Ayah 2:207وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ( اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو دیدتے ہیں اپنی جان) یعنی جہاد یا امر بالمعروف میں اپنی جان بیچ دیتے ہیں اور خرچ کر ڈالتے ہیں۔ ابو امامہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ کون سا جہاد افضل ہے ؟ فرمایا : افضل جہاد بادشاہ ظالم کے سامنے سچ بات کہنا ہے اس حدیث کو حضرت ابو سعید سے امام احمد اور ابن ماجہ اور طبرانی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَات اللّٰهِ ( اللہ کی رضا جوئی میں) یعنی اللہ کی رضا طلب کرتا ہے گویا خدا کی رضا اس کی جان خرچ کردینے کا بدلہ ہے۔
وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ ( یعنی اللہ بندوں پر بہت ہی شفقت اور رحمت کرنے والے ہیں ( ایسی نفع کی تجارت کا طریقہ سکھایا۔ حارث بن ابی اسامہ اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب ؓ سے روایت کی ہے کہ صہیب ؓ ہجرت کرکے جناب رسول اللہ کی خدمت میں آرہے تھے کہ راہ میں قریش کے چند آدمیوں نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت صہیب ؓ سواری سے اتر پڑے اور ترکش میں سے تیر لے کر مستعد ہوگئے اور انکو خطاب کرکے کہا کہ اے قریش کے گروہ تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ تیر انداز ہوں اور قسم ہے اللہ کی جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی ہے تم مجھ پر قابو نہیں پاسکتے اور تیروں کے ختم ہونے کے بعد جب تک تلوار کا کچھ حصہ بھی رہے گا شمشیر زنی کروں گا اس کے بعد پھر تم جو چاہے کیجیؤ اور اگر تم چاہو تو میں تم کو مکہ میں اپنا مال بتادوں تم اس پر جا کر قابض ہوجاؤ اور مجھے چھوڑ دو انہوں نے اس کو منظور کرلیا جب ان سے چھوٹ کر جناب رسول اللہ کی خدمت میں مدینہ آئے اور سارا قصہ عرض کیا تو حضور ﷺ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اے ابو یحییٰ تمہاری بیع خوب نافع ہوئی تمہاری بیع خوب نافع ہوئی اس کے بعد پھر آیت کریمہ : و من الناس من یشری الخ نازل ہوئی، حاکم نے مستدرک میں بھی اس قصہ کو ابن مسیب کے طریق سے خود صہیب ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے نیز حاکم نے اس قصہ کو حماد بن سلمہ سے اور انہوں نے ثابت ؓ سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے اور اس میں تصریح کی ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب ؓ کے ہی بارے میں نازل ہوئی۔ حاکم نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ حدیث شرط مسلم کے موافق صحیح ہے۔
ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت صہیب بن سنان رومی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے قصہ اس کا یوں ہوا تھا کہ ان کو مع چند مسلمانوں کے مشرکین نے پکڑ لیا تھا اور بہت تکلیف پہنچائی تو صہیب ؓ نے ان سے کہا کہ میں تو بوڑھا ضعیف ہوں اگر میں تم میں ہوں یا غیروں میں ہوں تمہارا کیا نقصان ہے اگر تمہاری رائے ہو تو میرا مال لے لو اور مجھے چھوڑ دو ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اس حدیث کا طرز کلام پہلی حدیث کے خلاف ہے اور اوّل ہی قصہ صحیح ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ آیت رجیع کو جانے والے رستہ کے متعلق نازل ہوئی تھی چناچہ ابن اسحاق اور محمد بن سعد وغیرہم نے ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنی لحیان جو ہذیل میں سے تھا جب سفیان نبی ح ہذلی کو قتل کرچکے تو قبیلہ عضل اور قبیلہ قارہ کی طرف آئے اور ان سے کہا کہ تم لوگ جناب رسول اللہ کی خدمت میں چلو اور آپ ﷺ سے کچھ بات چیت کرلو۔ اس کے بعد چند صحابہ تمہارے پاس آکر دعوت اسلام کیا کریں گے اور دین کی باتیں بتائیں گے اور ہم تمہارے لیے کچھ مقرر کردیں گے انہوں نے اپنے جی میں کہا کہ جو لوگ وہاں سے آئیں گے ہم ان میں سے جس کو چاہیں گے قتل کرڈالیں گے اور جو رہ جائیں گے ان کو مکہ جا کر بیچ دیں گے کچھ روپیہ ہی ہاتھ آئے گا۔ القصہ عضل اور قارہ کے چند لوگوں نے جناب رسول اللہ کی خدمت اقدس میں آکر سلام کیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے یہاں مسلمان ہیں آپ چند صحابہ کو ہمارے ہمراہ بھیج دیجئے تاکہ وہ دین کی باتیں ہم کو سکھائیں حضور نے خبیب بن عدی انصاری اور مرثد بن ابی مرثد غنوی اور خالد بن بکر اور عبداللہ بن طارق اور زید بن دثنہ ؓ کو بھیج دیا اور عاصم بن ثابت انصاری کو ان کا امیر مقرر فرمایا صحیح بخاری میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ دس آدمی بھیجے اور عاصم بن ثابت کو امیر بنا یا۔ القصہ ان کافروں نے بد عہدی کی اور چاروں سے تقریباً سو تیر انداز ان کے گرد شور و غل کرنے لگے ایک روایت میں دو سو آدمی آئے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ تیر انداز ان میں سو ہی ہوں گے جب حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے ان کو دیکھا تو ایک ٹیلے پر چلے گئے کافروں نے چاروں طرف سے احاطہ کرلیا اور کہا کہ ہم عہد و پیمان کرتے ہیں کہ ہم تم کو قتل نہ کریں گے اور نہ ہمارا ارادہ قتل کا ہے ہم تو تم کو اس لیے لائے ہیں کہ تم کو دے کر مکہ والوں سے کچھ مال لیں تم اتر آؤ حضرت عاصم ؓ نے فرمایا کہ میں تو کافر کی ذمہ داری پر اترتا نہیں اے اللہ میں آج تیرے دین کی حمایت کرتا ہوں تو میرے گوشت کی حفاظت کر اے اللہ اپنے رسول ﷺ کو ہماری خبر کردے چناچہ یہ دعا ان کی قبول ہوئی اور جناب رسول اللہ نے اس قصہ سے جس دن وہ قتل ہوئے مطلع فرمادیا۔ الغرض قتال شروع ہوگیا کفار نے تیر اندازی کی اور حضرت عاصم کو مع سات ساتھیوں کے شہید کردیا اور خبیب اور عبد اللہ بن طارق اور زید ؓ باقی رہ گئے جب حضرت عاصم مقتول ہوئے تو ہذیل نے ان کا سر (1) [ یہ اس لیے سر لینا چاہتے تھے کہ سلافہ بن سعد قبیلہ کی ایک عورت تھی اس کے ایک بیٹے کو حضرت عاصم نے احد کے دن قتل کیا تھا اس نے نذر کی تھی کہ اگر مجھے عاصم ؓ کا سر مل گیا تو اس کی کھوپڑی میں شراب پیوں گی۔ (معالم)] مبارک لینا چاہا اتفاقاً بہت سی بھیڑیں آگئیں اسی کی وجہ سے وہ سر کو ہاتھ نہ لگا سکے اسی دن سے حضرت عاصم کا لقب حمی الدبر (بھڑوں کی حفاظت کیے ہوئے) ہوگیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بدلی بھیج دی وہ اس قدر برسی کہ پانی خوب بہا اور حضرت عاصم کے سر مبارک کو بہا لے گیا۔
