2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:144

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں

قَدْ نَرٰى تَـقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاۗءِ ( ہم دیکھ رہے ہیں آپ کے منہ کا آسمان کی طرف پھر پھرجانا) سرور عالم ﷺ کا دل اس بات کو چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم ہوجائے کیونکہ وہ قبلہ ابراہیمی تھا نیز مشرکین کو ایمان کی طرف اور یہود کو مخالفت کی طرف زیادہ مائل کرنے والا تھا یہ آیت تحویل قبلہ کے قصہ کا ابتدائی حصہ ہے تلاوت میں اس کو مؤخر کردیا گیا ہے ہجرت کے بعد احکام شرعیہ میں سے اوّل جو حکم منسوخ ہوا وہ یہی قبلہ تھا۔ اس میں اختلاف ہے کہ ہجرت سے پہلے قبلہ بیت اللہ تھا یا بیت المقدس بعض کہتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ بیت المقدس کی طرف توجہ فرماتے تھے اور کعبہ بھی سامنے ہوتا تھا اس حدیث کو امام احمد نے ابن عباس سے روایت کیا ہے اور سند اس کی جید ہے اور بعض نے مطلقاً کہا ہے کہ بیت المقدس کی طرف رخ فرماتے تھے اس کا ذکر نہیں کیا کہ کعبہ کس طرف ہوتا تھا۔ علامہ بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ میں حضور سرور عالم ﷺ کعبہ کی طرف رخ فرماتے تھے اور جب ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو بیت المقدس کی طرف متوجہ ہوئے چناچہ ابن جریر وغیرہ نے بسند قوی ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کو ہجرت فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو امر فرمایا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کیا کریں۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ اوّل رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کی طرف نماز پڑھی پھر مکہ میں ہی رہتے ہوئے بیت المقدس کی طرف پڑھنے کا حکم ہوگیا چناچہ تین برس برابربیت المقدس کی جانب نماز پڑھی پھر مدینہ کو ہجرت فرمائی۔ اوّل قول یعنی علامہ بغوی کا مسلک صحیح اور قوی ہے اور دیگر احادیث اسی کی طرف راجع ہے۔ اس میں بھی اختلاف ہے کہ بعد ہجرت کے بیت المقدس کی طرف کتنے زمانہ تک حضور ﷺ نے نماز پڑھی ہے۔ ابو داؤد کے نزدیک بروایت ابن عباس سترہ مہینے نماز پڑھی۔ طبرانی اور بزار کے نزدیک حسب روایت عمرو ابن عوف اور ابی شیبہ نیز ابو داوٗد وغیرہ ہما کے نزدیک موافق روایت ابن عباس ؓ اور امام مالک (رح) کے نزدیک حسب روایت سعید بن المسیب ؓ سولہ مہینے پڑھی اور بخاری کے نزدیک حسب روایت براء بن عازب ؓ سولہ یا سترہ مہینے پڑھی۔ حق یہ ہے کہ سولہ مہینے اور کچھ دنوں پڑھی ہے کیونکہ حضور ﷺ نے مکہ سے ربیع الاوّل کی پانچویں تاریخ بروز دو شنبہ ہجرت فرمائی اور مدینہ میں بارہویں 12 ربیع الاوّل روز دو شنبہ کو تشریف لائے اور تحویل قبلہ کا حکم قول صحیح کے موافق 15 رجب 2 ہجری واقعہ بدر سے دو ماہ پہلے بوقت زوال ہوا۔ جمہور علماء نے اسی قول کو معتبر ٹھہرایا ہے اور سترہ مہینے جو بعض کا قول ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دنوں کو پورا مہینہ شمار کرکے سترہ مہینے کہہ دیئے۔ بعض روایت میں جو تیرہ یا انیس یا اٹھارہ مہینے یا دو ماہ یا دو برس آئے ہیں یہ اقوال سب ضعیف ہیں۔ مدینہ منورہ میں جب حضور ﷺ تشریف رکھتے تھے تو یہودی کہا کرتے تھے کہ محمد دین میں تو ہماری مخالفت کرتے ہیں مگر اتباع ہمارے قبلہ ہی کا کرتے ہیں اس لیے آپ یہ چاہتے تھے کہ بیت اللہ قبلہ ہوجائے چناچہ حضور نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے اپنی یہ تمنا ظاہر کی کہ بیت اللہ چونکہ میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ ہے اس لیے میری خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبلہ بنادے جبرئیل ( علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مثل آپ کے بندہ ہوں اور آپ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجھ سے زیادہ بزرگ اور مقرب ہیں آپ خود اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اور اکثر اللہ کے حکم کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھتے رہتے آخر کار اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی اور قَدْ نَرٰی [ الایۃ ] نازل فرمائی۔ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىھَا ۠ ( پس بیشک ہم پھیر دیں گے آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ چاہتے ہیں) وَلّیْنُہٗ میں نے اسے والی بنا دیا اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ ہم آپ کو استقبال پر قدرت عطاء کردیں گے یا یہ معنی ہیں کہ ہم آپ کو بیت اللہ کی طرف متصل کردینگے یا یہ معنی ہونگے کہ پھیر دینگے ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف جسے آپ چاہتے ہیں تَرْضٰھَا یعنی جس قبلہ کو چند اغراض صحیح یہ پسندیدہ کی وجہ سے آپ چاہتے ہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے (یعنی پہلے قبلہ سے آپ ناراض نہ تھے بلکہ پہلے قبلہ سے بھی آپ راضی تھے کیونکہ وہ مامور بہا تھا مگر اس قبلہ کو چند مصالح دینیہ کی وجہ سے چاہتے تھے) فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ( تو اب پھیر لو اپنا منہ ( بیت المقدس سے نماز کے وقت) مسجد حرام کی طرف) یعنی جس جہت میں مسجد حرام ہے اس کی طرف۔ لفظ شَطَرَ اصل میں اس شے کو کہتے ہیں جو کسی شے سے علیحدہ ہو چناچہ عرب دارٌ شُطُوْرٌ اس گھر کو بولتے ہیں جو اور گھروں سے جدا ہو پھر اس کا استعمال بمعنی جانب آنے لگا اگرچہ وہ جانب علیحدہ نہ ہو اور شَطَرَ منصوب بنزع خافض ہے ( یعنی اصل میں اِلٰی شَطْرِ الْمَسْجِدِ الْحَرَام تھا) اِلٰی حرف جر کو حذف کرکے شطر کو منصوب کردیا ( ایسے منصوب کو منصوب بنزع خافض کہتے ہیں) اور بعض نے کہا ہے کہ شَطَرَ ظرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مسجد حرام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں قتال اور شکار کرنا اور درخت کا کاٹنا حرام ہے اور اسی کو حرام کہتے ہیں اور بظاہر یہ مناسب تھا کہ بجائے مسجد حرام کے کعبہ فرماتے کیونکہ قبلہ تو کعبہ ہی ہے لیکن مسجد حرام اس لیے فرمایا کہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ جو کعبہ سے دور ہو اس پر جہت کعبہ کا استقبال واجب ہے عین کعبہ کا نہیں۔ چناچہ ترمذی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مابین مشرق اور مغرب کے قبلہ ہے ( اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دور والوں کے لیے قبلہ جہت کعبہ ہے) میں (مفسر) کہتا ہوں کہ اس حدیث میں مشرق سے بہت چھوٹے دنوں کی مشرق مراد ہے اسی طرح مغرب سے مراد بہت چھوٹے دنوں کی مغرب ہے اس کے مابین جہت جنوب ہوئی یہی قبلہ اہل مدینہ کا ہے اسی طرح ہر ملک کے لوگوں کا علیحدہ قبلہ ہے چناچہ اہل ہند کا قبلہ دو مغربوں کے درمیان ہے اور وہ دونوں مغرب راس جدی کی مغرب ہے مواہب اور سبیل الرشاد میں مذکور ہے کہ نبی ﷺ قبیلہ بنی سلمہ میں ام بشر ابن براء بن معرور سے ملنے براء کے انتقال کے بعد تشریف لے گئے ام بشر نے حضور ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا وہاں آپ ﷺ کو ظہرکا وقت آگیا آپ نے مع اصحاب کے مسجد بنی سلمہ میں نماز شروع فرمائی جب آپ ﷺ دو رکعتیں پڑھ چکے تو جبرئیل ( علیہ السلام) نے آکر اشارہ کیا کہ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھو آپ نماز ہی میں کعبہ کی طرف میزاب کی جانب پھرگئے۔ جس جگہ مرد تھے وہاں عورتیں آگئیں اور جہاں عورتیں تھی وہاں مرد آگئے غرض سب نماز میں پھرگئے اسی واسطے اس مسجد کو مسجد القبلتین کہتے ہیں واحدی نے کہا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ قصہ نہایت قوی سند سے ثابت ہے۔ غرض آپ نے ظہر کی دو رکعت تو بیت المقدس کی طرف پڑھیں اور دو رکعت کعبہ کی طرف۔ عباد بن بشر ؓ آپ کے ساتھ نماز پڑھ کر جا رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ بنی حارثہ عصر کی نماز پڑھے رہے ہیں اور رکوع میں ہیں انہوں نے بآواز بلند کہا کہ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھ کر آرہا ہوں وہ سن کر فوراً بیت اللہ کی طرف پھرگئے اور صحیح بخاری میں براء بن عازب ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اوّل نماز جو کعبہ کی طرف پڑھی وہ عصر کی نماز تھی یہ حدیث پہلی حدیث کے خلاف ہے کیونکہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سب سے پہلے ظہر کی نماز پڑھی لیکن تحقیق یہ ہے کہ ظہر ہی کی نماز پڑھی ہے اور دوسری حدیث میں جو عصر کی نماز آئی ہے تو ممکن ہے کہ براء بن عازب کو آپ کے بنی سلمہ میں ظہر پڑھنے کی اطلاع نہ ہوئی ہو یا ان کی مراد یہ ہو کہ پوری نماز سب سے پہلے کعبہ کی طرف عصر کی نماز پڑھی۔ کیونکہ ظہر کی تو دو ہی رکعتیں پڑھی تھیں ‘ یا یہ مقصود ہو کہ اپنی مسجد میں جو حضور ﷺ نے کعبہ کی طرف نماز پڑھی وہ عصر کی نماز تھی اور تحویل قبلہ کی خبر قبا والوں کو اگلے روز فجر کی نماز میں ہوئی ہے چناچہ صحیحین میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ قباء میں لوگ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کی طرف سے کعبہ کی طرف متوجہ ہونے کا حکم ہوگیا وہ سب اسی وقت کعبہ کی طرف پھرگئے اوّل ان کے منہ شام کی طرف تھے اور رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ ہم بنی عبد الاشہل میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک شخص نے آکر پکارا کہ رسول اللہ ﷺ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوگیا ہمارا امام یہ سن کر کعبہ کی طرف پھر گیا اور ہم سب بھی پھرگئے۔ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ( اور تم جہاں کہیں ہوا کرو تو کرلیا کرو اپنے منہ اسی کی طرف) یہاں سے اللہ تعالیٰ نے تمام امت کو خطاب فرمایا ہے اوّل خاص جناب سرور کائنات ﷺ کو آپ کی تعظیم شان کے لیے خطاب فرمایا تھا۔ آپ کو خطاب فرمانا بھی اگرچہ امت کو شامل تھا۔ لیکن تصریح اور توضیح اور تاکید کے لیے امت کو مستقل خطاب کا تمغہ عطا فرمایا۔ بخاری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب نبی ﷺ بیت اللہ میں تشریف لے گئے تو بیت اللہ کے سب گوشوں میں آپ نے دعا مانگی اور اندر نماز نہیں پڑھی جب باہر تشریف لائے تو کعبہ کی طرف متوجہ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں اور فرمایا کہ یہ قبلہ ہے۔ صحیحین میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ اور آپ کے ہمرکاب اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ ؓ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے اور دروازہ بند کردیا گیا ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ سب حضرات جب باہر آئے تو میں نے بلال ؓ سے دریافت کیا کہ حضور ﷺ نے اندر جا کر کیا کیا بلال نے کہا کہ کعبہ کے دوستون اپنے بائیں جانب چھوڑے اور ایک ستون دائیں جانب اور تین ستون پیچھے پھر نماز پڑھی۔ راوی کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں بیت اللہ کے چھ ستون تھے میں کہتا ہوں ان دونوں حدیثوں میں کچھ تعارض نہیں کیونکہ ممکن ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے باہر آکر نماز پڑھی ہو اور ایک مرتبہ اندر پڑھی ہو۔ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَيَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَـقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ ( اور بیشک وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی بخوبی جانتے ہیں کہ یہ برحق ہے ان کے خدا کی طرف سے) یعنی اہل کتاب یہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تحویل قبلہ حق ہے کیونکہ تورات میں موجود ہے کہ نبی آخر الزماں دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے اب عناد اور حسد سے انکار اور اعتراض کرتے ہیں۔ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُوْنَ ( اور اللہ بیخبر نہیں ہے ان کاموں سے جو وہ کرتے ہیں) ابو جعفر ابن عامر حمزہ اور کسائی نے یعملون کو تعملون تاء سے پڑھا ہے اس صورت میں خطاب مؤمنین کو ہوگا اور ان کے لیے وعدہ ہوگا ( معنی اس تقدیر پر یہ ہوں گے کہ اے مؤمنو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں تمہیں اس کا ثواب دیں گے) باقی قراء نے یَعْمَلُوْنَ کو یاء سے پڑھا ہے۔ اس صورت میں یہود کے فعل کا بیان اور ان کے لیے وعید ہوگا ( معنی یہ ہوں گے کہ جو کچھ وہ حرکتیں کرتے ہیں ہم اس سے بیخبر نہیں ان افعال کی ان کو سزا دیں گے) تحویل قبلہ پر یہود و نصاریٰ نے جناب سرور عالم ﷺ سے یہ کہا کہ تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ بیت اللہ قبلہ ہے اللہ تعالیٰ نے انکے جواب میں ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:145

