Ayah 2:154وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ( اور نہ کہو جو لوگ مارے جائیں اللہ کی راہ میں کہ وہ مردے ہیں) امْوَاتٌمبتدائے محذوف (ھُم) کی خبر ہے یہ آیت شہدائے بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ شہداء بدر میں چھ آدمی تو مہاجرین میں سے تھے اور آٹھ انصار سے لوگ ان کی نسبت کہا کرتے تھے کہ ہائے فلاں شخص مرگیا اور دنیا کی نعمت اس سے چھوٹ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان کے ازالہ اور ان کے درجات پر آگاہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل فرمائی۔
بَلْ اَحْيَاۗءٌ ( بلکہ وہ زندہ ہیں) شہداء کے زندہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ انکی ارواح کو جسم کی سی قوت عطا فرماتے ہیں کہ اسکے ذریعہ سے وہ زمین آسمان جنت سب جگہ کی سیر کرتے ہیں اور اپنے (1) [ دوستوں کی مدد کرنا اور دشمنوں کو ہلاک کرنا شہداء کے متعلق کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں معلوم نہیں۔ حضرت مؤلف قدس سرّہٗ نے کس حدیث کی بنا پر ایسا لکھا ہے۔] دوستوں کی مدد کرتے اور اپنے دشمنوں کو ہلاک کرتے ہیں اور اسی حیات کی وجہ سے زمین ان کے بدن اور کفن کی نہیں کھاتی۔
صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ شہداء بدر کی روحیں ہر رات عرش کے نیچے سجدہ کرتی ہیں اور اسی طرح قیامت تک کرتی رہیں گی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شہداء جب شہید ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ایک نہایت عمدہ جسم میں ان کو اتارتے ہیں اور روح کو حکم ہوتا ہے کہ اس میں داخل ہو وہ اس میں داخل ہو کر اپنے پہلے جسم کو دیکھتی ہے اور بولتی ہے اور سمجھتی ہے کہ لوگ میرا کلام سنتے ہیں اور مجھے دیکھتے ہیں اسی حالت میں حوریں اس کے پاس آتی ہے اور اس کو آکر لے جاتی ہیں۔ اس حدیث کو ابن مندہ نے مرسلاً روایت کیا ہے اور صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ شہداء کی ارواح اللہ تعالیٰ کے یہاں سبز طائروں میں رہتی اور جنت میں جہاں چاہیں سیر کرتی پھرتی ہیں اور عرش کے نیچے جو قندیلیں ہیں ان میں آرام کرتی ہیں۔ ان احادیث پر نظر کرکے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہ حیات شہداء ہی کے ساتھ مخصوص ہے میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ یہ حیات شہداء ہی کو عطا نہیں ہوئی بلکہ آثار اور احکام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء میں یہ حیات سب سے زیادہ ہے حتیٰ کہ اس کا اثر خارج میں یہ ہے کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات سے آپ کی وفات کے بعد نکاح جائز نہیں بخلاف شہید کے کہ اس کی زوجہ سے نکاح جائز ہے اور صدیق اس حیات ہی میں شہداء سے اعلیٰ درجہ میں ہیں اور صالحین یعنی اولیاء شہداء سے کم ہیں لیکن ان کے ساتھ ملحق ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اُوْلٰءِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ ( یعنی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے وہ نبی اور صدیق اور شہداء اور صالحین ہیں) ترتیب ذکری سے ترتیب مرتبہ کی طرف اشارہ اکثر کلام میں ہوتا ہے۔ اسی واسطے صوفیہ کرام (رح) نے فرمایا ہے کہ ہماری ارواح ہمارے بدن ہیں اور ہمارے بدن ہماری ارواح ہیں اور سینکڑوں ہزاروں معتبر حکایتیں ایسی ہیں کہ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اولیاء اپنے دوستوں کی اعانت کرتے اور اپنے دشمنوں کو ہلاک (2) [ مباحث شرعیہ کے ثبوت کے لیے حکایات کافی نہیں پھر شہداء بلکہ صدیقین اور انبیاء کی ارواح سے دنیوی امور میں استعانت باجماع علماء غیر صحیح ہے سخاوی اور سبکی جیسے لوگ اس کو صحیح قرار دیتے ہوں تو دیتے ہوں اجماع محدثین و فقہاء کے مقابلہ میں ان کا قول ناقابل قبول ہے استعانت بالموتی کا جواز صرف استفاضہ من الارواح کی صورت میں بعض علماء ( جیسے حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی قدسہ سرہ) کے نزدیک ثابت ہے عام محدثین اس کے بھی قائل نہیں۔ واللہ اعلم ] تباہ کرتے ہیں اور جس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوتا ہے اس کو اللہ کی راہ دکھاتے ہیں۔
حضرت مجدّد صاحب (رح) نے فرمایا ہے کہ نبوت کے کمالات وراثتاً چلے آتے ہیں میں کہتا ہوں کہ یہ لوگ جن کو کمالات نبوت وراثتاً مرحمت ہوتے ہیں انہیں اصطلاح شرع میں صدیق اور مقرب کہتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک وجود وہبی عطا ہوتا ہے ذیل کی احادیث و اخبار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء اور شہداء اور بعض صالحین کے بدن کو بھی زمین نہیں کھاتی۔ حاکم اور ابو داوٗد نے اوس بن اوس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کا جسم حرام فرمادیا ہے اور ابن ماجہ نے بھی ابو الدرداء ؓ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ امام مالک نے عبد الرحمن بن صعصعہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ عمرو بن الجموح اور عبد اللہ ابن جبیر انصاری کی قبر سیلاب کی وجہ سے دھنس گئی۔ یہ دونوں حضرات احد کے دن شہید ہوئے تھے اور دونوں ایک ہی قبر میں دفن کردیئے گئے تھے جب قبر سیل کی وجہ سے خراب ہوگئی تو چاہا کہ انہیں یہاں سے اور جگہ دفن کردیا جائے قبرکھودی گئی دیکھا تو اسی طرح ہیں کوئی تغیر نہیں آیا گویا کل دفن کئے گئے تھے حالانکہ ان کی شہات کو اس وقت چھیالیس برس ہوچکے تھے۔ طبرانی نے ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبر کو نہ کھودا جائے کہ مردہ کی مخفی حالت معلوم ہوجائے کیونکہ قبر میں مردہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے مخفی معاملے ہیں نیز فرمایا کہ مردہ کو دفن کرنے کے بعد قبر میں سے نہ نکالنا چاہئے مگر اس صورت میں کہ زمین غصب کی ہوئی ہو یا شفعہ کی زمین ہو یا پانی اور دریا کے قرب کی وجہ سے اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو یا دارالحرب کی زمین میں دفن کیا گیا ہو یا مقبرہ آبادی میں آکر پرانا ہوگیا ہو اور وہاں آنے جانے میں قبروں کا خیال نہ کیا جاتا ہو اور اونٹوں وغیرہ کا گھیر بنالیا گیا ہو ان صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آجائے تو مردہ کو قبر سے نکالنا جائز ہے اس پر ہی فتویٰ ہے۔ ترمذی نے کہا ہے کہ مردہ کو قبر میں سے نہ نکالا جائے مگر کسی عذر سے اور عذر وہی ہیں جو ہم ذکر کرچکے مستحب یہ ہے کہ میت کو جہاں دفن کیا جائے وہیں رہنے دیں کیونکہ بعض صحابہ ارض حرب میں مدفون ہوئے اور وہاں سے ان کی قبر کو کھود کر ان کے جنازہ کو نہیں لائے اور اگر کسی عذر سے لے آئیں تو کچھ حرج نہیں فتاویٰ خانیہ میں ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے شہر میں مرجائے تو اس کو وہیں رہنے دینا مستحب ہے اور اگر ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف لے جائیں تو کچھ حرج نہیں۔ اسلئے کہ حضرت یعقوب علی نبینا و (علیہ السلام) کا انتقال مصر میں ہوا اور عذر کی وجہ سے ان کو شام لے گئے۔