حضرت عاصم ؓ نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کیا تھا کہ نہ میں کسی مشرک کو مَس کروں گا اور نہ مجھ کو کوئی مشرک مَس کرے گا اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کو پورا کردیا اب رہ گئے زید اور عبد اللہ اور خبیب ؓ ان کو مشرکوں نے قید کرلیا اور بیچنے کے خیال سے مکہ لے چلے جب ظہران میں پہنچے تو عبد اللہ بن طارق ؓ نے اپنا ہاتھ ہتھکڑی سے چھڑا لیا اور تلوار لے لی کفار نے جب یہ دیکھا تو ان کو پتھروں سے مار کر شہید کردیا اور ظہران ہی میں ان کو دفن کردیا اور زید اور خبیب کو مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ ابن اسحاق اور ابن سعد نے کہا ہے کہ زید کو تو صفوان بن امیہ نے خریدا ( یہ صفوان آخر میں مسلمان ہوگئے تھے) انہوں نے اس لیے خریدا تھا کہ اپنے بیٹے امیہ بن خلف کے بدلہ میں ان کو قتل کرے۔ الغرض صفوان نے ان کو خرید کر اپنے غلام نسطاس کے ہاتھ قتل کرنے کے واسطے تنعیم بھیجا اور قریش کی ایک جماعت جس میں ابو سفیان بھی شامل تھا جمع ہوگئی ابو سفیان نے کہا کہ زید میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا تم یہ چاہتے ہو کہ محمد ﷺ تمہاری جگہ ہوں اور ( معاذ اللہ) ان کی گردن ماری جائے اور تم چین سے اپنے گھر جاؤ۔ حضرت زید ؓ نے فرمایا کہ قسم ہے اللہ کی میں ہرگز نہیں چاہتا کہ جناب رسول اللہ اس وقت میری جگہ ہوں اور ان کو کوئی کانٹا تک بھی ستائے اور میں اپنے گھر بیٹھا رہوں یہ سن کر ابو سفیان نے کہا مجھے نہیں معلوم کہ کسی کو کسی سے اس قدر محبت ہو جس قدر کہ اصحاب محمد کو محمد ﷺ سے ہے اس کے بعد نسطاس غلام نے حضرت زید کو شہید کردیا اب رہ گئے خبیب ؓ ان کو حارث کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ بدر کے دن حضرت خبیب نے حارث کو قتل کیا تھا۔ حضرت خبیب ان کے یہاں قید رہے ایک روز حارث کی ایک بیٹی سے حضرت خبیب نے بال وغیرہ لینے کے لیے استرہ مانگا اس نے دے دیا۔ اتفاقاً اس کا ایک بچہ بھی جہاں خبیب تھے وہاں جا نکلا اور اس کی ماں کو خبر نہ تھی کچھ دیر بعد حارث کی اس بیٹی نے دیکھا کہ حضرت خبیب ؓ نے اس بچہ کو ران پر بٹھا رکھا ہے اور استرہ ہاتھ میں ہے وہ عورت یہ دیکھ کر چلائی۔ حضرت خبیب ؓ نے کہا کہ کیا تو اس بات سے ڈرتی ہے کہ میں اس کو قتل کردوں گا میں ہرگز ایسا نہ کروں گا بدعہدی ہم لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔ اس عورت کا بیان ہے کہ وا اللہ میں نے کوئی قیدی خبیب سے اچھا نہیں دیکھا۔ میں نے یہ بھی دیکھا خبیب انگور کا خوشہ کھا رہے ہیں حالانکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور مکہ مکرمہ میں بھی اس وقت انگور نہ تھا ضرور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے پاس سے کھلایا اس کے بعد کفار نے ان کے قتل کا ارادہ کیا اور ان کر حرم سے نکال کر حل میں لائے اور سولی دینے کا ارادہ کیا حضرت خبیب نے فرمایا کہ مجھے ذرا سی دیر مہلت دو تاکہ میں دو رکعت پڑھ لوں کفار نے چھوڑ دیا۔ حضرت خبیب نے دو رکعتیں پڑھیں اور یہ نماز کا طریقہ حضرت خبیب ہی سے شروع ہوا کہ جب کوئی مسلمان اس طرح روک کر قتل کیا جائے وہ دو رکعتیں پڑھے پھر حضرت خبیب ؓ نے کفار سے کہا تم یہ گمان کرو گے کہ موت سے گھبراتا ہے اگر یہ گمان نہ ہوتا تو میں اور زیادہ نماز پڑھتا پھر کہا کہ اے اللہ ان کفار میں سے ایک ایک کو قتل اور تباہ کر اور ایک کو بھی باقی نہ رکھ اور یہ اشعار پڑھے
و لسی ابالی حین اقتل مسلماً علی ای شق کان فی اللہ مصرعی
و ذالک منی للالہ و ان یشاء بیارک فی اوصال شلو ممزع
(یعنی جب میں اسلام کی حالت میں قتل کیا جاؤں تو مجھے اس امر کی پرواہ نہیں کہ اللہ کی راہ میں کس کروٹ گروں گا اور یہ قتل ہونا اللہ کی راہ میں ہے اور اگر اللہ چاہے گا۔۔ تو میرے پارہ پارہ اعضا کے جوڑوں پر برکت بھیجے گا) اس کے بعد کفار نے حضرت خبیب کو سولی پر چڑھا دیا اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت خبیب ؓ نے فرمایا کہ اے اللہ اپنے رسول کو میرا سلام پہنچا دے اور بعض نے کہا ہے کہ مشرکین میں سے ایک شخض سلامان ابو میسرہ نامی تھا اس نے نیزہ حضرت خبیب کے سینہ پر رکھا حضرت خبیب نے اس سے کہا کہ اللہ سے ڈر اس کہنے سے وہ اور زیادہ بھڑکا اور نیزہ کو چیر کر آر پار کردیا۔ و اذا قیل لہ اتق اللہ [ الایۃ ] سے یہی مراد ہے۔ محمد بن عمرو بن مسلمہ نے روایت کی ہے کہ حصرت اسامہ بن زیدنے فرمایا ہے کہ ہم نے سنا کہ رسول اللہ فرماتے ہیں۔۔ کہ جبرائیل نے ابھی مجھ کو خبیب کا سلام پہنچایا ہے جب جناب رسول اللہ کو یہ قصہ معلوم ہوا تو حضور ﷺ نے اصحاب سے فرمایا کہ تم میں کوئی ایسا ہے کہ جو خبیب کو سولی پر سے اتار لائے جو لائے گا اس کے لیے جنت ہے۔ حضرت زبیر نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں اور میرا ساتھی مقداد بن اسود اس کام کو کریں گے غرض یہ دونوں چلے رات کو چلتے اور دن کو مخفی رہتے چلتے چلتے تنعیم پہنچے دیکھا کہ سولی کے پاس چالیس مشرک ہیں انہوں نے جا کر اتارا دیکھا تو اسی طرح ترو تازہ تھے۔ حالانکہ چالیس روز کے بعد اتارا تھا۔ ہاتھ زخم پر تھا اور زخم میں خون ترو تازہ تھا اس کا رنگ خون کی طرح سرخ تھا مگر خوشبو مشک کی سی آرہی تھی۔ حضرت زبیر نے ان کو گھوڑے پر لادا اور دونوں چلے کفار بھی جاگ گئے دیکھا کہ خبیب نہیں ہیں قریش کو جا کر خبر دی اس وقت ستر سوار دوڑے جب قریب آگئے تو حضرت زبیر ؓ نے خبیب کو وہاں ہی گرا دیالاش گرتے ہیں زمین نگل گئی اس دن سے ان کو بیع الارض 1 کہتے ہیں زبیر اور مقداد دونوں رسول اللہ کی خدمت میں آئے اور اس وقت جبرئیل ( علیہ السلام) بھی آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اے محمد ﷺ ملائکہ ان دونوں 2 پر بہت فخر کرتے ہیں پھر ان کے بارے میں آیت کریمہ : و من الناس من یشری نفسہٗ ۔۔ نازل ہوئی اس واقعہ کے مطابق یشری نفسہ کے معنی یہ ہوں گے کہ اپنے نفسوں کو خبیب کے اتارنے کے لیے بیچ ڈالا ‘ وا اللہ اعلم۔
ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہود میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے ان میں سے حضرت عبد اللہ بن سلام اور ثعلبہ اور ابن یامین اور اسد اسید کعب کے بیٹے اور سعید بن عمرو اور قیس بن زید نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم ہفتہ کے دن کی تعظیم کیا کرتے تھے اب بھی ہم کو آپ اجازت دیجئے کہ اس کی توقیر کیا کریں اور تورات بھی تو آخر کتاب الٰہی ہے۔ اس کو ہم رات کو کھڑے ہو کر پڑھا کریں۔ علامہ بغوی (رح) نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ بعد اسلام لانے کے بھی یہ لوگ اونٹ کے دودھ اور گوشت کو حرام جانتے تھے اس پر یہ آیت کریمہ ارشا دہوئی۔
Ayah 2:208يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَاۗفَّةً ۠ ( اے ایمان والو ! داخل ہوجاؤ اسلام میں پورے پورے) سلم کسرہ اور فتحہ سین سے صلح اور طاعت کو کہتے ہیں اور اسی واسطے اس کا اطلاق اسلام پر بھی آیا ہے اور یہاں مراد اسلام ہی سے ہے۔ نافع اور ابن کثیر اور کسائی نے السلم کو یہاں فتح سین سے اور باقی قراء نے کسرہ سے پڑھا ہے اور ابوبکر نے اسی لفظ کو سورة انفال میں کسرہ سے اور باقی قراء نے فتح سے پڑھا ہے کافہ کے معنی کل ہیں کیونکہ کف کہتے ہیں روکنے کو چونکہ کل بھی اجزائی پراگندگی سے مانع ہوجاتا ہے اس لیے اس کو کافہ کہنے لگے اور کافہ یا تو ادخلوا کے ضمیر سے اور یا اسلم سے حال ہے اسلم بھی اپنی ضد یعنی حرب کی طرح مؤنث آتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سب دل سے ظاہراً و باطناً منقاد اور مطیع ہوجاؤ۔
میں کہتا ہوں کہ ایسی ظاہری باطنی طاعت تو صوفیہ کے سوا اور کسی کو میسر نہیں آسکتی یا یہ معنی ہیں کہ اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ اس میں سوائے اسلام کے اور کچھ مت ملاؤ یا یہ مطلب ہے کہ اسلام کی تمام شاخوں میں اور احکام میں داخل ہوجاؤ اور کسی حکم میں خلل انداز مت ہو۔ حضرت حذیفہ بن الیمان ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اسلام کے آٹھ سہام ہیں۔ نماز۔ روزہ۔ زکوٰۃ۔ حج۔ عمرہ۔ جہاد۔ امر بالمعروف 3 نہی عن المنکر 4 جس کے پاس ان میں سے ایک حصہ بھی نہیں وہ بےمراد اور محروم رہا۔
میں کہتا ہوں کہ حذیفہ نے جو کچھ ذکر فرمایا یہ بطور مثال کے ہے یہ مطلب نہیں کہ اسلام کے کل اجزا یہی ہیں اور آیت میں تو ہر مامور کا ماننا اور ممنوع سے باز رہنا مراد ہے یا یہ توجیہ کی جائے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں سب چیزیں آگئیں کیونکہ کسی کو بھلی بات بتانے کا تقاضا ہے کہ بتانے والا خود بھی اس کام کو کرتا ہے اور بری خصلت سے روکنا اس امر کو بتاتا ہے کہ وہ خود اس سے برکنار ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا کہ ایمان کی کچھ اوپر ستّر شاخیں ہیں ‘ افضل ان میں سے : لا الٰہ الاّ اللہ کہنا اور ادنیٰ راستہ سے ایذا کی چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے، اس حدیث ومسلم اور ابو داؤد اور نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ( اور نہ چلو شیطان کے قدموں پر) خطوات میں جو اختلاف قراءت کا ہے وہ
اوّل گذر چکا ہے۔ حاجت اعادہ نہیں۔ یعنی شیطان کے نشان قدم پر مت چلو مثلاً روز ہفتہ کی حرمت کرنے لگو اور اونٹ کو حرام کرلو حالانکہ یہ سب امور منسوخ ہوچکے۔
اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ( بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے) حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ کی خدمت میں حضرت عمر آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم یہود سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہم کو اچھی معلوم ہوتی ہیں اگر حضور کی رائے ہو تو ہم ان میں سے بعض باتیں لکھ لیا کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم بھی اسی طرح حد سے بڑھو گے جس طرح یہود اور نصاریٰ بڑھ گئے میں تو تمہارے واسطے صاف روشن شریعت لایا ہوں اگر موسیٰ ( علیہ السلام) بھی اس وقت زندہ ہوتے تو ان کو بھی سوائے میرے اتباع کے اور کچھ بن نہ پڑتا اس حدیث کو امام احمد نے اور بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔
Ayah 2:209فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ( پھر اگر تم بچلے (لڑکھڑائے) اس کے بعد کے آچکیں تمہارے پاس نشانیاں تو جان رکھو کہ اللہ زبردست، حکمت والا ہے) یعنی پھر اگر تمہارے قدموں نے لغزش کھائی اور اسلام پر مستقیم نہ رہے۔ البینات سے مراد وہ نشانیاں اور دلائل ہیں جو حقانیت اسلام کا پتہ دے رہی ہیں۔ فاعلموا ان اللہ عزیز یعنی اگر تم نے لغزش کھائی تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ زبردست ہے بدلہ لینے سے اس کو کوئی امر مانع نہیں۔ حکیم یعنی حکمت والا ہے انتقام حق پر لیتا ہے کسی حکمت کی وجہ سے مہلت دے رکھی ہے لفظ عزیز سے وہم ہوتا تھا کہ جب زبردست ہے تو کیوں نہیں بدلہ لیتا حکیم سے اس کو دفع فرمادیا کہ مہلت کسی حکمت پر مبنی ہے۔
Ayah 2:210ھَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ ( کیا وہ اس کے منتظر ہیں کہ آجائے ان پر اللہ ابر کے سائبانوں میں) ینظرونیہاں نظر بمعنی انتظار ہی ظلل ظُلَّۃٌ کی جمع ہے الغمام علامہ بغوی کا قول ہے کہ غمام پتلے سفید ابر کو کہتے ہیں کیونکہ غم کا معنی ہے ڈھانک لینا اور غمام بھی ڈھک لیتا ہے اور مجاہد فرماتے ہیں کہ غمام سحاب کے علاوہ ہوتا ہے بنی اسرائیل پر تیہ میں یہی عمام سایہ کے ہوئے تھے حسن کہتے ہیں کہ فی ظلل من الغمام کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ غمام کے پردہ میں آئے جس کو زمین والے نہ دیکھ سکیں۔
وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ ( اور فرشتے) ابو جعفر نے غمام پر عطف کرکے یا برابر والے لفظ کے مجرور ہونے کی وجہ سے مجرور پڑھا ہے اور باقی قراء نے مرفوع پڑھا ہے یعنی و یاتیہم الملائکۃ۔
