2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:107

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( تم کو معلوم نہیں کہ آسمان و زمین کی سلطنت اسی اللہ کی ہے) مطلب یہ ہے کہ جب یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے اور بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اسی کو ہے تو پھر اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور جس حکم کو چاہے منسوخ بھی کرسکتا ہے گویا کلام سابق کی یہ دلیل ہے۔ وَمَا لَكُمْ ( اور تمہارے لیے کوئی نہیں) یعنی اے کافرو تمہارے لیے عذاب کے وقت کوئی حامی و مددگار نہیں ہے۔ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ( اللہ کے مقابل کوئی حامی اور نہ کوئی مددگار) ولی قریب کو کہتے ہیں ولی اور نصیر میں یہ فرق ہے کہ ولی کبھی نصیر سے ضعیف ہوتا ہے اور نصیر کبھی ولی نہیں ہوتا بلکہ کوئی اجنبی بھی نصیر ہوسکتا ہے اس لیے ان دونوں کے درمیان عموم و خصوص من وجہ ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن ابی حاتم نے بطریق سعید اور عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رافع بن حرکلیہ اور وہب بن زید یہودی نے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اگر آپ سچے رسول ہو تو ہمارے پاس آسمان سے کوئی کتاب لے آؤ ہم اس کو پڑھیں یا زمین سے چشمے جاری کردو اگر آپ ایسا کریں گے تو ہم سب آپ کا اتباع کریں گے اس پر حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت کریمہ ارشاد فرمائی۔
Ayah 2:108

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اسی طرح کے سوال کرو، جس طرح کے سوال پہلے موسیٰ سے کئے گئے تھے۔ اور جس شخص نے ایمان (چھوڑ کر اس) کے بدلے کفر لیا، وہ سیدھے رستے سے بھٹک گیا

اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـــَٔـلُوْا رَسُوْلَكُمْ ( کیا تم یہ چاہتے ہو کہ سوال کرو اپنے رسول سے علامہ بغوی نے اس آیت کا شان نزول اس طرح بیان کیا ہے کہ یہود نے کہا تھا کہ آپ آسمان سے حامی کتاب ایک دفعہ لے آئیے جیسے موسیٰ ( علیہ السلام) تورات لائے تھے اس کے جواب میں یہ آیت ارشاد ہوئی اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ مشرکین نے جو یہ کہا تھا : اَوْ تَرْقٰی فِی السَّمَاء وَ لَنْ نُوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کتاباً نَقْرَؤہٗ ( یعنی ہم تو ہرگز آپ کا یقین نہ کریں گے یہاں تک کہ آپ چڑھ جائیں آسمان میں اور ہم ہرگز بھی چڑھنے کا یقین نہ کریں گے جب تک آپ ہم پر ایک کتاب اتار کر نہ لاویں گے جس کو ہم پڑھ لیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریرنے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ قریش نے حضور ﷺ سے کہا کوہ صفا کو آپ سونا بنا دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اس کا سونا بنانا ممکن ہے لیکن یہ یاد رہے اگر تم نے اس کے بعد انکار اور کفر کیا تو یہ بنی اسرائیل کے خوان کی طرح ہوگا ( کہ جب انہوں نے باوجود فرمائشی خوان اترنے کے کفر کیا تو سور بنا دیئے گئے) اس کے بعد آیت کریمہ : اَم تُرِیْدُوْنَ الخ نازل ہوئی اور سدی نے نقل کیا ہے کہ عرب نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کو لائیں تاکہ ہم اسے کھلم کھلا دیکھیں۔ اس کے جواب میں یہ آیت ارشاد ہوئی اور اسی طرح علامہ بغوی نے کہا ہے کہ عرب نے سوال کیا تھا : او تاتی باللہ والملٰءِکَۃ قبیلا ( یعنی ہم یقین نہ کریں گے جب تک لے آئے تو اللہ اور فرشتوں کو مقابل) اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے اتاری اور سدی نے ابوالعالیہ سے اس آیت کے شان نزول میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کیا رسول اللہ اگر ہمارے گناہوں کے کفارے بھی ایسے ہی مقرر ہوتے جیسے کہ بنی اسرائیل کے لیے تھے تو بہت اچھا ہوتا۔ حضور نے فرمایا جو طریقہ حق تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ یہی بہتر ہے بنی اسرائیل میں تو یہ تھا کہ جب کوئی ان میں سے گناہ کرتا تو وہ گناہ اس کے دروازے پر لکھ دیا جاتا۔ پھر اگر اس نے اس گناہ کا کفارہ دے دیا تو آخرت کی رسوائی اور عذاب سے محفوظ رہتا لیکن دنیوی رسوائی پھر بھی باقی رہتی تھی اور اگر کفارہ نہ دیا تو آخرت کی رسوائی اور عذاب مزید ہوجاتا تھا تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا طریقہ مرحمت فرمایا ہے چناچہ فرماتے ہیں : وَ مَنْ یَّعْمَل سُوْءً ا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ( یعنی جو کوئی گناہ کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو پائے گا اللہ کو بخشنے والا مہربان) اور پنجگانہ نماز اور ایک جمعہ کی نماز دوسرے جمعہ تک اپنے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں اس واقعہ کے بعد حق تعالیٰ نے آیت کریمہ : اَمْ تُریدون۔۔ نازل فرمائی : ام تریدون میں ام منقطعہ ہے اور حاصل آیت کا یہ ہے کہ اپنی طرف سے اس قسم کے سوالات نہ کیا کرو۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ ام بمعنی ہمزہ ہے اور میم زائدہ ہے اور بعض نے کہا کہ ام بمعنی بل ( بلکہ) ہے اور ممکن ہے کہ ام متصلہ ہو اور جملہ اَمْ تَعْلَمْ ... اور جملہ ام تریدون [ الایۃ ] میں برابری ظاہر کرنے کے لیے آیا ہو اور ام تُرِیْدوْنَ کا اَلَْم تَعْلَم پر عطف ہو، رہا یہ اشکال کہ اس صورت میں معطوف و معطوف علیہ ایک حال میں نہ ہوں گے کیونکہ معطوف علیہ یعنی اَلَمْ تَعْلَمْ میں خاص حضور کو خطاب ہے اور یہاں اَمْ تُرِیْدُوْنَ میں سب کو خطاب ہے تو جواب یہ ہے کہ اگرچہ المْ تَعْلَمْ میں خطاب خاص آپ کو ہے لیکن مراد اس سے آپ اور آپ کی امت اجابت یا امت دعوت ہے اور قرینہ اسکا یہ ہے کہ آگے چل کر بخطاب عام فرماتے ہیں : وَ مَا لَکُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ رہی یہ بات کہ صیغہ واحد کیوں استعمال فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ حضور سرور عالم ﷺ سب سے زیادہ عالم بلکہ سب کے علم کے آپ ہی منشا ہیں اس لیے آپ کو مخاطب بنایا اور مراد سب کو لیا اس تفسیر کے موافق حاصل اس آیت کا مع اس کے معطوف علیہ اَلَمْ تَعْلَمْ کے یہ ہوگا کہ اے لوگو ! کیا تم جانتے نہیں کہ آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کو ہے اور وہ تمام اشیاء پر قادر ہے جس طرح چاہے حکم کرتا ہے کیا یہ جانتے ہو اور جان کر بھی ویسے سوالات تراشتے ہو جیسا کہ یہود نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کئے تھے لیکن یہ تفسیر یعنی ام کا متصلہ ہونا وغیرہ جب ہی درست ہوسکتا ہے کہ جب دونوں آیتیں یعنی اَلَمْ تَعْلَمْ [ الا یۃ ] اور اَمْ تُرِیْدُوْنَ [ الایۃ ] کا ایک ہی وقت میں نزول ہوا ہو اور اگر مختلف اوقات میں ارشاد ہوئے ہوں تو یہ تفسیر نہیں ہوسکتی کما لا یخفی علی الماھر اور سکاکی نے کہا ہے کہ یہ ام متصلہ نہیں ہے اور علامہ نے کہا ہے کہ ام کا متصلہ ہونا یہ ہے کہ اس کے بعد مفرد واقع ہوا اور منقطع ہونا یہ ہے کہ اس کے بعد جملہ ہو۔ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ ( جس طرح سوال کئے گئے موسیٰ سے اس سے پہلے 1 ؂) موسیٰ (علیہ السلام) سے ان کی قوم نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا دکھلا دو ۔ وَمَنْ يَّتَـبَدَّلِ الْكُفْرَ بالْاِيْمَانِ ( اور جو بدل لے کفر کو ایمان سے) یعنی کھلی کھلی نشانیوں اور دلیلوں کا انکار کرے اور اپنی طرف سے نئی نئی باتیں تراش کر درخواست کرے۔ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاۗءَ السَّبِيْلِ ( وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا) حتیٰ کہ ایمان کی سیدھی راہ سے کفر کے چاہ میں جا پڑا۔ حاصل یہ ہوا کہ ایسی باتوں کا اپنی طرف سے سوال نہ کرو ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے۔ علماہ بغوی نے فرمایا ہے کہ جب غزوہ احد کا واقعہ ہوا تو چند یہودیوں نے حذیفہ بن الیمان اور عمار بن یاسر ؓ سے کہا کہ اگر تم حق پر ہوتے تو تم ہرگز شکست نہ کھاتے اس لیے اب مناسب یہ ہے کہ ہمارے دین میں آجاؤ کیونکہ ہماری راہ راہ ہدایت ہے اس پر ذیل کی آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Ayah 2:109

