Ayah 2:124وَاِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ ( اور یاد کرو) جب آزمایا ابراہیم کو اس کے پروردگار نے چند باتوں میں) ہشام نے اس تمام سورت میں ابراہیم کو ابراھام پڑھا ہے اور اس سورت میں ابراہیم پندرہ جگہ ہے اور سورة نساء میں تین مقام پر اور سورة انعام میں ایک بار آخر میں اور سورة توبہ کے آخر میں دو جگہ اور سورة ابراہیم میں ایک جگہ اور سورة نحل میں دو جگہ اور مریم میں تین جگہ اور عنکبوت میں ایک جگہ اور شوریٰ میں ایک جگہ اور ذاریات میں ایک جگہ اور نجم میں ایک جگہ اور حدید میں ایک جگہ اور ممتحنہ میں ایک جگہ۔ ان کل تینتیس مقام پر ہشام نے ابراہام پڑھا ہے اور تمام قرآن شریف میں ابراہیم اٹھتر جگہ ہے اور ذکوان نے خاص سورة بقر میں ابرام اور ابراھام دونوں طرح پڑھا ہے باقی قراء نے ابراہیم کو سب جگہ ی سے پڑھا ہے ابتلاء کے اصلی معنی کسی امر شاق کی تکلیف دینے کے ہیں یہ بلا سے مشتق ہے تکلیف دینا آزمائش کو مستلزم ہوتا ہے اکثر یہ گمان ہوتا ہے کہ ابتلا اور اختبار ( آزمانا) دونوں مترادف ہیں اور کلمات سے مراد ان کے مدلول یعنی مضمون مراد ہیں، خودکلمات مراد نہیں اور مضمون یہی امرو نہی ہے۔ عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کلمات سے مراد تیس خصلتیں ہیں کہ وہ سب اسلام کے شرائع ہیں کسی نے سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کے انہیں پورا نہیں کیا اور اسی واسطے ان کے لیے جہنم کی آگ سے برأت لکھی گئی چناچہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے آزمائش میں پورے اترنے کو اس طرح تعبیر فرمایا : وَ اِبْرَھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ( ابراہیم جس نے پورا کیا) اب ہم ان تیس خصلتوں کو مفصل بیان کرتے ہیں۔ دس سورة برأۃ میں ہیں : التَّاءِبُوْنَ الْعَابِدُوْنَ الْحَامِدُوْنَ السَّاءِحُوْنَ الرَّاکِعُوْنَ السَّاجِدُوْن الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحَافِظُوْنَ لِحُدُود اللّٰہِ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ( یعنی یہ لوگ توبہ کرنے والے عبادت گزار ثنا کرنے والے اللہ کی راہ میں سفر کرنے والے رکوع سجدہ کرنے والے نیک کام کو کہنے والے اور برے کام سے منع کرنے والے اور تھامنے والے اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کے ہیں اور مردہ سناوے مسلمانوں کوا ور دس سورة احزاب میں ہیں : اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِیْنَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِیْنَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِیْنَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّاءِمِیْنَ وَالصَّاءِمَاتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَھُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَالذَّاکِرَات یعنی بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایماندار مرد اور ایماندار عورتیں اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابرہ عورتیں اور عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور پنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں اور دس سورة مؤمنون اور سَاَلَ سَآءِلٌُ میں ہیں۔
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِی صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ للزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰءِکَ ھُمُ الْعَادُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانَاتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلیٰ صلٰوتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ الَّذِیْنَ ھُم عَلٰی صَلٰوتِھِمْ دَآءِمُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ اَمْوَالِھِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ للسَّاءِلِ وَالْمحْرُوْم وَالَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ وَالَّذِیْنَ ھُمْ مِنْ عَذَابِ رَبِّھِمْ مُشْفِقُوْنَ اِنَّ عَذَابَ رَبِّھِمْ غَیرُمَامُوْنٍ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حَافِظُوْنَ اِلَّا عَلٰی اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْں فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاءَ ذٰلِکَ فَاُوْلٰءِکَ الْعَادُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمَانَتِھِمْ وَ عَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ وَالَّذِیْن ھُمْ بِشَھَادَاتِھِمْ قَآءِمُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صلوٰتِھِمْ یُحَافِظُوْنَ
(ترجمہ) اپنی مراد کو پہنچ گئے ایمان والے کہ جو اپنی نماز میں عاجزی کرتے ہیں اور جو نکمی بات سے منہ موڑتے ہیں اور جو زکوٰۃ دیا کرتے ہیں اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیبیوں سے یا اپنے ہاتھ کے مال ( یعنی لونڈیوں) سے کہ ( ن میں) ان پر کچھ ملامت نہیں پھر جو طلب کرے اس کے علاوہ تو وہی لوگ حد سے بڑھ جانے والے ہیں اور جو اپنی امانتوں کا اور اپنے عہد کا پاس ملحوظ رکھتے ہیں اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں جو اپنی نماز پر ہمیشہ قائم ہیں اور جن کے مال میں حصہ ٹھہرا ہوا ہے سائل کا اور حاجتمند کم سوال کا اور جو یقین رکھتے ہیں روز جزاء کا اور جو اپنے پروردگار کے عذاب سے خائف ہیں بیشک ان کے پروردگار کا عذاب نڈر ہونے کی چیز نہیں اور وہ لوگ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں یا اپنے ہاتھ کے مال 1 سے تو ان پر کچھ ملامت نہیں پھر جو کوئی طلبگار ہو اس کے سوائے اور کار تو وہی لوگ حد سے باہر نکلنے والے ہیں اور وہ لوگ کہ اپنی امانتوں اور اپنے قول کو نباہتے ہیں اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیں اور وہ جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں۔ “
طاؤس نے کہا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دس چیزوں سے آزمایا تھا کہ وہ دسیوں فطرت کے مقتضٰی ہیں پانچ تو ان میں سے سر میں ہیں مونچھیں کتروانا، کلی کرنا، ناک میں پانی دینا، مسواک کرنا، سر میں مانگ نکالنا، اور پانچ اور بدن سے متعلق ہیں : ناخن ترشوانا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیر ناف کے بال مونڈنا، ختنہ کرنا، پانی سے استنجا کرنا۔ ربیع اور قتادہ نے فرمایا کہ کَلِمٰت سے مراد حج کے طریقے ہیں اور حسن نے فرمایا سات چیزیں مراد ہیں ان سے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی آزمائش فرمائی تھی ستارے چاند سورج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو خوب بنظر غور دیکھ کر معلوم کیا کہ پروردگار ہمیشہ رہنے والا ہے ان کی طرف زوال پذیر نہیں اور چوتھے آگ سے آزمائش فرمائی کہ نمرود نے اس میں ڈال دیا اس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے صبر فرمایا۔ پانچویں ہجرت اور چھٹے بیٹے کے ذبح کرنے اور ساتویں ختنہ کرنے سے جانچا ان سب پر ابراہیم (علیہ السلام) نے صبر کیا۔
سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ کلمات سے مراد ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) کی دعا : رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا۔۔ ہے کہ جس کو وہ دونوں بیت اللہ کے بنانے کے وقت اللہ تعالیٰ سے کرتے تھے اور یمان بن رباب نے فرمایا کہ کلمت سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ ہے جو قوم سے ہوا تھا جس کو اللہ تعالیٰ آیت کریمہ : وَ حَاجَّہٗ قَوْمُہٗ .... سے بیان فرماتا ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ کَلِمٰتُ سے مراد اگلی آیتوں کا مضمون ہے میں کہتا ہوں کہ ایسے معنی بیان کرنے مناسب ہیں کہ یہ سب اقوال اس میں آجائیں اور وہ یہ معنی ہیں کہ کلمت سے مراد تمام اوامرو نواہی ہیں تیس خصائل ہیں جو اوّل مذکور ہوئیں وہ بھی اسی میں ہیں اور دس اور سات چیزیں جو بعد میں مسطور ہیں وہ بھی ان ہی کلمات میں شامل ہیں۔
فَاَتَـمَّهُنَّ ( سو اس نے پورا کر دکھایا) یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں پوری طرح ادا کیا۔
قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ للنَّاسِ اِمَامًا ۭ ( تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تجھ کو لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں) وَاِذْابْتَلٰی۔ قَالَ کا ظرف ہے اور اگر اِذِ ابتلی کو اذکر ( یاد کر) محذوف کے متعلق مانا جائے تو : قَال انی جاعِلُکَکلام مستقل اور جواب سوال مقدر کا کہا جائے گا گویا سائل سوال کرتا ہے کہ جس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہیں پوری طرح ادا کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے کیا فرمایا جواب دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اِنِّیْ جَاعِلُکَ.... فرمایا۔ یا یہ کہا جائے کہ قال اِنِّیْ جَاعِلُکَ للنَّاسِ اِمَامًا۔ اِبْتَلٰی کا بیان ہو۔ اس صورت میں کلمات سے مراد امامۃ اور بیت اللہ کو پاک کرنا اور اس کی بنیادوں کو اٹھانا اور اسلام وغیرہ ہیں جو آگے مذکور ہیں اور جاعل اسی جَعْلٌ سے مشتق ہے جس کے لیے دو مفعولوں کی ضرورت ہوتی ہے امامت سے مراد اس مقام پر نبوت ہے۔ یا عام معنی مراد لیے جائیں یعنی امام وہ ہے جس کی اقتدا کی جائے اور جس کی اطاعت واجب ہو اور سلطنت اور امامت بمعنی خاص مراد نہیں ہے جسے امامیہ مذہب والوں نے گھڑا ہے اور امامت کا اس معنی میں شرع اور لغت میں کہیں استعمال نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو امامت عامہ عطا فرمائی تھی حتیٰ کہ سیدالانبیاء ﷺ کو بھی حکم ناطق آیا۔ اِتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاھِیٍَْمَ حَنِیْفًا یعنی اتباع کرو دین ابراہیم کو جو ایک کا ہو رہا تھا۔
قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ ( ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اور میری اولاد میں سے) اس کا عطف جاعلک کے ضمیر پر ہے یعنی اے اللہ میری بعض اولاد کو بھی امام بنا۔ ذریۃ آدمی کی نسل کو کہتے ہیں ذُرِّیَّۃٌ یا تو فُعْلِیَّۃٌ اور یا فُعُّوْلَۃٌ کے وزن پر ہے دوسری ر کو ی سے بدل لیا ہے جیسا کہ دسیٰ میں دوسرے س کو ی سے بدلا ہے۔ الذر پراگندہ و متفرق ہونا ذریت ذر سے مشتق اور یا الذرء سے مشتق ہے اور الذرء کا معنی ہے پیدا کرنا۔ اس وقت اس کا وزن فعولۃ یا فعلیۃ ہوگا اس صورت میں ہمزہ کو ی سے بدلا ہے۔
قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ( فرمایا ( ہاں مگر) ہمارے اس عہد میں وہ داخل نہیں جو ظالم ہیں) عہد سے مراد امامت مذکورۃ الصدر ہے حفص اور حمزہ نے عہدی کی ی کو ساکن اور باقی قراء نے فتحہ سے پڑھا ہے یعنی اے ابراہیم (علیہ السلام) آپ کی اولاد میں سے جو لوگ ظالم ہیں انہیں امامت نہ پہنچے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول فرمالیا اور امامت کو متقیوں کے ساتھ خاص فرمایا اگر امامۃ سے مراد نبوت ہو تو ظالمین سے مراد فاسق ہیں کیونکہ نبوت میں معصوم ہونا بالاتفاق شرط ہے اور اگر امامۃ سے عام معنی مراد ہوں تو ظالم سے کافر بھی مراد ہوسکتا ہے کیونکہ کافر کو امیر اور مقتدا بنانا جائز نہیں۔ اخیر تقدیر پر لَا یَنَالُ عَھْدِیْ الظَّالِمِیْنَسے یہ مستفاد ہوگا کہ فاسق اگرچہ امیر ہو لیکن اس کی طاعت ظلم اور معصیت میں جائز نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی طاعت جائز نہیں ہے۔ اس حدیث کو امام مالک و امام احمد (رح) نے عمران اور حکیم بن عمرو الغفار ؓ سے روایت کیا ہے۔ بخاری، مسلم اور اب داود و نسائی نے علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ کی معصیت میں کسی کی طاعت نہیں طاعت نیک کام میں ہوتی ہے اور رہیں وہ آیات جو کہ امراء کی طاعت میں وارد ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعًوا الرَّسُبوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ (اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور امیروں کی جو تم میں سے ہوں) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اطاعت کرو اور سنو اگرچہ امیر تمہارا حبشی غلام ہو تو ان نصوص سے مراد مطلق طاعت نہیں ہے خواہ جائز ہو یا ناجائز بلکہ ان ہی امور میں طاعت مراد ہے جو شرع کے مخالف نہیں چناچہ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں۔
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ( پس اگر جھگڑا کرو تم کسی شے میں تو اس کو اللہ و رسول کی طرف رجوع کرو اگر تم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہو) اس تقریر کے موافق اس آیت سے امام کا معصوم ہونا جیسا کہ رو افض کا خیال ہے مستنبط نہیں ہوتا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 2:125وَاِذْ جَعَلْنَا (اور ( یاد کرو) جب ٹھہرایا ہم نے) ابو عمرو اور ہشام نے اِذ جَعَلْنَا میں اور جہاں کہیں ایسا موقع ہو ذ کو ج میں ادغام کیا ہے اور اسی طرح و اذ کے ذ کو وَ اِذْ زَیَّنَ کے ذ میں اور وَ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ کے س میں اور وَ اِذْ صَرَّفْنَا کے ص میں اور وَ اِذْ تَبَرَّاء کے ت میں اور وَ اِذْ دَخَلُوْا کی د میں اور اتمام کرکے پڑھا ہے اور ابن ذکوان نے صرف د میں تو ادغام کیا ہے اور کسی جگہ نہیں کیا اور خلف نے د اور ت میں کیا ہے اور خلاد اور کسائی نے ج کی صورت میں صرف اظہار کیا ہے اور نافع اور ابن کثیرا ور عاصم ان سب صورتوں میں اذ کی ذال کو اظہار کرتے ہیں۔
الْبَيْتَ ( بیت کو) اس سے مراد خانہ کعبہ ہے اگرچہ بیت عام ہے جیسے النجم کا اطلاق ثریا پر اکثر آتا ہے۔
مَثَابَةً لِّلنَّاسِ ( لوگوں کے لیے اجتماع کی جگہ) یعنی خانہ کعبہ کو ہم نے مرجع بنا دیا ہے کہ چاروں طرف سے لوگ وہاں آتے ہیں یا یہ کہ ثواب کی جگہ بنا دی کہ وہاں حج اور عمرہ اور نماز پڑھ کر ثواب حاصل کرتے ہیں چناچہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسجد حرام کی ایک نماز ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