وَقُضِيَ الْاَمْرُ ( اور طے ہوجائے معاملہ) یعنی کفار کے لیے عذاب واجب ہو اور مؤمنین کے لیے ثواب اور حساب سے فراغت ہوجائے۔ یہ واقعہ قیامت کا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ علماء اہل سنت نے سلف سے لے کر حلف تک تواتر کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اللہ سبحانہٗ صفات اجسام اور علامات حدوث سے منزہ ہے تو اس آیت میں ( جس سے بعض صفات جسمیہ کا پتہ چلتا ہے) انہوں نے دو طریقے اختیار کئے ہیں اوّل یہ کہ اس معاملہ میں بحث سے کنارہ کشی کی جائے اور کہا جائے کہ اس کا علم باری تعالیٰ کو ہے اور اسی پر ایمان لایا جائے یہ طریقہ تو سلف کا ہے کلبی فرماتے ہیں کہ یہ مخفی امر ہے جو قابل تفسیر نہیں۔ مکحول زہری اوزاعی مالک ابن مبارک سفیان ثوری لیث احمد اسحاق (رح) ایسی آیتوں کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ انہیں ایسیے ہی رہنے دو جیسے وارد ہوئی ہیں۔ سفیان بن عیینہ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو جن اوصاف سے اپنی کتاب میں متصف فرمایا ہے اس کی تفسیر یہی ہے کہ اس کو پڑھتے رہو اور اس کی بحث سے سکوت ہو کسی کو سوائے اللہ اور رسول اللہ کے حق نہیں کہ ایسی آیات کی تفسیر اپنی طرف سے کرنے لگے امام ابوحنیفہ کا بھی یہی مسلک ہے کیونکہ انہوں نے متشابہات کے بارے میں فرمایا ہے : لا یعلم تاویلہ الا اللہ اور اس پر وقف کیا ہے اور والراسخون کو الگ جملہ بنایا ہے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مناسب طریقہ سے ایسی آیت کی تاویل کی جاوے کیونکہ بعض کا قول ہے کہ و مَا یعلم تاویلہٗ الا اللہ والراسخون فی العلم میں والراسخون کا عطف لفظ اللہ پر ہے اور الا اللہ پر وقف نہیں کرتے۔ علامہ بیضاوی وغیرہ نے الا ان یاتیہم اللہ کی تاویل میں اَمْرُہُ او باسُہٗ ( خدا کا حکم یا اس کا خوف) کہا ہے مضاف کو محذوف مانا ہے تو اس تقدیر پر یہ آیت بعینہٖ دوسری آیت : او یاتی امر ربک اور فجاء ھم باسنا کی طرح ہوگی یا یہ معنی کہ ان یاتیہم اللہ بباسہ ( اتارے ان پر اپنا خوف) مطلب یہ ہے کہ غمام جس سے رحمت کی توقع ہوتی ہے اس سے عتاب نازل فرمائے گا تو اس صورت میں سخت رسوائی کو بیان کرنا مقصود ہے میں کہتا ہوں علامہ بیضاوی (رح) کی اس تاویل کا وہ احادیث جو اس آیت یا اس کے امثال کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں بالکل انکار کرتی ہیں۔
حاکم۔ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے : یوم تشقق السماء بالغمام کی تفسیر میں فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق جن ‘ انسان ‘ بہائم ‘ درندوں ‘ پرندوں غرض تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا۔ پھر آسمان دنیا پھٹ جائے گا اور آسمان والے جو زمین والوں سے زیادہ ہوں گے اس میں سے اتریں گے۔ تو آسمان والے زمین والوں کو گھیر لیں گے اس وقت زمین والے ان سے کہیں گے کیا ہمارا پروردگار تم میں ہے وہ جواب دیں گے نہیں پھر دوسرے آسمان والے اتریں گے جو ان دونوں گروہوں سے زیادہ ہوں گے تو یہ دونوں گروہ ان سے کہیں گے کیا ہمارا رب تم میں ہے وہ کہیں گے نہیں اور ان ملائکہ کا جو ان سے پہلے آئے تھے اور زمین والوں کا احاطہ کرلیں گے پھر اسی طرح تیسرے آسمان والے آئیں گے پھر چوتھے اور پانچویں اور چھٹے اور ساتویں آسمان والے اسی طرح آئیں گے اور وہ پہلے آسمان والوں اور زمین والوں سے زیادہ ہوں گے اور یہ ان سے پوچھتے رہیں گے کیا تم میں ہمارا رب ہے ؟ وہ کہتے جائیں گے نہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ابر کے سائبانوں میں نزول فرمائے گا اور اس کے گرد کروبی (فرشتے) ہوں گے جو ساتوں آسمانوں اور زمین والوں سے زیادہ ہوں گے اور حاملین عرش بھی جن کے سینگ ایسے ہوں گے جیسے نیزہ کی ابھری ہوئی جگہ۔ ان میں سے ہر ایک کے قدموں کا فاصلہ اتنا ہوگا ( راوی نے اس کی تعیین نہیں کی صرف لفظ کذا و کذا ذکر کردیا ہے) اور ان کے پیروں کے تلووؤں سے ٹخنوں تک پانچ سو برس کی مسافت ہے اور ٹخنوں سے گھٹنوں تک پانچ سو برس کا راستہ ہے اور بن ران سے حلقہ گردن تک پانچ سو برس کا راستہ ہے اور حلقہ گردن سے کانوں کی لو تک پانچ سو برس کی دوری ہے نیز میں کہتا ہوں کہ بیضاوی (رح) نے مضاف کو حذف کرکے جو معنی بنائے ہیں اگر وہی معنی ہوں تو آیت : واسئل القریۃ یعنی واسئل اھل القریۃ کی نظیر ہوگی جس کو متشابہات میں سے کسی نے بھی نہیں کہا۔ اس کے علاوہ ایسی توجیہات کی بنا پر تو کوئی آیت قرآن شریف میں متشابہات میں سے نہ ہوگی حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : منہ اٰیات محکمات ھن ام الکتاب و اخر متشابھات اہل دل ( حضرات صوفیہ صافیہ) کا ایسی آیات میں اور ہی مسلک ہے وہ یہ کہ اللہ کی تجلیات بلا کیف اس کی بعض مخلوق میں ہوتی ہیں جیسا کہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ مؤمن کے قلب میں کعبہ شریف میں عرش عظیم پر خاص تجلیات ہوتی ہیں اور عام تجلیات ہر انسان پر ہوتی ہیں کیونکہ وہ اشرف المخلوقات ہے اور خلیفۃ اللہ ہے اور یہ تجلیات کبھی تو برقی ہوتی ہیں کہ برق کی طرح چمک جاتی ہیں اور کبھی دائمی ہوتی ہے ان تجلیات سے ذات اقدس باری تعالیٰ میں کوئی حدوث لازم نہیں آتا اور نہ اس کا فعل حوادث ہونا یا مرتبہ تنزیہہ سے نیچے آجانا اس کو مستلزم ہے بلکہ اس کا مبنی ممکن میں کسی امر کا حادث ہونا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور آئینہ کہ جس قدر آئینہ صاف ہوگا اسی قدر آفتاب کی تجلی اس میں اچھی طرح جلوہ گر ہوگی اور اسی قدر آثار یعنی روشنی وغیرہ اس میں زیادہ ہوں گے۔ ان آثار کی کمی زیادتی سے جیسا کہ ذات آفتاب میں کوئی کمی یا زیادتی متصور نہیں ایسے ہی یہاں بھی ہے۔ باری تعالیٰ کے ارشاد وتجلی ربہ للجبل اور یاتیہم اللہ فی ظلل من الغمام میں بھی تجلیات مراد ہیں یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی تجلی غمام میں ظاہر فرمائے گا جہاں جس شخص کے قلب نے دنیا میں مجاہدات سے نورا و ربصیرت حاصل کرلی ہے اس کی نظر ان بادلوں سے پرے پہنچے گی جیسے صاف شفاف آنکھ میں سے نظر پر لے پار آسمان تک پہنچتی ہے اور بلا تکلف بغیر عینک لگائے ہوئے آسمان کو دیکھتی ہے جنت میں جب رؤیت باری احادیث سے ایسی ثابت ہے جیسے چودھویں رات کا چاند تو بادلوں سے پرے صاف نظر کا پہنچنا کیسے محال ہوسکتا ہے رہے وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں بصیرت قلبی حاصل نہیں کی وہ تو دنیا میں بھی اندھے ہیں اور آخرت میں بھی راستہ سے دور بھٹکے ہوئے ہوں گے ایسے لوگوں کے لیے وہ غمام پردہ ہوجائے گا۔
