2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:216

كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:216 in the Quran reader

(مسلمانو) تم پر (خدا کے رستے میں) لڑنا فرض کردیا گیا ہے وہ تمہیں ناگوار تو ہوگا مگر عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بھلی ہو اور عجب نہیں کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ تمہارے لئے مضر ہو۔ اور ان باتوں کو) خدا ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ ( مسلمانو) تم پر جہاد فرض کردیا گیا ہے) عطا کہتے ہیں ( اب) جہاد نفل ہے اور اس آیت میں جو جہاد کا حکم کیا گیا ہے یہ آنحضرت ﷺ کے صحابہ کے ساتھ مخصوص تھا اوروں کو یہ حکم نہیں ہے یہی مذہب امام ثوری کا ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول کو وہ اپنی حجت کہتے ہیں کہ فَضَّل اللہ المجاہدین باموالھم و انفسم علی القاعدین درجۃ و کلا وعد اللہ الحسنیٰ ( یعنی مال اور جان کے ساتھ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے ( اور ان دونوں میں سے) ہرا یک کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے) عطا اور ثوری دونوں فرماتے ہیں کہ اگر جہاد سے بیٹھ رہنے والا فرض کا تارک ہوتا تو اس کے لیے خدا کی طرف سے بھلائی کا وعدہ نہ ہوتا۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قیامت تک ہر ایک مسلمان پر جہاد کرنا فرض عین ہے اور آیت : کتب علیکم القتال [ الایۃ ] ان کی دلیل ہے اور ذیل کی حدیث کو بھی وہ اپنی حجت گردانتے ہیں۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مرگیا اور اس نے کبھی جہاد نہ کیا اور نہ کبھی اس کے جی میں جہاد کا خیال آیا تو یہ شخص ایک قسم کے نفاق پر مرا۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے کہ جب کچھ لوگ جہاد رنے پر کھڑے ہوجائیں تو اور لوگوں کے ذمہ سے ساقط ہوجاتا ہے جیسا کہ جنازہ کی نماز (کا وجوب) ہے اور اسی پر اجماع ( بھی) ہوگیا ہے اور سب ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ سب شہروالوں پر واجب ہے کہ جو کفار ان کے قریب ہوں ان سے جہاد کریں اگر ان سے نہ ہوسکے یا یہ ہمت ہاردیں تو پھر جو ان سے قریب کے مسلمان ہیں اور پھر ان سے جو قریب کے مسلمان (ان پر ان کی مدد کرنی واجب ہے) ہیں اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ جب جہاد کا اعلان عام ہو اور کفار اسلامی شہروں پر چڑھ آئیں تو پھر ہر ایک شخص پر جہاد کرنا فرض ہے اور اس پر بھی اتفاق ہے کہ جو شخص جہاد کے لیے متعین نہ ہو اور اس کے والدین پر مسلمان ہوں تو بلا ان کی اجازت کے یہ جہاد میں نہ جائے اور جس کے ذمہ قرض ہو وہ اپنے قرض خواہ کی اجازت کے بغیر نہ جائے۔ جمہور کی حجت وہی ہے جو فریقین کے دلائل میں ہم ذکر کرچکے ہیں اس کے علاوہ یہ آیت بھی ان کی دلیل ہے۔ یا ایھا الذین امنوا ما لکم اذا قیل لکم انفروا فی سبیل اللہ اثاقلتم اس کا بیان انشاء اللہ تعالیٰ سورة توبہ میں ( مفصل) آئے گا۔ عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے ایک شخص نے جہاد میں جانے کی اجات مانگی حضور ﷺ نے پوچھاتیرے ماں باپ زندہ ہیں ؟ عرض کیا : ہاں زندہ ہیں۔ فرمایا : جاؤ ان ہی کی خدمت کرکے انہیں آرام دو ۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور ابو داؤد نسائی ابن ماجہ نے بھی اسی کے ہم معنی نقل کی ہے۔ وَھُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ ( اور وہ تمہیں نا گوار ہے) اہل معانی نے کہا ہے کہ یہ ناگوار ہونا بحیثیت طبعی نفرت کے ہے کیونکہ اس میں جان پر مشقت اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے نہ یہ کہ صحابہ کو حکم الٰہی ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ وَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَھُوْا شَـيْـــًٔـا وَّھُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ( اور شاید کہ تمہیں ایک چیز بری لگے حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ( ہی) ہو اور اسی قسم میں سے جہاد ہے کیونکہ اس میں فتحیابی مال غنیمت کا ملنا۔ دنیا پر قبضہ ہونا شہادت حاصل ہونا اور ثواب ملنا سب ہی بھلائیاں ہیں۔ وَعَسٰٓى اَنْ تُحِبُّوْا شَـيْـــــًٔـا وَّھُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ( اور شاید ایک چیز تمہیں اچھی معلوم ہو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بری ہو) جیسے جہاد سے بیٹھ رہنا کیونکہ اس میں گناہ ذلت ثواب اور مال غنیمت سے محروم رہنا ہے اور لفظ عسٰی جو اصل میں شک کے لیے ہے یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ جس وقت نفس پاکیزہ ہوجاتا ہے تو اس کی تمام خواہشیں حکم شرعی کے موافق ہوجاتی ہیں اس وقت وہ ان ہی چیزوں ( اور ان ہی افعال) کو برا سمجھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بری ہوں اور ہی چیزوں کو پسند کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہوں۔ وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ( اور اللہ ( تمہاری بھلائی برائی کو) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے) پس تم کو چاہئے اللہ تعالیٰ کے احکام کو ادا کرنے میں جلدی کرو تاکہ تمہیں ایسی چیزیں نصیب ہوجائے جو دین و دنیا میں تمہارے حق میں بہتر ہو۔ فصل : جہاد کے فضائل کا بیان ابن مسعود کہتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ سب سے افضل کونسا عمل ہے فرمایا نماز وقت پر پڑھنی میں نے کہا پھر کونسا فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ( ابن مسعود کا قول ہے کہ میں نے بس اتنا ہی پوچھا) اور اگر میں اور پوچھتا تو آپ ﷺ اور بھی فرماتے۔ یہ حدیث بخاری نے نقل کی ہے ابوہریرہ کہتے ہیں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ سب عملوں سے افضل کونسا عمل ہے فرمایا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ اس نے عرض کیا پھر کونسا فرمایا راہ خدا میں جہاد کرنا اس نے کہا اس کے بعد فرمایا مقبول حج۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے اور یہ حدیث اگرچہ بظاہر پہلی حدیث کے معارض ہے کیونکہ پہلی حدیث سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ نماز جہاد سے افضل ہے اور اس دوسری حدیث سے اس کے برعکس معلوم ہوا لیکن ان دونوں کے معنی اس طرح بن سکتے ہیں کہ حضور کا ارشاد ہر سائل کے حال کے موافق تھا جو جس کے حق میں بہتر ہوا آپ نے وہی فرما دیا) یا یہ کہا جائے کہ ابوہریرہ کی حدیث میں ایمان کے لفظ سے فرض نماز اور فرض زکوٰۃ مراد ہیں اب کوئی تعارض نہیں رہتا۔ ابوہریرہ کی روایت میں یوں کہا جائے کہ ایمان کے بعد جہاد کرنا درست ہے اگرچہ جہاد نماز اور زکوٰۃ کے بعد ہے۔ عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ آدمی کا صف جہاد میں ( ایک روز) کھڑا ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساٹھ برس کی عبادت سے بہتر ہے یہ حدیث حاکم نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ بخاری کی شرط کے موافق یہ حدیث صحیح ہے۔ ابوہریرہ ؓ انحضرت ﷺ سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ تم میں سے ایک کا راہ خدا میں ( ایک دفعہ) کھڑا ہونا اپنے گھر میں ستر برس نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ یہ روایت ترمذی نے نقل کی ہے ابوہریرہ سے روایت ہے کہ کسی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ جہاد کے برابر بھی کوئی عمل ہے فرمایا تم میں اس کی طاقت نہیں ہے اس نے دو یا تین مرتبہ پوچھا حضور ﷺ یہی فرماتے رہے کہ تم میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو شخص خدا کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ( ہر وقت) کھڑا ہوا قرآن شریف پڑھا رہا ہے اور اپنے نماز روزہ میں ہرگز فرق نہیں آنے دیتا ( یہ مثال مجاہد کی ہے) یہاں تک کہ وہ جہاد سے واپس آجائے۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ ابو امامہ کہتے ہیں ایک دستہ فوج میں ہم رسول اللہ کے ساتھ تھے راستہ میں ایک صحابی کا ایک ایسے غار پر سے گذر ہواجہاں پر کچھ ہریالی اور پانی تھا ( وہ جگہ ان کو پسندآگئی) انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ بس تارک الدنیا ہو کر اب یہیں رہا کریں گے پھر آنحضرت ﷺ سے اجازت چاہی حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودی یا نصرانی بنانے کے لیے میں نہیں بھیجا گیا ہوں بلکہ میں ایک صاف ستھرا دین دے کر بھیجا گیا ہوں اور قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ ( قدرت) میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ فقط صبح یا شام کو جہاد میں چلا جانا ساری دنیا اور ما فیہا سے بہتر ہے اور صف جہاد میں ( فقط ایک دفعہ) تمہارا کھڑا ہوجانا ساٹھ برس کی نماز سے بہتر ہے یہ حدیث امام احمد نے نقل کی ہے۔ میں کہتا ہوں یہ سب حدیثیں نفلی نماز روزہ سے جہاد کے افضل ہونے پر دلالت کرتی ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے جب ایک نے ادا کردیا تو اس کی فرضیت ادا ہوگئی اور وہ ہر وقت ادا ہوسکتا ہے لیکن جہاد شہادت کا ذریعہ بھی ہے جو نبوت کے قریب ہے بخلاف نماز اور روزہ کے کہ یہ دونوں غیر وقت میں ادا کرنے سے نفل ہی ہوتے ہیں اور نفل فرض کے برابر نہیں ہوسکتے۔ اگر کوئی کہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ آدمی کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا سوائے ذکرِ الٰہی کے کوئی عمل نہیں ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا اور نہ جہاد فرمایا اور نہ جہاد، اگرچہ ( کفار پر) اس قدر تلوار چلائی جائے کہ تلوار کے ٹکڑے ہوجائیں یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین دفعہ فرمائے۔ یہ حدیث امام احمد طبرانی ابن ابی شیبہ نے معاذ کی سند سے نقل کی ہے یہ حدیث ان تین حدیثوں 2 ؂ کے معارض ہے تو ان دونوں کے معنی باہم موافق ہوجانے کی کیا صورت ہے ؟ ہم کہتے ہیں اس حدیث میں ذکر سے مراد وہ حضور دائمی ہے جس میں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ نہ وہ نماز اور روزہ جو زاہد لوگوں کا حصہ ہے اور یہ جہاد اکبر سے مراد ہے اس روایت میں ہے کہ انحضرت ﷺ نے ایک غزوہ سے لوٹتے ہوئے فرمایا : رجعنا من لجہاد الاصغر الی الجہاد الاکبر ( یعنی اب ہم جہاداصغر سے جہاداکبر کی طرف لوٹتے ہیں اگر کوئی کہے کہ جس وقت آنحضرت ﷺ جہاد اصغر میں تھے کیا جہاد اکبر میں مشغول نہ تھے۔ ہم کہتے ہیں ہاں اس میں بھی مشغول تھے لیکن زیادہ اہتمام کرنے کی وجہ سے حال مختلف ہوجاتا ہے اس لیے پہلے گویا جہاد اصغر کا زیادہ اہتمام تھا اور اب جہاد اکبر کا زیادہ اہتمام ہوگا۔ وا اللہ اعلم (1) [ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے فرمایا کہ جس کے قدم خدا کے راستے میں غبار آلود ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ حرام کردی ہے۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایک رات مورچہ پر خدا کے لیے پہرہ دینا ہزار رات کی عبادت کھڑے ہو کر کرنے اور ہزار دن کے روزوں سے افضل ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو قوم جہاد چھوڑ بیٹھے اس پر اللہ تعالیٰ ضرور عذاب عام نازل کرے گا۔] حضرت ابوہریرہ ؓ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے راہ خدا میں جان دینے والوں کے لیے تیار کیے ہیں اور ہر دو درجوں کا درمیانی فاصلہ اس قدر ہے جیسا آسمان و زمین کے درمیان میں ہے پس جس وقت اللہ سے سوال کرنا چاہے تو فردوس کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ سب جنتوں کے درمیان اور سب سے اعلیٰ درجہ کی ہے اور اس کے اوپر ہی خدا تعالیٰ کا عرش ہے اور وہیں سے اور بہشتوں میں نہریں آتی ہیں یہ حدیث بخاری نے روایت کی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اشرفی روپیہ۔ روٹی۔ کپڑے کے بندہ کا ناس ہو کہ اگر اسے مل گئی تو راضی ہوگیا اور نہ ملی تو ناراض ہے خوشی اس بندہ کے لیے ہے جو جہاد میں اپنے گھوڑے کی باگ تھامے رہا اس کے بال بکھرے ہوئے ہیں پیروں پر ریتاچڑھا ہوا ہے اگر پہرہ داروں میں ہے تو وہیں ہے اگر مقدمۃ الجیش میں ہے تو وہیں ہے اگر کسی کے پاس داخل ہونے کی اجازت چاہتا ہے تو اجازت نہیں ملتی اور اگر کسی کی سفارش کرتا ہے تو کوئی قبول نہیں کرتا۔ یہ حدیث بخاری نے نقل کی ہے جہاد میں شامل ہونے کے فضائل سورة آل عمران کے آخر میں انشاء اللہ تعالیٰ عنقریب آئیں گے اصل میں جہاد کو تمام حسنات پر اس وجہ سے فضیلت دی گئی اور کوہان اسلام اس کو اس لیے کہا گیا کہ یہ اسلام کی اشاعت اور تعلق ( اللہ) کی ہدایت کا سبب ہے پس جس شخص کو کسی مجاہد کی کوشش کے سبب سے ہدایت ہوئی تو اس کی نیکیاں بھی اس مجاہد کی نیکیوں میں لکھی جائیں گی اور علوم ظاہرہ اور علوم باطنہ کی تعلیم دینا اس سے بھی افضل ہے کیونکہ اس میں اسلام کی حقیقت کی اشاعت ہے۔
Ayah 2:217

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:217 in the Quran reader

(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے

يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ( اے محمد ﷺ ! مسلمان) آپ ﷺ سے ماہ حرام میں جنگ کرنے کی بابت پوچھتے ہیں) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اور طبرانی نے کبیر میں اور ابن سعد اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں جندب بن عبد اللہ سے روایت کی ہے کہ جنگ بدر سے دو مہینے پہلے ماہ جمادی الاخریٰ 2 ھ میں آنحضرت ﷺ نے اپنے پھوپھی زاد بھائی عبد اللہ بن جحش کو ان کی اردلی میں آٹھ نفر مہاجرین دے کر بھیجا ان مہاجرین کے نام یہ ہیں۔ سعد بن ابی وقاص زہری۔ عکاشہ بن محصن اسدی۔ عتبہ بن غزوان اسلمی۔ ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ۔ سہیل بن بیضا۔ عامر بن ربیعہ۔ واقد بن عبد اللہ۔ خالد بن بکیر اور بعض راویوں نے سہیل بن بیضا کو ذکر کیا ہے اور سہیل خالد، عکاشہ کو ذکر نہیں کیا اور بعض نے مقداد ابن عمرو کو ذکر کیا ہے ابن سعد کہتے ہیں یہ سب ( اصل میں) بارہ آدمی تھے اور دو ‘ دو آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار ہوتے تھے اور حضور انوررسول مقبول ﷺ نے ان کے افسر عبد اللہ بن جحش کو ایک حکم نامہ لکھ کر دے دیا تھا اور یہ فرما دیا تھا کہ اللہ کا نام لے کر روانہ ہوجاؤ اور جب تک دو دن کا سفر طے نہ کرلو اس حکم نامہ کو ( کھول کر) نہ دیکھنا دوسری منزل پر پہنچ کر اس حکم نامہ کو دیکھنا اور ( جو کچھ اس میں تحریر کیا ہے) وہ اپنے ساتھیوں کو بھی سنا دینا پھر ہمارے حکم کا اجراء کرنا اس کے علاوہ اپنے ساتھ لے جانے میں اپنے کسی ساتھی پر زبردستی نہ کرنا۔ اس کے بعد جب عبد اللہ چلنے لگے تو چلنے سے پہلے ہی پوچھا یا رسول اللہ میں کس طرف جاؤ فرمایا نجد کی طرف عبد اللہ وہاں سے روانہ ہوگئے اور دو روز کا سفر کرلینے کے بعد ایک جگہ پڑاؤ کیا اور وہ حکم نامہ کھولا تو اس میں یہ مضمون لکھا ہوا تھا) ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اما بعد فسر علی رکۃ اللہ بمن تبعک من اصحابک حتی تنزل بطن نخلۃ فترصدبھا عیرقریش لعلک ان تاتینا منہ بخیر ( یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ تم اللہ کی برکت پر ( اور اس کی رحمت پر بھروسہ کرکے) اپنے ان ہمراہیوں کو لے کر چلے جاؤ جو تمہارے کہے میں ہوں اور جس وقت بطن نخلہ میں پہنچو تو قریش کے قافلہ کے منتظر رہو امید ہے کہ ان کا مال تمہارے ہاتھ لگے اور تم اسے ہمارے پاس لاؤ) جس وقت عبد اللہ نے اس حکم نامہ کو دیکھا فوراً رضا مندی ظاہر کرنے کے لیے) سمعاً و طاعتًا کہا اس کے بعد وہ مضمون اپنے ساتھیوں کو سنایا اور یہ بھی کہہ دیا کہ حضور ﷺ نے اس سے مجھے منع فرمادیا ہے کہ تم میں سے کسی پر میں زبردستی کروں اب تم میں سے جس کا ارادہ شہادت (یعنی شہید ہونے) کا ہو وہ تو چلے اور جسے یہ پسند نہ وہ لوٹ جائے پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے سب ساتھی بھی ساتھ ہی رہے کوئی ان میں سے نہیں پھرا جب یہ لوگ معدن پہنچے جو علاقہ حجاز میں فزع سے اوپر ایک مقام ہے جسے لوگ نجران کہتے ہیں تو وہاں پہنچ کر سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ جس پر یہ دونوں سوار ہوتے تھے گم ہوگیا یہ دونوں اس اونٹ کو تلاش کرنے میں پیچھے رہ گئے اور عبد اللہ اپنے باقی ہمراہیوں کو لے کر آگئے بڑھ گئے یہاں تک کہ مکہ اور طائف کے درمیان بطن نخلہ میں جا اترے ابھی یہ ٹھہرنے ( بھی) نہ پائے تھے کہ اتنے میں قریش کا قافلہ دکھلائی دیا جو طائف کی تجارت کا مال کشمش اور چمڑے ( وغیرہ) لیے آرہا تھا انہیں میں عمرو حضرت حکم بن کیسان مولیٰ ہشام بن مغیرہ عثمان بن عبد اللہ بن مغیرہ مخزومی اور اس کا بھائی نوفل بن عبد اللہ مخزومی بھی تھے جس وقت ان لوگوں نے ان مسلمانوں کو دیکھا تو ان سے دہشت کھا گئے۔ (افسر) عبد اللہ بن جحش نے کہا کہ وہ لوگ تم سے خوف کھا گئے ہیں اب تم یہ کرو کہ اپنے میں سے ایک آدمی کا سر مونڈ کر ان کے پاس بھیج دو ( تاکہ انہیں کچھ اطمینان ہوجائے) چناچہ عکاشہ کا سر مونڈ کر ان کی طرف بھیج دیا گیا جب عکاشہ ان کے پاس پہنچے تو وہ دیکھتے ہی کہنے لگے کہ یہ تو عمار کی قوم ( کے آدمی) ہیں ان سے ڈرنے کی کوئی بات نہیں غرض کہ ان سے وہ بےخوف سے ہوگئے اور یہ واقعہ اس تاریخ کو ہوا جس کو وہ لوگ تو جمادی الثانی کا آخری دن سمجھ رہے تھے اور اصل میں رجب کی پہلی پھر انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اگر آج کی رات تم انہیں چھوڑے دیتے ہو تو پھر یہ حرم میں داخل ہوجائیں گے اور تمہارے قبضہ سے نکل جائیں گے (کیونکہ حرم میں لڑنا جائز نہیں) اس کے علاوہ ماہ حرام ( رجب) بھی شروع ہوجائے گا یہ سمجھوتہ ہونے کے بعد واقد بن عبد اللہ سہمی نے عمرو حضرمی کے تیرمار کر اسے تو وہیں مار دیا اور باقی مسلمانوں نے بڑی مردانگی سے ان پر حملہ کیا۔ عثمان بن عبد اللہ بن مغیرہ اور حکم بن کیسان کو مقید کرلیا اور نوفل بھاگ گیا وہ ان کے ہاتھ نہ آیا پھر ان دونوں قیدیوں اور اونٹوں کو لے کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس مال غنیمت میں سے عبد اللہ بن جحش نے رسول اللہ کے لیے خمس علیحدہ کرکے باقی مال اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیا تھا اور اسلام میں سب سے پہلے خمس اور سب سے پہلا مال غنیمت یہی تھا اور مشرکین میں جو سب سے پہلے قتل ہوا وہ یہی عمرو حضرمی تھا اور سب سے پہلے قیدی عثمان اور حکم ہیں اور یہ واقعہ مال غنیمت میں خمس فرض ہونے سے پہلے کا ہے پھر عبد اللہ بن جحش کی اس کارروائی کے مطابق خمس فرض ہوا اور جب یہ لوگ آنحضرت ﷺ سے ملے تو آپ نے فرمایا کہ ماہ حرام میں جنگ کرنے کا میں نے حکم نہیں دیا تھا ( یہ تم نے عدول حکمی کی) اور اس مال غنیمت میں سے آپ نے کچھ نہ لیا۔ اس مال اور ان دونوں قیدیوں کو ویسے ہی رہنے دیا اور ( جب یہ خبر مکہ میں پہنچی تو) قریش نے ان مسلمانوں سے جو مکہ میں رہتے تھے طعنہ کے طور پر کہا کہ اے بےدینو ! تم نے ماہ حرام کو بھی حلال سمجھ لیا اور اس میں بھی قتل و قتال کرنے لگے یہ سن کر ان لشکریوں کو بہت بڑا صدمہ ہوا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ بس ہم ہلاک ہوگئے ( ہم سے بہت بڑی غلطی ہوئی) اور حضور انور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ابن حضرمی کو قتل کرنے کے بعد شام کو ہم نے رجب کا چانددیکھا لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم ہوا کہ یہ خون ہم نے رجب میں کیا یا کہ جمادی الثانی میں پھر اس کے بارے میں لوگوں نے مختلف اقوال بیان کئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تب آنحضرت ﷺ نے وہی خمس لے لیا جو عبد اللہ بن جحش نے نکالا تھا یا آپ نے سارا مال لے کر اس میں سے خمس نکال لیا اور باقی مال ان لشکریوں میں تقسیم کردیا۔ بعض مفسرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ( جنگ) بدر سے واپس آنے تک یہ اہل نخلہ کا مال غنیمت ویسے ہی رکھا رہا اور بدر کی غنیمتوں کے ساتھ ہی یہ بھی تقسیم ہوا اور اہل مکہ نے اپنے دونوں قیدیوں کے فدیہ میں (انہیں چھوڑانے کی امید پر) کچھ مال بھیجا حضرت نے فرمایا کہ سعد اور عتبہ کے آنے تک ان دونوں قیدیوں کو ہم قید ہی میں رکھیں گے کیونکہ ہمیں تمہاری طرف سے اندیشہ ہے اگر ( ہمارے) وہ دونوں آدمی نہ آئے تو ان کے عوض ہم ان دونوں کو قتل کردیں گے کچھ دنوں کے بعد سعد اور عتبہ بھی ( بخیر و عافیت) آگئے تب آنحضرت ﷺ نے ہر قیدی کے فدیہ میں چالیس چالیس اوقیہ لے کر دونوں کو رہا کردیا۔ حکم بن کیسان تو جبھی مسلمان ہوگئے اور حضرت کے پاس ہی مدینہ منورہ میں رہنے لگے پھر بیر معونہ ( کی لڑائی) میں شہید بھی ہوگئے لیکن عثمان بن عبد اللہ بن مغیرہ مکہ چلا گیا اور وہیں کفر ہی کی حالت میں مرگیا رہا نوفل اس نے جنگ خندق میں اپنے گھوڑے کو خندق میں ڈالنے کی غرض سے اس کے ایڑ لگائی اور مع گھوڑے کے خندق میں گرپڑا اور دونوں کا کچلا ہوگیا اللہ تعالیٰ نے وہیں اس کی جان لے لی اس کے بعد مشرکین نے کچھ قیمت پر اس کا لاشا مانگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ لے لو کیونکہ اس کا لاشہ بھی ناپاک اور اس کی دیت بھی ناپاک ہے۔ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْرٌ ( اے محمد ﷺ ان سے) ( کہہ دو کہ اس ( ماہ حرام) میں لڑنا بڑا گناہ ہے) اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے آیت : فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم سے ( یعنی مشرکین کو تم جہاں پاؤ قتل کردو) ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ( منسوخ کہنا) اس بنا پر ہے کہ حیث کا لفظ زمانہ ( کے معنی) میں مجازاً ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ کثیر الاستعمال ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حیث کے لفظ کو مکان کے معنی میں حقیقی اور زمانہ کے معنی میں مجازی کہنے کی کوئی دلیل نہیں ہے اور اگر ہم یہ مان لیں کہ یہ لفظ مکان اور زمان دونوں میں مشترک ہے تب بھی تمام زمانوں کو شامل ہونے میں شک رہنا ہے اور شک کے ہوتے ہوئے منسوخ کہنا جائز نہیں ہے۔ بیضاوی فرماتے ہیں کہ یہ عام سے خاص کا منسوخ ہونا ہے اور اس میں اختلاف ہے یعنی عام سے خاص کا منسوخ ہونا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جائز ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ عام بھی اپنے افراد میں خاص کر طرح قطعی دلیل ہوتا ہے اور امام شافعی (رح) وغیرہ کے نزدیک جائز نہیں ہے ان کا قول یہ ہے کہ عام ظنی دلیل ہے بخلاف خاص کے کیونکہ کوئی عام ایسا نہیں جس میں سے بعض افراد خاص نہ ہوگئے ہوں اور اس کی ( مفصل) بحث اصول فقہ میں ہے۔ قاضی بیضاوی کہتے ہیں اولیٰ یہ ہے کہ اشہر حرام میں مطلقاً جنگ حرام ہونے پر اس آیت کو دلیل نہ کہا جائے کیونکہ قتال (کالفظ) نکرہ ہے جو مثبت ( فعل) کے تحت میں ہے لہٰذا یہ عام نہ ہوگا ( کیونکہ نکرہ منفی فعل کے تحت میں آکر عام ہوا کرتا ہے نہ مثبت کے تحت میں) میں کہتا ہوں کہ مثبت ( فعل) میں بھی قرینہ وجود ہونے کے وقت نکرہ عام ہوجایا کرتا ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں کہ تمرۃ خیر من جرادۃ اگر یہاں نکرہ کے لیے نہ ہو تو سائل کا جواب نہیں ہوسکتا۔ ابن ہمام نے اس حرمت کے منسوخ ہونے پر چند عمومات سے استدلال کیا ہے مثلا یہ آیت : اقتلوا المشرکین کافۃ اور آنحضرت ( علیہ السلام) کا یہ قول : امرت ان اقاتل الناس حتٰی یقولوا لآ الٰہ اِلَّا اللہ۔ میں کہتا ہوں یہ استدلال ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ان آیتوں کا عام ہونا مکلفین اور ان کے احوال کے بارے میں ہے نہ کہ زمانوں کی بابت کہ اس میں اشہر حرم داخل ہوجائیں اور ان پر منسوخ ہونے کا حکم لگ جائے بلکہ زمانوں کا اگر ثابت ہوگا تو اقتضاء الننص سے ہوگا اوراقتضاء النص یہاں ہے نہیں لہٰذا اس میں تخصیص اور نسخ جاری نہیں ہوسکتا اور اشہر حرام میں قتل و قتال کی حرمت منسوخ ہونے کا کوئی کس طرح دعویٰ کرسکتا ہے حالانکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللہ یوم خلق السمواٰت والارض منھا اربعۃ حرم ذٰلک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم ( یعنی بیشک مہینوں کا شمار اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہیں جس دن کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ان میں چار ( مہینے) حرام ہیں۔ یہ مضبوط دین ہے پس ان ( مہینوں) میں ( قتل و قتال کرکے) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو) وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ واعلموا ان اللہ مع المتقین انما النسی زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما و یحرمونہ عاما لیواطؤا عدۃ ما حرم اللہ فیحلوا ما حرم اللہ زین لھم سوء اعمالھم وا اللہ لا یھدی القوم الکافرین ( یعنی اور تمام مشرکوں سے لڑو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ سو اس کے نہیں کہ ( مہینے کا) آگے پیچھے کرلینا کفر میں زیادتی ہے جو لوگ کافر ہیں اس کے ذریعہ سے گمراہ کیے جاتے ہیں ایک سال (تو) وہ اس ( مہینہ) کو حلال کرلیتے ہیں اور دوسرے سال اسے حرام کرلیتے ہیں تاکہ ان مہینوں کا شمار کرلیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے اور جو اللہ نے حرام کیا ہے اسے ( اس تدبیر) سے حلال کرلیں ان کے لیے انکے برے کام زینت دیئے گئے ہیں اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں کرتا) یہ آیت قتال کی آیتوں میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور یہی آیت سیف ہے جو 9 ھ کے آخر میں نازل ہوئی ہے اور اس میں ان مہینوں کے حرام ہونے کا ذکر ہے لہٰذا اس سے یہ خصوصیت ثابت ہوئی کہ ان مہینوں کے سوا ہی میں قتال و قتال کرنا واجب ہے ( ان میں جائز نہیں) ۔ وا اللہ اعلم اس کے علاوہ آنحضرت ﷺ کی وفات سے دو مہینے پہلے حجۃ الوداع میں بقر عید کے روز کا خطبہ جو حضور ﷺ نے پڑھا تھا ان اشہر حرم میں قتل و قتال کرنے کی حرمت پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یاد رکھو زمانہ پھر اسی حالت پر آگیا ہے کہ جس حالت پر آسمان و زمین پیدا ہونے کے دن تھا سال کے بارہ مہینے ہوتے ہیں ان میں سے چار مہینے حرام ہیں تین پے در پے ذی قعدہ ذی الحجہ محرم اور ایک ( ان سے علیحدہ یعنی) رجب۔ اسی حدیث کے آخر میں فرمایا کہ تمہارے خون تمہارے مال تمہارے اسباب ایک دوسرے پر ایسے حرام ہیں جسے تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں آج کے دن کی حرمت ہے۔ یہ حدیث حضرت ابوبکر کی سند سے متفق علیہ ہے۔ ابن ہمام کہتے ہیں کہ ماہ ذی الحجہ کی بیسویں تاریخ آنحضرت ﷺ نے طائف کا محاصرہ کیا تھا اور یہ محاصرہ محرم کے آخر تک یا ایک مہینہ تک رہا غرض یہ ہے کہ اس سے اس آیت کا منسوخ ہونا ثابت ہوتا ہے اور یہ قول ٹھیک نہیں کیونکہ طائف کا محاصرہ ماہ شوال 8 ھ میں ہوا تھا ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال ماہ رمضان شریف کی دوسری تاریخ کو ہم رسول اللہ کے ساتھ مدینہ سے چلے تھے یہ روایت امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے بیہقی نے زہری سے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ رمضان شریف کی تیرہویں تاریخ انحضرت ﷺ نے مکہ پر فتح پائی تھی۔ میں کہتا ہوں اس روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بارہ روز آنحضرت کہیں راستہ میں ٹھہر گئے تھے اور انیس روز اور ایک روایت میں سترہ روز آپ نے مکہ معظمہ میں قیام کیا یہ روایت بخاری نے نقل کی ہے اور ایک روایت میں اٹھارہ روزہ ہیں پھر مکہ فتح ہوجانے کے بعد شوال کی چھٹی تاریخ کو ہفتہ کے دن آپ حنین کو روانہ ہوگئے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ پانچویں ( شوال) کو روانہ ہوئے تھے یہی قول عروہ اور ابن جریر کا ہے۔ ابن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں کہ شوال کی دسویں کو آنحضرت حنین پہنچ گئے تھے اور جب (قبیلہ) ہوازن کے لوگ شکست کھا کر بھاگ گئے اور آپ نے سب غنائم اکٹھی کرالیں تو ( قبیلہ) ثقیف کا سردار نوفل طائف چلا آیا اور سب لوگوں کو اندر کرکے شہر کے دروازے بند کردیئے اور ان لوگوں نے جنگ کی تیاری کرلی ادھر حضور بھی لوٹ کر مکہ نہیں گئے اور نہ حنین کے غنائم تقسیم کرنے سے پہلے سوائے جنگ طائف کے اور کہیں کی چڑھائی کی۔ قیدیوں کو آپ جعرانہ ہی میں چھوڑ آئے تھے یہاں آکر آپ نے طائف کا محاصرہ کرلیا۔ مسلم نے انس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ محاصرہ چالیس روز رہا تھا۔ ہدایہ میں اس روایت کو غریب کہا ہے ابن اسحاق نے محاصرہ کی مدت تیس دن بیان کی ہے اور ابن اسحاق کی ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ محاصرہ بیس روز سے کچھ اوپر رہا تھا۔ بعض بیس روز ہی کہتے ہیں اور بعض نے دس روز سے کچھ اوپر کہا ہے۔ یہ روایت ابو داؤد نے نقل کی ہے۔ ابن حزم کہتے ہیں کہ بلاشک یہی صحیح ہے پھر آنحضرت ﷺ نے مکہ کو کوچ فرمایا اور ذیقعدہ کی پانچویں تاریخ کو جمعرات کے دن آپ جعرانہ پہنچ گئے۔ جعرانہ سے آگے نہیں بڑھے تیرہ روز وہیں رہے اور وہیں عمرہ کرلیا۔ پھر ذیقعدہ کی اٹھارہویں کو بدھ کے دِن آپ ﷺ مدینہ کو روانہ ہوگئے اور ذیقعدہ کی ستائیسویں تاریخ کو جمعہ کے دن مدینہ پہنچ گئے ابو عمر کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کے مدینہ میں نہ رہنے کی مدت اس وقت سے لے کر آپ ﷺ مدینہ سے مکہ کو روانہ ہوئے اوّل مکہ فتح کیا پھر ہوازن پر چڑھائی کی پھر اہل طائف سے جنگ کی (ان سب سے فارغ ہو کر) مدینہ واپس آنے تک دو مہینے اور سولہ دن بلکہ دو مہینے اور چھبیس دن ہیں۔ پھر ابن ہمام کا یہ کہنا کیونکہ خیال میں آسکتا ہے کہ طائف کا محاصرہ ذی الحجہ کی بیسیویں تاریخ سے لے کر محرم کے آخرتک رہا تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اشھرحرم کی حرمت کا منسوخ ہونا ثابت نہیں ہوا وا اللہ اعلم ہاں یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہے جو پہلے گذر چکی ہے کہ الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمات قصاص فمن اتدایٰ علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدٰی علیکم کیونکہ یہ آیت اشہر حرم میں قتل و قتال کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے ایسی حالت میں کہ جنگ کی ابتداء کفار کی طرف سے ہو کیونکہ یہ آیت جنگ بدر سے پہلے نازل ہوئی ہے اور وہ آیت عمرہ قضا 7 ہجری میں نازل ہوئی ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔ پس اشہر حرم میں ( مسلمانوں کو) جنگ شروع کرنی حرام ہی رہی۔ وا اللہ اعلم وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَكُفْرٌۢ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۤ ( اور اللہ کی راہ سے (یعنی اسلام اور طاعات سے) روکنا اور اس کو ( یعنی اللہ کو) نہ ماننا اور مسجد حرام سے روکنا) المسجد الحرام میں مضاف محذوف ہے یعنیوصدا المسجد الحرام اور مجرور ضمیر پر ( جو یہ ہے) اس کا عطف جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں ( حرف) جار کا اعادہ واجب ہوگا اور نہ سبیل اللہ پر جائز ہے کیونکہکفر بہٖ کا عطف اس سے مانع ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صد پر عطف ہونا اس عطف سے مقدم نہیں ہوسکتا جو موصول پر ہے اور یہاں و کفر المسجد الحرام سے مقدم ہے۔ وَ اِخْرَاجُ اَھْلِهٖ ( اور اس کے رہنے والوں کو نکال دینا) یعنی مسجد والوں کو اور وہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ ہیں۔ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ ( اللہ کے نزدیک بڑا گناہ ہے) اس سے جو ( حضور کے) اس چھوٹے سے لشکر نے کیا تھا کیونکہ کفار مکہ سے جس قدر گناہ سر زد ہوئے قصداً اور عناداً سر زد ہوئے اور اس لشکر سے وہ گناہ بلا قصد اور ایک گمان کی وجہ سے سرزد ہوگیا تھا۔ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ( اور فساد ( یعنی شرک) کرنا اس قتل سے ( بھی) زیادہ سخت ہے) یعنی حضرمی کو قتل کردینے سے پھر یہ کفار مکہ ان مسلمانوں پر کیوں طعن وتشنیع کرتے ہیں باوجودیکہ ان سے وہ فعل غلطی سے ہوگیا انہوں نے تو اس سے بدرجہا بڑھ کر جان بوجھ کیا ہے۔ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۭ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَھُوَ كَافِرٌ فَاُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ( اور وہ تو تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے ( کفار قریش کی طرف اشارہ ہے) یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر قابو پائیں ( اس میں قابو نہ پانے کا اشارہ ہے اور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا اور کفر کی حالت میں مرجائے تو ایسوں کے عمل ضائع ہوجائیں گے) اس آیت سے امام شافعی (رح) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ جو شخص مرتد ہوجائے تو جب تک وہ کفر کی حالت پر نہ مرے اس کے عمل ضائع نہیں ہوتے کیونکہ مثلاً جس نے ظہر کی نماز پڑھی پھر وہ مرتد ہوگیا نعوذ باللہ منہا اور ابھی وقت ( نماز کا) باقی تھا کہ وہ پھر مسلمان ہوگیا تو اس نماز کو پھر پڑھنا اس پر واجب نہیں ہے اور اسی طرح جو شخص حج کرکے مرتد ہوجائے پھر مسلمان ہوجائے تو اس پر بھی دوبارہ حج کرنا واجب نہیں ہے شافعی کا یہ استدلال صفت کے مفہوم کے ساتھ ہے اور یہ ( یعنی مفہوم صفت) امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک معتبر نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ مسلمان ہوجائے اور وقت نماز کا باقی ہو تو دو بارہ نماز پڑھنی اس پر واجب ہے اور اسی طرح حج بھی دوبارہ کرنا لازم ہے۔ ہماری دلیل یہ آیت ہے : و من یکفر بالایمان فقد حبط عملہٗ ( یعنی جو کوئی ایمان سے پھر گیا اس کے عمل ضائع ہوگئے) اور یہ آیت مطلق ہے اور مطلق کو مقید پر حمل کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ وا اللہ اعلم۔ فِي الدُّنْيَا ( دنیا میں) پس ایسے شخص کے دنیا میں مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کا خون اور مال محفوظ نہ رہے گا۔ اس کو قتل کردیا جائے گا اور ( رفع شکوک کے لیے) تین دن تک اسے مہلت دینی بھی واجب نہ ہوگی ہاں مستحب ہے پس یہ آیت امام شافعی پر حجت ہے کیونکہ مہلت دینے کو وہ واجب فرماتے ہیں۔ وَالْاٰخِرَةِ ( اور آخرت میں) یعنی ثواب ساقط ہوجائے گا۔ وَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ ( اور یہی لوگ دوزخی ہیں وہ ابد الآباد تک اس میں رہیں گے) جیسے کہ اور کفار پھر ان لشکریوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ کیا ہمارے اس سفر کا ہمیں اجر ملے گا اور کیا یہ جہاد شمار ہوگا ؟ اس وقت اللہ پاک نے یہ ( اگلی) آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:218

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:218 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور خدا کے لئے وطن چھوڑ گئے اور (کفار سے) جنگ کرتے رہے وہی خدا کی رحمت کے امیدوار ہیں۔ اور خدا بخشنے والا (اور) رحمت کرنے والا ہے

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ( بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا) اس آیت میں ہجرت اور جہاد کی عظمت بیان کرنے کی وجہ سے موصول مکرر لایا گیا ہے گویا امید متحقق ہونے میں یہ دونوں فعل مستقل ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ ( یہی ہیں جو اللہ کی رحمت کی امید وار ہیں) یعنی اللہ کے اجر دینے کے ( امید وار ہیں) امید کو ان کے لیے اس لیے ثابت کیا ہے تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ عمل نہ موجب ثواب ہے اور نہ ثواب کے ثبوت کا یقین دلانے والا ہے خاص کر اس صورت میں کہ اعتبار خاتموں ہی کا ہوتا ہے۔ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( اور اللہ بخشنے والا ہے (یعنی ان کی خطا کو) اور مہربان ہے) یعنی ثواب عطا کرنے میں۔