Ayah 2:260وَاِذْ قَالَ اِبْرٰھٖمُ رَبِّ اَرِنِيْ كَيْفَ تُـحْيِ الْمَوْتٰى (اور یاد کرو ( اس واقعہ کو) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تھا اے میرے رب مجھے دکھا دے کہ مردوں کو تو زندہ کس طرح کرتا ہے۔
(وجہ سوال) حسن (رح) ، قتادہ (رح) ، عطا (رح) ، خراسانی (رح) اور ابن جریح (رح) نے سوال مذکور کی وجہ یہ بیان کی کہ گدھے کی ایک لاش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سمندر کے کنارے پر پڑی دیکھی جب سمندر 1 چڑھتا تھا تو دریائی (مردار خوار) جانور ( سمندر کے پانی کے ساتھ) آکر اس لاش کو کھاتے تھے اور پانی کے اتار کے بعد صحرائی درندے اور پرندے اس کو کھانے لگتے تھے حضرت ابراہیم کو یہ کیفیت دیکھ کر تعجب ہوا اور عرض کیا میرے رب میں یہ تو جانتا ہوں کہ تو اس ( مردار کے مختلف حصوں) کو سمندر و صحراء سے لا کر یکجا ( کرکے زندہ) کردے گا لیکن مجھے دکھادے کہ تو اس کو کس طرح زندہ کرے گا تاکہ آنکھوں سے دیکھنے کے بعد میرے ایمان میں اضافہ ہوجائے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ جب نمرود نے دو آدمیوں کو بلوا کر ایک کو قتل کر ادیا اور دوسرے کو آزاد کردیا اور بولا : اَنَا اُحْیِی وَ اُمِیْتُ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : اللہ تو مرنے کے بعد زندہ کریگا ( اگر تو بھی کرسکتا ہے تو کر) نمرود نے کہا کیا تو نے خدا کو ایسا کرتے دیکھا ہے ؟ ابراہیم (علیہ السلام) ہاں نہ کہہ سکے اور اس وقت اللہ سے مذکورہ بالا سوال کیا تاکہ نمرود کی ایسی بات کے جواب میں ہاں کہہ سکیں۔
سعید بن جبیر ؓ نے بیان کیا کہ جب اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنا لیا تو بحکم خدا فرشتۂ موت نے آکر آپ کو یہ بشارت دی ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا۔ اس بات کی نشانی کیا ہے فرشتہ نے کہا اللہ آپ کی دعا قبول فرمائے گا اور آپ کی درخواست پر مردوں کو زندہ کردے گا اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مذکورہ بالا سوال کیا۔
قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ (ا اللہ نے فرمایا : کیا تجھے یقین نہیں ہے کہ مار دینے کے بعد میں دوبارہ اجزاء کو جوڑ کر زندہ کرسکتا ہوں۔ اللہ اگرچہ واقف تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایمان سب سے زیادہ پختہ ہے لیکن صرف اس وجہ سے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب کو دوسرے لوگ سن لیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مذکورہ بالا سوال کیا۔
قَالَ بَلٰي وَلٰكِنْ لِّيَطْمَىِٕنَّ قَلْبِىْ (ابراہیم ( علیہ السلام) نے کہا مانا کیوں نہیں مگر میرا یہ سوال تو اپنے دل کے ٹھہراؤ کے لیے ہے۔ یعنی مجھے قلبی اطمینان ہوجائے بصیرت اور سکون قلب معاینہ کے بعد بڑھ جائے استدلال ( عقلی) اور وحی ( وجدانی) کے ساتھ مشاہدہ مل جائے تو جی کا ٹھہراؤ ہوجائے۔ یا یہ مطلب ہے کہ میرے دل کو اس بات کا اطمینان ہوجائے کہ تو نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے اور میری دعاء کو تو قبول فرمائے گا۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : نَحْنُ اَحَقُّ بالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ اِذْ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِی الْمَوْتٰی (الایۃ) وَ رَحِمَ اللہ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَأْوِیْ ٓ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ ۔ وَ لَوْ لَبِثْتُ السِّجْنَ طُوْلَ مَا لَبِثَ یُوْسُفُ لَاجَبْتُ الدَّاعِیَ (متفق علیہ) یعنی ہم ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ شک کے حق دار ہیں جب کہ انہوں نے رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِی الْمَوْتٰی کہا تھا ( اور اپنے لفظوں سے شک کا اظہار کیا تھا) اور لوط پر اللہ کی رحمت ہو وہ ایک قوی سہارے کی طرف رجوع کرنا چاہتے تھے ( یعنی ظاہری سہارے کے طالب تھے) اور اگر میں قید خانہ میں اتنی طویل مدت تک رہتا جتنی مدت یوسف رہے تو میں ( بادشاہ کی طرف سے) بلانے والے کے قول کو ( بلا شرط) مان لیتا ( اور اس کے ساتھ چلا جاتا) ۔
اس حدیث کی معنوی تشریح مختلف طور پر کی گئی ہے۔ اسماعیل بن یحییٰ مزنی (رح) کہتے تھے کہ اللہ کا مردوں کو زندہ کرنا نہ رسول اللہ کے لیے کوئی شک کی چیز تھا نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس میں کسی کو شک نہ تھا شک صرف اس بات میں تھا کہ کیا اللہ تعالیٰ ہماری دعا بھی قبول فرما لے گا یا نہیں لیکن اس تشریح کی تردید خود آیت : او لم تؤمن قال بلیٰ و لٰکن لیطمئن قلبی سے ہو رہی ہے (آیت بتارہی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مقصد احیاء موتیٰ کے متعلق اطمینان قلب حاصل کرنا تھا )
امام ابو سلیمان خطابی نے کہا کہ حدیث میں شک کا اعتراف ہی نہیں ہے رسول اللہ نے نہ اپنے شک کا اعتراف کیا نہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے شک کرنے کا بلکہ شک کی نفی موجود ہے مطلب یہ ہے کہ جب مجھے شک نہیں تو ابراہیم (علیہ السلام) کو تو بدرجہ اولیٰ شک نہ ہونا چاہئے (گویا) حضور ﷺ نے تواضع و انکسار نفس کے طور پر اپنے کو چھوٹا اور ابراہیم کو بڑا قرار دیا۔ حدیث : لو لبثت فی السجن۔۔ کا بھی یہی مطلب ہے حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی درخواست شک کی وجہ سے نہیں تھی ( یقین تو ان کو پہلے ہی تھا) بلکہ معائنہ سے علم و یقین میں اضافہ چاہتے تھے استدلال سے اطمینان قلب اور معرفت کا حصول اتنا نہیں ہوتا جتنا آنکھوں سے دیکھنے سے ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ خبر معاینہ کے برابر نہیں ہوتی۔ اللہ نے حضرت موسیٰ کو بنی اسرائیل کے گؤ سالہ پرستی کی اطلاع دیدی مگر آپ نے تورات کی تختیاں نہیں پھینکیں لیکن جب ان کی حرکت اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تو تختیاں پھینک دیں کہ وہ ٹوٹ گئیں۔ یہ حدیث امام احمد اور طبرانی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی ہے لیکن جو حدیث طبرانی (رح) نے حضرت انس کی روایت سے اور خطیب نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اچھی اسناد کے ساتھ بیان کی ہے اس میں حضرت موسیٰ کے واقعہ کا ذکر نہیں ہے (صرف لیس الخیر کالمعاینۃ مذکور ہے ) ۔
