2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:184

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے

اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ (چند روز ہیں گنتی کے) فعل محذوف صوموا (روزہ رکھو) کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ الصیام مصدر کی وجہ سے منصوب نہیں ہے کیونکہ درمیان میں اجنبی فاصل ہے۔ معدودات کا مطلب یہ ہے کہ گنتی کے چند دن ہیں کیونکہ عادتاً جو چیز کم ہوتی ہے اسی کو شمار کیا کرتے ہیں اور بہت کو شمار نہیں کرتے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اِیَّامًا معدودات ( گنے ہوئے دن) سے ہر مہینے کے تین روزے اور ایک روزہ عاشورہ کا مراد ہے کیونکہ یہ روزے ربیع الاوّل سے لے کر رمضان تک ہر مہینے میں تین تین روزے واجب تھے پھر رمضان کے روزوں کا حکم ہوگیا اور یہ منسوخ ہوگئے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہجرت کے بعد اوّل جو حکم منسوخ ہوا وہ قبلہ کا اور روزہ کا حکم تھا اور بعض مفسرین نے یہ فرمایا ہے کہ رمضان کے روزوں کا حکم بدر کے واقعہ سے ایک ماہ اور چند دن پیشتر نازل ہوا ہے اور غزوہ بدر 17 رمضان 2 ھ روز جمع کو ہوا ہے۔ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ رمضان کے روزے نازل ہونے سے پہلے عاشورہ کے روزہ کا حکم فرمایا کرتے تھے جب رمضان کے روزوں کا حکم آیا تو پھر یہ ہوگیا کہ جو چاہے اس دن روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ سلمہ بن الاکوع سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ایک شخص کو بھیجا کہ اعلان کردو کہ آج یوم عاشوراء ہے جس نے کچھ کھا پی لیا ہے وہ شام تک نہ کھائے پیئے اور جس نے نہیں کھایا وہ اب نہ کھائے روزے کی نیت کرلے کیونکہ آج کا دن روزہ عاشورہ ہے اس کو بھی بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ایاماً معدودات سے مراد رمضان کا مہینہ اور آیت منسوخ نہیں ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ سب اقوال میں سے راجح یہ ہے کہ عاشورہ کا روزہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بالکل فرض نہ تھا بلکہ نبی ﷺ نے اپنے اجتہاد سے اس کو پسند فرمایا تھا یا ایسا ہو کہ حضور کی عادت شریف اس دن روزہ رکھنے کی ہو اس لیے اوروں کو بھی اس کا حکم فرماتے ہیں غرض کچھ ہو فرض تھا۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب جناب رسول اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود کو دیکھا کہ وہ عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں آپ نے دریافت فرمایا کہ تم اس دن کیوں روزہ رکھتے ہو۔ انہوں نے کہا یہ بہت مبارک دن ہے اس دن اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو دشمن سے نجات دی تھی تو اس دن موسیٰ ( علیہ السلام) نے شکریہ کے طور پر روزہ رکھا تھا اس لیے ہم بھی رکھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو میں موسیٰ ( علیہ السلام) کی اقتداء کرنے کا تم سے زیادہ حق رکھتا ہوں اس لیے حضور ﷺ نے خود بھی روزہ رکھا اور اوروں کو بھی رکھنے کا حکم فرمایا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ قریش عاشورہ کے دن ایام جاہلیت میں روزہ رکھا کرتے تھے اور رسول اللہ بھی قبل از بعثت اس دن روزہ رکھتے تھے جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں بھی اس روز روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو پھر عاشوراء کا روزہ چھوڑ دیا۔ اس حدیث کو بھی بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے علامہ سیوطی (رح) نے فرمایا ہے کہ امام احمد اور ابو داؤد اور حاکم نے معاذ بن جبل ؓ سے عاشوراء کا روزہ اور ہر مہینے میں تین روزے کا واجب ہونا روایت کیا ہے لیکن یہ وجوب اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے تھا اور اس آیت سے منسوخ ہوگیا بس معلوم ہوا کہ ایامًا معدودات سے مراد رمضان کا مہینہ ہے۔ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا ( پھر جو شخص تم میں سے بیمار ہو) مریضاً سے مراد وہ شخص ہے کہ وہ یا تو فی الحال مریض ہو اور روزہ رکھنے سے مرض بڑھے یا دیر میں شفا ہونے کا خوہو یا بالفعل تو تندرست ہے لیکن ایسا سست اور کمزور ہے کہ گمان غالب ہے کہ اگر روزہ رکھوں گا تو مرض پیدا ہوجائے گا اسی میں شامل ہیں وہ حاملہ عورتیں اور دودھ پلانے والی کہ ان کو اپنی یا اپنے بچے کی جان کا خوف ہو۔ جاننا چاہئے کہ مریض کو روزہ رکھنے کی اجازت پر سب علماء کا اتفاق ہے مگر امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ کھاناپینا تو جائز ہے لیکن عورت سے صحبت کرنی درست نہیں اگر مسافر یا مریض جماع کرے گا تو ان کے نزدیک اس پر کفارہ واجب ہے لیکن ہاں اگر قبل از جماع کچھ کھاپی لیا ہے اور بعد اس کے جماع کیا تو کفارہ نہیں ہے اور دیر میں شفا ہونے یا مرض بڑھنے کے اندیشے سے روزہ نہ رکھنے پر سب کا اتفاق ہے ابن سیرین فرماتے ہیں کہ تھوڑی سی بیماری بھی جس کو بیماری کہا جاتا ہے افطار کے لیے کافی ہے کیونکہ آیت میں بلا کسی قید کے مریض کا لفظ ہے۔ اور حسن اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایسی بیماری مراد ہے کہ جس کی وجہ سے نماز بیٹھ کر پڑھنا درست ہوجائے۔ اَوْ عَلٰي سَفَرٍ ( یا سفر پر ہو) لفظ علیٰ اوپر) اس طرف مشیر ہے کہ اگر کوئی شروع دن میں روزہ سے ہو اور پھر اس کو سفر پیش آئے تو اس کو افطار جائز نہیں اور اسی پر اجماع ہے لیکن داؤد ظاہری سے منقول ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ سفر خواہ طویل ہو یا قصیر افطار جائز ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ جس سفر سے روزہ کے افطار اور نماز کے قصر کی اجازت ہے اس کی کتنی مسافت ہے امام مالک اور شافعی اور احمد فرماتے ہیں کہ ادنیٰ مقدار سفر کی سولہ فرسخ چار برید ہے کیونکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اے مکہ والو ! چار برید سے کم کی مسافت میں قصر مت کرو اور چاربرید کی مقدار اس قدر ہے جیسے مکہ سے عسفان تک اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں اسماعیل بن عیاش ضعیف راوی ہے اور عبد الوھاب بہت ہی ضعیف ہے۔ امام احمد اور یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ عبد الوھاب کچھ نہیں اور سفیان ثوری فرماتے ہیں کذاب ہے اور نسائی نے کہا ہے متروک الحدیث ہے اور امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ ایک دن کی مسافت میں قصر کرے اور امام ابوحنیفہ (رح) : تین دن تین رات کی مسافت میں کہ جو اونٹ اور آدمی کی چال سے ہو افطار و قصر جائز فرماتے ہیں اور امام ابو یوسف دو دن پورے اور تیسرے دن کے اکثر حصہ کی مسافت کے قائل ہیں ابوحنیفہ (رح) کی دلیل حضرت علی کی حدیث ہے کہ ان سے موزوں پر مسح کرنے کی مدت دریافت کی گئی فرمایا کہ رسول اللہ نے تین دن تین رات مسافر کے لیے اور ایک دن اور ایک رات مقیم کے لیے مقرر فرمایا ہے اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث تو صحیح ہے مگر یہ استدلال ضعیف ہے اور اطلاق آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ کے لیے اگر کوئی سفر کرے تو اس میں بھی افطار جائز ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی مذہب ہے اور امام مالک اور شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ گناہ کے سفر سے افطار مباح نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فمن اضطر غیر باغ الخ اور حق یہ ہے کہ بغی اور عدوان سفر کی ذات میں داخل نہیں بلکہ سفر سے ان کا تعلق ہے اور اس آیت کی تفسیر اور امام مالک و شافعی (رح) کے مذہب کا مستنبط نہ ہونا ہم اس کے موقع میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَ يَّامٍ اُخَرَ ( تو ضروری ہے کہ گنتی دوسرے دنوں سے) فَعِدَّۃً .... یا تو فعل محذوف کتب کا نائب فاعل ہوا یا اور مبتدا محذوف کی خبر اس صورت میں عدت کا مضاف اور مضاف الیہ اور ایک شرط محذوف ماننی ہوگی کہ یہ سب بقرینہ مقام حذف کردیئے گئے تقدیر عبارت کی اس طرح ہوگی فالواجب علیہ صیام عدۃ ایام مرضہٖ و سفرہٖ من ایام اخر ان افطر ( یعنی اگر مریض اور مسافر افطار کرے تو اس پر بیماری اور سفر کے دنوں کی شمار کی قدر و روزے واجب ہیں اور اطلاق آیت سے یہ معلوم ہوا کہ قضا روزوں کی پے در پے رکھناواجب نہیں اس پر سب علماء کا اتفاق ہے۔ داؤد ظاہری فرماتے ہیں کہ پے در پے ہونا ضروری ہے اور اطلاق سے جو پے در پے ہونے کی شرط نہ ہونا مستفاد ہوتا ہے اس کی ایک حدیث بھی تائید کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے قضا رمضان کے بارے میں فرمایا ہے کہ اگر چاہے تو جدا جدا رکھے اور چاہے پے در پے رکھے اس حدیث کو دارقطنی نے متصل اور مرسل دونوں طرح روایت کیا ہے اور حدیث میں ہے کہ محمد بن المنکدر فرماتے ہیں کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ سے کسی نے رمضان کی قضا روزوں کو جدا جدا رکھنے کو دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا تجھ کو اختیار ہے جس طرح چاہے رکھ اس حدیث کو دار قطنی نے مرسل روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے اور متصل بھی روایت کی گئی ہے لیکن اتصال صحیح نہیں اور اس مضمون کی حدیث دار قطنی نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے بھی روایت کی ہے لیکن اس کی سند میں واقدی اور لھیعہ دونوں ضعیف راوی ہیں اور سعید بن منصور نے انس ؓ سے بھی اس کو روایت کیا ہے اور بیہقی نے ابو عبید اور معاذ بن جبل اور انس اور ابوہریرہ اور رافع بن خدیج ؓ سے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے داؤد پے در پے کے واجب ہونے پر ابوہریرہ ؓ کی اسی حدیث کو دلیل لاتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جس کے ذمہ رمضان کے روزے ہوں اس کو چاہئے کہ مسلسل رکھے اور بیچ میں نہ توڑے اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں عبد الرحمن بن ابراہیم بن العاص ایک راوی ہے اس کی نسبت یحییٰ الفاظ لیس بشئ ( کچھ نہیں) استعمال کرتے ہیں اور دار قطنی نے ضعیف لیس بالقوی (ضعیف ہے قوی نہیں) کہا ہے اس میں اختلاف ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی جب افطار کریں تو ان پر قضا کے ساتھ فدیہ بھی واجب ہے یا نہیں حالانکہ اس پر سب متفق ہیں کہ مریض اور مسافر پر قضا واجب نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) تو فرماتے ہیں کہ قضا ہی واجب ہے فدیہ نہیں اور ایک روایت امام مالک سے بھی یہی ہے اور ایک روایت امام مالک سے یہ ہے کہ دودھ پلانے والی پر فدیہ ہے اور حاملہ پر نہیں اور امام احمد اور شافعی (رح) کے نزدیک واجب ہے لیکن وجوب کی دلیل قابل اعتماد کسی کے پاس نہیں حضرت ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی پر کفارہ واجب ہے قضا واجب نہیں اور اگر قضاء رمضان میں بغیر عذر تاخیر کرے حتیٰ کہ دوسرا رمضان آپہنچا تو اس میں اختلاف ہے کہ قضا کے ساتھ فدیہ بھی واجب ہے یا نہیں امام احمد اور شافعی (رح) تو فرماتے ہیں کہ واجب ہے اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر برسوں کے بعد بھی قضا کرے تب بھی قضا کے سوا اور کچھ واجب نہیں کیونکہ یہ کتاب اللہ پر بغیر قطعی دلیل کے زیادتی ہے اور اگر مرض یا سفر کے عذر کے سبب سے دوسرے رمضان سے بھی تاخیر ہوجائے تو اس میں بالاتفاق قضا کے سوا کچھ واجب نہیں۔ عبد الرزاق اور ابن منذر نے بطریق صحیحیہ نافع سے انہوں نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ جس کو بیماری میں پے در پے دو رمضان گذر گئے اور اس کے بیچ میں تندرست نہیں ہوا تو دوسرے رمضان کی تو قضا واجب ہے اور پہلے رمضان کا کفارہ طحاوی نے کہا ہے کہ یہ قول ابن عمر ؓ کے سوائے اور کسی کا نہیں۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں عبد الرزاق نے ابن جریح سے ابن جریح نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے یحییٰ فرماتے ہیں مجھ کو یہ با ت پہنچی ہے کہ عمر کا بھی یہی قول ہے لیکن عمر ؓ کا مشہور قول اس کے خلاف ہے قضا کے ساتھ کفارہ واجب ہونے کی دلیل ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رمضان میں بیمار ہوا اور اس نے روزے رکھے پھر تندرست ہوگیا اور روزے نہیں رکھے حتی کہ دوسرا رمضان آگیا تو جناب رسول ﷺ اللہ نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اس رمضان موجودہ کے روزے رکھے اور اس کے بعد پہلے رمضان کے رکھے اور ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا دے۔ اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے لیکن یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ اس کی سند میں ابراہیم بن نافع راوی ہے اور ابو حاتم نے اس کی نسبت لفظ کان یکذب ( جھوٹ بولتا تھا) کہا ہے اور ایک راوی عمر بن موسیٰ ہے وہ جھوٹی حدیث بنا لیا کرتا تھا۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کفارہ کے وجوب میں کوئی حدیث مرفوع پائیہ ثبوت کو نہیں پہنچتی البتہ آثار صحابہ سے کچھ اس کا ثبوت ہوتا ہے اور امام شافعی ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں علی ؓ اور جابر ؓ اور حسین ؓ بن علی ؓ سے بھی آثار وارد ہیں۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ مجھے سوائے ابوہریرہ اور ابن عباس ؓ کے اثار کے کسی اور اثر کی سند صحیح نہیں پہنچی اور اگر بالفرض کوئی حدیث مرفوع بھی اس بات میں ہوتی تو اس وقت بھی اس سے استدلال نہ ہوسکتا کیونکہ زیادتی کتاب اللہ پر لازم آتی ہے اور خبر واحد سے زیادتی جائز نہیں۔ وَعَلَي الَّذِيْنَ يُطِيْقُوْنَهٗ فِدْيَةٌ ( اور ان لوگوں پر جن کو طاقت ہے فدیہ ہے) علامہ محمد حسین بغوی فرماتے ہیں کہ اس آیت کی تاویل اور حکم میں علماء نے اختلاف کیا ہے اکثر علماء تو یہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے۔ ابن عمر اور سلمہ بن اکوع اور دیگر صحابہ کا بھی یہی مذہب ہے۔ شان نزول اس کی یہ ہوئی کہ ابتداء اسلام میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اختیار دیا تھا کہ اگر ہمت ہو تو روزے رکھے ورنہ افطار کرلیں اور فدیہ دیں اور یہ اس واسطے تھا کہ لوگوں کو روزہ رکھنے کی عادت نہ تھی۔ اگر ابتداً روزے ہی کا حکم ہوجاتا تو شاق ہوتا پھر اس کے بعد یہ اختیار منسوخ ہوگیا اور فمن شھد منکم الشھرۃ۔۔ سے روزے ہی کا حکم قطعی ہوگیا۔ میں کہتا ہوں کہ اس تقدیر پر مریض اور مسافر کو تین باتوں کا اختیار ہوگا۔ روزہ۔ افطار۔ نیت قضا۔ فدیہ۔ پھر جب فدیہ منسوخ ہوگیا تو روزہ رکھنے اور قضا میں اختیار ہوگا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص بہت بوڑھا ہو اور روزہ رکھنے کی طاقت تو ہو لیکن اس کو روزہ رکھنا بوجہ بڑھاپے کے شاق ہو تو اس کو اس آیت کی وجہ سے اوّل روزہ افطار کرنے اور فدیہ دینے کی اجازت تھی پھر یہ اجازت منسوخ ہوگئی اور حسن فرماتے ہیں کہ یہ آیت اس مریض کے بارے میں ہے کہ جو روزہ کی طاقت رکھتا ہو اس کو اختیار ہے یا تو روزہ رکھے اور یا افطار کرے اور فدیہ دے پھر یہ اختیار منسوخ ہوگیا ان سب اقوال کے موافق قرآن کریم سے ایسے بوڑھے کا حال معلوم نہ ہوا جو بسبب ضعف کے روزہ کی طاقت نہیں رکھتا اسی واسطے امام مالک فرماتے ہیں اور شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے کہ شیخ فانی کو افطار کرنا جائز ہے کیونکہ وہ عاجز ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کے وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اور اس پر فدیہ واجب نہیں کیونکہ فدیہ کے واجب ہونے کے لیے کوئی دلیل چاہئے کیونکہ فدیہ روزہ کا مثل غیر معقول ہے اور مثل غیر معقول رائے اور عقل سے ثابت نہیں ہوتی اور ایک جماعت کا مسلک یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں اور معنی اس کے یہ ہیں کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی جوانی میں طاقت رکھتے ہیں اور پھر بعد بڑھاپے کے عاجز ہوگئے ان پر بجائے روزے کے فدیہ واجب ہے لیکن نظم کلام اس تاویل سے انکار کر رہی ہے۔ شیخ اجل جلال الدین اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یطیقون پر ایک لامقدر ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو لوگ روزہ کی طاقت نہیں رکھتے ان کے ذمہ پر فدیہ ہے جیسے آیت : یُبَیِّنُ اللہ لَکُمْ اَنْ تَضِلُّوْا میں اَنْ تَضِلُّوْا پر لا مقدر مانا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ لا کا مقدر ماننا بھی بعید ہے۔ کیونکہ ظاہر عبارت کی بالکل ضد ہے پہلے ایجاب مفہوم ہوتا تھا اور اس تقدیر پر سلب سمجھا جائے گا اگر کوئی یہ کہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) اور احمد اور شافعی اور سعید بن جبیر کا مذہب یہ ہے کہ شیخ فانی پر بجائے روزے کے فدیہ واجب ہے اور مبنی ان مذاہب کا اس آیت کے سوا اور کچھ نہیں اور اس آیت کی اگر یہ تاویل بعید نہ کی جائے تو شیخ فانی پر اور اس مریض پر جس کی صحت یابی کی امید نہیں کس دلیل سے فدیہ واجب ہوگا تو میں کہتا ہوں کہ عمدہ اور سالم تاویل اوّل ہے اور حاصل اس کا یہ ہے کہ ابتداء اسلام میں قوی لوگوں کو روزہ اور فدیہ میں اختیار دیا گیا تھا اور جو لوگ طاقت نہ رکھتے تھے وہ تو دلالت النص سے بطریق اولیٰ مختار تھے کیونکہ جب اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قوت والوں کو اپنے فضل سے ان کی آسانی و سہولت کے لیے اختیار دے دیا تو جو کمزور اور ضعیف تھے وہ تو اس رخصت کے پہلے سے بھی مستحق تھے اور اسی بناء پر ہم نے اوّل ذکر کیا ہے کہ مریض اور مسافر کو تین باتوں کا اختیار دیا گیا تھا پھر جب آیت : فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ الخ نازل ہوئی تو جو لوگ روزہ کی قوت رکھتے تھے ان کے حق میں فی الفور اور جو لوگ اب بسبب کسی عذر کے روزہ نہیں رکھ سکتے تھے جیسے وہ مریض اور مسافر کہ بعد سفر یا مرض ختم ہونے کے قضا رکھ سکتے ہیں انکے حق میں مآل کار حکم فدیہ کا منسوخ ہوگیا اور جو لوگ نہ اب روزہ رکھ سکتے ہیں اور نہ آئندہ کو بسبب بڑھاپے یا بیماری کے رکھنے کی توقع ہے ان کے لیے فدیہ کے جائز ہونے کا حکم بدلالت النص اسی طرح رہاجیسا کہ تھا کیونکہ وہ فَمَنْ شَھد منکم الشھر الخ ( جو تم میں سے ماہ رمضان میں حاضر ہو ( میں داخل ہی نہیں ہوئے کیونکہ من شھد سے مراد تندرست مقیم ہے اور فمن کان منکم مریضا میں مریض سے مراد وہ مریض ہے جو شفاء کی توقع رکھتا ہو کیونکہ جو ایسا بیمار ہے کہ اچھے ہونے کی امید نہیں ہے اس کو قضا کی تکلیف دینا۔ تکلیف مالایطاق ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جو حکم عبارت النص سے ثابت ہوچکا ہے اس کا منسوخ ہونا اس حکم کے منسوخ ہونے کو مقتضی نہیں جو دلالت النص سے ثابت ہو۔ وا اللہ اعلم و علمہ اتم و احکم۔ طَعَامُ مِسْكِيْنٍ ( ایک محتاج کا کھانا کھلانا ہے) نافع اور ابن ذکوان نے فدیہ طعام مسکین میں فدیہ کو طعام کی طرف مضاف کرکے اور مسکین کو مساکین بصیغہ جمع پڑھا ہے اور ہشام نے فدیہ کو تنوین سے اور طعام کو مرفوع فدیہ سے بدل کر قرار دے کر اور مسکین کو صیغہ جمع سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے فدیہ کو تنوین اور طعام کو رفع اور مسکین کو صیغہ واحد سے پڑھا ہے۔ فدیۃ بدلہ کو کہتے ہیں اور فدیہ کی اضافت طعام کی طرف بیانیہ ہے اور فدیہ ابوحنیفہ (رح) کے قول کے موافق صدقہ فطر کی طرح گندم کا نصف صاع اور جو یا کھجور کا پورا صاع ہے اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جو غلہ اس شہر میں کھایا جاتا ہے اس کا ایک مدہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو دے اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ جَو کا نصف صاع اور گیہوں کا ایک مد واجب ہے اور بعض فقہاء کا قول ہے کہ جو غذا اس روز کھائے وہ دے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کو رات اور سحری کا کھانا دے دے اور طعام فدیہ کی تحقیق انشاء اللہ آیت : و من کان منکم مریضا اوبہ اذًا الخ کی تفسیر میں عنقریب آئے گی۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ ۭ وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ ( پھر جو اپنی خوشی سے نیکی کرے تو وہ اسکے لیے بہتر ہے اور یہ صورت کہ تم روزہ رکھو تمہارے واسطے بہتر ہے) فمن تطوع خیراً ( جو اپنی خوشی سے نیکی کرے) یعنی فدیہ میں قدر واجب سے زیادتی کرے۔ فھوخیر لہ ( تو وہ اس کے لیے بہتر ہے) یعنی یہ زیادتی تنہا فدیہ سے بہتر ہے۔ وان تصوموا میں روزہ کی قوت اور طاقت رکھنے والے مخاطب ہیں مطلب یہ ہے کہ اے روزہ کی طاقت رکھنے والو روزہ رکھنا فدیہ سے بہتر ہے۔ اس سے صراحتاً معلوم ہوتا ہے کہ وعلی الذین یطیقونہ میں روزہ کی قوت رکھنے والے مراد ہیں اور جن کو قوت نہیں جیسے بوڑھے اور بیمار وہ مراد نہیں کیونکہ جن کو طاقت نہیں ان کے لیے روزہ رکھنا بہتر نہیں بلکہ روزہ کا نہ رکھنا بہتر ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر مسافر کو روزہ سے زیادہ تکلیف نہ ہو تو اس کے لیے روزہ رکھنا افضل ہے جمہور علماء کا یہی مسلک ہے لیکن امام احمد اور اوزاعی اور سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ روزہ رکھنا افضل نہیں ان کی دلیل ذیل کی چند احادیث ہیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ جناب رسول ﷺ اللہ سفر میں تھے کہ ایک اژدحام دیکھا جس کے اندر ایک شخص پر لوگ جھکے ہوئے تھے حضور ﷺ نے دریافت فرمایا یہ کیا قصہ ہے لوگوں نے عرض کیا کہ یہ شخص روزہ دار ہے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کی بات نہیں۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور جابر ؓ روایت فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال رسول ﷺ اللہ رمضان میں مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور روزہ رکھا اور لوگوں نے بھی روزہ رکھا جب کراع غمیم پر پہنچے تو ایک پیالہ پانی منگایا اور اس کو اونچا کرکے سب کو دکھایا پھر سب کے سامنے نوش فرمایا لوگوں نے اس قصہ کے بعد عرض کیا : یا رسول اللہ : بعض لوگوں نے روزہ رکھا۔ فرمایا : یہ لوگ نافرمان ہیں اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور عبد الرحمن بن عوف ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ سفر میں رمضان کا روزہ رکھنے والا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنے والا اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ہماری طرف سے ان احادیث کا یہ جواب ہے کہ احادیث اس شخص کے حق میں ہیں جس کو روزہ سے بہت تکلیف ہو اور اس کے حق میں افطار کرنا افضل ہے خواہ وہ مسافر ہو یا مریض اور اسی طرح جب جہاد میں جائے تو افطار کرنا افضل ہے۔ ابو سعید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تم دشمن کے قریب آگئے ہو اب تمہارے لیے افطار کرنا موجب قوت ہے ابو سعید فرماتے ہیں کہ یہ افطار کی اجازت رخصت تھی اس لیے ہم میں سے بعض نے تو روزہ رکھا اور بعض نے افطار کیا پھر جب ایک اور منزل میں ہم اترے تو آپ نے فرمایا کہ اے لوگو ! صبح کو دشمن کا سامنا ہے افطار کرنا تمہارے واسطے موجب قوت ہے سب نے افطار کیا اور یہ افطار کرنا عزیمۃ ہوا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے نیز امام مالک نے بعض صحابہ سے مؤطا میں اس حدیث کو نقل کیا ہے اور امام شافعی نے ابو سعید ؓ سے مسند میں اور ابو داؤد اور حاکم اور ابن عبد البر نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اگر روزہ رکھنے سے تکلیف نہ ہو تو اس آیت کی وجہ سے روزہ رکھنا افضل ہے۔ چناچہ ابو الدرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھا اور گرمی کی اس قدر شدت تھی کہ تپش سے بچنے کے لیے ہم سر پر ہاتھ رکھ لیتے تھے اور ہم میں سوائے رسول اللہ اور عبد اللہ بن رواحہ کے کوئی روزہ دار نہ تھا۔ میں کہتا ہوں کہ سب تفصیل مسافر کے حق میں ہے کیونکہ اس کے لیے رخصت کا مدار محض سفر پر ہے خواہ اس کو روزہ رکھنے میں مشقت ہو یا نہ ہو۔ رہے شیخ اور مریض اور ضعیف اور حاملہ اور مرضعہ تو ان کے حق میں رخصت کا مبنٰی خود مشقت اور روزہ سے تکلیف ہونا ہے اگر روزہ سے ان کو تکلیف نہ ہوتی ہو تو رخصت بھی نہیں اور جب روزہ سے تکلیف ہوتی ہو اور وہ تکلیف یہی ہے کہ یا تو مرض کے بڑھنے کا خوف ہو اور یا نیا مرض پیدا ہونے کا ڈر ہو اس وقت ان کا حکم بھی ایسا ہے جیسے سفر کی وجہ سے مشقت ہونے کا ہے ‘ وا اللہ اعلم۔ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ( اگر تم سمجھو) جواب ان محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم روزہ کی فضیلت کو جانتے تو اس کو افطار اور فدیہ پر اختیار دینے کے باوجود ترجیح دیتے لیکن یہ یاد رہے کہ اب چونکہ یہ فدیہ کا حکم منسوخ ہوچکا ہے اس لیے اب اگر کوئی بلا عذر رمضان میں روزہ نہ رکھے اور اس کو حلال سمجھتا ہو تو کافر ہے اور اگر حلال نہیں جانتا تو فاسق ہے اور قضا اس پر واجب ہے کیونکہ تدارک بقدر امکان ضروری ہے نیز جب معذور کو قضا کا حکم ہے تو جو بلا عذر رمضان میں روزے نہ رکھے اس کے لیے تو بطریق اولیٰ قضا کا حکم ہوگا اور استغفار بھی اس پر بالاجماع لازم و واجب ہے۔ امام نخعی فرماتے ہیں کہ اگر بلا عذر رمضان میں روزے نہ رکھے تو ہزار برس تک اگر روزے رکھے تب بھی تدارک نہ ہوگا اور علی ؓ اور ابن مسعود فرماتے ہیں کہ تمام عمر اگر روزے رکھے جب بھی تلافی نہ ہوگی۔
Ayah 2:185

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو

شَهْرُ رَمَضَانَ ( رمضان کا مہینہ) یہ یا تو مبتدا ہے اور خبر اس کے بعد ہے اور یا مبتداء محذوف ذالک کی خبر ہے اور صورت اخیر میں معنی یہ ہوں گے یہ مہینہ رمضان کا ہے اور یا بدل ہے الصیام سے جو صدر رکوع میں مذکور ہے بحذف مضاف اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے مقرر کئے گئے تم پر روزے ماہ رمضان کے اور یہ ترکیب جب ہوگی جس وقت یہ آیت : یا ایھا الذین اٰمَنُوا کتب عَلَیْکُم الصِّیام کے ساتھ نازل ہوئی اور اگر اس سے ایک مدت کے بعد نازل ہوئی ہو اور اس کی ناسخ ہو تو اس وقت یہ ترکیب نہ ہوگی لفظ شہر شہرت سے مشتق ہے اور رمضان رمض بمعنی احترق ( جل گیا) سے مشتق ہے پھر اس کی طرف شہر مضاف کرکے ایک خاص مہینے کا علم بنا دیا گیا علمیت اور الف و نون زائدہ کی وجہ سے لفظ رمضان غیر منصرف ہے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ رمضان کو رمضان اس واسطے کہتے ہیں کہ وہ گناہوں کو رمض کردیتا ہے یعنی جلا دیتا ہے اس حدیث کو اصبہانی نے ترغیب میں روایت کیا ہے۔ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ ( ایسا ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا) قرآن کو قرآن اس لیے کہتے ہیں کہ قراء کے معنی لغت میں جمع کرنے کے ہیں چونکہ قرآن پاک میں بھی سورتیں اور آیتیں اور حروف اور قصے اور امر و نہی اور وعدہ وعید جمع کئے گئے ہیں اس لیے اس کا نام بھی قرآن رکھ دیا اور یا قرأت سے اس کو مشتق مانا جائے اس وقت قرآن بمعنی مقروء ( پڑھا گیا) ہوگا ابن کثیر نے القراٰن قرانا، قراٰنہ کو جہاں کہیں واقع ہوں ہمزہ کو حذف کرکے اور اس کی حرکت را کو دے کر پڑھا ہے اور حمزہ نے حالت وقف میں ابن کثیر کا اتباع کیا ہے اور ان کے سوا دیگر قراء نے ہمزہ سے پڑھا ہے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ شافعی (رح) لفظ قرآن کو بغیر ہمزہ کے پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ لفظ قراءت سے مشتق نہیں بلکہ کتاب اللہ کا نام ہے جیسے توراۃ و انجیل نام ہیں۔ علامہ بغوی (رح) نے یہ بھی فرمایا ہے کہ مقسم فرماتے ہیں کہ کسی نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے متعدد موقعوں میں قرآن شریف کے نزول کا حال مختلف طور سے بیان فرمایا چناچہ اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پاک رمضان میں نازل ہوا ہے اور دوسری جگہ فرماتے ہیں ہم نے اس قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل فرمایا ہے اور ایک اور موقع پر فرماتے ہیں کہ ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں اتارا ہے حالانکہ تمام مہینوں میں نازل ہوا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : قرآناً فرقناہ یعنی قرآن کو ہم نے متفرق طور سے نازل کیا ہے یہ کیا بات ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن سب کا سب لوح محفوظ سے رمضان کے مہینہ کی لیلۃ القدر میں آسمان دنیا کے بیت العزت میں نازل ہوا پھر جبرئیل ( علیہ السلام) رسول اللہ کے پاس تھوڑا تھوڑا بیس برس میں بتدریج لائے آیۃ کریمہ : بمواقع النجوم کے بھی یہی معنی ہیں اور داؤد بن ابی ھند فرماتے ہیں کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن ماہ رمضان میں اتارا گیا ہے کیا تمام سال میں نہیں نازل ہوا فرمایا کیوں نہیں تمام سال ہی میں نازل ہوا ہے۔ رمضان میں نازل ہونے کو اس لیے فرمایا ہے کہ جس قدر نازل ہو چکتا تھا اس مہینے میں جبرئیل ( علیہ السلام) اس کا دور کرتے تھے پس جس مقدار کو اللہ تعالیٰ چاہتے تھے محکم اور ثابت رکھتے تھے اور جتنا چاہتے تھے بھلا دیتے تھے اور ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفے 3 رمضان کو اور ایک روایت کے موافق یکم رمضان کو نازل ہوئے اور تورات موسیٰ ( علیہ السلام) پر 6 رمضان کو نازل ہوئی اور انجیل عیسیٰ ( علیہ السلام) پر 13 رمضان کو نازل ہوئی اور ذبور حضرت داؤد ( علیہ السلام) پر 18 رمضان کو نازل ہوئی اور قرآن پاک محمد ﷺ پر رمضان کی اخیر چھ راتوں میں نازل ہوا۔ امام احمد اور طبرانی نے واثلہ بن الاسقع سے روایت کیا ہے کہ ابراہیم کے صحیفے رمضان کی اوّل رات میں نازل ہوئے اور تورات 6 رمضان کو نازل ہوئی اور انجیل 13 رمضان کو نازل ہوئی وا اللہ اعلم شھر رمضان اگر مبتدا ہو تو الذی اپنے صلہ سے مل کر اس کی خبر ہوگا اور اگر مبتدا محذوف کی خبر ہو یا بدل ہو تو موصول صلہ سے مل کر شہر رمضان کی صفت قرار دیا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مبتدا کی صفت ہو اور خبر فمن شھد ہو اور مبتدا چونکہ معنی شرط کو متضمن ہے اس لیے خبر پر فا لائے اور اس تقدیر پر انزل فیہ القرآن کے معنی یہ ہوں گے کہ ماہ رمضان جس کی شان میں قرآن نازل کیا گیا ہے قرآن سے مراد آیت کتب علیکم الصیام ( فرض کیے گئے تم پر روزے) ہوگی اور یہ اس لیے تفسیر کی گئی تاکہ قرآن کے نازل ہونے کو روزے کے واجب ہونے سے کچھ خصوصیت حاصل ہو ( کیونکہ اگر یہ معنی رکھے جائیں جو اوّل لکھے گئے ہیں۔ تو اس مبتداء کی خبر یعنی فمن شھد جس سے وجوب صوم مستفاد ہوتا ہے اس کو نزول قرآن سے کچھ تعلق نہ ہوگا۔ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقَانِ ۚ ( جو لوگوں کا رہنما ہے اور جس میں ہدایت اور امتیاز حق و باطل کے صاف صاف حکم ہیں) یعنی قرآن اپنے اعجاز سے گمراہی سے نکالتا ہے اور قرآن میں ایسی آیات واضح ہیں کہ وہ حلال حرام اور حدود اور احکام کی طرف راہ دکھاتی ہیں اور حق جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور باطل جو شیاطین انس و جن کی جانب سے ہے دونوں میں فصل اور فرق کرتی ہیں اور ھدٰی اور الفرقان دونوں القراٰن سے حال ہیں۔ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ ( سو جو شخص تم میں سے یہ مہینہ پائے) مطلب یہ ہے کہ جو تم میں سے مہینہ رمضان کا پائے اور تندرست اور مقیم ہو اور حیض و نفاس سے پاک و صاف ہو وہ روزے رکھے تندرست اور مقیم کو تو ہم نے اس لیے استثناء کیا ہے کہ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض اور مسافر کو افطار کی اجازت ہے اور حیض و نفاس سے پاک ہونے کی شرط احادیث مشہور سے لگائی گئی اور نیز اس پر اجماع بھی منعقد ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ سے پوچھا یا رسول اللہ عورتوں کے دین میں کیا کمی ہے آپ نے فرمایا دیکھتی نہیں ہو کہ جب حیض آتا ہے تو روزہ نماز کچھ نہیں کرسکتیں۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ فائدہ سب علماء نے اجماع کیا ہے کہ حیض والی عورت پر روزہ حرام ہے اور اگر رکھ لے تو صحیح نہیں اور قضا لازم ہے۔ واللہ اعلم فَلْيَصُمْهُ ( تو ضرور اس کے روزے رکھے) یعنی روزہ رکھنا چاہئے جیسے شروع اسلام میں فدیہ کافی تھا اب کافی نہیں۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ جو شخص مقیم ہو اور رمضان کا مہینہ آجائے پھر اس نے سفر کیا تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ آیا اس کو افطار کرنا جائز ہے یا نہیں حضرت علی سے تو یہ منقول ہے کہ افطار جائز نہیں۔ اور عبیدہ سلمانی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فَمَنْ شَھد منکم الشھر فلصیم یعنی جو تم میں رمضان کا مہینہ پائے اور وہ تندرست اور مقیم ہو تو روزہ رکھے یعنی تمام ماہ کے روزے رکھے اور اکثر صحابہ اور فقہا یہ کہتے ہیں کہ جب ماہ رمضان میں سفر کرے تو اس روز تو افطار جائز نہیں اس کے بعد افطار جائز ہے میں کہتا ہوں کہ اسی پر اجماع منعقد ہے اور اس صورت میں فلیصمہ کے معنی یہ ہیں کہ جتنے دن پائے روزہ رکھے اگر تمام مہینہ پائے تمام مہینے روزہ رکھے اور کچھ دن پائے تو اس میں روزہ رکھے اس تفسیر کی تائید حضرت جابر اور ابن عباس کی یہ حدیث کرتی ہے کہ رسول اللہ فتح مکہ کے سال مکہ تشریف لے گئے اور رمضان کے دن تھے اور آپ ﷺ نے روزہ رکھا جب آپ کدید پہنچے تو روزہ افطار کیا اور لوگوں نے بھی افطار کیا اور صحابہ ؓ جناب رسول اللہ کے پچھلے سے پچھلے فعل و قول پر عمل کیا کرتے تھے۔ مسئلہ اگر کوئی شخص اوّل دن میں مقیم ہو اور پھر سفر کرے تو اس کو اس دن امام ابوحنیفہ (رح) اور مالک اور شافعی (رح) اللہ کے نزدیک اس آیت کی وجہ سے افطار جائز نہیں کیونکہ اس نے اول دن کو تو پالیا اس لیے روزہ رکھنا چاہئے اور امام احمد اور داؤد ظاہری کہتے ہیں کہ اس دن بھی افطار جائز ہے اور دلیل اس کی علامہ ابن جوزی ابن عباس ؓ کی گذشتہ حدیث کو ( کہ جس میں یہ ہے کہ جب جناب سرور کائنات ﷺ کراع غمیم میں پہنچے تو آپ ﷺ نے افطار کیا) لائے ہیں اور نیز ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے رمضان میں سفر کیا جب آپ عسفان میں پہنچے تو ایک پیالہ پانی منگایا تاکہ سب کو دکھادیں اور پیا پھر سفر سے واپسی تک آپ ﷺ برابر ناغہ فرماتے رہے ( ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی اوّل دن میں مقیم اور روزہ دار ہو پھر اسی دن سفر کرے تو افطار جائز ہے) ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ان دونوں قصوں میں جناب رسول اللہ اس روز شروع دن میں مقیم نہ تھے کیونکہ موضع کراع غمیم اور عسفان مدینہ کی اوّل ہی منزل میں واقع تھے۔ مسئلہ اگر مریض یا مسافر نے حالت مرض یا سفر میں روزہ رکھ لیا اور پھر افطار کا ارادہ کیا تو امام احمد کے نزدیک جائز ہے۔ صاحب منہاج نے کہا ہے کہ شافعی (رح) کا بھی یہی مذہب ہے اور ابن ہمام کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کو افطار اس وقت جائز ہے کہ جب روزہ کی نیت نہ کی ہو اور اگر رات ہی میں نیت کرچکا ہے اور صبح اس حالت میں کی ہے کہ قبل از فجر اپنے ارادہ کو اس نے توڑا نہیں تو وہ روزہ دار ہے اس کو اس دن افطار جائز نہیں لیکن اس پر بھی اگر افطار کیا تو کفارہ نہیں جیسا گذشتہ مسئلہ میں کفارہ نہیں اور کراع غمیم والی حدیث اس مسئلہ میں امام احمد اور شافعی (رح) اللہ کے لیے حجت ہے۔ وَمَنْ كَانَ مَرِيْضًا اَوْ عَلٰي سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَيَّامٍ اُخَرَ ( اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو لازم ہے گنتی دوسرے دنوں سے) اس حکم کو مکرر اس لیے بیان فرمایا کہ یہ معلوم ہو کہ فدیہ منسوخ ہے اور معذور کے لیے افطار اور قضا کرنا منسوخ نہیں اور اگر فدیہ کا حکم منسوخ نہ ہوتا اور ایامًا معدودات سے مراد صرف رمضان ہی کا مہینہ ہوتا تو البتہ مریض اور مسافر کے حکم کو مکرر بیان فرمانے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ فائدہ قضا واجب ہونے کے حکم میں حائضہ اور نفساء بھی اجماع اور احادیث کی رو سے مریض اور مسافر کی طرح ہیں چناچہ معاذہ عدویہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ صدیقہ سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے کہ حیض والی عورت روزہ کی تو قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں کرتی حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ زمانہ نبوی میں ہم کو حیض آتا تھا تو ہم کو روزہ ہی کی قضا کا حکم تھا اور نماز کی قضا کا حکم نہ تھا۔ مسئلہ اس آیت سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسافر جب مقیم ہو اور مریض جب تندرست ہو تو بعد رمضان جتنے دنوں تک مریض تندرست رہا اور مسافر جب مقیم رہا ان دنوں کی قضا لازم ہے مثلاً کسی کے مرض یا سفر کی وجہ سے دس روزے فوت ہوئے اور بعد رمضان کے وہ دو دن تندرست یا مقیم رہا تو صرف ان ہی دو دن کی قضا لازم ہے اس میں اختلاف ہے کہ جس نے رمضان کے سوا اور دن پائے اور روزے قضا نہ کئے اور مرگیا تو آیا وارث پر فدیہ یا قضا واجب ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور مالک (رح) تو فرماتے ہیں کہ وارث پر کچھ لازم نہیں لیکن ہاں اگر میت فدیہ کی وصیت کر مرے تو تہائی مال سے وصیت کو جاری کرنا واجب ہے اور تہائی سے زیادہ میں بغیر وارثوں کی رضا کے تصرف کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح اگر کسی کے ذمہ نذر یا کفارہ کے روزے ہوں وہ اگر وصیت کر مرے تو تہائی ترکہ میں وصیت جاری ہوسکتی ہے۔ امام شافعی کا قدیمی قول تو یہ ہے کہ خواہ رمضان کے روزے ہوں یا نذر وغیرہ کے ہوں میت کی طرف سے ولی روزے رکھے اور جدید اور آخری قول یہ ہے کہ اس کی طرف سے اس کا ولی کھانا کھلائے اور امام احمدرمضان کے روزوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کھانا کھلایا جائے اور روزے رکھنا کافی نہیں اور اگر روزے نذر کے ہوں تو ولی روزے رکھدے ولی کے ذمہ روزے واجب ہونے پر ابن عباس ؓ کی حدیث پیش کرتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک عورت جناب رسول ﷺ اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور اسے نے عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں مرگئی ہے اور اس کے ذمہ ایک مہینے کے روزے ہیں اب میں اس کی طرف سے روزے رکھدوں حضور ﷺ نے فرمایا کہ بھلا اگر تیری ماں کے ذمہ قرض ہو تو تو ادا نہ کرے گی اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کیوں نہیں ضرور ادا کروں گی فرمایا پھر اللہ کا فرض تو اور زیادہ ادا کے قبل ہے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور حضرت بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ کی خدمت سراپا برکت میں آئی اور عرض کیا یا رسول اللہ میری ماں کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہیں اگر میں روزے رکھوں تو کیا اس کی طرف سے ادا ہوجائیں گے ؟ فرمایا ہاں اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے دریا کا سفر کیا اور یہ نذر کی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس سے نجات دے دی تو میں ایک مہینے کے روزے رکھوں گی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کو نجات دے دی اس نے وہ روزے نہ رکھے حتیٰ کہ وہ مرگئی اس کی کسی رشتہ دار عورت نے یہ قصہ فخر عالم ﷺ کی خدمت بابرکت میں ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اس کی طرف سے روزے رکھدے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میری ماں کے ذمے ایک نذر تھی اور وہ بغیر کئے مرگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو اس کی طرف سے ادا کردے۔ ان احادیث میں سے بعض میں نذر کا صریح زکر ہے اور بعض مطلق ہیں ان میں نذر کا ذکر نہیں اب امام احمد نے تو فرمایا ہے کہ نذر کی صورت میں ولی پر روزہ واجب ہے اور جس حدیث میں نذر کا ذکر نہیں اس کو بھی صوم نذر ہی پر محمول کریں گے۔ میں کہتا ہوں کہ جب الفاظ حدیث کے مطلق ہیں اور نذر کی اس میں قید نہیں پائی جاتی تو اس کو نذر پر حمل کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ یہ احادیث صحیح جو مذکور ہوئیں ہیں یہ تو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ولی کو میت کی طرف سے مطلقاً روزہ رکھنا جائز ہے خواہ وہ روزہ نذر کا ہو یا رمضان کا اور کوئی حدیث ان میں سے اس پر دلالت نہیں کرتی کہ وارث پر روزہ واجب ہے اس لیے یہ احادیث امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کو کچھ مضر نہیں اور خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ولا تذروا وازرۃ وزرا اخرٰی ( یعنی کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا) اور اس صورت میں اس آیت کے خلاف لازم آتا ہے کیونکہ اگر میت کی طرف سے وارث روزہ نہ رکھے تو واجب کا ترک ہوا اور واجب کے ترک میں عقاب ہوتا ہے تو دوسرے کے فعل سے اس کا ماخوذ ہونا لازم آتا ہے اور جو لوگ میت کی طرف سے کھانا کھلانے کو فرماتے ہیں ان کی دلیل ابن عمر ؓ کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے ہوں تو اس کی طرف سے ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ ہم اس حدیث کی سند سوائے اس سند کے کہ جس