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے

وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰيَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ ۚ ( اور اگر آپ لے ہی آئیں تمام دلائل ان لوگوں کے پاس جن کو کتاب ملی ہے تو وہ پیروی نہ کریں گے آپ کے قبلہ کی) وَ لَءِنْ اَتَیْتَ ..... میں لام تمہید قسم کا ہے مَا تَبِعُوْا قِبْلَتِکَ جواب قسم قائم مقام جواب شرط کے ہے۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کا انکار اور اعتراض کسی شبہ پر مبنی نہیں اس لیے دلیل سے کوئی نفع نہیں۔ جو کچھ بکتے ہیں اس کا باعث حسد اور عناد ہے۔ وَمَآ اَنْتَ بِتَابِــعٍ قِبْلَتَهُمْ ( اور نہ آپ ہی پیروی کرنے والے ہیں ان کے قبلہ کی) مطلب یہ ہے کہ اب بیت اللہ ہمیشہ قبلہ رہے گا کبھی منسوخ نہ ہوگا اور یہ اس لیے فرمایا تاکہ اہل کتاب رسول اللہ ﷺ سے اپنے قبلہ کی طرف رجوع فرمانے سے ناامید ہوجائیں۔ یہود اور نصاریٰ ہر ایک فریق کا الگ الگ قبلہ ہے لیکن باطل اور خلاف حق ہونے میں چونکہ دونوں یکساں ہیں اس لئیقِبْلَتَھُمْ بصیغۂ واحد فرمایا : وَمَا بَعْضُهُمْ بِتَابِــعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ( اور نہ ان میں سے ایک پیروی کرنے والا ہے دوسرے کی) اور چونکہ یہود کا قبلہ بیت المقدس تھا اور بیت المقدس مغرب میں ہے اور نصاریٰ کا قبلہ مشرق تھا اس لیے فرمایا کہ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کی موافقت نہ کریں گے۔ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاۗءَھُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ( اور اگر آپ نے ان کی خواہشوں کا اتباع کیا اس علم حاصل ہوجانے کے بعد) یعنی بعد اس کے کہ قبلہ کے باب میں آپ کو حق ظاہر اور روشن ہوگیا۔ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ ( تو بیشک ایسی حالت میں آپ بھی نافرمانوں میں سے ہوں گے) وَ لَءِنْ اتَّبَعْتَ اَھْوَاءَھُمْ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ توبہ ‘ توبہ یہ امر جائز ہے کہ رسول اللہ اہل کتاب کا اتباع کریں کیونکہ یہ قضیہ شرطیہ ہے اور قضیہ شرطیہ کے صدق کے لیے یہ لازم نہیں کہ اس کے طرفین بھی صادق ہوں ( مثلاً اگر کوئی پیر ضعیف یوں کہے کہ اگر میں جوان ہوجاؤں تو فلاں کام کروں تو اس سے اس کے جوان ہونے اور اس کام کو کرنے کا جواز لازم نہیں آتا) چناچہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰن وَلَدٌ فَاَنَا اَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ ( اگر اللہ کے کوئی اولاد ہوتی تو میں اس کی اوّل عبادت کرنے والا ہوتا) اس تقریر کے موافق اس آیت کا مضمون عصمت کے منافی نہ رہا۔ اگر کوئی کہے کہ جب ممکن ہی نہیں کہ آپ ان کا اتباع کریں تو اس آیت سے فائدہ کیا ہوا اور کیوں اس کو بیان فرمایا ؟ جواب یہ ہے کہ اس آیت سے امت کو تہدید اور تادیب مقصود ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے خلاف اہل کتاب کی خواہشوں کا اتباع کریں اور تہدید بھی نہایت مبالغہ کی اور مبالغہ بھی بہت سی وجوہ سے۔ چناچہ اوّل تو قسم مقدر سے اس مضمون کو مؤکد فرمایا دوسرے لام تمہید قسم کا لائے تیسرے فعل کو ان ( اگر) کے ساتھ معلق کیا کیونکہ یہ تعلیق اس پر صاف دال ہے کہ اگر کچھ بھی اتباع پایا جائے گا تو یہ بھی ظلم ہی شمار ہوگا۔ چوتھے رسول اللہ ﷺ کو باوجود حبیب ہونے کے یہ خطاب فرمایا تو اس سے اوروں کو نہایت بلیغ دھمکی ہوگئی ( جیسے کوئی حاکم اپنی رعایا کے ستانے کے لیے کسی اپنے مطیع و فرماں بردار سے کہے کہ دیکھو اگر تم بھی ایساکرو گے تو سزاپاؤ گے) پانچویں مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَ مِنَ الْعِلْمِ میں تفصیل بعد اجمال ہے کہ اول مَا موصولہ سے علم کو مجملاً ذکر فرمایا پھر مِن الْعِلْمِ سے اس کی تفصیل فرما دی اور ظاہر ہے کہ تفصیل بعد اجمال میں زور ہی ہوتا ہے چھٹے علم کو معرف باللّام ذکر فرمایا ساتویں جزاء کو ان اور لام تاکید اور جملہ اسمیہ سے مؤکد کیا۔ آٹھویں کلمہ اذا ( اس وقت) کہ یہ بھی مفید مبالغہ کو ہے لائے نویں من تبعیضیہ لائے کہ اس سے نہایت مبالغہ ہوگیا کیونکہ جملہ زید علماء میں سے ہے بہ نسبت زید عالم ہے کے زیادہ بلیغ ہے۔ دسویں الظَّالِمِیْنَ کو معرف باللام لائے کہ کمال ظلم کو مقتضی ہے۔ گیارہویں ظلم کو کسی قید سے مقید نہیں کیا اس سے فائدہ تعمیم کا ہوا۔
Ayah 2:146