اور حضرت سعد بن ابی وقاص کا انتقال مدینہ سے چار فرسخ پر ہوا اور لوگ اپنی گردنوں پر اٹھا کر مدینہ شریف لائے اور یہ واقعہ ان کے دفن کردینے کے بعد کا ہے۔ ان دو کے علاوہ اوروں کی لاشوں کو بھی نقل کرنا مروی ہے اور بیہقی سے مروی ہے کہ جب امیرمعاویہ کا ارادہ نہر کظامہ کے جاری کرنے کا ہوا تو اس کے بہنے کی جگہ شہداء احد کی قبریں واقع ہوئیں تو حضرت معاویہ ؓ نے اعلان کرادیا کہ احد میں جو لوگ شہید ہوئے تھے ان کے وارث سب یہاں آئیں اور اپنے اپنے لوگوں کو لے جا کر اور جگہ دفن کریں لوگ آئے تو شہداء کو دیکھا کہ سب ترو تازہ ہیں اور بال بڑھے ہوئے ہیں اتفاقاً ایک شہید کے پاؤں پر پھاوڑا پڑگیا تو خون کا ایک فوارہ جوش مارنے لگا اور مٹی کھودنے کی حالت میں ایک جگہ سے جو مٹی کھودی تو تمام جگہ مشک کی خوشبو پھیل گئی۔ اس قصہ کو ابن ابی شیبہ نے بھی روایت کیا ہے اور بیہقی نے اس قصہ کو حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے۔ اور اس میں اتنا زیادہ ہے کہ پھاوڑا حمزہ ؓ کے پاؤں پر پڑا تھا اور طبرانی نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب حامل قرآن مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ زمین کو حکم دیتا ہے کہ اسکے گوشت کو نہ کھانا زمین عرض کرتی ہے اے اللہ میں اسکے گوشت کو کیسے کھا سکتی ہوں اسکے پیٹ میں تو آپ کا کلام ہے۔
ابن مندہ کہتے ہیں کہ اسی مضمون کی احادیث ابوہریرہ اور ابن مسعود ؓ سے بھی آئی ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث میں حامل قرآن سے مراد ممکن ہے کہ صدیق ہوں کیونکہ قرآن پاک کی برکات ان کے ساتھ مخصوص ہیں اور ان کے سوا اور تو برائے نام ہی حامل قرآن ہیں چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ ( یعنی نہ مس کرے قرآن کو سوائے پاک صاف لوگوں کے) یعنی جو اخلاق رذیلہ سے پاک ہیں وہ مس کریں اور ایسا شخص صدیق ہوتا ہے۔ مروزی نے بیان کیا کہ قتادہ ؓ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ زمین اس شخص کے جسم پر قابو نہیں پاسکتی جس نے بالکل گناہ نہ کیا ہو۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ اس سے مراد اولیاء اللہ ہوں کیونکہ وہ گناہوں سے محفوظ ہوتے ہیں ان کے قلوب اور اجسام دونوں میں ایسی صلاحیت آجاتی ہے کہ ان سے گناہ کا صدور نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ( لیکن تم سمجھ نہیں سکتے) یعنی چونکہ ان کی حیات اس قسم کی نہیں ہوتی کہ ہر شخص کو محسوس ہو اور نہ وہ کوئی ایسا امر ہے کہ عقل کی وہاں تک رسائی ہو بلکہ وحی سے یا ایسی فراست صحیحہ سے جو وحی سے حاصل ہو وہ حیات معلوم ہوسکتی ہے اس لیے تم اس کو نہیں سمجھ سکتے۔
Ayah 2:155وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ (اور بیشک ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر) مطلب یہ ہے کہ اے امت محمد ﷺ ہم کسی قدر مصائب پہنچا کر برکات سماویہ سے مستفید کریں گے جیسے کوئی کسی قوم کو آزمایا کرتا ہے کہ آیا یہ بلاء پر صبر کرتے ہیں یا نہیں اور رضا بالقضا سے آراستہ ہیں یا اس جوہر سے خالی ہیں اس پیشینگوئی کی وجہ یہ ہے کہ مصائب کے نزول کے وقت نفس کو اطمینان رہے اور زیادہ پریشانی نہ ہو مصائب فی نفسہٖ اگرچہ بہت ہیں لیکن جن مصائب سے اللہ تعالیٰ نے بندوں کو بچا رکھا ہے ان کی نسبت یہ کچھ بھی نہیں اس لیے تنوین تنکیر کے ساتھ قلت بیان فرمائی نیز تقلیل کی وجہ یہ بھی ہے کہ سننے والوں پر گراں نہ ہو اور یہ جان لیں کہ اللہ کی رحمت کسی حالت میں جدا نہیں ہوتی۔
مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ ( ڈر اور بھوک سے) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ خوف سے مراد دشمن کا خوف اور جوع سے مراد قحط ہے۔
وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ( اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے) وَ نقْصٍ مِنَ الْاَمْوَال کا یا تو شے پر عطف ہے اور یا الخوف پر خسارہ سے مراد بالکل مال کا ہلاک ہوجانا ہے جانوں کی کمی یہ کہ قتل ہوں یا مریں اور یا اس سے مرض اور بڑھاپا مراد ہے پھلوں کی کمی یہ ہے کہ کوئی آفت آجائے جس سے پھل جاتے رہیں یا کم ہوجائیں۔ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ خوف سے مراد اللہ عزوجل کا خوف ہے اور بھوک سے رمضان کے روزے اور مالوں کی کمی سے مراد زکوٰۃ اور صدقات ہیں اور جانوں کا نقصان امراض ہیں اور پھلوں کی کمی اولاد کا مرنا۔
ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کسی کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ کیا تم نے میرے بندہ کے بچہ کی روح قبض کرلی فرشتے عرض کرتے ہیں جی ہاں پھر فرماتے ہیں کیا تم نے اس کے دل کی ٹھنڈک کو لے لیا فرشتے کہتے ہیں جی ہاں پھر دریافت فرماتا ہے میرے بندہ نے اس مصیبت پر کیا کہا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں : اِنَّا اللہ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَپڑھا اور آپ کی حمد کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اچھا میرے بندہ کے لیے جنت میں ایک گھر تیار کرو اور اس کا نام بیت الحمد رکھو، اس حدیث کو ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا ہے۔
وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ : اور اے محمد ﷺ خوشخبری سنا دیجئے ان صبر کرنے والوں کو
