Ayah 2:44اَتَامُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ ( کیا تم لوگوں کو نیک کام کا حکم کرتے ہو) یہ آیت سابقہ آیت کے مضمون کی تاکید و تقریر ہے اور اس میں ایک تعجب آمیز دھمکی بھی ہے۔ البر ( خوب دل کھول کر نیکی کرنا) بر ( بمعنی میدان وسیع) سے مشتق ہے اور ہر قسم کی نیکی کو بر بولتے ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ یہ آیت علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول اس کا یہ ہوا تھا کہ یہود میں سے کچھ لوگ جو مسلمان ہوگئے تھے اپنے غیر مسلم یہودی اعزاء اوراقرباء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا کرتے تھے کہ تمہاری کیا رائے ہے آیا یہ دین حق ہے یا کیا ہے تو ان کے عزیز وا قارب کہتے کہ تم جس دین پر ہو جمے رہو کیونکہ جو کچھ محمد ﷺ کہتے ہیں وہ سب حق اور سچ ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ واحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ علماء یہود عوام کو تو تورات پر عمل کرنے کی نصیحت کرتے تھے مگر خود عمل نہ کرتے تھے اور محمد ﷺ کی جو نعت اس میں موجود تھی اسے متغیر کردیتے تھے۔
وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُم ( اور اپنے آپ کو بھولتے ہو) اپنے نفس کو بھولنے کے معنی اسے بھلائی سے آزاد چھوڑ دینے کے ہیں جیسے دل سے بھلائی ہوئی چیزیں چھوٹ جاتی ہیں۔ حقیقی بھولنے کے معنی مراد نہیں ہیں۔ (کیونکہ کوئی شخص اپنے آپ کو بھولا نہیں کرتا)
وَ اَنْتُمْ تَتَلُوْنَ الْکِتٰبَ ( حالانکہ تم کتاب الٰہی پڑھتے ہو) الکتٰب سے مراد توراۃ ہے معنی یہ کہ تم اوروں کو تو نیک بات بتاتے ہو اور خود اس پر عمل نہیں کرتے حالانکہ تم توراۃ پڑھتے ہو اور اس میں محمد ﷺ کی نعت اور صفت موجود اور مخالفت و سرکشی اور نیک کام کے ترک پر سخت وعید مذکور ہے۔
اَفَلاَ تَعْقِلُونَ ( کیا تم ( اپنے بد افعال کو) سمجھتے نہیں) یا یہ معنی کیا تمہیں عقل نہیں جو ایسے افعال سے تمہیں باز رکھے۔ عقل کے معنی لغت میں حبس ( روکنا) کے ہیں اور اسی سے عقال الدابہ 1 مشتق ہے چونکہ عقل انسان کو مضر چیزوں سے روکتی ہے اس لیے اسے عقل کہتے ہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ یہ تمہارے افعال علم اور عقل کے صریح مخالف ہیں۔ علامہ بغوی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات میں نے کچھ آدمی دیکھے کہ ان کے ہونٹ آگ کی قینچی سے کترے جا رہے تھے۔ میں نے جبرائیل ( علیہ السلام) سے پوچھا : یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ آپ ﷺ کی امت کے واعظ ہیں لوگوں کو نیک کام بتاتے تھے اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے تھے حالانکہ کتاب الٰہی پڑھتے تھے۔ اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص لایا جائے گا کہ اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا آگ میں اس کی انتڑیاں اور اوجھ سب نکل پڑے گا پھر اس کے پیچھے اس طرح گھومے گا جیسا کہ گدھا اپنی چکی کے گرد گھومتا ہے۔ اس کا یہ حال دیکھ کر دوزخ والے اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پوچھیں گے تیرا کیا حال ہے تو تو ہمیں بھلی بات بتلایا کرتا تھا لیکن خود عمل نہیں کیا کرتا تھا وہ کہے گا ہاں میں تمہیں بری بات سے روکتا تھا اور خود اسی میں مبتلا تھا۔ 2 بیضاوی نے کہا ہے کہ مقصود اس آیت سے عالم اور واعظ کو تزکیہ اور اصلاح نفس کا حکم کرنا ہے وعظ سے روکنا اور منع کرنا مراد نہیں کیونکہ وعظ اور لوگوں کو بھی بھلی بات بتانا یہ بھی اللہ کا حکم ہے اور اپنے نفس کو پاک کرنا اور معاصی سے بچنا یہ بھی ضروری ہے اور ایک حکم پر عمل نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسرے حکم کو بھی چھوڑ بیٹھے۔ (اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی کہے میاں جب ہم غیبت اور حق تلخیاں کرتے ہیں تو نماز کیوں پڑھیں ظاہر ہے کہ ایسا شخص سبب کے نزدیک بیوقوف ہوگا)
میں کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے فرمایا : کَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰہِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ( سخت ناپسند ہے اللہ کے نزدیک یہ بات کہ ایسی بات کہو جو خود نہ کرو) اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی خود بد عمل ہو تو دوسروں کو بھی وہ بھلی بات کرنے کا حکم نہ کرے کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک برا ہے لیکن آیت کے یہ معنی نہیں بلکہ یہ معنی ہیں کہ عالم کا گناہ اللہ کے نزدیک جاہل کے گناہ سے زیادہ ناپسند ہے نہ یہ کہ عالم گنہگار کا امر بالمعروف ناپسند ہے واللہ اعلم۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہود کو ایسی باتوں کا حکم فرمایا جس سے ان کی دنیا کا نقصان اور مال و جاہ میں فرق آتا ہے تو یہ ان پر بہت ہی شاق گذرا اور دل میں گو اسلام کو حق سمجھتے تھے۔ مگر قبول اسلام سے چونکہ ریاست اور جاہ و مال سے ہاتھ دھونا پڑتا تھا۔ اس لیے دائرۂ کفر سے نہ نکلتے تھے اور قبول اسلام انہیں ایک پہاڑ نظر آتا تھا آیت ذیل میں اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و رحم سے انہیں ایسے طریقہ کی ہدایت فرماتا ہے کہ اس پر عمل کرنے سے قبول اسلام اور ترک دینا سہل ہوجائے اور تمام دنیوی ودینی حاجتیں پوری ہوجائیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 2:45وَاسْتَعِیْنُوا بالصَّبْرِ ( اور مدد چاہو صبر سے) مطلب یہ ہے کہ تم کو جو طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں نے منہ دکھا رکھا ہے ان کے دفع کرنے کے لیے صبر اور نماز سے مدد چاہو یعنی صبر کرو اور نماز پڑھو۔ لفظ صبر بہت سے معانی کو شامل ہے۔ اول یہ کہ اللہ پر توکل کرکے خوشی اور حاجت روائی کا انتظار کرو۔ دوسرے یہ کہ اپنے نفس کو فریاد اور جزع و فزع سے روکو کیونکہ جزع و فزع کچھ نافع نہیں جو کچھ مقدر میں ہے وہی ہو کر رہے گا۔ تیسرے یہ کہ اپنے نفس کو معاصی سے بچاؤ اور طاعات پر جماؤ اس سے سب مصیبتیں جاتی رہیں گی کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَ مَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِبْمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ ( یعنی جو کچھ تمہیں مصیبت پہنچتی ہے۔ یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے) مجاہد فرماتے ہیں کہ صبر سے مراد روزہ ہے اس لیے رمضان کے مہینے کو شہر صبر کہتے ہیں۔ روزہ اور نماز یہ دونوں حب جاہ و مال کے ترک کے باعث اس لیے ہیں کہ روزہ دنیا سے بےرغبت کرتا اور نماز آخرت کی طرف مائل کرتی ہے۔