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ ( وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی محمد ﷺ کو پہچانتے ہیں) حاصل آیت کا یہ ہے کہ اہل کتاب کے علماء محمد ﷺ کو خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی ہیں جن کا ذکر تورات میں ہے اور جن پر ایمان لانے اور جن کی مدد کرنے کا ہم کو حکم ہوا ہے اس تفسیر کے موافق یَعْرِفُوْنَہمیں ضمیر ہٗ محمد ﷺ کی طرف راجع ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ علم یا قرآن یا تحویل قبلہ کی طرف راجع ہے مگر محمد ﷺ کی طرف راجع ہونا زیادہ ظاہر ہے کیونکہ اگر قرآن یا علم یا تحویل قبلہ کی طرف راجع ہوتی تو۔ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَھُمْ ( جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو) فرمانا مناسب نہ تھا۔ بیٹوں کے پہچاننے سے اسی لیے تشبیہ دی کہ اپنا بیٹا جو اپنے گھر پیدا ہوا وہ کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا اب جو شخص حضور کی نبوت کا انکار کرتا تھا اس کا مبنی تعصب اور عناد تھا جی میں سب جانتے تھے کہ آپ نبی برحق ہیں نیز اگر یَعْرِفُوْنَہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہوتی تو بجائے یَعرِفُوْنَ اَبناءھم کما یعرفون التوراۃ ( جیسے پہچانتے ہیں تورات کو) فرمانا مناسب تھا۔ مروی ہے کہ عمر ابن الخطاب ؓ نے عبد اللہ بن سلام سے دریافت کیا کہ آپ صاحبان رسول اللہ ﷺ کو بیٹے کی طرح کس طرح پہچانتے تھے فرمایا جب میں نے حضور کو دیکھا تھا تو فوراً ایسا ہی پہچان لیا تھا جیسا اپنے بیٹے کو پہچانتا ہوں بلکہ اپنے بیٹے سے بھی زیادہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یہ کیسے کہا اللہ تعالیٰ نے ہماری کتاب میں آپ ﷺ کی صفت اور علامات بیان فرمائی ہیں اس سے ہم نے فوراً معلوم کرلیا کہ آپ نبی برحق ہیں اور بیٹوں کا بیٹا ہونا تو صرف قرائنِ ظاہرہ محتملہ سے معلوم ہوتا ہے ممکن ہے کہ بیٹا کسی اور کا ہو عورتوں کا کیا اعتبار ہے۔ عمر ؓ نے فرمایا : بیشک آپ نے سچ کہا۔ اللہ نے آپ کو خیر کی توفیق دی۔ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ( اور کچھ لوگ ان میں ہیں کہ چھپاتے ہیں حق بات حالانکہ وہ جانتے ہیں) یعنی محمد ﷺ کی صفت اور آپ کا نبی قبلتین ہونا جو تورات میں مذکور ہے اس کو چھپاتے ہیں
Ayah 2:147

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ (حق وہی ہے جو خدا کی طرف سے ہے) الحق یا تو خبرمبتدا محذوف کی ہے اور من ربک یا حال ہے یا خبر ہے یا فاعل فعل کا مقدرکا ہے تقدیر اس صورت میں اس طرح ہوگی جاءَ کَ الحق (آیا آپ کے پاس حق) یا الحق مبتدا ہے اور من ربک خبر ہے اس صورت میں معنی یہ ہوں گے حق وہی ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے ثابت ہے اور جس پر آپ ہیں اور سوائے اس کے جس پر اہل کتاب ہیں خلاف حق اور باطل ہے۔ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ ( سو آپ ﷺ شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیں) اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو اس کے پروردگار کی طرف سے ہونے میں شک کرتے ہیں یا یہ معنی ہیں کہ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جو حق کو باوجود اس کے عالم ہونے کے چھپاتے ہیں اور باوجود علم یقینی ہونے کے شک کرتے ہیں حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کو شک سے نہی فرمانا مراد نہیں کیونکہ آپ کو تو شک ہو ہی نہیں سکتا اور نیز نہی ایسے فعل سے ہوتی ہے جس میں آدم کو اختیار ہو اور شک کا وجود و عدم دونوں اختیار سے خار ج ہیں اس لیے شک سے نہی فرمانا تو بن نہیں سکتا بلکہ مراد یا تو یہ ہے کہ حق ایسی شئ ہے کہ اس میں کسی صاحب نظر کو شک کی گنجائش ہی نہیں اور یا یہ کہا جائے کہ امت کو اس بات کی تعلیم ہے کہ وہ عارفین کی صحبت اختیار کریں اور معارف کو حاصل کریں تاکہ شک سے برکنار ہوجائیں اور شک والوں کی صحبت سے اجتناب و احتراز کریں کیونکہ ان کی صحبت قسم قسم کے شکوک اور اوہام پیدا کرنے والی ہے۔
Ayah 2:148

