Ayah 2:25وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ( اور اے پیغمبر انہیں بشارت دو جو ایمان لائے) یہ جملہ جملۂ سابقہ پر عطف ہے۔ عادت الٰہی قرآن پاک میں اسی طرح جاری ہے کہ ترہیب کے بعد ترغیب اور ترغیب کے بعد ترہیب ذکر کی جاتی ہے عطف فعل کا فعل پر نہیں تاکہ دونوں میں کوئی وجہ مشارکت تلاش کرنے کی ضرورت پڑے۔ یا فاتّقُوْا پر عطف ہے یعنی مراد یہ ہے کہ ایمان لے آؤ اور آگ سے بچو اور ڈرو اور جنت کی بشارت پاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے خود ان ہی کو براہ راست بشارت سے یاد نہیں فرمایا یعنی اس طرح نہیں فرمایا کہ بشارت پاؤ بلکہ فرمایا کہ ” بشارت دو “ وجہ یہ کہ ایمان اور تقویٰ کے سبب ان کی تعظیم شان منظور ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ اب یہ اس کے سزاوار ہیں کہ انہیں ہر شخص بشارت اور مبارک باد دے ( ظاہر ہے کہ خود انہیں بشارت دینے میں یہ بات حاصل نہ ہوتی گویا یہ معنی ہوئے کہ اے مخاطب انہیں مبارکباد دے کیونکہ یہ اس کے لائق و مستحق ہیں) بشارۃ خوش کرنے والی خبر کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے قول فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍمیں لفظ بشارت بطور استہزاء مستعمل ہوا ہے بعض نے کہا ہے کہ بشارۃ کا استعمال اچھی اور بری دونوں خبروں میں آتا ہے مگر اچھی خبر میں زیادہ ہے۔
وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ( اور انہوں نے نیک عمل کیے) لفظ صالحات ان غالبہ صفات میں سے ہے جو قائم مقام اسماء کے ہوتے ہیں اور اعمال صالحہ ان عملوں کو کہتے ہیں جن کو شرع نے اچھا کہا ہو اور لفظ صالحات کو مؤنث ذکر کرنا اس بناء پر ہے کہ یہ لفظ خصلت محذوف کی صفت ہے۔ علامہ بغوی نے کہا ہے کہ معاذ ؓ نے فرمایا کہ عمل صالح وہ ہے جس میں چار چیزیں ہوں علم ‘ نیت ‘ صبر اور اخلاص۔ امیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفان ؓ نے وَعَمِلُو الصَّالِحَاتپڑھ کر فرمایا کہ عمل صالح کے یہ معنی ہیں کہ ریاء سے خالی کرکے خالص لوجہ اللہ کرے اس آیت سے یہ معلوم ہوگیا کہ اعمال ایمان سے خارج ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت کی بشارت کے استحقاق کا پورا سبب ایمان اور عمل دونوں وصف ہیں۔
اَنَّ لَھُمْ ( کہ بیشک ان کے لیے) ( ترکیب میں) یا تو منصوب بنزع حرف جر ہے اور بَشِّرْسے متعلق ہے ‘ یا مجرور کے حرف جر باء مقدر ہے۔
جَنّٰتٍ (جنتیں ہیں) جَنّٰتٍ جنۃ کی جمع ہے جس کے معنی باغ کے ہیں کیونکہ باغ بھی درختوں سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ (1) [ لغت میں جن کا معنی ہے چھپانا گھنے باغ کو جس میں سایہ دار درخت بکثرت ہوں جنت کہتے ہیں ]
تَجْرِىْ مِنْ تَحْتِهَا ( جن کے نیچے ( نہریں) بہ رہی ہیں) جنت کے نیچے نہریں بہنے کا یہ مطلب کہ جنت کے
درختوں اور مکانوں کے نیچے بہہ رہی ہیں۔
الْاَنْهٰرُ ( نہریں) اور نہروں کے بہنے کے یہ معنی کہ ان میں پانی بہہ رہا ہے۔ یا تو لفظ ماء (پانی)
انہار سے پہلے محذوف ہے یا مجاز لغوی اور یا اسناد میں مجاز ہے اَلْاَنْھَار میں الف اور لام جنس کا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جنت کی نہریں بغیر کھائیوں اور گڑھوں کے بہتی ہیں۔ (2) [ یعنی جس طرح دنیا کی نہریں گڑھوں میں چلتی ہیں اسی طرح جنت کی نہریں نہیں بہتیں ] اس حدیث کو ابن مبارک اور ابن جریر اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔
كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَـــرَةٍ رِّزْقًا ۙ قَالُوْا ھٰذَا الَّذِىْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۙ : (جب انہیں ان میں کا کوئی میوہ کھانے کو ملے گا تو کہیں گے یہ تو وہی ہے جو ہمیں پہلے مل چکا ہے) قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ یا تو جنت کی دوسری صفت ہے یا خبر ہے مبتدا محذوف کی تقدیر ثانی پر یہ معنی ہونگے کہ جب انہیں جنتی پھل کھلائے جائیں گے تو وہ یہ کہیں گے یا جملہ مستانفہ ہے جو جنت کے میوہ جات کے حال کی توضیح کے لیے لایا گیا ہے اور کُلَّمَا ظرف ہونے کی وجہ ہے منصوب ہے اور رزْقًا رُزِقُوْاکا مفعول بہ ہے اور لفظ مِن دونوں جگہ یا تو ابتدائیہ ہے یا پہلے مقام پر تو ابتدائیہ اور دوسرے موضع میں بیانیہ ہے اور دونوں من مع اپنے مجرور کے مل کر قائم مقام حال کے ہیں۔
