2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:241

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق نان و نفقہ دینا چاہیئے پرہیزگاروں پر (یہ بھی) حق ہے

وَلِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ ( اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ان کو دستور کے مطابق فائدہ پہنچانا) یعنی دولتمند پر اس کی حیثیت کے موافق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے موافق واجب ہے۔ حَقًّا عَلَي الْمُتَّقِيْنَ ( یہ ان لوگوں پر لازم ہے جو ( شرک سے) پرہیز کرنے والے ہیں) بعض کہتے ہیں کہ اس آیت میں متاع سے مراد ایام عدت کا نفقہ ہے اور یہی مراد اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : وصیۃ لازواجھم متاعا الی الحول میں ہے اور ان دونوں آیتوں کے ایک معنی مراد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں صورتوں میں یعنی موت میں طلاق میں عورت شوہر کے حقوق کی وجہ سے مقید رہتی ہے اس لیے شوہر کے مال میں سے اس کو خرچ دینا واجب ہے۔ یہ حکم یعنی طلاق کی عدت میں عورت کا خرچ واجب ہونا اگر رجعی طلاق ہو تو اس پر سب کا اجماع ہے لیکن اگر طلاق بائنہ ہو تو اس آیت میں عام لفظ ہونے کی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تب بھی یہی حکم ہے اور دوسری دلیل یہ آیت ہے : اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم ابن مسعود کی قراءت میں اس طرح ہے : اسکنوھن من حیث سکنتم وانفقوا اعلیھن من وجدکم (یعنی ان ( مطلقہ عورتوں) کو وہیں رکھو جہاں تم رہتے ہو اور اپنی حسب حیثیت ان پر خرچ کر) تیسری دلیل جابر ؓ کی یہ حدیث ہے کہ حضور نے فرمایا : المطلقۃ ثلٰثا لھا السکنی والنفقۃ ( یعنی تین طلاق والی عورت کو ( رہنے کو) گھر اور خرچ دینا چاہئے) یہ حدیث دارقطنی نے نقل کی ہے اگر کوئی اعتراض کرے کہ ابن جوزی نے لکھا ہے کہ اس (حدیث کی سند) میں حارث بن ابو العالیہ (راوی) ہے اور یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ ضعیف ہے ہم کہتے ہیں ذہبیء نے کہا ہے کہ حارث بن ابو العالیہ ابو معاذ عبد اللہ قواریری کا استاد ہے اس کو ضعیف کہنا بلا حجت ہے چوتھی دلیل یہ ہے کہ عورت کو خرچ ملنے کی جو وجہ وہاں ہے وہی یہاں بھی ہے اور وہ شوہر کے حقوق کی وجہ سے یا تو اس کا مقید رہنا ہے تاکہ رحم کا (بچہ سے) خالی ہونا ظاہر ہوجائے یا اس کے ساتھ مروت کرنا ہے اور اس کے مقابلہ میں کہ وہ شوہر کی جدائی میں سوگ کرتی اور صدمہ اٹھاتی ہے اس کو خرچ دیا جاتا ہے۔ پھر بیوہ کا نفقہ بالکل ہی منسوخ نہیں ہوا بلکہ خرچ دینے کے بدلے میں اس کے لیے میراث واجب ہوگئی اس لیے گویا یہ حکم منسوخ ہی نہیں ہوا امام مالک اور امام شافعی کا قول ہے کہ بیوہ کے لیے نفقہ واجب نہیں ہے ہاں (رہنے کو) گھردینا واجب ہے اور یہی ایک روایت امام احمد سے بھی ہے اور امام احمد کے نزدیک نہ اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ گھر ہے انہوں نے فاطمہ بنت قیس کی حدیث سے دلیل لی ہے کہ ( ان کے شوہر) ابو عمرو بن حفص نے کہیں باہر جا کر انہیں بائنہ طلاق دیدی تھی اور اپنے وکیل کے ہاتھ تھوڑے سے جو (ان کے کھانے کے لیے) بھیج دیئے تھے فاطمہ ان پر بہت ناراض ہوئیں تو وکیل نے کہا کہ خدا کی قسم ہمارے پاس آپ کے لیے اور کچھ نہیں ہے یہ دوڑی ہوئی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئیں اور یہ سارا ماجرا حضور ﷺ سے عرض کیا آپ نے بھی صاف فرمایا کہ : لیس لک نفقۃ ( تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے) اور انہیں یہ حکم دیا کہ ام شریک کے گھر تم عدت گذار لو پھر خود ہی فرمایا کہ ام شریک کے ہاں تو میرا اکثر صحابہ آتے جاتے ہیں ( تمہیں پردہ وغیرہ کی تکلیف ہوگی) تم ابن ام مکتوم کے ہاں عدت پوری کرلو۔ یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے اور ایک روایت میں یہ ہے کہ فاطمہ کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیدی تھیں وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں ( آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا) آپ نے فرمایا کہ تمہارے لیے نفقہ نہیں ہے ہاں اگر تم پیٹ سے ہوتیں ( تو نفقہ مل جاتا) امام احمد (رح) نے ابن عباس سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے فاطمہ بنت قیس نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ نے نہ مجھے ( رہنے کو) کوئی گھردلوایا تھا اور نہ کچھ خرچ دلوایا تھا اور اس حدیث ( کی سند) میں حجاج بن ارطاۃ ( راوی) ضعیف ہے امام احمد نے فاطمہ سے روایت کی ہے کہتی ہیں رسول اللہ نے فرمایا تھا کہ عورت کے لیے گھر اور نفقہ جب ہی تک ہے کہ اس کا شوہر اس سے رجعت کرسکے اور جب وہ اس سے رجعت نہیں کرسکتا تو نہ اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ گھر ہے۔ پس اسی حدیث کی وجہ سے امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ اس کے لیے گھر بھی نہیں ہے لیکن امام شافعی اور ان کے ساتھی گھر کو اللہ تعالیٰ کے ارشاد : واسکنوھن کی وجہ سے واجب کہتے ہیں گویا انہوں نے ( بھی) اس حدیث پر من وجہ عمل چھوڑ دیا ہے ہماری طرف سے جواب یہ ہے کہ فاطمہ بنت قیس کی حدیث کتاب ( الٰہی) کے مخالف ہے اس لیے وہ متروک ہے اور اکثر صحابہ کی موجودگی میں حضرت عمر بن الخطاب ؓ نے ( بھی) اس پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ترمذی نے سند کے ساتھ مغیرہ سے انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں فاطمہ بنت قیس نے بیان کیا کہ رسول اللہ کے زمانہ میں میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیدی تھیں اور آنحضرت نے ( مجھ سے) فرمادیا تھا کہ تیرے لیے ( تیرے خاوند کے ذمہ) نہ گھر ہے اور نہ نفقہ ہے مغیرہ کہتے ہیں میں نے اس حدیث کا ابراہیم سے ذکر کیا وہ کہنے لگے کہ (فاطمہ کے جواب میں) حضرت عمر ؓ نے یہ فرمایا تھا کہ ایک عورت کے کہنے پر ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی ﷺ کے طریقہ کو نہیں چھوڑتے ہمیں نہیں معلوم کہ اس کو خوب یاد ہے یا یہ کچھ بھول گئی ہے اور حضرت عمر ؓ ایسی عورت کو (رہنے کے لیے) گھر برابر دلاتے تھے ابن جوزی کہتے ہیں کہ ابراہیم نے حضرت عمر ؓ کا زمانہ نہیں پایا اور اکثر لوگوں نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے یہ فرمایا تھا کہ ( اس کے کہنے سے) ہم اللہ کی کتاب کو نہیں چھوڑ سکتے اور نبی کے طریقہ کا ذکر نہیں کیا تھا اور یہی صحیح بھی ہے دوسرے یہ کہ جب کسی صحابی کے قول کے خلاف رسول اللہ ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہوجائے تو اس کے مقابلہ میں صحابی کا قول نہیں مانا جاتا ہم کہتے ہیں اگر ابراہیم نے حضرت عمر ؓ کا زمانہ نہیں پایا تو یہ حدیث مرسل ہے اور مرسل ہمارے نزدیک حجت ہے اور جب حضرت عمر کا یہ فرمانا کہ ہم اپنے نبی کے طریقہ کو نہیں چھوڑ سکتے ثابت ہوگیا تو یہی ان کی مرفوع روایت ہے اور اگر ہم اس کو تسلیم بھی کرلیں تو جب ابن جوزی نے حضرت عمر ؓ کے اس قول کے صحیح ہونے کا اقرار کرلیا کہ ہم اللہ کی کتاب کو نہیں چھوڑ سکتے تو ہمارے مدعا کے لیے کافی ہے کیونکہ حضرت عمر ؓ کا قول ابن مسعود ؓ کی قرأت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتا ہے : انفقوھن من وجدکم۔ پس اسی سے مدعا ثابت ہوگیا اور اسی آیت کی تاویل میں بعض کا قول یہ ہے کہ متاع بالمعروف سے متعہ مراد ہے جو نفقہ کے سوا ہو اور وہ ( یعنی متعہ) تین کپڑے ہیں جیسا کہ اس عورت کے حق میں ہے کہ جسے بےہاتھ لگائے طلاق دیدی گئی ہو اس تاویل کے مطابق امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک للمطلقات میں لام عہدخارجی کے لیے ہے اس پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو ابن جریر نے ابن زید سے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جب آیت : ومتعوھن علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہ متاعاً بالمعروف حقا علی المحسنین نازل ہوئی تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر میں (اپنی جورو 1 ؂ پر) احسان کرنا چاہوں تو کردوں اور اگر نہ چاہوں تو نہ بھی کرو ( مطلب اس کا یہ تھا کہ اس کو دینا میرے ذمہ لازم نہیں ہے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : و للمطلقات متاع بالمعروف حقا علی المتقین پس اس معنی پر متعہ اس عورت کے لیے ثابت ہوتا ہے جسے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی گئی ہو اور یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اگر یہی تاویل ہے تو پھر امام ابوحنیفہ (رح) کے یہ فرمانے کی کیا وجہ ہے کہ متعہ اس عورت کو دینا مستحب ہے جسے ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی گئی ہو مہر مقرر ہوا ہو یا نہ ہو ہم کہتے ہیں کہ ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی ہوئی عورت کو متعہ دینے کا مستحب ہونا اس آیت سے ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ : فتعالین امتعکن و اسرحکن سراحا جمیلا وا اللہ اعلم۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ لام (للمطلقات) میں استغراق کے لیے ہے اور اسی وجہ سے ان کے نزدیک ہر مطلقہ کے لیے متعہ واجب ہے سوائے اس عورت کے کہ جسے ہاتھ لگانے سے پہلے اور مہر مقرر کرنے کے بعد طلاق دی گئی ہو میں کہتا ہوں اگر تاویل اسی طرح ہے ( یعنی تم اس لام کو استغراق کے لیے لیتے ہو) تو پھر اس عورت کو استثنا کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے کہ جسے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی گئی ہو۔ ہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ استثنا کی یہ وجہ ہے کہ اس صورت میں متعہ وہ نصف مہر ہی ہے جیسا کہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں تو اب ہم کہتے ہیں امام شافعی نے جو یہ تاویل ذکر کی ہے یہ بھی ان ہی مذکورہ احتمالوں میں سے ایک احتمال ہے جیسا کہ تم پہلے سن چکے ہو لہٰذا ہر مطلقہ کے لیے متعہ واجب ہونے میں شک پڑگیا اور شک سے وجوب ثابت نہیں ہوتا اس لیے ان احتمالوں میں سے ایک احتمال پر عمل کرنے کے لیے ہم استحباب کے قائل ہیں۔ وا اللہ اعلم
Ayah 2:242

