Ayah 2:132وَوَصّٰى بِهَآ اِبْرٰھٖمُ ( اور اسی کی وصیت کر گئے ابراہیم) مدینہ اور شام کے قراء نے وَ وَصّٰ کو وَاَوْصٰی باب افعال سے پڑھا ہے ان کے مصاحف میں اسی طرح درج ہے اور باقی قراء نے ووصٰی پڑھا ہے جس فعل میں بھلائی اور ثواب ہو اسے دوسرے کے سامنے پیش کرنے کو وصیت کرنا کہتے ہیں اصل لغت میں توصیۃ کے معنی ہیں وصل یعنی ملانا اور وصیت کرنے میں ملانے کے معنی اس طرح ہیں کہ گویا موصی ( وصیت کرنے والا) اپنے فعل کو موصیٰ ( وصیت کیا گیا) کے فعل سے ملاتا ہے بھا کی ضمیر یا تو ملت کی طرف اور یا بتاویل کلمہ اسلمت کی طرف راجع ہے۔
بَنِيْهِ ( اپنے بیٹوں کو) حضرت ابراہیم کے آٹھ بیٹے تھے اسماعیل ان کی والدہ تو ہاجرہ قبطیہ تھیں اور اسحاق کی والدہ سارہ تھیں اور باقی چھ فرزندوں کی والدہ قنطورا کنعانیہ دختر یقطن تھیں حضرت سارہ کی وفات کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی سے نکاح کیا تھا۔
وَيَعْقُوْبُ ( اور یعقوب نے بھی) اس کا عطف ابراہم پر ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے آٹھ بیٹوں کو وصیت کی تھی اسی طرح حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے بھی اپنے بارہ بیٹوں کو یہی سمجھایا تھا۔
يٰبَنِىَّ ( کہ اے بیٹو ! )
اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ ( تمہیں اللہ نے چن کر دین عطا کیا ہے) الدّین سے دین اسلام مراد ہے۔
فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ( سو تم مسلمان ہی ہو کر مرنا) یعنی ایسی حالت میں مرنا کہ خالص مؤمن ہو اور اپنے امور کو اللہ کے سپرد کرچکے ہو۔ بظاہر بغیر ایمان کے مرنے کے کی ممانعت فرمائی مگر حقیقت میں یہ مراد نہیں ہے ( کیونکہ نہی امر اختیاری سے ہوا کرتی ہے) اور موت غیر اختیاری امر ہے) بلکہ مطلب یہ ہے کہ دیکھو ہوشیار رہو اسلام اور تفویض کو کسی وقت ہاتھ سے نہ دینا مبادا کسی وقت اسلام کو چھوڑ بیٹھو اور اس وقت تم کو موت آجائے تو ایسی موت میں کچھ خیر نہیں گویا نہی واقع میں ترک اسلام سے ہے۔ یہود نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ کو معلوم نہیں یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو یہودیت پر قائم رہنے کی وصیت کی تھی اب تم اسی یہودیت سے ہمیں علیحدہ کرنا چاہتے ہو اسکے جواب میں حق تعالیٰ نے یہ آیت ارشاد فرمائی۔
Ayah 2:133اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاۗءَ اِذْ حَضَرَ يَعْقُوْبَ الْمَوْتُ ( کیا تم موجود تھے جب یعقوب ( علیہ السلام) کا آخری وقت آیا) حضر کے معنی ” موت قریب ہوئی “ ام کنتم میں ام منقطعہ ہے حاصل یہ ہے کہ اے یہودیو ! جس طرح تم کہتے ہو اس طرح نہیں ہوا کیا تم وہاں موجود تھے یعنی موجود نہ تھے تو پھر کیوں ایسے بلا دلیل دعوے ہانکتے ہو بعض مفسرین نے کہا کہ ام کنتم میں مؤمنین کو خطاب ہے اور معنی یہ ہیں کہ اس وقت تم وہاں موجود نہ تھے بلکہ یہ قصہ تم کو وحی سے معلوم ہوا ہے۔
اِذْ قَالَ لِبَنِيْهِ ( جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا) یہ اِذْ حَضَرسے بدل ہے۔
مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِيْ ( تم لوگ میرے بعدکس چیز کی پرستش کرو گے) یعقوب (علیہ السلام) کو اپنے بیٹوں سے یہ امر دریافت کرنے سے ان کو توحید اور سلام پر پکا کرنا اور ان سے عہد لینا منظور تھا۔
عطا نے فرمایا ہے کہ جب کسی پیغمبر کی موت قریب آتی ہے تو موت سے پہلے حق تعالیٰ انہیں زندگی اور موت میں اختیار عطاء فرماتا ہے کہ تمہیں اختیار ہے چاہے دنیا میں رہو یا عالم بقا میں چلو حسب معمول جب حضرت یعقوب کو یہ اختیار ملا تو عرض کیا خداوندا کچھ دیر کے لیے مجھے مہلت عطا فرمائیے تاکہ میں اپنے بیٹوں کو کچھ وصیت کردوں۔ مہلت مل گئی اس وقت یعقوب ( علیہ السلام) نے اپنے سب بیٹوں پوتوں کو جمع کرکے یہ وصیت فرمائی۔
قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَاِلٰهَ اٰبَاۗىِٕكَ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ ( انہوں نے جواب دیا ہم اس کی پرستش کریں گے جس کی آپ اور آپ کے بزرگ ابراہیم اور اسماعیل و اسحاق ( علیہ السلام) پر ستش کرتے آئے ہیں) ابراھیم و اسماعیل و اسحاق اٰباءِک سے عطف بیان ہے اور اسماعیل ( علیہ السلام) اگرچہ ان کے چچا تھے لیکن عرب کے لوگ چچا کو بھی باپ ہی کہتے ہیں جیسے خالہ کو ماں کہہ دیتے ہیں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چچا آدمی کا اس کے باپ کی مثل ہے اس حدیث کو ترمذی نے علی ؓ سے اور طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے نیز جناب سرور کائنات ﷺ نے اپنے چچا عباس ؓ کے بارے میں فرمایا تھا کہ میرے باپ کو میرے پاس لے آؤ میں ڈرتا ہوں کہ قریش ان سے بھی وہی معاملہ نہ کریں جو ثقیف نے عروہ بن مسعود ؓ سے کیا تھا۔ (ثقیف نے عروہ ؓ کو قتل کردیا تھا)
اِلٰــهًا وَّاحِدًا ( یعنی وہی معبود جو واحد ( لا شریک لہ) ہے یہ الٰھک و الہ ابائک کے مضاف سے بدل ہے اگرچہ الٰھک و الہ اباءک سے خود معلوم ہوتا تھا کہ معبود برحق مراد ہے لیکن اِلٰھاً وَّاحِدًا کی زیادتی سے توحید کی اور زیادہ تصریح ہوگئی اور نیز مضاف کو عطف کے تعذر کی وجہ سے جو مکرر کیا گیا ہے اس سے وہم ہوتا تھا کہ یعقوب ( علیہ السلام) کا الٰہ اور ہے اور آباء و اجداد کا الہ دوسرا ہے۔ الٰھًا واحدًا سے اس وہم کو بھی دفع فرمادیا اور یا الٰھاً واحدًانرید مقدر کا مفعول ہے مطلب یہ ہوگا کہ ہم الٰھَکَ وَ الٰہَ اَبَاءَ کَ سے اٰلہ واحد مراد لیتے ہیں۔
وَّنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ( اور ہم اسی کی اطاعت پر رہیں گے) یا تو نعبد کے فاعل یا مفعول اور یا دونوں سے حال ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جملہ معترضہ ہو۔