وَاَمْنًا ( اور امن کا مقام) یعنی خانہ کعبہ کو ہم نے امن کی جگہ بنایا کہ وہاں مشرکین کی ایذا رسانی سے امن ہوتا ہے کیونکہ مشرکین اہل مکہ سے کچھ تعرض نہ کرتے اور کہتے کہ یہ لوگ اہل اللہ ہیں اور آس پاس کے لوگوں کو ایذائیں پہنچاتے تھے جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو بیان فرمایا ہے : اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَولِھِمْ ( کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے بنایا ہے حرم کو امن کی جگہ اور لوگ اچکے جا رہے ہیں ان کے آس پاس سے) اور جناب سرور کائنات ﷺ نے فتح مکہ کے روز فرمایا کہ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اس شہر ( مکہ) کو حرام فرمایا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کی حرمت سے وہ قیامت تک حرام ہے اور اس میں کسی کے لیے قتال حلال نہیں صرف میرے لیے دن کی ایک ساعت میں حلال ہوگیا تھا اس کے بعد پھر قیامت تک حرام ہے نہ اس کا کانٹا کاٹا جائے اور نہ شکار کو بھگایا جائے اور نہ یہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے مگر ہاں جو تعریف (تشہیر) کرے وہ لقطہ اٹھالے 1 اور نہ یہاں کی گھاس کاٹی جائے۔ حضرت عباس ؓ نے عرض کیا لیکن اذخر کو (مرچیا گند) مستثنیٰ فرما دیجئے کیونکہ وہ لوہاروں کے کام میں آتی ہے اور گھروں میں بہت کار آمد ہے حضور نے فرمایا ہاں اذخر مستثنیٰ ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی مضمون کی حدیث منقول ہے۔
وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى (اور ہم نے حکم دیا کہ) بنا لو ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز
کی جگہ) یعنی بناؤ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ اس نماز سے طواف کی دو رکعتیں مراد ہیں مسلم نے حدیث طویل میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ جب ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ بیت اللہ تک آئے تو حضور نے رکن کو بوسہ دیا اور تین مرتبہ رمل فرمایا اور چار مرتبہ معمولی چال سے چلے پھر مقام ابراہیم 1 کے پاس آئے اور آیۃ : وَاتَّخذوا مِنْ مََّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مَصَلّٰیتلاوت فرما کر نماز پڑھی اور مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کیا۔ واللہ اعلم
ابراہیم نخعی نے فرمایا ہے کہ مقام ابراہیم سے مراد تمام حرم ہے اس کے موافق مِنْ مقام میں من تبعیضیہ ہے اور یا مقام اِبْرَاھِیْمَ سے مسجد حرام مراد ہے جیسا کہ ابن یمان کا خیال ہے یا حج کے تمام مشاہد جیسے عرفہ اور مزدلفہ وغیرہ مراد ہیں اور اگر مقام ابراہیم سے وہ پتھر مراد ہو جس کی طرف ائمہ نماز پڑھتے ہیں اور جس پر بیت اللہ بنانے کے وقت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوئے تھے اور اس پر آپ کے پاؤں کی انگلیوں کا نشان تھا پھر لوگوں کے ہاتھ پھیرنے سے مٹ گیا تو اس صورت میں من ابتدائیہ ہوگا اور یہ قول صحیح ہے اور حدیث جابر ؓ جو اول گذر چکی ہے اس پر دلالت بھی کرتی ہے اس کے موافق معنی آیت کے یہ ہیں کہ مقام ابراہیم کے قریب مسجد یا حرم میں نماز کی جگہ بناؤ نافع اور ابن عامر نے واتخذوا کی خاء کو فتح سے بصیعہ ماضی جعلنا پر عطف کرکے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے بصیغہ امر کسرہ خا سے پڑھا ہے صیغہ امر کی صورت میں واتخذوا میں امت محمدیہ ﷺ کو خطاب ہوگا۔ انس ؓ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے فرمایا کہ میری رائے اتفاقاً میرے رب سے تین باتوں میں موافق آگئی یا یوں فرمایا کہ تین باتوں میں میرے رب نے مجھ سے موافقت فرمائی ایک تو یہ کہ میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ میں اگر مقام ابراہیم کو مصلے ٰ بناؤ تو بہتر ہو اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آیت واتخذوا .... نازل فرمائی۔ دوسری بات یہ کہ میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ آپ کی خدمت میں نیک کار اور بد کار سب ہی طرح کے آدمی آتے ہیں آپ امہات المؤمنین ( یعنی اواج مطہرات ؓ کو اگر پردہ کا حکم فرمادیں تو اچھا ہو اسی وقت اللہ نے پردہ کی آیت نازل فرمائی اور تیسرے یہ کہ مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضور ﷺ نے بیویوں پر عتاب فرمایا ہے یہ سن کر میں گیا اور کہا کہ یا تو تم اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا اسی وقت اللہ تعالیٰ نے آیت : عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ [ الایۃ ] ( اگر پیغمبر تم کو طلاق دے دیں تو کچھ بعید نہیں کہ ان کا پروردگار ان کو تمہارے عوض ایسی بیواں مرحمت فرمائے جو تم سے بہتر ہوں) ۔
اس حدیث کو بخاری نے ذکر کیا ہے امام ابوحنیفہ اور امام مالک (رح) نے اس آیت سے استنباط کیا ہے کہ طواف کے ہر سات پھیروں کے بعد دو رکعت پڑھنا واجب ہیں کیونکہ صیغہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے اور اگر صیغہ ماضی ہو تو ثبوت اور وجوب پر زیادہ دال ہے اور قیاس تو مقتضی تھا کہ یہ دو رکعتیں فرض ہوں کیونکہ نص قطعی موجود ہے لیکن چونکہ اس آیت کا نزول خاص اس نماز کے اندر احادیث احاد سے معلوم ہوا ہے اس لیے ہم ان دو رکعتوں کی فرضیت کے قائل نہیں ہوئے۔ نیز ان دو رکعتوں کا وجوب جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمیشہ پڑھنے سے بھی ثابت ہوا اور کبھی ایک دو مرتبہ بھی ترک ثابت نہیں اور یہ خود آپ نے حج میں فرمایا ہی تھا کہ مجھ سے) یعنی میرے افعال دیکھ کر) اپنے حج کے طریقے سیکھ لو۔ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب حج یا عمرہ میں طواف فرماتے تو اوّل آتے ہی تین مرتبہ لپک کر طواف کرتے اور چار مرتبہ معمولی چال سے چلتے پھر دو رکعت ادا فرماتے پھر صفا مروہ کے درمیان چکر لگاتے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور بخاری میں تعلیقاً ( بلا سند) مروی ہے کہ اسماعیل بن امیہ کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے پوچھا کہ عطا کہتے ہیں کہ فرض نماز طواف کی دو رکعتوں کے بدلے کافی ہے عطا نے فرمایا کہ سنت کی اقتدا افضل ہے رسول اللہ ﷺ جب کبھی سات پھیرے طواف کے فرماتے تو دو رکعتیں ضرور پڑھتے اور امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ صیغہ امر واتخذوا استحباب کے لیے ہے اور مالک (رح) سے بھی ایک روایت یہی ہے اور شافعی (رح) کے دو قول ہیں لیکن ان ائمہ کا اس امر کو استحباب پر حمل کرنا جائز نہیں کیونکہ اصل تو وجوب ہے اگر وجوب نہ بنے تو استحباب وغیرہ پر حمل کریں گے۔ طواف کی یہ دو رکعتیں تمام مسجد میں بلکہ مسجد کے باہر بھی بالاتفاق جائز ہیں اور صحیحین میں ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلمہ ؓ سے فرمایا کہ جب صبح کی جماعت ہو اور لوگ نماز پڑھتے ہوں تو تم اپنے اونٹ پر چڑھ کر طواف کرلینا۔ امّ سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے ایسا ہی کیا اور بعد طواف کے نماز نہ پڑھی حتیٰ کہ مسجد سے نکل آئے اور بخاری نے تعلیقاً روایت کیا ہے کہ عمر ؓ نے طواف کی رکعتیں حرم سے باہر ذی طویٰ میں پڑھیں۔