بدور سافرہ میں علامہ سیوطی (رح) نے لکھا ہے کہ میں نے شیخ بدر الدین زرکشی کے ہاتھ کا لکھا ہوا دیکھا کہ سلمہ بن القاسم نے کتاب غرائب الاصول میں یہ حدیث نقل کرکے کہ اللہ قیامت کے دن جلوہ افروز ہوگا کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ظلل میں آنا اس پر محمول ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی نظروں کو متغیر کردے گا کہ ان کو ایسا ہی نظر آئے۔ حالانکہ وہ عرش پر ہوگا۔ نہ متغیر ہوگا اور نہ منتقل۔
میں کہتا ہوں اس سے لطیف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ان بادلوں سے جو آئینہ سے زیادہ صاف ہوں گے پرلی طرف دیکھیں گے۔ علامہ سیوطی (رح) فرماتے ہیں عبد العزیز ماجشون سے بھی ایسے ہی معنی منقول ہیں کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی نظروں کو متغیر کردے گا وہ اللہ تعالیٰ کو نازل ہوتا ہوا ‘ تجلی فرماتا ہوا ‘ خلقت سے سرگوشی سے خطاب کرتا ہو دیکھیں گے حالانکہ وہ غیر متغیر اور غیر منتقل ہے۔ احادیث سے ہم کو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کبھی اپنی اصلی صورت میں آتے تھے اور کبھی دحیہ کی صورت میں۔ حالانکہ حصرت جبرائیل ( علیہ السلام) کی دحیہ کی صورت سے بزرگ و بتر ہیں۔ سیوطی کا کلام تمام ہوا۔
میں کہتا ہوں کہ ہم نے جو تاویل ذکر کی ہے اس کو خلف کے اقوال سے مساس بھی نہیں ہے ہاں اقوال سلف سے یہی مراد ہے یعنی یہ کہ وہ عرش پر ہے اور غمام وغیرہ میں نزول فرمائے گا یہ آیات جیسے قرآن پاک میں آئی ہیں انہیں ویسے ہی بلا کیف رہنے دو تاکہ مرتبہ تنزیہ کے مزاحم نہ ہو یہ ایسی بات ہے کہ۔
ع ذواق ایں می نشناسی بخدا تانچستی
اور جن کو ان کا پتہ چلا ہے وہ اس کی تفسیر پوری طرح نہ کرسکے سننے والوں کے افہام مخبوط ہوجاتے ہیں اور جو مراد نہیں، وہ سمجھ جاتے ہیں لہٰذا ایسی باتوں سے سکوت لازم ہے اور ان پر بلا کیف ایمان لانا واجب ہے کسی کو حق نہیں کہ ایسی آیات کی تفسیر اپنی طرف سے کرے۔ سوائے اللہ اور رسول اللہ کے رسول کا عطف لفظ پر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی متشابہات کی تفسیر جانتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ آپ ﷺ کے جو کامل درجہ کے متبع ہیں وہ بھی جانتے ہیں۔ وا اللہ اعلم
وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ( اور سب کام اللہ کے حوالے ہیں) امام ابن عامر اور حمزہ اور کسائی اور یعقوب نے ترجعا الامور کو جہاں کہیں آیا ہے تا کے فتح اور جیم کے کسرہ سے رجوع سے جو لازم ہے پڑھا ہے اور باقی قراءت ا کے ضمہ اور جیم کے فتح سے ارجاع سے جو متعدی ہے پڑھتے ہیں۔
Ayah 2:211سَلْ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِ يْلَ ( اے محمد ﷺ آپ بنی اسرائیل سے پوچھئے) یہاں بنی اسرائیل سے مراد خاص مدینہ منورہ کے یہودی ہیں اور اس سوال سے مقصود ان کو زجر و توبیخ کرنی ہے۔
كَمْ اٰتَيْنٰھُمْ ( انکو ہم نے کتنی کچھ دی ہیں) ھم ضمیر سے موجودہ یہود کے باپ دادا مراد ہیں اور کم یا تو استفہامیہ ہے اس صورت میں یہ سل کو مفعول ثانی سے مانع ہے ( یعنی سل جو پہلے سے دو مفعولوں کو چاہتا تھا اب کم کے آنے سے مفعول ثانی کی اسے ضرورت نہ رہی) اور یا کم خبریہ ہے اس صورت میں کم مع اپنی ممیز کے سل کا مفعول ثانی ہے اور آیہ الخ کا ممیز۔
مِّنْ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ( کھلی نشانیاں) احتمال ہے کہ کم مبتدا اور ضمیر جو مبتدا کی طرف پھرتی ہے خبر میں سے محذوف ہو مطلب یہ ہے کہ بہت سی کھلی نشانیاں ہیں جو ہم نے ان کو دی تھیں اور انہوں نے انہیں پہچان لینے کے بعد بدل ڈالا اور جملہ کم اتیناھم کم کے استفہامیہ ہونے کی تقدیر پرسل بنی اسرائیل سے حال ہے مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ کم اتیناھم۔۔ اور کم کے خبریہ ہونے کی تقدیر پر ( جملہ کم اتیناھم) جواب سوال کا ہے یعنی بنی اسرائیل سے پوچھئے کہ ان کے پس بہت سی نشانیاں تھیں یا نہیں اور ان نشانیوں سے مراد وہ کھلے کھلے معجزے ہیں جو موسیٰ ( علیہ السلام) کی نبوت پر دال تھے یا توریت کی وہ محکم آیتیں مراد ہیں جو محمد ﷺ کی نبوت پر دال ہیں اور یہ دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں
وَمَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ ( اور جس نے اللہ کی نعمت کو بدل دیا) نعمت سے مراد وہ معجزے ہیں جو اللہ نے اس پر انعام کیے نعمت ان کو اس لیے کہا کہ وہ ہدایت کا سبب ہیں یا اس سے اللہ کی کتاب مراد ہے ( اور تبدیل سے مقصود یہ ہے) کہ اس پر عمل نہ کیا۔
مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُ ( اس ( نعمت) کے آجانے کے بعد) یعنی وہ نعمت اس کے پاس پہنچ گئی اور اس کو تحقیق کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ ان لوگوں نے ان کو تحقیق کرنے کے بعد بدلا ہے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ( بیشک اللہ تعالیٰ اس کو سب سے سخت عذاب دینے والا ہے) یعنی چونکہ وہ سب سے سخت جرم کا مرتکب ہوا ہے لہٰذا اس کو عذاب بھی اللہ سب سے سخت دے گا۔
Ayah 2:212زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا ( دنیاوی زندگانی ان لوگوں کے لیے خوشنما کردی گئی جنہوں نے کفر کیا) اور خوشنما کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ تمام خوبصورت چیزوں اور عجیب منظروں کو اسی نے پیدا کیا ہے علیٰ ہذا القیاس ان لوگوں میں قوت شہوانیہ بھی اسی نے پیدا کی تھی اور ان کے دلوں میں ان چیزوں کی محبت یہاں تک ملائی کہ وہ ان ہی پر مر مٹے۔ زجاج کہتے ہیں کہ شیطان نے ان کے لیے خوشنما کردی یعنی ان لوگوں کو شہوانی خیالات سوجھا دیئے۔