وَالصَّلٰوۃِ (اور نماز سے) بعض مفسرین نے کہا ہے : والصلوٰۃ میں واؤ بمعنی علیٰ ہے اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہیں کہ نماز پر صبر سے مدد چاہو جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَامُرْ اَھْلَکَ بالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا ( یعنی اے محمد ﷺ آپ اپنی اہل کو نما زکا حکم کیجئے اور خود بھی اس پر قائم رہئے) تفکرات کے رفع کرنے اور حوائج کے پورا ہونے میں نماز کو بڑا دخل ہے چناچہ امام احمد اور ابو داود اور ابن جریر نے عبد العزیز سے جو حذیفہ بن الیمان ؓ کے بھائی ہیں روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی مہم پیش آتی تو نماز کی طرف توجہ فرماتے تھے۔ اس آیت میں صلوٰۃ سے مراد دعا ( جو اس کے لغوی معنی ہیں) بھی ہوسکتی ہے کیونکہ دعا سے بھی پریشانیاں دور ہوتی ہیں اور دینی و دنیوی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس کو اللہ سے یا کسی بندہ سے کوئی حاجت ہو تو اسے چاہئے کہ وضو کرے اور اترے دل (بےدلی) سے وضو نہ کرے بلکہ خوب اچھی طرح سنوار کر کرے۔ پھر دو رکعت پڑھ کر حق تعالیٰ کی حمد و ثنا کرے اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے پھر یہ دعا پڑھے : لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ سُبْحَان اللّٰہِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اَسْءَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ وَ عَزَاءِمَ مَغْفِرَتِکَ وَالْغَنِیْمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍ وَّ السَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ لَا تَدْعُ لِیْ ذَنْبًا اِلَّا غَفَرَّتُہٗ وَ لَا ھَمًّا اِلَّا فَرَّجْتُہٗ وَ لَا حَاجَۃً ھِیَ لَکَ رِضًا اِلَّا قَضَیْتَھَا یا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ اس حدیث کو ترمذی نے عبد اللہ بن ابی اوفی سے روایت کیا ہے اور مستدرک میں حاکم نے بھی اسی طرح کیا ہے۔
وَ اِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ ( اور بیشک نماز شاق ہے) اِنھا میں ضمیر ھا یا تو استعانۃ ( مدد طلب کرنا) کی طرف راجع ہو کیونکہ وہ استعینوا میں معنیً موجود ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ نماز اور روزہ سے مدد چاہنا شاق اور گراں ہے یا تمام اوامرو نواہی کی طرف راجع ہے۔ یا صبر اور صلوٰۃ کی طرف۔ کیونکہ ضمیر اگرچہ واحد ہے لیکن مرجع میں کوئی تاویل کرکے ضمیر واحد کی لانا جائز ہے۔ یہاں یہ تاویل کرلی جائے گی کہ انھا کی ضمیر پر ایک خصلت کی طرف راجع ہے تو اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ دونوں خصلتوں ( صبر و صلوٰۃ) میں ہر ایک گراں اور شاق ہے۔ چناچہ آیہ کریمہ : کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتَْ اُکُلَھَا ( دونوں باغ اپنے پھل لائے) میں بھی یہی تاویل کی گئی ہے اور اگر اسْتَعِیْنُوا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ میں واؤ بمعنی علیٰ ہو تو ضمیر اِنَّھَا صَلٰوۃ کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ ” صبر سے نماز پر مدد چاہو “ ( یعنی اپنے نفس کو حُبِّ جاہ و مال سے روکو تو نماز سہل ہوجائے گی) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ضمیر انھا خاص صلوٰۃ ( نماز) ہی کی طرف راجع ہے کیونکہ نماز کی شان بہت عظیم ہے اور نیز اس میں کئی قسم کے صبر ہیں نماز میں کئی قسم کے صبر آجانے کی مثال ایسی سمجھنی چاہئے جیسا کہ حق تعالیٰ نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا ہے : وَاللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ حالانکہ اللہ اور اس کا رسول اس کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ وہ انہیں راضی رکھیں چونکہ اللہ کی رضا بعینہٖ رسول کی رضا تھی اس لیے اَنْ یُّرْضُوْہُ میں ضمیر واحد اللہ کی جانب راجع فرما دی بعض نے کہا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں ” کہ صبر سے مدد چاہو اور بیشک وہ شاق ہے اور نماز سے بھی اعانت طلب کرو۔ بیشک وہ بھی گراں ہے۔ “ اختصار کی وجہ سے دونوں کو ایک جگہ ذکر فرما دیا۔
اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ( مگر ان لوگوں پر جن کے دل پگھلے ہوئے ہیں۔ خشوع کے معنی لغت میں سکون کے ہیں اور اسی سے خشعۃ ( بمعنی ریتلی نرم زمین) مشتق ہے اور خشوع ہوتا ہے آواز و نگاہ میں چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ اور دب جائیں گی آوازیں رحمن کے خوف سے) اور فرماتا ہے۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُم ( نظریں جھکی ہوئی ہوں گی) خضوع کے معنی نقہ میں نرم ہوجانے اور منقاد و مطیع ہونے کے ہیں۔ چناچہ کہتے ہیں کہ خشوع تو اعضاء سے ہوتا ہے اور خضوع قلب سے اَلْخَاشِعِیْنَ سے آیت میں وہ مؤمن بندے مراد ہیں جن کے جی کو حق تعالیٰ کی طاعت سے اطمینان اور چین حاصل ہوگیا اور وہ اللہ سے ڈر نے والے اور متواضع ہیں۔
Ayah 2:46اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ ( جنہیں خیال ہے) یعنی وہ لوگ جو اللہ کے ملنے کی امید یا یقین رکھتے ہیں۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ لفظ ظن اضداد سے ہے کبھی تو اس کے معنی شک کے ہوتے ہیں اور کبھی یقین کے۔ مراد یہ کہ لفظ ظن مشترک ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ مشترک تو نہیں اس کے معنی فقط گمان غالب کے ہیں لیکن مجازاً کبھی کبھی یقین کو ظن اس لئے بول دیتے ہیں کہ اس میں بھی ایک طرف غالب ہوتی ہے۔
میں کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے جو لفظ ظن ارشاد فرمایا اور علم و یقین کا لفظ نہ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ جسے اس امر کا گمان غالب بھی ہوگا کہ میں اللہ سے ملنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ نیکی بدی کا بد لہ دے گا تو وہ اگر عقل صحیح وتعلیم رکھتا ہوگا تو طاعت پر قائم رہنا اور معصیت سے مجتنب رہنا ضرر سے بچنے کے لیے اس پر سہل و آسان ہوجائے گا دیکھو اگر کسی کو بظن غالب یہ بات معلوم ہو کہ اس کو زہ (پیالہ ‘ 12) کا پانی زہر آلود ہے تو وہ پیاس کی تکلیف اور شدۃ کو برداشت کرلے گا اور اس پانی کو کبھی نہ پئے گا ایسے ہی اگر کسی کو یہ بات معلوم ہوجائے کہ فلاں کو زہ (پیالہ ‘ 12) کا پانی امراض سے شفا دیتا ہے اور بدن میں قوت بخشتا ہے تو وہ اگرچہ تلخ اور بد مزہ ہی کیوں نہ ہو اسے خوشی خوشی پی جائے گا تو جب ایسے قلیل ضرر سے بچنے اور فانی نفع کے حاصل کرنے کے لیے آدمی ایسی مشقت کو برداشت کرلیتا ہے تو بھلا وہ شخص جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان لائے وہ تعب و مشقت محبوب حقیقی کی رضا کے لیے کیونکر نہ گوارا کرلے گا اور چونکہ ان تکالیف کا محبوب نے حکم فرمادیا ہے اس لیے اس کی برداشت اور مشغولی میں اسے ایک طرح کی لذت اور مزہ آئے گا۔ اسی لیے فخر موجودات سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے : جُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ ( یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے) اس حدیث کو حاکم اور نسائی نے روایت کیا ہے۔