( وہ ایک جماعت تھی) اس سے حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد ( علیہ السلام) مراد ہے امۃ اصل میں مقصود کو بولتے ہیں جماعت کو امت اس لیے کہنے لگے کہ جس جانب جماعت ہوتی ہے لوگ اسی کا قصد کرتے ہیں۔
Ayah 2:134تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ ( ان کے کام ان کا کیا ہوا آئے گا اور تمہارے کام تمہارا کیا ہوا آئیگا) یعنی جب یہ امر مسلم ہے کہ جو جس نے کیا ہے وہی اسکے سامنے آئیگا تو پھر تم اے یہودیوں اپنے آپ کو اس شرف نسبت کی وجہ سے ناجی اور رستگار سمجھتے ہو۔ سراسر حماقت ہے یاد رکھو جب تک تم انکی اطاعت نہ کرو گے وہ اور انکی نیکیاں تمہارے کچھ کام نہ آئینگے۔
وَلَا تُسْـــَٔــلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ( اور تم سے ان کے کئے ہوئے کی پوچھ گچھ نہ ہوگی) بلکہ ہر شخص سے اس کے اعمال کی باز پرس ہوگی ابن ابی حاتم نے بطریق سعید و عکرمہ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن صوریا نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ہدایت تو یہی ہے جس پر ہم قائم ہیں تم بھی ہمارا اتباع کرو تو ہدایت یاب ہوگئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح اس سے پہلے کہہ چکے تھے۔ علامہ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مدینہ کے بڑے بڑے یہودی جیسے کعب بن اشرف اور مالک بن حنیفہ اور وہب بن یہود اور بی یاسر بن اخطب اور نجران کے نصاریٰ سب جمع ہوئے اور مسلمانوں سے دین کے بارے میں مناظرہ کیا ہر فرقہ اپنی حقانیت کا دعویٰ کرتا تھا چناچہ یہود نے کہا ہمارے نبی موسیٰ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور ہماری کتاب تورات تمام کتابوں سے اچھی ہے اور ہمارا دین تمام دینوں سے فائق ہے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل اور حضرت محمد ﷺ اور قرآن مجید کا کھلا انکار کیا اسی طرح نصاریٰ نے اپنے نبی اور اپنی کتاب اور اپنے دین کو افضل بتایا اور قرآن مجید اور دیگر کتب کا انکار کیا اور ہر فریق نے مسلمانوں سے کہا کہ تم ہمارے دین پر ہوجاؤ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:135وَقَالُوْا كُوْنُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ( اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہودی یا عیسائی ہوجاؤ) وَ قالوا میں ضمیر ھم سے مراد یہود اور نصارٰی ہیں ھوداً اَوْ نَصَارٰی میں کلمہ او تنویع کے لیے ہے یعنی یہودیوں نے یہودیت کی طرف بلایا اور نصرانیوں نے نصرانیت کی ترغیب دی۔
تَهْتَدُوْا ( تو راہ راست پر آجاؤ گے) یہ جواب امر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰھٖمَ ( آپ کہ دیجئے کہ ہم تو ملت ابراہیم پر رہیں گے) یعنی ہم نہ یہودی ہیں نہ نصرانی ہم تو ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے کا اتباع کرنے والے ہیں یا یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے پر ہیں یا یہ معنی کہ ملت ابراہیمی کا اتباع کرتے ہیں یا یہ مطلب کہ اے یہود و نصاریٰ تم ملت ابراہیم کا اتباع کرو۔
حَنِيْفًا ( کہ اس میں کجی کا نام نہیں) اصل میں حنف کسی طریقے سے مڑنے اور علیحدہ ہونے کو کہتے ہیں اور حنیف کے معنی ہیں تمام دینوں سے مڑ کر اسلام کی طرف جھکنے والا “ حنیفا یا تو مضاف یعنی ملت سے حال ہے اس وقت معنی یہ ہوں گے کہ ہم ایسی ملت پر ہیں کہ جو باطل سے علیحدہ ہونے والی ہے اور یا مضاف الیہ یعنی ابراہیم سے حال ہے اور کوفہ کے نحویوں کے نزدیک مِلّۃ ابراھِیْمَ منصوب علی القطع ہے یعنی اصل میں ملۃ ابراہیم الحنیف تھا الحنیف سے الف و لام کو دور کردیا اب نکرہ معرف کی صفت نہیں بن سکتا اس لیے اس سے منقطع ہو کر منصوب ہوگیا۔
وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ( اور نہ تھے ابراہیم مشرکین میں سے) یہ اہل کتاب پر تعریض ہے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اتباع کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور شرک میں بھی مبتلا ہیں۔
Ayah 2:136قُوْلُوْٓا ( کہہ دو ) یہ مؤمنین کو خطاب ہے۔
اٰمَنَّا باللّٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا ( ہم ایمان رکھتے ہیں خدا پر اور اس پر جو ہمارے پاس بھیجا گیا) اس سے مراد قرآن مجید ہے اسے اس لیے مقدم فرمایا کہ قرآن ہی اور کتابوں پر ایمان لانے کا سبب ہے۔
وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ ( اور اس پر بھی جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور اولاد یعقوب ( علیہ السلام) کی طرف بھیجا گیا) اس سے دس صحیفے مراد ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) پر نازل ہوئے تھے ان ہی دس پر ان کی اولاد کا عمل در آمد رہا۔ اسی واسطے ان کے نزول کو اولاد کی طرف بھی منسوب فرمایا جیسا کہ قرآن پاک کا نزول جناب رسول اللہ ﷺ کی متابعت سے ہماری طرف بھی منسوب ہوتا ہے چناچہ کہتے ہیں کہ قرآن ہم پر نازل ہوا ہے اسْبَاط بنی اسرائیل کی جماعتوں کو کہتے ہیں جیسے قبائل عرب کے گروہوں اور شعوب عجم کے فرقوں کو بولا جاتا ہے۔
بنی اسرائیل کی بارہ جماعتیں تھیں کیونکہ یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے ہر بیٹے کی اولاد ایک ایک مستقل جماعت علیحدہ گنی جاتی تھی۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اَسْباط سے مراد خود یعقوب ( علیہ السلام) کے بارہ بیٹے ہیں اور اَسْباط انہیں یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کی اولاد ایک سبط اور جماعت تھی اور یا اس لیے کہ سبط اولاد کی اولاد کو کہتے ہیں اسی واسطے حسنین کو رسول اللہ ﷺ سبطین فرماتے تھے اور یعقوب ( علیہ السلام) کے بیٹے ابراہیم کے پوتے تھے اس لیے انہیں اَسْباط فرمایا۔
