2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:256

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین (اسلام) میں زبردستی نہیں ہے ہدایت (صاف طور پر ظاہر اور) گمراہی سے الگ ہو چکی ہے تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور خدا پر ایمان لائے اس نے ایسی مضبوط رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور خدا (سب کچھ) سنتا اور (سب کچھ) جانتا ہے

لَآ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (دین میں کسی طرح کا جبر نہیں ہے) ابو داؤد، نسائی اور ابن حبان (رح) نے حضرت ابن عباس کا مقولہ نقل کیا ہے کہ ( اسلام سے پہلے مدینہ میں) جس عورت کا بچہ نہ جیتا تھا وہ منت مان لیتی تھی کہ اگر میرا بچہ کوئی زندہ رہا تو میں اس کو یہودی بنا دوں گی۔ ( یہ منت قبائل انصار کی عورتیں مانتی تھیں) چناچہ بنو نضیر ( کے یہودیوں) کو جب جلا وطن کیا گیا تو ان کے اندر کچھ انصار کے بچے بھی تھے ( جن کو یہودی بنا دیا گیا تھا) انصار کہنے لگے یہ تو ہمارے بچے ہیں ہم ان کو نہیں جانے دیں گے اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی نزول آیت کے بعد رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے آدمیوں کو اختیار دیدو اگر وہ تمہارے ساتھ رہنا پسند کریں تو تم میں سے ہیں ( ان کو مدینہ سے خارج نہ کیا جائے) اور اگر وہ ان ( یہودیوں) کے ساتھ رہیں تو یہودیوں کے ساتھ ان کو بھی جلا وطن کردو۔ مجاہد کا بیان ہے کہ قبیلۂ اوس کے کچھ لوگ یہودی قبائل میں اپنے بچوں کو دودھ پلوایا کرتے تھے ( جب یہودیوں کو جلا وطن کیا گیا تو) جن لڑکوں نے یہودنوں کا دودھ پیا تھا وہ کہنے لگے کہ ہم بھی انہی کے ساتھ جائیں گے ورنہ ( کم از کم) ان کا مذہب اختیار کرلیں گے ان لڑکوں کے سرپرستوں نے ان کو ( دونوں باتوں سے) روکا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر نے بوساطت سعید یا عکرمہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قبیلۂسالم بن عوف کے انصاریوں میں سے ایک آدمی تھا جس کا نام حصین تھا۔ حصین کے دو بیٹے عیسائی تھے لیکن وہ خود مسلمان ہوگئے تھے انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا میرے دونوں بیٹے تو عیسائیت کے سوا کسی دین کو مانتے ہی نہیں کیا میں جبر کرکے ان کو مسلمان بنا لوں اس پر آیت : لا اکراہ فی الدین نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایماندار ہونے میں جبر کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اکراہ ( جبر) کا صرف یہ معنی ہے کہ کسی سے بزور ایساکام کرایا جائے جس کو وہ اپنی خوشی سے نہ کرنا چاہتا ہو ایسا اکراہ قول و فعل میں تو ممکن ہے ایمان میں ممکن نہیں ایمان تو صرف ایک قلبی عقیدہ کا نام ہے اور قلبی عقیدہ اکراہ سے نہیں پیدا ہوتا یا لا اکراہ فی الدین ہے تو جملۂ خبریہ منفیہ مگر اس کا معنی ( انشائی یعنی) نہی کا ہے یعنی ایمان پر کسی کو مجبور نہ کرو کیونکہ ایمان جبر سے نہیں پیدا ہوتا جبر کرنا بےفائدہ ہے یا ممانعت کی یہ وجہ ہے کہ ایمان اور دوسری تمام عبادتوں کا حکم آزمائش کے لیے ہے ( کہ کون کرتا ہے اور کون نہیں کرتا) اللہ نے فرمایا ہے : لیبلوکم ایکم احسن عملا اور تعمیل حکم میں خلوص کا ہی اعتبار ہے اللہ نے فرمایا : فاعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین لیکن جبر کرنے میں نہ آزمائش رہتی ہے نہ خلوص۔ مسئلہ : کیا یہ حکم عام ہے یا خاص ؟ بعض علماء کا قول ہے کہ عدم اکراہ کا حکم صرف اہل کتاب کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ بیان مذکور بالا سے واضح ہوگیا ہے کہ انصاریوں کے جو بچے یہودی یا عیسائی ہوگئے تھے انہی کے سلسلہ میں آیت : لا اکراہ فی الدین کا نزول ہوا تھا۔ میں کہتا ہوں مورد کی خصوصیت حکم کی خصوصیت کو نہیں چاہتی اس لیے حکم عام رہے گا۔ بعض علماء نے کہا آیت مذکورہ کا حکم آیت : قاتلوا المشرکین کافۃً اور جاھِدِ الْکُفّارَ وَالمُنَافِقِیْن کے حکم سے منسوخ ہوگیا بقول بغوی (رح) حضرت ابن مسعود ؓ کا یہی قول ہے میں کہتا ہوں نسخ تو اسی وقت ممکن ہے جب دو حکموں میں تعارض ہو۔ مگر یہاں تو ایک حکم دوسرے کی ضد نہیں ہے قتال اور جہاد کا حکم اس لیے تو نہیں دیا گیا کہ جبراً مؤمن بنایا جائے بلکہ زمین پر بگاڑ اور تباہی کو روکنے کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے کافر ملک میں تباہی مچاتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو راہ مستقیم پر چلنے اور اللہ کی عبادت کرنے سے روکتے ہیں پس ان کو قتل کرنا ایسا ہی ہے جیسے سانپ بچھو اور کاٹنے والے کتے کو ہلاک کرنا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے اسیلیے اللہ نے ادائے جزیہ کی صورت میں قتال کے حکم کو ختم کردیا اور فرمادیا : حتی یعطوا الجزیہ عن ید وھم صاغرون اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بچوں عورتوں، درویشوں، تارک الدنیا، عالموں، اپاہجوں اور اندھوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرما دی کیونکہ ان کی طرف سے بگاڑ اور تباہی ممکن نہیں۔ جبراً ایمان کا تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا پھر اسکے منسوخ ہونے کا معنی ہی کیا ہوسکتا ہے۔ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ( یعنی حقیقت کھل گئی ہے) رسول اللہ کے معجزات اور عقلی شواہد نے بتادیا کہ ایمان ہی سیدھا راستہ ہے جو لا زوال سعادت تک پہنچاتا ہے اور کفر کا راستہ ٹیڑھا ہے جو ابدی بد بختی تک پہنچاتا ہے۔ اب انسانوں کا ہر عذر ختم ہوگیا ‘ حجت تمام ہوگئی ‘ آزمائش صحیح ہوگئی اکراہ کی ضرورت نہیں رہی۔ بیضاوی (رح) نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اکراہ کا معنی ہے کسی کو ایسا کام کرنے پر مجبور کرنا جس میں اسے خود بھلائی نظر نہ آتی ہو لہٰذا دین میں اکراہ نہیں ہوسکتا کیونکہ دین کی بھلائی۔ گمراہی سے ممتاز ہوگئی ہے اور ہر دانشمند پر جب ہدایت واضح ہوگئی تو لا محالہ نجات وسعادت کی طلب میں وہ ہدایت کو ماننے کی طرف پیش قدمی کرے گا ہی، اکراہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔ بیضاوی کے اس بیان پر لازم آتا ہے کہ ہر عقلمند اپنی مرضی اور خوشی سے مؤمن ہوجائے ( کیونکہ ہر ہوش مند دین کی بھلائی دیکھ چکا) حالانکہ بکثرت عاقل کافر ہیں اور اگر دانشمند سے عقل سلیم رکھنے والا مراد ہو اور کافر اگرچہ بکثرت دانشمند ہیں مگر ان کی عقل سلیم نہیں ہے اس لیے ایمان میں ان کو بھلائی نظر نہیں آتی تو لا محالہ اکراہ کی ضرورت ان کے لیے باقی رہتی ہے (یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ دین میں اکراہ کی ضرورت نہیں رہی) فَمَنْ يَّكْفُرْ بالطَّاغُوْتِ (طاغوت طغیان سے ماخوذ ہے اس کا وزن فعلُوت ہے ( اصل میں طغو وت تھا) اوّل واؤ کو طاء اور غین کے درمیان لے گئے اور الف سے بدل دیا۔ یا طاغوت کا وزن فاعول ہے لام کو تاء سے بدل دیا یعنی اصل میں طاغول تھا لام کو حذف کرکے تاء کو بڑھا دیا۔ طاغوت سے مراد اللہ کے سواد وسرے تمام معبود یا وہ معبود جو اللہ کی عبادت سے مانع ہوں خواہ جنی شیطان ہو یا انسان۔ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ (یعنی جس نے اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کا انکار کیا اور اللہ کو اس طرح مانا جس طرح رسول اللہ نے بتایا۔ کیونکہ رسول کو مانے بغیر اور آپ کی ہدایت سے ہٹ کر اللہ کو بالکل صحیح طور پر ماننا ممکن ہی نہیں ( ذات وصفات کا مسئلہ عقل کی رسائی سے خارج ہے رسول برحق کی مشعل راہ کی ضرورت ہے) فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى (تو اس نے پکڑنا چاہا مضبوط رسی کو) مضبوط رسی کو پکڑنے سے مراد ہے حق کو تھام لینا۔ حق کو پکڑنے کی تعبیر بطور استعارہ مضبوط رسی کو پکڑنے سے کی ہے۔ لَا انْفِصَامَ لَهَا ( رسی بھی جو ٹوٹ نہیں سکتی) (1) [ حضرت ابو درداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا میرے بعد ابوبکر اور عمر کی اقتداء کرنا یہ اللہ کی تانی ہوئی رسی ہیں۔ جس نے ان کو پکڑ لیا اس نے اللہ کی مضبوط رسی کو پکڑ لیا جو ٹوٹ نہیں سکتی۔ مؤلف (رح) ] وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ یعنی تم جو لوگوں کو دعوت حق دے رہے ہو اور جو تمہارا قول ہے اور جو ان کے اقوال ہیں اللہ سب کو سننے والا ہے۔ عَلِيْمٌ اللہ سب کی نیتوں سے واقف ہے تم ان کے مؤ من ہونے کے جتنے خواہش مند ہو اس کو بھی اللہ جانتا ہے اس آیت میں اعمال اور ارادوں کو درست رکھنے کی ترغیب اور کفر و نفاق سے توبیخی باز داشت ہے۔
Ayah 2:257

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست خدا ہے کہ اُن کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں یہی لوگ اہل دوزخ ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا (یعنی اللہ ایمان والوں کا دوست ہے ان کا کار ساز ہے۔ الذین امنوا سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو اللہ مؤمن بنانا چاہتا ہے۔ ۙيُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ (یعنی جن لوگوں کا مؤمن ہونا خدا چاہتا ہے ان کو اپنی توفیق و ہدایت کی مدد سے جہالت نفس پرستی ذہنی وسوسوں اور کفر تک پہنچانے والے شبہات سے نکال کر اس صراط مستقیم پر لاڈالتا ہے جو ایمان تک ان کو پہنچا دیتی ہے۔ واقدی (رح) نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں جس جگہ الفاظ ظلمت و نور آئے ہیں ان سے مراد کفر و ایمان ہے ہاں صرف سورة انعام کی آیت : جعل الظلمات والنور میں شب و روز مراد ہیں۔ آیت مذکورہ بتارہی ہے کہ ایمان ( اختیاری نہیں) صرف عطیۂ خداوندی ہے۔ جملہ یخرجھم من الظلمات یا تو اللہ تعالیٰ کی دوسری خبر ہے یا امَنُوا کی ضمیر کا حال ہے یا الذین کا حال ہے یا دونوں سے حال ہے یا مستقل علیحدہ کلام ہے جس سے مفہوم ولایت کی توضیح یا تاکید ہو رہی ہے۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَوْلِيٰۗــــــُٔــھُمُ الطَّاغُوْتُ ( یعنی جن لوگوں نے ایمان سے انکار کردیا ان کے دوست شیطان ہیں انسانی شیطان اور جناتی شیطان۔ انسانی شیطانوں میں سے کعب بن اشرف اور حیی بن اخطب (یہودی) بھی تھے۔ یا طاغوت سے مراد ہے انسان کو گمراہ کرنے والی ہر چیز خواہ خواہش نفس ہو یا شیطان وغیرہ کافروں کے خیال میں یہ گمراہی آفریں چیزیں ان کی دوست اور کارساز ہوتی میں مگر واقع میں وہ دوست نہیں دشمن ہیں۔ يُخْرِجُوْنَـھُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ (یعنی کافروں کے یہ دوست ان کو فطری نور سے نکال کر شکوک و شبہات، نفس پرستی اور کفر انگیز تباہی کی اندھیریوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا : کوئی بچہ ایسا نہیں کہ فطرت پر نہ پیدا کیا جائے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنالیتے ہیں (بخاری و مسلم) ابن جریر ؓ نے حضرت عبدہ بن ابی لبابہ کا قول نقل کیا ہے کہ الذین کفروا سے وہ عیسائی مراد ہیں جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تو مانتے تھے لیکن جب محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے آپ ﷺ کو نہیں مانا۔ ظُلُمٰت سے مراد ہیں شکوک و شبہات، نفس پرستی اور فطری قابلیت کا بگاڑ جس کا نتیجہ کفر ہے۔ نور سے تاریکی کی طرف نکال کر لیجانے کا سبب طاغوت ہے اس لیے اخراج کی نسبت طاغوت کی طرف کردی گئی لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ اللہ کی قدرت اور ارادہ کا تعلق اخراج سے نہیں ( یقیناً اللہ کی قدرت اور ارادہ سے ہر قسم کا گناہ ہوتا ہے مگر گناہ کا ذریعہ اور سبب شیطان ہوتا ہے) لفظ طاغوت کا اطلاق مذکر پر بھی ہوتا ہے اور مؤنث پر بھی واحد پر بھی اور جمع پر بھی۔ اللہ نے فرمایا ہے : یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوٓا اِلَی الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْا اَنْ یَّکْفُرُوْابِہٖ ( اس میں طاغوت کے لیے واحد مذکر کی ضمیر لائی گئی ہے) دوسری آیت ہے : وَالَّذِیْنَ اجْتَنَبُوْا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْھَا ( اس میں واحد مؤنث کی ضمیر طاغوت کے لیے استعمال کی گئی ہے) ابن جریر ؓ نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد آپ ﷺ پر ایمان نہ لائے اور کچھ لوگ حضرت عیسیٰ کی نبوت کے منکر تھے لیکن رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ کی نبوت پر وہ ایمان لے آئے ان دونوں فرقوں کے متعلق آیت مذکورہ کا نزول ہوا۔ طبرانی (رح) نے کبیر میں اور ابن منذر نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) پر تو ایمان لے آئے تھے لیکن رسول اللہ کی نبوت کے منکر ہوئے۔ وا اللہ اعلم۔ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ( یہی لوگ دوزخی ہیں دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) یہ کافروں کے لیے دھمکی اور وعید عذاب ہے اس سے پہلے مؤمنوں کے لیے وعدۂ ثواب کا اس لیے ذکر نہیں کیا کہ اہل ایمان کی شان بڑی باعظمت ہے ( کافروں کی وعید کا مؤمنوں کے وعدہ سے مقابلہ ہی کیا) یہ توجیہ بعض علماء نے کی ہے لیکن صحیح ترین توجیہ یہ ہے کہ آیت : اَﷲُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ہر قسم کے وعدہ کو متضمن ہے (صراحت وعدہ کی کوئی ضرورت نہیں) ۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

بھلا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جو اس (غرور کے) سبب سے کہ خدا نے اس کو سلطنت بخشی تھی ابراہیم سے پروردگار کے بارے میں جھگڑنے لگا۔ جب ابراہیم نے کہا میرا پروردگار تو وہ ہے جو جلاتا اور مارتا ہے۔ وہ بولا کہ جلا اور مار تو میں بھی سکتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ خدا تو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے آپ اسے مغرب سے نکال دیجیئے (یہ سن کر) کافر حیران رہ گیا اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَاۗجَّ اِبْرٰھٖمَ فِيْ رَبِّهٖٓ (کیا تم کو اس شخص کا واقعہ معلوم نہیں ہوا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کے رب کے متعلق جھگڑا کیا تھا) نمرود کی کٹ حجتی اور حماقت پر اس آیت میں تعجب دلایا گیا ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ نمرودہی پہلا شخص ہے جس نے سر پر تاج پہنا، ربوبیت کا دعویٰ کیا اور زمین پر زبردستی کی۔ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ (اَنْ سے پہلے لام محذوف ہے جھگڑا کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے اس کو حکومت عطا کی تھی۔ اس لیے اس نے سرکشی کی۔ حکومت کا غرور اس کے جھگڑا کرنے کی علت تھا یعنی اس نے عطاء خداوندی کے تقاضے کے خلاف کیا عطاء کا لازمی تقاضا تو یہ تھا کہ وہ شکر کرتا مگر کیا اس نے بر عکس۔ عرب کہتے ہیں : عَادَیْتَنِیْ لِاَنِّیْ اَحْسَنْتُ اِلَیْکَ ( تو میرا دشمن اس لیے ہوگیا کہ میں نے تجھ سے بھلائی کی) یا لفظ وقت محذوف ہے یعنی جبکہ اللہ نے اس کو حکومت عطا کی تھی اس وقت اس نے جھگڑا کیا۔ بعض معتزلہ جو کہتے ہیں کہ اللہ کافر کو حکومت نہیں دیتا ہے ان کے قول کے خلاف اس آیت میں ( کافر کو ملک عطا کرنے کی) صراحت ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ روئے زمین کے چار بادشاہ ہوئے دو مؤمن اور دو کافر۔ حضرت سلیمان اور ذوالقرنین مؤمن اور نمرود و بخت نصر کافر۔ روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بت توڑ ڈالے تو نمرود نے ان کو قید کردیا۔ پھر جلا ڈالنے کے لیے جیل سے باہر نکال کر پوچھا : تیرا رب کون ہے ؟ حضرت نے فرمایا : میرا رب وہ ہے جو زندگی عطا فرماتا اور موت دیتا ہے اس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) غالب آگئے اور نمرود کچھ نہ کرسکا۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ یہ واقعہ آگ میں پھینکے جانے سے بعد کا ہے۔ آپ کو آگ میں جب پھینک دیا گیا ( اور اللہ نے بچا لیا) تو ملک میں کال پڑگیا لوگ راشن مانگنے نمرود کے پاس آنے لگے۔ نمرود کا قاعدہ تھا کہ جب کوئی شخص غلہ مانگنے اس کے پاس آتا تو اوّل وہ پوچھتا کہ تیرا رب کون ہے ؟ اگر وہ جواب دیتا آپ میرے رب ہیں تو نمرود اس کے ہاتھ غلہ فروخت کرتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس کے پاس پہنچے اور اس کے سوال جواب میں آپ نے فرمایا : ربی الَّذِی یحی و یمیت تو وہ لاجواب ہوگیا اور آپ کو کچھ نہیں دیا حضرت ناکام واپس آگئے اثناء واپسی میں ریت کے ایک ٹیلہ کی طرف سے گذرے اور گھروالوں کو بہلانے کے لیے تھیلے میں کچھ ریت بھر لی اور گھر پہنچ کر سامان کو یونہی رکھ کر سو گئے بیوی نے اٹھ کر سامان کو کھول کر دیکھا تو اس کے اندر سے اعلیٰ ترین غلہ برآمد ہوا بیوی نے کھانا پکایا اور لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس پہنچیں آپ نے فرمایا : یہ کہاں سے آیا ؟ بیوی نے کہا : اسی آٹے سے بنایا گیا ہے جو آپ لائے تھے۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔ اِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ (اِذ ظرف زمان ہے اور قال اَنَا اُحیی وَ اُمِیْتُ حَاجَّ کا بیان ہے یا جدا کلام ہے اور ایک محذوف سوال کا جواب ہے یعنی کیفیت خصومت کے متعلق سوال مقدر کا جواب ہے ان دونوں صورتوں میں ظرف زمان کا تعلق جملہ قال سے ہوگا یا یوں کہو کہ ظرف کا تعلق حاجَّ سے ہے اور قال حَاجَّ کا بیان ہے یا جدا کلام ہے یا یوں کہا جائے کہ یہ ظرف جملہ اَنْ اٰتَاہُ اللہ الْمُلْکَ سے بدل ہے۔ رَبِّيَ حمزہ کی قراءت میں وصل و وقف دونوں حالتوں میں اس جگہ یاء ساکن ہے مندرجہ ذیل آیات میں بھی یاء کی قرأت حمزہ کے نزدیک اسی طرح ہے : رَبِّیَ الْفَواحِشَ عَنْ اٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ یَتَکَبَّرُوْنَ ۔ قُلْ لِعِبَادِیَ الَّذِیْنَ ۔ اَتَانِیَ الْکِتَابَ ۔ مَسَّنِیَ الضُرُّ ۔ عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ ۔ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ ۔ مَسَّنِیَ الشَّیْطَانُ ۔ اِنْ اَرَادَنِیَ اللہ۔ اِنْ اَھْلَکَنِیَ اللہ کسائی صرف آیت : لِعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں حمزہ کے موافق ہیں اور ابن عامر آیت : لِعِبَادِیَ الَّذِیْنَ میں بھی اور ایٰیَاتِیَ الَّذِیْنَ میں بھی ساکن پڑھتے ہیں۔ ( باقی آیات میں یاء کو فتح دیتے ہیں) باقی قراء ان تمام مقامات میں یاء کو مفتوح پڑھتے ہیں۔ الَّذِيْ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ (نمرود نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سوال کیا تھا کہ تمہارا وہ رب کون ہے جس کی طرف تم ہم کو دعوت دے رہے ہو ؟۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا : میرا رب وہ ہے جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی۔ نمرود شاید ملحد تھا اور بد عقل بھی دوسرے ملحدوں کی طرح اس کا خیال ہوگا کہ کائنات کے تمام حوادث محض اتفاقی ہوتے ہیں جب ہی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عالم امکان کی دو محسوس نشانیاں استدلال الوہیت و خلاّقیت میں ذکر فرمائیں احیاء اور اماتت اللہ کے واجب الوجود اور صانع مطلق ہونے کی واضح نشانیاں ہیں۔ شاید نمرود کا یہ بھی گمان ہوگا کہ اہل عقل اپنے افعال کے خود خالق ہیں جیسے اس امت میں معتزلہ اور روافض کا خیال ہے اس لیے اس نے دو آدمیوں کو طلب کیا ایک کو قتل کرادیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا اور۔ قَالَ اَنَا اُحْيٖ وَاُمِيْتُ (بولا میں ہی زندہ کرتا اور مارتا ہوں ( گویا نمرودنے عمل حیوٰۃ و موت کو تخلیق موت وحیات قرار دیا اور خلاقیت و سببیت میں فرق نہ کرسکا) اگر انا کے بعد وصل کی حالت میں ہمزہ متحرک ہو تو اہل مدینہ انا کے الف کو قائم رکھتے ہیں اور مد کے ساتھ پڑھتے ہیں باقی قراء حذف کردیتے ہیں لیکن وقف کی حالت میں تمام قاری الف کو ثابت رکھتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ نمرود انتہائی غبی ہے جو معمولی حوادث کے استدلال کو بھی نہیں سمجھ سکتا تو روئے سخن بدلا اور۔ قَالَ اِبْرٰھٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ يَاْتِيْ بالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ کہا یہ حقیقت ہے کہ اللہ ہی سورج کو مشرق سے برآمد کرتا ہے۔ یعنی اللہ سورج کو مغرب سے نکال سکتا ہے یا جس طرح اس کی مشیت ہو کرسکتا ہے۔ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ پس تو اگر اپنے اعمال پر خوداپنے کو قادر جانتا ہے اور اللہ کا انکار کرتا ہے تو سورج کو مغرب سے برآمد کر۔ فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ اس دلیل کو سن کر نمرود متحیرّ دہشت زدہ اور لا جواب ہوگیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر ابراہیم اپنے رب سے دعا کرے گا تو اس کا رب سورج کو مغرب سے برآمد کردے گا جس طرح آگ کو اس نے خنکی اور سلامتی میں تبدیل کردیا۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ (یعنی زبردست کافروں کو اللہ سیدھے راستہ پر چلنے کی توفیق نہیں دیتا خواہ وہ ان کے سامنے اللہ کی کیسی ہی نشانیاں آجائیں جب تک وہ درد ناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں ان کو راہ راست سجھائی نہیں دیتی۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا اسی طرح اس شخص کو (نہیں دیکھا) جسے ایک گاؤں میں جو اپنی چھتوں پر گرا پڑا تھا اتفاق گزر ہوا۔ تو اس نے کہا کہ خدا اس (کے باشندوں) کو مرنے کے بعد کیونکر زندہ کرے گا۔ تو خدا نے اس کی روح قبض کرلی (اور) سو برس تک (اس کو مردہ رکھا) پھر اس کو جلا اٹھایا اور پوچھا تم کتنا عرصہ (مرے) رہے ہو اس نے جواب دیا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ خدا نے فرمایا (نہیں) بلکہ سو برس (مرے) رہے ہو۔ اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ (اتنی مدت میں مطلق) سڑی بسی نہیں اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو (جو مرا پڑا ہے) غرض (ان باتوں سے) یہ ہے کہ ہم تم کو لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی) نشانی بنائیں اور (ہاں گدھے) کی ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم ان کو کیونکر جوڑے دیتے اور ان پر (کس طرح) گوشت پوست چڑھا دیتے ہیں۔ جب یہ واقعات اس کے مشاہدے میں آئے تو بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے

اَوْ كَالَّذِيْ مَرَّ عَلٰي قَرْيَةٍ : قریہ سے مراد بیت المقدس یا دیر ہرقل۔ آگے ہم قصہ ذکر کریں گے۔ کالذی میں کاف زائد ہے اور الذی کا عطف الذی حاجَّ پر ہے یہ گذرنے والا شخص ارمیا تھا بقول ابن اسحاق ارمیا ہی خضر تھے۔ لیکن حاکم نے حضرت علی ؓ اور اسحاق بن بشیر (رح) نے حضرت عبد اللہ بن سلام کا قول نقل کیا ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے بھی یہی کہا ہے کہ یہ ( ارمیا نہیں) عزیر ( علیہ السلام) تھے۔ مجاہد (رح) نے واقعہ نمرود کے ساتھ اس قصہ کے نظم کو پیش نظر رکھ کر صراحت کی ہے کہ یہ شخص کوئی کافر تھا لیکن مجاہد کا یہ استدلال غلط ہے کیونکہ کافر اس عزت افزائی کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کی توجیہ میں کوئی یہ کہے کہ وہ کافر تھا لیکن نشان قدرت کو آنکھوں سے دیکھنے کے بعد وہ مؤمن ہوگیا تھا تو ہم کہیں گے کہ پھر یہ شخص مؤمن بالغیب نہ رہا اور ایمان بالشہود ناقابل اعتبار ہے ( لہٰذا ایسا شخص عزت افزائی کے قابل نہیں) دونوں قصوں کی وجہ جامع صرف یہ ہے کہ دونوں واقعے تعجب انگیز ہیں اگرچہ ایک قصہ میں دعاء ربوبیت نہیں ہے جو شخص قدم بہ قدم اور لمحہ بہ لمحہ اپنی کمزوری محسوس کر رہا ہو اس کو اگر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر تعجب ہو تو کیا بعید ہے ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے دیکھو نطفہ سے آدمی اور بیج سے درخت کس طرح بن جاتا ہے۔ ( یہ کیا کچھ کم تعجب انگیز ہے) وَّهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا (یعنی وہ بستی ویران ہوگئی تھی پہلے چھتیں گری تھیں اوپر سے دیواریں بھی گرگئیں۔ قَالَ اَنّٰى يُـحْيٖ ھٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ( تو اس نے کہا اس بستی کو ( یعنی بستی والوں کو) مرے پیچھے اللہ کیسے زندہ کرے گا ؟ ) یہ استفہام انکاری نہیں بلکہ) عادۃً چونکہ ایسا ہونا بعید تھا تو انہوں نے اس بستی کو زندہ کرنے کی تمنا آگیں درخواست کی پھر وہ بطور تواضع اپنے کو اس قابل بھی نہ جانتے تھے کہ ان کی درخواست قبول ہو سکے اس لیے استفہام تمنائی کیا۔ محمد بن اسحاق نے بروایت وہب بن منبہ قصہ اس طرح لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ارمیا کو ناشیہ بن اموص شاہ بنی اسرائیل کے پاس اس کی امداد کے لیے مقرر فرمایا تھا ناشیہ نیک آدمی تھا۔ حضرت ارمیا کو اس کے پاس اللہ کے احکام لے کر جاتے تھے۔ جب بنی اسرائیل کے گناہ بہت بڑھ گئے تو اللہ نے ارمیا کے پاس وحی بھیجی کہ آئندہ میں اسرائیلیوں کو عظیم ترین مصیبت میں مبتلا کروں گا ایک ظالم کو ان پر مسلط کروں گا اور ان کی بیشتر تعداد کو تباہ کردوں گا یہ حکم سن کر ارمیانے فریاد وزاری کی ( اور بےقرار ہوگئے) اس پر وحی آئی جب تک تیری اجازت نہ ہوگی میں ان کو تباہ نہیں کروں گا اس حکم سے ارمیا خوش ہوگئے اس طرح تین سال گذر گئے مگر بنی اسرائیل کی نافرمانیاں بڑھتی ہی گئیں وحی آنا بھی کم ہوگئی بادشاہ نے ہرچند توبہ و استغفار کا مشورہ دیا۔ مگر لوگوں نے نہ مانا آخر بخت نصر شاہ بابل نے ناقابل مقابلہ فوج لے کر بنی اسرائیل کی طرف مارچ کیا (چڑھائی کی ‘ 12) بنی اسرائیل کا بادشاہ ڈر گیا۔ حضرت ارمیا نے فرمایا : مجھے اللہ کے وعدہ پر پورا اعتماد ہے اس کے بعد بحکم خدا ایک فرشتہ اسرائیلی آدمی کے بھیس میں حضرت ارمیا ( علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا : اے اللہ کے نبی میں اپنے گھر والوں کے متعلق آپ سے مسئلہ پوچھنے آیا ہوں میں نے ہمیشہ ان سے اچھا سلوک ہی کیا مگر وہ میری ناراضگی بڑھانے والی حرکتیں کرتے ہیں حضرت ارمیانے فرمایا : تم ان سے بھلائی کرتے رہو قطع تعلق نہ کرو اور خیر کی بشارت لو ( فرشتہ چلا گیا) کچھ مدت کے بعد وہی فرشتہ اسی آدمی کے بھیس میں پھر آیا اور پہلے کی طرح سوال کیا اور جواب بھی اس کو پہلے ہی کی طرح ملا کچھ زمانہ کے بعد بخت نصرنے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اس وقت ارمیا بیت المقدس کی دیوار پر بیٹھے ہوئے تھے اور بنی اسرائیل کا بادشاہ آپ سے کہہ رہا تھا اللہ کا وعدہ کیا ہوا جو آپ سے کیا تھا لیکن حضرت ارمیا ( علیہ السلام) کو اللہ کے وعدہ پر بھروسہ تھا اور وہ خوش تھے اچانک وہی فرشتہ اسی آدمی کے بھیس میں پھر آیا اور اپنے گھر والوں کی شکایت کی۔ حضرت ارمیا نے فرمایا : کیا ابھی تک وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے فرشتہ نے کہا یا نبی اللہ اب تک تو جو دکھ مجھے پہنچتا تھا میں صبر کرتا تھا لیکن اب تو وہ اللہ کی ناراضگی کے عظیم ترین کام کرتے ہیں اس لیے مجھے اللہ کے لیے غصہ آیا ہے جس خدا نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا ہے ‘ میں اسی خدا کے واسطے آپ سے درخواست کرتا ہوں آپ انکے لیے بددعا کردیجئے اللہ ان کو غارت کرے۔ یہ سن کر حضرت ارمیا ( علیہ السلام) نے دعا کی اے زمین و آسمان کے بادشاہ اگر وہ تیری ناراضگی کے کام کر رہے ہیں تو ان کو تباہ کردے دعا کے بعد فوراً اللہ تعالیٰ نے ایک بجلی گرائی جس سے قربان گاہ میں آگ بھڑک اٹھی اور سات دروازے زمین میں دھنس گئے حضرت ارمیا ( علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب تیرا وعدہ کیا ہوا ‘ ندا آئی ان پر جو عذاب آیا وہ صرف تیری بددعا سے آیا ہے اس وقت حضرت ارمیا کو معلوم ہوا کہ وہ شخص حقیقت میں اللہ کا بھیجا ہوا فرشتہ تھا اس کے بعد حضرت ارمیا ( علیہ السلام) جنگل کو نکل گئے۔ بخت نصر نے آکر بیت المقدس کو تباہ کردیا اور ملک شام کو روند ڈالا۔ اسرائیلیوں کو قتل کیا اور قیدی بنایا یہی وہ پہلی سزا تھی جو اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کی بےجا حرکتوں کی وجہ سے دی تھی۔ جب بخت لوٹ کر بابل کو چلا گیا تو ارمیا اپنے گدھے پر سوار ہو کر ( جنگل سے واپس) آئے آپ کے ساتھ توشہ دان میں کچھ عرق انگور اور ایک ٹوکری انجیر تھے آکر بیت المقدس پر ٹھہر گئے اور تباہی کو دیکھ کر بولے : انی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا۔ پھر آپ نے رسی سے گدھے کو باندھا اور اللہ نے آپ پر نیند مسلط کردی۔ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ (پس اللہ نے اس کو مارڈالا ( یعنی موتنما نیند مسلط کردی) سعید بن منصور نے حسن بصری کا قول اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا کہ یہ نیند چاشت کے وقت شروع ہوئی تھی پھر۔ مِائَـةَ عَامٍ (سو برس تک وہ مردہ رہا۔ گدھا، عرق انگور اور انجیروں کا ٹوکرا بھی ان کے پاس ہی رہا۔ اللہ نے لوگوں کی نظروں سے ان کو چھپا دیا کوئی آپ کو نہ دیکھ سکا۔ ستّر سال اسی حالت پر گزر گئے۔ ستر برس کے بعد اللہ نے ایک فرشتہ نوشک شاہ فارس کے پاس بھیجا فرشتے نے جا کر کہا اللہ تجھے حکم دیتا ہے کہ بیت المقدس اور ایلیا کی از سر نو تعمیر کر تاکہ یہ پہلے سے زیادہ آباد ہوجائیں۔ حسب الحکم نوشک نے آباد کاری شروع کردی اور ادھر ایک مچھر بخت نصر کے دماغ میں گھس گیا اور اللہ نے مچھر کے ذریعہ سے اس کو ہلاک کردیا اور جو اسرائیلی بابل میں اس وقت تک زندہ رہ گئے تھے ان کو رہائی دلادی وہ سب بیت المقدس اور اس کے مضافات میں واپس آگئے اور تیس برس میں پہلے سے بہتر آبادی ہوگئی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ارمیا ( علیہ السلام) کو پھر زندہ کرکے۔ ثُمَّ بَعَثَهٗ (اٹھا دیا یہ وقت غروب آفتاب سے کچھ پہلے کا تھا اللہ نے آپ کے پاس ایک فرشتہ بھیجا اور۔ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ (اس نے ارمیا سے پوچھا آپ کا یہاں توقف کتنا ہوا ارمیا ( علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ یہ یوم خواب کا ہی سورج ہے ( جو قریب غروب ہے) اس لیے۔ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا (کہا کہ میں ایک دن یہاں ٹھہرا پھر سورج کی طرف منہ موڑ کر دیکھا تو سورج کو قریب غروب دیکھ کر فرمایا : اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ (یا دن سے کچھ کم) قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ (فرشتہ نے کہا نہیں بلکہ آپ یہاں سو برس رہے) فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ (اب اپنے کھانے پینے یعنی انجیر اور عرق کو دیکھ لو کہ) لَمْ يَتَسَـنَّهْ (کوئی چیز بھی نہیں بگڑی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انجیر ابھی درخت سے توڑے گئے ہیں اور عرق ابھی نچوڑا گیا ہے۔ کسائی نے کہا گویا برسہا برس کی مدت ان پر نہیں گذری تھی۔ حمزہ کسائی اور یعقوب نے حالت وصل میں لَمْ یَتَسَنَّہ کی ھاء کو حذف کرکے یَتَسَنَّ پڑھا ہے۔ لیکن حالت وقف میں باقی رکھا ہے اسی طرح آیت : فَبِھُدَاھُمُ اقْتَدِہِ میں بھی اصحاب ثلاثہ کی یہی قرأت ہے۔ جو لوگ ھاء کو حذف نہیں کرتے وہ اس کو اصلی (یعنی مادہ کی) ھا قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ لفظ سِنَۃ سے بنا ہے اور سنۃ کی تاء اصل میں ھاء تھی اور سنۃ کی اصلی سنھۃٌ تھی کیونکہسنۃ کی تصغیر سُنَیْھَۃٌ آتی ہے اور مصدرمَسَانَھَۃٌ آتا ہے لیکن اگر اس کو اصلی ھا نہ کہا جائے اور لام کلمہ میں اصلاً واؤ قرار دیا جائے تو یہ ھاء سکتہ ہوگی واؤ کو فتحہ ما قبل کی وجہ سے الف سے بدل دیا پھر الف کو حذف کردیا اور ھا سکتہ حالت وقف میں بڑھا دی بعض علماء کا قول ہے کہ لَمْ یَتَسَنّہ کی اصل لَمْ یَتَسَنَّنْ تھی ( اصل مادہ سَنٌّ ہے) اَلْحَمَأَ الْمَسْنُوْنُ کا اور اس کا ایک مادہ ہے تیسرے نون کو حرف علت سے بدل دیا گیا ہے جیسے آیت دَسَّاھَا میں ( دَسَّااصل میں دَسَّسَ تھا) لَمْ یَتَسَنَّہ کی مفرد ضمیر طعام و شراب کی طرف راجع ہے۔ (مرجع اگرچہ تثنیہ ہے ضابطہ کے مطابق تثنیہ کی ضمیر ہونی چاہئے لیکن مفرد لانے کی وجہ یہ ہے کہ) طعام و شراب کی جنس ایک ہی ہے ( یعنی دونوں غذا ہیں) وَانْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ ( اور اپنے گدھے کی طرف دیکھو حسب الحکم ارمیا ( علیہ السلام) نے گدھے کی طرف دیکھا۔ بقول بعض علماء گدھا ویسا ہی زندہ سالم کھڑا تھا جیسا اسکو باندھ کر سوئے تھے سو سال تک گدھے نے نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ نئی رسی اسکے گلے میں بندھی ہوئی تھی رسی بھی خراب نہیں ہوئی تھی۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ گدھا مرچکا تھا ہڈیاں بھی گل چکی تھیں پھر ارمیا ( علیہ السلام) کی نظر کے سامنے بحکم خدا ایک ہوا میدان اور پہاڑ سے اسکی ہڈیاں سمیٹ کر لائی کیونکہ پرندے اور درندے انکو جا بجا لے جا چکے تھے ( پھر اللہ نے گدھے کو زندہ کردیا) میں کہتا ہوں کہ مؤخر الذکر قول پر لفظ واَنظُر دلالت کررہا ہے کیونکہ اگر کھانے پینے کی طرح گدھا بھی صحیح سالم باقی ہوتا تو فانظر الی طعامک و شرابک و حمارک کہنا چاہئے تھا ( دوبارہ مستقل طور پر اُنْظُر کہنے کی ضرورت نہ تھی) وَلِنَجْعَلَكَ اٰيَةً لِّلنَّاسِ (یعنی ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل لوگوں کو دکھانے کے لیے تجھے بنائیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک آیت کے شروع میں واؤ زائد ہے۔ فراء نے کہا اس آیت کا تعلق فعل محذوف سے ہے ( اور واو عطف جملہ کے لیے ہے) یعنی اور ہم نے ایسا اس لیے کیا کہ لوگوں کو دکھانے کے لیے تیری دوبارہ زندگی کو حیات بعد الموت کی دلیل بنائیں۔ وَانْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ ( یعنی گدھے کی ہڈیوں کو دیکھو یہ مطلب اس صورت میں ہوگا جب گدھے کو مردہ اور فنا شدہ مان لیا جائے۔ اکثر اہل تفسیر کا یہی قول ہے۔ بعض لوگوں کا قول ہے کہ خود حضرت ارمیا ( علیہ السلام) کی ہڈیاں مراد ہیں ( اوّل) آپ کی آنکھیں اور سر زندہ کیا گیا اس وقت تک باقی بدن فرسودہ بوسیدہ ہی تھا اور ہڈیاں صاف ( بےگوشت اور) پراگندہ پڑی ہوئی تھیں۔ لیکن اس قول کی تردید رسول اللہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے کہ انبیا کے اجسام اللہ نے زمین کے لیے حرام کردیئے ہیں ‘ (زمین ان کو گلا نہیں سکتی) ۔ كَيْفَ نُنْشِزُھَا ( کس طرح ہم ان کو زمین سے اٹھا کر باہم جوڑتے ہیں یہ ترجمہ نُنْشِز پڑنے کی صورت میں ہوگا جو اہل حجاز و اہل بصرہ کے علاوہ تمام قاریوں کی قرأت ہے اہل حجاز و بصرہ ننشرھا راء کے ساتھ پڑھتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم ان کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔ ( انشار زندہ کرنا اور نشور زندہ ہونا) آیت میں آیا ہے : ثم اذا شاء انشرہ ایک اور آیت ہے : وَ اِلَیْہِ النُّشُوْر . ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا (پھر ہم ہڈیوں کو گوشت پہناتے ہیں چناچہ اللہ نے ہڈیوں کو گوشت اور خون ( کا لباس) پہنا دیا اور وہ آدمی زندہ ہوگیا یا ہڈیاں گوشت کا لباس پہن کر گدھے کا مجسمہ بن گئیں پھر فرشتہ نے اس میں روح پھونک دی اور گدھا زندہ اٹھ کھڑا ہوا اور رینگنے لگا۔ آیت میں الفاظ کی کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل عبارت اس طرح تھی : بَلْ لَبِثْتَ مِأَۃَ عَامٍ اَمَتْنَاکَ ثُمَّ اَحْیَیْنَا فَانْظُرْ اِلٰی طَعَامِکَ وَ شَرَابِکَ لَمْ یَتَسَنَّہ وَانْظُرْ اِلٰی حَمَارِکَ وَانْظُرْ اِلَی الْعِظَامِ کَیْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَکْسُوھَا لَحْمًا وَ فَعلْنَا ذٰلِکَ لِنَجْعَلَکَ اٰیَۃً لِّلنّاسِ ۔ بلکہ تو سو سال یہاں رہا ہم نے تجھے مردہ کردیا تھا پھر زندہ کردیا اب اپنے کھانے پینے کو دیکھ لے کہ کوئی چیز خراب نہیں ہوئی ہے اور گدھے کو دیکھ اور ہڈیوں کو دیکھ کہ کس طرح ہم ان کو جمع کر کے جوڑتے اور پھر ان کو گوشت پہناتے ہیں ہم نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تجھے لوگوں کو ( قیامت کا) یقین دلانے کے لیے نشانی بنائیں۔ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗ ۙ قَالَ (جب اللہ کی حکمت (اور قدرت) اس شخص پر کھل گئی تو اس نے کہا۔ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (مجھے یقین ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ اَعْلَمْ قراءت جمہور کی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے اِعْلَمْ بصیغۂ امر پڑھا ہے۔ اس صورت میں کہنے والا فرشتہ ہوگا یا اللہ یا اس شخص نے خود اپنے نفس کو خطاب کیا ہوگا۔ روایت میں آیا ہے کہ بخت نصر بیت المقدس کو تباہ کرکے بنی اسرائیل کو قید کرکے بابل لے گیا۔ قیدیوں میں حضرت عزیر ( علیہ السلام) ، حضرت دانیال ( علیہ السلام) اور حضرت داؤد کی نسل کے کچھ لوگ بھی تھے کچھ مدت کے بعد عزیر ( علیہ السلام) قید سے چھوٹ گئے اور گدھے پر واپس آگئے۔ دیر ہرقل پر پہنچے تو دجلہ کے ساحل پر اترے اور بستی میں چکر لگایا مگر کوئی آدمی نہ ملا، ہاں تمام درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے آپ نے کچھ پھل کھائے اور انگوروں کا عرق نچوڑ کر پیا اور بقیہ پھل ایک ٹوکری میں رکھ لیے اور بچا ہوا عرق مشکیزے میں بھر لیا اور بستی کی تباہی کو دیکھ کر بولے : اَنّٰی یحییٰ ھذہ اللہ بعد موتھا الخ . قتادہ نے حضرت کعب کا قول اور ضحاک اور ابن عساکر نے حضرت ابن عباس کا بیان نیز سدی نے بروایت مجاہد حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب سو برس تک مردہ رکھنے کے بعد اللہ نے عزیر ( علیہ السلام) کو زندہ کردیا تو وہ گدھے پر سوار ہو کر اپنے محلہ میں آئے لیکن نہ لوگوں کو پہچان سکے نہ ان کے مکانوں کو نہ لوگوں نے ان کو پہچانا صرف اندازہ سے اپنے گھر پر پہنچے تو ایک نابینا اپاہج بڑھیا ملی جس کی عمر 120 سال تھی حقیقت میں وہ حضرت عزیر ( علیہ السلام) کی باندی تھی جب حضرت گھر سے نکلے تھے تو وہ بیس برس کی تھی آپ نے اس بڑھیا سے پوچھا کیا یہ عزیر کا مکان ہے بڑھیا نے کہا جی ہاں ! لیکن میں نے تو عزیر ( علیہ السلام) کا تذکرہ اتنی مدت کے بعد آج سنا ہے ( تم کون ہو) ؟ حضرت نے فرمایا : میں عزیر ( علیہ السلام) ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے سو سال تک مردہ کردیا تھا پھر زندہ کردیا۔ بڑھیا نے کہا : عزیر ( علیہ السلام) تو مقبول الدعوات شخص تھے اگر تم عزیر ( علیہ السلام) ہو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ میری آنکھیں واپس مل جائیں۔ حضرت نے دعا کی اور اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیر دیا آنکھیں درست ہوگئیں پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اللہ کے حکم سے اٹھ کھڑی ہو بڑھیا بالکل تندرست ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی اور حضرت کو دیکھ کر پہچان کر بولی میں شہادت دیتی ہوں کہ آپ بلا شبہ عزیر ( علیہ السلام) ہیں۔ اس وقت حضرت عزیر ( علیہ السلام) کا بیٹا سو سال کا بوڑھا تھا اور پوتے پوتیاں بھی بوڑھے ہوچکے تھے مگر آپ کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے۔ باندی آپ کو لے کر بنی اسرائیل کے جلسوں میں پہنچی اور پکار کر کہا یہ عزیر ( علیہ السلام) ہیں لوگوں نے اس کی بات کو سچ نہ جانا باندی نے کہا میں تمہاری فلاں باندی ہوں عزیر ( علیہ السلام) کی دعا سے اللہ نے میری آنکھیں لوٹا دیں اور میرے پاؤں چلا دیئے یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سو برس تک مردہ کردیا تھا پھر زندہ کردیا یہ سن کر لوگ اٹھے اور حضرت کے بیٹے نے کہا میرے باپ کے دونوں شانوں کے درمیان ہلالی شکل کا ایک کالا مسہ تھا کھول کر دیکھا گیا تو آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مسّہ برآمد ہوا اور ثابت ہوگیا کہ آپ عزیر ( علیہ السلام) ہی ہیں۔ سدی (رح) اور کلبی کا بیان ہے کہ جب حضرت عزیر اپنی قوم کے پاس لوٹ کر پہنچے تو تورات موجود نہ تھی کیونکہ بخت نصر نے تورات جلادی تھی آپ رو دیئے ایک فرشتہ نے ایک برتن میں پانی لاکر پلا یا ‘ پلاتے ہی پوری تورات کی تصویر دل میں اتر آئی۔ آپ بنی اسرائیل کے پاس لوٹ کر آئے تو تورات یاد تھی فرمایا : میں عزیر ( علیہ السلام) ہوں لوگوں نے آپ کی بات جھوٹ جانی۔ آپ نے اپنی یاد سے پوری توریت لکھوا دی بنی اسرائیل کہنے لگے توریت تو ضائع ہوچکی تھی کسی کو بھی یاد نہ تھی۔ اب جس شخص کے دل میں اللہ نے توریت ڈالی وہ بلا شبہ خدا کا بیٹا ہی ہے۔ سورة توبہ میں پورا قصہ انشاء اللہ ذکر کیا جائے گا۔