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اسی طرح خدا اپنے احکام تمہارے لئے بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو

كَذٰلِكَ ( اسی طرح) یہ اس طرف اشارہ ہے جو طلاق اور عدت کے احکام پہلے گذر چکے ہیں۔ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰيٰتِهٖ ( اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اپنی آیتیں بیان کرتا ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے (فائدہ کے) لیے عنقریب وہ دلائل اور احکام بیان کریگا جن کی انہیں معاش اور معاد ( دونوں) کے لیے ضرورت ہوگی۔ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ ( تاکہ تم سمجھو) اور ان میں عقل کو کام میں لاؤ۔
Ayah 2:243

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

اَلَمْ تَرَ ( کیا تم نے نہیں دیکھا) یہ لفظ ما بعد کا حال سنانے کے لیے شوق اور تعجب دلاتا ہے پس (الم ترکہنا) تعجب دلانے میں ایک مثل ہوگیا اور اس سے ایسے شخص کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ جس نے اس سے پہلے یہ واقعہ نہ سنا ہو اور نہ دیکھا ہو یا یہ تقریر (اور تاکید) ہے ایسے شخص کے لیے جس نے ان کا قصہ اہل کتاب اور اہل تواریخ سے سن لیا ہو یا اس کے یہ معنی ہیں کہ ( اے مخاطب) کیا تو میرے بتانے سے بھی نہیں سمجھتا اور اس میں بھی ایک قسم کا تعجب دلانا ہے اور قرآن شریف میں جہاں کہیں الم ترکا لفظ آیا ہے اور اس کو نبی ﷺ نے نہیں دیکھا وہاں سب جگہ اسی قسم کے معنی مراد ہیں۔ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوْفٌ ( ان لوگوں کو جو اپنے گھروں سے نکل کے چل دیئے اور وہ ہزاروں 2 ؂ تھے) عطا خراسانی کہتے ہیں کہ تین ہزار تھے وہب کہتے ہیں چار ہزار تھے حاکم نے اسی طرح نقل کیا ہے اور اس کا ابن عباس سے ہونا صحیح کہا ہے۔ اور بعض کہتے ہیں آٹھ ہزار تھے سدی فرماتے ہیں کہ کچھ اوپر تیس ہزار تھے اور ابن جریج کہتے ہیں چالیس ہزار تھے ابن جریر نے ایک منقطع سند کے ساتھ ابن عباس سے چالیس ہزار اور آٹھ ہزار ہونا نقل کیا ہے اور عطا بن رباح کہتے ہیں کہ ستّر ہزار تھے اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ الوف الفت سے ماخوذ ہے اور مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مؤلفۃ القلوب تھے۔ حَذَرَ الْمَوْتِ ۠ ( موت کے ڈر کے مارے) یہ مفعول لہٗ ہے۔ بغوی کہتے ہیں کہ واسط کی طرف داوردَان ایک گاؤں تھا وہاں طاعون پھیلا تو وہاں کے کچھ آدمی تو بھاگ گئے اور کچھ وہیں رہے جو وہیں رہ گئے تھے ان میں سے اکثر مرگئے اور جو بھاگ گئے تھے وہ بچ گئے اور جب طاعون رفع ہوگیا تو وہ آدمی پھر اپنے اپنے گھر چلے آئے اور جو وہیں رہ گئے تھے ( انہیں دیکھ کر) کہنے لگے کہ ہمارے یہ ساتھی ہم سے بہت ہوشیار تھے اگر ہم بھی ایسا کرتے جیسا کہ انہوں نے کیا تھا تو ہم سب بھی زندہ رہتے اور اگر اب کے دبارہ طاعون پھیل گیا اور اس گاؤں کے اکثر رہنے والے بھاگ گئے اور ایک چٹیل بیابان میں جا اترے جب وہ ایسی جگہ پہنچ گئے کہ جہاں وہ ( اپنی) نجات ( اور تندرستی) چاہتے تھے تو ایک فرشتہ نے اس جنگل کی نشیبی جانب سے اور دوسرے نے اوپر سے انہیں آواز دی کہ موتوا ( مرجاؤ) وہ سب کے سب وہیں مرگئے ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے اسی طرح نقل کیا ہے امام احمد ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ نسائی نے اسامہ بن زید ؓ سے ‘ انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے حضور ﷺ نے فرمایا : اذا سمعتم بالطاعون فی الارض فلا تدخلوا علیہ واذا وقع بارض فلا تخرجوا منھا و انتم فرار منہ ( یعنی جب کسی مقام میں تم طاعون سنو تو اس مقام میں نہ جاؤ اور جب کسی مقام میں پھیل جائے ( اور تم بھی وہیں ہو) تو تم اس سے ڈر کے نہ بھاگو ) ۔ بغوی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ (ملک) شام کی طرف تشریف لے گئے تھے اور جب آپ (شام کے قریب موضع) سرغ پہنچے تو وہاں آپ نے یہ سنا کہ شام میں وبا کا بہت زور ہو رہا ہے اسی وقت عبد الرحمن بن عوف نے انہیں یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ نے فرمایا تھا : اذا سمعتمو ابارض (آخر تک) اس لیے حضرت عمر ؓ سرغ ہی سے لوٹ آئے۔ کلبی، مقاتل، ضحاک کہتے ہیں کہ وہ لوگ 2 ؂ جہاد سے بھاگے تھے اور اس کی وجہ یہ ہوئی تھی کہ شاہان بنی اسرائیل میں سے ایک بادشاہ نے انہیں یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنے دشمن سے جنگ کرنے کے لیے چلیں اس وقت تو انہوں نے ہتھیار باندھ لیے لیکن پھر ہمت ہاردی اور مرنے کو برا سمجھنے لگے اور حیلے بہانے کرکے اپنے بادشاہ سے کہا کہ اس ملک میں تو وبا پھیل رہی ہے جب تک وہاں سے وبا نہ نکل جائے گی ہم وہاں نہیں جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کو بھیج دیا اور یہ موت سے بھاگنے کے لیے سب کے سب اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے جب اس بادشاہ نے یہ کیفیت دیکھی تو اس نے یہ دعا کی کہ اے خدا ! اے یعقوب کے پروردگار ! اے موسیٰ کے معبود ! تو نے اپنے بندوں کی نافرمانی کرنی دیکھ لی ہے پس اب تو انہیں ان ہی کی جانوں کے متعلق کوئی ایسی نشانی دکھلا جس سے انہیں یہ یقین ہوجائے کہ یہ تجھ سے ( بچ کر) نہیں بھاگ سکتے۔ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ( پھر اللہ نے انہیں (سزا دینے کے لیے) حکم دیا کہ مرجاؤ) یہ امر تحویلی ہے پس وہ ان کے مویشی سب کے سب اس طرح مرگئے جیسے فقط ایک آدمی مرجاتا ہے پھر اور لوگ ان کے پاس آئے تو وہ انہیں دفن نہ کرسکے آخر انہوں نے درندوں سے بچانے کے لیے ان پر ایک باڑہ بنوا دیا اور انہیں وہیں رہنے دیا ان کو اسی حالت میں پڑے ہوئے ایک مدت گذر گئی بعض کہتے ہیں آٹھ روز گذرے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کے بدن تک گل گئے تھے۔ اور فقط ہڈیاں رہ گئی تھیں۔ ثُمَّ اَحْيَاھُمْ ( پھر ( اللہ نے) انہیں زندہ کردیا) اس کا عطف محذوف فعل پر ہے جس پر موتوا دلالت کرتا ہے یعنی وہ مرگئے تو پھر اللہ نے انہیں زندہ کردیا ابن جریر (1) [ اشعث بن اسلم بصری سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ ؓ کے پیچھے دو یہودی بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ وہی ہیں۔ پھر کہنے لگے کہ ہماری کتاب میں تو یہ ہے کہ ان کے دو قرآن لوہے کے ہوں گے اور جو حضرت حزقیل کو دیا گیا (کہ جنہوں نے مردوں کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ کیا) وہ ان کو بھی ملے گا۔ حضرت عمر ؓ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد ان سے فرمایا : قرآن شریف میں تو حضرت حزقیل کا ذکر نہیں اور نہ سوائے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اور کسی کے مردوں کو زندہ کرنے کا ذکر ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ کتاب اللہ میں (ورسلا لم نقصصھم علیک) نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ہاں ہے اور مردوں کو زندہ کرنے کا واقعہ ہم آپ کو سنائیں کہ ایک دفعہ ان میں وباء پھیلی تو ایک قوم ان میں سے نکل بھاگی۔ ایک میل گئے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت بھیج دی۔ اسی حالت میں مرے ہوئے پڑے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان کی ہڈیاں خشک ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حزقیل کو بھیجا ‘ ان پر کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کو جو منظور تھا وہ انہوں نے کہا تو سب کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کردیا۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت : (الم تر الی الذین خرجوا من دیارھم۔۔ ) نازل فرمائی۔ 12 منہ ] نے سدی کے طریق سے ابو مالک سے روایت کی ہے کہ حزقیل ( علیہ السلام) اہل داوردان کے پاس کو نکلے اور ان کی ہڈیاں (دھوپ میں) چمک رہی تھیں اور تمام جوڑ ان کے علیحدہ علیحدہ ہوئے تھے۔ حزقیل کو اس سے بہت تعجب ہوا (کہ بھلا اب یہ کیونکر زندہ ہوں گے) اللہ نے اسی وقت ان کی طرف وحی بھیجی کہ تم ان کے پاس کھڑے ہو کر یہ پکارو کہ قوموا باذن اللہ ( تم اللہ کے حکم سے کھڑ ہوجاؤ) آپ نے آواز دی تو وہ سب کے سب کھڑے ہوگئے حزقیل بن یوزی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کے بعد خلفاء بنی اسرائیل میں سے تیسرے خلیفہ تھے۔ حسن اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہی ذوالکفل ہیں اور یہ نام ان کا اس لیے ہوگیا تھا کہ یہ ستّر نبیوں کے کفیل ہوئے تھے اور انہیں قتل ہونے سے بچایا تھا۔ مقاتل اور کلبی کہتے ہیں کہ یہ لوگ حزقیل ہی کی قوم کے تھے جب ان پر یہ حادثہ پیش آچکا تو حزقیل ان کی تلاش میں نکلے اور انہیں مرے ہوئے دیکھ کر آپ بہت روئے اور بارگاہ الٰہی میں التجا کی کہ اے میرے پروردگار ! میں ایسے لوگوں میں تھا جو تیری حمد کرتے تھے ‘ تیری پاکی بیان کرتے تھے ‘ تیری تسبیح پڑھتے تھے ‘ تیری بڑائی بیان کرتے تھے ‘ تیرا کلمہ پڑھتے تھے اور اب میں اکیلا رہ گیا میرے پاس کوئی نہیں ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ نے انکی طرف وحی بھیجی کہ انکی زندگی تو میں نے تمہارے اختیار میں کردی ہے اس وقت حزقیل نے کہا : احیوا باذن اللہ تعالٰی۔ ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے سب زندہ ہوجاؤ) وہ فوراً زندہ ہوگئے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ جس وقت وہ زندہ ہوگئے تو انہوں نے کہا : سبحانک ربنا وبحمدک لا الہ الا انت پھر وہ اپنی قوم کے پاس چلے گئے اور ایک عرصہ تک زندہ رہے موت نے ان کے چہروں کی کھال بوڑھی کردی تھی وہ جو کپڑے پہنتے تھے وہ مثل کفن کے ہوجاتا تھا یہاں تک کہ پھر سب اپنی وہ عمریں پوری کر کے مرگئے جو انکے لیے لکھی گئی تھی ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس کا اثر یہود کے خاندان میں اب تک پایا جاتا ہے قتادہ کہتے ہیں کہ انکے موت سے بھاگنے کے باعث اللہ تعالیٰ کو ان پر غصہ آگیا تھا سزا دینے کیلئے انہیں اللہ نے مار دیا اور پھر زندہ کیا تاکہ وہ اپنی اپنی عمریں پوری کرلیں اور اگر انکی عمریں واقعی پوری ہوگئی ہوتیں تو وہ زندہ نہ ہوتے۔ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَي النَّاسِ ( بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل والا ہے) کیونکہ ان کو زندہ کیا تاکہ وہ عبرت حاصل کرکے کامیابی حاصل کریں اور تم سے ان کا حال بیان کیا تاکہ تم ( بھی) بصیرت حاصل کرو اور اس سے مراد اللہ کا تمام لوگوں پر فضل ہونا ہے اس قرینہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ ( اور لیکن اکثر آدمی ( یعنی کفار) اس کا شکر نہیں کرتے) یہ قصہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں کو توکل کرنے کی ترغیب ہو اور قضا و قدر کو دل و جان سے مانیں اور جہاد پر جانے کے لیے دلیر رہیں گویا یہ آیت آئندہ آیت کے لیے تمہید ہے۔
Ayah 2:244