وَمَآ اُوْتِيَ مُوْسٰى ( اور اس پر بھی جو ملا موسیٰ کو) اس سے مراد تورات ہے۔
وَعِيْسٰى ( اور اس پر بھی جو دیئے گئے حضرت عیسیٰ ) اس سے انجیل مراد ہے۔
وَمَآ اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ( اور اس پر بھی جو اور انبیاء (علیہم السلام) کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا اس کیفیت سے کہ ہم ان میں سے ایک میں بھی تفریق نہیں کرتے) یعنی ہم یہود اور نصارٰی کی طرح کسی نبی میں فرق نہیں کرتے کہ کسی پر ایمان لاویں اور کسی پر نہ لاویں بلکہ سب ہمارے مقتدا اور دین و ایمان ہیں۔
وَنَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ ( اور ہم تو اللہ کے فرماں بردار ہیں) اور یہ ہمارا دین اسلام ملت ابراہمی اور ہر نبی اور جناب خاتم الانبیاء محمد ﷺ کا دین ہے اور یہود اور نصاریٰ جس طریقہ پر ہیں وہ کھلا شرک ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا و آخرت میں عیسیٰ ( علیہ السلام) سے مجھے زیادہ تعلق اور قرب ہے انبیاء سب بھائی بھائی ہیں مائیں ان کی مختلف ہیں اور سب کا ایک دین ہے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ انبیاء کے آپس میں بھائی ہونے اور ماؤں کے مکلف ہونے کا مطلب یہ ہے کہ سب انبیا کی اصل ایک ہے اور وہ وحی الٰہی ہے کہ اسی کے سبب سے نبی نبی ہوتا ہے اور استعدادیں کہ جو بمنزلہ ماؤں کے ہیں مختلف ہیں اور اس اختلاف کی ہی وجہ سے شرائع کے فروع میں اختلاف ہوا ہے اور دین کے ایک ہونے سے مراد یہ ہے کہ سب انبیاء کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اوامر کو بجا لاؤ اور منہیات سے بچو اور خواہش نفسانی کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کی ذات (صفت اور احکام اور مبداء و معاد کے احوال) پر ایمان لاؤ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب تورات عبرانی زبان کی پڑھا کرتے اور عربی میں اہل اسلام کے سامنے اس کی تفسیر کرتے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تکذیب کرو بلکہ یہ کہو اٰمنا باللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَیْنَا .... اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔
Ayah 2:137فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِهٖ ( سو اگر ایمان لادیں وہ جس طرح تم ایمان لائے ہو) بِمثْلِ مَا اٖمَنْتُمْ میں باء زائد ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّءَۃٍ بمثْلِھَا میں باء زائد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تمہارے ایمان لانے کی طرح ایمان لاویں۔ یا یہ کہا جائے کہ مثل کا لفظ بیچ میں زائد ہے جیسے کہ آیت کریمہ : وَ شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰی مِثْلِہٖ میں مثل کا لفظ زائد کہا گیا ہے اور ابن عباس ؓ کی قرأت فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمَا اٰمَنْتُمْ بِہٖ اس اخیر توجیہ کی مؤید بھی ہے۔
فَقَدِ اھْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا ھُمْ فِيْ شِقَاقٍ ( تو بیشک ہدایت پائیں گے اور اگر انحراف کریں تو بس وہی ضد پر ہیں) یعنی جانب حق کے خلاف ہیں اور بعض نے شقاق کی تفسیر عداوت سے بھی کی ہے۔
فَسَيَكْفِيْكَهُمُ اللّٰهُ ( سو کافی ہے تمہاری طرف سے ان کو اللہ) (1) [ بطریق متعددہ مروی ہے کہ مصری لوگ حضرت عثمان غنی ؓ پر چڑھ کر آئے اور ان کا محاصرہ کرلیا اور حضرت عثمان کے پاس گھر میں پہنچے اس وقت ان کے سامنے قرآن شریف کھلا رکھا تھا، تلوار سے حضرت کے ہاتھ پر وار کیا خون جو جاری ہوا تو آیت : فسیکیفکم اللہ و ھوالسمیع العلیم پر گرا۔ حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا اسلام میں یہ پہلا ہاتھ ہے جو ناحق قطع کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان اشقیا میں سے کوئی اچھی حالت میں نہیں مرا۔ 12 منہ ] یہ مؤمنین کے لیے حفاظت اور نصرت کا وعدہ ہے چناچہ حق تعالیٰ نے اس وعدہ کو اس طرح پورا فرمایا کہ اہل کتاب میں سے بنو نضیر کو تو جلا وطن کرادیا اور قریظہ کو قتل کرادیا اور یہود و نصاریٰ پر جزیہ مقرر ہوگیا۔
وَھُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ( اور وہ سننے والا واقف کار ہے) یعنی اللہ تعالیٰ مؤمنین اور کفار کے اقوال کو سننا اور ان کی نیتوں اور حالوں سے واقف ہے ہر ایک کو اس کے کئے کی جزا ملے گی۔
Ayah 2:138صِبْغَةَ اللّٰهِ ( لے لیا ہم نے رنگ اللہ کا) اس سے اللہ کا دین مراد ہے کلبی قتادہ اور حسن نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح اس کی تفسیر نقل کی ہے دین کو رنگ سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ جیسے رنگ کپڑے پر چڑھ جاتا ہے اسی طرح دین دار پر دین کا اثر ہوجاتا ہے صبغۃ اللہ ترکیب میں یا تو اٰمَنَّا کا مفعول مطلق من غیر لفظ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا ملت ابراہیم سے بدل ہونے کے سبب منصوب ہے یا حالت نصب میں ذکر کرنے سے مراد ہے برانگیختہ کرنا تقدیر عبارت اس طرح ہو گیعَلَیْکُمْ صبغۃ اللہ (اللہ کے رنگ کو اپنے اوپر لازم پکڑو) اور بعض مفسرین نے کہا کہ صبغۃ اللہ سے مراد ختنہ ہے کیونکہ اس سے مختون خون آلودہ ہوجاتا ہے اس صورت میں بھی صبغۃ اللہ منصوب علی الاغرا ہوگا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ نصاریٰ کے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا اور اس پر سات روز گذر جاتے تو وہ اسے ایک پانی میں جسے معمودیہ کے نام سے موسوم کرتے غوطہ دیتے اور خیال کرتے کہ اس سے یہ پاک ہوگیا اور سب آلائشیں دور ہوگئیں اور یہ فعل بجائے ختنہ کے کرتے تو جب اسے غوطہ دے دیتے تو کہتے کہ اب یہ سچا نصرانی ہوگیا اس پر حق تعالیٰ نے آیت کریمہ : صبغۃ اللہ ...... نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کا دین اسلام اور احکام ہیں۔
وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً ( اور کس کا رنگ بہتر ہے خدا کے رنگ سے یعنی تمام رذائل سے پاک کرنے میں اللہ کے دین سے کوئی طریقہ اچھا نہیں۔
وَّنَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ ( اور ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں) یہ اہل کتاب پر تعریض ہے یعنی ہم تمہاری طرح شرک میں مبتلا نہیں ہیں ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اگر صبغۃ اللہ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہو تو و نحن لہ عابدون کا اٰمَنَّا پر عطف ہے ورنہ صبغۃَ اللہ پر یا اتبعوا ملۃ ابراہیم پر بتقدیر قولوا عطف ہوگا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کے رنگ کو لازم پکڑو اور کہو کہ ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں یا یہ معنی کہ ملت ابراہیمی کا اتباع کرو اور کہو کہ ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔
Ayah 2:139قُلْ : اے محمد ﷺ ! آپ ( یہود سے) کہہ دیجئے۔
اَتُحَاۗجُّوْنَـــنَا فِي اللّٰهِ ( کیا تم جھگڑا کرتے ہو خدا کے بارہ میں) یعنی اللہ کے دین میں اور اس بارے میں کہ اس نے عرب میں سے پیغمبر پیدا فرمایا اور تم میں سے پیغمبر نہ بنایا جھگڑتے ہو۔
وَھُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ ( حالانکہ وہی ہمارا اور تمہارا رب ہے) یعنی اس بارے میں ہم تم برابر ہیں کہ حق تعالیٰ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی اسے کسی خاص قوم سے زیادہ خصوصیت نہیں اور وہ پنے بندوں میں سے جسے چاہے نبوت کے لیے انتخاب کرلے اس میں تمہارا کچھ اجارہ نہیں۔
وَلَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ( اور ہمارے واسطے ہیں ہمارے اعمال اور تمہارے لئے ہیں تمہارے اعمال) یعنی ہر شخص کو اس کے کئے کی جزاء ملے گی۔
وَنَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَ ( اور ہم خالص اسی کو مانتے ہیں) یعنی تم تو مشرک ہو اور ہم مخلص اس لیے ہم تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا ہے کہ اخلاص یہ ہے کہ بندہ اپنے عمل محض اللہ کے واسطے کرے کوئی غرض اور نمائش نہ ہو اور فضل نے فرمایا کہ لوگوں کے دیکھنے کی وجہ سے ( بڑے) عمل کو چھوڑ دینا ریا ہے اور لوگوں کے دکھاوے کے لیے عمل کرنا شرک ہے اخلاص تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں سے نجات بخشے۔
Ayah 2:140اَمْ تَقُوْلُوْنَ ( کیا تم کہتے ہو) ام تقولون میں ام منقطعہ ہے اور ہمزہ انکار کیلئے ہے اور بعض نے کہا کہ ام بمعنی ہمزہ ہے اور مراد توبیخ ( دھمکانا) ہے ابن عامر حمزہ اور کسائی اور حفص نے تقولون ( کو صیغہ خطاب سے اور باقی قراء نے صیغہ غائب سے پڑھا ہے۔
اِنَّ اِبْرٰھٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطَ كَانُوْا ھُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى ۭ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ ( کہ ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا نصرانی تھی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کیا تم زیادہ جاننے والے ہو یا اللہ) یعنی تم تو ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب (علیہم السلام) کو یہودی اور نصرانی بتاتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے نہ نصرانی خالص مسلمان تھے بخلاف یہود و نصاریٰ کے کہ وہ مشرک ہیں ٰا ور جو لوگ دین حق کا اتباع کرتے تھے وہ سب کے سب ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو تھے نہ کہ مشرک اور تورات اور انجیل دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعدنازل ہوئی ہیں تو ابراہیم نصرانی یا یہودی کس طرح ہوسکتے ہیں بلکہ دین ابراہیمی کے منسوخ ہونے سے پہلے موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) خود اسی دین کے متبع تھے اب بتاؤ تمہیں زیادہ علم ہے یا اللہ کو اور یہود و نصاریٰ یہ سب کچھ جان بوجھ کر چھپاتے تھے۔
وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ ( اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے چھپائی گواہی جو اس کے پاس خدا کی طرف سے تھی) یعنی تورات میں شہادت اس بات کی موجود ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) مخلص تھے مشرک نہ تھے اور یہودیت و نصرانیت سے بری تھے اور نیز جناب رسول اللہ ﷺ کی شہادت موجود ہے پھر جو شخص اس شہادت کو چھپا دے اس سے زیادہ کوئی ظالم نہیں۔
وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ( اور اللہ بیخبر نہیں اس سے جو تم کر رہے ہو) یا اہل کتاب کو دھمکی ہے کہ ان کے سب کرتوت سے اللہ تعالیٰ واقف ہے۔
Ayah 2:141تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ ۚ وَلَا تُسْـَٔـلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ( یہ ایک جماعت تھی جو گذر چکی 1 ان کا کیا ہوا ان کے کام آئے گا اور تمہارا کیا ہوا تمہارے کام آئے گا اور تم سے ان کیلئے ہوئے کی پوچھ گچھ نہ ہوگی) اس مضمون کو مبالغہ کے لیے مکرر بیان فرمایا تاکہ اپنے آباو اجداد کے بھروسے پر نہ رہیں اور بعض نے کہا ہے کہ پہلے مضمون میں تو خطاب اہل کتاب کو تھا اور اس میں ہم کو ہے کہ مبادا یہ مسلمان ان کا قتدا کرنے لگیں اور بعض نے کہا ہے کہ پہلی آیت سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں اور دوسری سے یہود اور نصاریٰ کے آباؤ اجداد ‘ واللہ اعلم