میں (مفسر) کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس نماز کو ایک خاص جگہ کے ساتھ مقید کردیتے تو اس میں سخت تنگی ہوتی اور بہت سے ضروری امور میں تنگی مقام کی وجہ سے سہولت نہ ہوتی دیکھو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَاعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْن [ الایۃ ] (اللہ کی عبادت کرو خالص اس کے فرمانبردار ہو کر) اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اعمال نیتوں سے ہیں تو اس آیت اور حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اگر اخلاص نیت سے نہ ہوں تو یہ عبادات درست ہی نہ ہوں لیکن اس میں ظاہر ہے کہ تنگی ہے اس لیے نماز اور حج میں تو شروع ہی میں نیت کا ہونا کافی سمجھا گیا اور زکوٰۃ میں قدر واجب مال کو علیحدہ کرنے کے وقت نیت کا ہونا ضروری قرار پایا اور روزہ میں اگر طلوع فجر کے وقت نیت کو مشروط کردیتے تو چونکہ یہ وقت خواب اور غفلت کا ہے اس لیے بہت دشواری ہوتی اس واسطے روزہ میں رات ہی سے نیت کرلینا کافی ہے بلکہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تو چاشت تک نیت جائز ہے اسی طرح یہاں بھی قیاس اسی کو چاہتا تھا کہ یہ طواف کی نما زبھی مقام ابراہیم کے پاس ہی جائز ہوتی کیونکہ ظاہر آیت کا منشا یہی ہے لیکن اس میں دشواری تھی اس لیے یہ نماز مسجد میں بلکہ تمام حرم میں جائز قرار دی گئی اور حرم کو تو اللہ تعالیٰ نے مسجد ہی فرمایا ہے۔ چناچہ فرمایا ہے : المسجد الحرام الَّذی جعلناہ للناس سوَاء نِ العَاکِفِ فِیْہِ والباد اور فرمایا ذٰلک لِمَن لَّم یَکُن اھلہ حاضری المسجد الحرام اور حضرت عمر ؓ نے جو ذی طوٰی میں طواف کی دو رکعتیں ادا فرمائیں تو کسی ضرورت سے واجب کو ادا فرمایا یا تفسیر ہی : واتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصلَّی کی اسی طرح کی جائے کہ جس سے شبہ ہی واقع نہ ہو وہ یہ ہے کہ مقام ابراہیم کا ذکر اس لیے فرمایا کہ غالب یہی تھا کہ جب ازدحام نہ ہوتا تھا تو یہ رکعتیں مقام کے پاس ادا کی جاتی تھیں مقام کا ذکر تقیید اور تعیین کے لیے نہیں ہے جیسا کہ آیت کریمہ : وَ رَبَاءِبُکُمْ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ میں فی حجوُْرکُمْ کی قیدباعتبار غالب عادت کے ہے پس اگر کوئی مانع نہ ہو تو غالب عادت یہی ہے کہ یہ نماز مقام کے پاس ہی ادا کی جائے جیسا کہ (ر بائب کا حجور ( گود) میں ہونا غالب ہے ضروری نہیں۔ واللہ اعلم
علامہ بغوی نے نقل کیا ہے کہ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہاجرہ اور اسماعیل ( علیہ السلام) کو مکہ میں چھوڑ دیا اور اس قصہ پر ایک مدت گذر گئی اور وہاں جرہمی لوگ آئے اور اسماعیل ( علیہ السلام) نے ایک جرہمیہ عورت سے نکاح کرلیا ایک روز ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی بی بی سارہ ( علیہ السلام) سے ہاجرہ کے پاس آنے کی اجازت چاہی انہوں نے اجازت دے دی لیکن یہ شرط کرلی کہ وہاں اتریں نہیں ابراہیم (علیہ السلام) مکہ تشریف لائے اس وقت ہاجرہ ( علیہ السلام) کی وفات ہوگئی تھی آپ اسماعیل ( علیہ السلام) کے گھر پر تشریف لائے اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی بی بی سے دریافت کیا تمہارے خاوند کہاں ہیں اس نے کہا شکار کو گئے ہیں اسماعیل ( علیہ السلام) کی عادت تھی کہ حرم سے شکار کرنے کے لیے باہر جاتے تھے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پوچھا کہ تمہارے پاس کچھ کھانے پینے کی شے بھی ہے اس نے کہا میرے پاس کچھ نہیں پھر ابراہیم نے ان کے گذران کا حال دریافت فرمایا۔ اس عورت نے کہا کہ ہم تو بڑی تنگی اور سختی میں ہیں اور بہت شکایت کی ابراہیم (علیہ السلام) نے سن کر فرمایا جب تمہارا خاوند آئے تو میری طرف سے سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے دروازہ کی دہلیز بدل دے یہ کہہ کر ابراہیم چل دیئے جب اسماعیل ( علیہ السلام) شکار سے آئے تو باپ کی خوشبو معلوم ہوئی۔ اپنی بی بی سے پوچھا کیا یہاں کوئی آیا تھا۔ اس نے مری سی زبان سے کہا کہ ہاں ایک بڈھا ایسی ایسی صورت کا آیا تھا اسماعیل نے پوچھا کیا انہوں نے کچھ فرمایا جو کچھ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اس نے کہہ دیا اسماعیل ( علیہ السلام) نے کہا وہ میرے پدر بزرگوار تھے اور تجھ سے علیحدہ ہونے کا حکم فرما گئے ہیں اس لیے اب تو اپنے گھر جا میں نے تجھے طلاق دی پھر آپ نے اسی قوم میں سے ایک دوسری عورت سے نکاح کرلیا ایک مدت کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) حضرت سارہ سے اجازت لے کر پھر تشریف لائے اسماعیل ( علیہ السلام) اس وقت بھی گھر پر موجود نہ تھے اس نئی زوجہ سے پوچھا کہ تمہارا خاوند کہاں ہے کہا شکار کے لیے گئے ہیں اور اب انشاء اللہ تعالیٰ آرہے ہیں ہوں گے آپ تشریف رکھئے ابراہیم (علیہ السلام) نے دریافت کیا کہ کچھ کھانے پینے کی چیز بھی تمہارے پاس ہے ؟ کہا ہاں بہت اسی وقت دودھ اور گوشت لائی پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی گذران کا حال دریافت فرمایا اس عورت نے کہا بفضل خدا ہم خوب فراخی میں ہیں ابراہیم (علیہ السلام) نے ان دونوں میاں بیوی کے لیے دعائے برکت فرمائی اگر وہ اس وقت گیہوں یا جو کی روٹی یا کھجوریں ابراہیم کے سامنے پیش کرتی تو آپ کی دعا کی برکت سے زمین میں گیہوں جو کھجوریں بہت ہوجاتیں پھر اسماعیل کی زوجہ نے عرض کیا کہ آپ سواری سے نیچے تشریف لائیے میں آپ کا سر مبارک دھودوں۔ لیکن آپ نہ اترے وہ فوراً ایک پتھر ( یعنی مقام ابراہیم) لائی اور اس کو دائیں طرف رکھا ابراہیم نے اس پر اپنا قدم مبارک رکھا اس نے سر کے دائیں جانب دھویا پھر پتھر کو بائیں طرف رکھا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس پر اپنا قدم مبارک رکھا اس نے سر کے دائیں جانب دھویا پھر پتھر کو بائیں طرف رکھا آپ نے اس طرف جھک کر بائیں جانب دھویا اس پتھر پر آپ کے قدم مبارک کا نشان ہوگیا۔ پھر چلتے وقت فرمایا کہ جب تمہارا خاوند آئے تو میری طرف سے سلام کہنا اور کہہ دینا کہ تمہارے دروازے کی چوکھٹ اب خوب درست ہے اسے نہ اکھاڑنا جب اسماعیل ( علیہ السلام) گھر تشریف لائے تو باپ کی خوشبو معلوم کرکے پوچھا کوئی یہاں آیا تھا زوجہ نے عرض کیا ہاں ایک ضعیف سے آدمی بڑے خوبصورت اور بڑی خوشبو والے آئے تھے اور مجھ سے یہ یہ باتیں ہوئیں اور میں نے ان کا سر دھویا اور دیکھئے اس پتھر پر انکے قدم کا نشان ہوگیا۔ اسماعیل نے سن کر فرمایا وہ ابراہیم (علیہ السلام) میرے باپ تھے اور چوکھٹ سے مراد تو ہے یہ فرما گئے کہ اسے اپنے پاس رکھو۔