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے

وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (اور اللہ کی راہ میں لڑو) کیونکہ موت سے بھاگنا فائدہ نہیں دیتا اور جو مقدر میں ہے وہ ضرور ہونے والا ہے پس اولیٰ درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے کیونکہ اگر موت آگئی تو اللہ کی راہ میں مریں گے ورنہ فتح ہوگی اور ثواب ملے گا۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ ( اور جان لو کہ اللہ سنتا ہے) اس کو جو ( جہاد سے) پیچھے رہنے والا اور آگے جانے والا کہتا ہے۔ عَلِيْمٌ ( جانتا ہے) یعنی جس بات کو وہ دونوں چھپاتے ہیں۔ وا اللہ اعلم۔ شان نزول امام بخاری نے اپنی صحیح ( بخاری) میں اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب آیت : مثل الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فی سبیل اللہ کمثل حۃ انبتت سبع سنابل [ الایۃ ] نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے دعا کی : اے پروردگار ! میری امت کو اور زیادہ دے اس وقت اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:245

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ ( ہے کوئی ایسا جو اللہ کو قرض دے) مَنْ مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے اور ذا اس کی خبر ہے اور اَلَّذِیْ ذَا کی صفت یا اس سے بدل ہے۔ لغت میں قرض کے معنی قطع کرنے کے ہیں اور ایک آدمی جو اپنے مال میں سے دوسرے کو اس لیے دیتا ہے تاکہ اس کی برابر پھر اس کے پاس آجائے تو اس کو بھی قرض اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں اس کے مال سے قطع ہونا پایا جاتا ہے اور یہاں قرض سے مراد یا تو اس کے حقیقی معنی ٰ ہیں پس اس کلام میں مضاف مقدر ہونے کی وجہ سے مجاز ہے یعنی (یقرض اللہ سے یہ مراد ہے کہ) یقرض عباد اللہ جیسا کہ ایک حدیث میں ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً آیا ہے کہ قیات کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یا ابن آدم استطعمتک فلم تطعمنی قال یا رب کیف اطعمک و انت رب العالمین قال استطعمک عبدی فلان فلم تطعمہ اما علمت انک لواطیعتہ لوجدت ذالک عندہ۔۔ یعنی اے اولاد آدم میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا لیکن تو نے مجھے کھانا نہیں دیا وہ عرض کرے گا کہ اے پروردگار میں تجھے کھانا کس طرح دے سکتا تھا تو تو رب العالمین ہے۔ سب جہان والوں کا پرورش کرنے والا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ فلاں میرے بندے نے تجھ سے کھانا مانگتا اسے تو نے کھانا نہیں دیا کیا تو نہ جانتا تھا کہ اگر تو اسے دیدیتا تو اسے اب میرے پاس ضرور پاتا، یہ حدیث مسلم نے روایت کی ہے اور فرض کی فضیلت میں بہت سی حدیثیں ہیں منجملہ ان کے ایک حدیث ابن مسعود ؓ کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : کل قرض صدقۃ ( یعنی ہر قرض صدقہ ہے) یہ حدیث طبرانی اور بیہقی نے حسن سند کے ساتھ روایت کی ہے ابن مسعود ہی روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ما من مسلم یقرص مسلما قرضا مرۃ الا کان کصدقتہ مرتین ” یعنی جو مسلمان کسی مسلمان کو ایک دفعہ قرض دیتا ہے تو وہ اس طرف سے دو دفعہ صدقہ کرنے جیسا ہوتا ہے۔ یہ حدیث ابن ماجہ نے کی ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے اور بیہقی نے اسے مرفوعاً دونوں طرح نقل کیا ہے اور یا قرض کے یہاں مجازی معنی ہیں اور وہ دنیا میں ایسا نیک عمل کرنا ہے جس کے ذریعہ سے ثواب طلب کیا جائے اس پر بخاری کی وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو ہم نے سبب نزول میں ذکر کی ہے۔ قَرْضًا حَسَنًا ( قرض حسنہ) بنا بر مفعولیت منصوب ہے یا مفعول مطلق ہے یعنی قرضاً مقرونا بالاخلاص وطیب النفس ( یعنی جو اخلاص اور خوش دلی سے ہو) ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ قرض حسنہ مجاہدہ اور راہ خدا میں خرچ کرنے کا نام ہے۔ فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗٓ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً ( تاکہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس ( کی جزا) کو کئی گونہ بڑھا دے) ابن کثیر ابوجعفر۔ ابن عامر اور یعقوب نے فیضاعفہ کو جہاں بھی قرآن میں آیا ہے باب تفعیل سے فیضعِّفُہپڑھا ہے۔ سورة احزاب میں ابو عمر نے بھی ان کی موافقت کی ہے اور تشدید اس میں تکثیر کے لیے ہے۔ باقی قراء نے باب مفاعلۃ سے پڑھا ہے اور یہ مفاعلۃ مبالغہ کے لیے ہے اور دوسرا اختلاف یہ ہے کہ ابن عامر۔ عاصم اور یعقوب نے یہاں اور سورة حدید میں استفہام کا جواب بنایا ہے اور اَنْ مقدر مان کر منصوب پڑھا ہے اور باقی قراء نے یقرض پر عطف کرکے مرفوع پڑھا ہے اب یہاں چار قراءتیں ہوئیں۔ ابن کثیر اور ابو جعفر نے فیضعفہ مرفوع پڑھا ہے اور ابن عامر اور یعقوب نے منصوب عاصم نے فَیُضَاعِفَہٗ نصب سے اور باقیوں نے رفع سے پڑھا ہے اضعافا ضعف کی جمع ہے اور ضمیر منصوب فیضاعفہ سے حال ہونے کی وجہ سے یا مفعول ثانی ہونے کی بنا پر منصوب ہے اس لیے کہ مضاعفۃ کے معنی کے اندر بنادینے کا معنی ہے یا ضعف کو ( جس کی جمع اضعاف ہے) اسم مصدر کہا جائے تو اب یہ مفعول مطلق ہوگا اور اس کی جمع بیان کرنا تنویع کے لیے ہے۔ سدی کہتے ہیں کہ اس بڑھانے ( کی مقدار) کو اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور بعض کا قول ہے کہ ایک کی جزا سات سو تک دی جائے گی زیادہ صحیح پہلا ہی قول ہے بخاری کی اس حدیث کی وجہ اس کو ہم شان نزول میں ذ کرچکے ہیں۔ وَاللّٰهُ يَـقْبِضُ وَيَبْصُۜطُ ۠ ( اور اللہ ہی تنگدست کرتا ہے اور وہی فارغ البال بناتا ہے) ابو عمر، قنبل، حفص، ہشام، حمزہ نے یہاں یبسط کو اور سورة اعراف میں بسط کو سین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقی قاریوں نے صاد سے پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے رزق کو تنگ ( اور کم) کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے پس تم صدقہ کرنے سے بخل نہ کیا کرو تاکہ تمہاری حالت نہ بدل دی جائے ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مامن یوم یصبح العباد فیہ الا ملکان ینزلان من المساء فیقول احدھما اللھم اعط منفقا خلفا و یقول الاٰخر اللھم اعط ممسکا تلفا (ہر روز صبح کو جب (ا اللہ کے) بندے اٹھتے ہیں تو دو فرشتے آسمان سے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے کہ الٰہی سخی کو عوض عطا کر اور دوسرا کہتا ہے الٰہیبخیل کا مال تلف کر۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور بعض کا قول ہے کہ یہ ( قبض اور بسط) دلوں میں ہے کیونکہ جب اللہ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو انہیں یہ بھی بتادیا کہ وہ بغیر اس کی توفیق کے ایسا نہیں کرسکتے ( اس وقت معنی یہ ہیں) یعنی بعض کے دل تنگ کردیتا ہے وہ بھلائی سے خوش نہیں ہوتے اور بعض کے دل کھول دیتا ہے وہ اپنے لیے نیکی حاصل کرتے ہیں۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا بخیل اور سخی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے دو کرتے پہنے ہوئے ہوں اور ان کے ہاتھ ان کی چھاتیوں سے لگے ہوئے ہوں پس جب سخی خیرات کرنی چاہتا ہے تو اس کا ہاتھ کھل جاتا ہے اور جب بخیل خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا ہاتھ وہیں چپکا رہتا ہے اور ( اس جبہ کا) ہر حلقہ اپنی جگہ پر ویسا ہی رہتا ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور رسول اللہ نے فرمایا : القلوب بین اصبعین من اصابع الرحمٰن یقلبھا کیف یشاء ( سب ( کے) دل رحمن کی دو انگلیوں میں ہیں وہ انہیں جس طرف چاہے پھیردے) اور بعض کا قول ( اس آیت کے معنی میں) یہ ہے کہ ( اللہ تعالیٰ ) صدقات کو لے لیتا ہے اور جزاء اور ثواب کو بڑھا دیتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : من تصدق بعدل تمرۃ من کسب طیب ولا یقبل اللہ الا الطیب فان اللہ یتقبلھا بیمینہ ثم بربیھا لصاحبھا کما یربی احدکم فلوہ حتی تکون مثل الجبل ( یعنی جو شخص اپنی نیک کمائی میں سے ایک کھجور کے برابر خیرات کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرلیتا ہے پھر اسے اس طرح پا لتا ہے جس طرح کوئی تم میں سے اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کی برابر ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نیک ہی کمائی کو قبول کرتا ہے) یہ حدیث متفق علیہ ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ موت کے وقت اللہ تعالیٰ ارواح اور انفس کو قبض کرتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ان کو نیند میں قبض کرتا ہے پھر جس پر موت کا حکم کردیتا ہے اسے روک لیتا ہے۔ اور باقیوں کو ایک معین وقت مہلت دیدیتا ہے۔ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ( اور (مرنے کے بعد) تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے) وہ تمہیں تمہارے ان اعمال کی جزا دے گا جو تم پہلے کرچکے ہو۔ قتادہ کہتے ہیں ( الیہ کی) ضمیر مٹی کی طرف ہے یہ غیر مذکور کی طرف اشارہ ہے یعنی تم مٹی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
Ayah 2:246