Ayah 2:142سَيَقُوْلُ السُّفَهَاۗءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِىْ كَانُوْاعَلَيْهَا (عنقریب کہیں گے بیوقوف لوگ کہ ان کو کس بات نے پھیر دیا ان کے اس قبلہ سے جس پر کہ یہ تھے) سُفَھَآءُ سے مراد (1) [ سفاہت کا لغوی معنی ہے خفت ‘ سبکی ‘ ہلکا ہونا۔ سفیہ : سبک سر ‘ بیوقوف ‘ قاصر الفہم۔ سفاہت عقل کے تین ہی سبب ہوتے ہیں اسلاف کی کو رانہ تقلید نابینا کچھ نہیں جانتا کہ اس کا راہبر اس کو کہاں لے جا رہا ہے۔ بیوقوف جاہل اسلاف کا اندھا پیرو ہوتا ہے سلف کے زمانہ کی اولیت کو وہ ان کی صداقت حق پرستی اور روشنی عقل کی دلیل خیال کرتا ہے اور کسی معاصر کی راہنمائی کو جو راہ اسلاف کے خلاف ہو کجروی خیال کرتا ہے۔ (2) جہالت ‘ خواہش نفس ‘ محبت اسلاف ‘ توہم پرستی ‘ قومی رسم و رواج ‘ خاندانی ‘ وطنی ‘ لسانی ‘ تہذیبی اور اسی طرح کے دوسرے بیہودہ جذبات اس کے اندر ضد پیدا کرتے ہیں اور ضد کی وجہ سے علمبردار ان صداقت اور اہل حق سے اس کو عناد ہوجاتا ہے اور یہی عناد اس کو سبک سر بنا دیتا ہے منافقین مشرکین اور یہود اسلاف کے بالکل مقلد بھی تھے اور اہل عناد بھی اور نظر و فکر سے روگرداں بھی۔] وہ ہیں جن کی عقل اپنے آباؤ اجداد کی تقلید اور نظر صحیح سے روگردانی اور عناد کے سبب سے کم ہوگئی یعنی منافقین اور یہود اور مشرکین مراد ہیں۔ قِبْلَتِھِمْ میں قبلہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ اس پیشین گوئی کا فائدہ اور نکتہ یہ ہے کہ تحویل قبلہ ایک عظیم الشان انقلاب تھا اگر دفعتاً تحویل و تبدیل کا حکم نازل ہوتا تو طبیعتوں میں اس سے لگاؤ پیدا نہ ہوتا اور مِنْ وَجْہٍ انکار کی صورت پیدا ہوتی اس خبر دینے سے یہ بات جاتی رہی اور تحویل کا حکم دلوں میں خوب جم گیا نیز یہ قبل از وقت اطلاع اس اعتراض کے جواب کے لیے پہلے سے مستعد کردیتی ہے قبلہ اصل میں کسی شے کے سامنے ہونے کی حالت اور ہیئت کو کہتے ہیں جیسے جلسہ بیٹھنے کی حالت کو بولتے ہیں پھر بطور نقل کے اس مکان کو کہنے لگے جس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں، یہود اور مشرکین نے بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ کی تحویل پر اعتراض و طعن کیا تھا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی۔ ابن جریر نے سدیؔ کے طریق سے با سانید مختلفہ روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو کعبہ کی طرف توجہ کرنے کا حکم فرمایا تو مشرکین مکہ نے کہا کہ محمد کو اب اپنے دین میں خود کچھ حیرانی ہونے لگی ہے اور اب یہ سمجھ گئے ہیں کہ ہم لوگ راہ راست پر ہیں۔ اسی لئے اپنے قبلہ کو چھوڑ کر ہمارے قبلہ کو اختیار کرلیا اب عنقریب شدہ شدہ ہمارے دین میں شامل ہوجائیں گے۔ علامہ بغوی کہتے ہیں کہ تحویل قبلہ پر یہود نے معاذ بن جبل سے کہا محمد نے ہمارے قبلہ کو حسد سے ترک کردیا۔
قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۭ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ( کہہ دیجئے خدا ہی کا ہے پورب اور پچھم چلاتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ پر) حاصل آیت کا یہ ہے کہ سب جہالت اور تمام مکان اللہ ہی کے ہیں اور استقبال قبلہ عبادات میں سے ہے اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر اعتماد کرنا چاہئے کسی خصوصیت مکانی کا لحاظ اس میں معتبر نہیں تو ہم کو اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دیا ہے اس لیے ہم حکم کا اتباع کرتے ہیں۔ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ سے مراد وہ راہ ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرے۔
Ayah 2:143وَكَذٰلِكَ ( اور اسی طرح) اے امت محمد ﷺ ذالِکَکا مشارٌ الیہ یا تو پہلی آیت کا مضمون ہے اس صورت میں حاصل ہوگا کہ جس طرح ہم نے تم کو سیدھی راہ کی ہدایت کی اسی طرح تم کو امت معتدل اور بہتر بنایا اور یا آیت وَلَقَدِ اصْطَفَیْنَاہُ فِی الدُّنْیَا [ الایۃ ] کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا اسی طرح تم کو بہتر امت بنایا
جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا ( ہم نے تم کو بنایا ہے امت معتدل) یعنی ہم نے تم کو دوسروں سے بہتر اور عادل علم و عمل و معرفت سے آراستہ بنایا۔ امام احمد اور حاکم نے بروایت حضرت ابو سعید خدری ؓ مرفوعاً بیان کیا اور اس حدیث کو صحیح بھی قرار دیا کہ وَسَطًا کے معنی ہیں عدلاً ( معتدل) لفظ وَسَطْ ایسی درمیانی جگہ کو کہتے ہیں جس کے ہر جانب کا فاصلہ برابر ہو پھر خصائل محمودہ کے لیے مجازاً اس کا استعمال کیا جانے لگا کیونکہ اچھے خصائل افراط وتفریط کے درمیان ہی ہوتے ہیں جیسے جود اسراف اور بخل کے درمیانی درجہ کا نام ہے اور شجاعت تہور اور بزدلی کے بین بین ہے پھر اس کا اطلاق خود اس شخص پر ہونے لگا جو خصائل محمودہ سے آراستہ ہو۔ واحد و جمع مذکر اور مؤنث سب پر اس کا اطلاق آتا ہے چناچہ دوسرے مقام پر حق تعالیٰ فرماتا ہے : قَالَ اَوْسَطُھُمْ ( کہا اس شخص نے جو ان میں سے بہتر تھا) یہاں اوسط کا اطلاق واحد پر آیا ہے۔