یہ بھی روایت ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تو شک کیا لیکن ہمارے حضور ﷺ نے شک نہیں کیا۔ میں کہتا ہوں یہ قول اور یہ توجیہ حدیث میں ضعیف ہے کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) کا شک نہ کرنا تو خود آیت میں مذکور ہے دیکھو ابراہیم (علیہ السلام) نے بلٰی و لٰکن لیطمئن قلبی کہا تھا۔ اس کلام کے بعد حضرت ابراہیم کی طرف شک کی نسبت کس طرح کی جاسکتی ہے اور دفعہ تو ہم کی ضرورت ہی کیا ہے میرے نزدیک تحقیق وہ ہے جو صوفیہ صافیہ نے بیان کی ہے کہ سلوک کے دو مقام ہیں : (1) عروج (2) نزول۔
عروج یہ ہے کہ آدمی تمام بشری اوصاف کا لباس اتار پھینکے۔ اس کے اندر ملکوتی صفات اور قدسی احوال پیدا ہوجائیں۔ رسول اللہ نے جب خود طے کے روزے رکھے اور صحابہ کو طے کے روزے رکھنے کی ممانعت فرمائی صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ آپ بھی تو طے کے روزے رکھتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا : میں تمہاری ( اس ظاہری بشری) ہیئت کی طرح نہیں ہوں مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا ہے اس حدیث میں مقام عروج ہی کا بیان ہے۔ اہل اللہ کی اصطلاح میں اس سیر حیٰوۃ کو سیرالی اللہ اور سیر فی اللہ کہتے ہیں نزول کا یہ معنی ہے کہ عروج کے بعد پھر لوٹ کر بشری صفات سے موصوف ہوجائے اس رجوعی سیر کو سیر من اللہ باللہ کہتے ہیں۔ مقام نزول مقام تکمیل ہوتا ہے اس مقام پر پہنچنے والا مخلوق کو خالق کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے۔ ( یعنی صاحب دعوت ہوتا ہے) (1) [ یاد رکھنا چاہئے کہ سلوک میں مقام عروج تک پہنچنے سے صرف اپنی تکمیل ہوتی ہے عارف کا رخ صرف حق تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے معرفت حق اس کو حاصل ہوتی ہے ‘ وہ صفات بشر یہ فنا کر چکتا ہے بشری انانیت کھو دیتا ہے وہ اس صاف آئینہ کی طرح ہوتا ہے جس پر اگر آفتاب کا عکس پڑتا ہے تو پار ہوجاتا ہے اور اسکے ذرہ ذرہ کو روشن کردیتا ہے یہاں تک کہ سوائے آفتاب کی شعاعوں کے آئینہ کی ہستی نظر ہی نہیں آتی۔ وہ نور چیں ضرور ہوتا ہے مگر عکس ریز نہیں ہوتا خود روشن ہوتا ہے لیکن دوسروں کو روشنی نہیں دے سکتا تاریک کمرہ میں اس کا عکس نہیں پہنچتا مقام عروج میں انسان میں محض ملکوتی صفات پیدا ہوجاتی ہیں نہ کھانے پینے کی خواہش نہ دکھ سکھ کا احساس نہ اسکے اندر بشری تقاضے کار فرما لیکن صاحب عروج کی مزید تکمیل کیلئے اسکو پھر لوٹا کر بشری صفات کے ساتھ متصف کیا جاتا ہے خالص ملکوتیت اور نری قدسیت باقی نہیں رہتی خواص بشریت اور لوازم انسانیت پھر بدرجۂ اتم اس میں نمودار ہوجاتے ہیں اب وہ دوسرے انسانوں کی طرح ہوش حواس کی دنیا میں ہوتا ہے علائق بشری سے وابستہ ہوجاتا ہے، لذت و الم پیاس اور بھوک صنفی اور شکمی خواہشات کا احساس اس میں پیدا ہوجاتا ہے اب وہ دوسرے انسانوں سے علیحدہ نہیں ہوتا سب کے ساتھ مخلوط ہوتا ہے جب دوسرے آدمیوں سے اس کو مناسبت تامہ ہوجاتی ہے تو مقام عروج میں جو کچھ دیکھ کر آتا ہے اس مقام نزول میں اتر کر دوسروں کو بھی بتاتا ہے جس چشمہ سے خود سیراب ہوچکا ہوتا ہے دوسروں کو بھی اسی پانی سے سیراب کرتا ہے اب وہ ایسا آئینہ ہوجاتا ہے جس کا ایک رخ روشن ہوتا ہے اور دوسرے رخ پر بشریت کا مصالحہ لگا ہوتا ہے روشن رخ سے وہ آفتاب الوہیت و وحدت کی شعاعیں کھینچتا ہے اور تاریک رخ کی وجہ سے اس نور بےکیف اور ہدایت الٰہی کی روشنی کو اپنے اندر روک کر تاریک دلوں پر عکس ریزی اور نور پاشی کرتا ہے پس اس مقام پر اسکو دوسرے انسانوں سے جتنی زیادہ مناسبت ہوتی ہے اتنا ہی اسکی تبلیغ و ہدایت سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ مرتبہ عروج پر کامل طور پر فائز تو سب ہی انبیاء او اہل عرفان ہوتے ہیں گو درجات کا فرق ہوتا ہے اور کمال عروج سب کو حاصل ہوتا ہے لیکن مقام نزول کے اعتبار سے تمام انبیاء ایک جیسے نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کی تبلیغ سے بھی ایک جیسا فائدہ نہیں ہوا کسی سے فیض یاب کم لوگ ہوتے ہیں کسی سے زیادہ۔]
نزول کی حکمت یہ ہے کہ فیض بخشنے والے اور فیض قبول کرنے والے میں باہم مناسبت ہونی ضروری ہے تاکہ فیض یابی میں سہولت ہو جیسے رنگ ریزی اور رنگ پذیری بغیر باہمی تناسب کے نہیں ہوتی ( اسی طرح فیض بخشی اور فیض یابی کے درمیان خواص وصفات اور احوال میں قدرے مشابہت لازم ہے بالکل بیگانگی مانع استفاضہ ہے) اسی لیے انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ نے انسانوں کو نبی بناکر بھیجا۔ عوام براہ راست انبیاء کی وساطت کے بغیر بارگاہ الٰہی سے فیض یاب نہیں ہوسکتے ( اللہ نور محض ہے اور عام انسان کثافت خالص۔ ظلمت کا نور سے جوڑ نہیں ہوسکتا) یہی وجہ ہے کہ انسانوں کے لیے فرشتوں کو بھی پیغمبر بنا کر نہیں بھیجا۔ ( کیونکہ فرشتے بشری آلائشوں سے قطعاً پاک اور مجسم نور ہیں ان سے ظلمانی الطبع انسانوں کو کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