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ ( کیا تم نے اس جماعت کو نہیں دیکھا) ملاء ‘ سربرآوردہ اور اشراف لوگوں کی جماعت کو کہتے ہیں جو مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوں اس کا مفرد کوئی نہیں ہے جیسے قوم ہاں اس کی جمع املا ہے۔ مِنْۢ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّهُمُ ( جو بنی اسرائیل میں سے تھے کہ موسیٰ کے (مرنے کے) بعد جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا) قتادہ کہتے ہیں کہ وہ بنی یوشع بن نون تھے اور سدی کہتے ہیں شمعون تھے اور اکثر کا قول یہ ہے کہ وہ اشموئیل تھے۔ وہب اور ابن ابی اسحاق اور کلبی وغیرہ کہتے ہیں کہ جب موسیٰ ( علیہ السلام) کی وفات ہوئی تو ان کے بعد بنی اسرائیل میں یوشع بن نون ( نبی) رہے پھر ان کا بھی انتقال ہوگیا تو بنی اسرائیل میں کالب رہے اور ان کے انتقال کے بعد حزقیل رہے اور جب حزقیل کا ( بھی) انتقال ہوگیا اور بنی اسرائیل میں نئی نئی باتیں بہت پھیل گئیں اور وہ اللہ کے عہد کو بھلا کر بتوں کی پرستش کرنے لگے تو تورات کے بھولے ہوئے احکما کو رواج دینے کے لیے اللہ پاک نے الیاس کو بھیجا پھر ان کے بعد الیسع کو بھیجا پھر الیسع کا بھی انتقال ہوگیا اور ان میں بہت سی مخالفت شریعت باتیں پیدا ہوگئیں اور خطائیں حد سے بڑھ گئیں تو ان کے ایک دشمن یعنی عمالقہ نے ان پر چڑھائی کی وہ مصر اور فلسطین کے درمیان میں دریا کے کنارے رہنے والے جالوت کی قوم کے لوگ تھے وہ ان کے ملک پر غالب آگئے تھے انہوں نے ان کے بال بچوں کو قید کرلیا اور ان کے شاہی خاندان میں سے ( بھی) چار سو چالیس لڑکوں کو قید کرلیا اور ان پر جزیہ مقرر کردیا اور ان کی توریت چھین لی بنی اسرائیل کو ان سے بہت سخت تکلیف پہنچی اور اس وقت ایسا نبی کوئی نہ تھا جو ان کی سلطنت کی تدبیر کرتا اور خاندان نبوت میں سے فقط ایک حاملہ عورت رہ گئی تھی۔ اس کے لڑکا پیدا ہوا اس عورت نے اس کا نام اشموئیل رکھا اور اسے توریت پڑھانے کی غرض سے بیت المقدس چھوڑ آئی اور وہیں کے علماء میں سے ایک بوڑھے اس بچہ کے کفیل ہوگئے جب وہ لڑکا بالغ ہوگیا تو ایک روز وہ انہیں بوڑھے کے پاس سو رہا تھا کہ جبرائیل ( علیہ السلام) اس کے پاس آئے اور ان بوڑھے کے لہجہ میں اے شموئیل ! کہہ کر آواز دی لڑکا گھبرا کر بوڑھے کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہا ابا کیا مجھے تم نے پکارا تھا ؟ انہوں نے اس وقت نہیں کہنے کو مناسب نہ سمجھا۔ اس سے لڑکا اور گھبرایا ‘ تب انہوں نے کہا بیٹا ابھی اور سو جاؤ وہ پھر سو گیا تو جبرائیل نے اسے پھر آواز دی اس نے پھر اٹھ کر بوڑھے سے کہا کیا مجھے تم نے پکارا تھا انہوں نے فرمایا اب کے تیسری دفعہ میں تمہیں پکاروں تو میرے کہنے کو نہ سننا پھر جب تیسری دفعہ یہ قصہ ہوا جبرائیل اسے معلوم ہوگئے اور جبرائیل نے فرمایا کہ اب تم اپنی قوم کی طرف جاؤ اور انہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاؤ کیونکہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کردیا ہے (وہ گئے) لیکن ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور کہا اگر تم سچے ( نبی) ہو تو۔ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (ہمارے لیے ایک ایسا بادشاہ بنا دو کہ ( اس کے ساتھ ہو کر) ہم خدا کی راہ میں لڑیں) نقاتل پر جزم امر کا جواب ہونے کی وجہ سے ہے اس زمانہ میں سلطنت کا کام بادشاہوں سے ہوتا تھا اور وہ انبیا کی اطاعت کرتے تھے۔ قَالَ ھَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ (ان سے شموئیل نے) کہا تم ایسا تو نہ کروگے کہ اگر تم پر جہاد فرض کردیا جائے) عسیتم کو جہاں بھی قرآن شریف میں آیا ہے نافع نے سین کے کسرہ سے پڑھا ہے اور باقیوں نے فتح سے ھل کو فعل توقع (عسیتم) پر داخل کرکے اس شئے سے استفہام کرتے ہیں جو ان کے نزدیک متوقع ہے تاکہ اس کا پوری طرح ثبوت ہوجائے۔ ان کتبجملہ شرطیہ ہے جو عسٰی اور اس کی خبر کے درمیان واقع ہوا ہے۔ اَلَّا تُقَاتِلُوْا ( تو پھر نہ لڑو) یہ عسٰی کی خبر ہے اور معنی یہ ہیں کہ اگر تم پر جہاد فرض کردیا گیا تو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بادشاہ کے ساتھ ہو کر جہاد نہ کرو گے۔ قَالُوْا وَمَا لَنَآ اَلَّا نُقَاتِلَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ( انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں کیا ہوگیا ہے کہ ہم خدا کی راہ میں نہ لڑیں) اخفش نے کہا ہے کہ ان یہاں زائدہ ہے معنی یہ ہیں کہ ہمیں کیا ہوگیا ہے جو ہم نہ لڑیں اور کسائی کہتے ہیں اسکے معنی یہ ہیں کہ ہمیں کیا چیز روکتی ہے جو ہم نہ لڑیں گے صحیح یہ ہے کہ ما لک لا تفعل ومالک ان لا تفعل ( بتقدیر ان و بلا تقدیر ان) دونوں لغت صحیح ہیں۔ وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَاَبْنَاۗىِٕنَا ۭ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ ( حالانکہ ہم اپنے گھروں سے نکال دیئے گئے ہیں اور اپنے بال بچوں سے ( جدا ہوگئے ہیں) پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے چند آدمیوں کے سوا سب پھرگئے) اور وہ چند آدمی وہ تھے جو نہر سے پار اتر گئے تھے جیسا کہ ( اس کا بیان) عنقریب آئیگا۔ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ( اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے) یہ جہاد نہ کرنے پر وعید ہے پھر اشموئیل نے اپنے پاک پروردگار سے دعا کی کہ ان کے لیے ایک بادشاہ بھیج دے اس پر شموئیل کو ایک عصا اور ایک سینگ دیا گیا جس میں بیت المقدس کا تیل تھا اور یہ حکم ہوا کہ جس کا قد اس عصا کے برابر ہو اور جب وہ مکان میں آئے تو اس تیل کو ( خود بخود) جوش آجائے گا جو اس سینگ میں ہے تو تم یہ تیل اس کے سر پر مل کر اسے بنی اسرائیل پر بادشاہ کردینا پھر اتفاق سے طالوت کے یکایک گدھے کھوئے گئے اور وہ انہیں ڈھونڈنے کو نکلے اور وہ (اصل میں) دباغ تھے یا سقہ تھے اور طالوت اشموئیل کے گھر بھی آئے تاکہ ان سے (اپنے) گدھوں کو دریافت کریں۔ ان کے گھر میں آتے ہی اس تیل میں جوش آگیا اور شموئیل کھڑے ہوگئے پھر عصا سے طالوت کا قد ناپا تو وہ بھی اس کے برابر ہی تھا آپ نے ان کے سر کو تیل مل کر انہیں بادشاہ کردیا۔
Ayah 2:247