کلبی کہتے ہیں کہ اس آیت میں مضاف محذوف ہے اور مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا ہے۔ تقدیر آیت کی یہ ہے : جَعَلْنٰکم اھل دین وسط یعنی ہم نے تم کو دین وسط والا بنایا۔ اسلام کو دین وسط اس وجہ سے فرمایا کہ احکام شرعیہ میں نہ افراط ہے نہ تفریط علماء نے اس آیت کو اجماع امت محمدیہ کے احکام میں حجت ہونے کی دلیل ٹھہرایا ہے کیونکہ اگر مسئلہ اجماعی واجب القبول نہ ہو تو امت کا غیر عادل ہونا لازم آئے گا۔ اگر اعتراض کیا جائے کہ یہ مسلم ہے کہ مجتہد اگر اپنے اجتہاد میں خطا کرے تو اس سے اس کی عدالت میں کوئی نقصان نہیں ہوتا تو اب اگر خطا پر سب کا اتفاق ہوجائے تو اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ ان کی عدالت میں کچھ نقصان ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ اوّل ہم کہہ چکے ہیں کہ لفظ وسط کا اطلاق مجازی اوّل خصائل حمیدہ پر ہوتا ہے پھر اس شخص پر اطلاق ہونے لگا جو ان خصائل کے ساتھ متصف ہو اور کلبی کے قول کے موافق وسط سے پہلے لفظ دین محذوف ہے بہر حال خواہ خود امت کو وَسَطَ کہا جائے یا ان کے دین کو وَسَطَ کہیں ہر حال میں اس آیت سے یہ صاف سمجھا جاتا ہے کہ اس دین کے احکام اور ان کے خصائل سب کے سب محمود ہیں تو اجماع میں خطا واقع ہونے سے اگرچہ وہ معذور قرار دیئے جائیں گے لیکن یہ ضرور سمجھا جائے گا کہ بعض خصائل ان کی مذموم ہیں تو تمام خصائل کا محمود ہوناجو آیت سے معلوم ہوتا ہے کس طرح ثابت ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ ایک روز سرور عالم ﷺ بعد عصر کے کھڑے ہوئے اور جو کچھ قیامت تک واقعات ہونے والے تھے آپ ﷺ نے ایک ایک کا ذکر فرمایا حتیٰ کہ جب دھوپ درختوں کی چوٹیوں اور دیواروں کی منڈیروں پر چلی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا کی عمراب اتنی ہی باقی ہے جس قدر کہ یہ دن باقی ہے اور اسی قدر گزر چکی ہے جس قدر کہ دن گذر چکا ہے یاد رکھو کہ یہ امت ( یعنی امت محمدیہ) ستر امتوں کا کام دیتی ہے اور ان سب سے اللہ کے نزدیک یہ امت بہتر اور بزرگ ہے۔ اس حدیث کو علامہ بغوی نے روایت کیا ہے اور ترمذی، ابن ماجہ اور دارمی نے اس کو بروایت بہز بن حکیم بیان کیا ہے۔ دارمی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس نے کعب احبار سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا بیان تورات میں کس طرح ہے ؟ انہوں نے کہا ہم نے تورات میں لکھا پایا ہے کہ وہ محمد بن عبد اللہ ہیں مکہ میں پیدا ہوں گے اور طابہ (مدینہ) کی طرف ہجرت فرمائیں گے اور ملک شام ان کے قبضہ میں ہوجائے گا نہ وہ بد زبان ہوں گے اور نہ بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کے بدلہ میں برائی نہ کریں گے بلکہ در گذر کریں گے ان کی امت اللہ تعالیٰ کی حمد بہت کرنے والی ہوگی ہر سختی اور نرمی خوشی اور غم کی حالت میں اللہ کی حمد کرے گی بلند جگہ پر چڑھتے ہوئے تکبیر کہنے والی اور اپنے دست و پا کو وضو سے منور کرنے والی ہوگی وسط کمر پر تہ بند باندھیں گے نمازوں میں ایسی صف بندی کریں گے جیسے کہ لڑائی میں۔ مسجدوں میں ان کی آوازیں شہد کی مکھی کی آواز سی نرم اور پست ہوں گی لیکن نہ اتنی پست کہ دوسرا ( پاس والا) نہ سن سکے۔
لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ ( تاکہ بنو تم گواہ لوگوں پر) یعنی قیامت کے روز امت محمدیہ حق تعالیٰ کے سامنے گواہی دے گی کہ انبیاء نے اپنی امت کو احکام پہنچا دئے یہی معنی گواہ ہونے کے ہیں اور لِتَکُوْنوا [ الایۃ ] امت محمدیہ ﷺ کے عادل بنانے کی علت ہے۔ اس آیت سے یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ شہادت کے لیے عدالت شرط ہے
وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا (اور ہوجائے رسول تم پر گواہ) رسول سے مراد محمد ﷺ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے گواہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ قیامت میں آپ ﷺ اپنی امت کے گواہ اور مز کی ہوں گے اور گواہ چونکہ مثل رقیب یعنی نگراں کے ہوتا ہے اور رقیب کا صلہ علیٰ آتا ہے اس لیے شہید کا صلہ بھی علیٰ لائے اگرچہ بظاہر لام لانا مناسب معلوم ہوتا تھا۔
علامہ محمد حسین بغوی فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اوّلین و آخرین کو ایک جگہ جمع کرے گا پھر گذشتہ امتوں کے کفار سے خطاب کرکے فرمائے گا کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا ؟ وہ صاف انکار کردیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نہیں آیا پھر اللہ تعالیٰ انبیاء سے دریافت فرمائے گا انبیاء متفق اللفظ ہو کر کہیں گے کہ اے اللہ ہم پیام پہنچا چکے یہ صریح جھوٹ بولتے ہیں۔ اللہ باوجودیکہ عالم الغیب ہے مگر اتمام حجت کے لیے انبیاء سے گواہ طلب فرمائے گا۔ اس وقت امت محمد ﷺ حاضر ہوگی اور گواہی دے گی کہ انبیا نے سب احکام انہیں پہنچا دیئے ہیں۔ کفار بولیں گے انہیں کیسے معلوم ہوا کہ پہنچا چکے یہ تو ہم سے برسوں بعد پیدا ہوئے ہیں امت محمدیہ ﷺ جواب دے گی کہ حق تعالیٰ نے ہمارے پاس رسول بھیجا اور اس پر کتاب نازل فرمائی اس میں ہم کو خبر دی کہ سب انبیاء نے اپنی اپنی امت کو احکام پہنچا دیئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سب سچوں سے زیادہ سچا ہے اس کے بعد محمد ﷺ بلائے جائیں گے اور امت کی حالت ان سے پوچھی جائے گی آپ ان کی سچائی اور عدالت کی گواہی دیں گے۔
بخاری ‘ ترمذی اور نسائی نے ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن نوح ( علیہ السلام) بلائے جائیں گے اور ان سے دریافت کیا جائے گا کیا تبلیغ کی ؟ نوح ( علیہ السلام) عرض کریں گے۔ پروردگار میں نے بیشک تیرا پیام پہنچا دیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی امت سے دریافت فرمائے گا کہ تم کو نوح ( علیہ السلام) نے احکام پہنچائے وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی آیا نہیں پھر نوح ( علیہ السلام) سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا کوئی گواہ ہے نوح ( علیہ السلام) عرض کریں گے میرے گواہ محمد ﷺ اور ان کی امت ہے۔ حضور فرماتے ہیں کہ پھر تم وہاں آکر گواہی دو گے۔ پھر آپ نے آیت : وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ.... پڑھی اور فرمایا تم تو نوح ( علیہ السلام) کی تبلیغ کی گواہی دو گے اور میں تمہاری گواہی دوں گا۔ امام احمد نسائی اور بیہقی نے ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے اس طرح بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک نبی آئیں گے کہ ان کے ساتھ صرف ایک ہی آدمی ان کا امتی ہوگا پھر ایک اور نبی آئیں گے ان کے ساتھ دو آدمی ہوں گے اسی طرح آتے رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سب سے دریافت فرمائیں گے کہ تم نے تبلیغ کی سب کہیں گے کہ خدا وندا کی تھی پھر ان کی امتوں سے دریافت کیا جائے گا کہ انہوں نے تمہیں احکام پہنچائے ؟ وہ سب انکار کریں گے پھر انبیاء سے گواہ طلب کئے جائیں گے وہ امت محمد ﷺ کو پیش کریں گے پھر امت محمدیہ سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس طرح معلوم ہوا عرض کریں گے ہمارے پاس نبی کتاب لے کر آئے اس میں یہ بھی تھا کہ انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی امت کو احکام پہنچائے ہم نے اس کی تصدیق کی کہا جائے گا بیشک تم سچ کہتے ہو۔