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے

وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ ھُوَ مُوَلِّيْهَا ( اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس طرف کو وہ منہ کرتا ہے) لِکُلِّ میں تنوین مضاف الیہ (امت) کے عوض میں ہے وجھۃ اس جانب کو کہتے ہیں جس طرف منہ کرتے ہیں یعنی ہر امت اور گروہ کا ایک قبلہ ہے اور ضمیر ھو کل کی طرف راجع ہے مُوَلِّیْھَا کا دوسرا مفعول وجہہ محذوف ہے یعنی جس کی طرف وہ اپنا رخ کرنے والا ہے چناچہ عرب ولیتہ و ولیت الیہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی شے کی طرف توجہ کی جائے اور ولیت عنہ اس وقت بولتے ہیں جب اعراض کیا جائے ابن عامر نے مُوَ مُوَلَّاھَاپڑھا ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہوں گے وہ پھیرا گیا ہے اس کی طرف حاصل یہ ہے کہ عادت اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اسی طرح ہے کہ ہر ایک امت کا ایک قبلہ مقرر فرماتا ہے چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے لیے علیحدہ قبلہ بنایا اور محمد ﷺ کا علیحدہ اسی طرح ہر نبی کا قبلہ جدا مقرر فرمایا۔ غرض قبلہ کا مسئلہ عبادات سے ہے کہ جس میں رائے کو دخل نہیں اور نہ کسی خصوصیت مکانی پر اس کا مدار ہے اس لیے اس میں نزاع جائز نہیں۔ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ ( سو تم دوڑ و نیکیوں کی طرف) یعنی امتثال امر خداوندی میں پیش قدمی کرو جس وقت اللہ تعالیٰ بیت المقدس کے استقبال کا حکم فرمائے اس طرف توجہ کرو اور جس وقت کعبہ کی طرف توجہ کرنے کا حکم دے تو کعبہ کی طرف مائل ہوجاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ جو چاہے حکم کرے تم کو نزاع کرنا کسی طرح مناسب نہیں۔ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا ( تم جہاں کہیں ہو گے) مطلب یہ ہے کہ تم خواہ ہماری مرضی کے موافق استقبال کرو یا نہ کرو۔ يَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ( لائے گا اللہ تعالیٰ تم کو اکٹھا بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے) بہر حال حق تعالیٰ تمہاری سب کی ارواح قبض فرمائے گا اور پھر تمہیں بدلہ دینے کے لیے جمع کرے گا اور تمہارے اعمال کے موافق تمہیں پاداش دے گا تو کیا اچھی بات ہو کہ قبض روح کے وقت تم نماز میں ہو یا نماز سے فارغ ہوچکے ہو یہ عین سعادت و فوز ہے۔ ایک تفسیر وَ لکل وجھۃٌ..... کی یہ تھی جو ہم نے بیان کی اور ایک معنی اور ہوسکتے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہر مسلمان کا ایک قبلہ ہے اگر جہت کعبہ کو جانتا ہے تو وہی قبلہ ہے اس کی طرف منہ کرے اور اگر معلوم نہیں ہے کہ قبلہ کس طرف ہے تو اس کا قبلہ وہی ہے جس طرف دل گواہی دے اور اگر آبادی کے باہر سواری پر نفل پڑھنا چاہتا ہے تو جدھر سواری کا رخ ہو وہی قبلہ ہے تو تم کو چاہئے کہ نماز کو اپنے وقت پر پڑھو۔ اگر سفر میں بالفرض قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اس حیلہ سے نماز میں دیر نہ کرو جس طرف دل گواہی دے اسی طرف پڑھ لیا کرو۔ خواہ تم شرق میں ہو یا غرب میں جہاں کہیں ہو گے اللہ تعالیٰ تمہاری نماز قبیلہ ہی کی طرف کر دے گا اور اسے ایسا کرے گا کہ گویا کعبہ ہی کی طرف پڑھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے۔
Ayah 2:149

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ ( اور جس جگہ سے آپ نکلیں) من حیث خرجتکا معطوف علیہ مقدر ہے اور معنی شرط کو شامل و متضمن ہے اسی واسطے جوابفوَل پر فاء لائے معنی یہ ہوں گے کہ اے محمد ﷺ جہاں کہیں تم ہو اور جس جگہ سے نکلو تو اپنا منہ مسجد حرام کی جانب کرلو اور بعض مفسرین نے کہا ہے و من حیث خرجت کے معنی بطور مجاز کے یہ ہیں کہ آپ جہاں کہیں ہوں اور جس طرف متوجہ ہوں اور علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ حیث مضاف ہے اور خرجت مضاف الیہ اور مضاف مضاف الیہ سے مل کر مِن کا مجرور ہے جار مجرور مل کر متعلق ہے فولِّکے اور ایسے موقع پر فا کا ما بعد بھی اپنے ما قبل میں عمل کرتا ہے لیکن اس ترکیب کے موافق واو اور فا کا اجتماع لازم آتا ہے اور یہ ناجائز ہے البتہ اگر و من حیث کا معطوف علیہ مقدر مان لیا جائے تو دشواری جاتی رہے گی۔ تقدیر عبارت کی اس طرح ہوجائے گی۔ فوَلِّ وَجْھَکَ اَیْنَمَا کُنْت وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَیعنی پس پھیر لیجئے منہ اپنا جہاں کہیں آپ ہوں اور جس جگہ سے آپ نکلیں۔ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ( تو کرلیجئے اپنا منہ مسجد حرام کی جانب) تکرار حکم یہ بتانے کے لیے ہے کہ سفر اور حضر میں حکم یکساں ہے کچھ فرق نہیں۔ مسلم نے حذیفہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم کو اور امتوں پر تین باتوں سے فضیلت ہے۔ اوّل تو ہماری نماز میں جماعتیں مثل ملائکہ کی جماعت کے بنائی گئیں۔ دوسرے ہمارے لیے زمین کو مسجد بنا دیا یعنی جہاں چاہیں نماز پڑھ سکتے ہیں۔ تیسرے زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی۔ ( یعنی پانی نہ ہونے یا مضر ہونے کے وقت تیمم مشروع فرمایا) ۔ (صحیح مسلم ‘ ج 1) وَاِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ ۭ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ( اور وہی حق ہے آپ کے پروردگار کی طرف سے اور اللہ بیخبر نہیں ہے ان کاموں سے جو تم کرتے ہو) تَعْمَلُوْن کو ابو عمرو نے یاء سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے تاء سے۔
Ayah 2:150

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور تم جہاں سے نکلو، مسجدِ محترم کی طرف منہ (کرکے نماز پڑھا) کرو۔ اور مسلمانو، تم جہاں ہوا کرو، اسی (مسجد) کی طرف رخ کیا کرو۔ (یہ تاکید) اس لیے (کی گئی ہے) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ دے سکیں۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں، (وہ الزام دیں تو دیں) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھی سے ڈرتے رہنا۔ اور یہ بھی مقصود ہے کہ تم کو اپنی تمام نعمتیں بخشوں اور یہ بھی کہ تم راہِ راست پر چلو

وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۭ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَكُمْ شَطْرَهٗ ( اور اے محمد ﷺ جہاں کہیں سے آپ نکلیں تو اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیجئے اور اے مسلمانو تم بھی جہاں کہیں ہو اپنے منہ اسی طرف کرلیا کرو) مفسرین نے کہا ہے کہ تحویل قبلہ سے تین امر مقصود تھے اور وہ تینوں امر گویا تحویل کی علت ہیں اوّل تو رسول اللہ ﷺ کا اظہار شرف و عظمت کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی رضا کے موافق تبدیل قبلہ منظور فرمایا۔ دوسرے عادت اللہ اوّل سے جاری ہے کہ اولوالعزم پیغمبروں کے لیے مستقل جدا گانہ قبلہ مقرر فرماتے ہیں ( چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے الگ اور موسیٰ ( علیہ السلام) کا جدا قبلہ تھا) اس لیے حضور ﷺ کے لیے بھی الگ قبلہ قائم فرمایا۔ تیسرے مخالفین کے الزام اور حجت کو دفع فرمانا منظور تھا اور کلام کی خوبی یہ ہے کہ علت معلول دونوں ساتھ ذکر کئے جائیں۔ یہاں بھی ایسا ہی کیا گیا۔ ( کہ اوّل غرض یعنی اظہار شرف نبوی کے لیے تو اوّل مرتبہ ذکر فرمایا اور دوسرے علت یعنی ہر نبی کا الگ مستقل قبلہ ہونا اس کو ولکلِّ وِجْھَۃٌ ...... سے بیان فرمایا اور تیسرے علت کو مع معلول کے و مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ سے آخر رکوع تک بیان فرمایا) اس تقریر کے موافق عبارت میں کوئی تکرار نہیں اور نیز مکرر بیان فرمانے کی یہ بھی وجہ ہے کہ چونکہ تحویل قبلہ ایک مہتم بالشان واقعہ ہے اور علاوہ بریں کسی حکم کا منسوخ ہونا محل فتنہ اور موجب شبہ ہے تو مناسب اور لائق ہوا کہ یہ مسئلہ مکرر بیان کرکے مؤکد کردیا جائے۔ لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّــةٌ ( تاکہ لوگوں کا تم پر کوئی الزام نہ رہے) یہ فولوا کی علت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے مؤمنو ! تحویل قبلہ کی یہ وجہ ہے کہ یہود کو تم پر کسی طرح کا الزام نہ رہے کیونکہ تورات میں صاف لکھا ہے کہ کعبہ قبلہ ابراہیمی ہے اور نبی آخر الزماں کا بھی قبلہ وہی کردیا جائے گا تو گر اب تحویل قبلہ نہ ہوتی تو یہود حجت پکڑتے اور کہتے کہ دیکھو تورات میں جو علامت نبی آخرالزماں کی لکھی ہے وہ ان میں موجود نہیں ہے اور نیز یہ وجہ ہے کہ مشرکین مکہ تم کو طعن نہ کریں کیونکہ وہ بھی جانتے تھے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قبلہ بیت اللہ تھا پس اگر تحویل نہ ہوتی تو اعتراض کرتے کہ محمد ﷺ ملت ابراہیمی کے تو مدعی ہیں لیکن ان کے قبلہ سے روگرداں ہیں اب ہر دو فریق کی زبان بند ہوگی۔ اِلَّا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ ( سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہیں) یہ للناس سے استثناء ہے۔ مطلب یہ ہے کہ سب کی زبان بند ہوجائے گی کوئی طعن نہ کرسکے گا مگر ظالم اور معانداب بھی نہ مانیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ قریش میں جو لوگ معاند تھے انہوں نے تو یہ کہا کہ محمد کو اب خبرہوئی ہے کہ ہم لوگ راہ راست پر ہیں پہلے سے ہم کو گمراہ سمجھتے تھے اس لیے ہمارے قبلہ کو اختیار کیا اور یہود میں جو سرکش تھے انہوں نے یہ بکواس کی کہ محمد ﷺ جانتے تھے کہ بیت المقدس قبلہ ہے باوجود اس علم کے جو اس طرف پھرگئے اس کی وجہ حسد یا خود رائی ہے کفار کے ان بےہودہ الفاظ کو حجت اس لیے فرمایا کہ وہ اپنے نزدیک ان خرافات کو حجت ہی سمجھتے تھے اور آیت حجتھم داحضۃ میں بھی اسی وجہ سے حجت کو بمعنی احتجاج کہا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ استثناء کی وجہ یہ ہے کہ بطور مبالغہ یہ امر اچھی طرح ظاہر ہوجائے کہ لوگوں کے پاس تحویل قبلہ کے باب میں کسی اعتراض و الزام کی گنجائش نہیں۔ کیونکہ ظالم اور معاند کے پاس تو کوئی حجت ہوا ہی نہیں کرتی۔ ان سب توجیہات پر الذین ظلموا مجرور ہوگا الناس سے بدل ہوگا اور بعض نے کہا ہے کہ استثناء منقطع ہے اور معنی یہ ہیں کہ کسی کو تم پر مجال طعن کی نہ ہوگی لیکن معاندین البتہ خواہ مخواہ کا مجادلہ و جھگڑا کریں گے۔ فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِيْ ۤ (سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو) یعنی ان معاندین سے مت ڈرو کیونکہ ہم تمہارے حمایتی و مددگار ہیں تم کو ہی ان پر حجت میں غلبہ رہے گا اور ان کا طعن تم کو مضر نہ ہوگا البتہ ہماری مخالفت نہ کرو اور ہم سے ڈرو۔ وَلِاُتِمَّ نِعْمَتِىْ عَلَيْكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ( اور تاکہ پورا کروں میں تم پر اپنا فضل اور تم ہدایت پاؤ) یا تو لِءَلّا۔۔ پر عطف ہے اور یا محذوف پر ہے اس صورت میں تقدیر عبارت کی یوں ہوگی اخشونی لاحفظکم و لا تم نعمتی یعنی مجھ سے ڈرو تاکہ میں تمہاری حفاظت کروں اور تاکہ اپنی نعمت تمام کروں۔ حضرت معاذ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ نعمت کا پورا ہونا جنت میں داخل ہونا اور جہنم سے خلاصی پانا ہے اس حدیث کو بخاری اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور علی ؓ سے مروی ہے کہ نعمت کی تکمیل اسلام پر مرنا ہے۔
Ayah 2:151

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جس طرح (منجملہ اور نعمتوں کے) ہم نے تم میں تمھیں میں سے ایک رسول بھیجے ہیں جو تم کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور تمہیں پاک بناتے اور کتاب (یعنی قرآن) اور دانائی سکھاتے ہیں، اور ایسی باتیں بتاتے ہیں، جو تم پہلے نہیں جانتے تھے

كَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ ( جیسا کہ بھیجا ہم نے تم میں) اس میں قریش کو خطاب ہے اور لوگ ان کے تابع ہیں کیونکہ ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے جب فرمایا تھا کہ اے ابراہیم ہم تم کو امام بنائیں گے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے عرض کیا تھا کہ اے اللہ میری اولاد میں سے بھی امام بنائیے تو یہ اس دعا کی قبولیت ہے کہ قریش اور لوگوں کے سردار ہیں۔ دوسرے لوگ ان کے تابع ہیں۔ جناب سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ لوگ قریش کے تابع ہیں کَمَا اَرْسَلْنَا لِاُتِمَّکے متعلق ہے اور معنی یہ ہیں کہ تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں جیسے کہ رسول بھیجنے کی نعمت پوری کی۔ محمد ابن جریر کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے دو دعائیں کی تھیں ایک تو یہ تھی : اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَتِنَا اُمَّۃًمُسْلِمَۃً لَّکَیعنی اے اللہ ہم کو اپنا فرمانبردار بنائیے اور ہمارے اولاد میں سے ایک امت کو بھی اپنا فرمانبردار بنائیے اور دوسری دعا یہ تھی کہ اے اللہ ان میں سے ایک رسول بھیجئے، سو آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول کریں گے یعنی تم کو ہدایت دیں گے اور مسلمان بنا دیں گے اور اپنی نعمت تم پر کامل کریں گے جیسے ہم نے ان کے رسول بھیجنے کی دعا قبول کرلی ہے اور کَمَا اَرْسَلْنَا۔۔ اُذْکرُونیجو بعد میں مذکور ہے اس کے متعلق ہے مطلب یہ ہے کہ جیسے میں نے تم کو رسول بھیج کر یاد کیا تم مجھ کو یاد کرو پھر میں تم کو یاد کروں گا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بندہ جو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے تو اس کے یاد کرنے سے پہلے اور پیچھے اس کو اللہ تعالیٰ یاد کرتا ہے پہلے تو اس طرح کہ ذکر کی توفیق دیتا ہے اور بعد میں اس طور پر کہ اس یاد کی جزا دے گا۔ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ( ایک رسول تم ہی میں سے جو پڑھتے ہیں تم پر ہماری آیتیں اور تم کو پاک صاف کرتے ہیں اور سکھاتے ہیں کتاب اور علم اور بتاتے ہیں تم کو وہ باتیں جو نہ جانتے تھے تم رَسُوْلًا مِنْکُمْ میں رسول سے مراد محمد ﷺ ہیں تعلیم کو دو مرتبہ ذکر فرمانے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسری تعلیم اور قسم کی ہے تو ممکن ہے کہ اس دوسری تعلیم سے مراد علم لدنی ہو کہ جو ظاہر قرآن سے ماخوذ نہیں ہے بلکہ باطن قرآن اور سینہ بےکینہ جناب محمد رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے حاصل کرنے کا سوائے انعکاس اس نور کے اور کوئی طریقہ نہیں اور اس کی حقیقت کا ادراک بعید از قیاس ہے چناچہ رئیس صدیقین فرماتے ہیں کہ ادراک کے ادراک سے عاجز ہونا ہی خود ادراک ہے۔ (1) [ علم اور انکشاف دو طرح سے ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کے عمومی اور خصوصی احوال کو ذہن میں ترتیب دے کر ایک مخصوص نتیجہ اخذ کیا جائے مثلاً آگ کا محرق ہونا اس طرح سمجھا جائے گا کہ آگ ایک بہت زیادہ شدید الحرارت عنصر ہے اور ہر شدید الحرارت عنصرمحرق ہوتا ہے اس لیے یقیناً آگ محرق ہے گویا احراق نار کا علم چند اصول کی مقرر ترتیب کے بعد حاصل ہوا۔ اوّلاً آگ کا شدید الحرارۃ عنصر ہونا تسلیم کیا گیا پھر ہر شدید الحرارۃ عنصرکا محرق ہونا مانا گیا اس ترتیب فکری کے بعد آگ کا محرق ہونا سمجھ میں آیا یہ انجلاء اور انکشاف ذہنی عملی ترتیبی کے بعد حاصل ہوا لیکن اس ترتیب فکری کے لیے ضروری ہے کہ اوّل ذہن میں آگ کا مفہوم اور شدت حرارت کا تصور موجود ہو اگر آگ کی بالذات حرارت کا تصور کرنے سے ذہن عاجز ہوگا تو آگ کے محرق ہونے کا انکشاف نہیں ہوگا علم کی دوسری نوعیت اس طرح ہوتی ہے کہ بغیر ترتیب مقدمات کے نتیجہ کا انکشاف ہوجاتا ہے مثلاً سورج کا طلوع برف کی سردی آگ کی گرمی ہم بغیر کسی غورو فکر کے سمجھتے جانتے اور محسوس کرتے ہیں یہ دونوں قسمیں علم تحصیلی اور عملی کی ہیں علم کی ایک اور قسم ہے جس کو علم حضوری کہتے ہیں اس میں تصور ذہنی کی ضرورت ہی نہیں پڑتی نہ شئی معلوم کی صورت ذہن میں آتی ہے بلکہ انسان کے نفس کے سامنے خودمعلوم اپنی پوری حقیقت اور احوال کے ساتھ بالاجمال موجود ہوتا ہے جیسے ہم اپنے وجود اور اپنی انانیت کو جانتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم ہم ہیں۔ باری تعالیٰ کی ذات صفات اور مبدء و معاد کے تمام فوق الطبعیات تفصیلی احوال کا انکشاف ذہنی ترتیب سے ممکن نہیں ہے ذہنی ترتیب میں مقدمات کا علم پہلے سے ہونا چاہئے اور الہیات کے مباحث میں اس کا امکان نہیں پھر یہ ذہنی عمل کبھی غلط بھی ہوتا ہے۔ طبیعات اور محسوسات میں بھی انسان کا فکریہ کبھی صحیح نہیں ثابت ہوتا۔ الٰہیات کا تو ذکر ہی کیا ہے وہاں فکر سے کام لینا ایسا ہے جیسے تاریکی میں مادرزاد نابینا کا ہاتھ پاؤں مار کر سیدھا راستہ دریافت کرنا۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ فکری اور کسبی عمل الٰہیات کے مباحث کو دریافت کرنے کے لیے قطعاً بےسود بلکہ ضرر رساں ہے رہا بدیہی علم کا حصول تو اس کی نفی بالکل ہی واضح ہے جس علم کو ہم غور و فکر کے بعد بھی حاصل نہیں کرسکتے اس کا حصول بغیر فکر و نظر کے کس طرح ہوسکتا ہے لا محالہ یہ کہنا پڑے گا کہ ہم باری تعالیٰ کی ذات صفات ملائکہ عالم مثال اور مبدء و معاد کے متعلق جو کچھ علم رکھتے ہیں اور ہم کو اس سلسلہ کا جو انکشاف ہوتا ہے وہ فوق العقل ہے عقل اس میدان میں دو ڑنے سے عاجز ہے اس روشنی کے حصول کا آلہ صرف وجدان ہے لیکن ہمارا عرفانی وجدان اتنا روشن اور مصفی نہیں کہ براہ راست صفحات قدسیہ اور موجودات غیر مادیہ اور حقائق ماضیہ و مستقبلہ کا ادراک کرسکے ہم کو ضرورت ہے کہ کوئی قوی روشن عکاس وجدان والی ہستی ہو جو آئینہ کی طرح دوزخ رکھتی ہو اس کی پشت پر مادیت کا مصالحہ چسپاں ہو اور سامنے کا رخ روشن ہو وہ اپنے روشن رخ کی صفائی کی وجہ سے غیر مادی الہیات کی آفتابی شعاعوں کو حاصل کرکے مادی پشت کی وجہ سے اپنے اندر سما سکے اور آفتاب معرفت کی طرف سے ہماری طرف ذرا اپنے رخ کو موڑ کر ہم پر پر تو انداز ہو سکے یہی آئینہ نبوت ہے جو علوم غیر مادیہ اور صفات قدسیہ کا نور چین بھی ہے اور ہم پر عکس ریزی بھی کرتا ہے ہمارا وجدان اسی آئینہ کے توسط سے روشن اور تابناک بن جاتا ہے ہم اسی سراج منیر سے اپنے اپنے وجدانی چراغوں کو بقدر ظرف روشن کرتے اور دوسروں تک اس سراج منیر کی روشنی پہنچاتے ہیں لیکن اس نور چینی پر توا ندوزی اور عکاسی کی حقیقت کو ادراک کرنے سے ہم عاجز ہیں ہمارا یہ علم حصولی تو قطعاً نہیں ہوتا ہاں حکمت اور کتاب کی ظاہری تعلیم یقیناً تحصیلی اور کسبی ہوتی ہے مگر یہ باطنی وجدانی روشنی حصولی نہیں ہوسکتی حضوری ہوتی ہے تصور اور تصویر کے توسل سے نہیں ہوتی مشاہدہ اور معائنہ کی شکل میں ہوتی ہے۔ مگر ہم اس ادراک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر ہیں ایک کیف ہوتا ہے ناقابل فہم و افہام ایک تاثر ہوتا ہے ادراک کی رسائی سے خارج پس صدیق اکبر کا یہ قول اپنے اندر ایک حقیقت عرفانیہ رکھتا ہے کہ ذات وصفات کے ادراک الادراک سے قاصر رہنا ہی ہمارے لیے ادراک ہے واللہ اعلم۔] حنظلہ بن ربیع اسیدی سے مسلم میں مروی ہے کہ مجھ سے ابوبکر ؓ ملے اور پوچھا کہ اے حنظلہ ! کیا حال ہے میں نے عرض کیا کیا پوچھتے ہو حنظلہ تو منافق ہوگیا۔ فرمایا سبحان اللہ یہ کیا بات ہے میں نے کہا جس وقت ہم بارگاہ اقدس ﷺ میں حاضر ہوتے ہیں تو حضور ہم کو دوزخ اور جنت کا وعظ فرماتے رہتے ہیں اس وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ گویا ہم سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب وہاں سے چلے آتے ہیں تو بیوی بچوں اور جائیداد کے قصوں میں ایسے مشغول ہوجاتے ہیں کہ کچھ یاد نہیں رہتا۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا بھائی واللہ ہماری بھی یہی حالت ہے۔ چلو حضور ﷺ سے چل کر اس بارے میں دریافت کریں، حضور کی خدمت بابرکت میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ حنظلہ تو منافق ہوگیا فرمایا یہ کیا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کی خدمت میں جب تک ہم رہتے ہیں تو آپ ہم کو جنت دوزخ کا ذکر سناتے ہیں حتیٰ کہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب چیز ہمارے سامنے ہے اور جب ہم یہاں سے جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور دنیا کے دھندوں میں مشغول ہوجاتے ہیں کچھ یاد نہیں رہتا۔ حضور ﷺ نے سن کر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہاری ہمیشہ وہی حالت رہے جو میرے پاس رہتی ہے تو تم سے ملائکہ تمہارے بچھونوں پر اور راستوں میں آ آکر مصافحہ کرنے لگیں لیکن اے حنظلہ یہ حالت کبھی کبھی ہوا کرتی ہے (حاصل یہ ہے کہ اگر یہی حالت رہے تو ملکیت غالب ہوجائے اور کارخانہ عالم بالکل درہم برہم ہوجائے اور یہ عالم عالم ملکوت ہوجائے اور اس عالم کے پیدا کرنے کی حکمت مفقود ہوجائے اس لیے یہی مناسب ہے کہ یہ حالت کبھی ہو) ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے علم کے دو برتن حاصل کئے ہیں ایک تو ان میں سے تم کو تقسیم کردیا اور دوسرے کی اگر میں تم میں اشاعت کروں تو میرا حلقوم کاٹ دیا جائے۔ اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے سراح حدیث نے کہا ہے کہ اس دوسرے علم سے مراد وہ احادیث ہیں کہ جن میں ظالم بادشاہوں اور خلفاء کے نام اور حالات تھے چناچہ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے اللہ میں 60 ھ کے شروع سے اور لڑکوں کی سلطنت سے پناہ مانگتا ہوں۔ لڑکوں کی سلطنت سے یزید بن معاویہ کی خلافت مراد ہے۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے جو ان شراح نے لکھا ہے کیونکہ چند واقعات جزئیہ کے علم کو علم کا برتن کہنا اور علوم شرعیہ کا قسیم بنانا کسی طرح مناسب نہیں علم کا برتن کہنے اور علوم شرعیہ کا مقابلہ ٹھہرانے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس علم سے مراد کوئی بڑا علم ہے جو علوم شرعیہ کی مثل اور مقابل بن سکتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس علم سے مراد علم لدنی ہے۔ اگر اس پر کوئی کہے کہ اچھا علم لدنی ہی سہی تو پھر اس میں گلا کٹنے کی کیا بات ہے تو جواب یہ ہے کہ مطلب اس کا یہ ہے کہ اگر میں اس علم کو زبان سے بیان کروں تو لوگ گلا کاٹ دیں اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ علم لدنی کے معارف اور علوم کی تعلیم اس زبان قال سے ہرگز نہیں ہوسکتی اگر ہوسکتی ہے تو زبان حال سے یا ایک قلب کا دوسرے قلب پر عکس واقع ہونے سے کیونکہ زبان سے تعلیم تعلم چند امور پر موقوف ہے ایک تو یہ کہ وہ شے اس قسم کی ہو کہ جو علم اکتسابی سے حاصل ہوسکتی ہو اور دوسرے یہ کہ الفاظ اس کے مقابلہ میں موضوع ہوں اور تیسرے یہ کہ سامع کو وضع کا علم ہو اور علم لدنی میں یہ سب امور مفقود ہیں نہ تو علم حصولی سے مدرک ہوسکتا ہے بلکہ اس کا ادراک علم حضور سے ہوتا ہے کہ جس سے کسی وقت غفلت نہیں ہوتی اور نہ ان معارف کے لیے الفاظ موضوع اور نہ سامعین کو علم بالوضع جب یہ بات ہے تو اب جو کوئی ان معارف و علوم کو تعبیر کرے گا۔ ضرور (2) [ جب تک حقیقت و مجاز کے درمیان کوئی علاقہ اور مناسبت نہ ہو اس وقت تک مجازی معنی مراد نہیں ہوسکتے حقیقت وضعیہ کو چھوڑ کر مجاز کا استعمال قرآن مجید میں بکثرت ہے اور قرآن مجاز واضح ہیں لیکن معارف باطنہ اور علوم لدنیہ کے لیے کلام عربی بلکہ کسی زبان میں الفاظ کی وضع ہی نہیں ہے کیونکہ کسی اور تحصیلی معافی کے لیے الفاظ کی وضع ہوسکتی ہے اور ہوتی ہے حضوری اور کشفی حقائق راوی صورتوں سے خالی ہوتے ہیں اس لیے ان کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے الفاظ کی وضع ناممکن ہے اب بطور استعارہ اگر ان غیرمادی حقائق کو بیان کیا جاتا ہے تو چونکہ مخاطب کے کسی ذہن کی رسائی سے وہ حقائق خارج ہیں اس لیے اس کی سمجھ میں اصل حقیقت نہیں آسکتی اور استعارہ آمیز بیان اس کے لیے گمراہ کن ثابت ہوتا ہے اور اس کا اعتقاد غلط ہوجاتا ہے یا استعارہ کے قابل فہم مطلب کو سمجھ کر وہ متکلم کو فاسق اور کافر کہنے لگتا ہے جیسا کہ حضرت محی الدین ابن عربی کے کلام حقیقت آگیں کو پڑھ کر اور استعارات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر کچھ علماء شرک آمیز توحید میں مبتلا ہوگئے اور کچھ لوگوں نے ابن عربی کے کافر ہونے کا فتوٰی صادر کردیا۔ ہاں وہ علماء اس فتنہ سے محفوظ رہے جنہوں نے علوم غیر مادیہ اور حقائق ملکوتیہ کا ادراک نصوص الحکم اور فتوحات کے الفاظ سے نہیں کیا بلکہ اللہ نے براہ راست یا کسی صاحب باطن کی قلبی عکس ریزی کے ذریعہ سے غیرصوری معانی کا انکشاف حضوری مجمل طور پر عطا فرما دیا اور اصل حقیقت ان کے وجدان میں آگئی اب تفصیل توضیح اور تطبیق کے لیے جب انہوں نے ان کتابوں کو پڑھا تو اپنے وجدانی مجمل خاکہ کی تفصیل ان کو ان کتابوں میں نظر آئی اور ان کا علم حضوری اجمالی ان کتابوں کی توضیح کی وجہ سے تفصیل سے بدل گیا۔ 12 منہ ] استعارات مجاز کو کام میں لائے گا اور استعارات سے مقصود تک راہ یابی نہیں ہوتی بلکہ عوام تو ان استعارات کے مقصود سے کوسوں دور ہوجاتے ہیں اسی لئے خبط میں پڑجاتے ہیں اور جو متکلم کی مراد ہے اس کے خلاف معنی سمجھتے ہیں اب یا تو متکلم کی تفسیق اور تکفیر کرتے یا خود کفر کے اعتقاد میں مبتلاہو جاتے ہیں اس وجہ سے فرمایا کہ اگر میں اس علم کو اس زبان سے بیان کروں تو لوگ سمجھیں گے نہیں اور مجھے کافر مرتد بنا کر قتل کر ڈالیں گے اب اگر کوئی یہ کہے کہ جب اس علم کی یہ حالت ہے کہ کوئی اسے بیان نہیں کرسکتا اور اگر بیان بھی کرے تو اس سے مفاسد اور قتل و قتال تک نوبت پہنچ جاتی ہے تو پھر اس کے بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے حالانکہ بزرگوں نے اس باب میں بڑی بڑی صحیح کتابیں تصنیف کی ہیں جیسے فصوص الحکم، فتوحات مکیہ وغیرہ تو جواب یہ ہے کہ ان کتابوں سے غرض نہیں کہ محصلین کو یہ علوم حاصل ہوجائیں یا یہ کہ ان کے دیکھنے سے کچھ قرب اور ولایت مل جاوے بلکہ مقصود یہ ہے کہ جو سالکین جذب یا سلوک سے ان علوم کو اجمالاً حاصل کرچکے ہیں وہ ان کتابوں کو دیکھ کر تفصیل پر قادر ہوجائیں اور اپنے احوال و کیفیات کو اکابر کے حالات سے تطبیق دیں تاکہ صحت ان احوال کی ہویدا ہوجائے اور قلوب مطمئن ہوجائیں۔ دوسرا (3) [ یعنی جذب استغراق اور غلبہ حال کے زیر اثر ان بزرگوں نے اپنے الفاظ میں۔ ما فوق المادیت حقائق کی تعبیر کی جو ظاہری ضوابط شرعیہ کے خلاف ہے لیکن حالت جذب میں وہ چونکہ مرفوع القلم ہیں فقدان ہوش ان کو غیر مکلف بنا دیتا ہے مجنون توازن حواس کھو بیٹھتا ہے اس لیے حالت جنون میں مکلف نہیں رہتا اصحاب جذب کا جذبہ و استغراق کو مسی دماغ کو بگاڑنے کے لیے معمولی جنون سے زیادہ مؤثر ہوتا ہے اس لیے ایسے لوگ مکلف ہی نہیں ہیں یہ عبارتیں تو ان کی زبانوں پر حالت جذب میں آگئیں تھیں لوگوں نے ان کو جمع کرکے کتابوں کی شکل دے کر شائع کردیا ورنہ ان کا مقصد شریعت کے خلاف طریقت قائم کرنے کا نہ تھا۔] جواب یہ ہے کہ ان بزرگوں نے قصدً اس قسم کی کتابیں نہیں لکھیں بلکہ غلبہ حال میں بہت سے مضامین ان کی زبان سے نکل گئے لوگوں نے انہیں نقل کرلیا۔ اب عوام کے لیے یہ مناسب ہے کہ اگر ایسی کتب کا مطالعہ کریں یا بزرگوں کا کلام سنیں تو ان پر انکار نہ کریں اور تابا مکان تاویل کرکے ظاہر شریعت کے موافق ان کے کلام کے معنی سمجھیں یا ان کے معانی اللہ تعالیٰ کے حوالہ کریں کیونکہ ان کے کلام میں طرح طرح کے مجازو استعارات ہیں اور وہ کسی طرح مخالف شرع کے نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کتاب و سنت کا مغز یہی ہے اللہ تعالیٰ ہم کو بھی یہ دولت اپنے فضل سے بخشیں آمین جب یہ معلوم ہوچکا کہ معارف و حقائق یا تو انعکاس قلوب سے حاصل حاصل ہوتے اور یا القاء سے دستیاب ہوتے ہیں اور کثرت ذکر و مراقبہ خواہ مجلس ذکر میں ہو یا خلوت میں اس انعکاس کی صلاحیت پیدا کردیتی ہے اور وہ انعکاس خودجناب رسول اللہ ﷺ سے بلا واسطہ یا وسائط کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ ذیل کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اس ذکر کو بیان فرماتا ہے۔
Ayah 2:152