لفظ ھٰذا سے نوع رزق کی طرف اشارہ فرمایا ہے یعنی اس نوع کے افراد پے در پے موجود ہونے کے سبب ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اَلَّذِیْ رُزِقْنَا سے پہلے لفظ مثل محذوف ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ ” یہ پہلے رزق کی مثل ہے “ لفظ مثل تشبیہ کے بلیغ کرنے کے لیے حذف کردیا گیا گویا یہ دوسری دفعہ کا میوہ بعینہٖ پہلا ہی ہے۔ مِنْ قَبْلُ اس سے پہلے یعنی دنیا میں جنت کے ثمرات اور جنتیں دنیا کی نعمتوں کی مشابہ اس لیے پیدا کی گئی ہیں کہ طبیعتیں غیر مالوف ہونے کے سبب متنفر نہ ہوں اور وہاں کی چیزوں کی فضیلتیں خوب ظاہر ہوں ( اس لیے کہ اگر وہاں کے پھل وغیرہ یہاں کے پھلوں کے مشابہ نہ ہوتے اور بالکل نئی قسم کے ہوتے تو ان پر ان نعمتوں کی زیادتی و ترجیح ظاہر نہ ہوتی کیونکہ ترجیح و فضیلت ایک جنس کی چیزوں میں ہوا کرتی ہے) بعض نے کہا ہے کہ جنت کے پھل رنگ و روپ میں تو ایک دوسرے کے مشابہ اور دیکھنے میں یکساں مگر ذائقہ میں مختلف ہیں اور جنتی پھلوں کے کھاتے وقت رُزِقْنَا منْ قبلاس لئے کہیں گے کہ وہ صورۃً سب پھلوں کو یکساں دیکھیں گے مگر جب ذائقہ میں نمایاں تفاوت معلوم کریں گے اور ‘ اور ہی مزا پائیں گے تو بہت ہی خوش ہوں گے۔
وَاُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا ۭ (اور انہیں وہ پھل ایک دوسرے سے ملتے ہوئے دیئے جائیں گے) پہلی تفسیر پر جبکہ دنیا کے پھلوں سے تشبیہ دی جائے تو بِہٖ کی ضمیر رزق جنت اور دنیا کی طرف راجع ہوگی اور یہ آیت جملہ معترضہ ہے کہ مضمون سابق کی توضیح و تاکید کرتا ہے ابن عباس اور مجاہد ؓ نے فرمایا ہے کہ مُتَشَابِھًا کے یہ معنی ہیں کہ رنگ میں تو وہ پھل یکساں ہوں گے مگر مزہ میں مختلف ہوں گے حسن اور قتادہ (رح) نے یہ معنی بیان فرمائے ہیں کہ جنت کے پھل نفاست اور ستھرائی میں ایک دوسرے کے مثل ہونگے یعنی وہاں کے سارے پھل بہتر اور عمدہ ہونگے کہ ان میں نقص کا نام تک نہ ہوگا ( مطلب یہ کہ جیسے دنیا کے پھل ہیں کہ کوئی اچھا اور کوئی بڑا ‘ کوئی پکا ‘ کوئی کچا ‘ وہاں کے پھل ایسے نہ ہونگے بلکہ سب کے سب اعلیٰ ہی قسم کے ہونگے) ۔
علامہ بغوی نے اپنی سند سے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنتی سب کچھ کھائیں پئیں گے لیکن پیشاب پاخانے اور منہ اور ناک کی ریزش اور جملہ آلائش سے پاک صاف ہونگے اور انہیں حمد اور تسبیح ایسی الہام کی جائے گی جیسے سانس کا آنا ( یعنی تسبیح وتحمید بجائے سانس لینے کے ہوجائے گی) ان کا کھانا پینا ڈکار کے ذریعے سے ہضم ہوجایا کرے گا اور پسینہ مشک کی خوشبو کا سا ہوگا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اس آیۃ کے ایک یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ ان اعمال و معارف الٰہیکا ثواب ہے جو ہمیں دنیا میں عطا کئے گئے تھے۔ اس کی نظیر کلام پاک میں بھی ہے جیسا کہ فرمایا : ذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْن ( یعنی چکھو جو تم کرتے تھے) ۔
امام ترمذی (رح) نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی مٹی نہایت پاکیزہ اور پانی نہایت شیریں ہے اور یاد رکھو کہ جنت بالکل ہموار میدان ہے اسکے درخت تسبیح تحمید اور تکبیر ہیں۔ اس تفسیر کے بموجب وَاُوْتُوْا بِہٖ مُتََْابِھًا کے یہ معنی ہونگے کہ وہ ثواب شرف و فضیلت میں ان کے معارف و طاعات کے مشابہ ہوگا اور جیسا کہ اعمال میں باہم تفاوت ہوگا ویسا ہی اس ثواب میں ہوگا۔ امام ترمذی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جنت میں سو درجے ہیں ہر درجے کی مسافت ایک سے دوسرے درجہ تک سو برس کی ہے۔ عبادہ بن الصامت ؓ سے بھی یہی مضمون مروی ہے مگر اس میں اتنا اور بھی ہے کہ ہر دو درجوں کے مابین ایسی مسافت ہے جیسی آسمان و زمین کے درمیان کی۔ صاحب مصابیح نے اس حدیث کو صحاح میں اور ترمذی نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔
وَلَھُمْ فِيْهَآ ( اور وہاں جنت میں ان کے لیے ( بیبیاں پاک صاف) ہونگیں۔
اَزْوَاجٌ ( بیبیاں ازواج سے مراد حوریں ہیں۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ اَزْوَاجٌسے مراد یہی تمہاری بوڑھیاں اندھی چندھی ہیں اور وہاں دنیا کی نجاستوں سے پاک صاف کردی جائیں گی۔
مُّطَهَّرَةٌ ( پاک صاف) یعنی پیشاب ‘ پاخانہ ‘ حیض ‘ نفاس ‘ تھوک ‘ سنک ‘ منی اور ہر نجاست اور میل کچیل اور برے اخلاق سے ( پاک صاف کی گئی ہیں تطہیر کا لفظ جیسا کہ اجسام کے پاک کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے ایسا ہی اس کا اطلاق افعال و اخلاق کی تہذیب پر بھی آتا ہے۔ لفظ مطہرۃ میں بہ نسبت طاہرہ مبالغہ زیادہ ہے کیونکہ اس میں اشارہ ہے کہ اللہ نے خود انہیں پاک کیا ہے۔ لفظ زوج کا اطلاق مرد اور عورت دونوں پر آتا ہے اور اصل لغت میں زوج اسے کہتے ہیں کہ جس کا کوئی جوڑ ہو اسی کی جنس سے جیسے موزہ ‘ جوتہ وغیرہ ‘ وغیرہ۔
وَّھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (اور وہ ان ( باغوں) میں ہمیشہ رہیں گے) ( مطلب یہ کہ) نہ تو وہاں موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکلیں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وہیں رہیں گے اور یہ اس لیے فرما دیا کہ پہلے سے جنت کی نعمتوں کا بیان چلا آرہا تھا تو سننے والے کو اس سے یہ وہم ہوسکتا تھا کہ دیکھئے یہ نعمتیں ہمیشہ کے لیے باقی رہیں گی یا دنیا کی نعمتوں کی طرح فنا اور زائل ہوجائیں گی تو یہ خوف اس عیش کو مکدّر کرنے والا تھا اس لیے اسے دفع فرمایا کہ تم اطمینان رکھو تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ علامہ بغوی نے اپنی سند سے بطریق بخاری ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو گروہ جنت میں پہلے داخل ہوگا وہ ایسا چمکتا دمکتا ہوگا جیسا چودھویں رات کا چاند اور اس کے بعد جو داخل ہوگا وہ ایسا چمکتا ہوا ہوگا جیسا آسمان میں سب سے زیادہ چمکتا ستارہ۔ جنتی پیشاب، پاخانہ، تھوک، سنک اور سب آلائشوں سے پاک صاف ہو نگے کنگھیاں ان کی سونے کی ‘ پسینہ ان کا مشک کی خوشبو کا، انگیٹھیاں ان کی خوشبو کی ہونگی اور بیویاں ان کی حور عین (یعنی نہایت خوبصورت ‘ حسین ‘ بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی اور ان سب کے اخلاق ایک جیسے ہوں گے) یعنی سب سے ملے جلے ہونگے جیسے ایک شخص خود اپنی ذات سے محبت رکھتا ہے اور غیض نہیں رکھتا اور ایک سی تمنائیں ہوتی ہیں ایسے ہی وہ سب کے سب ہونگے) اور قد ان سب کا مثل قد آدم ( علیہ السلام) 60 گز کا ہوگا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اوّل جو گروہ جنت میں جائے گا انکے چہرے چودھویں رات کے چاند جیسے ہونگے اور دوسرا گروہ ایسا ہوگا جیسا آسمان میں روشن ستارہ ہر شخص کی دو بیویاں ہونگی اور ہر ایک پر ستّر حُلّے ہونگے اور بوجہ نفاست کے انکی پنڈلیوں کی ہڈی کا گودہ گوشت اور خون اور لباسوں کے اوپر سے نظر آئیگا۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر جنت کی کوئی عورت زمین پر جھانک بھی لے تو آسمان سے زمین تک اس کی چمک اور خوشبوپھیل جائے اور وہاں کی حور کے سر کا دوپٹہ بھی دنیا اور اس کی ساری نعمتوں سے بہتر ہے۔ اس حدیث کو بھی بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے اسامہ بن زید ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ( ہم سب سے) فرمایا کوئی ہے جو جنت کے حاصل کرنے کے لیے تیار اور مستعد ہو بیشک جنت ایسی شے ہے کہ اس کا کسی دل میں خطرہ تک نہیں گذرا اور قسم ہے رب کعبہ کی کہ جنت ایک چمکتا ہوا نور ‘ مہکتی پھلواری ‘ اونچے اونچے مضبوط محل ‘ بہتی نہریں ‘ تیار اور پکے میوے، خوبصورت گوری گوری بیویاں اور طرح طرح کے بیشمار لباس اور ہمیشہ رہنے کی جگہ اور انواع انواع کے میوے سبزے لباس بیل بوٹے اور طرح طرح کی نعمتیں ہیں سب نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم سب کے لیے تیار اور مستعد ہیں۔ فرمایا انشاء اللہ کہو۔ اس حدیث کو بغوی نے روایت کیا ہے ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنتی سب کے سب بےرونگٹے بےڈاڑھی، سرمگیں چشم ہونگے نہ ان کی جوانی ختم ہوگی نہ ان کا لباس پرانا ہوگا۔ یہی مضمون مسلم کی حدیث میں ہے۔
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ جنت میں ایک بازار ہوگا کہ اس میں خریدو فروخت تو کچھ ہوگی نہیں مگر اس میں عورتوں اور مردوں کی صورتیں ہوں گے جو کوئی جس صورت کو چاہے گا اس میں داخل ہوجائے اور جنت میں حور عین کا ایک مجمع ہوگا کہ وہ سب کی سب اپنی بےمثل آواز سے پکار پکار کر کہیں گی کہ ہم سب کی سب ہمیشہ رہیں گی۔ کبھی ہلاک نہ ہونگی اور عیش و عشرت سے رہیں گی نہ ہم پر کبھی تنگی آئے گی نہ فقرہ و فاقہ نہ غیظ و غضب بلکہ ہم سب ہنسی خوشی رہیں گی ان مردوں کے لیے بڑی خوشی ہے جو ہمارے لیے ہوں اور اہم ان کے لیے۔ اس حدیث کو ترمذی نے علی ؓ سے اور احمد بن منیع نے ابو معاویہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور مسلم نے حضرت انس ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت میں ایک بازار ہے کہ جنتی ہر جمعہ وہاں آیا کریں گے اور شمالی ہوا چل کر ان کے چہروں کو زیادہ حسین بنا دے گی اور ان کے فاخرہ لباس کو طرح طرح کی خوشبوؤں سے معطر کردے گی تو وہ حسن و جمال میں پہلے سے بدرجہا بڑھ جائیں گے اسی حالت میں جب اپنی بیویوں کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گی آج تو تم بہت ہی حسین و جمیل ہو وہ جواب دیں گے کہ واللہ ہم تمہیں بھی زیادہ خوبصورت پاتے ہیں۔ (جامع ترمذی ‘ ج 2)