Ayah 2:156الَّذِيْنَ اِذَآ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ ۙ قَالُوْٓا اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّآ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ (جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) یعنی وہ کہتے ہیں کہ ہم اسی کے بندے اور مملوک ہیں اور جو نعمتیں اس نے ہمیں عطا فرمائی ہیں یہ سب اسی کی طرف سے ہمارے پاس مستعار ہیں ہمیں چاہئے کہ ہم اس کے حکم پر راضی ہوں اور اس کی امانت طلبی سے نا شکری نہ کرنے لگیں کیونکہ مالک کو اختیا رہے کہ اپنی ملک میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں یعنی آخرت میں ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں اور اسی طرح دنیا میں بھی ذکر اور مراقبہ کے ذریعہ سے اس کی طرف بازگشت کرنے والے ہیں جب ہر حال میں وہی مرجع و ماوٰی ہے تو اس نے اگر کوئی نعمت اپنی ہم سے لے لی تو ہمارا کیا نقصان ہے وہ اس سے افضل اور بہتر عطا فرمائے گا۔ وَ بَشِرْمیں یا تو خطاب نبی ﷺ کو ہے یا جو بشارت کے لائق ہو اس کو خطاب ہے۔ مُصِیْبَۃٌ اس امر مکروہ کو کہتے ہیں جو انسان کو پہنچے۔ چناچہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول اللہ ﷺ کے نعل مبارک کا تسمہ ٹوٹ گیا آپ نے اِنَّا ﷲِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ..... پڑھا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا یہ بھی مصیبت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن کو جو امر ناگوار پہنچتا ہے وہی مصیبت ہے اس حدیث کو طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی جوتی کا تسمہ ٹوٹ جایا کرے تواِنَّا ﷲِ ...... پڑھا کرو کیونکہ یہ بھی مصیبت ہے۔
ابن ابی حاتم اور طبرانی اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو مصیبت کے وقت اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اچھا بدل عطا فرماتا ہے اور اتنا دیتا ہے کہ وہ راضی ہوجاتا ہے سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ مصیبت میں جیسے کلمات اس امت کو تعلیم کئے گئے ایسے اور کسی کو نہیں سکھائے گئے اگر سوائے امت محمدیہ ﷺ کے کسی اور کو یہ کلمات عطا کئے جاتے تو یعقوب ( علیہ السلام) کو عطا کئے جاتے مگر انہیں بھی نہیں بتائے گئے چناچہ یوسف ( علیہ السلام) کے فراق میں انہوں نے یَا اَسْفٰی عَلٰی یُوسُف (اے افسوس یوسف پر) فرمایا اگر یہ کلمات تعلیم کئے جاتے تو یہی کہتے۔
Ayah 2:157اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ( یہی ہیں جن پر رحمتیں ہیں ان کے پروردگار کی طرف سے) اُوْلٰءِکَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو صفات مذکورہ کے زیور سے اراستہ ہیں صلوٰۃ کے معنی لغت میں دعا کے ہیں اور جب اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کریں تو اس سے مراد وہ دعا نہیں ہوتی بلکہ دعاء پر جو ثمرہ مرتب ہوتا ہے وہ مراد ہوتا ہے مثلاً برکت مغفرت رحمت اور چونکہ رحمت اور برکت کی بہت سی انواع ہیں اس لیے صلوات بصغیہ جمع ارشاد فرمایا اور پھر لفظ رحمت تاکیداً زیادہ فرمایا۔
وَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُهْتَدُوْنَ ( یہی لوگ ہدایت پر ہیں) یعنی چونکہ ان لوگوں نے مصیبت پر اِنَّا ﷲِ ..... پڑھا اور حکم خداوندی پر رضا مندی کو اپنا شیوہ بنایا اس لیے یہی لوگ راہ راست پر ہیں۔ مروی ہے کہ حضرت معاذ ؓ کا ایک فرزند دلبند وفات پا گیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو تعزیت نامہ لکھا اس میں یہ مضمون تھا کہ اے معاذ تمہارے بیٹے کو احکم الحاکمین نے بہت سے ثواب کے عوض لے لیا ہے اور وہ اجر صلوٰۃ اور رحمت اور ہدایت ہے ( مگر یہ سب کچھ اس وقت ہے کہ تم نے اس مصیبت میں امید ثواب کی رکھی ہو اور واویلا اور جزع فزع نہ کی ہو) حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ دو چیزیں بہت ہی اچھی ساتھی ہیں اور ان پر ایک بہترین اضافہ بھی ہے وہ دو چیزیں صلوٰۃ اور رحمت ہیں اور وہ زیادتی ہدایت ہے۔ صابرین اور اہل بلا کی فضیلت میں بیشمار احادیث وارد ہوئی ہیں ہم یہاں نمونہ کے طور پر چند احادیث نقل کرتے ہیں۔
ترمذی نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے روز جب دنیا کے مصیبت زدوں کو ثواب ملے گا تو جو لوگ یہاں آرام یافتہ ہیں وہ یہ تمنا کریں گے کہ کاش ہماری کھال دنیا میں مقراض سے کاٹ دی جاتی کہ ہمیں بھی یہ نعمتیں ملتیں۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان کو جو رنج یا غم یا حزن یا کچھ تکلیف پہنچتی ہے حتیٰ کہ کانٹا بھی اگر پہنچتا ہے تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ بندہ کو جو مصیبت پہنچتی ہے اور پھر اس پر وہ اِنَّا ﷲِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ اللّٰھُمْ اَجِرْنِیْ فِی مُصِیْبَتِی وَاخْلُفْ لِیْ خَیرًْا مِّنْھَا پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس مصیبت کا اسے ثواب دیتا اور اچھا عوض عنایت فرماتا ہے اور محمد بن خالد سلمی اپنے باپ سے اور ان کے باپ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب بندہ کے مقدر میں کوئی مرتبہ لکھا ہوتا ہے اور عمل اس کے ایسے ہوتے نہیں کہ وہ مرتبہ اس کو ملے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدن یا مال یا اولاد میں کچھ مصیبت پہنچا دیتا ہے وہ اس پر صبر کرتا ہے اور سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے کسی نے سوال کیا یا رسول اللہ سب سے زیادہ بلا اور مصیبت میں کون رہتا ہے اور فرمایا انبیاء پھر جو انبیاء سے کم ہیں اور اوروں سے افضل ہیں اسی طرح دین کی قوت وضعف کے اعتبار سے مصائب بھی قوی و ضعیف ہوتے ہیں اگر دین میں پختہ ہوتا ہے تو اس پر مصائب بھی سخت آتے ہیں اور اگر دین میں خام اور ضعیف ہوتا ہے تو مصیبت میں بھی کم گرفتار ہوتا ہے اور مؤمن مصیبت میں گرفتار چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بالکل گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:158اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗىِٕرِاللّٰهِ ۚ ( بیشک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی آداب گاہوں میں سے ہیں) صفا اور مروہ مکہ میں دو پہاڑ ہیں۔ شَعَاءِر جمع شَعِیْرَۃً بمعنی علامت یہاں مراد شَعَاءِر سے عبادت کے طریقے ہیں اور شعائر انہیں اس لیے فرمایا کہ وہ طاعت الٰہی کی علامت ہیں صفا اور مروہ میں سعی کرنا سب کے نزدیک واجب ہے لیکن امام احمد سے روایت ہے کہ انہوں نے سنت فرمایا ہے اور ان کی دلیل یہ آیت ہے۔
فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا ( تو حج کرے خانہ کعبہ کا یا عمرہ کرے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کہ طواف کرے ان دونوں میں بھی) کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ طواف کرنے والے پر کچھ گناہ نہیں۔ تو معلوم ہوا کہ مباح ہے اور نیز آگے آیت : فَمنْ تَطَوَّعَ بھی ان کی دلیل ہے کیونکہ تطوع نفل کو کہتے ہیں اور حق یہ ہے کہ مباح ہونا اور نفل ہونا یہ دونوں وجوب سے عام ہیں اس لیے اس کے کچھ منافی و مخالف نہیں ایک شے پر اطلاق واجب اور مباح کا آسکتا ہے۔ حج لغت میں قصد کو کہتے ہیں اور اعتمار زیارت کرنے کو۔ یہاں مراد وہ مخصوص عبارتیں ہیں طریق متوسط سے منحرف ہونے کو جناح کہتے ہیں۔ شان نزول اس آیت کا اس طرح ہے کہ صفا اور مروہ پر اساف اور نائلہ دو بت تھے اساف صفاء پر تھا جبکہ نائلہ مروہ پر تھا۔ اہل جاہلیت ان بتوں کی تعظیم کے لیے صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا کرتے اور ان کو مس کرتے جب اسلام کا ستارہ چمکا تو مسلمان صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے سے ان بتوں کی وجہ سے احتراز کرتے اور جی میں نفرت کرتے۔ ادھر انصار قبل از اسلام منات بت کی عبادت کیا کرتے اور اس کے سامنے پکار کر دعا کرتے اس لیے انصار بھی صفا ومروہ کے درمیان دوڑنے سے کراہت کرتے اس لیے اللہ تعالیٰ نے دو نوں فریق کے باب میں یہ آیت نازل فرمائی چناچہ احادیث ذیل سے یہ سب قصہ صاف معلوم ہوتا ہے۔
حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان زمانہ جاہلیت میں شیطان تمام رات طواف کرتے تھے اور صفا ومروہ کے درمیان بت تھے جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے کہا یا رسول اللہ صفا ومروہ کے درمیان ہم طواف نہ کریں گے کیونکہ ہم جاہلیت میں ایسا کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر آیت اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ الخ نازل فرمائی۔
بخاری نے عاصم سے روایت کی ہے۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ؓ سے صفا ومروہ کی سعی کے بارے میں پوچھا فرمایا کہ ہم قبل از اسلام اس سعی کو جاہلیت کی بات سمجھتے تھے جب اسلام آیا تو ہم نے سعی چھوڑ دی اس پر آیت : اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ الخ نازل ہوئی اور صحیحین میں عروہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے عرض کیا کہ فَلَا جناح علیہ ان یطوف بھما ( پس نہیں کچھ گناہ اس پر کہ طواف کرے ان میں) سے معلوم ہوتا ہے کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی واجب نہیں حضرت عائشہ ؓ نے سن کر فرمایا اے بھانجے تم نے کیسی بات کہی اگر آیت کا یہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے تو عبارت قرآنی اس طرح ہوتی : وَلَا جناح علیہ انْ لا یطوف بھما یعنی ان کا طواف نہ کرنے سے کچھ گناہ نہیں یہ آیت تو انصار کے بارے میں ان کے مسلمان ہونے سے پہلے کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ انصار منات بت کی عبادت کرتے تھے جب مسلمان ہوئے تو صفا ومروہ کے درمیان طواف سے ان کو کراہت محسوس ہوئی اس لیے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم قبل از اسلام صفا ومروہ کی سعی کیا کرتے تھے اس لیے اب سعی سے جی میں تنگی معلوم ہوتی ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : ان الصفا والمروۃ نازل فرمائی اور حبیبہ بنت ابی تجرات کی حدیث سے بھی جو صفیہ بنت شیبہ ؓ کے واسطہ سے مروی ہے یہی معلوم ہوتا ہے کہ صفا ومروہ میں دوڑنا واجب ہے اور وہ حدیث یہ ہے حبیبہ مذکورہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ صفا ومروہ کے درمیان طواف فرما رہے ہیں اور لوگ آپ کے آگے اور آپ سب کے پیچھے ہیں اور اس شدت سے آپ سعی فرماتے ہیں کہ تہہ بند شریف گھوم جاتا ہے اور فرماتے جاتے ہیں کہ اے لوگو سنو ! اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی مقرر فرمادی ہے۔ اس حدیث کو امام شافعی اور احمد (رح) نے رایت کیا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں ایک راوی عبد اللہ بن مؤمل ہیں ان کو دار قطنی اور بہت سے علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن ابن جوزی کہتے ہیں کہ یحییٰ نے کہا ہے کہ عبد اللہ بن مؤمل میں کچھ ضعف نہیں اور اس حدیث کو دار قطنی نے ایک اور طریق سے روایت کیا ہے کہ اس میں ایک راوی منصور بن عبد الرحمن ہیں ابو حاتم نے ان کی نسبت لفظ لا یُحْتَجُّ بِہٖ ( ان کا قول حجت نہیں) کہا ہے اور یحییٰ بن معین نے ثقہ کہا ہے اور ذہبی نے ثقہ مشہور اور رجال مسلم سے بیان کیا ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ طبرانی کے نزدیک اس حدیث کی ابن عباس ؓ سے اور سندیں ہیں کہ جب پہلی سند کے ساتھ جمع کی جاتی ہیں تو فائدہ قوت کا دیتی ہیں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اس کے بعد تم خانہ کعبہ اور صفا ومروہ کا طواف کرو اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سعی صفا ومروہ کی واجب ہے کیونکہ حضور نے صیغہ امر سے ارشاد فرمایا ہے اور امر وجوب کے لیے ہی ہوتا ہے اس کے بعد جاننا چاہئے کہ جو لوگ وجوب کے قائل ہیں ان میں یہ اختلاف ہے کہ آیا یہ سعی واجب ہے۔ یا رکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تو واجب ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ قاعدہ ہے کہ وجوب کی دلیل اگر ظنی ہو تو اس سے کتاب اللہ پر زیادتی جائز نہیں اس لیے وہ فرماتے ہیں کہ سعی بین الصفا والمروہ حج میں رکن نہیں واجب ہے اگر کوئی ترک کردے گا تو حج میں ایک قسم کا نقصان رہے گا اگر ایک بکری ذبح کردے گا تو وہ نقصان جاتا رہے گا اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ رکن ہے کیونکہ ان کے نزدیک فرض اور واجب میں کچھ فرق نہیں ہے اس پر سب علماء کا اتفاق ہے کہ صفا ومروہ کی سعی کے سات پھیرے ہیں اور اس پر بھی اجماع ہے کہ صفا سے مروہ تک ایک پھیرا ہے اور صفا تک لوٹنا یہ دوسرا پھیرا ہے اور شافعیہ میں سے جریر طبری ابوبکر صوفی اور حنفیہ میں سے علامہ طحاوی حنفی سے منقول ہے کہ صفا سے مروہ تک جانا اور پھر مروہ سے صفا پر جانا یہ ایک پھیرا ہے جیسا کہ خانہ کعبہ کا طواف جہاں سے شروع ہوتا ہے اسی مقام پر ختم ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ہر پھیرا صفا سے شروع ہونا چاہئے تو ان کے نزدیک صفا سے مروہ تک ایک پھیرا ہوا اور پھر مروہ سے صفا تک لوٹنایہ دوسرے پھیرے کے لیے ہے اور یہ خود دوسرا پھیرا نہیں ہے۔