میں (صاحب تفسیر ‘ 12) کہتا ہوں کہ بندوں کے سب افعال کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور شیاطین بھی بندوں ہی میں سے ہیں لہٰذا خوشنما کرنے والا تو اللہ ہی ہوگا ہاں شیطان کی طرف اس حیثیت سے نسبت کرنا جائز ہے کہ وسوسہ کا فاعل وہی ہے وا اللہ اعلم۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ یہ آیت عرب کے مشرکین ابو جہل وغیرہ کے حق میں نازل ہوئی تھی۔
وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ( اور یہ ( کفار) ان لوگوں سے ہنستے ہیں جو ایمان لے آئے) یعنی فقراء مؤمنین سے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں مؤمنین سے عبد اللہ بن مسعود، عمار، خبیب، بلال، صہیب ؓ وغیر مراد ہیں اور مقاتل کہتے ہیں کہ یہ آیت چند منافقین یعنی عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی جو دنیا میں عیش و عشرت سے رہتے تھے اور غریب مسلمانوں سے مسخری کرتے اور کہتے تھے ذرا ان لوگوں کو دیکھنا ( ان کے رسول) محمد ﷺ کہتے ہیں کہ ہم ان ہی لوگوں کی وجہ سے سب پر غالب آجائیں گے۔ عطا فرماتے ہیں کہ یہ آیت سرداران یہود کے حق میں نازل ہوئی جو غریب مسلمانوں پر ہنسا کرتے تھے۔ مسلمانوں سے اللہ نے یہ وعدہ کرلیا کہ بنی قریظہ اور بنی نظیر کے سب قسم کے مال بلا لڑائی بھڑائی کے ہم تمہارے حوالے کردیں گے۔
وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا ( اور جن لوگوں نے پرہیزگاری کی) یعنی وہی فقراء جو الذین اٰمنوا سے مراد تھے یہ موقع اگرچہ ضمیر لانے کا تھا مگر اسم ظاہر یہاں اس لیے لایا گیا ہے تاکہ اس سے تین امر معلوم ہوجائیں ایک یہ کہ متقی ( پرہیزگار) بھی یہی لوگ ہیں دوسرے یہ کہ ان کا عالی مرتبہ ہونا تقویٰ کی وجہ سے ہے تیسرے یہ کہ عمل ایمان سے خارج ہے۔
فَوْقَهُمْ (ان سے اوپر ہوں گے) مکان میں یا رتبہ میں یا غلبہ میں کیونکہ متقی لوگ اعلیٰ علیین اور اللہ کے اعزاز میں ہوں گے اور کفار پر فخر کرکے ان پر اس طرح ہنسیں گے جس طرح کفار دنیا میں ان پر ہنستے تھے اور کفار اسفل السافلین اور ذلت میں ہوں گے۔
يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ( قیامت کے دن) جیسا کہ دارین میں اللہ کے نزدیک مؤمنین کفار سے بہتر اور معزز ہیں۔ سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس سے نکل رہا تھا حضور ؓ نے ایک دوسرے آدمی سے پوچھا جو آپ ﷺ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا کہ اس کو تم کیسا سمجھتے ہو اس نے عرض کیا حضور یہ بڑا شریف آدمی ہے ( اور) قسم اللہ کی یہ اس شان کا آدمی ہے کہ اگر کہیں رقعہ (پیغام) بھیجے تو فوراً (منظور ہو کر) اس کی شادی ہوجائے اور اگر کسی کی کہیں سفارش کرے تو فوراً قبول ہوجائے۔ حضور ﷺ یہ سن کر خاموش ہو رہے ‘ اتنے میں ایک اور آدمی ادھر آنکلا۔ آپ نے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کے بارے میں تم کیا کہتے ہو اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ مسلمانوں میں بہت غریب آدمی ہے یہ ایسا ہے کہ اگر کہیں رقعہ بھیجے تو کوئی شادی بھی نہ کرے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو وہ بھی کوئی منظور نہ کرے اور اگر کچھ کہے تو کوئی سنے بھی نہیں اس پر حصور ﷺ نے فرمایا کہ ویسے آدمیوں کی بھری ہوئی زمین سے یہ اکیلا بہتر ہے۔ یہ روایت بخاری نے نقل کی ہے۔
اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں بہشت کے دروازہ پر کھڑا ہوں گا تو اکثر اہل بہشت مساکین کو دیکھوں گا اور دوزخ کے دروازہ پر کھڑا ہوں گا تو اکثر دوزخی عورتوں کو دیکھوں گا اور اس وقت دولت مند رکے ہوئے ہوں گے۔ ہاں جو ان میں سے دوزخی ہوں گے۔ انہیں دوزخ میں جا نے کا حکم ہوجائے گا۔ یہ حدیث بغوی (رح) نے نقل کی ہے۔
وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاۗءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ( اور اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب روزی دیتا ہے) یعنی دارین میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بہت سا رزق کیونکہ جو حساب میں آجاتا ہے وہ کم ہوتا ہے بعض مفسرین کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اللہ کے دینے کا اللہ کے ذمہ کوئی حساب نہیں اس پر کوئی اعتراض ہے وہ کبھی ایسے شخص کو بہت سا رزق دیتا ہے جسے اس کی ضرورت نہ ہو اور کبھی اسے کم دیتا ہے جسے ضرورت ہوتی ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اپنے خزانے خالی ہونے سے نہیں ڈرتا کہ وہ حساب کرکے دے۔
Ayah 2:213كَان النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۣ ( پہلے سب لوگ ایک ہی دین رکھتے تھے) بزار نے اپنی مسند میں اور ابن جریر۔ ابن ابی حاتم۔ ابن منذر نے اپنی اپنی تفسیر میں اور حاکم نے مستدرک میں ابن عباس سے صحیح سند سے نقل کی ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ آدم اور نوح ( علیہ السلام) کے درمیان میں دس قرن کا فاصلہ تھا یہ سب لوگ ایک ہی حق دین پر تھے پھر ان میں اختلاف ہوگیا اور اسی طرح ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ یہ سب دس قرن تھے۔ سب لوگ علماء اور ہدایت یافتہ تھے پھر ان میں اختلاف پڑگیا اس وقت اللہ پاک نے حضرت نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا اللہ نے سب سے پہلے زمین پر حضرت نوح ( علیہ السلام) ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور حسن اور عطا کہتے ہیں کہ آدم کی وفات کے وقت سے لے کر نوح کے آنے تک سب لوگ مثل چوپاؤں کے مذہب کفر پر تھے پھر اللہ تعالیٰ نے نوح وغیرہ چند نبیوں کو بھیجا ( قتادہ اور حسن و عطا کی ان روایتوں میں تعارض ہے) اور تطبیق ان دونوں میں اس طرح ہوسکتی ہے کہ پہلے تو وہ سب لوگ مسلمان تھے پھر ان میں اختلاف پڑ کر یہاں تک نوبت ہوگئی کہ حضرت نوح ( علیہ السلام) کے زمانے میں سوائے آپ کے والدین کے اور سب لوگ کافر ہوگئے پس وہ دونوں مسلمان رہے اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور نوح ( علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ : رَبِّ اغْفِر لِیْ وَلِوَالِدَیَّ [ الایۃ ] ۔
بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ اس سے سارے عرب کے لوگ مراد ہیں۔ حافظ عماد الدین بن کثیر فرماتے ہیں کہ عمرو بن عامر خزاعی کے مکہ کا حاکم ہونے تک سارے اہل عرب دین ابراہیم پر تھے۔ امام احمد نے اپنی مسند میں ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنا نکالا اور بتوں کی پرستش جاری کی وہ ابو خزاعہ عمرو بن عامر ہے میں نے اس کی آنتیں نکلی ہوئی اسے دوزخ میں دیکھا ہے اور صحیحین میں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ عمرو بن عامر بن لحی بن قمعۃ بن خندف کو میں نے دوزخ میں اپنی آنتیں گھسیٹتے ہوئے دیکھا ہے سب سے پہلے اسی نے سانڈ چھوڑنا نکالا تھا۔
اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے اس میں یہ بھی ہے کہ دین ابراہیمی کو سب سے پہلے اسی نے بدلا تھا لیکن ( آیت میں) ناس سے عرب مراد لینے سے لفظ نبیین انکار کر رہا ہے کیونکہ عرب میں سوائے محمد ﷺ کے اور کوئی نبی نہیں ہوا۔ اس کی دلیل یہ ہے : لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّا اُنْذِرَ اٰبَاءُھُمْ فَھُمْ غَافِلُوْنَ ابو العالیہ نے ابی ابن کعب سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ جس وقت سب لوگ ( ازل میں) حضرت آدم کے سامنے کیے گئے اور آپ کی پشت سے نکالے گئے اس وقت سب نے ایک امت ہو کر اپنے بندے ہونے کا اقرار کیا اور اس وقت کے سوا کبھی ایک امت ہو کر نہیں رہے ہمیشہ ان میں اختلاف رہا۔
میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ کان الناسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً کے یہ معنی لیے جائیں کہ سب لوگ حق کو قبول کرنے کی استعداد رکھنے والے اور فطرت پر پیدا کیے ہوئے تھے پھر شیاطین انس و جن نے انہیں بہکایا تو ان میں اختلاف پڑگیا۔ ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوس کرلیتے ہیں جیسے کہ چوپایہ اپنے ہی جیسا بچہ دیتا ہے جو سب طرح صحیح سالم ہوتا ہے کیا ان میں تم نے کوئی کان کٹا دیکھا ہے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ ( پھر اللہ نے انبیا کو بھیجا) اس کا عطف کان الناس امۃ واحدۃ پر ہے اگر اس سے کفر پر اجتماع مراد لیا جائے اور اگر اس سے حق پر اجتماع ہونا مراد لیا جائے تو اس کا عطف ایک مقدر فعل پر ہے یعنی ان میں اختلاف ہو تو اللہ تعالیٰ نے انبیا کو بھیجا کیونکہ انبیاء کو بھیجنا کفر اور فساد ہی دفع کرنے کے لیے ہوتا ہے ابوذر کہتے ہیں ( نبیین کی بابت) میں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ کل نبی کتنے ہوئے ہیں ؟ فرمایا ایک لاکھ اور چوبیس ہزار ان میں سے ایک بڑی جماعت تین سو پندرہ رسول تھے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور ایک روایت میں ابوذر سے تین سو دس سے کچھ اوپر ہونے بھی مروی ہیں۔ بغوی کہتے ہیں کہ رسول ان میں تین سو تیرہ ہوئے ہیں اور جن کا صریح نام قرآن شریف میں آیا ہے اٹھائیس نبی ہیں۔
میں کہتا ہوں بلکہ قرآن شریف میں کل چھبیس مذکور ہیں جن میں اٹھارہ تو اس آیت میں : وَ تِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنَا ھَا اِبْرَاھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ [ الایۃ ] وَوَھَبْنَا لَہٗ اِسْحٰق وَ یَعْقُوْبَ کُلَّاً ھَدَیْنَا وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَتِہٖ دَاوٗد وَ سُلَیْمَانَ وَ اَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ھَارُونَ وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْییٰ وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ کُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِیْنَ وَ اِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا وَ کُلاًّ فَضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْناور آٹھ ان کے سوا ہیں یعنی آدم، ادریس، ھود، صالح، شعیب، ذالکفل، عزیر محمد سید الانبیا صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ سورة مؤمن میں جو یوسف مذکور ہیں وہ یوسف بن یعقوب نہیں ہیں بلکہ وہ یوسف بن ابراہیم بن یوسف بن یعقوب ہیں اس حساب سے ستائیس ہوگئے اور بعض مفسرین عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ حضرت مریم کی بھی نبوت کے قائل ہیں اس حساب سے پورے اٹھائیس ہوگئے مگر یہ آیت : وَ مَا اَرْسَلْنَا منْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالاً نُوْحِیْ اِلَیْھِم مَنْ اَھْلِ الْقُرٰی مریم کی نبوت کا انکار کرتی ہے اور احتمال ہے کہ اٹھائیسویں نبی لقمان (حکیم) ہوں۔ وا اللہ اعلم
مُبَشِّرِيْنَ ( خوشخبری دینے والے) ثواب ملنے کی اس کو جس نے اطاعت کی۔
وَمُنْذِرِيْنَ ۠ ( اور ڈرانے والے) اللہ کے عذاب سے اس کو جس نے نافرمانی کی۔
وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ لِيَحْكُمَ ( اور ان کے ساتھ سچی کتاب نازل کی تاکہ فیصلہ کرے) کتاب سے مراد جنس کتاب ہے۔ بالحق کتاب سے حال واقع ہے یعنی شاہدا بالحق لیحکم یعنی اللہ یا کتاب یا جو اس کتاب کے ساتھ نبی ہے وہ حکم کرے۔ ابو جعفر نے لیحکم کو یا کے ضمہ اور کاف کے فتحہ سے یہاں اور آل عمران میں اور سورة نور میں دو جگہ پڑھا ہے اس صورت میں نائب فاعل ظرف یعنی بہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ اس کتاب کا حکم کیا جائے۔
بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ( لوگوں میں اس امر کا جس میں انہوں نے اختلاف کیا ہے) یا جس امر میں انہیں شک ہوگیا۔
وَمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ اِلَّا الَّذِيْنَ اُوْتُوْهُ ( اور نہیں اختلاف کیا اس کتاب میں مگر ان لوگوں نے ہی جن کو وہ کتاب دی گئی) الذین موصول عہد کے لیے ہے اور اس سے مراد یہود اور نصاریٰ ہیں۔
مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْهُمُ الْبَيِّنٰتُ ( اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد) یعنی وہ محکم آیتیں جو توریت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والی اور محمد ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت دینے والی اور آپ کے اوصاف کریمہ کو بیان کرنے والی تھیں۔ ان کے اختلاف سے مراد ان کا یہ قول ہے کہ بعض کتاب پر ہم ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں علی ہذا القیاس آیتوں اور احکام) کو انکے موقعوں سے بدل دینا اور محمد ﷺ کی صفات اور قرآن شریف کا انکار کرنا۔