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا ( اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے طالوت کو تمہارا بادشاہ مقرر کیا ہے ( اور چونکہ بنی اسرائیل میں نبوت کے خاندان میں سے لادی بن یعقوب کی اولاد چلی آتی تھی اور شاہی خاندان میں سے یہود کی اولاد تھی اور طالوت بنیا میں کی اولاد میں سے ایک فقیر آدمی تھے اس لیے۔ قَالُوْٓا اَنّٰى يَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ اَحَقُّ بالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ (انہوں نے کہا کہ اس کی سلطنت ہم پر کہاں سے ہوسکتی ہے حالانکہ سلطنت کے تو اس سے ہم زیادہ مستحق ہیں (کیونکہ ہم شاہی خاندان میں سے ہیں) اور اس کو تو کچھ مال (دولت) کی فراخی بھی نہیں دی گئی ( اور ہم غنی ہیں) انٰی بمعنی من این ہے اور واؤ و نحن میں حالیہ ہے۔ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهٗ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ ( ان کے نبی نے) ( کہا کہ بیشک اللہ نے اسے تمہارے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے اور علم میں اسے فراخی دی ہے) کلبی کہتے ہیں کہ طالوت (فن) حرب کو سب سے زیادہ جانتے تھے۔ وَالْجِسْمِ ( اور جسم میں) طالوت بنی اسرائیل میں سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ قد آور تھے آدمی اپنا ہاتھ اونچا کرتا تھا تو ان کے سر تک پہنچتا تھا اور بعض کا قول ہے کہ جب انہیں سلطنت مل گئی تو پھر ان پر وحی بھی آنے لگی تھی۔ میں کہتا ہوں چونکہ اللہ نے اصطفا اور بسطۃ علم کے ساتھ طالوت کی تعریف کی ہے اور ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس علم سے علم شریعت مراد ہے کیونکہ دین و دنیا کے اموراسی سے سنورتے اور درست ہوتے ہیں تو اس سے معلوم ہوا کہ طالوت کے قصہ میں جو لوگ بیان کرتے ہیں کہ طالوت داؤد ( علیہ السلام) کے دادا تھے اور انہیں مارنا چاہتے تھے اس لیے داؤد بھاگ گئے پھر علماء بنی اسرائیل نے طالوت کو بہت طعنے تشنے دیئے تو طالوت نے ان سب عالموں کو قتل کرادیا یہ آخر تک قصہ بالکل جھوٹا ہے اس کی کہیں کوئی اصل نہیں ہے اس لیے میں نے اسے ذکر نہیں کیا۔ وَاللّٰهُ يُؤْتِيْ مُلْكَهٗ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ ( اور اللہ اپنا ملک جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی وسعت دینے والا ہے) یعنی فقیر کو وسعت دے کر امیر کردیتا ہے۔ عَلِيْمٌ ( جاننے والا ہے) اس کو جو بادشاہت کے لائق ہوتا ہے چونکہ ان لوگوں نے طالوت کے بادشاہ ہونے کو بہت بعید سمجھا تھا تو ان کے اس بعید سمجھنے کو اللہ نے اوّل تو اسطرح رد کیا کہ بادشاہت کے لیے حقیقی سبب تو اللہ کا دینا اور اس کا برگزیدہ کرلینا ہے اور یہ اس پر موقوف نہیں ہے کہ حسب و نسب وغیرہ کی رو سے پہلے ہی سے بھی اس کی قابلیت رکھتا ہو اور دوسرے یہ کہ سلطنت کے قابل ہونے اور لوگوں کے امور کی اصلاح کرنے کا ظاہری سبب یہ ہے کہ علم ہو اور قوت بدنیہ کے ساتھ اس علم کے موافق عمل کرنے کی قدرت بھی ہو نہ کہ مال کا زیادہ ہونا کیونکہ یہ تو آنے جانے والی چیز ہے اس کے ہونے اور نہ ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تیسرے یہ کہ اللہ کے اور اللہ کے رسول کے حکم کردینے کے بعد ( کسی امر کو) بعید سمجھنا جائز نہیں ہے کیونکہ تمام مصلحتوں کو اللہ تعالیٰ تم سے زیادہ جانتا ہے۔
Ayah 2:248