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

سو تم مجھے یاد کرو۔ میں تمہیں یاد کیا کروں گا۔ اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا

فَاذْكُرُوْنِيْٓ ( تو یاد رکھو تم مجھ کو) ابن کثیر نے فاذْکُرُوْنِی کی یا کو مفتوح پڑھا ہے اور باقی قراء نے ساکن پڑھا ہے۔ اَذْكُرْكُمْ ( میں یاد رکھوں گا تم کو) ابو الشیخ نے اور دیلمی نے مسند فردوس میں جو یبر کے واسطے سے جویبر نے ضحاک سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے رویت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرُکُمْ کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اب بندو ! تم مجھ کو میری عبادت سے یاد کرو۔ یعنی میری عبادت کرو میں تم کو مغفرت سے یاد رکھوں گا میں تمہارے گناہوں سے درگذر کروں گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ جیسا میرے ساتھ اعتقاد رکھتا ہے میں اس سے اسی طرح پیش آتا ہوں اور وہ جب مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرتا ہے میں بھی اس کو اپنے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس کی مجلس سے اچھی مجلس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میری طرف بالشت بھرآتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر ہاتھ میری طرف چلتا ہے تو میں ایک گز اس کی طرف چلتا ہوں اور اگر وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور علامہ محمد حسین بغوی نے اس حدیث کو انس ؓ سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو جناب رسول اللہ ﷺ سے اپنی انگلیوں کی گنتی کی برابر سنا۔ اور عبد اللہ بن شقیق (رح) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر آدمی کے دل میں دو کوٹھڑیاں ہیں ایک میں فرشتہ رہتا ہے اور دوسری میں شیطان۔ جب آدمی ذکر اللہ کرتا ہے تو شیطان ہٹ جاتا ہے اور جب ذکر اللہ سے غافل ہوتا ہے تو شیطان اپنی چونچ اس کے قلب میں رکھتا اور بہکاتا ہے اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مفردین سبقت لے گئے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مفردین کون ہیں فرمایا اللہ کا بہت ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اے عزیز جاننا چاہئے کہ ذکر کی حقیقت غفلت کو دفع کرنا ہے کیونکہ غفلت ہی سبب قساوت کا ہے اور جس امر مشروع سے خواہ وہ فعل ہو یا قول یا تفکر اللہ کی رضا مندی اخلاص اور حضور قلب سے طلب کی جائے یہی ذکر ہے اور اگر بلا اخلاص ہو تو شرک ہے اور جو غفلت سے ہو تو وہ لغو غیر معتبر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلٰوتِھِمْ خَاشِعُوْنَ ( یعنی بیشک مراد کو پہنچے وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع کرنے والے ہیں اور فرمایا : فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلٰوتِھِمْ سَاھُوْنَ یعنی خرابی ہے ان نمازوں کے لیے جو اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں۔ نسائی، ترمذی، ابن ماجہ، ابن حبان اور مالک نے بسند صحیح جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ افضل الذکر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ُ ہے اور افضل دعا الحمد اللہ ہے اور سمرۃ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل کلام چار کلمات ہیں : سُبْحَان اللہ۔ الحمد اللہ۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ُ ۔ اَﷲُ اَکْبَراس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ یہ کلمات قرآن کے بعد افضل کلام ہیں اور یہ خود قرآن ہی سے ماخوذ ہیں اس روایت کو امام احمد نے روایت کیا ہے اور حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص قرآن مجید میں مشغول رہے اور اس کی مشغولی کی وجہ سے میرے ذکر اور اپنی حاجت مانگنے کی بھی اسے فرصت نہ رہے تو میں اسے سائلوں سے زیادہ دوں گا اور فرمایا کلام اللہ کی فضیلت اور کلام پر ایسی ہے کہ جیسے اللہ کی فضیلت تمام مخلوق پر۔ اس حدیث کو ترمذی اور دارمی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے ان ہی احادیث کی وجہ سے صوفیہ کرام (رح) نے ذکر لا اِلٰہ الا اللہ کو خواہ قلب سے ہو یا زبان سے جہری ہو یا خفی اختیار فرمایا ہے لیکن حضرت مجدد صاحب (رح) کے نزدیک قرآن مجید کی تلاوت زیادہ پسندیدہ ہے کیونکہ ایک تو قرآن مجید کی فضیلت خود زیادہ ہے اور دوسرے قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی صفت حقیقیہ بلا واسطہ ہے گویا یہ ایک رسی ہے کہ ایک کنارہ اس کا اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور ایک ہماری طرف ہے سو جو اس میں فنا ہوگیا اس سے زیادہ اسے کوئی نعمت نہیں ملی اور نیز مجدد صاحب (رح) نے کثرت نوافل کو اختیار فرمایا ہے کیونکہ نماز مؤمن کی معراج ہے لیکن یہ تلاوت قرآن مجید اور مشغولی نوافل بعد فناء نفس کے اختیار کرنے کو فرماتے ہیں اور قبل از فناء نفس ذکر نفی و اثبات پر اقتصار کرنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ قرآن پاک کی مشغولی قبل از فناء مناسب نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : لَا یَمَسُّہٗ اِلَّا الْمُطَّھَّرُوْنَ ( یعنی نہیں مس کرسکتے قرآن کو مگر پاک لوگ) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ رذائل نفس سے اب تک پاک و صاف نہیں ہوئے ان کو قرآن کی تلاوت سے زیادہ مناسب ذکر کرنا ہے۔ وَاشْكُرُوْا لِيْ ( اور میرا احسان مانو) یعنی میری نعمتوں کا مثلاً رسول کے بھیجنے کا اور ہدایت دینے کا اور جذب اور توفیق سلوک وغیرہ کا شکریہ ادا کرو۔ وَلَا تَكْفُرُوْنِ ( اور میری ناشکری نہ کرو) یعنی کفران نعمت نہ کرو۔ مثلاً نعمتوں کا انکار اور انبیاء کی تکذیب اور نیک کام کا حکم دینے والے کی مخالفت اور وقت کو ضائع اور ذکر سے اعراض مت کرو۔
Ayah 2:153

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو بےشک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ ( اے ایمان والو مدد چاہو صبر سے) یعنی اپنے حوائج دینی اور دنیوی میں خاص کر درجات قرب و معرفت کے حاصل کرنے میں صبر اور نماز سے مدد لو۔ صبر لغت میں روکنے کو کہتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ اپنی خواہشات نفسانیہ کو رو کو کیونکہ جہنم ان ہی سے ڈھکی ہوئی ہے اور اپنے نفس کو جانی اور مالی مشقتوں اور سختیوں پر روکو کیونکہ جنت ان ہی سے گھری ہوئی ہے۔ نیز بری مجالس سے یکسوئی اور ذکر وطاعت پر نفس کو مجبور کرو کیونکہ رسول اللہ نے خلوت کی فضیلت میں فرمایا ہے کہ مسلمان کا عمدہ مال بکریاں ہیں کہ انہیں لے کر کسی پہاڑ کی چوٹی میں چلا جائے اور فتنوں سے اپنے دین کو بچائے اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ وَالصَّلٰوةِ ( اور نماز سے) صبر میں اگرچہ نماز بھی داخل ہوگئی تھی لیکن نماز کے مہتم بالشان اور اُمُّ العبادات اور معراجِ مؤمن ہونے کی وجہ سے اسے خاص طور پر جدا گانہ ذکر فرمایا۔ حضرت علی ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ نماز دین کا ستون ہے اس حدیث کو صاحب مسند فردوس نے روایت کیا ہے اور انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ نماز مؤمن کا نور ہے۔ حضرت مجدد صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عبادت گذاروں کے درجات کی انتہاء اور باز گشت نماز کی حقیقت ہے اور نماز کی کثرت سے درجات میں ترقی ہوتی ہے اور صلوٰۃ حاجت کا ذکر پہلے گذر چکا۔ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ( بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اللہ کے صبر کرنے والوں کے ساتھ ہونے کے معنی مفسرین نے یہ بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مدد اور نصرت اور قبول دعا سے صابروں کے ساتھ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ساتھ ہونے سے ایک بلا کیف قرب مراد ہے اور وہ عارفین پر روشن ہے اور اس کی پوری حقیقت عالم الغیب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