اَنَّھُمْ مُّلَاقُوْا رَبِّھِمْ ( کہ ضرور وہ اپنے رب سے ملنے والے) یعنی وہ اس کی توقع رکھتے ہیں کہ اپنے رب کو آخرت میں دیکھنے والے ہیں سچ ہے کہ نماز مؤمن کی معراج ہے بندہ کے لیے رویت باری تعالیٰ کا وسیلہ بن جاتی ہے چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَ مِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَ عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا ( یعنی اور رات کے کچھ حصے میں تہجد پڑھو یہ تمہارے لیے فرض زائد ہے عنقریب تمہیں تمہارا رب مقام محمود میں کھڑا کرے گا) ربیعہ بن کعب سے مروی ہے کہ میں سرور عالم ﷺ کے قریب سویا کرتا تھا ایک رات کا ذکر ہے کہ میں حضور کے پاس وضو کا پانی اور بعض حاجت کی چیزیں لایا تو حضور نے فرمایا مانگ کیا مانگتا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں چاہتا ہوں کہ حضور کے ساتھ جنت میں رہوں فرمایا اس کے سوا کچھ اور۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بس یہی۔ فرمایا اگر یہی مطلوب ہے تو یہ ہمت کر کہ کثرت سے سجدے کیا کر۔ ( یعنی کثرت سے نوافل پڑھا کر) اس کو مسلم نے روایت کیا، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب حالتوں میں سجدہ کی حالت خدا تعالیٰ سے زیادہ قرب کی ہے اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ مُلَاقُوْ رَبِّھِمْ میں لقاء سے حشر اور معاملہ خداوندی مراد ہے۔
وَ اَنَّھُمْ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن ( اور بلا شبہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں) یعنی جو اسے جانتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف جانے والے ہیں اور وہاں اللہ تعالیٰ نیک و بد کا بدلہ دینے والا ہے جو شخص اس کا لحاظ کرے گا کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے معاملہ پڑتا ہے اور وہاں جزا و سزا بھی ہونی ہے تو اسے صبر آسان ہوجائے گا۔ اسی لیے جو شخص مصیبت زدہ ہو اس کے لیے مسنون یہ ہے کہ وہ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا کرے۔
Ayah 2:47یٰبَنِیْ ٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ( اے بنی اسرائیل یاد کرو میرا احسان جو میں نے تم پر کیا) حق تعالیٰ نے اس مضمون کو تاکید کے لیے مکرر ذکر فرمایا اور اس میں ایک نعمت اور زیادہ یاد دلائی کہ تمہیں اوروں پر فضیلت دی اور یہ نعمت سب نعمت سے زیادہ ہے اور اسے بڑی سخت وعید کے ساتھ مربوط فرمایا ہے ( چناچہ آگے ارشاد ہوتا ہے)
وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُکُم ( اور میں نے تمہیں فضیلت دی) ان کو فضیلت دینے سے ان کے آباؤ اجداد کا فضیلت دینا مراد ہے ( جیسے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تم لوگوں کو ہمیشہ دیتے لیتے رہے ہیں یعنی تمہارے باپ دادا کے ساتھ سلوک کرتے رہے ہیں) آباؤ اجداد سے بھی وہی لوگ مراد ہے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانہ میں تھے اور جو ان کے بعد گذرے مگر انہوں نے اپنے دین میں رخنہ اندازی و فتنہ پر دازی نہیں کی۔ نبوۃ، کتاب اور علم، ایمان، اعمال صالحہ، ملک و عدالت اور انبیاء کی نصرت یہ سب نعمتیں اللہ نے بنی اسرائیل کو عطا فرمائیں۔ باپ دادا کی نعمت کو اولاد پر جتلانے کی وجہ یہ ہے کہ باپ دادوں میں اگر کوئی فضیلت ہوتی ہے تو وہ اولاد کے شرف کا باعث بن جاتی ہے تو وہ نعمتیں جو انہیں دی گئی تھیں گویا کہ وہ انہیں بھی دی گئیں۔ اس آیت میں بنی اسرائیل کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ تم نے اپنے شرف آبائی کو کم کردیا ہے اسے حاصل کرنا چاہئے اور اس کے حاصل کرنے کی یہی صورت ہے کہ محمد ﷺ اور قرآن پاک کا اتباع کرو اور یہی موسیٰ اور توراۃ کا اتباع ہے کیونکہ تمہارے آباء کو جو شرف و فضل حاصل ہوا تھا اس کی یہی صورت تھی کہ انہوں نے وحی اور انبیاء اور کتاب اللہ کا اتباع کیا تھا اسی طرح تم بھی کرو۔
عَلَی الْعَالَمِیْنَ ( جہاں کے لوگوں پر) سارے جہان والوں پر فضیلت دینے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ اس زمانہ میں موجود تھے ان پر فضیلت عطا فرمائی۔ ابن جریر نے مجاہد ابو العالیہ اور قتادہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ یا یہ مطلب کہ جہاں والوں میں سے جن میں یہ فضائل نہیں ان پر فضیلت دی۔
Ayah 2:48وَاتَّقُوْا یَوْمًا ( اور ڈرو اس دن سے) دن سے ڈرنے کا مطلب ہے اس دن کے عذاب و شدائد سے ڈرنا۔
لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْءًا ( کہ نہ کام آئے گا کوئی کسی کے کچھ) مراد یہ ہے کہ کوئی کسی کافر کو کچھ نفع نہ پہنچا سکے گا یہ معنی نہیں کہ مسلمان کے کام نہ آئے گا کیونکہ آیات و احادیث یہ صاف بتارہی ہیں کہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) اور دیگر نیک بندے گنہگاروں کی شفاعت کریں گے اور اس پر جملہ اہل حق کا اجماع ہے اور شیئاً سے مراد اگر حق ہو تو اس وقت لفظ شیئاً آیت میں مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا اور آیت کے یہ معنے ہونگے ” کہ کوئی کسی کے لیے حق کا بدلہ نہ دے گا اور اگر شیئاً سے مراد جزاء ہو تو مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا اور آیت کے یہ معنی ہونگے کہ کوئی کسی کو بدلہ نہ دے گا خواہ کسی قسم کا بدلہ دینا ہو۔ بعض نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ کوئی کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ بعض نے کہا ہے یہ معنی ہیں کہ کوئی قیامت کی سختیوں اور عذاب میں کسی کے لیے کفایت نہ کرے گا۔ جملہ لَا تَجْزِیْ نَفْسٌ۔۔ یوْمًا کی صفت ہے اور ضمیر جو موصوف کی طرف عائد ہوتی ہے محذوف ہے تقدیر عبارت یہ ہے لا تجزی فیہ یعنی اس دن کوئی کام نہ آئے گا۔
وَ لَا یُقْبَلُ ( اور نہ قبول ہوگی) ابن کثیر ‘ ابو عمرو اور یعقوب نے لَا تقبل تاء فوقانی کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء یا کے ساتھ پڑھتے ہیں کیونکہ فاعل جب مؤنث غیر حقیقی ہوتا ہے تو اس میں فعل کو مذکر مؤنث پڑھنا دونوں جائز ہیں۔
مِنْھَا ( اس کی طرف سے) ضمیر ہا دو احتمال رکھتی ہے (1) یا تو نفس عاصیہ (گنہگار نفس کی طرف راجع ہو۔ اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہوں گے ” گنہگار کی طرف سے سفارش مقبول نہ ہوگ (2) یا نفس شافعہ ( شفاعت کرنے والے) کی طرف راجع ہو اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ کسی متنفس کی شفاعت منظور نہ ہوگی۔
شفَاعَۃٌ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْھَا عَدْلٌ ( کوئی سفارش اور نہ لیا جائے گا اس سے کوئی بدل عدل سے مراد فدیہ بعض نے کہا بدل لغت میں عدل کے معنی برابر کرنے کے ہیں۔
وَّ لَا ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ( اور نہ انہیں مدد پہنچے گی) یعنی وہ اللہ کے عذاب سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ ضمیر ھم دوسرے نفس کی طرف راجع ہے۔ بظاہر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ جمع کی ضمیر واحد کی طرف کس طرح راجع ہوئی تو جواب یہ ہے کہ لفظ نفس چونکہ نفی کے نیچے آگیا ہے اس لیے وہ عام ہوگیا اب نفس واحد محض نہیں رہا بلکہ جمع کے حکم میں ہوگیا۔ باری تعالیٰ کا مقصود اس آیت سے یہ ہے کہ کفار سے کوئی شخص کسی طرح سے عذاب دفع نہیں کرسکتا کیونکہ کسی پر سے عذاب دور کرنے کی چند صورتیں ہوا کرتی ہیں یا تو زبردستی اس سزا دینے والے سے ہاتھ سے چھڑائے جسے نصرت ( مدد ‘ 12) کہتے ہیں یا زبردستی تو نہیں کرسکتے مگر کسی کے کہنے سے اسے مفت چھوڑ دیا جاتا ہے اسے شفاعت کہتے ہیں یا جو اس کے ذمے ہو وہ ادا کردیا جاتا ہے یہ جزاء ہے یا جو اس کے ذمے ہے وہ تو ادا نہیں کیا مگر اس کا بدل دے دیا یہ عدل ہے اللہ تعالیٰ نے ان سب صورتوں کی نفی فرمادی تو حاصل یہ ہوا کہ قیامت میں کوئی بھی کسی کافر سے کسی تدبیر کے ساتھ عذاب دفع نہ کرسکے گا۔