(ترجمہ) اگر زمین پر ملائکہ چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان کی ہدایت کے لیے آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر اتارتے۔ دوسری جگہ فرمایا : (ترجمہ) اگر ہم پیغامبر کو فرشتہ بناتے تو اس فرشتہ کو مرد بناتے اور انسانی جامہ پہناتے جس شخص کی حالت نزول جتنی کامل ہوگی اتنی ہی اس کی تبلیغ کامل اور دعوت آفاق گیر ہوگی دیکھو اگر کوئی شکاری کسی بلند ترین مقام سے شکار کے تیر مارے تو اکثر نشانہ خطا جاتا ہے ( اسی طرح صاحب عروج جب تک مقام نزول پر اتر کر تبلیغ نہیں کرے گا دعوت ناکام رہے گی) حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہٗ نے فرمایا : حضرت نوح کی دعوت فراق کے ساتھ تھی اس لیے لوگوں نے رد کردی اور رسول اللہ کی دعوت مقارنت کے ساتھ تھی اس لیے لوگوں نے مان لی۔ شیخ کا مطلب یہ ہے کہ عوام کی استعداد و صلاحیت انتہائی پست ہوتی ہے اور حضرت نوح مقام عروج پر تھے۔ آپ کے اور عوام کے درمیان زیادہ قرب نہ تھا فریقین کے احوال میں باہم مناسبت نہ تھی اس لیے دعوت ناکام رہی اور رسول اللہ (تکمیل عروج کے بعد) انتہائے نزول پر اتر آئے تھے ( اور عوام سے آپ کے احوال قریب اور متناسب ہوگئے تھے) اس لیے آپ کی دعوت پر لوگوں نے لبیک کہی عارف کامل پر جب نزول کے آثار نمایاں ہوتے ہیں تو اس وقت وہ بالکل عوام کی طرح اسباب ( ظاہری) کے دامن سے وابستہ نظر آتے ہیں اسی مقام پر اتر کر رسول اللہ نے جنگ کے موقع پر تہ بر تہ زرہ پہنی تھی ( اور جسم مبارک کی حفاظت کے لیے لوہے کی زرہ استعمال کی تھی) اور مدینہ کے گرداگرد دشمن کی روک کے لیے خندق کھدوائی تھی۔ اسی مقام پر عارف کامل اپنے یقین کی زیادتی اور قلبی سکون حاصل کرنے کے لیے استدلال قطعی کا خواہاں ہوتا ہے پس حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ اسی مقام کی تشریح ہے اور حضرت لوط ( علیہ السلام) نے لَوْ اَنَّ لِیْ بِکُمْ قُوَّۃً اٰوْ اَوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ اسی مقام میں کہا تھا۔ حدیث مذکور میں رسول اللہ نے زیادتی یقین کی طلب کو (لفظی اور) ظاہری مشابہت کی وجہ سے شک فرمایا اور نحن احق بالشک من ابراہیم فرما کر اپنے مقام نزول کی تعبیر کی۔ مراد یہ ہے کہ ہمارا مقام نزول تو ابراہیم (علیہ السلام) کے مقام نزول سے زیادہ کامل ہے اس لیے زیادت یقین کی طلب ہم کو ابراہیم (علیہ السلام) سے زیادہ ہونی چاہئے حقیقت میں بھی رسول اللہ کا مقام نزول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درجہ نزول سے بڑھا ہوا تھا اسی لیے تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے آپ کو بھیجا گیا اسی طرح آپ کا مرتبۂ عروج بھی ہر عروج سے بلند تھا۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنیٰگویا آپ کمال کے دونوں جہات (عروج و نزول) کو محیط تھے۔ رہا حضرت لوط ( علیہ السلام) کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مذکور تو اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت لوط مقام نزول میں تھے اس تشریح پر حضرت لوط ( علیہ السلام) کی مدح ہوگی۔ باقی حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے تذکرہ والی حدیث سے تو ثابت ہو ہی رہا ہے کہ رسول اللہ کا مرتبۂ نزول حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے درجہ نزول سے زیادہ کامل تھا اگر حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا نزول حضور ﷺ کے مرتبہ نزول کے برابر ہوتا تو ( پہلی ہی مرتبہ) بلانے والے کی دعوت کو قبول کرلیتے۔ وا اللہ اعلم۔
قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْرِ : اللہ نے فرمایا : ( جب تو اطمینان قلب کے لیے اپنی نظر سے مردوں کو زندہ کرنے کی کیفیت دیکھنا چاہتا ہے) تو چار پرندے پکڑ لے۔ الطیر مصدر بمعنی اسم فاعل ہے یا طائر کی جمع ہے۔ صَحْبٌ صَاحِبٌ کی جمع ہے۔ مجاہد عطاء بن رباح اور ابن جریح نے بیان کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چار پرندے لے لیے۔ مور۔ مرغ۔ کبوتر اور کوّا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے ایک قول میں بجائے کبوتر کے گدھ آیا ہے۔
عطاء خراسانی کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ سبز بطخ، کالا کوّ ا، سفید کبوتر اور سرخ مرغ لے لے۔ میں کہتا ہوں چار پرندے لینے کا حکم شاید اس وجہ سے دیا کہ انسان اور دوسرے تمام حیوان چار اخلاط سے بنے ہیں اور چار اخلاط چار عناصر سے پیدا ہوتے ہیں۔ سرخ مرغ خون کی تعبیر ہے اور سفید کبوتر بلغم کی اور سیاہ کو اسوداء کو بتارہا ہے اور سبز بطخ صفراء کو۔ ان جانوروں کو مرے پیچھے زندہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ انسانی اجزاء بھی مرنے کے بعد زندہ کئے جاسکتے ہیں۔
بیضاوی (رح) نے لکھا ہے اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ مذکورہ جانوروں کے خصوصی اوصاف کو فنا کئے بغیر نفس کو حیات ابدی حاصل نہیں ہوسکتی ظاہری سجاوٹ اور خواہشات کی محبت طاؤس کی خصوصیت ہے، رعب داب اور حملہ کرنے میں مرغ مشہور ہے دناء تِ نفس اور طول آرزو کوّے کی صفت ہے، بلندی کی طلب اور ہوا کی طرف اٹھنا کبوتر کا خاصہ ہے۔
میں کہتا ہوں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مقام نزول و دعوت میں تھے اس لیے آپ کو اللہ نے ہدایت کا طریقہ سکھایا کہ مرید کو فنا اور بقا دونوں کی تعلیم دیں چناچہ آپ نے جانوروں کو پکڑ کر پارہ پارہ کیا گویا یہ سلوک و فنا کی طرف اشارہ ہے پھر آپ نے ان کو بحکم خدا پکارا اس سے اشارہ جذب الی اللہ اور بقاء کی طرف ہے۔ ( ہماری یہ تفصیل تفسیر قرآن سے غیر متعلق ہے یہ صرف اہل بصیرت کی بصیرت اندوزیاں ہیں۔ ) وا اللہ اعلم۔
فَصُرْھُنَّ : ابو جعفر اور حمزہ کی قراءت فَصِرْھُنَّ ہے یعنی ان کو پارہ پارہ اور ریزہ ریزہ کردے۔ یہ لفظ صار یَصِیْرُ صَیْرًا سے ماخوذ ہے اور قراء کے نزدیک صَرٰی یَصری صریًا کا مقلوب ہے۔ باقی قاریوں نے فصُرْھُنَّ پڑھا ہے یعنی ان کو ہلا لے ملا لے۔ اس وقت ( اس لفظ کا مادہ صَوْرٌہو گا اور یہ) صُرْتُ اَصُوْرُ سے ماخوذ ہوگا عطا نے کہا صُرْھُنَّ کا معنی ہے ان کو جمع کرلے۔ صَارَ یَصُوْرُ کا معنی جمع کرنے کا ہے۔
اِلَيْكَ ( اپنی طرف) بر قراءت جمہور اس کا تعلق فَصُرْھُنَّ سے ہے اور بر قراءت حمزہ ایک لفظ محذوف سے تعلق ہے یعنی مُنْضَمَّا اِلَیْکَ .
ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰي كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا (پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک حصہ رکھ دے۔ عاصم نے بروایت ابوبکر جُزُءً ا قرآن میں ہر جگہ پڑھا ہے اور ابو جعفر نے جُزًا اور جمہور نے جُزْءً ا .
ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ پرندوں کو ذبح کرکے ان کے پر نوچ کر سب پر اور خون اور گوشت مخلوط کرلیں پھر اس مخلوط کے حصے کرکے پہاڑوں پر رکھ دیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے سات حصے کرکے سات پہاڑوں پر رکھ دیئے اور سب کے سر اپنے پاس روکے رکھے۔ ابن جریح اور سدی کی بھی یہی روایت ہے لیکن ابن جریر نے بوساطت ابن اسحاق نیز قتادہ ؓ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہر پرندہ کے چار حصے کرکے ایک ایک حصہ ہر پہاڑ پر رکھ دیا ( یعنی چار پہاڑوں پر چار حصے رکھ دیئے) ۔
ثُمَّ ادْعُهُنَّ (پھر ان کو پکارو) یعنی یوں کہو کہ بحکم خدا آجاؤ۔
يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا (وہ جلد جلد اڑتے ہوئے یا تیز تیز پیدل دوڑے ہوئے آجائیں گے۔ ) حسب الحکم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو پکارا فوراً ہر پرندہ کے خون کا ہر قطرہ دوسرے قطرہ سے ہر پر دوسرے پر سے اور ہر ہڈی اور ٹکڑا دوسری ہڈی اور ٹکڑے سے ملنے لگا اور ابراہیم (علیہ السلام) کی نظر کے سامنے ہر جسم بغیر سر کے پورا بن گیا پھر جسم اپنے اپنے سروں کی طرف آئے اور سروں سے جڑ کر بحکم خدا زندہ پرندے بن گئے۔
وَاعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ (اور جان رکھ کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے) یعنی کوئی چیز اس کو اس کے ارادہ سے روک نہیں سکتی۔
حَكِيْمٌ (پوری حکمت والا ہے) اس کا ہر فعل اور ترک مبنی پر حکمت ہے سابق میں ( حضرت عزیر یا ارمیا ( علیہ السلام) کے قصہ کے خاتمہ پر) فرمایا تھا : اِعْلَمْ اِنَّ اللہ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْر اور اس جگہ ( حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے خاتمہ پر) فرمایا : اِعْلَمْ اَنَّ اللہ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ ( عزیر ارمیا کا قول : اَنّٰی یُحْیِی ھَذِہٖ اللہ بَعْدَ مَوْتِھَا صرف اظہار تعجب کے لیے تھا اور حیرت اس امر پر تھی کہ مرے پیچھے زندہ کرنا معمول دنیوی کے خلاف ہے (1) [ وہ ضابطہ تخلیق جو اس دنیا میں جاری ہے آدمی اس کو ضابطہ فطرت سمجھتا ہے کیونکہ اس کے خلاف آدمی کو کوئی مثال نہیں ملتی لیکن آدمی کے مسلمہ ضابطۂ فطرت کے خلاف اگر کوئی صورت پیش آئے یا خرق فطرت کی اس کو اطلاع دی جائے تو خبر دینے والے کی سچائی پر اعتماد کرنے کی وجہ سے وہ اگرچہ اس کو مان لیتا ہے اور یقین کرلیتا ہے لیکن باوجود یقین کے اس کو تحیر اور تعجب ضرور ہوتا ہے اسی حیرت اور تعجب کی وجہ سے وہ اپنے علمی یقین کو یقین مشاہدہ سے بدلنا چاہتا ہے اور علم الیقین سے ترقی کرکے عین الیقین حاصل کرنے کا خواستگار ہوتا ہے۔ حضرت مؤلف کا مطلب بھی یہی ہے کہ حضرت عزیر یا حضرت ارمیا ( علیہ السلام) کا سوال انکاری نہ تھا بلکہ تعجب آگیں تھا اور آپ عین الیقین کے خواستگار تھے۔ سورة التکاثر میں علم یقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین کو بہت خوبصورت طریقے سے ذکر کیا گیا ہے۔ (حافظ)] اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قول : رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحِی الْمَوْتٰی کی بناء ایک نازک ترین حقیقت ( حالت نزول) پر تھی۔ جس سے حکمت الٰہیہ کا تقاضا پورا ہوتا تھا۔ وا اللہ اعلم۔
بیضاوی (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت عزیر کو سو برس مردہ رکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی مرا ددکھائی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مراد بڑی آسانی اور حسن اسلوب کے ساتھ فوراً پوری کردی اس سے ثبوت مل رہا ہے اس امر کا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حضرت عزیر پر فضیلت حاصل تھی نیز حسن ادب کے ساتھ سوال اور عاجزانہ دعا بہت برکت رکھتی ہے ( یعنی حضرت عزیر کے کلام میں صرف اظہار تعجب ہے اور حضرت ابراہیم کے کلام میں عاجزانہ طلب ملتجیانہ دعا اور با ادب سوال ہے اسی دعا کی برکت تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سوال آسانی کے ساتھ پورا کردیا گیا اور حضرت عزیر ( علیہ السلام) کو سو برس مردہ رہنے کے بعد مراد ملی) ۔
Ayah 2:261مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (فی سبیل اللہ خرچ سے مراد ہے جہاد میں یا ہر راہ خیر میں خرچ کرنا۔ اس عبارت میں مضاف محذوف ہے خواہ مبتدا کی جانب حذف مانا جائے یا خبر کی جانب یعنی جو لوگ راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے۔
كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ (جیسے غلہ کا کوئی ایک دانہ جس میں سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں (اس طرح ایک دانہ کے سات سو دانے ہوجائیں) یا یوں کہا جائے کہ راہ خدا میں اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بونے والا جس میں سات بالیں نکلیں۔ الخ۔
انبتت ( اس دانہ نے پیدا کیا، دانہ کی طرف پیدا کرنے کی نسبت مجازی ہے ( پیدا کرنے والا حقیقت میں اللہ ہے) دانہ بالیاں پھوٹنے کا سبب ہے ( مسبب کی جگہ سبب کا استعمال مجازاً ہوتا ہے) ایک بالی میں سو دانے ( بعض اناج میں ہوتے ہیں) جیسے چینایا دُوَان۔
وَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ (یعنی دنیا اور آخرت میں اللہ جس شخص کے لیے جتنے گنا چاہے کرسکتا ہے۔
