Ayah 2:165وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا ( اور بعض لوگ ہیں کہ بناتے ہیں خدا کے سوا شریک) اَنْدَادًا سے مراد یا تو بت ہیں اور یا وہ رؤساء ہیں جن کی اطاعت میں کفار کو دین کی بالکل پرواہ نہ تھی اور یا ہر وہ چیز مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روک دے خواہ وہ کچھ بھی ہو۔
يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ ( محبت رکھتے ہیں مثل اللہ کی محبت کے) یعنی ان کی ایسی تعظیم اور اطاعت کرتے ہیں جس طرح اللہ کی تعظیم کرتے ہیں محبت اور اطاعت میں اللہ تعالیٰ کو اور ان کو برابر کرتے ہیں یا یہ معنی کہ اپنے معبودوں سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے کہ مؤمنین اللہ تعالیٰ سے کرتے ہیں زجاج نے کہا ہے کہ محبت لغت میں میلان قلب کو کہتے ہیں۔
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ ( اور جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو ان سے زیادہ اللہ کی محبت ہے) یعنی جس قدر کافر اپنے معبودوں سے محبت رکھتے ہیں مؤمن اللہ تعالیٰ کو اس سے زیادہ چاہتے ہیں کیونکہ مؤمنین کی محبت تو کبھی منقطع نہیں ہوگی خواہ کچھ ہو خوشی ہو یا رنج ہو کشائش ہو یا تنگی ہو بخلاف کفار کی محبت کے کہ ان کی محبت اپنی غرض کی ہے اور وہ غرض بھی موہوم اس لیے وہ ایک ادنیٰ بات میں جاتی رہتی ہے اور اسی واسطے شدائد اور مصائب میں اپنے معبودوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آج ایک بت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو کل اس کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرلیتے ہیں۔
سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو بتوں کی محبت میں گھل گئے اور اپنی جان کو اسی دھن میں تباہ کردیا امر فرمائیں گے کہ اگر تمہیں ان کی سچی محبت ہے تو ان کے ساتھ جہنم میں جاؤ وہ صاف انکار کریں گے اور ہرگز نہ جائیں گے پھر اللہ تعالیٰ اپنے عشاق اور دلدادوں سے کافروں کے روبرو فرمائے گا کہ اگر تم میرے دوست ہو تو جہنم میں جاؤ وہ یہ حکم سنتے ہی سب کے سب جہنم میں کود پڑیں گے اس کے بعد ایک منادی ندا کرے گا والَّذِیْن اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا ﷲِ ۔ (1) [ اور جو لوگ ایمان والے ہیں ان کو ان سے زیادہ اللہ کی محبت ہے۔ 12]
میں کہتا ہوں کہ آیت کے معنی یوں بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا میں جس کو جس سے محبت ہے اس سے زیادہ مؤمنو کو اللہ کی محبت ہے کیونکہ جو محبت غیر اللہ سے ہوتی ہے وہ کسی نہ کسی سبب اور واسطہ پر مبنی ہوتی ہے یا تو اس سے کسی منفعت کی توقع ہوتی ہے یا کسی مضرت کے دفع کرنے کی امید یا اس کے جمال سے لذت حاصل کرنے کی وجہ یا اپنے سے کوئی تعلق نسبی ہوتا ہے مثلاً بیٹا ہے یا باپ تو غیر اللہ سے محبت فی الحقیقۃ اپنے سے محبت ہے اس محبوب سے محبت نہیں چناچہ یہ وسائط اگر زائل ہوجاتے ہیں تو محبت بھی جاتی رہتی ہے اور اللہ کی محبت ان سب سے پاک ہے اس لیے وہ باقی رہتی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
اس کے بعد جاننا چاہئے کہ کفار کی نظر صرف دنیوی منافع اور لذائذ پر ہے اور اللہ سبحانہ ٗ کا وجود برائے نام جانتے ہیں اور اپنے منافع اور مضار کو بندوں یا ستاروں یا اور اشیاء موہومہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور اسی لیے انہیں مثل خدا کے یا اس سے بھی زیادہ چاہتے ہیں اور جو لوگ اہل اھواء میں سے مدعی اسلام ہیں جیسے معتزلہ روافض اور خوارج انہیں بھی اللہ تعالیٰ سے اور چیزوں سے زیادہ محبت ہے کیونکہ اخروی منافع اور مضار کا انہیں اعتقاد ہے اور اس کے معترف ہیں کہ جزاء کے دن کا مالک اللہ واحد قہار ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ کو غیر اللہ سے زیادہ چاہتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ دنیا کا نفع نقصان تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ہی لیکن ابد الآباد تک اللہ تعالیٰ سے ہی معاملہ رہے گا یہ حال تو ان میں سے ان لوگوں کا ہے جو دیندار اور متبع ہیں اور جو ان میں دنیا دار ہیں وہ تو اسلام سے بالکل ہی خارج ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں اوروں کو شریک کرتے ہیں 2 اس وجہ سے کہ محبت کا مدار نفع اور ضرر پر ہے اور وہ بندوں کو نافع اور ضار سمجھتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اعتقاد ہے کہ بندوں کے افعال اللہ تعالیٰ کے پیداء کئے ہوئے نہیں بلکہ بندے خود اپنے افعال کے خالق ہیں وہ تو فلاسفہ کی نجاسات میں واقع ہو کر مشرکین کے ہم پلہ ہوگئے اب رہے اہلسنّت والجماعت ان کو سوائے اللہ کے اور کسی شئ کی محبت نہیں کیونکہ ان کا اعتقاد یہ ہے کہ بندوں کے افعال کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کو نفع و ضرر پہنچانے والا سمجھتے ہیں اور جیسے یہ لوگ غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے اسی طرح حمد بھی غیر اللہ کی نہیں کرتے۔ اسی طرح ان کا بغض اور حب اور سب افعال اللہ ہی کے لیے ہیں اگر کسی دوسرے کی مدح وغیرہ کریں گے تو مجازاً اور ظاہراً ہوگی۔ لیکن یہ محبت اور بغض ان کا اپنی دینی غرض کے لیے ہے خالص اللہ کی رضا مندی کے لیے نہیں ہے۔ مثلاً اس خیال سے عبادت کرتے ہیں کہ اگر ہم محبت اور اطاعت نہ کریں گے تو اللہ ہم کو جہنم میں جھونک دے گا یہ تو عام اہل سنت کی حالت ہے اور جو محققین اہل سنت ہیں اور وہ صوفیہ کرام (رح) ہیں ان کا مسلک یہ ہے کہ جو محبت کسی خوف یا دینی یا دنیوی طمع پر مبنی ہو وہ محبت ہی نہیں ان کا قول ہے کہ محبت کی آگ جب محب کے دل میں شعلہ مارتی ہے تو وہ سوائے محبوب حقیقی کے کسی کو بھی نہیں چھوڑتی حتیٰ کہ خود اپنا نفس بھی محب کی نظر میں نہیں رہتا نفع اور ضرر اور ماسوا تو کہاں اس کا تو یہ حال ہوجاتا ہے کہ اگر محبوب حقیقی کی طرف سے یہ سوال ہو ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْءًا مَّذْکُوْرًا یعنی کیا انسان پر کوئی ایسا وقت آیا ہے کہ اس میں وہ کوئی شے قابل ذکر نہیں تھا۔ تو وہ زبان حال سے جواب دیتا ہے نعَمْ رَبِّ قَدْ اتَٰی عَلَی الْاِنْسَانِ مُسْتَمِرٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْءًا مَّذْکُوْرًا وَ لَا مَحْطُوْرًا یعنی اے اللہ ہاں بیشک انسان پر ایک وقت کیا بلکہ ایک زمانہ دراز ایسا گذرا ہے کہ وہ کوئی شے قابل ذکر نہ تھا بلکہ دل میں اس کا خیال بھی نہ گذرتا تھا ( یعنی مرتبہ فنا کو پہنچ گیا تھا۔ ماسوا اللہ تعالیٰ کوئی شئ حتیٰ کہ اپنا وجود بھی پیش نظر نہ تھا اور اس کی وجہ اور راز یہ ہے کہ عوام کے نزدیک سب سے زیادہ قریب شے ان کا نفس ہے اس لیے وہ اپنے نفس کو چاہتے ہیں اور اللہ کی محبت بھی اگر ہوتی ہے تو وہ بھی اپنے نفس کے لیے ( مثلاً اس واسطے کہ اگر ہم عبادت کریں گے تو وہاں راحت و آرام ہوگا) اور محققین یہ سمجھتے اور جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہم سے خود ہمارے نفس سے بھی زیادہ قرب ہے۔ چناچہ فرماتا ہے : وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْکُمْ وَلٰکِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ ( یعنی ہم اس سے تمہاری نسبتزیادہ قریب ہیں لیکن اے عام لوگو ! تمہیں نظر نہیں آتا) اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اپن جان کو بھی نہیں چاہتے اور اپنے نفس کو بھی اللہ تعالیٰ کے لیے ہی چاہتے ہیں اور اسی طرح ہر محبوب شئ سے اللہ ہی کے لیے محبت کرتے ہیں تو سچی محبت اور ذاتی الفت ان ہی لوگوں کو ہے اور سچ تو یہ ہے کہ محبت میں سچے لوگ یہی لوگ ہیں اور جب اس پاک گروہ کو اللہ کی محبت اس درجہ ہوتی ہے کہ ہر شے سے محبت اللہ ہی کے واسطے ہوجائے تو اس وقت محبوب کا ستانا بھی ان کے نزدیک انعام سے کم نہیں ہوتا بلکہ ستانے میں انعام کی نسبت اور زیادہ لطف آتا ہے کیونکہ اس میں اخلاص خوب ظاہر ہوتا ہے بخلاف انعام کے کہ اس میں اس قدر اخلاص مترشح نہیں ہوتا (کیونکہ مثل مشہور ہے جس کا کھائے اس کا گائے) اور قیامت کے روز ان لوگوں کو علی الاعلان کفار کے روبرو حکم دیا جائے گا کہ اگر تم میرے دوست ہو تو جہنم میں داخل ہوجاؤ وہ سنتے ہی اس میں گھس جائیں گے اس وقت عرش کے نیچے ایک پکار نے والا پکارے گا۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُ حُبًّا ﷲِ تو یہ ان ہی لوگوں کی ہمت ہے کہ جلتی آگ میں کود پڑیں گے رہے وہ لوگ جو اللہ کی عبادت جہنم کے خوف اور جنت کی امید پر کرتے ہیں تو وہ اللہ کی رضا مندی کے لیے دیدۂ و دانستہ آگ کو ہرگز اختیار نہ کریں گے یہ تو اسی سے ہوسکتا ہے جس کو اللہ سبحانہ ٗ و تعالیٰ کے ساتھ معیت اور قرب ذاتی ہو اور بار امانت کا حامل ہو۔
وَلَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْٓا ( اور اگر کوئی دیکھے ان لوگوں کو جو ظالم ہیں) نافع ابن عامر اور یعقوب نے تری تاء سے پڑھا ہے اس صورت میں یا تو نبی ﷺ مخاطب ہوں گے یا ہر شخص کی طرف کلام کا رخ ہوگا اور مفعول تَرٰی کا اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ہوگا اور دیگر قراء نے یَرٰی یا سے پڑھا ہے اس تقدیر پر یَرٰی کا فاعل یا تو ضمیر واحد غائب ہوگی جو سامع کی طرف راجع ہے اور یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ہوگا۔ ظَلَمُوْا میں ظلم سے اللہ کا شریک ٹھہرانا اور ان سے اللہ کی سی محبت کرنا مراد ہے اور ظَلَمُوْا کا مفعول اَنْفُسَھُمْ ہے یعنی جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ ( جبکہ دیکھیں گے وہ عذاب) ابن عامر نے یُرَوْنَصیغہ مجہول سے بضم یاء پڑھا ہے اور باقی قراء نے فتحہ سے جواب لو محذوف ہے۔ اگر تَرٰی کی بصیغہ حاضر قراءت کی جائے تو جواب لَرَاَیْتَ اَمْرًا فَظِیھعًا (دیکھیں گے آپ ایک امر ہولناک) نکالا جائے گا اور یَرٰی بصیغہ غائب لیا جائے تو جواب لَنَدَمُوْا نَدَامَۃ شدیدۃً ( بیشک سخت نادم ہوں گے) مقدر مان لیا جائے گا اور لو کا جواب حذف کردینے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اگر لو کسی ایسے امر پر آیا ہے کہ اس کی طرف قلب کو میلان اور شوق ہو تو جواب حذف کرنے سے کمال شوق مترشح ہوتا ہے اور اگر کسی امر خوفناک پر آیا ہے تو کمال خوف مستفاد ہوتا ہے کیونکہ حذف میں تعیین تو ہوتی نہیں جو چاہے جواب مقدر کرلیا جائے تو حذف کرنا گویا اس کو بتلا رہا ہے کہ یہ امر ایسا ہے کہ اگر واقع ہو تو سب کچھ ہو بخلاف زکر کردینے کے کہ اس میں تعیین ہوجاتی ہے ( مثلاً ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ ” اگر زید آتا “ تو مطلب یہ ہوا کہ اگر زید آتا تو کیا پوچھتے ہو کیا ہوتا غضب ہوجاتا یا بہت اچھا ہوتا لَوْ اور اِذ دونوں ماضی پر آتے ہیں یہاں مستقبل پر اس لیے آئے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں تو مستقبل بھی مثل ماضی کے ہے جیسے ماضی کا وقوع یقینی ہوتا ہے اسی طرح اللہ کے نزدیک مستقبل کا وقوع بھی یقینی ہے۔
اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا ۙ وَّاَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ ( تو بڑے خوف کا وقت دیکھیں اس لیے کہ ہر طرح کی قوت اللہ ہی کو ہے اور بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے) اَنَّ الْقُوَّۃَ ...... پر لام حرف جر مقدر ہے اور جار مجرور مل کر جواب مقدر کے متعلق ہیں ابو جعفر اور یعقوب نے اَنَّ الْقُوَّۃَ اور اِنَّ اللہ میں اِنَّ کو ہمزہ کے کسرہ سے پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہ دونوں سوالمقدر کے جواب ہوں گے گویا کوئی سائل سوال کرتا ہے کہ مضمون بالا کی کیا وجہ ہے تو جواباً ارشاد ہے کہ قوت اللہ کو ہے ..... اور اس صورت میں کلام اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَپرتمام ہوجائے گا یَرٰی بصیغہ واحد غائب کی قرات پر یہ ترکیب بھی ہوسکتی ہے کہ یری فعل قلب ہو اور اَلَّذِینَ ظَلَمُوْا اس کا فاعل قراردیا جائے اور اَنَّ الْقُوَّۃ ...... کو قائم مقام دو مفعول کے ٹھہرایا جائے اور اس تقدیر پر یا تو آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ اگر ظالم عذاب اور مصائب دنیوی دیکھتے وقت یہ جانتے کہ تمام قوت اللہ ہی کو ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ضار اور نافع ہے اور بندوں کے افعال اسی کی مشیت اور قدرت سے صادر ہوتے ہیں اور یہ جانتے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب سخت ہے اور یہ جانتے کہ جس کو اللہ تعالیٰ دینا چاہئے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو نہ دے اس کو کوئی دینے والا نہیں اور اس کی قضا کا کوئی رد کرنے والا نہیں جیسا کہ یہ سب باتیں مؤمنین جانتے ہیں تو ہر گز اللہ کا شریک نہ ٹھہراتے اور نہ غیر اللہ سے محبت کرتے اور یا معنی یوں ہوں گے کہ اگر یہ ظلم کرنے والے قیامت کے دن عذاب دیکھنے کے وقت یہ بات جانیں گے کہ تمام قوت اللہ تعالیٰ کو ہے تو سخت نادم ہوں گے اور ممکن ہے کہ اَنَّ الْقُوَّۃَ ﷲِ جَمِیْعًا کا جواب ہو اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے کہ اگر ظلم کرنے والے اپنے معبودوں کو دیکھتے کہ یہ کچھ نفع و ضرر دینے والے نہیں تو جان لیتے کہ تمام قوت اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔
Ayah 2:166اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَرَاَوُا الْعَذَابَ ( یاد کرو اس وقت کو کہ) ( جب اگل 1 ہوجائیں گے وہ سردار جن کی پیروی کی گئی تھی ان لوگوں سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور دیکھیں گے عذاب) اِذْ تَبَرَّا یا تو بتقدیر اذکر منصوب ہے اور یا اِذْ یَرَوْنَسے بدل ہے وَرَا وُ العَذَاب میں واؤ حالیہ ہے اور قد اس پر سے مقدر ہے اور یا واؤ عطف کا ہے اور عطف تَبَرَّا پر ہے اسی طرح وَ تَقَطَّعَتْ میں بھی دونوں احتمال ہیں اور یہ بیزاری و علیحدگی قیامت میں اس وقت ہوگی جب اللہ تعالیٰ سرداروں کو اور ان کے تابعین کو ایک جگہ جمع فرمائے گا اور بعض نے کہا اس سے اس طرف اشارہ ہے کہ شیطان آدمیوں سے بیزاری و علیحدگی چاہیں گے۔
وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْـبَابُ ( اور ٹوٹ جائیں گے ان سے سب تعلقات) یعنی دنیا میں محبت کے جو اسباب ان کے درمیان تھے مثلاً کسی کو نفع کی توقع ہے کسی کو دفع ضرر کی تمنا ہے قیامت کو وہ سب اسببا جاتے رہیں گے۔ سبب اصل میں اس ذریعہ قرابت یا دوستی کو کہتے ہیں جس سے کوئی شئ دوسری شئ سے ملے اور اسی واسطے رسی کو اور راہ کو سبب کہتے ہیں کہ وہ بھی ایک شئ سے ملنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔
Ayah 2:167وَقَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ ( اور کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے اتباع کیا تھا کہ اے کاش ہم کو ایک بار لوٹ جانا ملے تو الگ ہوجائیں ہم بھی ان سے) فَنَتبرا جواب لوْ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے کیونکہ لَوْ یہاں بمعنی لَیْتَ ہے۔
كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا ۭ كَذٰلِكَ يُرِيْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَيْهِمْ ( جیسے یہ الگ ہوگئے آج ہم سے اس طرح دکھائے گا اللہ انہیں ان کے عمل ان کے افسوس دلانے کو) یَرَیاگر افعال قلوب سے ہو تو حَسَرَاتٍ اسکا تیسرا مفعول ہوجائے گا ورنہ حال ہوگا پیغمبروں کا اتباع اور نیک کام کو چھوڑنے اور اپنے اوقات کو بےہودہ ضائع کرنے پر تو کفار کو ندامت اور شرمندگی ہوگی اور اللہ کی نافرمانی اور دنیاکو دین پر ترجیح دینے سے حسرت اور افسوس ہوگا۔
سدی نے کہا ہے کہ کفار اگر اللہ کی اطاعت کرتے اور اس اطاعت پر ان کو جو درجات جنت میں ملتے وہ قیامت کو ان کے سامنے پیش کئے جائیں گے اور کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ و رسول کی اطاعت کرتے تو تمہیں یہ درجے ملتے پھر ان کے سامنے ہی وہ سب درجے مؤمنین کو تقسیم کردیئے جائیں گے تو اس واقعہ سے بہت نادم ہوں گے اور حسرت و افسوس کرکے روئیں گے پیٹیں گے۔
وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِ ( اور وہ کبھی دوزخ سے نہ نکلیں گے) وَ مَا ھم بخارجین اصل میں مَا یَخْرُجُوْنَ تھا جملہ فعلیہ سے جملہ اسمیہ اس لیے بنا لیا گیا کہ بطور مبالغہ یہ سمجھاجائے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور اس لیے کہ نجات اور خلاصی اپنے سے بالکل مایوس ہوجائیں جملہ فعلیہ میں اتنا مبالغہ نہیں۔
Ayah 2:168يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ ( اے لوگو ! کھاؤ ان چیزوں میں سے جو زمین میں ہیں) جب قبائل ثقیف و خزاعہ و عامر بن صعصعہ و بنی مدلج نے اپنے اوپر بہت سی چیزیں جیسے حرث اور انعام اور بحیرہ اور سائبہ و حام و وصیلہ وغیرہ حرام کرلیے تو آیت : یَاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا الخ نازل ہوئی۔
حَلٰلًا طَيِّبًا (حلال اور ستھری) حَلالاً یا تو کُلُوا کا مفعول ہے یا مَا فِی الاْرض سے حال ہے اور مِمَّا فِی الاْرَْضِمیں مِن تبعیضیہ ہے جس کو شارع نے منع کیا ہو وہ حلال ہے کیونکہ اصل ہر شئے میں حلت ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہے : خَلَقَ لَکُم مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ( یعنی پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب)
وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ( اور نہ چلو شیطان کے قدموں پر) یعنی شیطان کی پیروی کرکے خواہش میں مت پڑو اور حلال کو حرام اور حرام کو حلال نہ بناؤ۔ ابو جعفر ابن عامر کسائی حفص اور یعقوب نے خطوات کو بضم طاء پڑھا ہے اور دیگر قراء نے طاء کو ساکن کرکے پڑھا ہے ضمہ طاء کے ساتھ ہو یا سکون کیساتھ ہر حال پر یہ لفظ خطوۃ کی جمع ہے اور خُطَوَۃٌ چلنے والے دونوں قدموں کی درمیانی مسافت کا نام ہے۔ یہاں خطوات سے مراد شیطانی راستے ہیں۔
اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ( بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے) مُبِیْنٌ کے یا تو یہ معنی کہ اس کی عداوت اہل بصیرت کے نزدیک بہت ظاہر ہے اگرچہ بظاہر جس کو بہکاتا ہے اس سے دوستی جتاتا ہے اور اس دوستی جتانے ہی کے سبب آیت : اَوْلِیَآءُ ھُمُ الطَّاغُوْتُ میں اس کو ولی ( دوست) سے تعبیر کیا ہے اور یہ معنی کہ عداوت کو ظاہر کرنے والا ہے چناچہ آدم کے سجدہ کرنے سے صاف انکار کر گیا اور ان کو جنت سے نکلوایا اور قسم کھائی کہ آدم ( علیہ السلام) کی اولاد کو بہکاؤں گا۔ اَبَانَ ( ظاہ کیا) لازم و متعدی دونوں آتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ شیطان کی عداوت کو بیان فرماتا ہے۔
Ayah 2:169اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بالسُّوْۗءِ وَالْفَحْشَاۗءِ (بس وہ تم کو برائی اور بےحیائی کا حکم کرتا ہے) سُوء اصل میں اس شے کو کہتے ہیں جو آدمی کو غمگین کرنے والی ہو فَحْشَاءُ بَاسَاء کے وزن پر مصدر ہے۔ سُوء اور فحشاء دونوں سے مراد گناہ ہے وصف کے اختلاف سے ایک کا دوسرے پر عطف کردیا گیا چناچہ گناہ سوء بھی ہے اس لیے کہ عاقل اس سے مغموم ہوتا ہے اور فحشاء بھی کہا ہے کیونکہ آدمی اسے قبیح سمجھتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ سوء سے مطلق گناہ مراد ہے اور فحشاء سے کبیرہ۔ بعض نے کہا کہ جس میں عد واجب ہوتی ہو وہ گناہ مراد ہیں۔ شیطان کے حکم کرنے کے یہ معنی کہ برائی کا وسوسہ ڈالتا ہے اور اس وسوسہ ڈالنے سے یہ لازم نہیں آتا۔ کہ اسے غلبہ بھی حاصل ہو غلبہ تو اسے اس کے متبعین کے سوا اور کسی پر ہوتا ہی نہیں۔
جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابلیس علیہ اللعنۃ اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے لشکر کے لوگوں کو بہکانے کے لیے بھیجتا ہے اس کے یہاں ادنیٰ ادنیٰ مرتبہ کے شیطان بھی عالم میں بڑے بڑے فتنے پھیلادیتے ہیں چناچہ جب وہ بہکا کر آتے ہیں تو ہر ایک اپنی اپنی کارگذاری بیان کرتا ہے ایک کہتا ہے کہ میں نے آج فلاں برا کام کرادیا ابلیس کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا پھر ایک اور آتا ہے وہ کہتا ہے میں نے بہت بڑا کام کیا ہے ایک شخص اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دی ابلیس سن کر خوب خوش ہوتا ہے اور اس کو مقرب بناتا ہے اور کہتا ہے تو نے خوب کام کیا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے اندر شیطان کا بھی اثر ہے اور فرشتہ کا بھی۔ شیطان کا اثر تو یہ ہے کہ شر کا وعدہ دلاتا اور حق کی تکذیب کرتا ہے اور فرشتہ کا اثر یہ ہے کہ بھلائی کا وعدہ دلاتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا ہے تو جو شخص ملکوتی خیال اپنے جی میں پائے تو جانے کہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی حمد کرے اور جو برائی کا وسوسہ آئے تو شیطان کے مکر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ پھر حضور ﷺ نے آیت : اَلشَّیْطَانُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرُ وَ یَامُرُکُمْ بالْفَحْشَاءِ ( شیطان تم سے فقر کا وعدہ کرتا ہے اور تم کو برائی کا حکم کرتا ہے) تلاوت فرمائی۔ ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ شیطان کے امر کو وسوسہ ہی پر ٹالا اس حدیث کو ابو داود نے روایت کیا ہے۔
وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ( اور اس بات کا کہ اللہ پر بہتان باندھوجو تم نہیں جانتے) وَ اَنْ تَقولوا کا عطف بالسوء پر ہے اور محلاً مجرور ہے۔ ما لا تَعْلَمُوْنَ یعنی جس کی خبر نہیں وہ اللہ پر باندھنے لگو مثلاً اللہ تعالیٰ نے کھیتی چوپائے اور سانڈھ وغیرہ حرام نہیں فرمائے تم اپنی طرف سے حرام ٹھہراؤ۔
Ayah 2:170وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ( اور جب کہا جاتا ہے ان ( یہود) سے کہ چلو اس پر جو خدا نے اتارا ہے) یہاں سے نیا قصہ شروع ہوا ہے۔ لَھم میں اضمار قبل الذکر ہے۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود کو اسلام کی عوت دی اور جنت کی رغبت دلائی اور عذاب سے ڈرایا تو رافع بن حریملہ یہودی اور مالک بن عوف یہودی نے کہا کہ اے محمد ﷺ ہم آپ کا اتباع نہ کریں گے بلکہ جس پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے اسی پر چلیں گے۔ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ عالم اور ہم سے اچھے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا ..... نازل فرمائی مَا انَْزَلَ اللہ سے مراد یا تو قرآن ہے یا تورات ہے کیونکہ تورات بھی محمد ﷺ کے اتباع ہی کا حکم کرتی ہے بعض نے کہا کہ یہ آیت عرب کے مشرکین اور کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ میں ضمیر ھُمُ النَّاس کی طرف راجع ہے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ یَاَیُّھَا النَّاسُ کُلُوْا میں جو النَّاس ہے اس کی طرف راجع ہے۔ یہود کو صیغہ خطاب سے ذکر فرمانے کی یہ وجہ ہے کہ ان کی گمراہی کا سب کو علم ہوجائے کسی پر ان کی حماقت مخفی نہ رہے۔ گویا عقلاء کی طرف متوجہ ہو کر فرما رہے ہیں کہ ان احمقوں کو ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ جب انہیں ٹھیک بات بتلائی تو کیا جواب دیتے ہیں۔
قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ ( تو کہتے ہیں ( نہیں) بلکہ چلیں گے ہم) کسائی نے بل نَتَّبِعُ میں لام کو نون میں ادغام کرکے پڑھا ہے۔ کیونکہ کسائی ھل اور بل کے لام کو ان حروف میں ادغام کرتے ہیں وہ حرف یہ ہیں تاء، ثا، ذا، سین، طا، ظا، ضاد، نون جیسے ھل تعلم، ھل ثوب، بل زین، بل سولت، بل طبع، بل ظننتم، بل ضلوا، ھل ندلکم، ھل نُنَبِّءُکُم، ھَلْ نحن وغیرھا اور حمزہ صرف تا ثا سین میں ادغام کرتے ہیں اور ھل طبع، میں خلاد سے مختلف روایتیں ہیں اور ہشام نون اور صاد میں اظہار کرتے ہیں اور ھل تسوی کی تاء میں سورة رعد میں اظہار کرتے ہیں اور باقی اور مقامات پر ادغام کرتے ہیں اور ابو عمرو ھل ترٰی مِنْ فُطُوْر سورة ملک میں اور فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ سورة حاقہ میں ادغام کرتے ہیں اور ان کے سواء اور قراء آٹھوں حرفوں میں ادغام نہیں کرتے اظہار کرتے ہیں۔
مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَاۗءَنَا ( اس پر کہ جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے) اس سے مراد یا تو اتباع تورات ہے اور یا بعض اشیاء حرام کو حلال سمجھنا اور بعض حلال کو حرام سمجھنا۔
اَوَلَوْ كَانَ اٰبَاۗؤُھُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَـيْــــًٔـا وَّلَا يَهْتَدُوْنَ ( بھلا اگر ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ سمجھتے ہوں اور نہ راہ راست پر چلتے ہوں) واؤ اصل میں ہے تو عطف کے لیے لیکن اَوَ لَو کَان میں کہتے ہیں کہ واو تعجب کا ہے اور اس پر ہمزہ استفہام کا تو بیخ کے لیے ہے تقدیر عبارت کی یہ ہے : اَیَتَّبِعُوْنَ اٰبَاءَھُمْ لَوْ کَانَ اٰبَآءُ ھُم یَعْقِلُوْن وَ لَوْ کَانَ اٰبَآءُ ھُم لَا یَعْقِلُوْنَ (کیا اپنے باپ دادا کا اتباع کریں گے چاہے باپ دادے ان کے سمجھتے ہوں یا نہ سمجھتے ہوں) صدر جملہ حذف کردیا گیا یہ جملہ ترکیب میں حال ہے لفظ شیئاً تحت میں نفی کے آکر عام ہوگیا ہے تو مقتضی اس کا یہ ہے کہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں مگر وہ تو بہت سی باتیں سمجھتے تھے۔ اسلئے یہاں ایک قید کا لحاظ کیا جائے گا یعنی دینی اموربالکل نہیں سمجھتے۔ گرچہ دنیا کے دھندے سمجھتے ہیں اگر کوئی یہ کہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی تو یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے باپ دادا کچھ نہ سمجھتے ہوں کیونکہ وہ تو تورات کے متبع تھے تو جواب اس کا یہ ہے کہ وہ تورات کے ہرگز مطیع نہ تھے اگر وہ تورات پر عمل کرتے تو عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آتے۔ یا یوں کہا جائے کہ یہ کلام بطور تعریض کے ہے اور حاصل یہ ہے کہ یہود نے شاید اپنے باپ دادوں کو تورات کی تحریف کرتے ہوئے پایا ہوگا۔ اسی واسطے یہ خود بھی تحریف کرتے ہیں۔ اگر ان کو تورات کا متبع پاتے تو یہ خود اسلام کے طالب اور منتظر ہوتے نہ کہ مخالف ( جیسے کوئی بڑا کام کرے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تمہارے باپ دادا بھی ایسے ہی ہونگے)
Ayah 2:171وَمَثَلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِيْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ اِلَّا دُعَاۗءً وَّنِدَاۗءً ( اور مثال ان لوگوں کی کہ کافر ہیں اس شخص کی سی ہے جو چلاّ چلاّ کر ایسی شئ کو پکار رہا ہے جو کچھ بھی سوائے پکارنے کے اور چلاّ نے کے نہیں سنتے) نعق اور اسی طرح نعیق چرواہے کے بکریوں پر چلاّ نے اور آواز دینے کو کہتے ہیں اگر یہ آیت بت پرستوں کے بارے میں ہو تب تو سہل ہے کچھ تاویل و توجیہ کی ضرورت نہیں حاصل یہ ہوگا کہ بتوں کو پکارنے اور ان سے حاجت طلب کرنے کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی جانوروں کو پکارے کہ وہ سوائے آواز سننے کے خاک بھی نہیں سمجھتے۔ اس تقدیر پر یہ آیت مضمون میں آیت لایَسْمَعُوْا دُعَاءَکُمْ وَ لَوْ سَمِعُوْا وَ مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ ( نہیں سنتے ہیں وہ پکار تمہاری اور اگر سنیں تو جواب نہ دیں گے) کے قریب قریب ہوجائے گی اور یہ تمثیل تمثیل مرکب ہوگی ( یعنی ہر جزو مثال کا ممثل لہٗ کے ہر جزو کے مشابہ ہونا ضرور نہ ہوگا۔ بلکہ صرف تشبیہ پکار کے فضول اور بےفائدہ ہونے میں ہوگی) اور اِلّا دعاء و نداء سے بھی کچھ فساد تشبیہ میں لازم نہ آئے گا ( فساد یہ تھا کہ کوئی کہہ سکتا تھا کہ بت جو ممثل لہٗ ہیں ان میں یہ امر کہاں پایا جاتا ہے کہ آواز سنتے ہوں وہ تو آواز سننے سے بھی معراء ہیں) اور اگر اس آیت کو یہود کے بارے میں کہا جائے تو اس وقت معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ اے محمد ﷺ آپ جو ان کو اسلام کی طرف دعوت فرماتے ہیں اور وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کی اقتداء کرتے ہیں تو اس جواب کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بہائم کو آواز دے یعنی جیسے بہائم کو آواز دینا بالکل مہمل اور بےسود اور حماقت ہے اسی طرح ان کا یہ جواب مہمل اور غیر مقبول ہے اور یا اس آیت میں کفار کو بہائم سے تشبیہ دینا منظور ہے۔ اس تقدیر پر تاویل کی ضرورت ہوگی اور وہ تاویل یہ ہے کہ یا تو وَ مَثَلُ الَّذیِْنَ سے پہلے وَ مثَلُکَ مقدر مانا جائے اور یا مشبہ یعنی الَّذِیْن کَفَرُوْا سے پہلے مضاف محذوف مانا جائے اور تقدیر یہ قرار دی جائے وَ مِثَِلُ دَاعِی الَّذِیْنَ کَفرُوا ..... معنی آیت کے پہلی صورت میں یہ ہوں گے کہ محمد ﷺ آپ ﷺ کی اور کافروں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بہائم کو آواز دے یعنی آپ تو گویا مثل آواز دینے والے کے ہیں اور یہ کفار مثل بہائم کے ہیں اور دوسری صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ جو شخص کفار کو اسلام کی طرف بلاتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی جانوروں کو پکارے یا یہ توجیہ کی جائے کہ اَلَّذِیْ ینعقُ سے پکارنے والا مراد نہ لیا جائے بلکہ جس کو پکارا گیا ہے یعنی بہائم وغیرہ مراد لئے جائیں اور ایسا استعمال کلام عرب میں شائع ہے کلام کو بدل لیتے ہیں چناچہ بولتے ہیں فُلَانٌ یَّخَافُکَ خَوْفَ الْاَسَدِ لفظوں کے اعتبار سے معنی یہ ہیں کہ فلاں شخص تجھ سے ایسا ڈرتا ہے جیسے شیر ڈرتا ہے اور مراد یہ ہے کہ ایسا ڈرتا ہے جیسے شیر سے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اِنَّ مفَاتِحَہٗ لَتَنُو بالْعُصْبَۃِ لفظی معنی یہ ہیں کہ کنجیاں اس کی بیشک تھک جاتی تھیں جماعت سے اور مراد یہ ہے کہ ایک جماعت اس کی کنجیوں سے تھک جاتی تھی۔
اس تقدیر پر حاصل یہ ہے کہ کافر اپنے باپ دادا کی تقلید کے ایسے پیچھے پڑے ہیں کہ جو احکام ان کو سنائے جاتے ہیں ان پر کان نہیں دھرتے اور ان میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے بہائم کی سی حالت ہے کہ انکو خواہ کتنا ہی آواز دو آواز سننے کے سوا اور کچھ نہیں سمجھتے۔ یا یہ معنی ہوں گے کہ یہ یہود اپنے باپ دادا کا اتباع تو کرتے ہیں لیکن ان کو ان کے حقیقت حال کی خبر نہیں جیسے بہائم ہوتے ہیں کہ آواز سنتے ہیں اور سمجھتے نہیں ان کے باپ دادا کا تو یہ حال تھا کہ تورات کے منسوخ ہونے سے پہلے تورات کے بتلائے ہوئے احکام کا اتباع تو کرتے تھے اور محمد ﷺ اور قرآن کا انتظار کرتے تھے اور ان کی یہ حالت ہے کہ دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم تورات کا اتباع کرتے ہیں لیکن واقع میں اس کی مخالفت کرتے ہیں تورات تو بتلا رہی ہے کہ قرآن اور محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور یہ اس کا صاف انکار کررہے ہیں۔
ۻ بُكْمٌ عُمْيٌ ( بہرے، گونگے، اندھے ہیں) صُمُّ بُکْم۔۔ مرفوع علی الزام ہے ( یعنی اس سے پہلے فعل ذُمَّ (مذمت کے گئے) مقدر مانا جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کافر آیات کو فکر سے نہیں سنتے اس لیے بہرے ہیں اور نہ کلمات خیر ان کی زبان سے نکلتے ہیں اس لیے گونگے ہیں اور ہدایت کو دیکھتے نہیں اس وجہ سے اندھے ہیں۔
فَهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ( سو وہ کچھ نہیں سمجھتے) یعنی چونکہ ان کی فکر و نظر میں خلل واقع ہوگیا ہے اس لیے دین کی بات کو سمجھتے نہیں۔ اوّل حق تعالیٰ نے لذیذ اور حلال نعمتیں کھانے کا حکم فرمایا اب اس کے بعد حلال کھانے کی غایت اور غرض یعنی شکر کرنے کا امر فرماتے ہیں لیکن چونکہ اس امر اور اس کی غایت میں اور مضامین بھی درمیان میں آگئے تھے اس لیے اس امر کو پھر اعادہ فرماتے ہیں اور چونکہ شکر قابل اعتبار اہل ایمان کا ہے اس لیے یہاں یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا۔۔ سے خطاب فرماتے ہیں۔
Ayah 2:172يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ( اے ایمان والو ہم نے جو تم کو رزق دیا ہے اس میں سے کھاؤ حلال اور ستھری چیزیں) ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود پاک ہیں اس لیے پاکیزہ ہی چیز کو قبول کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو حلال کھانے کا حکم فرمایا جیسا کہ پیغمبروں کو بھی یہی حکم فرمایا ہے۔ چناچہ دوسری جگہ ارشاد ہے : یَاَیُّھَا الرُّسُلُ کُلُوْا مِنْ ﷲَ الطَیِّبَاتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا ( اے پیغمبر و ! حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو) اور فرمایا : یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتٍ مَا رَزَقْنٰکُمْ پھر فرمایا کہ آدمی سفر طویل کرتا ہے اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتا ہے اور بال پریشان اور غبار آلود ہیں یعنی سامان قبولیت دعا کے سارے مجتمع ہیں لیکن اسکا کھانا پینا اور پہننا سب حرام ہے اور حرام رزق سے اس کی غذا ہے پھر دعا کیسے قبول ہو۔
وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ ( اور شکر کرو اللہ کا اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو) مطلب یہ ہے کہ اگر تم خاص اللہ ہی کی پرستش کرنے والے ہو اور اسی کو مولاجانتے ہو تو اس کا شکر کرو۔ کیونکہ عبادت کی تکمیل بغیر شکر کے نہیں۔ سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا جن و انس کے ساتھ ایک بہت بڑا حیرت ناک واقعہ ہے وہ یہ ہے کہ ان کو پیدا تو میں کرتا ہوں اور وہ غیر کی عبادت کرتے ہیں اور میں رزق دیتا ہوں اور وہ اوروں کا شکر کرتے ہیں اس حدیث کو طبرانی نے نے مسندات شامیین میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں اور دیلمی نے ابو الدرداء ؓ سے روایت کیا ہے۔
Ayah 2:173اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ ( بس اس نے تو حرام کیا ہے تم پر مردار) ابو جعفر نے المیتۃ کو تمام قرآن میں تشدید سے پڑھا ہے اور قراء نے بعض مواقع میں مشدد پڑھا ہے اور بعض میں نہیں ہم انشاء اللہ عنقریب مفصلاً ذکر کریں گے اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ لفظ انّما (سوائے اس کے نہیں) مفید حصر کو ہے تو معلوم ہوا کہ اللہ نے سوائے مردار اور خون کے اور کوئی شے حرام نہیں فرمائی۔ حالانکہ سینکڑوں چیزیں حرام ہیں تو جواب یہ ہے کہ حنفیہ کے نزدیک کوفہ کے نحویوں کا قول مختار اور پسندیدہ ہے اور ان کے نزدیک لفظ انما حصر کے لیے نہیں بلکہ یہ لفظ اِنّ حرف تحقیق اور مَا کافہ سے مرکب ہے اور اگر بالفرض حصر کے موافق آیت کا ترجمہ کیا جائے اور انما کو حصر ہی کے لیے رکھا جائے تو یہ حصرحقیقی نہیں بلکہ اضافی ہے یعنی ان چیزوں کے اعتبار سے حصر ہے جن کو کفار نے اپنی طرف سے حرام کرلیا تھا جیسے بحیرہ و سائبہ و وصیلہ وحام وغیرہ واللہ اعلم۔