بَغْيًۢـا بَيْنَهُمْ ۚفَهَدَى اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ (آپس کی ضد سے پھر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں ( یعنی محمد ﷺ کی امت) کو اپنے حکم۔۔ ( یا اپنے ارادے یا اپنے لطف) سے وہ راہ حق دکھا دی جس میں وہ اختلاف کرتے تھے) من الحق ما کا بیان ہے ابن زید کہتے ہیں ان لوگوں کا اختلاف قبلہ میں تھا کوئی مشرق کی طرف نماز پڑھتا تھا کوئی مغرب کی طرف کوئی بیت المقدس کی طرف اس بارے میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے کعبہ ( کی طرف پڑھنے) کا اشارہ فرمایا اور ان کا اختلاف روزوں میں بھی تھا پھر ہمیں اللہ تعالیٰ نے رمضان شریف کے روزے رکھنے کا حکم دیا اور اسی طرح ( عبادت کے) دنوں میں بھی ان کا اختلاف تھا نصاریٰ نے اتوار کا دن لے لیا اور یہود نے ہفتہ کا دن ہمیں اللہ تعالیٰ نے جمعہ کی ہدایت فرمائی اور اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مذہب میں بھی ان کا اختلاف تھا یہود ان کو یہودی کہتے تھے اور نصاریٰ نصرانی اس بارے میں بھی ہمیں اللہ نے حق بات بتادی اسی طرح حضرت عیسیٰ کے بارے میں ان کا اختلاف تھا یہودی ان کو حرامی بچہ بتاتے تھے (معاذ اللہ) اور نصاریٰ نے ان کو معبود ٹھہرا لیا تھا ( معاذ اللہ اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں حق بات بتادی۔
وَاللّٰهُ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَـقِيْمٍ ( اور اللہ جسے چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے) کہ اس پر چلنے والا گمراہ نہیں ہوتا۔
Ayah 2:214اَمْ حَسِبْتُمْ ( کیا تم نے یہ سمجھا ہے) ام مقطعہ ہے اس لیے کہ ام متصلہ کو ہمزہ لازم ہوتا ہے اور یہ ام بمعنی بل اور ہمزہ کے ہے لفظ بلْ کلام سابق سے اعراض کے لیے آتا ہے یہاں یہود و نصاریٰ کے اختلاف سے اعراض کرنے کے لیے ہے اور ہمزہ مؤمنین کے خیال کے انکار اور استبعاد کے واسطے۔
اس سے غرض یہ ہے کہ مؤمنین صبر سے سختی اور تکلیف میں کام لیں۔ قراء کا قول ہے کہ اس کے معنی ہیں اَحَسِبْتُمْ اور میم زائد ہے۔ زجاج نے کہا ہے کہ اسی کے معنی بل حسبتم ہیں یہ آیت جنگ احزاب کے دن نازل ہوئی تھی جس وقت آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کو سخت مصیبت اور محاصرہ اور شدت خوف اور سردی اور طرح طرح کی تکلیفیں پہنچیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَ بَلَغَتِِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظَنُّوْنَ بِ اللہ ِ الظُّنُوْنَا ھُنَالِکَ ابتُلِیَ المُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت جنگ احد میں نازل ہوئی ہے عطا کہتے ہیں جب رسول اللہ مدینہ منورہ پہنچے تو حضور کے ہمراہیوں پر بہت تنگی گذرنے لگی کیونکہ وہ لوگ بالکل خالی مدینہ گئے تھے اپنے گھر بار اور مال وغیرہ سب مشرکین کے قبضہ میں چھوڑ گئے تھے اس کے علاوہ ( مدینہ) کے یہود عداوت ظاہر کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ام حسبتم۔
اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ
( کہ جنت میں (یونہی) چلے جاؤ گے حالانکہ جو تم سے پہلے ( انبیاء اور مؤمنین) گذر گئے ہیں ان کی سی حالت ( تنگی کی) تمہیں پیش نہیں آئی انہیں سختی ( بھی) پہنچی اور ( فقرو بیماری کی) تکلیف ( بھی) اور طرح طرح کی بلاؤں اور سختیوں میں) جھڑجھڑائے گئے یہاں تک کہ رسول ( علیہ السلام) اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ( مدد ہونے میں دیر ہونے کی وجہ سے) کہنے لگے کہ خدا کی مدد کب ہوگی (اُن سے کہا گیا) آگاہ رہو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے۔ یقول میں رفع اور نصب دونوں جائز ہیں کیونکہ حتی ٰکا ما بعد جب مستقبل بمعنی ماضی ہو تو اس میں دونوں اعراب جائز ہیں نافع نے رفع سے اور باقی قراء نے نصب سے پڑھا ہے۔
رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت مصیبتوں سے اور دوزخ لذتوں سے گھری ہوئی ہے یہ روایت مسلم نے انس اور ابوہریرہ ؓ سے اور امام احمد نے ابوہریرہ اور ابن مسعود سے نقل کی ہے۔ وا اللہ اعلم۔ ابن منذر نے ابن حبان سے روایت کی ہے کہ عمرو بن جموح نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم کس قسم کے مال اور کہاں کہاں خرچ کیا کریں۔ ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں مسلمانوں نے یہی سوال کیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 2:215يَسْــَٔـلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ڛ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰىٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ( اے محمد ﷺ ! لوگ) ( آپ ﷺ سے دریافت کرتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں تم کہہ دو کہ جو مال تم خرچ کرو تو (ا وّل) ماں باپ اور رشتہ داروں کو اور ( اس کے بعد) یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کو دو ) اللہ تعالیٰ نے : ما انفقتم من خیرعام فرما کر خرچ کرنے کی مدوں کو صراحتاً اور سائل کے جواب کو اشارۃً بیان فرما دیا ہے اس لیے کہ مصرف کا خیال رکھنا زیادہ اہتمام کے قابل ہے کیونکہ خرچ کرنے کا اعتبار مصرف ہی کے لحاظ سے ہوتا ہے۔
وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ ( اور تم جو کچھ نیکی کرو گے) یعنی کوئی سی نیکی، صدقہ ہو یا اور کچھ یہ جملہ شرط کے معنی میں ہے
اور اس کا جواب آئندہ آیت ہے :
فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ ( تو بیشک اللہ اس کو جانتا ہے) یعنی اس کی حقیقت اور تمہاری نیتوں کو جانتا ہے پھر تمہاری نیتوں کے مطابق اس کا پورا پورا اجر دے گا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کے فرض ہونے سے پہلے تھا پھر حکم زکوٰۃ ( نازل ہونے) سے یہ آیت منسوخ ہوگئی اور حق یہ ہے کہ یہ حکم زکوٰۃ کی فرضیت کے منافی نہیں ہے کہ اس سے منسوخ ہوجائے لہٰذا یہ آیت محکم ہے۔