شان ( علیہ السلام) ِ نزول اس آیت کا یہ ہوا تھا کہ یہود دعویٰ کرتے تھے کہ ہمارے باپ داد ہماری شفاعت کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس گمان باطل کو رد فرما دیا۔
Ayah 2:49وَ اِذْ نَجَّیْنٰکُمْ ( اور یاد کرو جب ہم نے تم کو چھڑا یا) یعنی تمہارے باپ دادوں کو بنی اسرائیل پر جو نعمتیں حق تعالیٰ نے مبذول فرمائی ہیں ان کا یہاں تفصیل سے بیان فرماتا ہے۔ شروع رکوع میں تو اجمالاً سب نعمتوں کا بیان آچکا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل ہے چونکہ آباؤ اجداد کے نجات پانے سے اولاد کو بھی نجات حاصل ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اولاد کو مخاطب بنا کر فرمایا جب ہم نے تمہیں چھڑایا۔
مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ ( فرعون کے لوگوں سے) فرعون کے متعلقین اور اس کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آل اصل میں اہل تھا۔ کیونکہ اس کی تصغیر اہیل آتی ہے اور آل کے لفظ کا استعمال انبیاء اور بادشاہ اور بڑے بڑے لوگوں میں آتا ہے۔ فرعون قوم عمانقہ کے بادشاہ کا لقب ہے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے زمانے کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان تھا اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی ہے اور حضرت یوسف کے زمانہ کا فرعون ریان تھا ان دونوں فرعونوں کے درمیان چار سو برس کی مدت کا فاصلہ ہے۔
یَسُوْمُوْنَکُم ( تمہیں سخت تکلیف دیتے ہیں) سوم کے معنی لغت میں کسی شے کی تلاش و جستجو میں جانے کے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں طرح طرح کے عذاب کی گردش میں رکھتے ہیں۔ اس تقدیر پر یَسُوْمُوْنَکُمْ الابل السائمۃ ( اونٹ باہر پھرنے والے) سے ماخوذ و مشتق ہوگا۔ کیونکہ فرعون بنی اسرائیل کو طرح طرح کے عذاب میں رکھتا تھا عمارتیں بنواتا کھیتی کراتا، بوجھ اٹھواتا، جزیہ لیتا، ان کی عورتوں سے سوت کتواتا تھا۔
سُوْٓ ءَ الْعَذَابِ ( یعنی سخت عذاب سوء ساء یسوء کا مصدر ہے اور ترکیب میں یَسُوْمُوْنَکُمْ کا مفعول ہے اور جملہ یَسُوْمُوْنَکُمْ یا تو نَجَّیْنٰکُم کی خبر سے حال ہے اور یا اٰلِ فِرْعَوْنَ سے یا دونوں ضمیروں سے حال کہا جائے
یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاءَکُمْ (تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے) یَسُوْمُوْنَکُمْ کا بیان ہے ( یعنی عذاب کا بیان ہے کہ وہ کیا عذاب تھا) اس لیے واو عطف درمیان میں نہیں لائے بلکہ بدل کے طور پر ذکر فرمایا۔
وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَاءَ کُمْ ( اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ چھوڑتے تھے) علامہ بغوی نے کہا ہے کہ بیٹوں کو ذبح کرنے اور لڑکیوں کو زندہ چھوڑنے کی وجہ یہ تھی کہ فرعون نے خواب دیکھا تھا کہ آگ بیت المقدس کی طرف سے آئی اور سارے مصر کو اس نے گھیر لیا اور قبطیوں کو جلادیا۔ فرعون یہ خواب دیکھ کر ڈرا۔ کاہنوں کو بلا کر ان سے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے کہا بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تجھے ہلاک کر دے گا اور تیرا سب ملک و مال جاتا رہے گا۔ ابن جریر نے سدی سے اسی طرح روایت کی ہے۔
علامہ محمد حسین بغوی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے بعد سے فرعون نے یہ حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے اور شہر کی سب دائیوں کو جمع کرکے حکم دے دیا کہ دیکھو آج سے بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو زندہ نہ چھوڑا جائے ہاں لڑکیوں کو ہاتھ نہ لگایا جائے۔ روایت ہے کہ اس جستجو و تلاش میں اس مردوہ نے بارہ ہزار بچے قتل کروائے۔ وھب فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ فرعون نے نوے ہزار بچے ذبح کرائے۔ پھر بنی اسرائیل کے بوڑھے لوگوں میں مری 1 پھیل گئی۔ قبطیوں کے رئیسوں نے یہ حالت دیکھ کر فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کے بچے تو آپ کے حکم سے مارے جاتے ہیں اور بوڑھے اپنی موت مر رہے ہیں اگر یہی حالت رہی تو بنی اسرائیل بالکل نیست و نابود ہوجائیں گے اور ساری بیگار ہم پر آپڑے گی اور کوئی مزدور و بیگاری ہمیں نہ مل سکے گا فرعون نے یہ بات سن کر حکم دیا کہ اچھا ایک سال تو بچے قتل کئے جائیں اور ایک سال چھوڑ دیئے جائیں۔ تقدیر الٰہی سے حضرت ہارون اس سال پیدا ہوئے جس میں بچوں کو چھوڑا جاتا تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس وقت رونق افروز عالم ہوئے جس میں بچوں کو قتل کیا جاتا تھا۔
وَ فِی ذَالِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَبِّکُمْ عَظِیْمٌ ( اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی) بَلَاءٌ کے معنی ہیں آزمائش کے اور آزمائش کبھی تو شدت عذاب سے ہوتی ہے اس وقت امتحان ہوتا ہے کہ آیا صبر کرتے ہیں یا نہیں اور کبھی نعمت و فراخی سے ہوتی ہے اس وقت یہ جانچ ہوتی ہے کہ آیاشکر کرتے ہیں یا نہیں چناچہ حق تعالیٰ دوسرے مقام پر ارشاد فرماتا ہے : وَنَبْلُوَکُمْ بالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً ( اور ہم تمہیں برائی اور بھلائی سے آزماتے ہیں) اس لیے کشائش میں شکر اور تنگی میں صبر واجب ہے اور ذٰلِکُمْ کا مشارٌ الیہ یا تو آل فرعون سے نجات دینا ہے اس صورت میں آزمائش کی دوسری صورت ( نعمت و فراخی) مراد ہوگی اور یا مشار الیہ فرعون کا بنی اسرائیل کو تکالیف و شدائد میں رکھنا ہے اس تقدیر پر امتحان کی پہلی صورت (شدت عذاب) مراد ہوگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہونے کی پہلی تقید پر 2 یہ معنی ہونگے کہ تم پر حق تعالیٰ نے فرعون کو مسلط فرمادیا اور دوسری صورت میں 3 یہ معنی ہوں گے کہ حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا اور انہیں تمہارے چھڑانے کی توفیق عطا فرمائی۔ عَظِیْمٌ بَلَآءٌ کی صفت ہے۔