میں کہتا ہوں چونکہ اہل دنیا کی نظر نعمتوں میں سے صرف پہننے، کھانے اور نکاح کرنے ہی پر ہے ( دوسری نعمتوں کی طرف دنیا میں نہ موجود ہونے کے سبب نظر نہیں جاتی اور جو کوئی بیان کرے تو ذہن بھی اس طرف منتقل نہیں ہوسکتا) اس لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پاک ﷺ نے صرف ایسی ہی چیزوں کے ذکر پر اکتفا فرمایا اور جنت کی نعمتیں تو بڑی بڑی ہیں۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کے لیے ایسی ایسی نعمتیں تیار کی ہیں کہ انہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل پر خطرہ گذرا دلیل اگر چاہتے ہو تو یہ ہے کہ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ( یعنی کوئی نفس نہیں جانتا جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے وہاں چھپائی گئی ہے) اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ فخر عالم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جنت میں اہل جنت سے فرمائے گا کہ اب میں تم پر رضا مندی اتارتا ہوں کبھی تم سے ناراض نہ ہونگا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور ایک طویل حدیث میں مسلم نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پاک جنت میں اپنے اور جنتیوں کے درمیان سے حجاب اٹھائے گا کہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی ذات پاک کی زیارت کریں گے اور اس کے دیدار سے زیادہ کوئی شے کبھی ان کے نزدیک پسندیدہ نہ ہوگی پھر رسول اکرم ﷺ نے اس آیۃ کو پڑھا : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰٰی وَ زِیَادَۃٌ ( یعنی نیک کاروں کے لے ئے حسنیٰ یعنی جنت اور زیادتی ہے ( زیادتی سے مراد ررؤیت باری تعالیٰ ہے) ۔
ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے کم درجہ کا جنتی وہ ہوگا جس کے مکانات بیویاں، نوکر، چاکر اور تخت اس کثرت سے ہونگے کہ ہزار برس کی راہ سے وہ انہیں دیکھے گا اور سب سے زیادہ نعمت یافتہ اللہ کے نزدیک وہ شخص ہوگا جو اللہ پاک کے دیدار سے صبح و شام مشرف ہوا کرے گا۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیۃ پڑھی : وُجُوہٌ یَّوْمَءِذٍ نَّاضِرَۃٌ اِلٰی رَبِّھَا نَاظِرَۃٌ ( یعنی بہت سے چہرے اس روز ترو تازہ اور اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہونگے) اس حدیث کو احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔ ابن جریر نے سدی کبیر سے بسند معتبر روایت کی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیت : مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِیْ اسْتَوْقَدَ نَارًا اور آیت : او کَصَیِّبٍ من السماء میں منافقوں کی دو مثلیں بیان فرمائیں تو منافقین نے سن کر یہ ہذیان سرائی کی کہ اللہ تعالیٰ کی شان والا تو نہایت ارفع و اعلیٰ ہے پھر ایسی ایسی حقیر مثالیں کیوں بیان فرمائیں تو اس وقت اللہ پاک نے ان کے ان گستاخانہ کلمات کے جواب میں ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:26اِنَّ اللّٰهَ لَا يَسْتَحْىٖٓ اَنْ يَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً ( بیشک اللہ کسی مثال کے بیان کرنے میں ( ذرہ بھی) نہیں جھینپتا ( خواہ وہ مثال مچھر کی ہو) یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی۔ بعض مفسرین نے اس کا شان نزول اس طرح بیان کیا ہے کہ جب حق تعالیٰ نے مشرکین کے بارے میں مکھی کا ذکر فرمایا جیسا کہ فرمایا ہے۔ وَاِنْ یَّسْلُبْھُمُ الذُّبَابُ شَیْءًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ (اگر مکھی ان سے یعنی بتوں سے کچھ چھین لے جائے تو اس کو اس سے چھڑا نہیں سکتے) اور ان کے مکرو فریب کو مکڑی کے جالے کی مثل ارشاد فرمایا تو انہوں نے سن کر کہا دیکھو اللہ تعالیٰ باوجود اپنی اس علو شان کے اپنی کتاب میں مکھی اور مکڑی کا ذکر کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بکواس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی یہ پچھلی روایت شان نزول میں واحدی نے بطریق عبد الغنی ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اور عبد الغنی ایک نہایت ضعیف راوی ہے اور اس میں یہ بھی خدشہ موجود ہے کہ آیۃ تو مدنی ہے اور یہ معارضہ مشرکین سے مکہ میں ہوا تھا تو معلوم ہوا کہ روایت اولیٰ ( جو ہم نے آیۃ سے پہلے لکھی ہے) شان نزول میں باعتبار سند اور معنی کے نہایت صحیح ہے۔ حیا نفس کے بھینچنے اور جھینپنے کا نام ہے جو کسی برے فعل سے بخوف مذمت پیدا ہو۔ حیاء، وقاحۃ اور خجل کے درمیانی درجہ کا نام ہے کیونکہ وقاحۃ تو جرأۃ اور برے فعلوں سے لاپروائی کرنے کو کہتے ہیں اور خجل کسی فعل سے رک جانے کو بولتے ہیں خواہ وہ برا ہو یا بھلا حق تعالیٰ کی ذات پاک بھی حیاء کی صفت سے موصوف کی جاتی ہے چناچہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بوڑھے مسلمان کے عذاب دینے سے حیا آتی ہے “ اس حدیث کو بیہقی نے باب زہد میں حضرت انس ؓ سے اور ابن ابی الدنیا نے حضرت سلمان ؓ سے روایت کی ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ ” جب بندہ اپنے مالک کے سامنے ہاتھ اٹھاتا ہے تو ارحم الراحمین کو اس کے ہاتھ خالی پھیر دینے سے بہت حیا آتی ہے۔ “ اس حدیث کو ابوداوٗد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے اور حاکم نے سلمان ؓ سے روایت کرکے کہا ہے کہ صحیح ہے (ظاہر ہے کہ ان مقامات میں حیا کے حقیقی معنی تو بن ہی نہیں سکتے کیونکہ حقیقی معنی تو برے فعل سے نفس میں بھنچاؤ اور گرفت اور انفعال یعنی اثر قبول کرلینے کے ہیں اور حق تعالیٰ اس سے بالکل پاک و منزہ ہے پس) حیا سے مراد یہاں اس فعل کا ترک ہے جو حقیقی معنی کا لازم ہے ( کیونکہ آدمی جب کسی شے سے حیا کرتا ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے) آیۃ میں حیا کا استعمال اشکال سے خالی نہیں کیونکہ حیاء کے معنی ظاہر ہے کہ یہاں فعل قبیح کے ترک کے ہونگے اور مثل کا بیان کرنا کسی درجہ میں بھی قبیح نہیں تو جواب اس کا یہ ہے کہ جب کفار نے یہ بکواس کی کہ اللہ تعالیٰ ایسی ایسی مثالوں سے شرماتا نہیں تو جواب میں ارشاد ہوا کہ نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ حیاء کا استعمال محض مقابلہ کے لیے وارد ہوا ہے جیسا کہ اسی انداز پر دوسرے مقام میں ارشاد ہے : وَ جَزَآء سَیِّءَۃٍ سَیِّءَۃٌ مِثْلُھَا ( اور بدلہ برائی کا ویسی ہی برائی ہے) تو معلوم ہوا کہ برائی کے بدلہ کو برائی سے تعبیر فرمانا حالانکہ وہ برائی نہیں محض مقابلہ پر مبنی ہے) ضرب مثل کے معنی مثل بیان کرنا ہے ضرب کے اصلی معنی کسی شے کو دوسری شے پر مارنے کے ہیں۔ لفظ اَنْ مع اپنے صلہ کے بتقدیر مِن خلیل کے نزدیک مجرور ہے اور سیبویہ کے نزدیک فعل یعنی لَا یَسْتَحْیِیْ اَنْ یَّضْرِبَ پر بعد حذف من واقع ہوا ہے۔ ( اس لیے اَنْ مَعَ اپنے صلہ کے منصوب ہوگا) لفظ ما یا تو ابہامیہ ہے نکرہ میں ابہام کی زیادتی کے لیے لایا گیا ہے اور اس کی تعیین و تقیید کے باب کو بالکل مسدود کردیا ہے اور یا زائدہ ہے جو اس لیے لایا گیا ہے کہ کسی غیر اسم کے شامل ہو کر اس کی قوۃ کو بڑھا دے بَعُوض بوزن فعول بَعْض سے مشتق ہے جس کے معنی قطع کے ہیں۔ پشہ خرد پر اس کا اطلاق غالب ہوگیا ہے گویا کہ وہ بھی کسی بڑے پشہ کا ایک جزو ہے اور اس میں تاء وحدۃ کے لیے ہے۔
فَمَا فَوْقَهَا ( یا اس سے بھی بڑھ کر) بعوضۃً پر معطوف ہے اور اس کی دو تفسیریں ہیں ایک تو یہ کہ جو مچھر سے حبثہ میں زیادہ ہو جیسے مکھی، مکڑی، اس تفسیر پر آیۃ کے یہ معنی ہونگے کہ اللہ تعالیٰ مچھر تک کی مثل بیان کرنے سے نہیں شرماتا چہ جائیکہ اس سے کوئی بڑی شے ہو دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو مچھر سے بھی جثہ میں کم اور حقارت میں زیادہ ہو اس سے بھی نہیں شرماتا۔
فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ۚ وَاَمَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَيَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَاد اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا (سو جو لوگ ایمان لا چکے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ( مثال یا اس کا بیان کرنا) ٹھیک ہے ان کے رب کی طرف سے اور جو منکر ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس ( حقیر و ذلیل) مثال سے اللہ کو کیا غرض تھی یعنی جو لوگ ایمان لا چکے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ مثال یا اس کا بیان کرنا ٹھیک ہے یعنی جیسا کہ ہونا چاہئے اسی طریقہ پر ہے کہ اس کا انکار جائز نہیں عرب کا محاورہ ہے : ثوب محقق یعنی اس کی بناوٹ مضبوط ہے شے حقیرکو حقیر سے ہی مثال دے کر بیان کرنا چاہئے جیسا کہ ذی عظمت کو عظمت والی سے اگرچہ تمثیل دینے والا ہر عظیم سے عظیم ہو۔ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اور جو منکر ہیں وہ کمال جہل کی وجہ سے جانتے نہیں اور کہتے ہیں اللہ کی اس سے کیا مراد ہے ماذا میں ما استفہامیہ مبتدا ہے اور ذا بمعنی الذی مع اپنے صلہ کے خبر ہے اور یا مَا ذَا مجموعہ ایک اسم بمعنی ای شیۂے اور مفعول ہونے کے سبب محلاً منصوب ہے اور ارادہ ایسی صفت کا نام ہے جو اپنی قدرت کے دو فعلوں میں سے ایک کو ترجیح دے اور لفظ ھٰذا میں ایک قسم کا استحقار ہے ( ہماری زبان میں کسی حقیر آدمی کو یا کسی کی حقارت کے وقت بولا کرتے ہیں کہ یہ وہ ہے اس لیے لفظ ہذا حقیر اور ذلیل سمجھنے پر دلالت کرتا ہے) اور مَثَلاً کا نصب یا تو حال ہونے کی بناء پر ہے یا تمیز واقع ہونے کی وجہ سے۔
يُضِلُّ بِهٖ كَثِيْرًا ۙ وَّيَهْدِىْ بِهٖ كَثِيْرًا ۭ وَمَا يُضِلُّ بِهٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِيْنَ ( اللہ گمراہ کرتا ہے ایسی مثال سے بہتیروں کو اور ہدایت کرتا ہے بہتیروں کو لیکن انہیں کو گمراہ کرتا ہے جو بدکار ہیں) یہ آیتماذَا کا جواب ہے ( یعنی جب کفار نے ٹھٹھے کے طور سے یہ کہا کہ خدا کو ایسی مثال سے کیا غرض پڑی تھی تو جواب میں ارشاد ہوا کہ اس سے ہمارا مقصود یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیں۔ یعنی تمہیں اور بہتیروں کو ہدایت دیں ( یعنی مؤمنین کو) اور کثرت سے مراد اضافی کثرت نہیں بلکہ کثرت فی حد ذاتہٖ مراد ہے مؤمن اگرچہ کفار سے بہت کم ہیں لیکن فی نفسہٖ بہت ہیں اور بجائے صیغہ مصدر یعنی لفظ اضلال و ہدایت کے یضل و یھدی اس لیے فرمایا تاکہ حدوث اور تجدد سمجھا جائے ( مطلب یہ ہے کہ یہ موقع تو مصدر کا تھا کیونکہ سوال یہ تھا کہ اس مثال سے کیا غرض تو جواب ظاہر کلام کے مقتضا کے موافق یہ تھا کہ اللہ کی مراد اس سے گمراہ کرنا اور ہدایت کرنا ہے لیکن چونکہ مقصود یہ تھا کہ جواب کے ساتھ ہی یہ بھی اچھی طرح مفہوم ہوجائے کہ یہ گمراہ کرنا اور ہدایت کرنا پے بہ پے واقع ہوتا رہے گا اس لیے مضارع کے صیغہ کا استعمال فرمایا کہ اس معنی پر مضارع ہی کا صیغہ دلالت کرتا ہے اس آیۃ کا حاصل یہ ہے کہ جو آیۃ متضمن مثل نازل ہوتی ہے تو مومنین اس پر صدق و اخلاص کے ساتھ ایمان لے آتے ہیں اور انہیں کچھ شک و شبہ نہیں رہتا اس لیے وہ اس سے ہدایت پاتے ہیں اور کفار اسے نہیں مانتے اور انکار کرتے ہیں اور طرح طرح کے اعتراضوں سے اپنی زبان کو آلودہ کرکے گمراہ ہوتے ہیں۔ وَ مَا یُضِلُّ بِہٖ اِلَّا الْفَاسِقِیْن میں فاسقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو دائرہ ایمان اور حکم الٰہی سے نکلنے والے ہیں چناچہ کھجور جب اپنے پوست سے نکل آتی ہے تو عرب فَسَقَتِ الرَّطَبَۃُ بولتے ہیں۔
اصطلاح شرع میں فسق کے معنی کبیرہ گناہ کرنے کے ہیں فسق کے تین درجے ہیں : سب سے اعلیٰ یہ ہے کہ جن امور پر ایمان لانا واجب ہے انکا انکار و کفر کرے اور کفر سب گناہوں میں بد تر گناہ ہے اور قرآن مجید میں فسق سے اکثر یہی معنی مراد ہیں دوسرا درجہ یہ ہے کہ کبائر میں منہمک یعنی ڈوبا ہوا نہ ہو مگر کبیرہ کا مرتکب ہو یا یہ کہ صغیرہ پر اصرار کرتا رہے مگر معاصی کو برا سمجھتا ہو۔
Ayah 2:27الَّذِيْنَ ( جو) یہ الفاسقین کی صفت ہے یا تو مذمت اور فسق کی تاکید کے لیے لائی گئی ہے اور اگر فاسقین سے کفار اور مسلمان عاصی مراد ہوں تو اس وقت فاسقین سے کفار اور مسلمان عامی مراد ہوں تو اس وقت فاسقین کو اس صفت سے مقید کرنا منظور ہے۔
يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ ( اس کے عہد کو توڑتے ہیں) اللہ کے عہد سے یا تو وہ عہد مراد ہے جو اہل کتاب سے توراۃ میں لیا گیا تھا کہ محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور جو نعت اس میں مذکور ہے اسے ظاہر کردیں اخفاء نہ کریں یا وہ عہد الست مراد ہے جو تمام بنی آدم سے لیا گیا تھا نقض کے اصلی معنی رسّی وغیرہ کے بل کھولنے کے ہیں پھر اسکا استعمال عہد توڑنے میں ہونے لگا کیونکہ عہد کو بھی حبل یعنی رسی سے تعبیر کرتے ہیں اور اسی تعبیر کی وجہ یہ ہے کہ جیسے رسّی سے دو چیزوں میں وابستگی اور تعلق پیدا ہوجاتا ہے اسی طرح عہد سے بھی آپس میں عہد کرنے والوں کا ایک ارتباط اور تعلق ہوجاتا ہے۔
مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِه ٖ ۠ ( اس کو مضبوط کئے پیچھے) میثاقہ میں ہٖ کی ضمیر عہد کی طرف راجع ہے اور میثاق یا تو مصدر بمعنی وثوق ہے اور یا میثاق سے وہ آیات و کتب مراد ہوں جن سے اس عہد کو تقویت دے کر یاد دلایا گیا ہے مِنْ بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ میں من ابتداء غایت کے لیے ہے کیونکہ عہد توڑنے کی ابتدا اس کے محکم و مضبوط کرنے کے بعد ہی واقع ہوئی ہے۔
وَ يَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ ( اور جن ( تعلقات) کے ملائے رکھنے کا آپ نے حکم فرمایا انہیں قطع کرتے ہیں) اَنْ یُّوْصَلَ ضمیر مجرور سے جو بِہٖ میں ہے بدل ہے معنی آیت کے یہ ہیں کہ ا تعالیٰ نے جو حکم فرمایا تھا کہ تمام انبیا علی نبینا و (علیہ السلام) کے ساتھ رشتہ ایمان ملایا جائے اسے وہ قطع کرتے ہیں اور حکم تو یہ دیا جاتا ہے کہ یوں کہو لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ( ہم فرق نہیں کرتے اس کے پیغمبروں میں) اور وہ اس کے مقابلہ میں اس کو توڑ کر کہتے ہیں : نُوْمِنُ بِبَعْضِ الْکِتَابِ وَ نکْفُرُ بِبَعْضٍ ( یعنی ہم کتاب کا بعض حکم تو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں) یا یہ معنی ہیں کہ جن حقوق کی بستگی کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جیسے رحم و قرابت وغیرہ وہ اس کی قطع و برید کرتے ہیں۔
وَيُفْسِدُوْنَ فِى الْاَرْضِ ( اور ملک میں فساد پھیلاتے ہیں) فساد پھیلانے سے مراد قرآن پاک اور رسول اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور کھیتی و مویشی کا تباہ کرنا ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ ( یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں) نقصان و خسارہ میں اس لیے پڑے کہ انہوں نے صلاح و رشد و ہدایت کے بدلے گمراہی و فساد کو مول لیا۔ جب حق تعالیٰ نے آیات سابقہ میں کفار کے اوصاف کو خوب کھول کر بیان فرمایا اور ان کے ہذیان و بکواس کو نقل کیا ( تو یہ بات بھی اچھی طرح پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ یہ اپنے منعم حقیقی کے حق سے بالکل غافل ہیں اور انہیں اس کی طرف بالکل توجہ نہیں) تو حق تعالیٰ انہیں آگے صنعت التفات کے طور پر استفہام انکاری سے خطاب فرما کر جتلاتا ہے کہ یہ کفرو سرکشی جن حالات میں تم کر رہے ہو وہ کسی طرح مقتضی نہیں کہ کفر و ناشکری کی جائے چناچہ جو حالات آدمی پر وارد ہوتے ہیں مثلاً اوّل محض لاشئے ہونا پھر زندہ ہونا۔ اس کے بعد مرنا اور پھر زندہ ہونا اور پھر جناب باری کی طرف لوٹ کر جانا اور اس کے علاوہ دیگر احوال و انقلابات جو قادر مطلق کی طرف سے وارد ہوتے ہیں یہ سب صاف صاف بول رہے ہیں کہ ایسے قادر، رحیم ومالک الملک پر ایمان لانا ضروری و واجب ہے اور کفران نعمت کسی طرح اور کسی حال میں زیبا نہیں ذیل کی آیت میں ان کے کفر و انکار پر ایک زبردست دھمکی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے :
Ayah 2:28كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ( تم کیونکہ خدا کا انکار کرسکتے ہو حالانکہ تم بےجان تھے پھر اسی نے تم میں جان ڈالی پھر وہی تمہیں مارتا ہے پھر وہی تمہیں (قیامت میں دوبارہ جلائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) یعنی باوجود اسکے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر بےانتہا دلائل ہیں پھر کیونکر انکار کرسکتے ہو۔ اَمْوَاتًا سے مراد عناصر غذائیں، اخلاط اور نطفے، خون بستہ، گوشت کے ٹکڑے اور جسم بلا روح ہے ( کیونکہ جان پڑنے سے پہلے آدمی ان ہی اشیاء میں سے کوئی شئے ہوگا۔
جاننا چاہئے کہ انسان دس چیزوں سے مرکب ہے پانچ عالم خلق سے یعنی چار تو عناصر ( پانی، آگ، ہوا، خاک، پانچواں نفس حیوانی جو اربعہ عناصر سے ہی پیدا ہوتا ہے اور پانچ) عالم امر سے قلب، روح، سر، خفی، اخفی ( اوّل کے پانچ جز تو ظاہر ہی ہیں دلیل کی حاجت نہیں) آخر الذکر پانچ بھی جسے فراست صحیحہ اسلامیہ ہو اس پر مخفی نہیں اس آیۃ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان جملہ اجزاء میں سے عناصر اربعہ خصوصاً خاک زیادہ مہتم بالشان ہے۔ اسی لیے حق تعالیٰ نے منجملہ اور اجزاء کے اس خاک کو خاص کرکے فرمایا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍیعنی اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور اس لیے کافر یعنی شیطان (قیامت کے دن جبکہ اس طائر قفس خاکی کے مراتب اور درجات دیکھئے گا تو بےاختیار بول اٹھے گا : یَا لَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا (اے کاش میں مٹی ہوتا) اور اسی وجہ سے منجملہ انواع مخلوق کے یہ حضرت انسان ہی حق تعالیٰ کی رویت کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اور اسی یے وہ مشاہدہ قلبیہ کو رستہ کی پڑی ہوئی چیز جیسی خیال کرتے ہیں۔ فَاَحْیَاکُم پھر اسی نے تم میں جان ڈالی یعنی پھر تمہیں عالم امر کے عناصر خمسہ مذکورہ کے ساتھ ترکیب دے کے زندہ کیا اور فا کے ساتھ عطف اس لیے فرمایا کہ زندہ کرنے اور اس موت میں جو عناصر کو لازم ہے کوئی مدت فاصل نہیں ہے ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ پھر تمہیں مدت گذر جانے کے بعد مارتا ہے (یہاں ثم کے ساتھ اس لیے عطف کیا کہ یہ موت عمر کے ختم ہونے پر ظہور میں آتی ہے) بےجان ہونے کو نعمتوں میں سے اس لیے شمار کیا کہ نیست سے ہست ہونا نعمت اور خبر مخض ہے کیونکہ اس میں وجودِحقیقی سے مشابہت ہے اور پھر موت کو جو عمر کے اختتام پر واقع ہوتی ہے اس لیے انعامات میں سے گنا کہ وہ ابدی حیات تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔ ثُمَّ یُحْیِیْکُمْ یعنی جس دن صور پھونکا جائے گا تو پھر تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ قبر میں حیات نہ ہوگی کیونکہ حیات دس اجزاء مذکورہ کی ترکیب کا نام ہے اور یہ ظاہر ہے کہ قبر میں یہ اجزاء مجتمع نہ ہونگے اس لیے وہاں زندگی متصور نہیں ہوسکتی۔ ( رہی یہ بات کہ جب قبر میں حیات نہ ہوگی تو ثواب و عذاب کیسے ہوگا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے لیے خاصہ اس حیات کا ہونا ضروری نہیں ہے) ثواب و عقاب اجزاء بسیط پر بھی ہوسکتا ہے اور جو بندہ اللہ تعالیٰ کی ان آیات پر ایمان رکھتا ہے اسے تو عذاب قبر کے انکار کی گنجائش ہی نہیں چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَ لٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ ( ایسی کوئی چیز نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو مگر تم لوگ اس کی تسبیح نہیں سمجھتے) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدً لَہٗ مَنِْ فی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ وَکَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِکیا تو نے نہیں دیکھا ( اے مخاطب) کہ اللہ کو سجدہ کرتے ہیں جو آسمانوں اور جو زمین میں ہیں اور سورج، چاند، ستارے اور پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے آدمی) اور حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ کا نام لے کر پکارتا اور دریافت کرتا ہے کہ تجھ پر کوئی اللہ کا یاد کرنے والا بھی آیا ہے ؟ وہ اگر جواب دیتا ہے کہ ہاں آیا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ اس حدیث کو طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اِنَّا عَرَضْنَا الْاََمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَحْمِلْنَھَا وَاَشْفَقْنَ مِنْھَا ( ہم نے دکھائی امانت (تکلیف شرعیہ) آسمان اور زمین اور پہاڑوں کو پھر سب نے ( ازراہ عجز) قبول نہ کیا کہ اسے اٹھائیں اور اس سے گھبرا گئے۔ ) یہ بات ظاہر ہے کہ ان نصوص میں تسبیح سجود زبان حال اور دلالت حال سے مراد نہیں کیونکہ یہ جو فرمایا ہے کہ تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے اور دوسرے مقام پر فرمادیا کہ بہت سے لوگ بھی سجدہ کرتے ہیں تو یہ دونوں مضمون اس تاویل کا بڑے زور سے انکار کر رہے ہیں۔ 1 ( بلکہ قطعاً حقیقی سجود اور حقیقی تسبیح مراد ہے) ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجِعُوْنَیعنی حشر کے بعد پھر اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہارے اعمال کی تم کو جزا دے گا۔ یعقوب کی قرأت تمام قرآن میں تَرْجِعُوْناور یَرْجِعُوْنَ بفتح تادیا معروف کے صیغہ سے ہے یہ آیت مدنیہ ہے اس میں کفار یہود اور منافقوں کو خطاب ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہود حشر و نشر کے معتقد و معترف تھے ( کہ اہل کتاب ہیں (تو اب یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ مخاطب تو حشر و نشر کے قائل نہیں پھر یہ آیت ان پر کس طرح حجت ہوسکتی ہے) ایک طرح منکرین بعث کو بھی خطاب ہوسکتا ہے یا تو اس طرح کہ ان کے انکار کو بوجہ دلائل کثیرہ صدق رسول اللہ ﷺ بمنزلہ عدم ٹھہرا کر خطاب کہا گیا ہے ( جیسا کہ بلاغت کا قاعدہ ہے) اور یا اس طریق سے کہ اللہ تعالیٰ کو اس طرف اشارہ فرمانا منظور ہے کہ جس قادرمطلق نے تمہیں عدم محض سے موجود کردیا ہے وہ دوسری دفعہ زندہ کرنے پر تو بطریق اولیٰ قادر ہے۔