میتہ اس جاندار کو کہتے ہیں جو بغیر ذبح کئے مرجائے مگر اس میں اتنی قید اور ہے کہ ذبح ہونے کی اس میں شرعاً قابلیت بھی ہو اب اس کے موافق مچھلی اور مری ہوئی ٹڈی میتہ سے نکل جائیں گے یا تو یہ توجیہ کی جائے کہ تعریف میتہ میں تو ان کو داخل رکھا جائے لیکن یہ کہا جائے کہ حدیث نے ان کی تخصیص کردی ہے چناچہ ابن ماجہ اور حاکم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے لیے دو مردار اور دو خون حلال کردیئے گئے۔ مردار تو مچھلی اور ٹڈی اور خون جگر اور تلی اور اسی طرح جو گوشت زندہ جانور سے علیحدہ کرلیا جائے وہ بھی بحکم حدیث مردار کے حکم میں ہے۔ چناچہ ابوداؤد اور ترمذی نے ابی واقد لیثی (رح) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو گوشت زندہ جانور سے کاٹ لیا جائے وہ مردار ہے۔ علماء نے اس پر اجماع کیا ہے کہ مردار کی بیع و شرا اس کی قیمت کھانا اور اس کی چربی اور کھال سے بغیر دباغت کے نفع اٹھانا جملہ امور ناجائز ہیں۔
چنانچہ صحیحین میں حضرت جابر ؓ سے مروی ہے انہوں نے جس سال مکہ فتح ہو اتھا رسول اللہ سے مکہ میں سنا ہے کہ آپ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے شراب اور مردار اور سور اور بتوں کی بیع کو حرام فرما دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ مردار کی چربی کا کیا حکم ہے لوگ تو کشتیوں میں پالش کرتے ہیں اور کھالوں میں اس کا روغن لگاتے اور روشنی سے اس کی منتفع ہوتے ہیں فرمایا سب حرام ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ یہود کو خدا کھودے اللہ تعالیٰ نے ان پر مردار کی چربی حرام فرمائی تھی انہوں نے اس کو پگھلا کر اس کی خریدو فروخت کی اور اس کی قیمت کھائی۔ نیز حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خدا یہود کو کھودے ان پر مردار کی چربی حرام ہوئی انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کردیا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور امام شافعی و احمد اور چاروں اصحاب سنن نے عبد اللہ بن حکیم سے روایت کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا اس مضمون کا خط آیا کہ آگاہ رہو مردار کی غیر مدبوغ کھال اور اس کے پٹھے سے فائدہ اندوز نہ ہو۔ ابو داوٗد نے اپنی روایت میں اتنا اور زیادہ کیا ہے کہ یہ واقعہ آپ کی وفات سے ایک ماہ پیشتر کا ہے اور امام احمد کی روایت میں ایک ماہ یا دو ماہ پہلے آیا ہے۔ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مردار کے کسی جزو سے نفع نہ لو۔ اس حدیث کو ابوبکر شافعی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند حسن ہے۔
اور ابو داؤد و نسائی و حاکم نے حضرت اسامہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھال سے منع فرمایا ہے۔ حاکم نے اتنا بڑھایا ہے کہ درندوں کی کھال کو فرش بنانے سے منع فرمایا ہے اور معاویہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے چیتوں کی کھال پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے اور احمد و نسائی نے مقدام بن معدی کرب ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم اور سونے اور چیتوں کی کھال کے تکیوں سے منع فرمایا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کپڑے میں چیتے کی کھال ہو فرشتے اس سے علیحدہ رہتے ہیں اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ آیا مردار کی کھال سے بعد دباغت کے بھی منتفع ہونا جائز ہے یا نہیں ؟ ابوحنیفہ (رح) اور شافعی کا تو یہ مسلک ہے کہ دباغت کے بعد کھال پاک ہوجاتی ہے اس سے نفع اٹھانا بھی جائز ہے اور اس کی بیع بھی جائز اور امام احمد اور مالک (رح) عدم جواز کے قائل ہیں ہماری دلیل مندرجہ ذیل احادیث ہیں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک مری ہوئی بکری کی طرف سے گذر ہوا فرمایا تم اس کی جلد کو کام میں کیوں نہ لائے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو مردار ہے فرمایا اس کا کھانا حرام ہے کیا یہ کھال پانی اور قرط سے پاک نہ ہوجاتی ( قرط ایک دوا ہے جس سے کھالوں کو دباغت دیتے ہیں) اور بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا گوشت حرام ہے اور جلد کی اجازت ہے۔ دار قطنی (رح) نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سب سندیں صحیح ہیں۔
اور نیز ابن عباس ؓ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے جو کھال دباغت دی جائے وہ پاک ہوجاتی ہے اور اسی مضمون کی اوروں سے بھی احادیث مروی ہیں چناچہ حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دباغت ہر کھال کو پاک کرنے والی ہے۔ نیز حضرت عائشہ ؓ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امر فرمایا ہے کہ کھالوں کو جب دباغت دے دیا جائے تو اس سے منتفع ہوا کریں۔ حضرت سودہ ؓ سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگئی تھی ہم نے اس کی کھال کو دباغت دیدی اور مالکیہ اور امام احمد (رح) کی دلیل وہ حدیث ہیں جس میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مردار کے جزو سے منتفع ہونا جائز نہیں اور کہتے ہیں کہ آخری قول رسول اللہ ﷺ کا یہی ہے۔ کیونکہ عبد اللہ بن حکیم کی حدیث میں مصرح ہے کہ ہمارے پاس حضور ﷺ کا خط اس مضمون کا وفات سے ایک ماہ یا دو ماہ پیشتر آیا کہ مردار کے کچے چمڑے اور پٹھے سے نفع حاصل نہ کرو ہماری طرف سے مالکیہ اور امام احمد (رح) کو یہ جواب ہے کہ عبد اللہ بن حکیم کی حدیث کی سند اور متن مضطرب ہے اس لیے ہم نے جو صحیح صحیح حدیثیں پیش کی ہیں ان کے مزاحم نہیں ہوسکتی اور پھر دوسری بات یہ ہے کہ عبد اللہ بن حکیم کی حدیث میں لفظ اھاب مروی بے اور اھاب کچے چمڑے کو کہتے ہیں۔ کچے چمڑے سے ہمارے نزدیک منتفع ہونا جائز نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ عبداللہ بن حکیم کی حدیث اوسط میں طبرانی اور ابن عدی کے نزدیک اس مضمون کی ہے کہ ہم جہینہ کی زمین میں تھے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے تحریر فرمایا کہ میں تم کو مردار کی کھال کے بارے میں اجازت دے چکا تھا مگر اب لکھتا ہوں کہ مردار کی کھال اور پٹھے سے نفع حاصل نہ کرو تو اس سے تو صریح عدم جواز معلوم ہوتا ہے نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ آخری قول آپ کا یہی ہے تو جواب اس کا یہ ہے کہ اس کی سند میں فضالہ بن مفضل راوی ہے اور ابو حاتم رازی نے اس کی نسبت کہا ہے کہ وہ اسکا اہل نہیں ہے کہ اہل علم اس سے حدیث لکھیں۔ مردار کے بال ہڈی پٹھے سینگ اور سم میں علماء کا اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ جملہ اشیاء پاک ہیں ان کی بیع اور انتفاع دونوں جائز ہیں امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ناپاک ہیں امام احمد ومالک (رح) بال کو پاک فرماتے اور باقی چیزوں کو ناپاک کہتے ہیں۔ شافعی و احمد ومالک (رح) تینوں حضرات کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مردار کے کسی جزو سے انتفاع حلال نہیں اور امام شافعی (رح) بالوں کی نجاست کے لیے حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ناخن اور خون اور بالوں کو دفن کردیا کرو کہ یہ سب مردار ہیں حنفیہ کی طرف سے ان حضرات ثلٰثہ کو یہ جواب دیا جاتا ہے کہ دوسری حدیث کی سند میں ہم کلام کرتے ہیں کیونکہ اس میں ایک راوی عبد اللہ بن عزیز ہے اور اس کی نسبت ابو حاتم رازی نے یہ کہا ہے کہ اس کی احادیث منکر ہوتی ہیں اور میرے نزدیک پایہ صدق پر بھی نہیں پہنچیں اور علی بن حسین ؓ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن عزیز کچھ نہیں اس لیے ہم اس سے جھوٹی احادیث نہیں لیتے اور رہی پہلی حدیث سوا اس کی سند میں بھی کلام ہے اور قطع نظر اس کے ایک صحیح حدیث کے معارض ہے اور وہ صحیح حدیث ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مردار کا صرف کھانا حرام ہے چناچہ بتمامہ اسے ہم پہلے نقل کرچکے ہیں اور جس قدر سندیں اس حدیث اوّل کی ہیں سب منکر ہیں اس لیے قابل اعتماد نہیں ہماری دلیل ایک اور حدیث ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف مردار کا گوشت کھانا منع فرمایا ہے۔ باقی جلد اور بال اور اون میں کیا برائی ہے لیکن اس کی سند بھی مخدوش ہے کیونکہ اس میں عبد الجبار ( راوی ضعیف ہے اگرچہ ابن حبان نے اسے ثقات میں شمار کیا ہے۔ نیز ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ مردار کا وہ حصہ جو کھایا جاتا ہے وہ تو حرام ہے باقی جلد بال صوف ودانت استخوان سب سے انتفاع حلال ہے لیکن اس کی سند بھی خالی از نظر نہیں اس میں ابوبکر ہذلی راوی متروک ہے غندر نے اس کی نسبت کذاب کا لفظ کہا ہے اور یحییٰ بن معین اور علی نے کہا ہے کہ ابوبکر ہذلی کچھ نہیں اور ثوبان ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ ؓ کے لیے ایک ہار عصب کا اور دو کنگن ہاتھی کے دانت کے خرید فرمائے اس کی سند بھی نقش برآب ہے کیونکہ حمید اور سلیمان دونوں مجہول راوی ہیں اب ہمارا استدلال ذیل کے آثار سے ہے کہ جو بخاری نے تعلیقاً لکھے ہیں زہری (رح) نے مردار کی ہڈی جیسے ہاتھی دانت وغیرہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ میں نے علماء سلف کو ہاتھی دانت کے کنگھے سے بال درست کرتے اور ہاتھی دانت کی پیالی وغیرہ میں تیل لگاتے دیکھا ہے اس میں وہ کچھ حرج نہ جانتے تھے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ زہری کے سلف یا تو صحابہ ؓ ہیں یا بڑے بڑے تابعین ہیں اس تقدیر پر یہ فعل صحابہ ؓ اور تابعین کا ہوا پھر اس کے جواز میں کیا کلام رہا۔ حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ مردار کے پروں سے نفع مند ہونے میں کچھ ہرج نہیں، ابن سیرین اور ابراہیم نے کہا ہے کہ ہاتھی دانت کی تجارت میں کچھ برائی نہیں۔ واللہ اعلم
وَالدَّمَ ( اور خون) اس سے سب کے نزدیک اَوْ دَمًَا مَسفوحًا کی موافقت کی وجہ سے بہتا خون مراد ہے۔
وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ ( اور سور کا گوشت) سور بالاتفاق نجس العین ہے اس کے اجزاء کی حتیٰ کہ بالوں کی بیع وغیرہ بھی جائز نہیں قرآن پاک میں صرف گوشت کی اس لیے تخصیص فرمائی کہ حیوان سے بڑا مقصود گوشت ہی ہے اور باقی اجزاء تو مثل تابع کے ہیں۔ خنزیر کے نجس العین ہونے پر آیت : فَاِنَّہٗ رِجْسٌصاف دال ہے اور اس کی مفصل تفسیر مع مالہٗ و ما علیہ کے انشاء اللہ تعالیٰ سورة انعام میں آئے گی خنزیر کے بالوں سے نفع حاصل کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) و امام مالک (رح) تو اس سے جو تے و مشک بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔ امام شافعی حرام فرماتے ہیں اور امام احمد کراہت کے قائل ہیں۔ اگر سور کا بال قلیل پانی میں گرپڑے تو امام ابو یوسف کے نزدیک پانی نجس ہوجائے گا۔ امام محمد فرماتے ہیں کہ نجس نہ ہوگا کیونکہ انتفاع کی اجازت پاکی کی دلیل ہے اور امام ابو یوسف اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہ اجازت ضرورت کے وقت ہے اور ضرورت کا ظہور حالت استعمال میں ہوتا ہے پانی میں گرنا اور شؤ ہے اور استعمال اور شؤ ہے ہدایہ میں ایسا ہی مذکور ہے فقیہ ابو اللیث کہتے ہیں کہ اگر سور کے بال خریدنے سے ہی ملتے ہوں تو خریدنا جائز ہے ابن ہمام نے کہا ہے کہ سینا حد ضرورت سے خارج ہے اور شے سے بھی سی سکتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ابن سیرین خنزیر کے بالوں کا سلاموزہ نہیں پہنتے تھے ابن ہمام کہتے ہیں کہ اس کے موافق نہ اس کی بیع جائز اور نہ انتفاع جائز ہے۔
وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ۚ (اور جس پر پکارا گیا اللہ کے غیر کا نام) ربیع بن انس فرماتے ہیں کہ مراد اس سے وہ جانور ہے کہ جس کے ذبح کے وقت غیر اللہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ اھلال اصل میں ہلال ( پہلی رات کا چاند) دیکھنے کو کہتے ہیں چناچہ بولتے ہیں اہل الہلال یعنی دیکھا چاند چونکہ چاند دیکھنے کے وقت لوگ بلند آواز سے تکبیر کہا کرتے ہیں اس لیے مطلق آواز بلند کرنے کو اہلال کہنے لگے اور کفار کی یہ عادت تھی کہ جب اپنے معبودوں کے لیے ذبح کرتے تو ان معبودوں کا بآواز بلند ذکر کرتے تھے۔ پھر اس فعل نے اس قدر شہرت پائی کہ ہر ذبح کرنے والے کو مہلٌّ ( آواز بلند کرنے والا) کہنے لگے اور جس جانور پر بسم اللہ پڑھنی سہواً یا قصداً ترک کردی جائے اس کا ذکر انشاء اللہ ہم سورة انعام میں کریں گے۔
فَمَنِ اضْطُرَّ ( جو کوئی نا چار ہوجائے) عاصم اور ابو عمرو اور حمزہ نے فَمَنِ اضطُرَّ اور اَنِ اعْبُدُوا اللہ اور انِ احْکُمْ اور وَ لٰکِنِ انْظُر اور اَنِ اغْدُوْا میں نو ن کو مکسور پڑھا ہے اور لَقَدِ اسْتُھْزِءَ کی دال کو اور قالَتِ اخْرُجْ کی تاء کو اور فَتِیْلَانِ انْظُرْ اور مُبِیْنَانِ اقْتُلُوْا کی تنوین کو جب دوسرے ساکن کے بعد ضمہ لازم ہو اور ہمزہ وصل کی ابتداء ضمہ سے ہو مکسور پڑھا ہے اور ابن عامر تنوین کی صورت میں اتفاق کرتے ہیں اور اسی طرح قلِ ادْعُوْا اللہ کے لام کو اور اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ کے واؤ کو عاصم اور حمزہ نے مکسور پڑھا ہے اور لام کی صورت میں یعقوب بھی موافق ہیں اور باقی قراء نے تمام الفاظ مذکورہ میں فعل اوّل کو ضمہ سے پڑھا ہے اور ابو جعفر نے فَمَنِ اضْطُرَّ کی طاء کو نون کے کسرہ کی وجہ سے مکسور پڑھا ہے حاصل آیت کا یہ ہے کہ جس کو بھوک کی شدت یا کسی کے زبردستی کرنے سے چارونا چار مردار یا خون یا سور کا گوشت کھانا پڑے۔ اس کے لیے کھانا ان چیزوں کا حلال ہے اور یہ مسئلہ متفق علیہا ہے۔
غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ ( کہ نہ خلاف کرنے والا اور نہ حد سے بڑھنے والا) ترکیب میں حال واقع ہوا ہے معنی یہ ہیں کہ ان چیزوں کو صرف جان بچانے کے لیے کھایالذت اور خواہش کا طالب ہو کر نہیں کھایا اور نہ قدر ضرورت سے زیادہ کھایا یہاں سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ مضطر کو جان بچانے کی قدر کھانا جائز ہے اور زیادہ کی اجازت نہیں اور شافعی (رح) کے ایک قول کے موافق سیر ہو کر کھانا بھی جائز ہے اور یہی قول امام مالک کا ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت کے موافق یہی منقول ہے اور راجح امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ ہے کہ اگر یہ توقع ہو کر حلال قریب مل جائے گا تب تو سوائے جان بچانے کے زیادہ کھانا جائز نہیں اور اگر امید نہ ہو تو اس کے لیے سیر ہونا اور کچھ ساتھ توشہ کے طور پر لے لینا بھی جائز ہے بعض شافعیہ نے غَیْرَ بَاغٍ وَ لَا عَادٍ کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ ضرورت کے وقت ان چیزوں کو کھایا مگر حاکم سے بغاوت نہیں کی اور نہ راہ زنی اور فساد کیا۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب یہی ہے کہ جو گناہ کی نیت سے سفر کرتا ہو اس کو ضرورت کے وقت بھی مردار وغیرہ کھانے کی اجازت نہیں اور جس قدر مسافر کے لیے سہولت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے وہ بھی اسے بلا تو بہ کیے جائز نہیں۔ صاحب معالم التنزیل علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ اور مجاہد اور سعید بن جبیر کا بھی یہی مسلک ہے۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ باغٍ اور عادٍ میں بغی ( خلاف حکم کرنا) اور عدوان ( حد سے متجاوز ہونا) سے کھانے میں بےحکمی کرنا اور حد سے متجاوز ہونا مراد ہے اور مقاتل بن حبان نے کہا ہے کہ باغ کے معنی ” حلال سمجھنے والا “ اور عادٍ کے معنی طلب حال میں کوتاہی کرنے والا “ ہیں۔
فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ( تو اس پر کچھ گناہ نہیں) یعنی اضطرار کی حالت میں ان چیزوں کے کھانے سے کچھ گناہ نہیں۔
اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( بیشک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے) یعنی جو کچھ مجبوری کی حالت میں کھالیا اللہ تعالیٰ اسے بخشنے والا ہے اور ان اشیاء کے کھانے کی اجازت دے دی اس لیے رحم کرنے والا ہے یہ آیت اس پر دال ہے کہ مضطر اگر مردار نہ کھائے اور مرجائے تو اس پر کچھ گناہ نہیں کیونکہ مجبوری اور نا چاری میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دیدی اور مباح فرما دیا ہے واجب نہیں فرمایا اور امام شافعی (رح) کا یہی مذہب ہے اور ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر مرجائے گا اور نہ کھائے گا تو گنہگار ہوگا اس لیے کھانا واجب ہے اور دلیل ان کی یہ آیت ہے : و قد فصل لکم ما حرم علیکم الا ما ضطررتم الیہ ( یعنی جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے اس کو خوب بیان کردیا گیا ہے مگر جس وقت مجبور ہوجاؤ اس کی جانب) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حرام چیزوں سے ناچاری اور مجبوری کی حالت کی شئ کو استثناء فرما دیا ہے تو اس سے استثناء شدہ چیز مباح ثابت ہوئی اور یہ مسلم ہے کہ اگر ہلاکت کا خوف ہو تو مباح چیز کا کھانا واجب ہے اسلئے میتہ وغیرہ کا اضطرار کے وقت کھانا واجب ہے۔ رہی یہ بات کہ اسکو رخصت کیوں کہتے ہیں تو یہ اطلاق مجاز ہے ورنہ واقع میں وہ واجب ہے۔
Ayah 2:174اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ ( بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں وہ آیتیں کہ اتاریں اللہ نے۔ کتاب میں ما انزل اللہ سے مراد تورات کی وہ آیتیں ہیں جو محمد ﷺ کی شان میں وارد ہوئی ہیں۔ اس آیت کا شان نزول اس طرح ہوا تھا کہ یہود کے رؤسا اور علماء بےچارے غریب لوگوں سے طرح طرح کے ہدایا اور کھانے پینے کی چیزیں لیا کرتے تھے اور جی میں یہ سمجھتے تھے کہ نبی آخر الزماں ہم لوگوں میں سے ہوں گے جب جناب سرور عالم ﷺ ان میں مبعوث نہ ہوئے تو اب یہ ڈرے کہ اگر ہم نے آپ کا اتباع کرلیا تو یہ ساری آمدنی ہاتھ سے جاتی رہے گی اس لیے انہوں نے یہ بےہودگی کی کہ آپ کی صفت کو بدل ڈالا پھر وہ صفت عوام کے روبرو بیان کی تو وہ صفت حضور کی صفات سے مخالفت و مغائر پائی اس لیے آپ کا اتباع نہ کیا۔ علامہ بغوی نے اسی طرح ذکر کیا ہے اور ایسے ہی ثعلبی نے ابو صالح سے انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اور آل عمران کی آیت دونوں یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
وَيَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَـمَنًا قَلِيْلًا ( اور لیتے ہیں اس کے بدلہ کچھ مول) ثمناً قلیلاً سے مراد دنیاوی اغراض ہیں اور قلیل انہیں اس لیے فرمایا کہ اگرچہ فی نفسہٖ وہ بہت ہیں لیکن آخرت کے ثواب کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ مَا يَاْكُلُوْنَ فِيْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ ( یہ نہیں کھاتے مگر پیٹ بھر کر آگ) الا النار میں نار سے مرادرشوت اور حرام ہے کیونکہ یہ نار ( آگ) تک پہنچانے والی ہے یہ اس لیے نار فرمایا کہ آخر کار آخرت میں یہ چیزیں نار ( آگ) ہوجائیں گی یا یہ معنی کہ آخرت میں یہ لوگ نار کے سوا کچھ نہ کھائیں گے۔
وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ( اور بات بھی نہ کرے گا ان سے اللہ قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کے کلام نہ کرنے سے یا تو یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام رحمت نہ فرمائیں گے یا کلام کے حقیقی معنے مراد نہ لیے جائیں بلکہ یہ کہا جائے کہ مراد کلام نہ کرنے سے اللہ تعالیٰ کا غضب ہے نعوذ باللہ من غضب اللہ۔
وَلَا يُزَكِّيْهِمْ ( اور نہ ان کو پاک کرے گا) اس سے یا تو یہ مراد کہ اللہ تعالیٰ انکی مدح و ثنا نہ کرے گا اور یا یہ مطلب کہ اللہ تعالیٰ انہیں گناہوں کی نجاست سے پاک نہ کرے گا بخلاف مؤمنوں کے کہ اگر ان کو عذاب بھی کرے گا تو یہ ان کو گناہوں سے پاک کرنے اور ان کو جنت میں داخل کرنے کے لیے ہوگا۔
وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ( اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے)
Ayah 2:175اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بالْهُدٰى وَالْعَذَاب بالْمَغْفِرَةِ ( یہی ہیں جنہوں نے خریدی گمراہی ہدایت کے بدلے اور قہر مہر کے بدلے۔۔ ) یعنی یہ لوگ حق بات کو اپنی اغراض فاسدہ کی وجہ سے مخفی رکھ کر سود مند نہ ہوئے ہر طرح سے خسارہ ہی خسارہ میں رہے دنیا میں تو یہ خسارہ کہ ہدایت کی دولت چھوڑ کر چاہ ضلالت میں گرگئے اور آخرت کا یہ نقصان کہ مغفرت سے روگردانی کرکے عذاب دائمی میں گرفتار ہوئے۔
فَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ ( سو کس قدر سہار ہے ان کو آگ کی) یہ مؤمنوں کے تعجب دلانے کے لیے فرمایا۔ حاصل یہ ہے کہ اے مؤمنوں دیکھو تو یہ لوگ کیسے جرأت سے جہنم میں جانے کے اسباب کو جان بوجھ کر اختیار کر رہے ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جہنم کی آگ پر بڑا صبر ہے۔