Ayah 2:50وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ ( اور یاد کرو جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑا) فَرَقْنَا بِکُمْ (یعنی ہم نے تمہارے داخل ہونے کے سبب دریا کو چیر دیا۔ بعض نے یہ معنی بیان کئے کہ دریا کو تمہارے لیے چیر دیا۔ یہ قصہ یوں ہوا تھا کہ جب فرعون کے ہلاک ہونے کا زمانہ قریب آیا اور حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے جاؤ تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے سب کو کہہ دیا کہ راتوں رات یہاں سے چل نکلو اور کوچ کا سب سامان اپنے اپنے گھروں کے اندر ہی کریں حتی کہ گھوڑوں کے زین بھی اندر ہی اندر کسیں۔ تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اور قبطیوں میں جس قدر بنی اسرائیل کے ولد الزناء تھے ان سب کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں جمع کردیا اور بنی اسرائیل میں جو قبطیوں کے ولد الزناء تھے۔ خدا نے انہیں وہاں بھیج دیا اور قبطیوں میں ایسی مری (موت ‘ 12) پڑی کہ بہت سے آدمی ان کے مرگئے اور وہ صبح تک بلکہ طلوع شمس تک ان کے کفن دفن ہی میں لگے رہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چھ لاکھ یا زیادہ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے۔ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) جب مصر میں آئے تھے تو کل بہتر آدمی ان کے ساتھ تھے۔ ( اب اتنا سلسلہ ان کا بڑھا) القصہ یہ سب کے سب ابھی حدود مصر سے نکلے بھی نہ تھے کہ ایک میدان ایسا بےپایاں دکھائی دیا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) حیران رہ گئے کہ کس طرف چلیں۔ بوڑھے بوڑھے لوگوں کو بلا کر پوچھا کہ کیا تدبیر کرنی چاہئے انہوں نے عرض کیا کہ جب حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی وفات ہونے لگی تو انہوں نے بھائیوں کو بلا کر وصیت کی تھی کہ جب تم مصر سے نکلو تو مجھے ساتھ لے کر نکلنا میرے بغیر یہاں سے نہ نکلنا تو یہ اس وصیت کا اثر ہے کہ اب ہم راہ بھول گئے جب تک ان کا جسد مبارک اپنے ساتھ نہ لیں گے رستہ نہ ملے گا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کی قبر کا پتہ دریافت کیا تو سب نے کہا ہمیں خبر نہیں ان کی قبر کہاں ہے ؟ پھر آپ نے پکار کر کہا کہ میں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ جو تم میں سے یوسف ( علیہ السلام) کی قبر سے واقف ہو وہ مجھے بتلا دے اور جو نہ جانتا ہو اس کے کانوں میں میری آواز نہ پہنچے۔ اللہ کی قدرت کہ آپ کی آواز کو ایک بڑھیا کے سوا اور کسی نے نہ سنا۔ اس نے کہا اگر میں تمہیں بتادوں تو جو مانگوگی وہ مجھے دو گے ؟ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا میں اپنے پروردگار سے پوچھ لوں اگر حکم ہوا تو تجھ سے وعدہ کرلوں گا۔ جناب باری سے ارشاد ہوا کہ موسیٰ ! تم اس سے وعدہ کرلو کہ جو مانگے گی دیں گے اور اس سے پوچھو کیا مانگتی ہے ؟ بڑھیا نے کہا : دو چیزیں مانگتی ہوں ایک دنیا کی ایک آخرت کی۔ دنیا کی تو یہ ہے کہ مجھ سے چلا نہیں جاتا مجھے تم یہاں سے کسی طرح لے چلو اور آخرت کی یہ ہے کہ جنت میں جس بالا خانہ پر آپ تشریف لے جائیں میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔
موسیٰ نے فرمایا دونوں باتیں منظور ہیں۔ بڑھیا نے کہا یوسف ( علیہ السلام) کی قبر دریائے نیل کے بیچ میں ہے یہ سن کر آپ نے جناب باری میں عرض کیا دریا پھٹ گیا قبر شریف ظاہر ہوگئی آپ نے وہاں سے تابوت نکلوا کر لدوا دیا اور پھر ملک شام میں لا کر دفن کیا۔ حاصل کلام یہ کہ رستہ مل گیا اور وہاں سے چلے حضرت موسیٰ سب سے پیچھے اور ہارون ( علیہ السلام) آگے آگے تھے ادھر تو یہ گذری۔ اب فرعون کی سنئے کہ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نکل گئے قوم کو حکم دیا کہ مرغ کے بولتے ہی بنی اسرائیل کی تلاش میں چل نکلو خدا کی قدرت اس رات کوئی مرغ ہی نہ بولا۔ صبح کو فرعون اور اس کے آگے آگے ہامان ایک کروڑ سات لاکھ آدمی لے کر نکلا ستّر ہزار سیاہ گھوڑے بھی ہمراہ تھے بنی اسرائیل ابھی دریا ہی تک پہنچے تھے کہ دن نکل چکا تھا اور دریا خوب زناٹے سے بہہ رہا تھا کہ دیکھتے کیا ہیں فرعون مع اپنی قوم کے پیچھا کئے چلا آرہا ہے۔ پاؤں تلے کی مٹی نکل گئی اور حیران رہ گئے چناچہ حق تعالیٰ اس قصہ کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر فرماتا ہے : فَلَمَّا تَرَآئَ الْجَمْعَانِ قَالَ اَصْحَابُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ قَالَ کَلّا اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ( یعنی دونوں جماعتیں جب ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں تو موسیٰ کے لوگ کہنے لگے ہم تو پکڑے گئے موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرے ساتھ میر ارب ہے جو مجھے راہ دکھائے گا) حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا : اَنِ اضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ تو اپنا عصاء دریا پر مار ( موسیٰ ( علیہ السلام) نے مارا) پس دریا پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا ایک بڑے پہاڑ جیسا ہوگیا بارہ گروہ کے لیے بارہ رستے پیدا ہوگئے اور دونوں رستوں کے مابین اتنا پانی اونچا ہوگیا کہ پہاڑ کی طرح نظر آنے لگا اور اللہ تعالیٰ نے ہوا دھوپ کے ذریعہ سے دم کے دم میں رستے خشک کردیئے اور گروہ نے اپنا اپنا رستہ لیا اور پانی چونکہ اونچا چڑھ گیا تھا اس لیے چلتے میں ایک گروہ دوسرے کو دیکھتا نہ تھا تو وہ خوف کھانے لگے کہ کہیں ہمارے بھائی ڈوب نہ گئے ہوں حق تعالیٰ نے اس خوف کو بھی دور کردیا اور پانی میں مورچے کھول دیئے کہ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے اور باتیں سننے لگے اس طرح عافیت کے ساتھ صحیح وسالم دریا سے پار ہوئے۔
فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَ اَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ ( اور پھر تمہیں بچایا اور فرعون کے لوگوں کو ڈبودیا) اب فرعون کی سنئے کہ کیا گت ہوئی جب اس نے دیکھا کہ دریا پھٹا ہوا ہے اور رستے بنے بنائے موجود ہیں تو اپنے لوگوں سے فخریہ کہنے لگا کہ دیکھو دریا میرے خوف سے اس لیے پھٹ گیا کہ اپنے گئے ہوئے بندوں کو پکڑ لوں۔ فرعون ایک سیاہ گھوڑے پر سوار تھا اور سارے لشکر میں گھوڑے تھے گھوڑی نہ تھی۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) بحکم الٰہی بصورت انسان گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور فرعون کے آنے سے پہلے دریا میں گھس گئے فرعون کا گھوڑا مادہ کی بو پا کر اس کے پیچھے ہی دریا میں ہو لیا اور فرعون بالکل بےبس ہوگیا اور جتنے گھوڑوں کے سوار تھے وہ بھی فرعون کے گھوڑے کے پیچھے پیچھے چلے اور حضرت میکائیل ایک گھوڑے پر سوار ہو کر فرعون کی قوم کے پیچھے پیچھے آئے اور سب کو آگے کو دھکیلا 1 اور کہتے چلے، چلو چلو اپنے ساتھیوں سے جلد ملو حتی کہ سب کے سب دریا میں گھس گئے 2 ۔ اس دریا کا پاٹ چار فرسخ تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ فرعون کون سے دریا میں ڈبو یا گیا۔ بعض نے کہا بحر قلزم جو فارس کے دریاؤں میں سے ایک دریا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ مصر سے ورے ایک دریا تھا جسے اساف کہتے ہیں یہ سب قصہ فرعون کے ڈوبنے کا بنی اسرائیل کی دیکھتی آنکھوں ہوا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ( اور تم دیکھ رہے تھے) یعنی تم ان کے ڈوبنے اور ہلاک ہونے کی جگہ دیکھ رہے تھے۔