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لا چکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنا دیں۔ حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے۔ تو تم معاف کردو اور درگزر کرو۔ یہاں تک کہ خدا اپنا (دوسرا) حکم بھیجے۔ بے شک خدا ہر بات پر قادر ہے

وَدَّ كَثِيْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ ( چاہتے ہیں بہت سے اہل کتاب) ابن ابی حاتم نے اس کا شان نزول یہ بیان کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ حیی اور ابو یاسر اخطب یہودی کے بیٹے عرب سے اس وجہ سے بہت حسد کرتے تھے کہ ان میں پیغمبر ﷺ کیوں ہوئے اور رات دن لوگوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے ان کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ لَوْ يَرُدُّوْنَكُمْ ( کہ تم کو پھیر کر بناویں) کم سے مؤمنین مراد ہیں اور لو مصدریہ ہے معنی میں انْ شرطیہ کا قائم مقام ہے لفظی عمل میں ان جیسا نہیں ہے۔ اس کے موافق لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ ترکیب میں وَدَّ کا مفعول ہوگا اور یا لَوْ بمعنی لَیْتَ ہے اور یہ ان کی تمنا کا جس کو ودّ سے تعبیر فرمایا ہے بیان ہے۔ مِّنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِكُمْ كُفَّارًا ښ حَسَدًا ( مؤمن ہونے کے بعد کافر) کُفَّارًا ضمیر کُمْ سے حال ہے۔ حسداً یا تو مفعول لہ ہونے کی وجہ سے اور یا فعل محذوف یعنی یحسدون کا مفعول مطلق ہونے کے باعث منصوب ہے۔ مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ ( دلی حسد کی وجہ سے) یہ یا تو ودّ کے متعلق ہے مطلب اس تقدیر پر یہ ہے کہ ان کی یہ تمنائے فاسد ان کے نفس کی خیانت سے پیدا ہوئی ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو کہیں اس کا حکم نہیں کیا اور یا حسداً سے اس کا علاقہ ہو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ یہ حسد ان کے نفوس خبیثہ سے پیدا ہوا ہے۔ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ( بعد اس کے کہ ظاہر ہوچکا ان پر حق) یعنی یہ سب ان کی گذشتہ کارروائی اس پر ہے کہ ان معجزات اور حضور کی ان صفات سے جو تورات میں مذکور ہیں حق ظاہر ہوچکا۔ فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا ( سو تم درگذر کرو اور خیال میں نہ لاؤ) یہ معاف کرنے کا حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے۔ حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ( جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم) یعنی یہ معافی کا حکم اسی وقت تک ہے کہ جب تک اللہ اپنا حکم ثانی نہ بھیجے۔ وہ حکم قتال کرنے اور جزیہ کے مقرر کرنے کا ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ قریظہ کے قتل کرنے اور بنی نظیر کے جلاوطن کرنے کا ہے۔ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْ ءٍ قَدِيْرٌ ( بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے) پس ان کفار سے بدلہ لینے پر بھی اس کو پوری قدرت ہے۔
Ayah 2:110

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

اور نماز ادا کرتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو۔ اور جو بھلائی اپنے لیے آگے بھیج رکھو گے، اس کو خدا کے ہاں پا لو گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ : ( اور درست رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ) فاعفوا پر اس کا عطف ہے یہ معنی ہوں گے کہ ان کو چھوڑ دو اور جانے دو اور ان کی مخالفت اس طور پر کرو کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگ جاؤ۔ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْرٍ ( اور جو کچھ بھیج دو گے آگے اپنے لیے بھلائی) خیر سے مراد نیکی ہے جیسے نماز، روزہ، صدقہ وغیرہ۔ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ( وہ پاؤ گے اللہ کے پاس بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے) پاؤ گے اس کو یعنی اس کا ثواب تم کو ملے گا۔
Ayah 2:111

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

اور (یہودی اور عیسائی) کہتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے سوا کوئی بہشت میں نہیں جانے کا۔ یہ ان لوگوں کے خیالاتِ باطل ہیں۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو دلیل پیش کرو