ہماری دلیل حضرت جابر ؓ کی حدیث ہے اس میں یہ مضمون موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخری پھیرا مروہ پر کیا الخ اور نیز جمہور علماء کا عمل ہماری کافی دلیل ہے اور علماء نے اس پر بھی اجماع کیا ہے کہ سعی کے چند شرائط ہیں ایک تو ترتیب ہے اور وہ یہ ہے کہ سعی صفا سے شروع کی جائے اور مروہ پر ختم کردی جائے اور بعض نے جو کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ ترتیب شرط نہیں تو انہوں نے غلطی کی ہے دلیل اس ترتیب کی رسول اللہ ﷺ کا اس پر مداومت کرنا ہے حضرت جابر ؓ کی حدیث میں آیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ سعی میں میں بھی اسی شئے سے ابتدا کرتا ہوں جس کا اللہ تعالیٰ نے اوّل ذکر فرمایا ہے یہ کہہ کر آپ صفا پر تشریف لے گئے اس حدیث کو مسلم اور امام احمدو امام مالک و ترمذی و ابن ماجہ اور ابن حبان و نسائی (رح) نے روایت کیا ہے اور دار قطنی نے اس حدیث کو بصیغہ امر روایت کیا ہے اور ابن حزم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے تو اگر صیغہ امر کی روایت پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تب تو اس سے صاف طور سے وجوب معلوم ہوتا ہے اور اگر اس کے ثبوت میں کچھ کلام کیا جائے تب بھی اس سے وجوب مستفاد ہوسکتا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ لوگو ! حج کے طریقے مجھ سے لے لو۔ شاید اس حج کے بعد میں حج نہ کروں اور ظاہر ہے کہ حضور ﷺ نے صفا سے سعی شروع کی ہے اور ایک شرط یہ ہے کہ یہ سعی ایک نہ ایک طواف کے بعد ہونی چاہئے طواف قدوم کے بعد ہو یا طواف زیارت کے لیکن طواف اور سعی کے درمیان وقوف عرفہ فاصل نہ ہو اب اگر کسی نے طواف قدوم سے پہلے سعی کرلی تو کسی کے نزدیک یہ معتبر نہیں لیکن عبدالرزاق عطاء سے روایت کرتے ہیں عطا کہتے ہیں کہ اگر سعی کے بعد طواف کرے تو جائز ہے اور دلیل اس کی اسامہ بن شریک کی حدیث ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ حضور ﷺ سے کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی آپ ﷺ نے فرمایا کچھ حرج نہیں ہماری طرف سے جواب اس کا یہ ہے کہ امت نے اس حدیث پر عمل ترک کردیا اس لیے یہ شاذ ہے اور نیز ہماری دلیل یہ ہے کہ سعی ایک خلاف قیاس عبادت ہے تو جس کیفیت و طریق سے شرع میں وارد ہوئی ہے اسی طرح کرنا چاہئے اور شرع میں طواف کے بعد ہی سعی آئی ہے اب اس کے خلاف کرنا جائز نہیں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں مکہ آئی اور میں اس زمانہ میں حائضہ تھی اسی لیے میں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور نہ صفا ومروہ میں سعی کی اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنا حال عرض کیا تو آپ نے فرمایا تم تو سوائے خانہ کعبہ کے طواف کے اور سب کام ایسے ہی کرو جیسے حاجی کرتے ہیں اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ کو طواف سے منع فرمادیا اور سب امور کی اجازت دی اور حضرت عائشہ ؓ نے نہ طواف کیا نہ سعی کی اور حضور کو بھی اس کی اطلاع ہوئی اور نیز آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ بعد پاکی کے خانہ کعبہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی کرلینا حج اور عمرہ دونوں تمہارے ذمے سے اتر جائیں گے۔
اب اس قصہ سے صاف طور سے معلوم ہوگیا کہ صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنا طواف کے تابع ہے اور یہاں سے یہ مسئلہ بھی سمجھا گیا کہ اگر کسی نے طواف زیارت کی اور سعی بالکل نہ کی۔ نہ بعد طواف قدوم اور نہ بعد طواف زیارت تو اس پر اس سعی کے ترک کی وجہ سے ایک بکری واجب ہے اور سعی کی قضا نہیں کیونکہ سعی کوئی مستقل عبادت نہیں بعد طواف کے اگر ہو تو عبادت ہے ورنہ نہیں، اسی طرح یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی سے طواف اور سعی دونوں چھوٹ جائیں تو دونوں کی قضا لازم ہے اور سنت یہ ہے کہ جب صفا پر ٹھہرے تو تین مرتبہ تکبیر کہہ کر پڑھے : لاَاِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٌ قَدِیْرْ اور پھر دعا مانگے اسی طرح تین مرتبہ کرے اور ایسا ہی مروہ پر بھی کرے اور جب صفا سے اترنے لگے تو دوڑے نہیں بلکہ اپنی چال چلے جب بطن وادی میں پہنچے تو دوڑے جب اس سے نکل کر مروہ پر چڑھے تو پھر دوڑنا موقوف کردے اور اپنی چال چلے صحیحین میں جابر ؓ سے ایسا ہی مروی ہے۔
وَمَنْ تَـطَوَّعَ خَيْرًا ( اور جو اپنے شوق سے کرے کوئی نیکی) حمزہ اور کسائی نے تَطَوَّع کو یَطَّوَعیا اور تشدید طاء سے بصیغہ مضارع مجزوم پڑھا ہے اور ایسے ہی فَنَْ تَطََوَع خَیْرًاکو بھی یا سے پڑھا ہے اور یعقوب نے صرف اس مقام پر یا سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے تَطَوَعَ تاء بصیغہ ماضی تطوع کے معنی طاعت کے ہیں خواہ وہ طاعت فرض ہو یا نفل۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں معنی یہ ہیں کہ جس نے اپنے شوق سے صفا ومروہ کے درمیان طواف کیا کیونکہ یہ طواف سنت ہے مقاتل اور کلبی کہتے ہیں کہ معنی یہ ہیں کہ جس نے بعد طواف واجب کے زیادہ طواف کیا اور بعض مفسرین نے کہا معنی یہ ہیں کہ جس نے بعد حج فرض کے ایک حج وعمرہ اور کیا اور حسن نے کہا ہے کہ مراد اس سے سب اعمال ہیں حج کی کوئی تخصیص نہیں اس کے موافق معنی یہ ہوں گے کہ جس نے کوئی کام نفل خواہ نماز ہو یا زکوٰۃ یا طواف وغیرہ کیا خیراً یا تو مفعول مطلق محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا منصوب بحذف حرف جر۔ یا یہ کہا جائے کہ چونکہ تطوع معنی اتی ( کیا) کو شامل ہے اس وجہ سے متعدی کردیا گیا۔
فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِـرٌ عَلِــيْمٌ ( تو بیشک اللہ تعالیٰ قدردان واقف کار ہے) یعنی اطاعت پر ثواب دینے والا ہے ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ معاذ بن جبل اور سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید ؓ نے علماء یہود سے کوئی توراۃ کا مضمون دریافت کیا انہوں نے اسکو چھپایا اور بتلانے سے صاف انکار کردیا اس پر حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:159اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنٰتِ وَالْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَيَّنّٰهُ للنَّاسِ فِي الْكِتٰبِ ۙاُولٰۗىِٕكَ يَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَ ( بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو کچھ ہم نے اتاریں کھلی کھلی نشانیاں حکم اور ہدایت کی باتیں اس کے بعد کہ ہم ان کو بیان کرچکے لوگوں کے لیے کتاب میں یہی لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرتا ہے اور لعنت کرتے ہیں سب لعنت کرنے والے) اَلْبِیِّنَات سے مراد وہ علامتیں ہیں جو محمد ﷺ کی سچائی بتلا رہی ہیں۔ اَلْھُدٰی سے مراد وہ شیئے ہے جو سیدھی راہ اور محمد ﷺ کے اتباع کی راہ بتائے۔ الکتاب سے مراد تورات ہے لَعَنٌکے اصل معنی طرد ( دھتکار ہے) ” لاعنون “ جو لعنت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں خواہ وہ ملائکہ ہوں یا جن ہوں یا انسان یا زمین کے جانور مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان پر لعنت کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔ حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے آپ نے فرمایا کہ کافر جب مرتا ہے تو اس کی پیشانی پر مار پڑتی ہے اور اس کو سوائے انسان اور جن کے ہر روئے زمین کا چلنے والا سنتا ہے اور لعنت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے قول : یَلْعَنُھُمْ اللّٰعِنُوْنَ سے یہی مراد ہے اس حدیث کو ابن ماجہ اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے روایت کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ لاعنون سے سوائے جن و انس تمام مخلوق مراد ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ فرشتے مراد ہیں۔ عطاء فرماتے ہیں کہ جن و انس مقصود ہیں اور حسن کا میلان اس طرف ہے کہ تمام اللہ کے بندے مراد ہیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ جب قحط پڑتا ہے اور بارش بند ہوجاتی ہے تو جانور گناہ کرنے والوں پر لعنت کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ ان کم بختوں کی نحوست ہے۔
Ayah 2:160اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا ( مگر جن لوگوں نے توبہ کرلی) یعنی جن لوگوں نے علم کو چھپانے اور دیگر معاصی سے توبہ کرلی ہے وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
وَاَصْلَحُوْا ( اور اصلاح کی) یعنی جو کچھ خرابی کی تھی اس کا تدارک کردیا۔
وَبَيَّنُوْا ( اور صاف صاف بیان کردیا) یعنی تورات میں جو کچھ ہے اس کو صاف صاف بیان کردیا۔
فَاُولٰۗىِٕكَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ( تو یہ لوگ ہیں جن کی توبہ میں قبول کروں گا) قبول توبہ سے مراد معاف کرنا ہے کیونکہ توبہ اگر بندہ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی گناہ سے باز رہنے کے ہیں اور گر اللہ تعالیٰ کی طرف مضاف ہو تو سزا دینے سے رجوع فرمانا مراد ہوتا ہے۔
وَاَنَا التَّوَّاب الرَّحِيْمُ ( اور میں توبہ کا بڑا قبول کرنے والا مہربان ہوں) حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا اور توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے فرماتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندہ کے توبہ کرنے سے اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جس کی سواری ایک سنسان جنگل میں گم ہوجائے اور اسی پر اس کا کھانا پانی ہو اور اس کے ملنے سے ناامید ہو کر ایک درخت کے سایہ میں آکر لیٹ رہے اور وہ اسی فکر اور رنج میں ہو کہ ناگاہ سواری آکر اس کے پاس کھڑی ہوجائے یہ اس کی باگ پکڑ کر شدت خوشی سے کہے کہ اے اللہ تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا پروردگار ہوں ( یعنی خوشی میں حواس ٹھکانے نہ رہیں اور الٹی پلٹی باتیں بکنے لگے) تو اس شخص سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندہ کی توبہ کرنے سے خوشی ہوتی ہے۔
Ayah 2:161اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَھُمْ كُفَّارٌ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ ( بیشک جنہوں نے کفر کیا اور مرگئے کافر یہی لوگ ہیں جن پر پھٹکار ہے اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے کلام کو چھپاتے ہیں اور بےتوبہ مرگئے۔ ابو العالیہ نے کہا کہ یہ لعنت قیامت کو ہوگی قیامت کے دن کافر کو کھڑا کیا جائے گا اور اس پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے گا۔ پھر ملائکہ اور آدمی لعنت کریں گے اگر کوئی کہے کہ جس پر لعنت کی گئی ہے وہ بھی آدمی ہے تو وہ اپنے اوپر کیسے لعنت کریگا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : یَلْعَنُ بَعْضُکُمْ بَعْضًا اور بعض 1 نے کہا ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ ظالموں پر لعنت ہے اور چونکہ خود بھی ظالم ہیں اس طور سے وہ خود اپنے اوپر بھی لعنت کرتے ہیں۔
Ayah 2:162خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ( ہمیشہ رہیں گے اس میں) ضمیر ہا یا تو لعنت کی طرف راجع ہوگی اور یا نار کی طرف صورت اخیر میں ضمیر کو مرجع سے پہلے لانا نار کی شان کی عظمت کو ظاہر کر رہا ہے۔
لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا ھُمْ يُنْظَرُوْنَ ( نہ ہلکا کیا جائے گا ان سے عذاب اور نہ ان کو مہلت ملے گی) ینظرُوْن یا تو انظار بمعنی ” مہلت دینا “ سے مشتق ہے اور یا انتظار سے ماخوذ ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے نہیں انتظار کیا جائے گا کہ کسی قسم کی معذرت کریں “ اور یا نظر سے بمعنی دیکھ نہ لیا جائے تو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے ان کی طرف نظر رحمت نہ کی جائے گی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ کفار قریش نے یہ کہا اے محمد ﷺ آپ اپنے رب کی صفت اور نسب بیان کیجئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة اخلاص اور ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:163وَاِلٰـهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ( اور تمہارا معبود وہی خدائے واحد ہے) وَاحِدٌ اِلٰہٌ کی صفت مؤکدہ ہے کیونکہاِلٰہٌ کی تنوین سے خود وحدت مترشح ہے اور اِلٰہٌ موصوف کو وحدانیت کی تائید اور تاکید کے لیے ذکر فرمایا۔ اِلھکم واحد ( معبود تمہارا ایک ہے) میں اس قدر تقریر نہ ہوتی اور اِلٰھُکُمْ میں خطاب عالم مخلوق کو ہے کسی خاص گروہ کو نہیں مطلب یہ ہے کہ اے جہان والو ! عبادت کے لائق ایک ایسا معبود ہے کہ جس کا نظیر اور شریک ممکن نہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ خاص تورات کی آیات چھپانے والوں کو 2 تو بیخ وتہدید کے لئے خطاب ہو کیونکہ جس طرح وہ محمد ﷺ کے اوصاف کا اخفا کرتے تھے اسی طرح توحید کو بھی چھپاتے تھے۔ چناچہ عزیر اور مسیح کو اللہ کا بیٹا کہا کرتے تھے۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ( اس کے سوائے کوئی معبود نہیں) یا تو زیادتی تاکیدو تقریر کے لیے اِلٰہٌ کی دوسری صفت ہے اور یا اِلٰھُکُمْ کی دوسری خبر ہے۔
الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ ( وہ بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے) یا تو الھکم کی خبریں ہیں یا مبتدا محذوف کی۔ الرحمن والرحیم گویا استحقاق عبادت کی حجت اور دلیل ہے کیونکہ جب منعم حقیقی وہی ہے اور تمام نعمتیں خواہ وہ اصول ہوں یا فروع اسی ہی کی طرف سے ہیں تو وہ ہی عبادت کا مستحق ہے اسماء بنت یزید ؓ : کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے کہ : اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ الخ اور لَآ اِلٰہَ الَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم الخ ان دونوں آیتوں میں اسم اعظم ہے اس حدیث کو ابو داؤد اور ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے سعید بن منصور اور بیہقی ابی الصخر سے روایت کرتے ہیں : اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمِ نازل ہوئی تو مشرکین کو بہت تعجب ہوا اور بولے کہ اگر معبود ایک ہے تو اس کی دلیل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:164اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( بیشک آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں) اور ان اشیاء میں جو ان میں ہیں جیسے سورج، چاند، ستارے، دریا، پہاڑ، درخت، نہریں، جواہر، نباتات، حیوانات اور زمین کے حصوں کا مختلف ہونا کوئی سرد ہے اور کوئی گرم ہے۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے بسند معتبر حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش نے نبی ﷺ سے کہا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ کوہ صفا کو سونا بنا دے تاکہ ہم اس کے ذریعہ سے اپنے دشمن پر غالب رہیں اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ میں ان کی یہ درخواست پوری کردوں گا لیکن اس کے بعد بھی اگر انہوں نے کفر کیا تو میں انہیں ایسے عذاب میں گرفتار کروں گا کہ پھر کسی کو ایسا عذاب نہ دوں گا۔ رسول کریم ﷺ نے عرض کیا اے اللہ آپ در گذر فرمائیے اور مجھے اور میری قوم کو اپنے حال پر چھوڑ دیجئے۔ انہیں ہمیشہ راہ حق کی دعوت کروں گا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آیت : اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰات الخ نازل فرمائی اس روایت کے موافق آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ یہ لوگ صفا کو سونا بنانے کا کیا سوال کرتے ہیں اس سے بڑی بڑی دلیلیں جو ہر وقت ان کے مشاہدہ میں رہتی ہیں موجود ہیں۔ سموات کو صیغہ جمع اور ارض کو صیغہ واحد سے ذکر فرمانے کی یہ وجہ ہے کہ کفار ستاروں کی حرکت کی وجہ سے جانتے تھے کہ آسمان متعدد ہیں اور زمین کے تکثر کی انہیں آگاہی نہ تھی اور اس مقام پر اس مضمون کو دلیل وحدانیت کے پیرایہ میں بیان فرمایا اور دلیل وہی شے ہوسکتی ہے جو مخاطب کو پہلے سے معلوم ہو۔ اس لیے سمٰوٰاتکو تو جمع لائے اور ارض کو واحد لانے پر اکتفا فرمایا اور بعض نے یہ وجہ بیان کی ہے کہ چونکہ ہر آسمان کی حقیقت مختلف ہے اس لیے اس کے تکثر کا اعتبار فرمایا اور زمین کی ماہیت میں اختلاف نہیں ہر زمین کی حقیقت مٹی ہے اس لیے اسے (1) [ اس قول کا مدار ارسطو اور اس کے کاسہ لیسوں کی فلکی تحقیقات پر ہے ارسطو اور اس کے اسلامی دور کے متبعین فارابی اور ابن سینا قائل ہیں کہ ہر آسمان کا مادہ جدا جدا ہے اور تمام عناصر کا مادہ ایک ہی ہے گویا ان کے نزدیک کائنات کے دس مادے ہیں نو مادے نو آسمانوں کے اور ایک عناصر کا کیونکہ ان کا مسلمہ ہے کہ عقول دس ہیں۔ ہر عقل اپنے ماتحت عقل اور ایک آسمان کی جاعل ہے اسی ترتیب نزولی کے موافق دسویں عقل عناصر کی جاعل ہے۔] واحد گردانا اور بعض نے کہا ہے کہ چونکہ آسمانوں کے طبقے آپس میں ایک دوسرے سے علیحدہ علیحدہ ہیں اس لیے انہیں جمع سے تعبیر فرمایا اور زمین کے طبقات ایک دوسرے سے متصل و ملتصق ہیں اسی لیے اس کو واحد قرار دیا۔ میں کہتا ہوں کہ وجہ اخیر کچھ نہیں نقش برآب ہے کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ آسمان اور زمین دونوں کے طبقات میں فصل ہے فَسَوّٰھُنَّ اور سَبْعَ سَمٰوَات کی تفسیر میں ہم مفصل لکھ چکے ہیں۔
وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ( اور رات دن کی آمد و رفت میں) یعنی روز و شب کا آمد و رفت میں ایک دوسرے کے پیچھے ہونا اور موسم کے اختلاف سے رات دن کا گھٹنا بڑھنا مراد ہے کہ گرمیوں میں دن بڑا ہوتا ہے اور سردیوں میں چھوٹا۔
وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ ( اور جہازوں میں جو سمندر میں چلتے ہیں) یعنی دیکھو اللہ تعالیٰ نے جہازوں کو کس طرح مسخر کیا ہے باوجودیکہ اس کے کہ ہزاروں لاکھوں من بوجھ لدا ہوتا ہے پھر بھی کیسے فراٹے سے جاتے ہیں اور غرق نہیں ہوتے فلک کا واحد اور جمع برابر ہے۔ اسی وزن پر واحد کا صیغہ آتا ہے اور یہی صیغہ جمع کا ہے جب جمع ہو تو اس کی صفت مؤنث لائی جائے گی اور جب مفرد مراد ہو تو صفت مذکر ہوگی جیسے اَبَقَ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنِ میں مفرد مراد ہے اور وَ کُنْتُم فِی الْفُلْکِ وَ جَرَیْنَ بِھِمْ اور تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ میں جمع مراد ہے۔
بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ( وہ چیزیں لے کر جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں) ما یا تو مصدری ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ ” چلتے ہیں لوگوں کے نفع کے ساتھ “ یعنی ان کے چلنے میں لوگوں کا نفع ہے اور یا موصولہ ہے اس تقدیر پر یہ حاصل ہوگا کہ اشیاء نافعہ کے ساتھ چلتے ہیں ان پر سوار ہوتے اور تجارتی مال لے جاتے اور اپنے دیگرمقاصد حاصل کرتے ہیں۔
وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ ( اور پانی میں جو اتارا ہے اللہ نے آسمان سے) پہلا مِن ابتدائیہ ہے اور دوسرا بیانیہ۔
فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ ( پھر حیات بخشی اس سے زمین کو) زمین کے زندہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اس میں نباتات کو اگایا۔
بَعْدَ مَوْتِهَا ( بعد اس کی موت کے) زمین کی موت سے مراد خشکی اور قحط سالی ہے۔
وَبَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّةٍ ۠ ( اور پھیلا دیئے اس میں ہر قسم کے جانور) مطلب یہ ہے کہ زمین میں چھوٹے بڑے ہر قسم کے جانور پراگندہ اور منتشر کردیئے ان میں سے بعض جانور تو اس قدر چھوٹے ہیں کہ دکھائی بھی نہیں دیتے اور بعض اس قدر بڑے ہیں کہ بدون اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قوت کے آدمی انہیں کسی طرح قبضہ میں نہیں لاسکتا۔ وَ بَثّ کا عطف یا تو اَنْزَلَ پر ہے یا اَحْیَا پر ہے کیونکہ جانوروں کی نشو و نما اور زندگی کا مدار سر سبزی پر ہے اور سر سبزی پانی ہی سے ہوتی ہے۔
وَّتَـصْرِيْفِ الرِّيٰحِ ( اور ہواؤں کے پھیرنے میں) ہواؤں کے پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہوائیں کبھی مشرق کو اور کبھی مغرب کو چلتی ہیں، کبھی جنوب کا دورہ کرتی ہیں کبھی شمال کا اللہ کبھی مفید ہوتی ہیں کبھی مضر اللہ ایک وقت تند ہیں اور دوسرے وقت نرم، کبھی گرم ہیں کبھی ٹھنڈی جاننا چاہئے کہ سورة ذاریات میں تمام قراء نے الرِّیْحُ الْعقِیْم میں الرِّیْح کو بصیغہ واحد پڑھا ہے اور سورة روم میں الرِّیَاحَ مُبَشِّرَات میں بصیغہ جمع پڑھا ہے اور اس کے سوا جہاں کہیں بھی یہ لفظ معرف باللام واقع ہوا ہے اس میں قراء کا اختلاف ہے۔ چناچہ اس موقع پر حمزہ اور کسائی نے تصریف الریاح کو صیغہ جمع سے پڑھا ہے اور سورة کہف، سورة جاثیہ، سورة اعراف، سورة نمل اور سورة روم میں دوسری جگہ اور سورة فاطر میں بصیغہ مفرد پڑھا ہے اور ابن کثیر نے اخیر کے چار مقامات میں کسائی اور حمزہ کا اتبا کیا ہے اور ابن کثیر نے سورة فرقان میں اور حمزہ نے سورة حجر میں بصیغہ واحد پڑھا ہے اور باقی قراء نے سب مقامات میں بصیغہ جمع پڑھا ہے اور نافع نے سورة ابراہیم اور سورة شوریٰ میں الریاح صیغہ جمع سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے الریح مفرد پڑھا ہے اور ابو جعفر نے ان سب مقامات میں بصیغہ جمع پڑھا ہے اور لفظ ریح بلا الف و لام کے جہاں آیا ہے وہ بالاتفاق بصیغہ مفرد ہے۔
وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ( اور ابر میں جو آسمان اور زمین کے درمیان روکا ہوا ہے) یعنی دیکھو آسمان اور زمین کے درمیان ابر کیسا معلق ہے نہ گرتا ہے نہ پھٹتا ہے حالانکہ اس کی طبیعت کا مقتضی یا صعود ہوگا یا نزول اور جہاں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے اسے بھیج دیتا ہے۔ ابن وھب کہتے ہیں کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ کسی کو ان کی خبر نہیں کہ وہ کہاں سے آتی ہیں ایک کڑک، دوسری بجلی، تیسرا ابر۔
لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ ( ان سب میں سمجھدار لوگوں کے لیے دلیلیں ہیں) یعنی ان اشیاء میں ان لوگوں کے لیے دلائل ہیں جو ان میں فکر کرتے اور سوچتے ہیں کہ یہ تمام (2) [ حضرت مؤلف کے اس قول کی بناء فلاسفہ اور بعض متکلمین کے اس مسلمہ پر ہے کہ شئے ممکن کی ذات الگ ہے اور اس کا وجود الگ ذات حقیقت کو کہتے ہیں اور وجود اس کی صفت زائدہ ہے گویا ذات ممکن موصوف ہے اور وجود دوسری صفات کی طرح ایک صفت لیکن امام اہل حق ابو الحسن اشعری (رح) ممکن کی ذات وجود کی عینیت کے قائل ہیں ان کا قول ہے کہ شئ کی جو ذات ہے وہی اس کا وجود ہے اور چونکہ ممکن کا وجود حادث اور واجب کا محتاج ہے اس لیے ہر ممکن اپنی ذات میں بھی کسی صانع کا محتاج ہے الخ خلاصہ دلیل یہ ہے کہ یہ سارا سنسار خود بخود نہیں ہوگیا اس کا حدوث تغیر اور نیرنگی اور بےثباتی بتارہی ہے کہ کوئی اس کا بنانے والا ہے اور چونکہ اس کے نظم میں یگانگت مناسبت اور وحدت نظام ہے اس لیے اس کا بنانے والا ضرور صاحب علم وقدرت و ارادہ ہونا چاہئے جہالت عجز کمزوری اور اضطرار سے پاک حوادث اور لوازم حدوث سے منزہ اور تمام عیوب و نقائص سے مبرا اور ظاہر ہے کہ ایسی ہستی صرف ایک ہی ہوسکتی ہے کوئی اثر شخصی مثلاً زید کا سات بج کر پانچ منٹ دو سیکنڈ اور تین پل پر پیدا ہونا دو فاعلوں کا فعل نہیں ہوسکتا یا تو کرنے والا ایک ہوگا اور دوسرا اس کا مددگار یا دوسرا اس سے متفق یا اس کا مخالف اول الذکر دونوں تقدیروں پر عجز ایک کا یا دونوں کا لازم آئے گا اور آخر الذکر تقدیر پر جو غالب ہوگا وہی مستحق الوہیت ہوگا اہل کلام کی اصطلاح میں اس دلیل کو برہان تمانع کہتے ہیں اور آیت : او کان فیہما الھۃ الا اللہ لفسد تا میں اسی کو بیان کیا گیا ہے علامہ تفتارانی نے اس دلیل کو اتنا ہی کہا ہے عقلی ہونے سے انکار کیا ہے اور اعتراض کیا ہے کہ اثر شخصی کا فاعل اگر ایک ہی ہو اور دوسرا اس سے متفق ہو تو نہ کسی کا عجز لازم آتا ہے نہ احتیاج مگر علامہ نے یہ خیال نہیں فرمایا کہ اتفاق بغیر ارتباط اقتصاری کے ممکن نہیں اور افتقار علامت حدوث ہے ‘ واللہ اعلم ] اشیاء اپنی ذات کے اعتبار سے حادث اور ممکن ہیں ان کی ذات ان کے وجود کو نہیں چاہتی اور ایسے ہی ان کے آثار جو مختلف وجود اور متعدد طریقوں سے واقع ہوتے ہیں ممکن اور حادث ہیں اب لا محالہ کوئی نہ کوئی انکا صانع ضرور ہے اور وہ صانع ایسا ہے کہ اس کی ذات خود وجود کو مقتضی ہے اور حی علیم حکیم قادر مطلق تمام صفات کمال سے آراستہ اور تمام نقائص اور عیوب سے منزہ ہے اور اس کا کوئی مماثل و معارض نہیں ہے وہ ہر صفت میں یکتا ہے کیونکہ اگر دوسرا بھی ایسا ہی قادر مان لیا جائے تو دو خرابیوں میں سے ایک خرابی ضرور لازم آئیگی یا تو ایک اثر شخصی پر دو مؤثروں کا اجتماع لازم آئیگا اور یہ محال ہے یا ایک کا عجز لازم آئیگا تو یہ مفروض کے خلاف ہے اور یا باہم ان میں نزاع لازم آئیگا اور یہ نزاع موجب فساد عالم ہے اور عالم کو ہم نہایت انتظام سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ معلوم ہوا کہ معبود ایک ہی ہے نیز ان لوگوں کیلئے دلائل موجود ہیں جو غور کرتے ہیں کہ مخلوق میں اللہ کی رحمت کے کس قدر آثار ہیں یہ آثار صاف بول رہے ہیں کہ پرستش اور شکر کا مستحق ایک اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے۔
ابن ابی الدنیا نے کتاب التفکر میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب سرور کائنات ﷺ نے اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَاف اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ لَایَاتَ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِکو پڑھ کر فرمایا۔ افسوس ہے اس شخص کے حال پر جو ان آیات کو پڑھے اور پھر غور و فکر نہ کرے۔ اوزاعی سے کسی نے پوچھا کہ فکر کا غایت درجہ کیا ہے فرمایا ان آیات کو پڑھے اور ان کے مضمون کو سمجھے واللہ اعلم۔