Ayah 2:51وَ اِذْ وَاعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ( اور جب ہم نے وعدہ کیا) ابو جعفر اور ابو عمرو نے واعدنا کو ہر جگہ وعدنابلا الف پڑھا ہے اور باقی قراء نے واعد نا الف سے پڑھا ہے اور مفاعلۃ اگرچہ مشارکت کے لیے آتا ہے لیکن یہاں وعدنا اور واعدنا دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے عاقبت اللص میں مفاعلۃ مشارکۃ کے لیے نہیں زجاج نے کہا ہے کہ مشارکۃ کے معنی بھی بن سکتے ہیں اس طرح پر کہ حق تعالیٰ کی طرف سے تو امر ہوا اور موسیٰ کی طرف سے قبول ‘ یا یہ معنی کہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجنے کا وعدہ فرمایا اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے طور پر آنے کا وعدہ کیا۔ حمزہ اور کسائی نے موسیٰ کو امالہ سے پڑھا ہے اسی طرح جس اسم یا فعل کے آخر میں یا ہو حمزہ اور کسائی اسے امالہ سے پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ موسیٰ ، عیسیٰ ‘ یحیٰی موتٰی ‘ طوبٰی ‘ اخرٰی ‘ کسالٰی، اساوٰی، یتامٰی، فرادٰی، نصاریٰ ، ایامٰی حوایا، بشرٰی، ذکرٰی، ضیزٰی اور ان کے علاوہ جس اسم میں تانیث ہو اسے امالہ سے پڑھتے ہیں اور اسی طرح ہر اسم مقصور میں جیسے عمیٰ ھدیٰ ضحٰی، رء یا، ماواہ، ما واکم، مثواہ، مثواکم میں امالہ کرتے ہیں جتنے صفت کے صیغے ہیں جیسے ادنیٰ ، اذکٰی، اولٰی، اعلیٰ سب میں امالہ کرتے ہیں اور جن افعال کا الف یا سے بدلا ہوا ہے ان میں بھی امالہ کرتے ہیں جیسے اتٰی، سعٰی فسوی یخفی یرضی یھوی، اور حمزہ وکسائی اَنّٰی بمعنی کیف میں جیسے اَنّٰی شِءْتُمْ ۔ وَ اَنّٰی لَکَ میں بھی امالہ کرتے ہیں اور اسی طرح جو حرف یاء کے ساتھ لکھے جاتے ہیں انہیں بھی امالہ سے پڑھتے ہیں جیسے متٰی بلیٰ عَسٰی مگر پانچ الفاظ میں امالہ نہیں کرتے انہیں سب مفتوح پڑھتے ہیں۔ حتی، لدیٰ علی الی، ما زکی اور ایسے ہی جس اسم یا فعل کے آخر میں واؤ ہو اس میں امالہ کرتے ہیں جیسے الصفا، سنا برقہ، بداء، دنا، عفا، علاء وغیرہ لیکن جو آیتیں یا پر ختم ہوتی ہیں اگر اس میں کوئی اسم واوی یا فعل وای یا فعل یائی کے درمیان واقع ہو تو امالہ نہیں کرتے اور ایسے ہی اگر فعل میں کوئی زیادتی آخر یا اوّل میں ہو تو اس میں بھی امالہ نہیں کرتے جیسے تدعٰی تبلٰی فمن اعتدٰی مَنِ استعلٰی وانجاکم انجانا و نجاکم زکاھایہ زیادتی سے یاء کے حکم میں ہوجائیں گے۔
اور ابو عمر و الفاظ سابقہ میں سے جس میں راء بعد یا کے ہو اس میں امالہ کرتے ہیں اور جس سورة کی آیتیں یا ھاء یا الف پر ختم ہوں یا جس سورة کے آخر کے الفاظ فَعَلَی یا فعلٰی یا فعلٰی کے وزن پر ہوں ان سب کو ابو عمرو بین بین پڑھتے ہیں اور ان کے سوا اور الفاظ کو فتحہ سے پڑھتے ہیں اور ورش نے ان سب الفاظ کو بین بین پڑھا ہے اور ابوبکر نے سورة انفال میں لفظ رمٰی اور سبحان الّذی میں لفظ اعمٰیان دونوں جگہ امالہ کیا ہے اور ابو عمر و اور علی نے پہلے اعمیٰ میں صرف امالہ کیا ہے اور دوسری جگہ فتحہ دیا ہے اور حفص نے سورة ہود میں لفظ مجرھٰا کو امالہ سے پڑھا ہے اور سوائے اس کے کسی جگہ امالہ نہیں کیا اور ابو عمرو یا ویلتی یا حسرتی اور انّٰی استفہامیہ کو بین بین اور یا اسفی کو مفتوح پڑھتے ہیں اور الف ممال اگر اجتماع ساکنین کی وجہ سے وصل کی حالت میں گرپڑے تو امالہ نہ کریں گے لیکن وقف میں کریں گے جیسے : ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ وَ مُوسٰی الْکِتَاب تو اگر موسیٰ اور ھُدًی پر وقف کریں گے تو امالہ کریں گے اور وصل کی حالت میں نہ کریں گے اور ابو عمرو سے بروایت یزیدی ثابت ہوا ہے کہ واء مہملہ میں جب اس کے بعد حرف ساکن ہو امالہ کرتے ہیں جیسے اور یری الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، وَالنصارٰی، المسیح، الکبرٰی، اذھب، القویٰ ، التی وغیرہ اور کسائی ذیل کے الفاظ میں امالہ کرتے ہیں اور دیگر قراء نہیں کرتے۔ فَاحیا بہ و احیاھا خطایاکم خطایا ھم رؤیا۔ رو یا ی مرضات اللہ، مرضاتی اور ان الفاظ میں بھی امالہ کرتے ہیں اور دیگر قراء سے منقول نہیں۔ حق تقاتہٖ آل عمران میں قَد ھدان انعام میں من عصانی ابراہیم میں ما انسانیہ کہف میں اٰتانی الکتاب اور اوصانی بالصلٰوۃ مریم میں مما اتانی اللہ نمل میں محیاھم جاثیات میں دحاھا نازعات میں تلاھا طحاھا والشمس میں سجٰی والضحیٰ میں اور ذیل کے الفاظ میں کسائی کے ساتھ حمزہ بھی متفق ہیں۔ یحییٰ و لا یحییٰ و امات و احیا لیکن امالہ اس وقت کرتے ہیں جب ان الفاظ اربعہ کے ساتھ واؤ آئے اور اگر واؤ نہ آئے تو امالہ نہیں کرتے۔ کسائی اور حمزہ دونوں ذیل کے الفاظ کے امالہ میں شریک ہیں۔ الدنیا، العلیا، الحوایا الضحیٰ ضحاھا، الریا اننی ھدانی اٰتانی سورة ہود میں لَوْ اَنَّ اللّٰہَ ھَدانی منہم تقاۃ مُزجاۃ۔ اتاہ ان الفاظ میں سے اتاہ کے امالہ میں ہشام نے یہی حمزہ اور کسائی کا اتباع کیا ہے اور باقی قراء ان سب الفاظ میں فتح پڑھتے ہیں
اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً چالیس رات کا مفسرین کہتے ہیں کہ جن چالیس رات کا حق تعالیٰ نے موسیٰ سے وعدہ فرمایا ان میں سے تیس راتیں تو ذی قعدہ کی تھیں اور دس ذی الحجہ کی اور یہ قصہ اسطرح ہے کہ جب فرعون ہلاک ہوگیا اور بنی اسرائیل پھر مصر میں آکر بسے تو حق تعالیٰ نے موسیٰ سے وعد فرمایا کہ ہم تم پر توریت اتاریں گے اور چالیس رات کا وعدہ فرمایا۔ حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ میں اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور ہارون کو اپنا خلیفہ بناتا ہوں جبرئیل اسپ حیات پر سوار ہو کر انہیں لینے کے لیے تشریف لائے جہاں اس گھوڑے کا قدم پڑتا۔ سبزہ اگ آتا تھا۔ سامری نے یہ عجیب واقعہ دیکھ پایا یہ سامری ایک سنار باجرمی کا رہنے والا تھا۔ بعض نے کہا کہ مان کا۔ ظاہراً اسلام لے آیا تھا مگر منافق تھا اور اس قوم میں سے تھا جو گائے کو پوجتے ہیں جب اس نے یہ بات دیکھی تو حضرت جبرئیل کے گھوڑے کے زیر قدم کی ایک مٹھی خاک اٹھا کر رکھ لی اور بنی اسرائیل نے کہیں فرعون کی قوم سے خروج مصر سے پہلے بہت سا زیور شادی کے بہانے سے مستعار لے لیا تھا جب حق تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو ہلاک کردیا تو وہ زیور انہی کے پاس رہا جب حضرت موسیٰ توریت لینے کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے تو اس سامری نے بنی اسرائیل سے کہا وہ زیور جو تمہارے پاس ہے غنیمت کا مال ہے اور تمہیں حلال نہیں اسے کہیں گڑھا کھود کر دبا دو جب حضرت موسیٰ تشریف لائیں گے جیسی ان کی رائے ہوگی کیا جائے گا۔