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْهَآ ( اور انہیں بنایا تھا ہم نے وہ قبلہ جس پر آپ پہلے تھے) جَعَلَ یا تو ایک مفعول کی طرف متعدی ہے اس تقدیر پر التی اپنے ما بعد سے مل کر القبلہ کی صفت ہوگا اور مضاف محذوف ہوگا تقدیر عبارت کی اس طرح ہوگی : وَ مَا جَعَلْنَا تَحْوِیل القبِلَْۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا (یعنی نہیں کی ہم نے تبدیل اس قبلہ کی جس پر آپ پہلے سے تھے مگر اس لیے .......) اور قبلہ سے مراد اس وقت بیت المقدس ہوگا یا دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے اور مفعول ثانی مخذوف ہے اس صورت میں تقدیر آیت کی یہ ہوگی : وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا مَنْسُوْخَۃً ( یعنی نہیں کیا ہم نے اس قبلہ کو جس پر آپ پہلے سے تھے منسوخ مگر اس لیے۔۔ ) اور یہ بھی ممکن ہے کہ القبلہ۔ ما جعلنا کا مفعول اوّل ہو اور الجہۃ محذوف ہو اور الَّتِیْ اپنے ما بعد سے مل کر اسی محذوف لفظ کی صفت ہو۔ اس صورت میں حاصل آیت کا یہ ہوگا کہ اصل تو یہی تھا کہ قبلہ بیت اللہ ہو لیکن ہم نے جو اول بیت المقدس کو قبلہ بنا دیا تو وجہ اس کی یہ ہے ...... اور ہوسکتا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہوں کہ نہیں بنایا ہم نے قبلہ اس قبلہ کو جس پر اس وقت آپ ہیں یعنی کعبہ کو مگر اس لیے۔۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ نہیں بنایا ہم نے قبلہ اس وقت اس جہت کو جس پر آپ پہلے ہجرت سے تھے یعنی کعبہ کو مگر اس واسطے ........ اور یہ تفسیر اس پر مبنی ہے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ حضور سرور عالم ﷺ نے قبل از ہجرت کعبہ کی طرف نماز پڑھی ہے اور اس تفسیر کے موافق یہ بھی لازم آتا ہے کہ نسخ قبلہ کا دو مرتبہ ہو۔ نیز آیت : سَیَقُوْلُ السُّفَھَآءُ..... کی رفتار اور طرز سے جو سمجھا جاتا ہے یہ تفسیر اس کے مخالف ہے یہاں اَلَّتِیْ کَانُوْا عَلَیْھَا سے مراد قطعاً بیت المقدس ہے اس کے موافق اس آیت میں اَلَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا سے بھی بیت المقدس ہی ہونا چاہئے۔ قیاس مقتضی تھا کہ عبارت اس طرح ہو وَ مَا جَعَلْنَا الَّتِیْ کُنْتَ عََلَیْھَا قِبْلَۃً یعنی الَّتِیْ کُنْتَ عَلَیْھَا مقدم ہوا اور قبلۃً موخر لیکن اظہار اہمیت کے لیے قبلہ کو اوّل مفعول بنایا یوں کہو کہ یہ عبارت باب قلب سے ہے۔
اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِـــعُ الرَّسُوْلَ ( مگر اس واسطے کہ ہم معلوم کرلیں ان لوگوں کو جو پیروی کریں رسول کی) یعنی تبدیل قبلہ اس غرض سے ہوئی ہے تاکہ ہم اس شخص کو جان لیں جو نماز میں رسول اللہ ﷺ کا اتباع کرتا ہے کہ جس طرف آپ بحکم الٰہی توجہ فرماتے اسی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے جو الٹے پاؤں پھرجائیں یعنی اطاعت نہ کریں متمیز ہوجائے۔
مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ( الگ ان لوگوں سے جو پھرجائیں الٹے پاؤں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو تحویل قبلہ کے بعد مرتد ہوگئے تھے۔ چناچہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جب قبلہ کی تحویل واقع ہوئی تو مسلمانوں میں سے ایک قوم یہودی بن گئی اور یہ کہا کہ محمد ﷺ پھر اپنے باپ دادا کے دین پر ہوگئے۔ اِلَّا لِنَعْلَمَ ۔ علَم یا تو بمعنی معرفت ہے اور مَنْ یَّتَّبِعُ ۔ لِنَعْلَمَ کا مفعول ہے اور مِمَّنْ یَنْقَلِبُ ۔ لِنَعلم کے متعلق ہے اور مَنْ کے اندر جو معنی استفہام کے ہیں اس کے متعلق ہے یا مَنْ کو موصولہ اور لنعلم کا مفعول کہا جائے اور مِمَّنْ یَنْقَلِبُ کو مفعول ثانی قرار دیا جاوے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے تاکہ ہم اس شخص کو جو رسول کی پیروی کرتا ہے جدا جان لیں اس شخص سے جو الٹے پاؤں پھرے “ اس مقام پر ایک سوال مشہور ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم قدیم تحویل قبلہ کی غایت کس طرح بن سکتا ہے وہ تو پہلے ہی سے ہر شخص کی حالت جانتا ہے اس کے مختلف جواب دیئے گئے ہیں ایک جواب یہ ہے کہ اہل معافی نے کہا ہے کہ لام تعلیل کے لیے ہے غایت کا نہیں ہے اور صیغہ مضارع کا بمعنی ماضی ہے جیسے فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَبْبِیَاء اللّٰہمیں مضارع بمعنی ماضی ہے تو اس جواب کے معنی اس طرح ہوں گے کہ ” تحویل قبلہ اس وجہ سے ہوئی کہ پہلے سے ہم رسول کی پیروی کرنے والے کو غیر مطیع اور الٹے پھرجانے والے سے ( الگ) جانتے ہیں یعنی ہم اوّل سے جانتے تھے کہ تحویل قبلہ ایک قوم کی ہدایت کا سبب ہے اور ایک قوم کی گمراہی کا سبب ہے۔