وَقَالُوْا لَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ( اور وہ کہتے ہیں ہرگز نہ جائیں گے جنت میں مگر جو یہودی یا عیسائی ہوں گے) قالوا کی ضمیر فاعل سے اہل کتاب مراد ہیں خواہ وہ یہود ہوں یا نصاریٰ ۔ اس مقام پر سامع کے فہم پر اعتماد کرکے یہود اور نصاریٰ دونوں گروہ کے قولوں میں صنعت لف کا استعمال کیا گیا۔ حاصل یہ ہے کہ یہود نے تو یہ کہا کہ جنت میں سوائے یہودیوں کے کوئی نہ جائے گا اور دین حق یہودیت ہی ہے اور نصارٰی نے یہ بکواس کی کہ نصرانیوں کے علاوہ کوئی بہشتی نہ ہوگا اور سچا دین نصرانیت ہی ہے اور یہ قصہ اس وقت ہوا تھا جب کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بخران کے نصارٰی یہود کے ساتھ جمع ہوئے تھے خلاصہ یہ ہے کہ ہر ایک نے ایک دوسرے کی تکذیب اور اپنی تصویب کی فراء نے کہا ہے کہ ھوداً بمعنی یہوداً ہے یا زائدہ حذف کردی گئی۔ اخفش نے کہا ہے کہ ہود جمع ہائد کی ہے جیسے عوذ جمع عائذ کی ہے کان کے اسم کی ضمیر کو واحد اور خبر ( ھوُدًا اور نصارٰی) کو جمع لفظ اور معنی دونوں کی رعایت کے لیے لائے ہیں۔ (1) [ کیونکہ لفظ من لفظا مفرد اور معنی جمع ہے لفظ کی رعایت سے کان بصیغہ مفرد ذکر کیا اور معنوی رعایت سے ھودا اور نصاری بصیغہ جمع فرمایا۔ 12] تِلْكَ اَمَانِيُّھُمْ ( یہ ان کی من مانی آرزوئیں ہیں) تلک کا مشارٌ الیہ یہود کی یہ خواہش ہے کہ کسی قسم کی خیر مسلمانوں پر نازل نہ ہو اور یہ مضمون آیت سابقہ : ا یود الذین ..... اور آیت ود کثیر سے مستفاد ہوا ہے یا تلک سے پہلے مضاف محذوف ہے تقدیر عبارت کی یہ ہے مثال تلک الامنیۃ امانیھم یعنی مثل ایسی تمناؤں کے ان کی آرزوئیں ہیں۔ امانیھم میں امانی سے مراد شہوات باطلہ ہیں۔ امانی جمع امنیہ بروزن افعولہ کے ہے اور تمنی سے مشتق ہے جن سے اضحوکہ اور اعجوابا اور تلک امانیُّھم جملہ معترضہ ہے۔ قُلْ ھَاتُوْا ( کہہ دیجئے اے محمد ﷺ پیش کرو) ھَاتوا دراصل اٰتوا تھا ہمزہ کو ہا سے بدل دیا۔ بُرْھَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ( اپنی دلیل اگر تم سچے ہو) یعنی اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو اس امر کی دلیل لے آؤ کہ خاص تم ہی جنت میں جاؤ گے کیونکہ کسی آئندہ امر پر بلا دلیل صحیح دعویٰ کرنا لغو اور باطل اور غیر مسلم ہے ان کنتم شرط کا جواب محذوف ہے کلام گذشتہ اس پر دال ہے۔
Ayah 2:112

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں جو شخص خدا کے آگے گردن جھکا دے، (یعنی ایمان لے آئے) اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس کا صلہ اس کے پروردگار کے پاس ہے اور ایسے لوگوں کو (قیامت کے دن) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

بَلٰي ۤ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ ( بیشک جس نے جھکایا اپنا مونہہ خدا کے سامنے) یعنی بات یوں نہیں جیسا کہ ان کا گمان فاسد ہے بلکہ یہ قاعدہ ہے کہ جو اپنے نفس یا قصد کو خاص اللہ وحدہٗ لا شریک کے لیے خالص کردے۔ وَھُوَ مُحْسِنٌ (اور وہ نیکو کار بھی ہے) اور اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرے کہ گویا اسے دیکھ رہا ہے ( احسان کی تفسیر حدیث جبرئیل میں یہی مذکور ہے) تو اس سے جس اجر کا وعدہ اس عمل پر کیا گیا ہے ملے گا۔ فَلَهٗٓ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۠ ( تو اس کے لیے اس کا ثواب اس کے پروردگار کے ہاں ہے) یہ من اسلم کی جزاء ہے اور اگر من موصول ہو تو فلہ اجرہ اس کی خبر ہوجائے گی اور معنی شرط کے پائے جانے کے سبب سے خبر پر فاء لائی گئی ہے اور بلیٰ پر وقف ہے اگر مَنْ شرطیہ ہو تو لفظ بلیٰ سے ان کے فاسد گمان کا رد ہوجائے گا اور گر من موصولہ ہے تب بھی یہ ترکیب ہوسکتی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ موصول مع صلہ کے فعل محذوف کا فاعل ہو اور معنی یہ ہوں گے کہ کیوں نہیں داخل ہوگا جنت میں وہ جس نے جھکا دیا اپنے قصد کو الخ اس صورت میں فلہ اجرہ الگ جملہ اور ما قبل پر معطوف ہوگا۔ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ (اور نہ ان پر کچھ ڈر ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ) یعنی ان پر آخرت میں نہ خوف ہے اور نہ وہاں وہ غمگین ہوں گے۔ ابن ابی حاتم نے بطریق سعید و عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بخران کے نصارٰی آئے تو علماء یہود بھی ان کو سن کر آگئے اور دونوں فریق آپس میں منازعت کرنے لگے۔ رافع بن حریملہ یہودی نصاریٰ سے کہتا تھا کہ تم کسی راہ پر نہیں اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کرتا تھا اور بخران کا ایک شخص یہود سے کہتا تھا کہ تم کسی راہ پر نہیں اور موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت اور تورات کی تکذیب کرتا تھا حق تعالیٰ نے اس پر یہ آیت کریمہ ارشاد فرمائی۔
Ayah 2:113

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

اور یہودی کہتے ہیں کہ عیسائی رستے پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی رستے پر نہیں۔ حالانکہ وہ کتاب (الہٰی) پڑھتے ہیں۔ اسی طرح بالکل انہی کی سی بات وہ لوگ کہتے ہیں جو (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) تو جس بات میں یہ لوگ اختلاف کر رہے خدا قیامت کے دن اس کا ان میں فیصلہ کر دے گا

وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ لَيْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰي شَيْءٍ ۠ وَّقَالَتِ النَّصٰرٰى لَيْسَتِ الْيَهُوْدُ عَلٰي شَيْءٍ ۙ وَّھُمْ يَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ( اور یہود تو کہتے ہیں کہ نصاریٰ کسی راہ پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی راہ پر نہیں حالانکہ وہ سب کتاب الٰہی پڑھتے ہیں) یعنی حالانکہ یہودی توراۃ پڑھتے ہیں اور تورات عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کی تصدیق کرتی ہے اور نصرانی انجیل پڑھتے ہیں اور انجیل موسیٰ ( علیہ السلام) اور تورات کو سچا بتاتی ہے اس پر بھی آپس میں جھگڑتے ہیں۔ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ ( اسی طرح ان جیسی باتیں وہ کہتے ہیں جن کے پاس علم نہیں) اس سے مشرکین عرب اور دیگر بت پرست اور مجوس مراد ہیں اور ان کے علاوہ جو فرقے کفار کے گزرے ہیں کیونکہ ہر فرقہ دوسرے کی تکذیب کرتا رہا ہے۔ مثل قولھم ذالک کا بیان ہے۔ فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَھُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ ( سو اللہ فیصلہ کر دے گا ان میں قیامت کے دن جس میں یہ جھگڑتے ہیں) یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں فریق اور دیگر گروہوں کا فیصلہ فرما دے گا یعنی اہل باطل کی تکذیب کرے گا اور انہیں آگ میں جھونک دے گا اور اہل حق کی تصدیق فرمائے گا اور انہیں جنت میں لے جائے گا۔ ابن جریر نے عبد الرحمن بن یزید سے روایت کیا ہے کہ حدیبیہ کے دن جب مشرکین مکہ نے جناب سرور عالم ﷺ کو مکہ میں نہ آنے دیا تو حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:114