وَاللّٰهُ وَاسِعٌ (کیونکہ اللہ بڑی سمائی والا ہے) جس پر جتنی زیادہ مہربانی کرے کرسکتا ہے اس کے لیے کوئی تنگی نہیں۔
عَلِيْمٌ (وہ خرچ کرنے والوں کی نیتوں سے بخوبی واقف ہے نیتوں کے موافق ہی جزا عطا کرے گا۔
Ayah 2:262اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (بغوی نے بروایت کلبی بیان کیا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف چار ہزار درہم صرف خیر کے لے کر خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے پاس آٹھ ہزار درہم تھے چار ہزار تو میں نے اپنے اور اپنے بچوں کے لیے رکھ لیے ہیں اور چار ہزار میں اپنے رب کو قرض دینے لایا ہوں رسول اللہ نے فرمایا : جو درہم تم نے اپنے پاس روک لیے اور جو راہ خدا میں دیئے ہیں سب میں اللہ برکت دے۔ حضرت عثمان نے عزوۂ تبوک کے موقع پر مسلمانوں کو ایک ہزار اونٹ ان کے کجاو وں اور عرق گیر سمیت دیئے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ کلبی نے حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ؓ کی روایت سے یہ بھی بیان کیا کہ جیش عسرت ( یعنی جنگِتبوک کی تیاری) کے موقع پر حضرت عثمان غنی ؓ نے ایک ہزار دینار لا کر رسول اللہ کی گود میں ڈال دیئے میں نے خود دیکھا کہ (انتہائی مسرت کے ساتھ) رسول اللہ ان میں دست مبارک ڈالتے ان کو الٹ پلٹ کرتے اور فرماتے تھے آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اس کو ( کسی عمل سے) ضرر نہیں ہوگا اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ امام احمد (رح) نے بھی حضرت عبد الرحمن بن سمرہ ؓ کی یہ روایت بیان کی ہے لیکن اس میں نزول آیت کا ذکر نہیں ہے۔
ثُمَّ لَا يُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًى (جو لوگ راہ خدا میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں پھر خرچ کرنے کے بعد نہ کسی قسم کا احسان رکھتے ہیں نہ دکھ دینے کی کوئی بات کرتے ہیں۔ مَنًّا کا یہ معنی ہے کہ جس پر احسان کیا ہے اس پر احسان کی شمار کرے (یعنی احسان رکھے) اور اذًی سے یہ مراد ہے کہ احسان کے بعد اس پر اپنی فوقیت قائم کرے اور اپنے کو بالا دست قرار دے یا یہ کہے کہ تو مجھ سے کتنا مانگے گا۔ مجھے کتنا ستائے گا یا اپنے دینے کا ایسے لوگوں سے تذکرہ کرے جن کا مطلع ہونا لینے والے کو ناگوار ہو۔
بغوی (رح) نے نقل کیا ہے کہ عبد الرحمن بن زید بن اسلم ؓ بیان کرتے تھے کہ میرے باپ کہا کرتے تھے جب تو کسی کو کچھ دے اور پھر تجھے محسوس ہو کہ اس کو تیرا سلام کرنا بھی گراں گذرتا ہے تو اس کو سلام بھی نہ کر۔
لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ ۚ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ (ان کا اجر خصوصیت کے ساتھ ان کے رب کے پاس ہے ان کو نہ ( آئندہ کا) خوف ہوگا نہ ( پچھلے کا) غم ) ۔ الّذین مبتدا ہے اور لھم اجرھم خبر ہے) مبتدا کے اندر شرط کا معنی ہے لہٰذا خبر پر فا آنی چاہئے لیکن اس جگہ فاء مذکور نہیں اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ در پردہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ وہ اس سلوک کے پہلے سے ہی مستحق ہیں خواہ انفاق کریں یا نہ کریں اور اب تو انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں اس لیے ان کا استحقاق مستحکم ہوگیا۔
Ayah 2:263قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ (بھلی بات اور نرمی سے سائل کو رد کردینا) کلبی نے کہا اس سے مراد وہ نیک دعا ہے جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں کرتا ہے۔ ضحاک نے کہا باہمی نزاع کو دور کرنے کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا۔ (یعنی قول معروف سے وہ بات مراد ہے جو مسلمانوں کے باہمی نزاع کو دور کرنے کے لیے کہی جائے) ۔
وَّمَغْفِرَةٌ (اور معاف کردینا یعنی جو سائل اصرار کے ساتھ سوال کرتا ہے اور پیچھے پڑجاتا ہے اس کو مناسب الفاظ کے ساتھ رد کرنا اور در گذر کرنا ( زجر نہ کرنا اور سخت الفاظ استعمال نہ کرنا) بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ مغفرت سے مراد یہ ہے کہ سائل کا پردہ فاش نہ کرے اور اسکی محتاجی پر پردہ ڈالے رکھے ( گو یا بغوی کے نزدیک مغفرت کا لغوی معنی یعنی چھپانا مراد ہے مجازی معنی یعنی معاف کرنا مراد نہیں ہے)
بعض علماء نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ نرم الفاظ میں رد کرنے سے من جانب اللہ مغفرت کا حصول اس کو مقصود ہو بعض لوگوں کا قول ہے کہ مغفرت سے مراد یہ ہے کہ سائل رد کرنے والے کے انکار سے در گذر کرے اور اس کو معذور سمجھے۔ کلبی اور ضحاک کے نزدیک مراد یہ ہے کہ جو شخص بھی اس کی حق تلفی کرے اس کو معاف کردے۔
خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَّتْبَعُهَآ اَذًى (یعنی بھلی بات اور مغفرت اس دینے سے بہتر ہے جس کے پیچھے دینے والے کی طرف سے لینے والے کو دکھ پہنچے) قول معروف و مغفرۃ مبتدا ہے اور خیر دونوں کی خبر ہے۔ قول نکرہ مخصوصہ ہے اس لیے اس کا مبتدا ہونا درست ہے۔
وَاللّٰهُ غَنِىٌّ یعنی جس عطاء کے بعد احسان رکھا جائے یا دکھ دیا جائے اس کی اللہ کو پرواہ نہیں۔
حَلِيْمٌ : احسان رکھنے والے اور دکھ دینے والے کو فوری عذاب نہیں دیتا کیونکہ بڑی برداشت والا ہے۔