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے

وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ ( اور ان کے نبی نے ان سے کہا) یعنی جبکہ انہوں نے طالوت کے برگزیدہ ہونے کی ان سے نشانی مانگی۔ اِنَّ اٰيَةَ مُلْكِهٖٓ اَنْ يَّاْتِيَكُمُ التَّابُوْتُ (بےشک طالوت کے بادشاہ ہونے کی یہ نشانی ہے کہ تمہارے پاس ایک تابوت آئے گا) تابوت بروزن فعولست توب سے مشتق ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں اور اسے تابوت اس لیے کہتے تھے کہ جو چیز اس میں سے نکالی جاتی تھی وہ پھر اسی میں چلی جاتی تھی۔ بعض کہتے ہیں اس سے مراد صندوق ہے جو شمشماد کی لکڑی کا تھا اور اس پر سنہر اکام تھا تین ہاتھ کے قریب لمبا اور دو ہاتھ چوڑا تھا یہ روایت ابن منذر نے وہب بن منبہ سے نقل کی ہے۔ اور بعض کا قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم پر ایک تابوت نازل کیا تھا جس میں انبیا کی تصویریں تھیں اوّل تو حضرت آدم کے پاس رہا پھر ان کے بعد شیث کے پاس رہا اور پھر انبیاء میں میراث در میراث ہوتا موسیٰ ( علیہ السلام) تک پہنچ گیا۔ پھر موسیٰ نے توریت اور اپنا کچھ اسبسب اس میں رکھ دیا اور جب موسیٰ کا انتقال ہوگیا تو پھر انبیاء بنی اسرائیل کو یکے بعد دیگرے ملتا رہا۔ بعض کا قول ہے کہ وہ توریت ہی کا ایک صندوق تھا بنی اسرائیل جب کہیں لڑائی میں جاتے تھے تو اپنے آگے رکھتے تھے اس کی برکت سے ان کی فتح ہوجاتی تھی اور جب یہ صندوق چلتا تھا تو یہ بھی چلتے تھے اور جب وہ ٹھہر جاتا تو یہ بھی ٹھہر جاتے۔ فِيْهِ سَكِيْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ ( اس میں یعنی اس کے لانے میں) تمہارے پروردگار کی طرف سے تسکین ہے) یعنی اس سے تمہارے دلوں کو تسکین ہوجائے گی پھر تمہیں طالوت کی بادشاہت میں شک نہ رہے گا فیہ کی ضمیر تابوت کی طرف ہے یعنی اس میں ایسی چیز رکھی ہوئی ہے جس سے تمہاری تسکین ہوجائے گی اور وہ توریت تھی یا یہ مطلب ہے کہ اس کی یہ خاصیت ہے کہ اس کے یہاں آنے سے تمہارے دلوں کی تسکین ہوجائے گی۔ ابن اسحاق اور ابن جریر نے وہب بن منبہ سے روایت کی ہے کہ جب موسیٰ ( علیہ السلام) جنگ کرتے تھے تو اسے آگے کرلیتے تھے اس سے بنی اسرائیل ( جنگ پر) جمے رہتے تھے بھاگتے نہ تھے میں کہتا ہوں اس میں شک نہیں ہے کہ اللہ کا ذکر کرنے اور انبیاء اور ان کے پیرو کاروں میں سے نیک لوگوں کے آثار دیکھنے سے دلوں کو اطمینان ہوجاتا ہے اور شیطانی وسوسے جاتے رہتے ہیں ابن عساکر نے کلبی کے طریق سے ‘ انہوں نے ابی صالح سے ‘ انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ سکینہ زبر جدیا یا قوت کی ایک تصویر تھی جو تابوت میں رکھی ہوئی تھی اس کا سر اور دم مثل بلّی کے سر اور دم کے تھی اور اس کے دو بازو تھے وہ روتی چیختی تھی تو تابوت دشمن کی طرف دوڑتا تھا اور لوگ اس کے پیچھے پیچھے دوڑتے اور جب تابوت ٹھہر جاتا تھا تو یہ بھی ٹھہر جاتے تھے اور پھر مدد ( الٰہی) نازل ہوتی تھی بغوی نے مجاہد کی روایت سے ذکر کیا ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا وہ ایک تیز ہوا تھی ‘ بہ روایت کلبی اس کے دو سر تھے اور انسان کے منہ جیسا ایک منہ تھا۔ طبرانی نے حضرت علی سے انہوں نے رسول اللہ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ سکینہ ایک تیز ہوا تھی۔ وا اللہ اعلم اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سکینہ سونے کا ایک بہشتی طشت تھا اس میں انبیا کے دل دھوئے جاتے تھے۔ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَاٰلُ ھٰرُوْنَ ( اور بقیہ وہ تبرکات ہوں گے جو آل موسیٰ اور آل ہارون چھوڑ گئے ہیں) یعنی خود موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) چھوڑ گئے ہیں اور آل کا لفظ ان دونوں کی عظمت شان ظاہر کرنے کے لیے ہے یا ان دونوں کے آل سے مراد انبیاء بنی اسرائیل ہیں کیونکہ وہ ان دونوں کی چچا کی اولاد میں تھے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ اس تابوت میں دو تختیاں توریت کی (پوری اور شکستہ تختیوں کے ٹکڑے تھے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا اور آپ کے دونوں جوتے اور ہارون کا عمامہ اور ان کی لاٹھی اور اس مَن کا ایک قفیز تھا جو بنی اسرائیل پر ( آسمان سے) نازل ہوتا تھا اور یہ تابوت وہی تھا کہ جس وقت بنی اسرائیل نے اللہ کی نافرمانی کی اور قربانی میں بدعتیں جاری کردیں اور بیت المقدس میں بد افعالیاں کرنے لگے تو یہ تابوت ان کے ہاں سے گم ہوگیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اسے اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا تھا اور بعض کا قول یہ ہے کہ ان پر ایک دشمن غالب آگیا تھا اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ کانٹا جس سے وہ لوگ اپنی قربانی ( کے گوشت) کو بھونتے تھے وہ شاخا تھا اور جس قدر گوشت اس کانٹے سے ایک دفعہ نکلتا تھا وہ اس کا ہن کا ہوتا تھا جو اسے بھونتا تھا اور جب قربانیوں کے کار مختار عیلی ہوئے جنہوں نے اشموئیل کی پرورش کی تھی تو ان کے دونوں بیٹوں نے ان دو کانٹوں کے کئی کانٹے ( یعنی زیادہ گوشت آنے کے لیے کئی شاخے) کرلیے اور جو عورتیں بیت المقدس میں نماز پڑھنے آتیں یہ دونوں انہیں چھیڑتے اور ان سے ہاتھا پائی کرتے تھے اس پر اللہ نے اشموئیل کی زبانی عیلی سے فرمایا کہ تمہیں اولاد کی محبت نے اس سے روک دیا کہ تم اپنے دونوں بیٹوں کو میری قربانی اور میرے بیت المقدس میں بد افعالیاں اور بدعتیں کرنے سے روکتے اس کی سزا میں تم سے اور تمہاری اولاد سے میں کہانت چھین لوں گا اور تم سب کو برباد کروں گا کچھ عرصہ کے بعد ایک غنیم نے ان پر چڑھائی کی تو عیلی کے دونوں بیٹے اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور تابوت کو اپنے ساتھ لے گئے وہاں پہنچتے ہی یہ دونوں قتل ہوگئے اور وہ غنیم تابوت کو لے گیا جب عیلی نے یہ قصہ سنا تو ٹھنڈا سانس بھر کر گرپڑے اور وہیں دم نکل گیا پھر جب اللہ نے طالوت کو بادشاہ کیا تو اس تابوت کو اللہ نے پھر آسمان سے نازل کیا۔ تَحْمِلُهُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ (اس (تابوت) فرشتے اٹھا کر لاتے ہیں یہ پہلے قول کے موافق ہے اور دوسرے قول کے مطابق یہ ہے کہ جب عمالقہ تابوت کو لے گئے تو اسے انہوں نے ( اپنے) بت خانہ میں ایک بڑے بت کے نیچے رکھ دیا پھر ( قدرت الٰہی سے) وہ بت تو تابوت کے نیچے ہوگیا اور تابوت اس کے اوپر ہوگیا اور باقی سب بت ٹوٹ گئے پھر انہوں نے ایک اور مکان میں رکھا تو اس گھر کے اکثر آدمی مرگئے پھر انہوں نے اسے ایک اور گاؤں میں بھیج دیا اس گاؤں والوں میں اللہ نے ایک اس قسم کا چوہا پیدا کردیا کہ آدمی رات کو اچھا خاصا سوتا تھا اور صبح کو اٹھتا تھا تو اس کے پیٹ کی تمام آلائش وغیرہ وہ چوہا کھا جاتا تھا تب بنی اسرائیل کے قیدیوں میں سے ایک عورت نے کہا کہ یہ تابوت جب تک تمہارے ہاں رہے گا تمہیں ہمیشہ اس قسم کے حادثے پیش آتے رہیں گے لہٰذا تم اسے اپنے سے کہیں دور کو چلتا کردو اس کے کہنے سے وہ ایک بچھڑا لائے اور اس پر اسے لاد دیا پھر اس میں دو بیلوں کو جوڑ کر انہیں خوب مار کر بھگادیا پھر اللہ نے اس پر چار فرشتوں کو مقرر کردیا تو ان فرشتوں نے ان بیلوں کو ہانک کر بنی اسرائیل تک پہنچا دیا بعض کا قول یہ ہے کہ یہ تابوت تیہ میں تھا موسیٰ ( علیہ السلام) اسے یوشع بن نون کے پاس چھوڑ گئے تھے پھر وہ طالوت کے زمانہ تک وہیں رہا پھر اسے فرشتے اٹھا لائے اور طالوت کے گھر میں رکھ دیا۔ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ( بیشک اس میں تمہارے لیے نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو) احتمال ہے کہ یہ اشموئیل نبی کے کلام کا بقیہ ہوا اور یہ بمعنی احتمال ہے کہ اللہ کی طرف سے یہ علیحدہ خطاب ہو۔ ابن عباس ؓ کا قول یہ ہے کہ تابوت اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا عصا بحیرہ طبریہ میں ہیں اور یہ دونوں قیامت سے پہلے نکلیں گے۔
Ayah 2:249