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی مسجدوں میں خدا کے نام کا ذکر کئے جانے کو منع کرے اور ان کی ویرانی میں ساعی ہو۔ان لوگوں کو کچھ حق نہیں کہ ان میں داخل ہوں، مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ ( اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو منع کرے خدا کی مسجدوں میں) وَ مَن اَظْلَمُ میں مَنْ استفہامیہ مبتدا ہے اور اَظْلَمُ اس کی خبر ہے کفار نے اگرچہ ایک ہی مسجد سے روکا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بصیغہ جمع یعنی مساجد اس لیے ذکر فرمایا کہ حکم تو عام ہی ہے اگرچہ شان نزول خاص ہے۔ اَنْ يُّذْكَرَ فِيْهَا اسْمُهٗ ( کہ لیا جائے ان میں خدا کا نام) یہ مَنَعَ کا مفعول ثانی ہے جیسا کہ آیت کریمہ : وَ مَا منَعَنَا اَنْ نُّرْسِلَ میں ان نرسل۔ مَنَعَنَا کا دوسرا مفعول ہے ان یذکر پر سے من جارہ محذوف ہے یا ان یذکر مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ وَسَعٰى فِيْ خَرَابِهَا ( اور کوشش کرے ان کے اجاڑنے کی) اجاڑنے میں کوشش کرنا یہ ہے کہ ذکر اللہ اس میں نہ ہونے دے۔ علامہ بغوی نے ابن عباس اور عطاء سے اس کی تفسیر اسی طرح نقل کی ہے اور قتادہ اور سدی سے یہ بھی منقول ہے کہ ممن منع مساجد اللہ سے مراد طیطوس بن اسیسیانوس رومی اور اس کے متبعین ہیں۔ اس کا قصہ یہ ہوا تھا کہ اس کو یہود سے بغض تھا اس لیے اس نے بخت نصر بابلی کی اعانت کی اور سب نے جمع ہو کر یہود سے قتال کیا اور ان میں سے بڑے بڑے سواروں کو قتل کر ڈالا اور ان کی اولاد کو قید کرلیا اور تورات کو جلا دیا اور بیت المقدس کو اجاڑ دیا اور اس میں سور ذبح کئے اور مردار ڈالے۔ بیت المقدس نصارٰی کے حج اور زیارت کی جگہ تھی۔ میں کہتا ہوں کہ شاید اس کے بیان فرمانے سے یہ غرض ہو کہ نصارٰی کو ان کے آباؤ و اجداد کے کرتوت یاد دلا کر عار دلائیں کیونکہ یہ بھی تو آخر اپنے اجداد کے افعال سے راضی ہیں جیسا کہ صدر پارہ میں گو سالہ کی عبادت و دیگر حرکات سے یہود کو طعن اور عار دلائی گئی ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ مَا كَانَ لَھُمْ اَنْ يَّدْخُلُوْھَآ اِلَّا خَاۗىِٕفِيْنَ ( یہ لوگ اس لائق نہیں کہ گھسنے پائیں مسجدوں میں مگر ڈرتے ڈرتے) یعنی ان کو اس میں داخل ہونا اللہ کے علم اور قضا میں شایاں نہیں مگر ڈرتے ڈرتے۔ اس آیت میں مؤمنین سے نصرت اور مساجد کے مشرکین اور کفار کے ہاتھوں سے چھوٹنے کا وعدہ ہے چناچہ جب مکہ فتحہ ہوا تو حق تعالیٰ نے اپنے وعدہ کو پورا فرمادیا۔ یعنی بیت اللہ ان کے پنجوں سے چھوٹ گیا اور حضور ﷺ نے اعلان عام کرادیا کہ خبر دار اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرنے پائے اور نیز اس وعدہ کا ایفا اس طور پر ہوا کہ روم اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر ؓ کی خلافت میں فتح کرایا اور بیت المقدس بالکل خراب تھا اس کو مسلمانوں نے تعمیر کیا اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت یعنی : اولٓءِکَ ما کان لھم۔۔ خبر بمعنی امر یا نہی ہے اور معنی اس تقدیر پر یا تو یہ ہیں کہ ان کفار سے یہاں تک قتال کرو کہ ان میں سے کوئی مساجد میں جانے نہ پائے اور اگر جائے تو قتل اور قید سے ڈرتا ڈرتا جائے اور یا یہ کہ ان کو مساجد میں داخل ہونے کی قدرت مت دو اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ ان کفار کے لیے تو مساجد میں جانا ہی مناسب نہیں اور اگر چاہیں تو خوف اور خضوع سے جائیں چہ جائیکہ اس کے اجاڑنے کے درپے ہوں۔ اس صورت میں جملہ اولٰءِکَ مَا کَان لھم منع اور سعٰی کے فاعل سے حال ہوگا۔ لَھُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَّلَھُمْ فِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ ( ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں بڑا عذاب) دنیا کی رسوائی تو قتل اور قید ہونا اور جزیہ ادا کرنا ہے اور آخرت کا بڑا عذاب یہ ہے کہ اپنے کفر اور ظلم کی وجہ سے ہمیشہ کی آگ میں رہیں گے۔
Ayah 2:115

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

اور مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ تو جدھر تم رخ کرو۔ ادھر خدا کی ذات ہے۔ بے شک خدا صاحبِ وسعت اور باخبر ہے

وَلِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ( اور اللہ ہی کا ہے پورب اور پچھم) یعنی ساری زمین مشرق اور مغرب اسی کی ملک اور مخلوق ہیں اور تمام مخلوقات اس کے وجود کے مظاہر اور اس کے نور کے جلوہ گاہ ہیں اور وہی آسمانوں اور زمین کا نور اور تمام چیزوں کا تھامنے والا ہے اس لیے وہ کسی جگہ کے ساتھ خاص نہیں اور قبلہ کا مسئلہ تعبدی ہے اور تکلیف بقدر وسعت ہوا کرتی ہے اس لیے اے مسلمانو ! اگر تم فرائض میں بسبب کسی دشمن یا قبلہ کے دریافت نہ ہونے کے قبلہ کی طرف منہ کرنے پر قادر نہ ہو یا قبلہ کے بارے میں تم نے تحری کی اور اس میں غلطی ہوئی یا نوافل میں سواری سے اترنے میں تم اپنا حرج سمجھو کیونکہ نوافل میں فرائض سے زیادہ سہولت کی گئی ہے۔ فَاَيْنَـمَا تُوَلُّوْا ( تو جدھر تم اپنا منہ کرلو گے) فَاَیْنَمَا شرط ہے اور تُوَلُّوْا مجزوم ہے۔ فثم وجہ اللہ ( پس ادھر ہی خدا کا سامنا ہے) یعنی وہی جہت قبلہ ہے حسن اور مجاہد اور قتادہ اور مقاتل نے وجہ اللہ کی اسی طرح تفسیر کی ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہی جہت اللہ کی رضا ہے اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ آیت متشابہات سے ہے جیسا کہ کل شئ ھالک الا وجہ اور آیت کریمہ ید اللہ فوق ایدیھم متشابہات سے ہیں۔ مسلم ترمذی اور نسائی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ مکہ سے مدینہ آنے کے وقت اپنی سواری پر نوافل پڑھتے تھے سواری خواہ کسی طرف متوجہ ہوتی تھی۔ اس کے بعدا بن عمر ؓ نے بطور استدلال آیت : وَ اللہ المشرق والمغرب [ الایۃ ] پڑھی اور حاکم نے روایت کیا ہے کہ مجاہد ؓ نے فرمایا ہے کہ آیت کریمہ : فَاینما تولوا فثم وجہ اللہ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرف تمہاری سواری کا رخ ہو ادھر ہی نفل پڑھو اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث مسلم کی شرط کے موافق صحیح ہے اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس وقت قبلہ تبدیل ہوا اور آیت : مَا وَلّٰھُمْ عَنْ قبلتِھمْ الَّتِیْ کَانوا علیھا ( کس چیز نے پھیر دیا ان کو ان کے قبلہ سے جس پر یہ تھے) نازل ہوئی تو اس کے جواب میں آیت کریمہ : واللہ المشرق والمغرب [ الایۃ ] نازل ہوئی اور سند اس حدیث کی قوی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اول روایت شان نزول میں سند اور معنی دونوں کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے کیونکہ مَا وَلّٰھُمْ کا جواب تو خود وہاں ہی قل اللہ المشرق والمغرب یھدی من یشاء الی صراط مستقیم سے مذکور ہے اور اس آیت کے شان نزول میں اور روایات بھی آئی ہیں لیکن وہ سب ضعیف ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ ترمذی اور ابن ماجہ اور دار قطنی نے روایت کیا ہے کہ ربیعہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ اندھیری رات میں بحالت سفر جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے نماز کے وقت یہ نہ جانا کہ قبلہ کس طرف ہے ہر شخص نے اپنے خیال کے موافق نماز ادا کی جب صبح کو جناب رسول اللہ ﷺ سے ہم نے اس کا ذکر کیا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور بیہقی اور دار قطنی نے روایت کیا ہے کہ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک مختصر لشکر کسی جگہ بھیجا۔ اس میں میں بھی تھا۔ راستے میں ہمیں تاریکی نے آگھیرا اور قبلہ کی پہچان نہ رہی سب نے اپنے خیال کے موافق نماز پڑھی اور جس طرف پڑھی خط کھینچ دیئے صبح کو دیکھا تو وہ سب خطوط قبلہ کی طرف تھے۔ جب ہم سفر سے واپس آئے تو یہ واقعہ حضور ﷺ سے ذکر کیا آپ نے سن کر سکون فرمایا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت وَ اللہ المشرق نازل فرمائی۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے بھی اس قصہ کو اسی طرح نقل کیا ہے اس میں اس قدر اور ہے کہ ابر کی وجہ سے قبلہ نہ ملا تھا۔ ابن جریر نے مجاہد ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت کریمہ : ادعونی استجب لکم ( مجھ سے دعامانگو میں تمہارے لیے قبول کرونگا) نازل ہوئی تو عرب نے کہ اللہ تعالیٰ کس طرف اور کہاں ہے کہ ہم دعا کریں۔ اسکے جواب میں آیت شریفہ واللہ المشرق [ الایۃ ] نازل ہوئی۔ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ ( بیشک اللہ بڑی گنجائش والا) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے نور سے تمام اشیاء اور مشارق و مغارب کو محیط ہے اور وہ احاطہ کسی خاص کیفیت پر نہیں اور نہ اس کی حقیقت دریافت ہوسکتی ہے۔ امام ربانی مجدد الف ثانی حضرت شیخ احمد سرہندی (رح) حقیقت الصلوٰۃ میں تحریر فرماتے ہیں کہ اس وسعت سے مراد ذاتی وسعت بلا کیفیت ہے اور اس کی کنہ مدرک نہیں ہوسکتی۔ عَلِيْمٌ ( خبردار ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے عذر اور ان کی مصلحتوں اور ان کی نیتوں کو خوب جانتا ہے۔
Ayah 2:116

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

اور یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ (نہیں) وہ پاک ہے، بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، سب اسی کا ہے اور سب اس کے فرماں بردار ہیں

وَقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا ( اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے) مدینہ کے یہود کہا کرتے تھے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور بخران کے نصاریٰ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی نسبت کہتے تھے کہ اللہ کے بیٹے ہیں اور مشرکین عرب بکتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ان سب کے رد میں حق تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ارشاد فرمائی۔ سُبْحٰنَهٗ ( سبحان اللہ) کیا مہمل بات ہے) یعنی میں اللہ تعالیٰ کی اس امر سے پاکی اور تنزیہ بیان کرتا ہوں کیونکہ ولادت اس امر کو مقتضی ہے کہ مولود اور والد میں مشابہت ہو اور ولد والد کا جزء ہو اور ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ اس سے پاک ہے ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم نے میری تکذیب کی اور اسے یہ بات شایاں نہ تھی اور ابن آدم نے مجھے سب و شتم کیا اور یہ بات اسے سزاوار نہ تھی “ تکذیب تو یہ ہے کہ وہ گمان کرتا ہے کہ میں اس کے مرنے کے بعد جیسا تھا اس طرح پر زندہ نہیں کرسکتا اور سب و شتم یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیوی بچوں والا ہے حالانکہ میں اس سے بالکل پاک ہوں اور ابوہریرہ ؓ نے اسی مضمون کے قریب قریب روایت کی ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ بندہ کا مجھ کو جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو دوبارہ پیدا نہیں کرے گا ویسا جیسا کہ اوّل بار پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے میرے لیے سہل نہیں ( یعنی لوٹانا تو ابتداء سے بہت سہل ہے) اور سب و شتم یہ ہے کہ اللہ بچوں والا ہے حالانکہ میں احد صمد ہوں کہ نہ میں نے جنا نہ میں کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی میرے برابر کا ہے۔ بَلْ لَّهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( بلکہ اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے) یعنی جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اسی کا ہے یعنی اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور اسی کی ملک ہے پھر بیٹے ہونے کا تعلق کہاں رہا کیونکہ باپ اور بیٹے میں تو کچھ مناسبت اور مجانست ضرور ہونا چاہئے اور یہاں کچھ بھی تعلق نہیں کہاں ممکن محتاج عاجز مخلوق اور کہاں واجب غنی مستقل خالق۔ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ ( سب اسی کے تابعدار ہیں) یعنی جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اس کی توحید کی شہادت دینے والے اور اس کے معبود ہونے کے مقر ہیں کیونکہ ممکن کا وجود بزبان حال شہادت دے رہا ہے کہ بندہ ایک ایسے خالق واجب کا محتاج ہے کہ کوئی اس کا مثل نہیں۔ اس تفسیر کے موافق یہ آیت آیہ کریمہ : و ان من شیء الا یسبح بحمدہ و لٰکن لا تفقہون تسبیحھم ( اور کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی تسبیح سمجھتے نہیں) کی نظیر ہوگی۔ ان کی شہادت تحمید و تسبیح صاحب دل دل کے حواس سے سمجھتے ہیں اور ان ہی حواس سے ان کی حیات انہیں معلوم ہوتی ہے اور یا عقول متوسط والے بھی ان کی صفت احتیاج اور دیگر آثار سے استدلال کرتے ہیں۔ قنوت کا اصل معنی ہے قیام یعنی کھڑا ہونا چناچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ افضل نماز وہ ہے جس میں طول قنوت ( یعنی زیادہ دیر کھڑا ہونا) ہو۔ اس حدیث کو مسلم احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ یا یہ معنی ہیں کہ سب اس کے مطیع ہیں۔ چنانچہ احمد نے بسند حسن ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن میں جہاں کہیں بھی لفظ قنوت ہو اس سے مراد طاعت ہے۔ مطلب اس صورت میں یہ ہوگا کہ کوئی چیز اس کی مشیت وتکوین سے علیحدہ نہیں ہوتی اور جس کی یہ حالت ہو اسے واجب سے کچھ بھی مجانست نہیں اور حرف ما اس لیے لائے تاکہ غیر ذی عقل بھی شامل ہوجائے اور آگے قانتون صیغہ جمع مذکر سالم ( جو ذوی العقول کے لیے ہے) ذوی العقول کو غلبہ دے کر استعمال فرمایا اور یا اس لیے کہ قنوت ( قیام ( ذوی العقول کی خصوصیات میں سے ہے اس لیے جس صیغہ پر ذوی العقول کی جمع آتی ہے اسی کے موافق اسے بھی جمع کردیا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ جن کو یہ لوگ معبود سمجھتے ہیں مثلاً مسیح، عزیر اور فرشتے سب اللہ کے مطیع اور عبودیت کے مقر ہیں۔ اس تقدیر پر یہ آیت بعد دلیل کے الزام کے طور پر ہوگی۔
Ayah 2:117

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والاہے۔ جب کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو اس کو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہو جاتا ہے.

بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( موجد ہے آسمان اور زمین کا) یعنی جس طرح وہ آسمان و زمین کی چیزوں کا خالق ہے اسی طرح وہ خود آسمان و زمین کا بھی خالق و موجد ہے اور یا یہ معنی کہ آسمان اور زمین اسی کے پیدا کردہ اور مخلوق ہیں۔ تقدیر اول پر بدیع بمعنی اسم فاعل مبدع ہوگا اور صورت ثانی پر بمعنی اسم مفعول یعنی مبدع ہوگا۔ وَاِذَا قَضٰٓى اَمْرًا ( جب ارادہ کرتا ہے کسی کام کا) یعنی جب کسی شے کا ارادہ کرتا ہے اصل معنی قضا کے کسی شے سے فراغ پانے کے ہیں اسی واسطے کسی شے کے تمام کرنے پر اس کا اطلاق آتا ہے خواہ وہ شے قولی ہو جیسے فرمایا : وَ قَضٰی ربک ان لا تعبدوا الا ایاہ ( اور قطعی حکم دے دیا آپ کے پروردگار نے کہ کسی کو نہ پوجو اس کے سوا) یا وہ شے فعلی ہو جیسے فرمایا : فَقَضٰھُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ ( پھر پوار بنا دیا ان کو سات آسمان) اور کبھی اس کا اطلاق اس ارادۂ الٰہی پر آتا ہے جو کسی شے کے وجود کے ساتھ بحیثیت موجب وجود ہونے کے متعلق ہو یہاں یہی معنی مراد ہیں۔ فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ ( تو بس فرما دیتا ہے کہ ہو سو وہ ہوجاتا ہے) کن اور فیکون دونوں کان تامہ سے مشتق ہیں کیونکہ چیز کہیں مذکور نہیں مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ پیدا ہو، وہ شے پیدا ہوجاتی ہے یہ مطلب نہیں کہ کسی صفت سے موصوف ہو۔ جمہور نے فیکون کو بطور کلام مستقل کے یا بقول پر عطف کرکے سب جگہ رفع سے پڑھا ہے اور کسائی نے ابن عامر کی متابعت کرکے سورة نحل اور سورة یٰسین میں نصب سے پڑھا ہے اور ابن عامر نے سب جگہ نصب سے پڑھا ہے لیکن سورة آل عمران میں کن فیکون الحق کو اور سورة انعام میں کن فیکون قولہ الحقکو رفع سے پڑھا ہے۔ نصب کی وجہ یہ ہے کہ جواب امر میں فاء کے بعد ان مقدر مانا ہے۔ اس مقام پر چند بحثیں ہیں اول یہ کہ معدوم کو خطاب کرنا تو جائز نہیں ( بلکہ متصور نہیں) پھر اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ کن کیوں اور کسے فرمایا۔ بعض علماء نے تو اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اس شے کا وجود چونکہ مقدر تھا۔ اس لیے گویا وہ وقت خطاب میں موجود تھی اسی طرح خطاب صحیح ہوگیا اور ابن انباری نے کہا ہے کہ یقول لہ کے معنی یہ ہیں کہ اس کو پیدا کرنے کے لیے یوں فرماتا ہے یہ مطلب نہیں کہ خود اس کو فرمان دیتا ہے اس مطلب پر یہاں خطاب ہی نہیں۔ علامہ بیضاوی نے کہا ہے کہ حقیقتاً یہ مراد نہیں کہ کسی شے کو امر فرمایا ہو اور اس نے امتثال کیا ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ ایک مثال دی ہے کہ جس طرح کوئی آمر کسی مامور کو کہے اور وہ فوراً مطیع ہوجائے اسی طرح ہم جب چاہتے ہیں تو شے کو پیدا کردیتے ہیں دوسری بحث یہ ہے کہ یکون کا نصب جو ان مقدرہ کی وجہ سے ہے چاہتا ہے کہ صیغہ امر اپنے معنی میں ہو کیونکہ ان تو امر حقیقی کے بعد ہی مقدر ہوتا ہے اور حالانکہ یہاں امر اپنے معنے میں نہیں بلکہ یہ مراد جلد حاصل ہوجانے کی مثال ہے پھر نصب کس طرح متصورہو سکتا ہے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہ نصب ظاہر لفظ کے اعتبار سے ہے نہ معنی کے اعتبار سے اور ظاہر صیغہ صیغہ امر ہے تیسری بحث یہ ہے کہ ان کے مقدر ہونے کی شرط یہ ہے کہ فا کا ما قبل ما بعد کا سبب ہو اور اس صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ ممکن کے لیے دو مربتہ کون ( وجود) ہوں۔ اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ کون اول سے مجازاً وجوب اس طور پر مراد ہے کہ مسبب کا سبب پر اطلاق کیا گیا ہے کیونکہ ممکن جب تک حد وجوب میں نہیں آتا موجود نہیں ہوتا پس حاصل کن کا یہ ہونا چاہئے کہ وجوب اس شے کا ہوجائے۔ میں کہتا ہوں کہ جواب اس طرح بھی ہوسکتا ہے کہ اول کون سے مراد اس کا دارالعمل ( دنیا میں سبب ہونا اور دوسرے کون سے دارالجزاء (آخرت) میں مسبب ہونا مراد ہو لیکن اس صورت میں یہ آیت مکلفین کے ساتھ خاص ہوگی حالانکہ طرز کلام عموم کو چاہتا ہے اور عمدہ جواب یہ ہے کہ اول کون سے مراد اس شے کا وجود علمی کے ساتھ مرتبہ اعیان ثابتہ ( یعنی مرتبہ تقرر) میں موجود ہونا ہے اور دوسرے کون سے اس شے کا خا ارج میں بوجود ظلی موجود ہونا ہے۔ صوفیہ کرام (رح) نے اسی طرح فرمایا ہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اعیان ثابتہ کا مرتبہ بحدوث زمانی حادث ہے اور اس تفسیر کے موافق یہ آیت توحید شہودی پر دال ہے جیسا کہ حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا ہے توحید وجودی پر دلالت نہیں کرتی جیسا کہ شیخ اکبر محی الدین عربی قدس سرہٗ نے فرمایا ہے کہ ممکنات نے خارج میں وجود کی بوتک نہیں سونگھی ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 2:118

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

اور جو لوگ (کچھ) نہیں جانتے (یعنی مشرک) وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا۔ یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے، وہ بھی انہی کی سی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں کے دل آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ جو لوگ صاحبِ یقین ہیں، ان کے (سمجھانے کے) لیے نشانیاں بیان کردی ہیں

وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ (اور کہتے ہیں وہ لوگ جو نہیں جانتے) ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اَلَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَسے مراد یہود ہیں اور اسی طرح ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رافع بن حریملہ یہودی نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر تم اللہ کی طرف سے سچے رسول ہو تو اللہ تعالیٰ سے کہو کہ ہم سے باتیں کرے اور ہم اس کی باتیں سنیں اور مجاہد نے فرمایا ہے کہ نصاریٰ مراد ہیں اور یہود اور نصاریٰ اگرچہ کتاب سماوی کے عالم تھے لیکن جب انہوں نے اپنے علم پر عمل نہ کیا تو گویا جاہل ہی ہیں اور قتادہ نے فرمایا ہے کہ مشرکین عرب کے ان پڑھ لوگ مراد ہیں۔ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللّٰهُ ( کیوں نہیں باتیں کرتا ہم سے خدا) لَوْلَا بمعنی ھلَّا (کیوں نہیں) ہے اور اسی طرح جہاں کہیں قرآن پاک میں لَوْلَا آیا ہے وہ بمعنی ھَلَّا ہے سوائے آیت کریمہ : فلولا انہ کان من المسبحین کے کہ وہاں : لولا بمعنی لو لم یکن ( اگر نہ ہوتا) یعنی اللہ ہم سے اس طرح باتیں کرتا جس طرح فرشتوں سے کرتا ہے یا جس طرح موسیٰ ( علیہ السلام) سے کلام فرماتا ہے تو حاجت رسول کی ہی نہ ہوتی یا اللہ ہم سے فرمادے کہ یہ ہمارا رسول ہے۔ اَوْ تَاْتِيْنَآ اٰيَةٌ ( یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی) یعنی یا کوئی دلیل تمہاری سچائی کی آتی۔ اوّل درخواست کا مبنی تکبّر ہے اور دوسرے سوال کا حاصل دلائل اور آیات کا بطور عناد انکار ہے۔ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ ( اسی طرح کہہ چکے وہ لوگ جو ان سے پہلے گزرے ہیں) یعنی گزشتہ یہود اور نصاریٰ بھی اسی قسم کی باتیں کہا کرتے تھے چناچہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہود نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کو علی الاعلان دکھا دے اور نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ سے فرمائش کی تھی کہ ہم پر آسمان سے کھانے کا بھرا ہوا خوان اترے۔ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُھُمْ ( ملے جلے ہیں ان سب کے دل) یعنی عناد اور نا بینائی میں پہلے پچھلوں کے دل برابر ہیں۔ قَدْ بَيَّنَّا الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يُّوْقِنُوْنَ ( بیشک ہم بیان کرچکے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں) یعنی ہم نے اس قوم کے لیے دلائل بیان کردئے جو حق بات کے ساتھ یقین کے طالب ہیں یہ جو فرمایا کہ یقین کرنے والوں کے لیے بیان کردیا حالانکہ سب کے لیے بیان فرمایا ہے۔ تو وجہ تخصیص یہ ہے کہ چونکہ آیات کی منفعت یعنی ہدایت اور رشد سے ایسے ہی منتفع ہیں اور جو عناد اور جدال کرنے والے ہیں وہ محروم اور نامراد ہیں تو گویا آیات ان کے لیے ہی بیان ہوئیں۔
Ayah 2:119

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم نے تم کو سچائی کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور اہل دوزخ کے بارے میں تم سے کچھ پرسش نہیں ہوگی

اِنَّآ اَرْسَلْنٰكَ بالْحَقِّ ( ہم نے تجھ کو بھیجا ہے حق ( کلام) دے کر) ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ بالحق میں حق سے مراد قرآن ہے جیسا کہ آیت کریمہ : بل کذبوا بالحق لما جآء ھُم ( بلکہ جھٹلایا انہوں نے حق کو جب) ان کے پاس آیا) میں بھی الحق سے مراد قرآن پاک ہے۔ بَشِيْرًا وَّنَذِيْرًا ( خوشی سنانے والا اور ڈرانے والا) یعنی اہل طاعت کے لیے خوشخبری دینے والے اور اہل معصیت کے واسطے ڈرانے والے۔ وَّلَا تُسْـــَٔـلُ ( اور تجھ سے پوچھ نہ ہوگی) نافع اور یعقوب نے ولا تسأل کو صیغہ نہی معروف سے اور باقی قراء نے رفع سے مضارع منفی مجہول سے پڑھا ہے۔ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِيْمِ ( دوزخ والوں کی) جحیم سخت آگ کو کہتے ہیں جمہور کی قرأت کے موافق : وَ لَا تساَلُ عَنْ اَصحٰبِ الْجَحِیْمکے یہ معنی ہوں گے کہ اے محمد ﷺ آپ سے اس کی پوچھ گچھ نہ ہوگی کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہ لائے آپ کے ذمہ تو صرف پہنچا دینا ہے اور حساب ہمارے ذمہ ہے اور نافع کی قرأۃ پر سوال سے نہی کرنا شدت عذاب سے کنایہ ہوگا جیسے کہا کرتے ہیں کہ اس کا حال مت پوچھو ( یعنی وہ بہت تکلیف میں ہیں کیا پوچھتے ہو مجھے یارائے بیان نہیں ہے) بہت سخت حالت میں ہے اور علامہ بغوی نے کہا ہے کہ عطاء نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک روز جناب رسول ﷺ نے فرمایا کاش مجھے خبر ہوتی کہ میرے والدین کس حال میں ہیں اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور عبد الرزاق نے کہا ہے کہ مجھ سے ثوری نے موسیٰ بن عبید سے اور موسیٰ نے محمد بن کعب قرظی سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے اور اسی طرح ابن جریر نے ابن جریج کے طریق سے کہا ہے کہ مجھ سے داوٗد بن عاصم نے ابن عباس ؓ سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہ یہ شان نزول جو علامہ بغوی وغیرہ نے ذکر کیا ہے میرے نزدیک پسندیدہ نہیں اور نیز قوی بھی نہیں اگر یہ حدیث پایہ ثبوت کو بھی پہنچ جائے تو یہ محض ابن عباس ؓ کا خیال ہے اور اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ حضور نے ایسا فرمایا ہو اور اسی دن اتفاق سے یہ آیت بھی نازل ہوئی ہو تب بھی کوئی دلیل اس امر پر نہیں کہ اَصْحٰبُ الْجَحِیْم سے حضور کے والدین مراد ہوں اور اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ حضور کے والدین ہی مراد ہوں تو یہ آیت ان کے کفر پر کسی طرح دال نہیں کیونکہ مؤمن بھی گناہوں کے سبب جہنم والوں میں سے ہوتا ہے اور پھر شفاعت یا اور کسی وجہ سے یا مدت عذاب کے تمام ہونے سے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ دیکھو امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اولاد آدم کے سب قرنوں میں بہترین اور افضل ترین قرن میں پیدا کیا گیا اور فرمایا کہ جب کبھی کسی گروہ کے دو ٹکڑے ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس میں سے کیا جو بہتر ٹکڑا تھا حتی کہ میں اپنے والدین سے پیدا ہوا اور جاہلیت کی ناپاکیوں میں سے کوئی ناپاکی مجھے نہیں لگی اور میں آدم ( علیہ السلام) سے لے کر اپنے ماں باپ تک نکاح سے پیدا ہوا ہوں، زنا سے نہیں پیدا ہوا ہوں۔ اس لیے میں اپنی ذات سے اور باعتبار آباو اجداد کے تم سے بہتر ہوں اس حدیث کو بیہقی نے دلائل نبوت میں حضرت انس ؓ سے اور ابو نعیم نے اپنی کتاب میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور شیخ اجل شیخ جلال الدین سیوطی ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے والدین شریفین کے اسلام کے بارے میں چند رسائل تصنیف کئے ہیں۔ میں نے ان رسائل میں سے ایک رسالہ اخذ کیا ہے اس میں دلائل اور اعتراضات واردہ کے شافی جوابات لکھے ہیں۔ فللّہ الحمد۔
Ayah 2:120