پھر چند روز کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) تشریف لائے اس وقت اسماعیل ( علیہ السلام) زمزم کے قریب ایک درخت کے نیچے تیر تراش رہے تھے باپ کو دیکھتے ہی کھڑے ہوگئے اور آداب بجا لائے انہوں نے دعائے خیر کی پھر ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اسماعیل ! مجھے اللہ نے ایک بات کا حکم دیا ہے تو میری اس میں اعانت کیجئے اسماعیل نے عرض کیا میں ضرور امداد کروں گا ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنانے کا حکم دیا ہے یہ کہہ کر ابراہیم (علیہ السلام) مستعد ہوگئے اور خانہ کعبہ کی بنیادیں اٹھائیں اور اسماعیل پتھر لاتے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) بناتے تھے جب دیواریں بلند ہوگئیں تو اس پتھر یعنی مقام ابراہیم کو لائے ابراہیم (علیہ السلام) اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کرتے اور اسماعیل ( علیہ السلام) بدستور پتھر پکڑاتے اور رَبَنَا تَقَبَّل منا انک انت السمیع العلیم پڑھتے جاتے حدیث شریف میں آیا ہے کہ رکن اور مقام جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں اس حدیث کو امام مالک نے انس ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رکن اور مقام یہ دونوں جنت کے یاقوت ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے نور کو سلب کردیا ہے اور اگر ان کا نور رہتا تو یہ مشرق سے مغرب تک کو روشن کردیتے۔ بزرگان دین یہاں سے یہ استنباط کرتے ہیں کہ جس جگہ اولیاء اللہ میں سے کوئی شخص ایک مدت تک رہے وہاں آسمان سے تبرکات اور سکینہ اترتی ہے اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ کی طرف دل کھینچتے ہیں اور وہاں نیک کام پر جیسے اجر زیادہ ملتا ہے ویسے ہی وہاں گناہ کرنے پر عذاب بھی دوگنا لکھا جاتا ہے۔
وَعَهِدْنَآ اِلٰٓى اِبْرٰهٖمَ وَاِسْمٰعِيْلَ ( اور کہہ دیا ہم نے ابراہیم و اسماعیل سے) یعنی ہم نے ان دونوں کو حکم دیا اور ان کو نصیحت کی۔
اَنْ طَهِّرَا ( کہ پاک صاف رکھو) یہاں یا تو باء جارہ مقدر ہے اور یا اَنْ کو مفسرہ کہا جائے کیونکہ عہد بمعنی قول ہے۔
بَيْتِىَ ( میرے گھر کو) اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو اپنی ذات پاک کی طرف اس کی فضیلت دینے کو نسبت فرمادیا ورنہ حق تعالیٰ ظاہر ہے کہ مکان سے پاک ہے معنی یہ ہیں کہ اس گھر کو طہارت اور توحید پر بناؤ اور سعید بن جبیر اور عطا نے فرمایا اس کے یہ معنی ہیں کہ بتوں اور جھوٹ اور بری باتوں سے اسے پاک رکھو اور بعض مفسرین نے فرمایا مطلب یہ ہے کہ اس میں خوشبو جلاؤ اور خوب پاک صاف رکھو۔ نافع، ہشام اور حفص نے یہاں اور سورة حج میں حفص نے سورة نوح میں بھی بیتی کی یا کو فتح سے پڑھا ہے۔
لِلطَّاۗىِٕفِيْنَ وَالْعٰكِفِيْنَ وَالرُّكَّعِ السُّجُوْدِ ( طواف کرنے والوں اور مجاہدہ کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے) یعنی جو لوگ وہاں مقیم ہیں یا جو اس میں اعتکاف کرنے والے ہیں اور الرُّکَّعِ السُّسجُوْدِجمع ہے راکع اور ساجد کی اس سے مراد نما زپڑھنے والے ہیں۔
Ayah 2:126وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا ( اور) ( یاد کرو) جب ابراہیم نے کہا کہ خداوندا بنا اس ( شہر) کو امن کا شہر یعنی امن والا جیسے عیشۃ راضیۃ پسند یدہ زندگی یا یہ معنی کہ جو اس مکان میں آجائے وہ امن میں ہوجاتا ہے۔ جیسے لیل نائم ( رات سونے والی) یعنی رات میں سونے والا۔
وَّارْزُقْ اَھْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ ( اور عطا فرما اس میں رہنے والوں کو پھل) پھلوں کی دعا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس لیے فرمائی کہ مکہ ایسی جگہ ہے کہ وہاں زراعت وغیرہ کچھ نہیں خشکی کا ملک ہے منقول ہے کہ طائف جو مکہ معظمہ سے کچھ دور ہے شام کے شہروں میں سے تھا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی تو جبرائیل ( علیہ السلام) نے بامر الٰہی اسے وہاں سے اکھاڑ کر مکہ معظمہ کے پاس لاکرقائم کردیا اسی واسطے اس میں پھل بکثرت ہوتے ہیں اور مکہ میں آتے ہیں۔
مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ( ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائیں خدا پر اور روز آخرت پر) اَھْلَہٗ سے بدل البعض ہے۔ دعا میں مؤمنین کی تخصیص اس لیے فرمائی کہ مبادا یہ دعا کافروں کے لیے کفر پر اعانت نہ ہو۔
قَالَ وَمَنْ كَفَرَ ( فرمایا اور جو کفر کریں) وَ مَنْ کَفَرَکا عطف مَنْ اٰمَنَ پر ہے تقدیر عبارت کی یہ ہے : وارزق من کفر ( یعنی میں کافروں کو بھی دوں گا) اور یہاں کلام تمام ہوگیا۔ اس آیت میں تنبیہ اس مر پر ہے کہ رزق جو رحمۃ دنیویہ ہے اس میں مؤمن و کافر دو نوں شامل ہیں اسی واسطے اللہ تعالیٰ کے اسماء میں رحمن الدنیا و رحیم الاٰخرۃ آیا ہے بخلاف نبوت اور دینی پیشوائی کے کہ یہ رحمت مؤمنین ہی کے حصے میں ہے یا مَنْ کَفَرمبتدا اور معنی شرط کو شامل ہے اور فَاُمتعہ خبر ہے۔
فَاُمَتِّعُهٗ ( ان کو بھی فائدہ اٹھانے دوں گا) ابن عامر نے فَاُمَتِّعُہٗ کو تخفیف کے ساتھ باب ا افعال سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے باب تفعیل سے مشدد پڑھا ہے اور معنی دونوں کے ایک ہیں۔
قَلِيْلًا ( تھوڑے دنوں) قلیلاً یا تو مفعول مطلق محذوف کی صفت ہے یعنی متاعاً قَلیلاً ( دنیا کا فائدہ تھوڑا) اس صورت میں یا تو یہ معنی ہیں کہ دنیا کا نفع آخرت کے اعتبار سے کم ہے چناچہ ظاہر ہے اور یا یہ مطلب کہ اللہ کے نزدیک یہ متاع کچھ بھی نہیں۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک اگر دنیا کی ایک مچھر کے پر کی برابر بھی قدر ہوتی تو کافر کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔ اس حدیث کو ترمذی نے سہل بن سعد سے روایت کیا ہے اور یا قلیلاً کے یہ معنی کہ ہم ان کو تھوڑے دنوں یعنی انکی موت تک نفع دیں گے اگر کوئی شبہ کرے کہ شرط و جزاء میں تو یہ علاقہ ہوتا ہے کہ شرط جزاء کا سبب ہوتی ہے اور یہاں کفر سبب تمتع کا نہیں پھر خبر پر فاء کیوں لائے جواب یہ ہے کہ کفر اگرچہ تمتع کا سبب نہیں لیکن تمتع کے کم ہونے کا باعث ہے کیونکہ کافر اپنے کفر کی وجہ سے دنیا ہی کی نعمتوں میں رہتا اور آخرت کے درجات سے نامراد رہتا ہے اور یہ بھی جواب ہوسکتا ہے کہ دنیا کے متاع اللہ کے نزدیک ملعون اور خبیث ہیں اس لیے ممکن ہے کہ کفر اس کے حاصل ہونے کا سبب ہو چناچہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ لَوْ لَا اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّکْفُرْ بالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِھِمْ سُقْفًا مِنْ فضۃٍ وَ مَعَارِجَ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ وَ لِبُیُوْتِھِمْ اَبْوَابًا وسُرُوْرًا عَلَیْھَا یَتَّکِءُوْنَ وَ زُخْرُفًا وَّ اِنْ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃُ عِنْد رَبِّکَ لِلْمُتَّقِیْنَ ( یعنی اگر یہ احتمال نہ ہوتا کہ تمام لوگ ایک ہی دین پر ہوجائیں گے تو ہم ضرور بنا دیتے ان کے لیے جو