہ اور اعتکاف دونوں فاسد ہوجائیں گے۔ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ للنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ ( اسی طرح صاف صاف بیان کرتے ہے اللہ اپنی نشانیاں لوگوں کے لیے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں) یعنی ہم نے یہ احکام بیان کیئے، لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ یعنی تاکہ اوامرو نواہی کی مخالفت سے بچیں اور اس کے ذریعہ سے پھر جہنم کی آگ سے محفوظ رہیں۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو

وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ ( اور نہ کھاؤ اپنے آپس میں اپنے مال ناحق) باطل سے مال کھانا اس طرح ہے جیسے کسی شخص کے مال پر جھوٹا دعویٰ کر دیایا جھوٹی گواہی دے دی یا کسی کی حق بات کا انکار کرکے اس پر قسم کھا بیٹھے یا کسی کا مال غصب کرلیا لوٹ لیا چرالیا خیانت کرلی یا جو وے سے کسی کا مال لے لیا اور جیسے زنا کی اجرت اور ڈوم کے گانے کی اجرت اور کاہن کو کچھ دینا اور نر کو مادہ پر کدانے کی مزدوری اور دیگر عقود فاسدہ اور رشوت وغیرہ یہ سب امور باطل میں داخل ہیں اور بین یا تو ظرف ہونے کی وجہ سے اور یا امولکم سے حال ہونے کے باعث سے منصوب ہے اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ امرأ القیس پر ربیعہ بن عبدان حضرمی نے جناب رسول اللہ ﷺ کے دربار میں ایک زمین کے متعلق یہ دعویٰ کیا کہ اس نے مجھ سے فلاں زمین جو میری ملک تھی غصب کرلی۔ جناب رسول اللہ نے حضرمی سے فرمایا کہ تمہارے پاس اس امر کے گواہ ہیں ؟ حضرمی نے کہا کہ میرے پاس گواہ تو نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر گواہ نہیں تو امراء القیس مدعیٰ علیہ کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ امرأ القیس یہ سن کر قسم کھانے کے لیے مستعد ہوا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر جھوٹی قسم اس غرض 1 ؂ سے کھائے گا کہ اس کا مال ناحق کھائے تو قیامت کے دن اللہ سے ناراضگی کی حالت میں ملے گا اس حدیث کو ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے۔ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ ( اور نہ ذریعہ بناؤ ان مالوں کو حاکموں تک رسائی کا) یا تو من ہی یعنی تاکلوا پر معطوف اور لا کے تحت میں ہے اور یا بتقدیر اَن منصوب ہے مطلب یہ ہے کہ اے مومنو ! اموال کے فیصلہ کو حکام تک مت پہنچاؤ اور مجاہد ؓ نے فرمایا کہ معنی یہ ہیں کہ آپس میں ظالم ہو کر خصومت اور نزاع مت کرو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے ذمہ کچھ مال ہو اور اس پر گواہ نہ ہو اور اس مال کا انکار کر بیٹھے اور حاکم تک جب یہ جھگڑا پہنچے تو وہاں جھوٹی قسم کھا بیٹھے۔ کلبی فرماتے ہیں کہ یہ اس شخص کا حال ہے جو جھوٹی گواہی دے۔ میں کہتا ہے کہ الفاظ آیت ان جملہ تفاسیر کو شامل اور عام ہیں سب معنی ہوسکتے ہیں۔ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاس بالْاِثْمِ ( تاکہ کھا جاؤ تھوڑا سا لوگوں کا مال گناہ کے ساتھ) بالاثم میں اثم سے مراد وہ شے ہے جس سے گناہ لازم آجائے جیسے جھوٹی شہادت اور جھوٹی قسم۔ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ( حالانکہ تم جانتے بوجھتے ہو) کہ اس معاملہ میں تم حق پر نہیں بخلاف حکام کے کہ وہ حقیقت حال سے واقف نہیں ظاہر حال پر فیصلہ کردیتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حاکم اگر موافق شرع کے فیصلہ کردے اور کسی جانب اس کا میلان نہ ہو نہ مدعی کی طرف نہ مدعا علیہ کی جانب۔ تو اس کو اجر ملے گا اگر وہ فیصلہ فی نفسہٖ گناہ ہو اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قضاء قاضی سے کوئی حرام شأ حلال نہیں ہوتی۔ چناچہ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! میں تمہاری طرح بشر ہوں اور تم میرے پاس جھگڑے مقدمے فیصلے کرانے کے لیے لاتے ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض تم میں سے اپنی دلیل اور اظہار بیان میں دوسرے سے زیادہ لسان اور فصیح ہو پھر اس کے بیان پر میں اس کے موافق فیصلہ کردوں تو تم کو چاہئے کہ جس کے لیے میں اس کے بھائی مسلمان کے حق میں سے کچھ دالاؤں اس کو نہ لو کیونکہ یہ لینے والے کے لیے میں نے گویا آگ کا ایک انگارہ دے دیا ہے ( لہٰذا اس سے بچنا چاہئے) اس حدیث کو امام شافعی (رح) نے امام مالک (رح) سے روایت کیا ہے اور بخاری اور مسلم میں بھی یہ حدیث اسی طرح منقول ہے۔ اور امام ابوحنیفہ بھی مثل دیگر علماء کے یہی فرماتے ہیں کہ یہ مال اس پر حرام اور خبیث ہے لیکن اوروں کے خلاف یہ فرماتے ہیں کہ عقود ( یعنی معاملات جیسے اجارہ بیع نکاح وغیرہ) اور فسوخ (یعنی معاملات کے فسخ کرنے اور توڑنے) میں قاضی کا حکم ظاہر (یعنی دنیوی احکام میں) اور باطن (عند اللہ) میں یکساں بلا فرق نافذ اور جاری ہوتا ہے اور جمہور علماء اس میں امام صاحب کے مخالف ہیں۔ امام صاحب (رح) کی دلیل اس بات میں یہ ہے کہ دو گواہوں نے حضرت علی ؓ کے حضور میں گواہی دی کہ فلاں شخص کا نکاح فلاں عورت سے ہوگیا ہے حضرت علی ؓ نے وہ عورت اس مرد کو دلا دی اور نکاح پر فیصلہ فرمایا عورت نے کہا کہ ہمارا تو نکاح نہیں ہوا اگر آپ کو یہی منظور ہے تو میرا نکاح اس کے ساتھ پڑھا دیجئے۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ان گواہوں نے تیرا نکاح کردیا۔ (1) [ یہ بعض علماء کی ذاتی رائے اور شخصی استنباط ہے نہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ مقصود ہے کہ جھوٹی شہادتوں سے حرام چیز حلال ہوجاتی ہے نہ امام صاحب کیے قول کا یہ مطلب ہے حضرت علی ؓ کے فرمان کا یہ منشا ہے کہ قاضی کو کسی کا نکاح اس کی مرضی کیخلاف کردینے کا حق نہیں ہے نہ نکاح پر نکاح ہونا ممکن ہے جب شہادت سے نکاح ثابت ہوگیا تو قاضی عندا اللہ ماخوذ نہ ہوگا کیونکہ اسکے فیصلہ کی بنا شہادت پر ہے لہٰذا اس کا حکم ظاہراً دنیا میں بھی نافذ ہوگا اور عند اللہ بھی اس سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا عذاب رہے گا تو جھوٹے مدعی اور غلط گو شاہدوں کی گردن پر قاضی کا حکم ظاہراً و باطناً جاری ہونے کا مطلب بظاہر امام صاحب کے نزدیک بھی یہی ہے گویا امام صاحب کے نزدیک بھی دیا نتاً حرام چیز حلال نہیں ہوجاتی گو قضا نفاذ ہوگیا ہو اور قاضی عند اللہ ماخوذ نہ ہو کیونکہ حضرت ام سلمہ کی روایت کردہ حدیث جو صحیحین میں مذکور ہو اور حضرمی ؓ والی حدیث کا امام صاحب نے انکار نہیں کیا۔ حضرمی والی حدیث کا تعلق گو ایک زمین کے دعوے سے تھا لیکن صحیحین کی حدیث تو عام ہی عقود کا استثناء کس طرح اپنی رائے سے کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ درایت اسلامی کا بھی بدیہی فیصلہ ہے کہ خدا کا فیصلہ حرمت قاضی کے فیصلہ حلت کے تابع کس طرح ہوسکتا ہے حضرت علی ؓ جو واقف اسرار شریعت تھے فرمان رسول اللہ کے خلاف فیصلہ کریں اس کا امکان ہی نہیں ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کا مطلب بھی وہی تھا جو ہم نے اوپر لکھ دیا کہ قضا کی بنا شہادت پر ہے شہادت سے نکاح ثابت ہوگیا۔ قضا نافذ ہوگئی اور قاضی عند اللہ ماخوذ بھی نہیں ہوا ا۔ ب مرتد قضا کا نکاح کا کوئی حاصل نہیں رہا دیانتاً نکاح تو اس کا اختیار قاضی کو نہیں۔ قاضی کے فیصلہ سے حرام چیز مدعی کے لیے حلال نہیں ہوجائے گی وا اللہ اعلم۔ امام صاحب کا یہ قول ہدایہ وغیرہ کتب فقہ میں عام طور پر مذکور ہے مگر نفاذ باطنی کی وہ تشریح جو سرخسی نے کی ہے کتب فقہ میں مذکور نہیں امام محمد چونکہ صرف نفاذ ظاہری کے قائل ہیں اور دیانتاً حلت کے قائل نہیں اس لیے غالباً سرخسی نے یہ سمجھ لیا کہ امام صاحب قاضی کی قضا ءً : تحلیل کو عند اللہ بھی تحلیل مانتے ہیں اسی فہم کی بنا پر محیط اور میسوط میں سرخسی نے مختلف مسائل نکاح و طلاق کا تفرع کیا ہے اور مختلف کتب فقہ نے اس تشریح کو اخذ کیا یہاں تک کہ صاحب ہدایہ نے بھی کتاب النکاح میں حضرت علی کے قول مذکور کا یہی مطلب قرار دیا حالانکہ انہی کتابوں میں قضا اور دیانت کا فرق موجود ہے قضأ نفاذ کو دیانتاً نفاذ نہیں قرار دیا گیا ہے۔ شامی اور عالمگیری میں صاف صراحت ہے کہ اگر عورت طلاق کا دعویٰ کرے اور گواہ نہ ہوں اور مرد منکر ہو تو اگر عورت حقیقت میں اپنے دعوے میں سچی ہو اور ثبوت سے قاصر ہو اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کردے تب بھی عورت کے لیے مرد سے قربت دیانتاً جائز نہیں جہاں تک ممکن ہو اپنے کو بچائے ایک جگہ رہ کر نہ بچ سکے تو بھاگ جائے الخ۔ ممکن ہے اس کا جواب یہ دیا جائے کہ امام محمد ﷺ کے قول پر چونکہ فتویٰ ہے اس لیے فتاویٰ کی کتابوں میں ان مسائل کا بصورت مذکورہ اندراج ہے امام صاحب کا قول اس کے خلاف ہے جو مفتی بہ نہیں ہے لیکن یہ جواب بطریق تنزل ہے امام صاحب کے قول کا مطلب جب سرخسی کی تشریح کے مطابق مان لیا گیا اور امام محمد کے قول کو اس کے خلاف قرار دے لیا گیا تو مسائل متفرعہ میں بھی اختلاف قائم رکھا گیا اور پھر امام محمد کے قول پر فتویٰ ہونے کی صراحت کی گئی ورنہ اگر امام کے قول اور حضرت علی کے فرمان و شاہد اک زد جاک کا مطلب وہ تسلیم کرلیا جائے تو اس تاویل کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی اور حضرت ام سلمہ کی صحیحین والی روایت اور حضرت علی ؓ کے فیصلہ میں بھی کوئی تعارض باقی نہیں رہتا۔ وا اللہ اعلم ]