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بالْجُنُوْدِ ( پھر جب طالوت فوجیں لے کر (شہر سے باہر) نکلا) فصل کے معنی اصل میں قطع کے ہیں اور یہ متعدی ہے یعنی اپنے آپ کو انہوں نے شہر سے الگ کرلیا۔ کثیر الاستعمال ہونے کی وجہ سے مفعول کو حذف کردیا۔ تو بمنزلہ فعل لازم کے ہوگیا یعنی ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف کوچ کرجانا اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے تابوت کو دیکھا اور (اپنی مدد ہونے کا انہیں یقین ہوگیا تو پھر سب کے سب فوراً جہاد کے لیے کمر بستہ ہوگئے اس پر طالوت نے کہا کہ میرے ساتھ وہی آدمی چلیں جو جوان ‘ خوبصورت ‘ مجرد ہوں اس کہنے پر مقاتل کے قول کے مطابق ستّر ہزار جوان نکلے اور بعض کا قول ہے کہ اسّی ہزار تھے اور اس وقت بہت سخت گرمی پڑ رہی تھی انہوں نے ( طالوت یے) التجا کی کہ اللہ تعالیٰ سے (اس وقت) ہمارے لیے ایک نہر جاری کرا دو ۔ قَالَ (طالوت نے) کہا اگر طالوت نبی تھے تو اللہ کی وحی کے ذریعہ سے اور اگر نبی نہیں تھے تو نبی کی ہدایت کی وجہ سے کہا۔ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِيْكُمْ بِنَهَرٍ (بےشک اللہ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرے گا ابن عباس اور سدی کہتے ہیں کہ وہ فلسطین کی نہر ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ نہر اردن اور فلسطین کے درمیان میں ہے ابتلا کے معنی امتحان کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم سے اللہ تعالیٰ ممتحن جیسا معاملہ کرے گا تاکہ مطیع اور عاصی میں فرق ظاہر ہوجائے۔ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّىْ (پس جو اس ( کے پانی) کو پیئے گا وہ مجھ سے نہیں ہے یعنی میری پیروی کرنے والوں میں سے نہیں ہے یا وہ میرے ساتھ رہنے والا نہیں ہے۔ وَمَنْ لَّمْ يَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّىْٓ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِيَدِهٖ ( اور جس نے اس کو نہ پیا ( یعنی اس کا مزا نہ چکھا) تو وہ بیشک مجھ سے ہے ہاں اگر کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلّو بھر کے پی لے۔ لم یطعمہ من طعم الشیء اذا ذاقہ ماکولاً اور مشروباً سے مشتق ہے ( یعنی طعم الشی اس وقت بھی بولا جاتا ہے کہ کسی چیز کو کھانے کی ہو یا پینے کی) چکھے مِنِّی کو نافع اور ابو عمر نے یا کے فتحہ سے اور باقی قراء نے یا کے جزم سے پڑھا ہے الا من اعترف کا استثنا فمن شرب سے ہے۔ پہلے جملہ کو دوسرے جملہ پر اس لیے مقدم کردیا تاکہ نہ پینے والوں کی اہمیت اور ان پر عنایت معلوم ہوجائے۔ مطلب یہ ہے کہ کم کی اجازت ہے زیادہ کی نہیں ہے شاید اس میں یہ حکمت ہو کہ سخت گرمی اور زیادہ پیاس میں بہت پانی پینا آدمیوں کو مضر ہوتا ہے آدمی مرجاتا ہے یا اس میں لڑنے کی طاقت نہیں رہتی اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حرمت ان کو سزادینے کے لیے کردی گئی ہو کیونکہ وہ نہر انہوں نے خود اپنی رائے سے جاری کرائی تھی۔ غرفۃ کو اہل حجاز اور اہل بصرہ نے غین کے زبر سے پڑھا ہے اور باقی قاریوں نے پیش سے۔ کسائی کہتے ہیں کہ غرفہ پیش سے اس پانی کو کہتے ہیں جو چلو بھرنے کے وقت ہاتھ میں آجائے اور زبر سے اس کے معنی چلو بھرنے کے ہیں۔ غرفہ کا منصوب ہونا یا تو مفعول بہ ہونے کی وجہ سے ہے یا مفعول مطلق کی وجہ سے ہے۔ حسب اختلاف قرأت۔ فَشَرِبُوْا مِنْهُ ( جب نہر پر پہنچے ( تو اس سے سب نے پی لیا) یعنی (کنارے پر) جھک کرکے سب نے پی لیا کیونکہ من ابتدائیہ کے حقیقی معنی یہی ہیں کہ چلو سے نہ ہو بلکہ منہ لگا کر پیا ہو یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے بہت پی لیا کیونکہ من ابتدائیہ کے حقیقی معنی ہیں کہ چلو سے نہ ہو بلکہ منہ لگا کر پیا ہو یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے بہت پی لیا اور اوّل (فمن شرب) میں تعمیم ہے ( کہ منہ لگا کر یا چلو سے پیا ہو) اور یہ تعمیم استثنا کرنے سے معلوم ہوتی ہے۔ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْهُمْ ( مگر ان میں سے چند لوگوں نے) سدی کہتے ہیں یہ چار ہزار آدمی تھے اور صحیح یہ ہے جو امام بخاری نے براء بن عازب سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ کے صحابی یہ باتیں کیا کرتے ( اور کہا کرتے) تھے کہ اصحاب بدر اور وہ اصحاب طالوت تعداد میں برابر تھے جو طالوت کے ساتھ نہر اتر گئے تھے اور نہر سے ان کے ساتھ مسلمان ہی اترے تھے جو تین سو دس سے کچھ اوپر تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ تین سو تیرہ تھے پس ( ان میں سے) جس نے چلو سے پانی لے کر پی لیا اس کا دل تو قوی ہوگیا اور اس کی پیاس بجھ گئی اور جن لوگوں نے زیادہ پی کر اللہ کے حکم کے خلاف کیا وہ نامرد ( اور پست ہمت) ہوگئے اور نہ ان کی پیاس بجھی۔ ان کے ہونٹ سیاہ پڑگئے اور وہ وہیں اس نہر کے کنارے رہ گئے طالوت کے ساتھ نہر نہ اترے اور بعض کا قول یہ ہے کہ نہر سے سب کے سب پار ہوگئے تھے اور ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب پار نہیں ہوئے تھے کیونکہ آگے اللہ نے فرمایا : فَلَمَّا جَاوَزَهٗ ھُوَ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۙ قَالُوْا ( پھر جب وہ ( یعنی طالوت) اور ایمان والے جو ان کے ساتھ تھے ( یعنی جنہوں نے پانی پینے میں طالوت کی اطاعت کی تھی) پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ : لَا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ ( آج ہم میں طاقت نہیں ہے) یعنی شدت کی پیاس اور کمزوری ہونے کی وجہ سے یا آدمیوں کے کم ہونے کی وجہ سے بِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ ٖ ( جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی) ان کے زیادہ اور قوی ہونے کی وجہ سے قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ ۙ ( تو وہ لوگ کہنے لگے جنہیں یہ یقین تھا کہ ہمیں ( مرنے کے بعد) خدا کو منہ دکھانا ہے) اور وہ اللہ سے ثواب ملنے کی امید رکھتے تھے یہ وہی لوگ تھے جو ایک چلو بھر پانی پر اکتفا کرکے نہر اتر گئے اور احتمال ہے کہ قالوا کی ضمیر انہی لوگوں کی طرف راجع ہو جو نہر اتر گئے تھے اور ( اور اس وقت) معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اوّل تو آپس میں ایک دوسرے سے یہ کہا کہ آج ہم میں طاقت نہیں ہے پھر ان میں سے خاص خاص لوگوں نے کہا۔ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (کہ بسا اوقات اللہ کے اذن سے ( یعنی اس کے حکم اور ارادے سے) تھوڑی سی جماعت بڑی جماعت پر غالب آجاتی ہے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) یعنی ( ان کی) مدد کرنے اور ثواب عطا کرنے کے طور پر اور صوفیہ (رح) اس معیت سے وہ معیت مراد لیتے ہیں جس کی کوئی کیفیت ہی نہیں ہے۔ کم من فءۃ میں کم خبریہ ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے یا کم استفہامیہ ہے اور استفہام تقریر مراد ہے اور من ( من فءۃ) میں زائد ہے فءۃ آدمیوں کے ایک گروہ کو کہتے ہیں۔ فاءت راسہ سے یا فا بمعنی رجع سے مشتق ہے۔ بعض کا قول ہے کہ یہ جمع ہے اس کا واحد (مستعمل) نہیں۔
Ayah 2:250

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر

وَلَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَجُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ( اور جب وہ ( یعنی طالوت اور ان کی فوج) جالوت اور اس کی فوجوں کے مقابلہ میں آئے (یعنی دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ ہوئی) تو انہوں نے (یعنی طالوت اور ان کے ساتھیوں نے) دعا کی کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں صبر (یعنی استقلال) دے اور ہمارے قدم جمائے رکھ اور کافروں پر ہمیں فتح دے) یہ تمام انبیا اور صالحین کا طریقہ ہے کہ جب انہیں کوئی دشوار امر پیش آتا ہے تو وہ دعا کے ذریعہ سے اللہ کے سامنے التجا کیا کرتے تھے۔