Ayah 2:264يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذٰى (اے وہ لوگو جو ایمان لاچکے ہو اپنی خیرات کے ثواب کو سائل پر احسان رکھنے اور دکھ دینے سے اکارت نہ بناؤ یعنی دونوں میں سے کوئی فعل کرکے صدقہ کو رائیگاں نہ کرو۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک احسان رکھنے سے مراد ہے اللہ پر احسان رکھنا اور عام مفسرین نے لینے والے پر احسان رکھنا مراد لیا ہے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ راوی ہیں کہ جناب رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : دینے کے بعد احسان جتانے والا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ ( یعنی جب تک لینے والا اس کو معاف نہ کردے اور ماں باپ راضی نہ ہوجائیں) ۔ وا اللہ اعلم ( رواہ النسائی والدارمی)
كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ( جیسے وہ شخص اپنے ثواب کو اکارت کردیتا ہے جو لوگوں کے دکھانے کے لیے خیرات کرتا ہے حالانکہ اس کا ایمان نہ اللہ پر ہوتا ہے نہ روز آخرت پر۔
کَالَّذِیْ میں کاف محل نصب میں ہے اور نصب یا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ہے یا حال ہونے کی بناء پر۔ اوّل صورت میں اس طرح ترجمہ ہوگا کہ اس شخص کے ثواب کو رائیگاں کرنے کی طرح اپنے ثواب کو اکارت نہ کرو جو۔۔ اور مؤخر الذکر صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ ثواب کو برباد کرنے میں اس شخص کی طرح نہ ہوجاؤ جو۔۔ رئاء الناس کا نصب مفعول لہٗ یعنی فعل مذکور کی علت ہونے کی بناء پر ہے یعنی لوگوں کو دکھانے کی غرض سے وہ مال خرچ کرتا ہے یا حال ہونے کی وجہ سے نصب ہے۔ یعنی لوگوں کو دکھاتے ہوئے خرچ کرتا ہے یا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یعنی لوگوں کی دکھاوٹ کا خرچ کرنا۔ وَلَا یُؤمِنُ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاِٰخِرِ انفاق صدقہ کی قید نہیں ہے کیونکہ ریا کاری سے خیرات کا ثواب بہر حال برباد ہوجاتا ہے خواہ ریا کاری کرنے والا مؤمن ہی ہو۔ بلکہ اس جملہ کا ذکر حقیقت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ دکھاوٹ کے لیے خیرات کرنا مؤمن کی شان نہیں منافق کی خصوصیت ہے۔
فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ : اس ریا کار کی حالت ایسی ہے جیسے پتھر کی چکنی چٹان۔ صفوان یا جمع ہے اور صفوانۃ اس کا مفرد ہے یا مفرد ہے اور صفی جمع ہے۔
عَلَيْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا ( جس پر خاک پڑی ہو اور موٹے قطروں کی بارش اس پر برسے اور صاف چکنا کرکے چھوڑ دے۔
لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا ( یعنی جو کچھ دنیا میں کمائی کی تھی آخرت میں اس سے بالکل نفع حاصل نہ کرسکیں گے چونکہالّذی سے جنس یا جمع مراد ہے گو لفظ مفرد ہے اس لیے معنوی لحاظ سے لا یقدرون کی ضمیرجمع الَّذی کی طرف راجع ہے۔
وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ : اور اللہ کافر ( یعنی کفر پر جم جانے والی) قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ اس جملہ میں در پردہ اس طرف اشارہ ہے کہ ریا کاری اور منت نہی اور سائل سے اذیت رساں بات کہنا کافروں کی خصوصیات ہیں مؤمن کے لیے زیبا نہیں۔ یا ( کافر سے مراد ہے نا شکری کرنے والا) منعم حقیقی کی نعمتوں کا کفران اور ناشکری کرنے والوں کو اللہ ہدایت نہیں کرتا۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ شرک سے لا پروا ہوں اگر کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کے اندر کسی دوسرے کو میرا ساجھی (شریک) قرار دیتا ہے ( یعنی خالص میری رضا حاصل کرنے کے لیے نہیں کرتا) تو میں اس کو اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں میں اس سے بیزار ہوں اس کا عمل اسی شریک کے لیے ہوگا جس کے لیے اس نے کیا ہوگا۔ (رواہ مسلم)
حضرت جندب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص شہرت طلبی کے لیے عمل کرتا ہے اللہ بھی اس کے عمل کو شہرت طلبی کے لیے قرار دیتا ہے اور جو ریا کاری کرتا ہے اللہ بھی اس کے کام کو یا کاری قرار دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم) حضرت ابو سعید بن ابوفضالہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یعنی اس دن جس کا آنا یقینی ہے لوگوں کو جمع کرے گا تو ایک پکار نے والا ندا دے گا جس نے کوئی کام اللہ کے لیے کیا ہو اور اس میں کسی دوسرے کو اللہ کے ساتھ شریک بنایا ہو اس کو چاہئے کہ اپنا ثواب اسی شریک سے طلب کرے اللہ سب سے زیادہ شرک سے بیزار ہے۔ (رواہ احمد)
حضرت محمود ؓ بن لبید راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے تمہارے متعلق سب سے زیادہ اندیشہ شرک اصغر کا ہے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ شرک اصغر کیا ہے ؟ فرمایا : ریا کاری۔ (رواہ احمد) بیہقی نے شعب الایمان میں اتنا مزید نقل کیا ہے کہ جزا سزا کے دن اللہ فرمائے گا۔ ان کے پاس جاؤ جن کو دنیا میں تم اپنے اعمال دکھایا کرتے تھے جا کر دیکھ لو کہ ان کے پاس تم کو جزا یا بھلائی ملتی ہے۔
حضرت شداد بن اوس کا بیان ہے میں نے خود سنا کہ رسول اللہ فرما رہے تھے مجھے اپنی امت کے متعلق شرک اور پوشیدہ خواہش نفس کا اندیشہ ہے۔ میں نے عرض کیا : کیا حضور کے بعد حضور ﷺ کی امت شرک کرسکے گی ؟ فرمایا : ہاں سنو کوئی شک نہیں کہ وہ نہ سورج کی پوجا کرے گی نہ چاند کی نہ پتھر کی نہ بت کی بلکہ وہ اپنے اعمال میں دکھاوٹ کرے گی اور پوشیدہ نفسانی خواہش کی صورت (مثلا) اس طرح ہوگی کہ صبح کو لوگ روزہ دار ہوں گے لیکن ( پھر) کوئی نفسانی خواہش ان کے سامنے آئے گی تو روزہ چھوڑ دیں گے۔ (رواہ احمد و بیہقی) حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ قیامت کے دن سب سے اوّل ایک شہید کا فیصلہ ہوگا پیشی کے وقت اللہ اس کو اپنی نعمتیں بتائے گا وہ ان کا اقرار کرے گا اللہ فرمائے گا تو پھر ان نعمتوں کے سلسلہ میں تو نے کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا میں تیری راہ میں لڑکر شہید ہوگیا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے تو صرف بہادر کہلوانے کے لیے لڑا تھا چناچہ تجھے بہادر کہہ دیا گیا اس کے بعد بحکم خداوندی منہ کے بل گھسیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس کے بعد اس شخص کی پیشی ہوگی جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن پڑھا ہوگا اس کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی نعمت بتائے گا وہ اقرار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو نے اس نعمت کا کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا : میں نے علم سیکھا، سکھایا اور تیری خوشنودی کے لیے قرآن پڑھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے عالم کہا جانے کے لیے علم سیکھا تھا اور قاری کہلوانے کے لیے قرآن پڑھا تھا پھر اس کو بھی بحکم خداوندی منہ کے بل کھینچ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ پھر ایک شخص پیش ہوگا جس کو اللہ نے وسیع روزی عطا کی ہوگی اور ہر قسم کا مال مرحمت فرمایا ہوگا اس کو بھی اللہ اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ اقرار کرے گا اللہ پوچھے گا تو نے ان نعمتوں میں کیا کیا ؟ وہ عرض کرے گا : میں نے کسی ایسے راستہ میں خرچ کرنے سے دریغ نہیں کیا جس میں صرف کرنا تجھے پسند تھا اللہ فرمائے گا تو نے جھوٹ کہا تو نے تو یہ کام صرف سخی مشہور ہونے کے لیے کئے تھے چناچہ تجھے سخی کہہ دیا گیا پھر بحکم الٰہی اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (رواہ مسلم) بغوی (رح) نے یہ حدیث بیان کرنے کے آخر میں اتنا زیادہ نقل کیا ہے کہ پھر رسول اللہ نے میرے زانو پر ( ہاتھ) مار کر فرمایا : ابوہریرہ ؓ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں یہی تینوں ایسے ہوں گے کہ قیامت کے دن سب سے اوّل دوزخ ان پر بھڑکے گی یعنی سب سے پہلے یہی تینوں دوزخ کا ایندھن ہوں گے) ۔
Ayah 2:265وَمَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ ابْتِغَاۗءَ مَرْضَات اللّٰهِ وَتَثْبِيْتًا (اور ان لوگوں کی حالت جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی طلب اور اسلام کو مضبوط بنانے اور اللہ کے وعدۂ جزاء کی تصدیق کرنے اور ثواب کی امید رکھنے کی وجہ سے اپنا مال راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہے کہ تثبیت سے مراد تثبیت مالی ہو یعنی مال کے نفع اخروی کو قائم رکھنے کی غرض سے خرچ کرتے ہیں کیونکہ قائم رہنے والا وہی مال ہے جو آخرت میں صاحب مال کے لیے سود مند ہو اس کے علاوہ ہر مال فانی ہے حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا : ہم میں کوئی ایسا نہیں جس کو اپنا مال وارث کے مال سے زیادہ پیارا نہ ہو فرمایا : تو اس کا مال وہی ہے جو اس نے پہلے سے بھیج دیا اور وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ گیا۔ (رواہ البخاری) حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت ہے کہ لوگوں نے ( تقسیم کرنے اور لوگوں کو کھلانے کے لیے) ایک بکری ذبح کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کتناحصہ (دینے اور کھلانے سے) باقی رہ گیا صحابہ ؓ نے عرض کیا صرف شانہ باقی رہا ہے اور کچھ نہیں رہا فرمایا : ( یوں سمجھو کہ) سب باقی رہا شانہ نہیں رہا۔ ( یعنی شانہ کا ثواب جمع نہیں ہوا باقی گوشت کا ثواب جمع ہوگیا) ۔
مِّنْ اَنْفُسِهِمْ : مِنْ ابتدائیہ ہے یعنی ایمان و تصدیق کو مضبوط کرنا یا مال کو قائم رکھنا خود ان کے نفسوں کی طرف سے ہوتا ہے (کسی کے دباؤ یا لالچ کی وجہ سے نہیں ہوتا) یا من تبعیضیہ ہے۔ یعنی جو لوگ اپنے نفسوں کی بعض قوتوں کو ایمان پر مستحکم کرنے اور جمانے کے لیے راہ خدا میں مال خرچ کرتے ہیں نفس کی قوتیں متعدد ہیں بعض کا تعلق مال کو خرچ کرنے سے ہے اور بعض روح کو کام میں لانے کا سر چشمہ ہیں مال جان کا ہمزاد ہے جو شخص اللہ کی خوشنودی کے لیے مال صرف کرتا ہے وہ اس قوت کو ایمان پر مستحکم کرتا ہے جو صرف مال کا مبداء ہے اور جو مال و جان دونوں اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ نفس کی ساری قوتوں کو ایمان پر جماتا ہے۔
بیضاوی (رح) نے لکھا ہے آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ راہ خدا میں مال صرف کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ بخل اور مالی محبت سے نفس پاک ہوجائے۔ میں کہتا ہوں کہ اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک بچہ کے مال پر زکوٰۃ واجب ہی نہیں ہے کہ سر پرست اس کی طرف سے ادا کرے کیونکہ زکوٰۃ کی اصل علت یہ ہے کہ راہ خدا میں مال کو ( جو جان کا ہمزاد ہے) خرچ کرا کے مامور کا امتحان لیا جائے ( کہ مال کی محبت دل گیر ہے یا حکم خدا کی تعمیل کا جذبہ غالب ہے) اور سر پرست کے ہاتھوں بچہ کی طرف سے صرف کرانے سے یہ مصلحت پوری نہیں ہوتی۔
كَمَثَلِ جَنَّةٍۢ بِرَبْوَةٍ (جیسے ہموار اونچے میدان کا باغ) اس جگہ اور سورة مؤمنون کی آیت : اِلٰی رَبْوَۃٍ میں ابن عامر اور عاصم نے رَبْوۃ بفتح راء پڑھا ہے لیکن دوسرے قاریوں نے بضم راء ربوۃ پڑھا ہے دونوں لغت آئے ہیں۔ ربوہ وہ اونچا ہموار مقام جہاں نہریں بہہ رہی ہوں لیکن نہروں کے کنارے طرفین کی زمین سے نہ اونچے ہوں نہ نیچے اسلئے نہ پانی اوپر آسکتا ہو نہ زمین اونچی اور پانی نیچا ہو۔ ایسے باغ کے درخت نہایت حسین اور صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ اسی لیے باغ کے ربوہ پر واقع ہونے کی صراحت فرمائی۔
اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰ تَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ( جس پر اگر موٹے قطروں کی خوب بارش برس جائے تو اس کے درخت دوگنا پھل دیں۔ اُکْلَھَا بسکون کاف قراءت نافع و ابن کثیر و ابو عمر و بضم کاف قراءت جمہور۔ اُکُل ( بمعنی ماکول کھائی جانے والی چیز یعنی) پھل ضعفین حال ہونے کی بناء پر حالت نصب میں ہے یعنی بارش نہ ہونے سے جتنے پھل اس باغ میں پیدا ہوسکتے ہیں اس سے دگنے پھل بارش کے بعد پیدا ہوتے ہیں ( گویا ضعفین سے مراد ہوا ایک کا دوگنا) جیسے آیت : زوجین اثنین میں زوج سے مراد ہیں : دو ۔ بعض کے نزدیک دو ضعف سے چار مراد ہیں کیونکہ ضعف ایک کا دوگنا ہوتا ہے اور دو ضعف چار گنا۔
فَاِنْ لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ (پس اگر اس پر بڑی بارش نہ ہو تو بارش کا ایک چھینٹا ہوجائے ( تب بھی اس کے لیے کافی ہے) طَلٌّ کے بعداصابھا محذوف ہے یاطَلٌّ سے پہلے محذوف ہے بہر تقدیر مقصد یہ ہے کہ بارش کی کمی بیشی سے اس باغ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا یا یہ معنی ہے کہ چونکہ اس کی زمین اچھی اور ہوا ٹھنڈی ہے اس لیے خفیف بارش ہی اس کے لیے کافی ہے۔ طل چھوٹی بوندوں کی بارش کو کہتے ہیں۔
اگر مضاف کو محذوف مانا جائے تو پوری آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی خیرات کی حالت مذکورہ باغ کی طرح ہے ( باغ پر کثیر بارش ہو تو پھل زیادہ ہوجاتے ہیں کم بارش ہو تب بھی پھل ضرور پیدا ہوتے ہیں) یہی حالت مؤمن کی خیرات کی ہے اگر اس خیرات کے ساتھ ثواب کو دوگنا کردینے والے اعمال بھی ملا دیئے جائیں تو ثواب چند در چند حسب مشیت خداوندی ہوجاتا ہے ورنہ اصل عمل تو ضائع نہیں ہوسکتا اس کا اجر تو بہر حال لازمی ملے گا۔ اگر مضاف کو محذوف نہ مانا جائے تو مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والا مؤمن مذکورہ باغ کی طرح ہے جس طرح باغ میں پھل بقدر بارش پیدا ہوتے ہیں اسی طرح مؤمن کا ثواب بھی کم و بیش بقدر صرف ہوگا صرف اکارت نہیں جائے گا۔
وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (ا اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھتا ہے) اس جملہ کا تعلق دونوں فریقوں سے ہے دکھاوٹ کیلئے خرچ کرنے والے فریق کیلئے اس میں تخویف ہے جبکہ خوشنودی خدا کیلئے خرچ کرنے والے فریق کیلئے ( مزید) ترغیب ہے۔
Ayah 2:266اَيَوَدُّ اَحَدُكُمْ : ہمزۂ استفہامیہ انکاریہ ہے اور اس آیت کا ارتباط آیت : لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بالْمَنِّ وَالْاَذَی سے ہے۔
اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ ۙ لَهٗ فِيْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ ۔
باغ میں درخت تو دوسرے بھی ہیں لیکن کھجور و انگور کی فضیلت اور ان کے منافع کی کثرت کی وجہ سے خصوصیت کے ساتھ انہی دونوں پھلوں کا ذکر کیا اور آخر میں فیھا من کل الثمرات بھی اس لیے فرما دیا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ باغ میں صرف کھجوریں اور انگور ہی ہیں اور کوئی پھل نہیں ہے یعنی اگر تم میں سے کسی کا ایک باغ ہو جس میں نہریں بہہ رہی ہوں کھجور اور انگور کے درخت خصوصیت کے ساتھ ہوں اور دوسرے پھلوں کے درخت بھی ہوں اور اسی حالت میں۔
وَاَصَابَهُ الْكِبَرُ (اس کو بڑھاپا آپہنچے) اور کمائی کی طاقت نہ رہے واؤ حالیہ ہے ( ہم نے حال ہی کا ترجمہ کیا ہے) یا عاطفہ ہے لیکن عطف معنوی ہوگا یعنی کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کا ایک باغ ہو اور اس کو بڑھاپا آپہنچے۔
وَلَهٗ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاۗءُ (اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے یا عورتیں ہوں) جو کمانے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ اس جملہ میں بھی واؤ عاطفہ یا حالیہ ہے عطف اَصَابَہٗ پر ہوگا اور حال اَصَابَہٗ کی ضمیر مفعول کا۔
فَاَصَابَهَآ اِعْصَارٌفِيْهِ نَارٌ: پھر اس باغ پر ایسی آندھی آجائے جس میں آگ ہو اِعْصَارٌ وہ تیز طوفانی ہوا جو زمین سے بشکل عمودی اوپر کو جاتی ہے۔ ( بگولہ)
فَاحْتَرَقَتْ : اور اس سے باغ جل جائے مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس کے پاس عمدہ اعلیٰ مال ہو اور جب اس کو اپنے مال کی سخت ضرورت کا وقت آئے تو مال جل جائے اور وہ مرتے دم تک حسرت و نامرادی کی زندگی بسر کرتا رہے جب یہ بات ہے تو کوئی کس طرح پسند کرسکتا ہے کہ قیامت کے دن جب کہ نیکیوں کی سخت ضرورت ہوگی اس کی ساری نیکیاں اکارت جائیں اور وہ آخرت میں ہمیشہ کے لیے ناکام و نامراد رہے۔
عبید بن عمیر ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے صحابہ ؓ سے دریافت کیا آپ لوگوں کی رائے میں آیت : اَیَوَدُّ اَحدکم۔۔ کس بارے میں نازل ہوئی تھی ؟ صحابہ ؓ نے جواب دیا اللہ اعلم۔ حضرت عمر ؓ نے غضبناک ہو کر فرمایا : کہو ہم جانتے ہیں یا نہیں جانتے ( اللہ اعلم) کیا جواب ہے اللہ تو جانتا ہی ہے تم اپنا جواب دو ) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اس آیت کا مجھے کچھ علم ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا : بھتیجے تم کہو اور اپنے کو (کم سن ہونے کی وجہ سے) حقیر نہ سمجھو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا اس آیت میں عمل کی تمثیل بیان کی گئی ہے حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اس شخص کی تمثیل دی گئی ہے جو اللہ کی فرماں برداری کے کام کرتا ہے پھر اللہ اس پر شیطان کو مسلط کردیتا ہے تو وہ گناہ کے کام کرنے لگتا ہے آخر وہ اپنے اعمال کو ڈبو دیتا ہے۔
كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ یونہی اللہ تمہارے لیے نشانیاں واضح کرتا ہے کہ تم ان پر غور کرو اور نصیحت حاصل کرو۔