منکر ہیں رحمن کے ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی اور سیڑھیاں کہ ان پر چڑھا کرتے اور ان کے گھروں کے دروازے ( بھی چاندی کے بنادیتے) اور تخت کہ ان پر تکئے لگا کر بیٹھتے اور یہ سب کا سب کچھ مگر دنیا کی زندگانی کا فائدہ ہے اور آخرت تیرے پروردگار کے ہاں پرہیزگاروں کے لیے ہے) خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ کفر کا مقتضٰی اصلی دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے اگر لوگوں کے ایک دین پر ہوجانے کا احتمال نہ ہوتا تو کفر تو اس کو چاہتا ہے کہ ان کے گھر اور دروازے اور تخت سونے چاندی کے ہوں اور جناب رسول خدا ﷺ نے فرمایا ہے کہ دنیا ملعون ہے اور جو کچھ اس میں ذکر اللہ اور اس کے متعلقات اور عالم اور متعلم کے سوا ہے وہ بھی ملعون ہے اس حدیث کو ابن ماجہ نے ابی ہریرہ ؓ سے اور طبرانی نے بسند صحیح اوسط میں بھی روایت کیا ہے اور کبیر میں بھی بسند صحیح ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے اس میں یہ ہے کہ سوائے ان چیزوں کے جس سے اللہ کی رضا مندی طلب کی جائے سب ملعون ہے۔
ثُمَّ اَضْطَرُّهٗٓ اِلٰى عَذَاب النَّارِ ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ( پھر اس کو مجبور کروں گا دوزخ کے عذاب کی طرف اور وہ برا ٹھکانا ہے) اس کا متعہ پر عطف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر اور متاع کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے سبب میں اس کو مجبور کی طرح دوزخ کے عذاب کی طرف لے جاؤں گا وَ بِءْسَکا مخصوص بالذم لفظ عذاب محذوف ہے۔ حضرت مجاہد ؓ نے فرمایا ہے کہ مقام کے پاس یہ مضمون لکھا پایا کہ میں اللہ مکہ کا مالک ہوں جس دن میں نے چاند سورج پیدا کئے اسی دن مکہ کو بھی پیدا کیا اور آسمان و زمین کے پیدا ہونے کے دن سے میں نے اس کو حرمت والا بنایا ہے اور سات فرشتوں کے ذریعہ سے میں نے اس کی حفاظت کی ہے اور اس میں تین راہ سے رزق آتا ہے اور یہاں گوشت اور پانی میں برکت رکھی گئی ہے۔
Ayah 2:127وَاِذْ يَرْفَعُ اِبْرٰھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ (اور ( وہ وقت یاد کرو) جب اٹھا رہے تھے ابراہیم بنیادیں 1 خانہ کعبہ کی) یَرْفَعُ گذشتہ حال کی حکایت ہے قواعد جمع ہے قاعد کی جس کے معنی بنیاد کے ہیں۔ قواعد صفات غالبہ سے ہے۔ قعود کو ثبات کے معنی میں مجازاً لے کر اس سے قواعد کو مشتق کیا ہے اور بنیادوں کو اٹھانے سے مراد ہے تعمیر کرنا۔ کسائی نے کہا ہے کہ قواعد کے معنی دیواروں کے ہیں کیونکہ ہر دیوار اپنے مافوق کا قاعدہ ہوتی ہے اور اس کا اٹھانا تعمیر کرنا ہے۔
وَاِسْمٰعِيْلُ ( اور اسماعیل) اس کا ابراہیم پر عطف ہے اور مفعول کو مقدم لا کر فاصلہ اس لیے کردیا کہ تعمیر کرنے والے تو صرف ابراہیم (علیہ السلام) ہی تھے اس واسطے اول ان کا ذکر فرمایا اور اسماعیل پتھر پکڑاتے تھے اس لیے ان کو بھی تعمیر میں دخل ہوا اور اس لیے فاصلہ لا کر عطف فرمایا۔
علامہ محمد حسین بغوی نے فرمایا ہے منقول ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زمین کے پیدا کرنے سے دو ہزار برس پہلے بیت اللہ کا مقام پیدا فرما دیا تھا اور وہ مقام ایک سفید جھاگ پانی پر قائم تھا پھر زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی پھر جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو ذمین پر اتارا تو انہیں بڑی وحشت ہوئی اللہ تعالیٰ سے عرض کیا حق تعالیٰ نے جنت کے یاقوت کا بنا ہوا بیت المعمور اتارا اس کے دروازے زمرد کے تھے ایک دروازہ شرقی اور ایک غربی اور اس کو بیت اللہ کے مقام پر رکھ دیا اور حکم ہوا آدم ! ہم نے تمہارے لیے یہ گھر اتارا ہے اس کا تم ایسے ہی طواف کرو جیسے عرش کے گرد کرتے تھے اور اسکے پاس اسی طرح نماز پڑھو جس طرح میرے عرش کے پاس پڑھتے تھے اور حجر اسود بھی اتارا اور اس وقت یہ پتھر روشن سفید تھا پھر جاہلیت میں حائضہ عورتوں کے چھونے سے کالا ہوگیا۔ حضرت آدم ( علیہ السلام) یہ حکم سنتے ہی ہند سے مکہ کو پا پیادہ تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ کے ذریعہ سے انہیں بیت اللہ کا راستہ بتایا انہوں نے مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا حج کیا اور تمام طریقے حج کے ادا کئے جب حج سے فارغ ہوئے تو فرشتوں نے کہا آدم ( علیہ السلام) تمہارا حج قبول ہوا اور ہم اس گھر کا آپ سے دو ہزار برس پہلے حج کرچکے ہیں۔
ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ آدمی ( علیہ السلام) نے ہند سے مکہ تک پیادہ چل کر چالیس حج کئے۔ القصہ طوفان نوح تک بیت المعمور اسی طرح قائم رہا جب طوفان واقع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو چوتھے آسمان پر اٹھا لیا اب ہر دن اس میں ستّر ہزار فرشتے زیارت کے لیے جاتے ہیں اور پھر لوٹ کر نہیں آتے دوسرے دن اور ستّر ہزار آتے ہیں اسی طرح ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جبریل کو حکم فرمایا کہ حجر اسود کو کوہ ابو قبیس میں چھپا دے تاکہ طوفان میں غرق ہونے سے محفوظ ہوجائے پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ تک بیت اللہ کی جگہ بالکل خالی رہی پھر جب اسماعیل اور اسحاق ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تو حق تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بیت اللہ بنانے کا حکم فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا اے اللہ وہ جگہ مجھے بتادے جہاں تعمیر کرنے کا حکم ہے اللہ تعالیٰ نے سکینہ بھیجی کہ اس نے بیت اللہ کی جگہ بتائی اور سکینہ ایک تند ہوا تھی کہ اس کے سانپ کی طرح دو سرے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ جس جگہ یہ سکینہ قائم ہوجائے وہاں خانہ کعبہ بناؤ ابراہیم (علیہ السلام) اس کے پیچھے ہو لئے جس جگہ اس وقت بیت اللہ ہے وہاں آکر سکینہ مثل ڈھال کے بیٹھ گئی پھر وہاں ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ بنایا یہ علی اور حسن کا قول ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کی برابر ایک بدلی بھیجی وہ چلتی تھی اور ابراہیم (علیہ السلام) اس کے سایہ میں چلتے تھے حتیٰ کہ وہ بدلی خانہ کعبہ کی جگہ آکر ٹھہر گئی اور ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ بلا کمی و بیشی کے اس کے سایہ میں تعمیر کرو۔
اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے بامر الٰہی بیت اللہ کا مقام ابراہیم کو بتایا آیت کریمہ : وَ اِذْ بَوَّانَا لِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ۔۔ کے یہی معنی ہیں۔
ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کو پانچ پہاڑوں کے پتھروں سے بنایا۔ طورِسینا طورز یتا لبنان جو ملک شام کا پہاڑ ہے اور جودی جو جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے اور بنیادیں کوہ حراء سے بنائیں اور کوہ حراء مکہ میں ہے جب حجر اسود کی جگہ تعمیر کو پہنچی تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اسماعیل ( علیہ السلام) سے کہا کہ یہاں کوئی خوبصورت سا پتھر لگانا چاہئے تاکہ لوگوں کے واسطے ایک علامت ہوجائے۔ اسماعیل ( علیہ السلام) ایک خوبصورت پتھر لائے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اس سے بھی عمدہ پتھر لاؤ اسماعیل ( علیہ السلام) پھر تشریف لے گئے تو کوہ ابو قبیس نے چلا کر کہا کہ آپ کی ایک امانت میرے پاس موجود ہے اسے لیجئے۔ اسماعیل ( علیہ السلام) نے حجر اسود وہاں سے لے لیا اور اس کی جگہ قائم کردیا اور بعض نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان میں ایک گھر بیت المعمور بنایا اور اس کا نام ضراح رکھا اور ملائکہ کو حکم فرمایا کہ اس کے مقابلے میں اسی کے انداز کے موافق خانہ کعبہ بناؤ اور بعض کا قول ہے کہ اول کعبہ آدم ( علیہ السلام) نے بنایا وہ طوفان سے بالکل مٹ گیا پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے وہ برآمد کیا گیا جس پر ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کی۔ واللہ اعلم
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۭ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ( دعا کرتے جاتے تھے کہ ( اے ہمارے پروردگار ہم سے قبول فرما بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے) یعنی اے اللہ تو ہماری دعا کو سننے والا اور ہماری نیتوں کو جاننے والا ہے۔
Ayah 2:128رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ ( اور اے ہمارے پروردگار ہم کو بنا اپنا فرمانبردار) یعنی اے اللہ ہم کو اپنے تمام حکموں کا خالص فرماں بردار بنادے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے کہ جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقی مسلمان وہ ہے کہ جس سے کوئی معصیت صادر نہ ہو اور دوسرے لوگ اس کی ایذاء سے بچے ہوئے ہوں اسلام حقیقی سے ایسا ہی اسلام مراد ہے اور یہ درجہ بعد اطمینان نفس کے نصیب ہوتا ہے۔
وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۠ ( اور ہماری نسل میں بھی ایک گروہ فرمانبردر پیدا کر) مِن تبعیضیہ ہے۔ ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے واسطے شفقت کی وجہ سے دعا فرمائی اور سب کے لیے اس لیے دعا نہ کی کہ یہ معلوم ہوچکا تھا کہ بعض ان میں سے کفار یہی ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ من بیانیہ ہو۔
وَاَرِنَا ( اور ہم کو بتا) اصل میں اَرَانَابروزن اکفنا ہے۔ ابن کثیر اور ابو شعیب نے اَرِنَا اور ارنی کی رائکو جہاں کہیں ہوں ساکن اور ہمزہ کو مع حرکت حذف کرکے پڑھا ہے اور ابو عمرو نے اختلا س سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے ہمزہ کو حذف کرکے اور اس کی تمام حرکت را کو دے کر پڑھا ہے۔
مَنَاسِكَنَا ( ہماری عبادت کے طریقے) مَنَاسِکَ سے مراد دین کے احکام اور حج کے ارکان ہیں نسک کے اصل معنی ہیں خوب عبادت کرنا پھر اس سے حج کے ارکان اس وجہ سے مراد لینے لگے کہ حج میں بھی اکثر کلفت اور مشقت ہوتی ہے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) کی یہ دعا اللہ نے قبول فرمائی اور جبرئیل نے بامر الٰہی عرفہ کے دن تمام مناسک ان کو بتائے جب ابراہیم و اسماعیل ( علیہ السلام) عرفات میں پہنچے تو جبرئیل نے کہا اے ابراہیم آپ نے سب مناسک پہچان لئے فرمایا ہاں پہچان لئے اسی دن سے اس مقام اور اس دن کا نام عرفہ ہوگیا۔
وَتُبْ عَلَيْنَا ( اور توبہ قبول کیجئے ہماری) اگرچہ خود ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) بوجہ پیغمبر ہونے کے گناہوں سے معصوم تھے لیکن اس کے باوجود بطور تواضع اور امت کی تعلیم کے لیے یہ دعا فرمائی۔
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ ( بیشک تو ہی معاف کرنے والا مہربان ہے) یعنی اس کے لیے جو تیری طرف رجوع کرے۔
Ayah 2:129رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ ( اور اے رب ہمارے بھیج ان میں ایک پیغمبر ان ہی میں کا) اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو بھی قبول فرمایا اور جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنی رحمت کاملہ سے نبی بنا کر بھیجا۔ عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدم ( علیہ السلام) ہنوز آب و گل کے درمیان تھے مگر میں اللہ کے نزدیک خاتم النبیین تھا میں تمہیں اپنی شروع کی حالت بتاؤں میں ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ کی بشارت اور اپنی ماں کا خواب ہوں جو کہ میری پیدائش کے وقت میری ماں نے دیکھا تھا کہ مجھ سے ایک ایسا نور نکلا ہے کہ اس کی روشنی سے شام کے محل روشن ہوگئے۔ اس حدیث کو علامہ بغوی (صاحب معالم التنزیل ‘ 12) نے شرح السنہ میں نقل کیا ہے اور امام احمد نے ابو امامہ سے بھی اس کو روایت کیا ہے۔
يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ ( کہ پڑھے ان پر تیری آیتیں) آیات سے مراد توحید اور نبوت کی آیات ہیں۔
وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ ( اور ان کو سکھا وے کتاب اور علم) حکمت سے مراد یا تو معارف اور احکام ہیں یا سنت۔ بعض نے کہا ہے کہ قضا مراد ہے بعض نے فقہ کہا ہے۔
وَيُزَكِّيْهِمْ ( اور پاک وصاف بنا دے ان کو) یعنی شرک اور گناہوں سے ان کو پاک کردے اور بعض نے وَ یُزَکِّیْھِمْ کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ مالوں کی زکوٰۃ لے اور ابن کیسان نے کہا ہے وَ یُزَکِّیْھِمْ کے یہ معنی ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کے عدم فسق کی شہادت دے۔
اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ ( بیشک تو ہی زبردست) حضرت ابن عباس نے تفسیر میں کہا ہے کہ عزیز اسے کہتے ہیں جس کا کوئی مثل نہ ہو اور کلبی نے عزیز کی منتقم سے تفسیر کی ہے اور بعض نے کہا عزیز اسے کہتے ہیں کہ جس پر کسی کا قابو نہ چلے اور بعض نے کہا عزیز اس غالب کو کہتے ہیں جس پر کوئی غالب نہ ہو۔
الْحَكِيْمُ ( صاحب تدبیر ہے) یعنی حکمت بالغہ والا ہے والا اعلم۔
ابن عساکر نے کہا ہے کہ عبد اللہ بن سلام ؓ نے سلمہ اور مہاجر اپنے بھتیجوں سے کہا تم مسلمان ہوجاؤ۔ تم خوب جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں فرمایا ہے کہ میں اسماعیل ( علیہ السلام) کی اولاد سے ایک نبی پیدا کروں گا اور نام پاک ان کا احمد ﷺ ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا وہ ہدایت پائے گا اور جو ایمان نہ لاوے گا وہ ملعون ہوگا سلمہ تو چچا کی یہ نصیحت سن کر مسلمان ہوگیا اور مہاجر نے صاف انکار کردیا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:130وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ ( اور کون پسند نہ رکھے دین ابراہیم کا) یعنی ملت ابراہیمی کا حق ہونا نہایت واضح ہے ایسا کون ہے جو اس طریقہ سے پھرے رغبت کے بعد جب الیٰ آتا ہے تو اس سے مراد ارادہ ہوتا ہے اور جو عن آتا ہے تو اعراض کے معنوں میں آتا ہے۔
اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ ( مگر وہی شخص جس نے بیوقوف بنایا اپنے آپ کو) سفہ کے اصل معنی ہیں خفت یعنی سب کی جو شخص بغیر نفع نقصان سوچے اپنی خواہشات کو پورا کیا کرتا ہے اسے خفیف اور سفیہ کہتے ہیں اور اس کی ضد حلیم ہے اس معنی کے اعتبار سے سفہ کیا سناد خود کسی شخص کی ذات کی طرف بھی کی جاتی ہے اور اس کی رائے کی جانب بھی چناچہ بولتے ہیں : سَفِہَ زید فی نفسہ وفی راۂ ( زید اپنی ذات اور اپنی رائے کے اعتبار سے بیوقوف بنا) اور جب سفاہت یعنی بیوقوفی اور سبکی سے کسی موقع پر بےحرمتی اور اہانت یا ہلاکت لازم آجائے اور رائے کی خفت جہالت کو مستلزم ہوجائے تو لفظ سفہ اس وقت اہانت یا ہلاک کرنے یا جہل کے معنی میں مستعار لے لیا جاتا ہے چناچہ سفہ نفسہ کے یہ معنی کہ اس نے اپنے نفس کی آپ اہانت کی یا ہلاک کردیا اس کو یا انجان رہا اس صورت میں سَفِہَکے بعد مفعول آئے گا اور یا یوں کہا جائے کہ ان صورتوں میں سَفِہَ اہانت اور ہلاک کرنے اور جہل کے معنی کو متضمن ہوجائے گا اسی واسطے اِلَّا من سَفِہَ نَفْسَہٗ کی تفسیر میں بعض نے کہا کہ سَفِہَ نَفْسَہٗ کے یہ معنی ہیں کہ نفس کو ذلیل بنا دیا اس واسطے کہ اپنے خالق کا انکار کیا ور اپنے جیسی مخلوق کی عبادت کی اور ابو عبیدہ نے کہا سَفِہَ نفسہ کے معنی ہیں ہلاک کردیا اپنے نفس کو “ اور اخفش نے کہا کہ سَفِہَ نَفْسَہٗ اصل میں سَفِہ فِی نَفسِہٖ تھا فی کو بنزع خافض حذف کردیا اور نفسہٖ کو نصب کردیا اور فراء نے کہا سَفِہَ نَفْسَہٗ اصل میں نفسہ کے رفع سے تھا جب فعل کی نسبت صاحب نفس کی طرف کردی گئی تو نفْسَہٗ کو تمیز ہونے کے سبب سے نصب دے دیا گیا جیسا کہ بجائے ضاق وزعی ( میں تنگ دل ہوا) اور طاب نفس زیدٍ کے ( زید کا نفس اچھا ہے) ضقت بہ ذرعا اوطاب زیدٌ نفسا بولتے ہیں اور ابن کیسان اور زجاج نے کہا کہ سَفِہَ نَفْسَہٗکے معنی ہیں انجان بنا اپنے نفس سے “ کیونکہ جس نے غیر اللہ کی عبادت کی اس نے اپنے نفس کو نہ جانا اور نفس کو نہ جانا تو خالق کو نہیں پہچانا مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗ مسلم ہے یعنی جس نے اپنے نفس کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا۔
میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہمَنْ عَرَف نَفْسَہٗ فَقَدْ عَرَفَ رَبَّہٗکے یہ معنی ہیں کہ جس نے اپنے نفس کی حقیقت جان لی کہ یہ ایک ممکن شے ہے۔ خود بالذات وجود کو مقتضی نہیں فی نفسہٖ اس کا وجود اور قیام اور بقا متصور نہیں اور اس کی ذات پر اس کا حمل اولی نہیں ہوسکتا مثلاً ناممکن ہے کہ زید بذات خود زید ہو جو کچھ اس کا وجود اور بقا اور قیام نظر آتا ہے یہ اسی وقت ہے جب کہ اس کو واجب الوجود قائم بالذات قیوم کا فیض قرار دیں وہ ذات پاک سب اشیاء کے مقابلہ میں ایسی ہے جیسے عکس کے مقابلہ میں اصل وہ تمام آسمانوں اور زمین کا نور ہے سب چیزوں سے حتی کہ ان کی ذات سے بھی زیادہ نزدیک ہے کیونکہ ان اشیاء کو بغیر اس کی طرف نسبت کئے ہوئے ان کی ذات پر محمول نہیں کرسکتے ایسے شخص کو ضرور حق تعالیٰ شانہ کی معرفت نصیب ہوجائے گی اور جو اپنے نفس کی اس حقیقت سے ناواقف رہا اسے اپنے پروردگار کی معرفت بھی نصیب نہ ہوگی۔
منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد ( علیہ السلام) کو وحی فرمائی داود ! اپنے نفس کو پہچان پھر تو مجھ کو پہچان لے گا۔ داؤد ( علیہ السلام) نے عرض کیا پروردگار اپنے آپ کو کیونکہ پہچانوں اور آپ کو کس طرح حکم ہوا اپنے نفس کو اس طرح پہچانو کہ اپنا عجز اور فنا اور ضعف پیش نظر کرلو اور ہم کو اس طرح جانو کہ ہماری قدرت اور بقا اور قوت ملاحظہ کرو۔ جاننا چاہئے کہ اگر کسی نسبت کلا میہ کا یقینی علم اور ناقابل شک اعتقاد ہو تو ( شرعی اصطلاح میں) اسے علم کہتے ہیں اور جہل اس کی ضد ہے اور جہل اپنی ضد یعنی علم کی طرح دو مفعول چاہتا ہے علم کے حاصل ہونے کے چند اسباب ہیں کبھی تو علم کسی شئے کا اس شے کے بدیہی یعنی غیر خفی ہونے کے سبب سے ہوتا ہے کبھی استدلال سے کبھی وحی سے اور کسی وقت الہام سے اور علم کی ضد یعنی جہل جو کہ عدم اصلی ہے ان اشیاء کے نہ ہونے کا نام ہے اور معرفت صرف مفعول واحد کو مقتضی ہے معرفت کا اطلاق صرف تصورات پر ہوتا ہے اور معرفت کسی شے کی کبھی اس کے بدیہی ہونے سے حاصل ہوتی اور کبھی صاحب دلوں کو حق تعالیٰ کی دی ہوئی بصیرت سے نصیب ہوجاتی ہے اور جہل جس طرح علم کی ضد ہے اسی طرح معرفت کی بھی (ضد) ہے اس مقام پر سَفِہَ سے وہ جہل مراد ہے جو معرفت کی ضد ہے کیونکہ ایک مفعول کی طرف اس کا تعدیہ ہو رہا ہے۔ اس تقریر کے موافق سَفِہَ نَفْسَہ کے معنی یہ ہوئے کہ اپنے نفس کو بصیرت سے نہیں پہچانا۔
وَلَقَدِ اصْطَفَيْنٰهُ فِي الدُّنْيَا ( اور بیشک ہم نے دنیا میں اس کا انتخاب کرلیا) یعنی خلیل کے معزز خطاب سے مشرف فرمایا۔
وَاِنَّهٗ فِي الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ ( اور بیشک ابراہیم (علیہ السلام) آخرت میں نیکو کار انبیاء میں سے ہوں گے) صلاح فساد کی ضد ہے اور بگاڑ معاصی سے ہوتا ہے خواہ معاصی قلب سے متعلق ہوں یا اعضا اس بنا پر صلاح عصمت سے حاصل ہوگی اور جس قدر عصمت میں کمی ہوگی صلاح میں بھی نقصان ہوگا اور آیت میں صلاح کامل مراد ہے یہ آیت گویا ما قبل کی دلیل اور حجت ہے حاصل یہ ہے کہ جس شخص میں اس قدر صفات موجود ہوں اس کی اتباع اور اطاعت سے سوائے جاہل بیوقوف سرتا پا حماقت کے کوئی سرتابی نہ کریگا۔
Ayah 2:131اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗٓ اَسْلِمْ ۙ ( جب ان سے کہا ان کے پروردگار نے حکم بردار بن جا) عطا نے فرمایا ہے کہ اَسْلِمْ کے یہ معنی ہیں کہ اپنے تمام کام اور نفس حق تعالیٰ کو سونپ دو اور کلبی نے اَسْلِمْ کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ اپنے دین اور عبادت کو اخلاص کی زینت سے مزین کرو ابن عباس ؓ نے کہا یہ خطاب اس وقت فرمایا تھا جبکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غار سے نکلے تھے : اذ قالا یا تو اصْطَفَیْنَا کے متعلق اور اس کی علت ہے اور یا بتقدیر اذکر منصوب ہے صورت اخیرہ میں حاصل یہ ہوگا کہ اس وقت کو یاد کرو جب حق تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہمارا برگزیدہ بندہ تھا۔
قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ( یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں عرض کیا میں نے اپنے تمام کام عالم کے پالک کے سپرد کردیئے) بس آپ کی اس تسلیم کا یہ ثمرہ ہوا کہ جب نمرود مردود نے آپ کی مشکیں باندھ کر بذریعہ منجنیق آگ میں پھینکا تو فوراً جبرئیل ( علیہ السلام) تشریف لائے اور کہا تمہیں کچھ حاجت ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا تمہاری تو حاجت نہیں کہا پھر اللہ سے سوال کرو فرمایا میرا حال اسے خوب معلوم ہے مجھے سوال کی حاجت نہیں۔ حق تعالیٰ نے ان کی اس تفویض اور تسلیم کی برکت سے اس آتش کدہ کو گلزار بنا دیا اور اس آگ نے بجز ان کے ہاتھ پاؤں کی بیڑیوں کے بال برابر بھی نہ جلایا۔