میں اشعث بن سوار راوی ہے اور کوئی نہیں جانتے اور اشعث بن سوار کچھ نہیں اور اس میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ بھی راوی ہے اور وہ بھی ضعیف اور مضطرب الحدیث ہے اور صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث ابن عمر ؓ پر موقوف ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) ولی کے روزے رکھنے اور کھانا کھلانے کو جو ناکافی سمجھتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ طاعت میں نیابت جاری نہیں ہوتی کیونکہ طاعت سے نیت اور امتثال حکم خداوندی مقصود ہے اور یہ نیت اور امتثال ہی ثواب اور عقاب کا مدار ہے اور وارث پر روزہ یا مال واجب ہونے کو حق تعالیٰ کا قول : ولا تزر وازرۃ وزر اخرٰی صاف منع کر رہا ہے اس لیے وارث پر کچھ واجب نہیں ہاں اگر میت وصیت کرے تو اس کی وصیت کو پورا کرنا واجب ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : من بعد وصیۃ یوصیٰ بھا اور دین یعنی میراث بعد وصیت یا فرض کے ہے کہ میت وصیت کرے اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ روزے کے عوض اس کو قبول فرمالیں ‘ وا اللہ اعلم۔ میں کہتا ہوں کہ تحقیق مقام یہ ہے کہ اگر وارث میت کی طرف سے بطور تبرع و احسان روزہ رکھ دے یاصدقہ دے دے تو حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کو قبول فرمالیں گے اور میت کو خلاصی بخشیں گے لیکن یہ وارث کے ذمہ واجب نہیں جیسا کہ ہم ذکر کرچکے ہیں چناچہ بزار نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ اگر چاہے تو ولی میت کی طرف سے روزہ رکھ دے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ولی کے ذمہ واجب نہیں لیکن اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ یہ ابن لھیعہ کے طریق سے مروی ہے۔ يُرِيْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ ( اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تم پر آسانی کرنی اور نہیں چاہتا ہے سختی) یعنی اللہ تعالیٰ تم پر سہولت کا ارادہ کرتے ہیں چناچہ اسی واسطے مرض اور سفر میں فطر اور قضا کو مباح فرمایا ابو جعفر نے العسر اور الیسر کو بضم سین پڑھا ہے اور باقی قراء نے سین کو ساکن کرکے پڑھا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مریض اور مسافر کے لیے افطار کرنا بوجہ سہولت کے رخصت ہے عزیمت نہیں ہے حتیٰ کہ اگر مریض اور مسافر روزہ رکھ لیں تو سب کے نزدیک صحیح ہے لیکن ابن عباس اور ابوہریرہ و عروہ بن الزبیر و علی بن الحسن ؓ سے مروی ہے کہ سفر میں روزہ جائز نہیں اور اگر کوئی روزہ رکھ لے تو اس پر قضا واجب ہے اس قول کی دلیل آیت : فعدۃ من ایام اخر ( اس پر گنتی ہے اور دنوں سے) ہے اس لیے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے اور دنوں میں ہی روزہ رکھنے کو مشروع فرمایا ہے اگر رمضان میں رکھ لیا تو گویا قبل از وجوب رکھا اس لیے جائز نہ ہوگا۔ ہم کہتے ہیں کہ سبب وجوب ماہ رمضان ہے اور سفر وجوب ادا کو مانع ہے نفس وجوب کو مانع نہیں اس لیے اگر رمضان میں مسافر نے روزہ رکھا تو وجوب کے بعد ہی رکھا اس لیے صحیح ہے اور اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی نے سال گذرنے سے پیشتر زکوٰۃ ادا کردی اور جمہور کے مذہب کی تائید ابو سعید کی حدیث کرتی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ہمراہ رمضان کی 16 تاریخ کو غزوہ میں گئے بعض نے تو ہم میں سے روزہ رکھا اور بعض نے افطار کیا تو جو روزہ دار تھے انہوں نے روزہ رکھنے والوں کو عیب اور طعنہ نہیں دیا اور نہ روزہ نہ رکھنے والوں نے روزہ داروں کو کچھ کہا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور اس مضمون کی حدیث جابر اور انس ؓ سے بھی مروی ہے جابر ؓ کی حدیث تو مسلم میں ہے اور انس ؓ کی موطا میں۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ ( اور تاکہ تم گنتی پوری کرو) العدۃ میں الف و لام مضاف الیہ کے عوض ہے تقدیر عبارت کی یہ ہے : عدۃ شھر رمضان بقضاء ما افطر منہ ( یعنی تاکہ ماہ رمضان کی شمار افطار کئے ہوئے روزوں کو قضا کرکے پوری کرلو۔ ابن عمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے اس لیے بغیر چاند دیکھے روزہ نہ رکھو اور نہ بغیر دیکھے افطار کرو اور اگر انتیس کو چاند نہ دکھائی دے تو پورے تیس دن کرلو۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ابوبکر نے ولتکملوا کو تشدید میم سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے تخفیف سے پڑھا ہے ولتکملوا العدۃ کا مع اپنے معطوف ولتکبروا .... کے الیسر پر عطف ہے یا تو اس وجہ سے کہ الیسر باعتبار معنی کے ما قبل کی علت ہے اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ ہم نے یہ احکام یعنی مریض اور مسافر کے لیے افطار کو مباح کرنا اور مرض کے ایام کی قدرقضا واجب کرنا اس لیے مشروع کردیئے تاکہ تم پر سہولت ہو اور تاکہ تم ماہ رمضان کے دنوں کی گنتی افطار ( کئے ہوئے روزوں کو قضا کرکے پوری کرلو۔۔ ) یا لتکملوا کے لام کو تاکید کے لیے زائد کیا جائے اور تکملوا کا بتقدیر ان الیسر پر عطف مانا جائے اور تکملوا کو یرید کا مفعول گردانا جائے اس تقدیر پر یہ حاصل ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم پر سہولت کا ( اور اس امر کا کہ تم ماہ رمضان کی گنتی قضا سے پوری کرلو اور اس بات کا کہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اور اس کا شکر کرو) ارادہ کرتے ہیں۔ یا لتکملوا کو فعل محذوف کے متعلق کیا جائے اور اس فعل کا یرید اللہ ..... پر عطف کہا جائے اس بنا پر یہ مطلب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ سہولت کا ارادہ فرماتا ہے اور تم کو قضا کا حکم فرماتا ہے تاکہ تم ماہ رمضان کی شمار پوری کرلو۔ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ ( اور تاکہ بڑائی کرو اللہ کی اس بات پر کہ اس نے تم کو سیدھی راہ دکھائی) علی ما ھداکم میں ما یا تو مصدریہ ہے یا موصولہ اگر مصدریہ ہو تو یہ معنی ہوں گے تاکہ تم اللہ کی ہدایت کرنے اور راہ بتانے پر اس کی بڑائی کرو “ اور اگر موصولہ ہو تو یہ حاصل ہوگا کہ تم اللہ کی بڑائی ان اشیاء پر کرو جن کی تم کو رہنمائی کی ہے اور جن کے ذریعہ سے تم اپنے پروردگار کی رضا حاصل کرسکتے ہو اور اپنے ذمہ کو فارغ کرسکتے ہو اور بہت بڑے ثواب کی دولت لے سکتے ہو۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ : لتکبروا اللہ ...... سے مراد عید الفطر کی رات کی تکبیرات ہیں۔ امام شافعی نے ابن مسیب اور عروہ اور ابی سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لوگوں کی عادت تھی کہ عید الفطر کی رات میں تکبیرات پکار پکار کر پڑھتے تھے اور بعض نے کہا ہے کہ خود عید الفطر کے دن کی تکبیرات مقصود ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے تکبیر سے مراد عید کی نماز ہو یا عید کی نماز کی تکبیرات ہوں پس اس تقدیر پر اس آیت سے یہ مستنبط ہوا کہ تکبیرات عید کی واجب ہیں اور خود نماز بھی بالالتزام واجب ہے کیونکہ صرف تکبیرات نماز سے باہر عید کی رات یا دن میں کسی کے نزدیک واجب نہیں اس لیے ہم ان تکبیرات کو یا تو نماز عید کی تکبیرات پر محمول کریں گے اور یا جزو کا نام کل کو دینے کے طور پر خود نماز عید اس سے مراد لیں گے جیسے آیت : و قُرْاٰنَ الْفجر سے صبح کی نماز اسی طریق سے مراد ہے وا اللہ اعلم اور چونکہ آیت کے اندر کئی احتمال ہیں اس لیے عید کی نماز فرض قرار نہیں دی گئی۔ رہا وجوب سو وہ جناب رسول اللہ کے مداومت فرمانے سے سمجھا گیا۔ وا اللہ اعلم۔ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ( اور تاکہ تم احسان مانو) یعنی تاکہ تم روزہ کے واجب ہونے پر شکر کرو اس لیے کہ وہ درجات کے ملنے کا وسیلہ و ذریعہ ہے اور مریض اور مسافر کے لیے افطار کے مباح ہونے پر شکر کرو کیونکہ اس میں تمہارے لیے تخفیف اور رخصت ہے اور لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ کا لِتُکَبِّرُوْا اللہ پر عطف ہے۔ فصل : ماہ رمضان اور اس کے روزوں کی فضیلت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو شیطان اور سرکش جن جکڑ دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں کوئی دروازہ اس کا کھولا نہیں جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کا کوئی دروازہ بند نہیں ہوتا اور منادی ندا دیتا ہے کہ اے بھلائی کے طالب اور اے بڑائی کے طالب بس کر آج جہنم سے اللہ کی طرف سے بہت سے نجات پانے والے ہیں یہ ندا ہر رات ہوتی ہے اس حدیث کو ترمذی ‘ ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔ طبرانی نے اوسط میں حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ذکر کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ اللہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کو رمضان میں یاد کرنے والے کے لیے مغفرت ہوتی ہے اور دعا کرنے والا محروم نہیں رہتا اور مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص رمضان میں اخلاص سے اور ثواب کی امید کرکے روزے رکھے اس کے پچھلے گناہ بخشے جائیں گے اور جو لیلۃ القدر میں اخلاص اور ثواب کی امید سے قیام کرے اس کے بھی پچھلے گناہ بخشے جائیں گے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اللہ نے 30 شعبان کو خطبہ پڑھا اور اس میں فرمایا اے لوگو ! ایک بڑا عظیم الشان مہینہ آیا ہے اور یہ مہینہ بڑی برکت والا ہے اس مہینہ میں لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے روزوں کو فرض فرمایا ہے اور اس کی رات میں قیام کرنے کو نفل فرمایا ہے جو شخص اس مہینے میں کوئی خیر کا کام کرے تو اس کا ایسا ثواب ہے جیسے اور مہینے میں فرض کا اور جو اس مہینے میں فرض ادا کرے اس کا ایسا ثواب ہے جیسے کسی نے ستر فرض ادا کیے یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ غمخواری کا ہے اور اس مہینے میں رزق بڑھتا ہے جو اس مہینے میں کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے گناہوں کی مغفرت اور ایک گردن آزاد کرنے کا ثواب ہوگا اور اس کو مثل روزہ دار کے ثواب ہوگا اور اس کا ثواب بھی کم نہ ہوگا صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ ہر ایک کو تو اتنی مقدرت نہیں کہ روزہ افطار کرائے حضور ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایک گھونٹ دودھ کا یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی کا پلائے گا اللہ تعالیٰ اس کو اس قدر ثوابدیں گے اور جو روزہ دار کو شکم سیر کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اس کو میرے حوض کوثر سے ایسا گھونٹ پلائیں گے کہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا۔ اس مہینے کے شروع میں تو رحمت ہے اور درمیان میں مغفرت ہے اور آخر میں آگ سے خلاصی۔ اس لیے تم کو اس ماہ میں چار خصلتوں کی پابندی کرنی چاہئے۔ دو خصلتیں تو ایسی ہیں کہ ان سے تم اپنے پروردگار کو راضی کرو اور دو ان میں ایسی ہیں کہ ان سے تم کو لاپروائی نہیں ہوسکتی پروردگار کے راضی کرنے کی دو خصلتیں یہ ہیں کہ اوّل تو گواہی اس بات کی دو کہ کوئی معبود سوائے اللہ کے نہیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور دو خصلتیں جن سے تم کو لاپروائی نہیں ہوسکتی ان میں سے اوّل تو یہ ہے کہ جنت کا سوال کرتے رہو اور دوسرے یہ کہ آگ سے پناہ مانگتے رہو اس حدیث کو علامہ بغوی (رح) نے روایت کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ابن آدم کو ہر نیکی کا ثواب دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک ملتا ہے اور یہ سب ثواب روزہ کے سوا دوسرے اعمال خیر کا ہے روزہ کی نسبت تو حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا ثواب دوں گا وہ اپنا کھانا اور پینا اور شہوت میرے ہی لیے چھوڑتا ہے اور فرمایا روزہ دار کے لیے دو طرح کی خوشی ہے ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی پروردگار سے ملنے کے وقت۔ روزہ دار کو چاہئے کہ جس دن روزہ رکھے تو بےہودہ باتیں اور شور و شغب نہ کرے اور اگر کوئی اس کو برا کہے یا لڑے تو کہہ دے کہ بھائی میں روزہ دار ہوں اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور عبد اللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ روزہ اور قرآن یہ دونوں قیامت کے دن بندہ کی شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے پروردگار میں نے اس کا کھانا اور خواہشات دن کو روک دی تھیں اب اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما اور قرآن شریف کہے گا کہ اے اللہ میں نے رات کو اس کی نیند کھوئی تھی اس لیے میری سفارش قبول فرما اللہ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول فرمالیں گے اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ رمضان کی آخری شب میں میری امت کی مغفرت کی جاتی ہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا وہ رات لیلۃ القدر ہے فرمایا نہیں لیلۃ القدر تو نہیں لیکن قاعدہ ہے کہ جب کام کرنے والا اپنے کام سے فارغ ہوتا ہے تو اس کو مزدوری پوری دی جاتی ہے (ایسے ہی اس رات میں بندے مالک کے فرض سے ادا ہوتے ہیں اس لیے ان کو مغفرت ملتی ہے) اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ اور ابو الشیخ وغیرہم نے بطریق جریر بن عبد الحمید السجستانی سے اور انہوں نے صلت بن حکیم بن معاویہ بن جبیر سے اور انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی رسول ﷺ اللہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ ہمارا پروردگار کہاں ہے اگر قریب ہے تو اس سے چپکے چپکے دعا کریں اور دور ہے تو اس کو پکاریں حضور ﷺ نے سن کر سکوت فرمایا اس کے بعدہی آیت ذیل نازل ہوئی۔