بعض (1) [ اللہ کا علم ازلی قدیم محیط کل ہے وہ ہر چیز کو اس پیدائش سے بہت پہلے ازل میں ہی جانتا تھا یہ علم زمانہ اور زمانیات سے پاک ہے اور اجمالی ہے لیکن اجمالی ہے لیکن اجمالی ناقص نہیں۔ ہمارا اجمالی علم ناقص ہوتا ہے البتہ اللہ کا اجمالی علم ناقص نہیں ہوتا ( جمالی کہنے کی صرف یہ وجہ ہے کہ ہر چیز کے وجود سے پہلے بحیثیت مجموعہ انکشاف ہوتا ہے اس کا تعلق حدوث شئ سے نہیں ہوتا یعنی شئ کے وجود بالفعل پر موقوف نہیں اس لیے یہ اللہ کی صفت کمالیہ ہے لیکن اللہ کو ایک دوسرا علم بھی ہوتا ہے جس کو تمیز یا ظہور فعلی کہہ سکتے ہیں یہ علم حادث ہوتا ہے شۂ کے وجود کے بعد ہوتا ہے اسی لیے یہ اللہ کی صفت کمالیہ نہیں۔ حضرت مؤلف نے دونوں طرح کے علم کی طرف اشارہ کردیا اور دوسری شق میں علم حادث کی طرف ] نے یہ جواب دیا ہے کہ علم سے مراد تمیز ہے جو علم کا سبب ہے سبب کا نام مسبب کو دیدیا اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے تاکہ ہم حق پرست کو اہل باطل سے متمیز کرلیں “ اور بعض کہتے ہیں کہ مضاف محذوف ہے اور معنی یہ ہیں تاکہ ہمارے رسول اور اولیاء جان لیں “ تو اس صورت میں علم رسول اور اولیاء کی صفت ہوگا اور مجازاً اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور اولیاء کے اظہار شرف کے لیے اپنی ذات کی طرف منسوب کردیا ہے جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک بندہ سے فرمائے گا کہ میں مریض ہوا تو نے میری عیادت نہ کی تو جس طرح اس حدیث میں بندہ کے مریض ہونے کو اپنا مریض ہونا قرار دیا اسی طرح یہاں بندوں کے علم کو اپنا علم قرار دیا یہ جس قدر تاویلات اور جوابات ہیں تکلف سے خالی نہیں۔
تحقیقی جواب یہ ہے کہ کہ شیخ ابو منصور ماتریدی (رح) کہتے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ جس شے کو ہم اوّل سے جانتے تھے کہ وہ موجود ہوگی اس کو ہم موجود جان لیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ازل میں اس امر کو تو جانتا تھا کہ جس وقت ہم چاہیں گے فلاں شأ موجود ہوجائے گی اور ازل میں یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس وقت فلاں شأ کو جواب تک موجود نہیں ہوئی موجود جانتا ہے کیونکہ جو شے موجود نہیں ہوئی اس کو موجود کس طرح جان سکتا ہے یہ تو خلاف واقع ہے۔ اس صورت میں علم باری میں تغیر لازم نہیں آتا کیونکہ تغیر معلوم میں ہوا ہے نہ علم میں اور بعض نے اسی طرح تقریر کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے کہ مراد علم سے علم کا تعلق حالی ہے جو مدار جزا کا ہے اور معنی لنعلم کے یہ ہیں تاکہ ” علم ہمارا اس کے وجود سے متعلق ہو۔ “
وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَةً ( اور بیشک یہ شاق گذرا ہے) اِن مثقلہ سے مخففہ کرلیا ہے اور لَکَبِیْرَۃً کا لام ان شرطیہ اور ان میں فرق کرنے کے لیے آیا ہے۔ سیبویہ کہتے ہیں کہ ان تاکید کے لیے آیا ہے اور مشابہ قسم کے ہے اسی واسطے اس کے جواب پر لام آیا اور کو فیوں نے کہا ہے کہ ان نافیہ ہے اور لام بمعنی الا ہے اور وَ اِنْ کَانت کی ضمیروَ مَا جَعلْنَا القِبْلَۃَ میں جو جَعَلَ مفہوم ہوتا ہے یا تو اس کی طرف راجع ہے اور یا قِبْلَۃ یا تبدیل و تحویل کی طرف راجع ہے۔
اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللّٰهُ ۭ وَمَا كَان اللّٰهُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ ( مگر ان پر جن کو اللہ نے ہدایت دی اور اللہ ایسا نہیں کہ ضائع کردے تمہارے ایمان) ھَدَی اللہ میں مفعول ھُمْ محذوف ہے۔
لِیُضِیْعَ اِیْمَانَکُمْ میں اِیْمَان سے یا تو ایمان پر جمنا اور قائم رہنامراد ہے اور یا قبلہ منسوخ شدہ پر ایمان رکھنا مقصود ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مراد ایمان سے نماز ہے چناچہ مروی ہے کہ حیی بن اخطب یہودی اور اس کے رفیقوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ تم نے جو اتنے زمانہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے یہ ہدایت تھی یا گمراہی، اگر ہدایت تھی تو تم نے ہدایت سے روگردانی کی اور اگر گمراہی تھی تو تم نے گمراہی کے ساتھ اللہ کی عبادت کی۔ مسلمانوں نے جواب دیا کہ ہدایت وہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ حکم فرمائے اور گمراہی وہ ہے جس سے منع کرے۔ جب تک بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم رہا اس وقت تک وہ ہدایت تھا اور جب منع کردیا تو گمراہی ہے، تحویل قبلہ سے پہلے بنی النجار میں سے اسعد بن زرارہ اور بنی سلمہ میں سے براء بن معرور وفات پا گئے تھے اور یہ دونوں نقباء میں سے تھے اور بھی بہت سے لوگ اس سے پہلے انتقال کر گئے تھے تو ان کے عزیز و اقارب حضور سرور عالم ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تو قبلہ ابراہیمی کی طرف منہ کرنے کا حکم فرما دیا ہے اور ہمارے بھائی جو بیت المقدس کی طرف ہی نماز پڑھتے پڑھتے مرگئے ان کا کیا حال ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت : وَ مَا کَانَ اللہ لیضِیْعَ اِیْمانَکُمْ نازل فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ تمہاری نماز کو جو بیت المقدس کی طرف تم نے پڑھی ہے ضائع فرمائے۔
صحیحین میں براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ تحویل قبلہ سے قبل بہت سے آدمی مرگئے اور شہید ہوگئے تھے ہم کو کچھ علم نہ تھا کہ ان کے بارے میں کیا کہیں ( آیا ان کی نمازیں اکارت گئیں یا انہیں ثواب ملے گا) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔
اِنَّ اللّٰهَ بالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ ( بیشک اللہ لوگوں پر شفت رکھنے والا بڑا مہربان ہے) نافع ابن کثیر اور حفص نے لَرَُؤفٌ کو فعولٌ کے وزن پر ضمہ کو خوب ظاہر کرکے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے فُعُلٌ کے وزن پر اختلاس حرکت (خفیف حرکت) سے پڑھا ہے۔ رأفۃ کے معنی شدت رحمت کے ہیں اور رحیم پر اس کو مقطع آیات کی رعایت کی وجہ سے مقدم کیا ہے۔