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

وَلَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْيَهُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ ۭ ( اور ہرگز نہ خوش ہو نگے آپ سے یہودی اور نہ عیسائی تاوقتیکہ نہ اختیار کرلیں آپ ان کا دین) ملت وہ طریقہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے واسطے اپنے انبیاء کی زبانی مقرر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اہل کتاب نے جناب رسول اللہ ﷺ سے صلح کی درخواست کی تھی اور یہ طمع دلاتے تھے کہ اگر آپ ہمیں مہلت دیں گے تو ہم ایمان لے آئیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ثعلبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جب حضور اہل کتاب کے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے تو مدینہ کے یہود اور بخران کے نصاریٰ اس بات کی امید میں تھے کہ آپ ہم میں آ ملیں گے جب کعبہ کو قبلہ بنا دیا گیا تو ناامید ہوگئے اور اس کے بعد آیت لَنْ تَرْضٰی نازل ہوئی اور اس آیت میں جناب رسول اللہ ﷺ کو اہل کتاب کے اسلام لانے سے نہایت نا امیدی دلائی گئی کہ ان کا تو یہ ارادہ ہو رہا ہے کہ آپ ان کے دین کا اتباع کریں پھر یہ آپ کا کیسے اتباع کرلیں گے اور شاید ایسا ہوا ہو کہ اہل کتاب نے اس مضمون کو کہا ہو۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس کا جواب آیت کریمہ : قُل اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ارشاد فرمایا۔ قُلْ اِنَّ ھُدَى اللّٰهِ ھُوَ الْهُدٰى ( کہہ دیجئے کہ اللہ ہی کی ہدایت ہدایت ہے یعنی اللہ کی ہدایت یعنی اسلام ہی حق ہے جس کی طرف یہ کفار بلاتے ہیں وہ حق نہیں۔ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ بَعْدَ الَّذِيْ جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ( اور اگر آپ چلے ان کی خواہشوں پر اس کے بعد کہ آچکا آپ کے پاس علم) من العلم علم سے مراد یا تو وحی ہے اور یا دین ہے جس کا صحیح ہونا معلوم ہوچکا۔ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ ( تو آپ کے لیے نہ کوئی حمایتی 1 ؂ ہے کہ اللہ سے بچا لے نہ کوئی مدد گار) یعنی کوئی مدد گارنہ ہوگا جو اللہ کے عذاب کو دور کردے۔
Ayah 2:121

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے، وہ اس کو (ایسا) پڑھتے ہیں جیسا اس کے پڑھنے کا حق ہے۔ یہی لوگ اس پر ایمان رکھنے والے ہیں، اور جو اس کو نہیں مانتے، وہ خسارہ پانے والے ہیں

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ ( وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے) یعنی قرآن۔ قتادہ اور عکرمہ نے فرمایا ہے کہ : اَلَّذِیْنَ اَتَینَاھُمْ الْکِتٰبَ سے صحابہ ؓ مراد ہیں اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ عام مؤمن مراد ہیں اور اہل کتاب کے مؤمن بھی مراد ہوسکتے ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا شان نزول یوں بیان فرما ایا ہے کہ جعفر بن ابی طالب ؓ کے ہمراہ حبشہ سے چالیس آدمی آئے تھے بتیس تو ان میں سے حبشہ کے تھے اور آٹھ شام کے اور ان میں بحیرہ راہب بھی تھا ان سب کے بارے میں آیت کریمہ : الَّذین .... نازل ہوئی اور ضحاک نے فرمایا ہے کہ : اَلَذِیْنَ اَتَیْنَاھُمْ ..... سے مؤمنین یہود مراد ہیں انہی میں عبد اللہ بن سلام اور سعید بن عمرو اور تمام یہود اور اسید۔ اسد پسران کعب بن یامین اور عبد اللہ بن صور یا ؓ بھی شامل تھے۔ اس تقدیر پر اسم موصول عہد کے لیے ہوگا۔ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ( وہ اسے پڑھتے رہتے ہیں جو اس کے پڑھنے کا حق ہے) خطیب نے ایک سند سے جس میں راوی مجہول ہیں۔ امام مالک سے انہوں نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ یَتْلَوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ کے یہ معنی ہیں کہ وہ اس کا اتباع کرتے ہیں پورا اتباع اور حضرت عمر ؓ سے یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ کا معنی یہ مروی ہے کہ جب کتاب اللہ میں جنت کا ذکر آئے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرے اور جب دوزخ کا ذکر آئے تو پناہ مانگے۔ ضمیر ہ الکتاب کی طرف راجع ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کو تحریر سے بچا کر تدبیر اور عمل کے ارادہ سے پڑھتے ہیں اور کلبی نے کہا کہ ضمیر ہ دونوں جگہ جناب رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے اور معنی یہ ہیں کہ مؤمنین اہل کتاب سے اگر کوئی محمد ﷺ کا حال دریافت کرتا ہے تو اس سے آپ کا حال جس طرح ان کی کتاب میں لکھا ہے بعینہٖ صحیح صحیح بتاتے ہیں اور یہ معنی جب ہی ہوں گے کہ الذین اسم موصول سے مؤمنین اہل کتاب مراد ہوں اور یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ یا تو حال مقدر ہو اور الذین کی خبر اس کے بعدہو اور یا خود الذین کی خبر ہو اور۔ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ( وہی لوگ ایمان لاتے ہیں اس پر) خبر بعد خبر ہو اور بہٖ میں ضمیر ہ یا تو کتاب کی طرف اور یا محمد ﷺ کی طرف راجع ہو۔ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ ( اور جو اس کا انکار کرتے ہیں) یعنی جو لوگ کتاب کے ساتھ کفر کرتے ہیں یعنی تحریف کرتے ہیں یا جس کی وہ تصدیق کرتی ہے اس کا انکار کرتے ہیں یا محمد ﷺ کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ( وہی لوگ نقصان پانے والے ہیں) کیونکہ کفر کو ایمان کے عوض مول لیتے ہیں۔
Ayah 2:122

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے بنی اسرائیل! میرے وہ احسان یاد کرو، جو میں نے تم پر کئے اور یہ کہ میں نے تم کو اہلِ عالم پر فضیلت بخشی

يٰبَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِىَ الَّتِىْٓ اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَاَنِّىْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ۔ ( اے بنی اسرائیل یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت دی سارے جہان کے لوگوں پر)
Ayah 2:123

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کے کچھ کام نہ آئے، اور نہ اس سے بدلہ قبول کیا جائے اور نہ اس کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ دے اور نہ لوگوں کو (کسی اور طرح کی) مدد مل سکے

وَاتَّقُوْا يَوْمًا لَّا تَجْزِيْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّلَا ھُمْ يُنْصَرُوْنَ : اور اس دن سے ڈرو کہ کوئی کسی کے کام نہ آئے گا اور نہ اس کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کی سفارش اسے فائدہ دے گی اور نہ لوگوں کی مدد کی جائے گا) اللہ تعالیٰ نے شروع پارہ میں بنی اسرائیل کا ذکر بھی ان ہی الفاظ سے فرمایا تھا جس کا حاصل نعمتوں کا یاد دلانا اور قیامت کا خوف وغیرہ ہے اور کلام کو ختم بھی اسی مضمون پر فرمایا تاکہ وصایائے مذکورہ سابقہ میں قوت بڑھ جائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ تمام قصہ کا مقصود اور نچوڑ یہی ہے۔