سدی نے کہا کہ انہیں یہ مشورہ ہارون ( علیہ السلام) نے دیا تھا القصہ انہوں نے حسب مشورہ سامری یا ہارون ( علیہ السلام) وہ زیور سب کا سب ایک جگہ دفن کردیا سامری نے خفیہ طور پر وہ مال نکال لیا اور اسکا تین دن میں ایک بچھڑا تیار کرکے زیور سے مرصع کیا اور وہ خاک جو اس نے جبریل ( علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدم کی اٹھائی تھی اس میں ڈال دی چونکہ اس میں مادۂ حیات تھا مٹی پڑتے ہیں بولنے لگا اور ادھر ادھر دوڑنے لگا۔ سامری نے بنی اسرائیل سے کہا : ھٰذَا اِلٰھُکُمْ وَ اِلٰہُ موُسٰی فَنَسِیَ ( یعنی تمہارا اور موسیٰ کا معبود تو یہ ہے وہ بھول گئے ( یعنی معبود کو بھول کر کوہ طور چلے گئے) اور بنی اسرائیل کا قاعدہ تھا کہ وہ ایک دن رات کو دو دن شمار کرتے تھے جب بیس دن گذر گئے اور موسیٰ نہ آئے تو سب کہنے لگے کہ چالیس دن تو گذر گئے اور حضرت موسیٰ اب تک نہ آئے معلوم ہوتا ہے کہ انتقال کر گئے ادھر سامری نے یہ فتنہ پھیلایا کہ لوگوں کو بہکانا شروع کردیا۔ بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے قوم سے تیس رات کا وعدہ کیا تھا پھر دس رات اور بڑھا دی گئیں اس لیے فتنہ میں پڑگئے اور بچھڑا پوجنے لگے۔ ہارون ( علیہ السلام) اور ان کے ہمراہ بارہ ہزار آدمی تو راہ حق پر رہے اور باقی سب کے سب گمراہ ہوگئے۔
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِہٖ وَ اَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ ( پھر تم نے موسیٰ کے بعد بچھڑے کو ( معبود) بنا لیا اور تم ظلم کر رہے تھے) اخذت اور اتخذت کی ذال کو ابن کثیر اور حفص جہاں کہیں بھی ہو ظاہر کرتے اور دیگر قراء ادغام کرتے ہیں من بعدہ میں ہ موسیٰ کی طرف راجع ہے۔ وَ اَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ ( یعنی تم اپنا نقصان کرنے والے تھے) کہ عبادت بےمحل کرتے تھے۔
Ayah 2:52ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن ( پھر اس کے بعد بھی ہم نے تم سے در گذر کی تاکہ تم احسان مانو) یعنی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے درگذر کی عفو ( گناہ کے محو کرنے کو کہتے ہیں) عفا ( مٹ گیا، محو ہوا) سے مشتق ہے۔ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ ( یعنی بعد اس معبود بنانے کے) مفسرین نے کہا ہے کہ شکر سے مراد طاعت ہے اور شکر قلب، زبان، اعضا سب سے ہوتا ہے۔ حسن نے کہا ہے کہ نعمت کا شکر اس کا ذکر کرنا ہے اور سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ نعمت کا شکریہ ہے کہ اس نعمت کو منعم حقیقی کی رضا میں صرف کیا جائے بعض نے کہا ہے کہ شکر کی حقیقت شکر سے عجز کا ظاہر کرنا ہے۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں منقول ہے کہ موسیٰ بارگاہ باری تعالیٰ میں عرض کیا کرتے تھے خداوندا مجھے آپ نے سینکڑوں نعمتیں عطا فرمائیں اور مجھے آپ نے ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا بھی حکم فرمایا مگر اے پروردگار میرا کسی نعمت پر شکر ادا کرنا بھی تو تیری ہی نعمت ہے۔ ارشاد ہو : اموسیٰ ! تم بڑے عالم ہو تم سے زیادہ اس زمانے میں کسی کا علم نہیں یاد رکھو میرے بندہ کو شکر اتنا ہی کافی ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھے کہ جو نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ حضرت داؤد ( علیہ السلام) اپنی مناجات میں عرض کیا کرتے تھے کہ پاکی اس ذات کے لیے جس نے بندہ کے شکر سے عاجز ہونے کے اقرار کو شکر قرار دیا جیسا کہ معرفت سے عاجز ہونے کے اقرار کو معرفت بنا یا۔
Ayah 2:53وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوسٰی الْکِتَابَ وَالْفُرْقَانَ ( اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت فرمائی اور قالون فیصل) الکتاب سے مراد توریت اور الفرقان سے مراد بھی بعض مفسرین کے قول پر توریت ہی ہے۔ توریت ہی کو حق تعالیٰ نے دو ناموں سے ذکر فرمایا ہے۔ کسائی نے کہا کہ الفرقان الکتاب کی نعت ہے اور واؤ زائد ہے الفرقان کے معنی ہیں حق اور باطل میں فرق کرنے والی۔ بعض نے کہا الفرقان سے مراد معجزات ہیں اور فرقان ( فرق کرنے والا) انہیں اس لیے کہا کہ معجزات اہل حق اور اہل باطل میں فرق کردیتے ہیں۔ بعض نے کہا الفرقان شریعت موسوی ہے جو حلال و حرام میں فرق کرنے والی تھی۔
لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ( تاکہ تم ہدایت پاؤ) یعنی تاکہ تم کتاب میں تدبر اور تفکر کرنے سے ہدایت پاؤ۔
Ayah 2:54وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاِتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْا اِلٰی بَارِءِکُمْ ( اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو ! تم نے بچھڑے کی پرستش سے اپنے اوپر ( بڑا ہی) ظلم کیا سو اب اپنے خالق کی جناب میں توبہ کرو) لِقَوْمِہٖ سے مراد وہ قوم ہے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ ظلمتم انفسکم یعنی اپنا نقصان کیا الیٰ بَارِءِکُمْ یعنی اس ذات کی طرف رجوع کرو جس نے تمہیں اعتدال کے ساتھ پیدا کیا اور کسی طرح کا نقص تم میں نہ کیا اور ایک دوسرے کی شکل و صورت متمیز و جدا بنائی اور اصل ترکیب ان حروف ( یعنی بَ رَاء) کی کسی شئے کو دوسری شئے سے چھانٹ لینے اور خاص کرنے کے لیے ہے اب یہ خاص کرنا خواہ اس طرح پر ہو کہ اس شئے کو علیحدہ کردیا جائے جیسے بولتے ہیں : بَرئ المریض والمدیون ( رستگار ہوا بیمار اور مقروض) یعنی مریض مرض سے اور مقروض دین سے علیحدہ ہوگیا اور یا یہ کہ خاص کرنا ایک شے سے دوسری شے کو ایجاد و اختراع کے طور پر برء اللہ اٰدمَ مِنَ الطیْن 1 ۔ یعنی نمناک مٹی سے انہیں خاص اور علیحدہ کرلیا۔ ابو عمرو نے بارئکم میں دونوں جگہ اور اسی طرح یا مرکم، یامرھم، ینصرکم و یشعرکم میں جہاں جہاں یہ آئے ہیں اختلاس حرکت 2 سے پڑھا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ابو عمرو نے بارِئکُم کی ہمزہ کو ساکن کرکے پڑھا ہے۔ اس روایت کے موافق ہمزہ ابو عمر کے نزدیک یا سے بدل جائے گا اور ابو عمرو کے سوا اور قراء نے پوری حرکت سے پڑھا اور کسائی نے بارئکم میں دونوں جگہ اور البارئ المصور سارعوا یسارعون یسارع میں امالہ کیا ہے اور اسی طرح الجار میں دونوں جگہ اور جبار میں دونوں مقام میں اور الجوار میں سورة شوریٰ اور رحمن اور کورت میں اور من انصاری الی اللہ میں دونوں جگہ اور کمشکٰوۃ میں سورة نور میں بھی امالہ کیا ہے اور ورش نے الجار اور الجبارین کو بین بین پڑھا ہے۔
فَاقْتُلُوْآ اَنْفُسَکُمْ ( اور ہلاک کر ڈالو اپنی جانیں) مطلب یہ ہے کہ توبہ کی تکمیل کے لیے تم میں سے جو بری ہیں وہ مجرموں کو قتل کریں اس تقریر پر یہ قتل توبہ کا تتمہ ہوگا اور خود توبہ نہ ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ فاتفسیر کے لیے ہو اس کے موافق یہ قتل ہی خود توبہ ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اپنے لوگوں کو قتل کردو یہی تو بہ ہے۔
ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بارِءِکُمْ ( یہی ( قتل) بہتر ہے تمہارے حق میں تمہارے خالق کے نزدیک اور اس قتل کے بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ قتل شرک سے پاک کرنے اور حیات ابدی و سرور سرمدی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ اس حکم الٰہی کے پہنچتے ہی موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ فرمان واجب الاذعان قوم کے گوش گذار کیا سب نے یہ حکم سن کر عرض کیا کہ ہم اپنے موسیٰ کے حکم پر دل سے صابر ہیں سب کے سب ایک صحن میں اپنی چادروں سے گوٹ مار کر سر جھکا کر بیٹھ گئے۔ حکم ہوا کہ اگر کوئی اپنی گوٹ کھولے یا نگاہ اٹھا کر قاتل کو دیکھے یا ہاتھ پیر کے ذریعے سے بچے تو وہ ملعون ہے اور اس کی توبہ مقبول نہ ہوگی۔ سب نے حکم الٰہی کی تعمیل کی اور اپنی اپنی گردنیں کھول دیں۔ مجرمین میں ان قاتلین کے عزیز و اقارب بھی تھے کوئی کسی کا باپ کوئی بیٹا، کوئی بھائی، کوئی قریبی رشتہ دا، کوئی دوست تھا جب امتثال حکم الٰہی کے لیے تلوار اٹھائی تو فرط محبت و شفقت کی وجہ سے تلوار ہاتھ سے چھوٹ گئی اور حق تعالیٰ کے حکم کی تعمیل نہ ہوسکی۔ سب نے حضرت موسیٰ سے عرض کیا یا نبی اللہ اب ہم کیا کریں ہم تو تو مغلوب ہوگئے حق تعالیٰ نے زمین سے بخارات یا آسمان سے ایک ایک ابر سیاہ بھیجا کہ اس سے تاریکی چھا گئی کہ کوئی ایک دوسرے کو نہ دیکھتا تھا۔ القصہ قتل شروع ہوا اور کئی روز تک یہ قتل رہا صبح سے شام تک برابر قتل کرتے تھے جب بنی اسرائیل کثرت سے مقتول ہوئے تو حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے بارگاہ الٰہی میں رو رو کر دعا فرمائی کہ خداوندا بنی اسرائیل یک لخت ہلاک ہوئے جاتے ہیں اب اپنا رحم فرمائیے حق تعالیٰ نے اس سیاہ ابر کو ہٹا دیا اور حکم بھیجا کہ اب قتل نہ کریں جب ابر کھلا تو دیکھا گیا کہ ہزاروں آدمی مارے گئے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ مقتولین کی تعدادستّر ہزار تھی۔ یہ دیکھ کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو بہت غم ہوا حق تعالیٰ نے وحی بھیجی کہ موسیٰ ! کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ میں قاتل اور مقتول دونوں کو جنت میں داخل کروں اور جو قتل ہوئے انہیں شہادت کا مرتبہ دوں اور جو باقی رہیں ان کے گناہ معاف کردوں۔
فَتَابَ عَلَیْکُمْ ( پھر اللہ تعالیٰ تم پر متوجہ ہوا) یہ جملہ محذوفہ کے متعلق ہے اگر اسے حضرت موسیٰ کا کلام قرار دیا جائے تو تقدیر یہ ہوگی کہ اگر تم قتل کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے گا اور اگر حق تعالیٰ کا مقولہ ہو تو اس کلام میں صنعت التفات کے طور پر غیبت سے خطاب کی طرف میلان ہوگا اور آیت کے یہ معنی ہونگے کہ اس کے بعد جو تمہیں حکم ہوا تھا ( یعنی قتل کا) سو تم بجا لائے تھے تو حق تعالیٰ تم پر متوجہ ہوا۔
اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیْمُ ( بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ ) تو اب کے معنی کثرت سے توبہ قبول کرنے والا یا توبہ کی توفیق دینے والا۔ اس قصہ کے بعد حق تعالیٰ کی طرف سے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ تم چند آدمی بنی اسرائیل کے لے کر آؤ اور اس بچھڑے کی پوجا سے توبہ اور عذر کرو حضرت موسیٰ نے ان میں سے ستّرنیک اور صالح منتخب کئے اور انہیں کہا کہ تم روزہ رکھو اور خوب نہا دھو کر پاک صاف ہوجاؤ اور پاکیزہ کپڑے پہنو سب نے حضرت موسیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور ان سے استدعا کی کہ آپ جناب باری میں عرض کیجئے کہ ہمیں اپنا کلام پاک سنائے جب موسیٰ (علیہ السلام) پہاڑ کے قریب ہوئے تو ایک ابر مثل ستون نمودار ہوا اور سارے پہاڑ پر محیط ہوگیا حضرت موسیٰ اس ابر میں گھس گئے اور اپنی قوم سے کہہ دیا کہ جب تم اس ابر میں آؤ تو سجدہ میں گرپڑنا۔ حضرت موسیٰ جب حق تعالیٰ سے کلام کرتے تو ان کے مبارک چہرہ پر ایک ایسا نور چمکتا تھا کہ کسی کو اس طرف دیکھنے کی تاب نہ ہوتی تھی پھر ان میں اور نور خداوندی کے ما بین ایک حجاب پید اہو گیا انہوں نے سنا کہ حق تعالیٰ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو امر و نہی فرماتا ہے منجملہ ان کے یہ بھی گوش زد ہوا بیشک میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں میں قاہر ہوں میں نے تمہیں اپنی قوت شدیدہ سے مصر سے نکالا تم میری ہی عبادت کرو اور کسی غیر کی عبادت نہ کرو جب موسیٰ مناجات سے فارغ ہوئے اور وہ ابر کھل گیا تو ان سب نے حضرت موسیٰ سے آیہ ذیل کا مضمون کہا۔
Ayah 2:55وَاِذْ قُلْتُمْ یَا مُوْسیٰ لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ ( اور وہ وقت یاد کرو جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تیرا یقین نہ کریں گے) یعنی ہم تمہارے کہنے سے ہرگز ایمان نہ لائیں گے یا یہ معنی کہ ہم ہرگز اس بات کا اقرار نہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں توریت عطا فرمائی ہے اور تم سے کلام کیا ہے یا تم نبی ہو۔
حَتّٰی نَرَی اللّٰہُ جَھْرَۃً ( یہاں تک کہ دیکھ لیں ہم اللہ کو کھلم کھلا) جھرۃ اصل میں جھرِتُ بالقراءۃ ( میں نے پڑھنے میں آواز بلند کی) کا مصدر ہے مگر یہاں معاینہ کے معنی میں مستعار لے لیا گیا ہے اور جھرۃ یا تو نَرٰیکا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ جھرۃ میں بھی ایک قسم کی رویت پائی جاتی ہے یا یہ فاعل یا مفعول بہ سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
فَاَخَذَتْکُمُ الصَّاعِقَۃُ (پھر پکڑ لیا تمہیں کڑک نے) اس سے مراد موت ہے اور بعض نے کہا کہ صاعقہ سے مراد آگ ہے جو آسمان سے آئی تھی اور انہیں جلا دیا تھا)
وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ( اور تم دیکھ رہے تھے) یا تو یہ معنی کہ تمہیں جو مصیبت پہنچی اسے تم دیکھ رہے تھے ( جب صاعقہ سے مراد آگ ہو) یا یہ مراد کہ اس مصیبت کا اثر تم دیکھ رہے تھے ( جب صاعقہ سے مراد موت ہو کیونکہ موت خود تو نظر آتی نہیں اس کا اثر ہی نظر آتا ہے۔ جب سب کے سب ہلاک ہوچکے تو حضرت موسیٰ بارگاہ الہی میں رونے اور آہ وزاری کرنے لگے اور عرض کیا خداوندا میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا ان میں جو بزرگ لوگ تھے وہ تو آپ نے ہلاک کر ڈالے اور پھر عرض کیا : رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَھْلَکْتَہُمْ مِنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ اَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَھَآءُ مِنَّا ( یعنی اے پروردگار اگر تو چاہتا تو پہلے ہی ان کو مجھ سمیت ہلاک کردیتا کیا تو ہلاک کئے دیتا ہے ہمیں اس حرکت پر جو کر بیٹھے ہم میں سے احمق لوگ) حضرت موسیٰ برابر عجز وزاری کرتے رہے حتیٰ کہ دریائے رحمت میں جوش آیا ایک دن رات مرے پڑے رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سب کو یکے بعد دیگرے زندہ کر اٹھایا اور جو زندہ ہو کر اٹھتا وہ دوسرے کو دیکھتا کہ کیونکر اٹھتے ہیں چناچہ اس مضمون کو حق تعالیٰ ذیل کی آیت میں بیان فرماتا ہے۔
Ayah 2:56ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ ( پھر ہم نے تمہیں زندہ کھڑا کیا) بعث کے معنی لغت میں کسی شے کو اس کی جگہ سے اٹھانے کے ہیں :
مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ ( تمہارے مرنے کے بعد) قتادہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے انہیں اس لیے زندہ کردیا تاکہ وہ اپنی بقیہ عمریں اور رزق پورے کرلیں اور اگر اپنی عمر ختم کرکے مرتے تو پھر قیامت ہی میں اٹھائے جاتے۔
لَعَلَّکُمْ تَشْکُروْن ( شاید تم احسان مانو) یعنی تاکہ تم اس زندہ اٹھانے کا شکر کرو یا صاعقہ کے پہنچنے سے جو تمہیں عذاب پہنچا اور اس سے تمہارے گناہ معاف کئے گئے اس کا شکار کرو۔