2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:20

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 2:20 in the Quran reader

قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ ( قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے) یہ جملہ مستانفہ یعنی جواب سوال مقدر کا ہے گویا کوئی سائل سوال کرتا ہے کہ جب اس کڑک وغیرہ نے ان کو گھیرا تو ان کی کیا حالت ہوئی ؟ اس سوال کے جواب میں یہ جملہ فرمایا۔ لفظ کاَدَیہ بتانے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ اس کی خبر قریب الوقوع تھی لیکن کسی شرط کے مفقود ہونے یا کسی مانع کے موجود ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کا دمع اپنی خبر کے خبر محض ہے جملہ انشائیہ نہیں ہے بخلاف عسیٰ کے کہ وہ امیدوار اور انشاء کے لیے موضوع ہے۔ خطف کے معنی جھپٹ کر کسی شے کو لینے کے ہیں۔ کُلَّمَا ( ہر مرتبہ) لفظ کلما تکرار پر دلالت کرتا ہے اَضَآءَ لَھُمْ ( وہ ان پر چمکتی ہے) اضاء یا تو لازم ہے بمعنی چمکنے کے یا متعدی ہے اور مفعول محذوف ہے اس تقدیر پر معنی یہ ہونگے کہ جب بجلی کی چمک راستہ کو روشن کرتی ہے۔ مَّشَوْا فِیْہِ (تو وہ اس میں چلتے ہیں) وجہ چلنے کی یہ ہے کہ وہ چلنے کے حریص ہیں اسی واسطے لفظ کلما جو تکرار پر دال ہے اضاء کے ساتھ ذکر فرمایا اور اظلم کے ساتھ اذَا ذکر فرمایا۔ وَ اِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْہِم قَامُوْا ( اور جب ان پر اندھیرا طاری ہوجاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور اظلم بھی مثل اضاء کے متعدی بھی ہے اور لازم بھی وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ ( اور اگر اللہ چاہتا) یعنی اگر اللہ ان کے کانوں کو رعد کی شدت سے اور آنکھوں کو بجلی کی چمک سے ضائع کرنا چاہتا۔ مفعول شاء کا حذف کردیا گیا ہے کیونکہ جواب لو اس پر دال ہے۔ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَ اَبْصَارِھِمْ ( تو ضرور ان کے کانوں اور آنکھوں کو ضائع کردیتا) کانوں اور آنکھوں کے جاتے رہنے کو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے وابستہ کیا حالانکہ رعد اور برق آنکھوں اور کانوں کے جانے کا ظاہری سبب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمام اسباب کی تاثیر حقیقت میں اللہ کے ہی چاہنے سے ہے سو حقیقی سبب اللہ ہی کا چاہنا ہے اسی طرح کل جواہر و اعراض اور بندوں کے تمام افعال اللہ ہی کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اسی کی مشیت سے وابستہ ہیں۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ( بیشک اللہ ہر شے پر قادر ہے) یہ آیت پہلے مضمون کی تصریح اور اثبات کے لیے ہے اور لفظ شی شاء کا مصدر ہے کبھی اسم فاعل کے معنی میں آتا ہے یعنی شیئے معنی شائی اس استعمال کے موافق لفظ شے باری تعالیٰ کو بھی شامل ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : قُلْ اَیُّ شَیْءٌ اَکْبَرُ شَھَادٌَ قُلِ اللّٰہ اور کبھی بمعنی اسم مفعول آتا ہے یعنی شیے بمعنی مَشِی۔ مشی سے مراد ہے وہ چیز جس کا وجود مطلوب ہو۔ اس استعمال کے موافق لفظ شی ممکن ہی کو شامل ہوگا اور اسی استعمال کے موافق حق تعالیٰ کا یہ قول ہے : اَللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیٍْ ( یعنی اللہ ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے) اس تقدیر پر لفظ شی اس آیۃ میں اپنے عموم پر رہے گا ( بخلاف استعمال سابق کے کہ باری تعالیٰ کا مستثنیٰ کرنا پڑے گا) قدرت کسی شے کے ایجاد پر قابو رکھنے کو کہتے ہیں اور قادر کے یہ معنی ہیں کہ جو فعل وہ کرنا چاہے کر گذرے۔ نہ کرنا چاہے نہ کرے۔ لفظ قدیر میں قادر کے بہ نسبت معنی کی زیادتی ہے۔ باری تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس کا اطلاق بہت ہی کم آتا ہے۔ یہ آیت یا تو تمثیل ہے یعنی منافقین کی حیرت و شدت کی حالت کو اس شخص کی حالت سے تشبیہ دی ہے کہ جسے اندھیری رات میں بارش نے آلیا ہو اور ساتھ ہی اس کے گرج ‘ بجلی کی چمک اور کڑک کی خوفناک آوازیں بھی ہوں یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو تو بارش والوں سے تشبیہ دی اور دین مستقیم اور قرآن پاک کو بارش سے۔ اس تقدیر پر فِیْہِ ظُلُمٰتٌ کے یہ معنی ہوں گے کہ دین میں ایسی چیزیں موجود ہیں جو اتباع اور پیروی کرنے سے روک رہی ہیں اور وہ ہیں عبادات ‘ مجاہدۂ نفس اور نفسانی خواہشوں کا ترک کرنا جو سراسر محنت و مشقت اور رنج اور تکلیف سے لبریز ہیں۔ مسلم، امام احمد اور ترمذی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا جنت نامر غوبات اور شدائد سے اور دوزخ مرغوبات سے ڈھانکی گئی ہے۔ ترمذی ‘ ابو داؤد اور نسائی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب حق تبارک و تعالیٰ نے جنت پیدا کی تو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ جاؤ دیکھو۔ حضرت جبرئیل گئے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے جنت والوں کے لیے اس میں تیار کیا تھا دیکھ کر حاضر ہوئے اور عرض کیا قسم ہے تیرے عزو جلال کی جو اسے سنے گا بغیر جائے اس میں نہ رہے گا پھر اسے اللہ تعالیٰ نے سختیوں اور تکلیفوں سے ڈھانک دیا اور بار دیگر ارشاد ہوا کہ اب پھر جا کر دیکھو۔ چناچہ حضرت جبرئیل بموجب ارشاد باری پھر دیکھ کر واپس ہوئے اور عرض کیا کہ تیرے عزت و جلال کی قسم اب تو مجھے یہ خوف ہے کہ کوئی بھی اس میں نہ جائے گا۔ اسی طرح جب جہنم کو پیدا کیا تو اس وقت بھی حضرت جبرئیل کو دیکھنے کا حکم ہوا۔ حضرت جبرئیل نے دیکھ کر عرض کیا رب العالمین تیری عزت وقدرت کی قسم جو اسے سنے گا وہ کبھی اس میں نہ جائے گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مرغوبات سے ڈھانک کر دوبارہ دیکھنے کا حکم فرمایا۔ حضرت جبرئیل گئے اور دیکھ کر عرض کیا کہ الٰہ العالمین تیری عزت و جلال کی قسم کوئی بھی اس میں بغیر داخل ہوئے نہ رہے گا۔ (جامع ترمذی ‘ ج 2) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی اس مضمون کو اس طرح فرمایا ہے : وَ اِنَّھَا لَکبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ( نماز بیشک گراں ہے مگر انہیں گراں نہیں جو اللہ کے ساتھ عاجزی کرنے والے ہیں۔ ( یعنی انہیں آسان ولذیذ ہے) ۔ رعد سے مراد وہ آیات ہیں جو اللہ کے عذاب سے ڈرانے والی ہیں۔ برق سے مراد فتوحات اور غنائم کثیرہ ہیں جنہیں منافقین حاصل کرتے تھے اور اس سبب سے انہیں اتباع اور ظاہری اطاعت سہل تھی اور تکلیفوں کی تاریکی دفع ہوتی تھی ( یعنی منافقین چونکہ خالص ایمان کی دولت سے محروم تھے اس لیے وہ جو کچھ بھی اطاعت کرتے تھے اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ غنائم کے مال ہاتھ لگیں اور قتل و قید سے نجات پائیں۔ اس لیے جب انہیں غنائم ہاتھ آجائیں تو اطاعت گراں نہ ہوتی اور جب ہاتھ نہ لگتیں تو گراں گزرتیں یا برق سے مراد وہ واضح و روشن دلائل ہیں جو راہ راست کی طرف بلا رہی ہیں اور عبادات کی مشقت کو سہل و آسان کر رہی ہیں۔ کانوں میں انگلیاں دینے کی وجہ رعد اور کڑک ہے جو خوف کے سبب کانوں میں انگلیاں دے لیتے اور آپس میں کہتے تھے کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں بک بک نہ کیا کرو شاید تم ہی غالب آجاؤ اور یہ جو فرمایا کہ موت کے ڈر سے کانوں میں انگلیاں دیتے ہیں تو اس کا مطلب اس تقدیر پر یہ ہے کہ انہیں یہ خوف لگا رہتا تھا کہ اگر ہم ایمان لے آئے تو عبادتوں کی محنت و مشقت میں پڑجائیں گے اور جو کبھی جہاد کا نمبر آگیا تو قتل و قتال کرنا ہوگا۔ سو قتال اور عبادات کی تکالیف ان کی نظر میں بمنزلہ موت تھی۔ چناچہ حق تعالیٰ نے ان کے حال کو دوسرے موقع پر اس طرح فرمایا ہے : فَاِذَا جَآءَ الْخَوفُ رَاَیْتَھُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ تَدُوْرُ اَعْیُنَھُمْ کَالَّذِیْ یُغْشٰی عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ( یعنی اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ انہیں دیکھتے ہیں کہ جب خوف پیش آتا ہے تو وہ آپ کی طرف دیکھتے ہیں ان کی آنکھیں ایسی چکراتی ہیں جیسے کسی پر موت کی بےہوشی طاری ہو) کانوں میں انگلیاں دینے سے انکا یہ مطلب ہو کہ وہ بزعم فاسد یہ سمجھے ہوئے تھے کہ عذاب کی آیتیں سننے سے کانوں کا بند کرنا گویا ان کو عذاب سے بچا لے گا جیسا کہ احمق جب رعد اور کڑک سے سہمتا ہے تو کان بند کرلیتا ہے حالانکہ وہ اس بند کرنے سے نجات نہیں پاسکتا اور اسی طرح خرگوش جب شکاری کو سامنے آتا ہوا دیکھتا ہے اور کوئی جگہ نجات کی نہیں پاتاتو وہ یہ خیال کرکے آنکھیں بند کرلیتا ہے کہ اس کا نہ دیکھنا قتل و ہلاکت سے بچا لے گا اور واللّٰہُ مُحِیْطٌ بالکٰفِرِیْنَ سے اس تقدیر پر یہ مراد ہے کہ جو کچھ رنج ‘ رسوائی ‘ عذاب وغیرہ دنیا میں اور دائمی عذاب آخرت میں ان کے لیے لکھا گیا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا یا یہ مطلب کہ کانوں کا بند کرنا انہیں مفید نہیں اور نہ یہ فعل انہیں عذاب کی آفتوں سے رستگاری دے سکتا ہے۔ جیسا کہ خرگوش کو شکاری سے آنکھیں بند کرنا خلاصی نہیں دے سکتا بلکہ اسے مغلوب و عاجز کردیتا ہے اور یَکَادُ الْبَرْقُ میں بھی برق سے مراد فتوحات اور غنائم اور شوکت اسلام ہے اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہونگے چونکہ یہ لوگ دنیا کے حریص زیادہ ہیں اس لیے فتوحات و غنائم وغیرہ ان کی آنکھوں کو عنقریب راہ حق دیکھنے سے اندھا کرنے والی ہیں یا یہ کہ برق سے مراد روشن اور واضح دلائل ہوں۔ اس صورت میں یہ معنی ہونگے کہ اسلام کی حقانیت کی واضح اور روشن دلائل عنقریب ان کی آفت رسیدہ نگاہوں اور ان کی بےہودہ عقلوں کو جن سے وہ باطل کو حق اور حق کو باطل خیال کرتے اور دیکھتے ہیں سلب کرنے والی ہیں۔ پس جب ایسی عقلیں اور نگاہیں مسلوب ہوجاتی ہیں تو وہ حق کو حق اور باطل کو باطل دیکھنے لگتی ہیں اور دل میں ایمان آجاتا ہے۔ کُلَّمَآ اَضَآءَ لَھُمْ یعنی جب مسلمانوں کی دولت و فتح ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسلام کی کھلی حجتیں دیکھتے ہیں تو اس روشنی میں چلتے ہیں یعنی مومنین کا اتباع کرتے ہیں اور جب برق غائب ہوجاتی اور تاریکی چھا جاتی ہے یعنی فتح ظاہر نہیں ہوتی اور دین میں رنج و مشقت پاتے ہیں تو اسلام کے روشن دلائل کو بھول جاتے ہیں اور کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور چلنے سے ٹھہر جاتے ہیں اسی مضمون کے مطابق حق تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بھی فرمایا ہے۔ وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍ فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ ن اِطْمَاَنَّ بِہٖ وَ اِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انَْقَلَبَ عَلیٰ وَجْھِہٖ ( یعنی بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اللہ کی عبادت شک اور تردد سے کرتے ہیں اگر کوئی نعمت حاصل ہوگئی تو مطمئن ہوگئے اور جو کوئی بلا آگئی تو الٹے پھرگئے) وَلَوْ شَآء اللّٰہ یعنی اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو ان کے کانوں اور آفت رسیدہ آنکھوں کو بجلی کی شدت سے ضائع کردے اور حق کو دیکھنے والی آنکھ اور سننے والے کان عنایت فرما دے جیسا کہ دوسرے موقع پر فرمایا : وَلَوْ شِءْنَا لَاٰتَیْنَا کُلَّ نَفْسٍ ھُدٰھَا وَ لٰکِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَءَنَّ جَھَنَّم (یعنی اگر ہم چاہتے ان کو اس کی ہدایت عطا فرماتے مگر میری یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو بھروں گا) ۔ ابن جریر نے سدی کبیر کے طریق سے بروایت ابی مالک بحوالہ ابن عباس ؓ نیز ابن جریر ہی کی روایت سے بحوالہ ابن مسعود اور دیگر صحابہ ؓ روایت کیا ہے کہ دو منافق سرور عالم ﷺ کے حضور سے مشرکین میں شامل ہونے کے لیے مدینہ سے چلے راستہ میں ان کو ایسی ہی بارش نے کہ جس کی نسبت حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس میں رعد اور برق اور ظلمت تھی آگھیرا۔ جب کڑک کی ہولناک آوازیں کانوں میں آتیں تو اس وقت اس ڈر سے کہ کہیں یہ کانوں میں گھس کر ہلاک نہ کردے کانوں میں انگلیاں دیتے اور جب بجلی کوندتی تو اس کی روشنی میں چلتے اور جب نہ کوندتی تو انہیں کچھ دکھائی نہ دیتا اس طرح گرتے پڑتے اپنے مقام و منزل پر آئے اور کہنے لگے کہ خدا کرے جلدی صبح ہو تو ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت مبارک میں حاضر ہوں اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیں۔ چناچہ جب صبح ہوئی تو خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور مسلمان ہوگئے اور سچے دل سے بیعت کرلی اور اسلام ان کا کامل ہوگیا پس اللہ تعالیٰ نے ان دونوں منافقوں کے حال کو مدینہ کے منافقین کے لیے مثل بنا دیا کیونکہ ان کی حالت بھی انہیں کے مشابہ تھی چناچہ جب سرور کائنات کی مجلس شریف میں آتے تو کانوں میں انگلیاں دیئے رہتے کہ کبھی کوئی ایسی آیت نہ سن لیں جو ان کے بارے میں نازل ہوئی ہو یا یہ کہ ایسی بات کا ذکر نہ سن پائیں کہ جو ان کے قتل کا سبب بن جائے جیسا کہ وہ دونوں انگلیاں کانوں میں دیتے اور تاریکی کے وقت توقف کرتے تھے۔ منافقین کی حالت یہ تھی کہ جب ان کے پاس مال و اولاد کثرت سے ہوجاتا اور غنیمت و فتح میسر ہوجاتی تھی تو اسلام کا اتباع کرتے اور کہتے تھے کہ محمد ﷺ کا دین اب تو سچا ہی معلوم ہوتا ہے اور دین پر کچھ قائم رہتے تھے جیسے کہ وہ دونوں بھی جب بجلی کوندتی تو چلنے لگتے تھے اور جب منافقوں کے مال و اولاد پر کوئی آفت آجاتی تو کہتے کہ یہ محمد ﷺ کے دین کے سبب پیش آئی ہے اور کافر ہوجاتے تھے جیسے کہ وہ دونوں بھی جب بجلی نہ چمکتی تو حیران کھڑے رہ جاتے تھے تمام ہوا مضمون روایت جریر کا۔ میں (مفسر) کہتا ہوں ممکن ہے کہ ظلمات سے مراد آیات متشابہات ہوں کہ جو رائے و عقل سے سمجھ میں نہیں آسکتیں اور برق سے مراد آیات محکمات ہوں کہ جو عقول متوسط سے سمجھ میں آسکیں تو مؤمن خالص اور فرقہ ناجیہ اہل سنت تو یہی کہتے ہیں کہ ہم سب پر ایمان لاتے ہیں خواہ ہماری سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں جو کچھ ہے اللہ کی طرف سے ہے اور جن کے دل میں نفاق اور کجی ہے اور فساد و فتنہ ڈالتے اور اپنی رائے کے موافق آیات میں تاویلات باطلہ کرتے ہیں اور اگر اس کی ممانعت سنائی جاتی ہے تو کان بند کرلیتے ہیں اور حَذَرَ الْمَوت میں اس توجیہ کے موافق موت سے مراد آیات کے وہ معانی حقہ ہیں کہ جو ان کی رائے ناقص اور ان کے مذہب باطل کے موافق و معین نہیں ہیں کیونکہ ان معافی کو گویا وہ موت سمجھتے ہیں اور قرآن کو اپنی کجی رائے کے موافق بنانا چاہتے ہیں۔ کُلَّمَا اَضَآءَ لَھُمْ یعنی جب کوئی حکم ان کے رائے ناقص کے موافق ہوتا ہے تو اس کا اتباع کرتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں وَ اِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْہِم قَامُوْا یعنی جب ان کی عقل وہاں تک نہیں پہنچتی تو اس پر ایمان لانے سے توقف کرتے اور اپنی رائے فاسد کی موافق اس کی تاویل کی فکر میں لگتے ہیں پس ایسی تاویلات باطلہ کرنے والوں کے بہت سے فرقے ہوگئے بعض تو وہ ہیں کہ کہتے ہیں ہر موجود مجسم ہی ہوتا ہے اور ہر شے کا مثل ہوسکتا ہے تو ان کی عقل کو اس طرف رسائی ہی نہ ہوئی کہ کوئی موجود غیر ذی جسم اور بےمثل بہی ہوتا ہے اسی بناء پر تنزیہ باری تعالیٰ کا انکار کر بیٹھے اور حق تعالیٰ کے لیے جسم ثابت کردیا یہ تو مجسمہ بن گئے۔ اور بعض نے رویت کا انکار کیا۔ اور بعض نے عذاب قبر کو اور وزن اعمال کو اور صراط وغیرہ کو نہ مانا اور بعض نے قرآن کے غیر مخلوق ہونے سے انکار کیا حالانکہ قرآن اللہ کا کلام ہے یہاں تک کہ بہتر فرقے ہوگئے۔ رافضی، خارجی، معتزلہ، مجسمہ وغیرہا گویا یہ سب ( زبان حال سے) کہہ رہے ہیں تُؤْمِنُ بِبَعْضٍ الْکِتَابِ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ ( یعنی ہم کتاب کے بعض حصہ پر تو ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار و کفر کرتے ہیں وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَذَھَبَ بِسَمعِھِمْ وَ اَبْصَارِھِمْ یعنی اگر اللہ چاہتا تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو ضائع فرما دیتا کیونکہ انہوں نے کتاب اللہ کو اپنی رائے کے تابع بنا لیا۔ اس تفسیر کے موافق وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ سے آخر رکوع تک تمام آیات اہل ہواء کے بہتر کے بہتر فرقوں کو کہ جنہوں نے اپنی دین میں اختلاف ڈال دیا اور سب کے سب اپنے حال میں مست ہوگئے متضمن اور شامل ہو نگی۔ (تقریر و توضیح اس کی مندرجہ ذیل ہے) وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَ بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یعنی بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لے آئے یعنی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وَ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِین حالانکہ وہ ایمان والے نہیں یعنی رسول اللہ ﷺ جن احکام کو لائے ہیں ان سب پر ایمان نہیں لائے۔ یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (یعنی اللہ اور مؤمنین کو ( آیات قرآنی میں تاویلات فاسدہ کرکے) دھوکہ دیتے ہیں۔ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ یعنی وہ اپنے آپ ہی کو دھوکا دیتے ہیں لیکن اس کو سمجھتے نہیں بلکہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور معنی قرآن کے یہی ہیں جو ہم نے تراشے ہیں۔ سنو بیشک یہ لوگ جھوٹے ہیں فِی قُلُوْبِھِمْ مَرَضٌ یعنی ان کے دلوں میں کجی ہے فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا اللہ نے ان کی کجی کو بڑھا دیا چناچہ شیطان نے ان کے دل میں تاویلات فاسدہ ڈال دیں وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْہَ یعنی ان کے لیے اللہ پر جھوٹ باندھنے اور ظاہر نصوص کی تکذیب کرنے کے سبب سخت عذاب ہے۔ وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ ( یعنی جب ان کو کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت کرو یعنی آیات میں تحریف مت کرو اور دین مستقیم میں کجی مت ڈالو۔ قَالُوْآ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح ہی کرتے ہیں۔ اَلَا اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ آگاہ رہو بیشک وہی فسادی ہیں کہ تاویلات باطلہ کرکے فتنہ ڈالتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ ( یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لے آؤ جیسا کہ لوگ ایمان لائے یعنی اصحاب محمد ﷺ و اہل بیت اور عامہ مسلمین یعنی اہل سنت والجماعت کیونکہ سب فرقوں میں سب سے زیادہ ما شاء اللہ یہی ہیں اور اکثر کو کل کا حکم ہوتا ہے) چناچہ ترمذی نے ابن عباس ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے کہ جماعت پر اللہ کا ہاتھ یعنی حفاظت ہوتی ہے۔ قَالُوْا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءُ ( تو کہتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان لے آئیں جیسے کہ بیوقوف لوگ ایمان لے آئے) مومنین کو وہ بیوقوف اس وجہ سے کہتے تھے کہ ان کے عقائد ان کی رائے کے موافق نہ تھے اور وہ یہ کلمہ صحابہ کی شان میں یا تو صراحۃً کہتے تھے جیسا روافض و خوارج بھی اصحاب نبی کو احمق اور کافر کہتے تھے۔ (معاذ اللہ) اور یا دلالۃً کہتے تھے یعنی ان کی مخالفت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ عقائد کچھ سمجھ میں نہیں آئے۔ وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا [ الایہ ] اس آیت سے اللہ تعالیٰ ان مذاہب باطلہ کے فساد اور خرابی و فتنہ کو بیان فرماتا ہے اور مؤمنین سے ملنے کے وقت جو وہ ایمان کا دعوی کرتے اور کہتے تھے کہ ہم مؤمن ہیں اس کی وجہ یہ تھی کہ مومنین کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق زمین کا خلیفہ بنا دیا تھا اور جو دین ان کے لیے پسند فرمایا تھا اس پر جما دیا تھا اس لیے وہ اہل حق سے ڈرتے تھے اور مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِیْ اسْتَوْقَدَ کی دو تفسیریں ہوسکتی ہیں یا تو یہ منافقین اور اہل ہوا دونوں کے لیے مثل ہو کیونکہ اہل ہوا کا ایمان اور اس کے نور کی چمک ایسی ہی ہے جیسے آگ جلا نے والے کی روشنی کہ وہ صرف دنیا ہی میں ان کو نفع دیتا ہے جب موت آئے گی تو وہ ایمان ان کے کام کا نہیں اور اللہ تعالیٰ اس نور کو ضائع فرما دیگا۔ اور یا یہ صرف منافقین کی مثال ہو اور اَوْ کَصَیِّبٍ اہل ہوا کی مثل ہو اس تقدیر پر لفظ اَوْ ۔ اَوْ کَصَیِّبٍ میں تقسیم کے لیے ہوگا یعنی اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ پہلی مثل تو ایک خاص فریق کی ہے یعنی منافقین کی اور دوسری مثل دوسرے خاص گروہ یعنی اہل ہوا کی۔ یہ مطلب نہیں کہ دونوں مثل ایک ہی گروہ کی ہوں اور لفظ اَوْ اختیار دینے کے لیے مستعمل ہو جیسا کہ آیت : اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْھِمْ وَ اَرْجُلُھُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُّنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ میں اَوْ تَوزیع کا ہے۔ اگر (اس توجیہ پر جو میں نے لکھی ہے) کوئی معترض یہ کہے کہ اس مثل کو اہل ہوا کے حق میں کہنا کیونکر بن سکتا ہے نبی ﷺ کے زمانے میں تو ان کا پتہ و نشان بھی نہ تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کے خطابات بالاتفاق سب کو شامل ہیں خواہ وہ اس زمانہ میں موجود ہوں یا بعد میں موجود ہوں۔ دیکھو آیت : فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ زَیْغٌ تمام اہل ہوا کی شان میں ہے حالانکہ وہ سب کے سب زمانہ خیر میں موجود نہ تھے۔ اور اگر کوئی کہے کہ ان آیات کا نزول منافقین کے ہی حق میں ہے۔ احادیث اور علماء سلف کی تفسیریں اس پر صاف صاف دلالت کرتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ آیات منافقین کے بارے میں ہیں لیکن مورد کی خصوصیت لفظ عام کی تخصیص کو مقتضی نہیں ہے پس بنا بریں یہ آیات اگرچہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں لیکن سبب عموم الفاظ کے اہل ہواء کو بھی شامل ہیں فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

یَآاَیُّھَاالنَّاسُ (اے لوگو) یہ خطاب سب آدمیوں کو ہے جو قابل خطاب ہوں (یعنی مکلف) خواہ وہ خطاب کے وقت موجود ہوں یا بعد میں موجود ہونے والے ہوں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی شریعت مطہرہ عہد رسالت میں موجود لوگوں کو اور ان سب لوگوں کو جو قیامت تک ہونگے شامل ہے اسی طرح جو جمع و اسم جمع معرف باللام ہو وہ عموم پر دلالت کیا کرتی ہے۔ نیز صحابہ ؓ نے بھی اس آیۃ کے عموم سے استدلال کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یآ ایُّھَا النَّاس کرکے خطاب فرمایا گیا ہے۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں اور جہاں یٰآ اَیُّھَا الَّذِیْن آمَنُوْا سے یاد فرمایا گیا ہے۔ وہاں اہل مدینہ اس لیے کہ مکہ میں اکثر کافر تھے اور مؤمن کم تھے اسی لیے ایسا لفظ ارشاد فرمایا گیا کہ دونوں گروہ اس میں داخل ہوگئے اور مدینہ میں چونکہ مومن زیادہ تھے اس لیے انکی بزرگی ظاہر فرمانے کے لیے ایمان سے تعبیر فرمایا۔ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ (اپنے پروردگار کی عبادت کرو) اور یوں نہ فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ اس عنوان کے اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ پرورش عبادت کا باعث و سبب ہے کیونکہ محسن و مربی کا شکریہ ضروری ہے اگرچہ اللہ تعالیٰ بذاتہٖ عبادت کا مستحق ہے اور عبادت کا حکم مؤمن اور کافر سب کو شامل ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کافروں کو ایمان لانے کے بعد ہے کیونکہ ایمان شرط عبادت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن میں عبادت سے مراد توحید ہے۔ کفار کو یہ حکم ہے کہ تم توحید اختیار کرو اور مؤمنین کو یہ ارشاد ہے کہ توحید پر جمے رہو۔ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ (جس نے تمہیں پیدا کیا) یہ ربکم کی صفت ہے جو تعظیم اور علت بیان کرنے کے لیے لائے ہیں خلق کسی شئے کے ایجاد کرنے کو کہتے ہیں کہ جس کی مثل پہلے نہ ہو۔ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (اور انہیں جو تم سے پہلے تھے) اس لفظ میں جو شے انسان سے پہلے ہے وہ سب داخل ہوگئی اور یہ کلام کہ ” اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا “ ایسے طرز سے لائے کہ جس سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ وہ اس مضمون کے مقرو معترف تھے۔ اس لیے اس طریق کے اختیار کرنے کی وجہ یا تو یہی ہے کہ وہ اس مضمون کا فی الواقع اقرار کرتے تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حق تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَلَءِنْ سَأَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ (بےشک اے محمد ﷺ اگر آپ ﷺ : کفار سے پوچھیں کہ زمین و آسمان کس نے بنایا تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اللہ نے) اور یا یہ وجہ ہے کہ یہ مضمون چونکہ ادنیٰ غور و تامل سے بھی معلوم ہوسکتا تھا اس لیے انہیں ایسا فرض کیا گیا کہ گویا وہ اس کے قائل ہی ہیں ( اور گویا اشارۃً یہ حکم ہے کہ یہ مضمون کس طرح بھی انکار کے قابل نہیں) ۔ لَعلکُم تتقون (شاید کہ تم بچو) یہ جملہ یا تو اُعْبُدُوْا کے فاعل سے حال ہے اس وقت یہ معنی ہونگے کہ عبادت کے وقت اس بات کی امید رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہمیں نجات ہوگی اور امید کے ساتھ خوف بھی برابر ہی لگا ہوا ہو کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ‘ جو چاہے کرے کیونکہ ایمان ‘ خوف اور امید دونوں کو مقتضی ہے اور یا یہ معنی ہونگے کہ عبادت کے وقت یہ آرزو رکھو کہ ہم اہل تقویٰ کے پاک گروہ میں داخل ہوجائیں گے لیکن یہ اخیر معنی اس تقدیر پر ہونگے کہ تقویٰ کے معنی تمام خلاف شرع امور سے بچنے کے جو تمام واجبات ادا کرنے کو مستلزم ہے لیے جائیں بلکہ ذات باری تعالیٰ کے سوا ہر شے سے بیزاری کو تقویٰ کا مفہوم قرار دیا جائے اور یا خلقکم کے مفعول سے حال ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہونگے کہ تمہیں ایسے حال میں پیدا فرمایا کہ تم سے تقویٰ کی امید ہوسکتی ہے یعنی چونکہ تم میں تقویٰ کے اسباب و دواعی بکثرت ہیں اس لیے ظاہراً تم سے تقویٰ کی امید ہوسکتی ہے بعض علماء نے کہا کہ یہ ما قبل کی علت ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہونگے کہ تمہیں اس لیے پیدا کیا تاکہ تم بچو۔ قاضی بیضاوی نے کہا ہے کہ یہ توجیہ ضعیف ہے لعنت میں اس طرح کا استعمال کہیں ثابت نہیں سیبویہ نے کہا ہے کہ لَعَلَّ اور عَسٰی دونوں حرف ترجی ہیں مگر کلام باری تعالیٰ میں جہاں کہیں بھی یہ دو لفظ آئینگے اس سے یہ سمجھا جائے گا کہ ان کے مدخول کا واقع و موجود ہونا ضروری ہے میں کہتا ہوں کہ سیبویہ کا یہ قول صحیح نہیں کیونکہ یہ بات اگر ہوتی تو ساری مخلوق کا متقی ہونا ضروری تھا حالانکہ یہ صریح مشاہدہ کے خلاف ہے ہاں سیبویہ کے قول کی یہ توجیہ ہوسکتی ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ تمہیں ایسی حالت میں پیدا کیا کہ تم سے تقوی کا فعل واقع ہونا ضروری ہے اگرچہ یہ وقوع بعض ہی سے ہو اور نعمتوں کو عبادت کا سبب قرار دینے سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ ثواب محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ استحقاق ثواب کی وجہ عبادت نہیں کیونکہ عبادت اگر استحقاق ثواب کا باعث ہو تو اس صورت میں انسان ایک مزدور جیسا ہوگا کہ جس نے اپنی اجرت کام سے پہلے وصول کرلی اور احسان جتلانا بےموقع ہوگا دوسرے یہ کہ حق تعالیٰ کی معرفت کا طریق یہ ہے کہ مصنوعات میں فکر اور غور کرے اور معرفت سے مراد یہاں معرفت صفات ہے کیونکہ ذات کی معرفت ایک وہبی شئے ہے نہ کسبی۔
Ayah 2:22

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو

الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا (جس نے بنا دیا تمہارے لیے زمین کو بچھونا) جَعَلَ بمعنی صَیَّرَ زمین کو بچھونا بنانے کے یہ معنی ہیں کہ ایسا نرم بنا دیا کہ جس پر بسہولت ٹھیراؤ اور جماؤ ہوسکتا ہے نہ زیادہ سخت نہ زیادہ نرم کہ جس پر انتہا درجہ کی سختی یا نرمی کے سبب سکونت پذیر نہ ہو سکیں۔ اَلَّذِیْ جَعَل۔۔ یا تو رَبّکُمْ کی دوسری صفت ہے یا منصوب بنا بر مدح یا مرفوع بنا بر مدح یا مبتدا ہے اور خبر فَلَا تَجْعَلُوْا ہے۔ وَّالسَّمَاۗءَ : (اور آسمان کو) اَلسَّمَآء اسم جنس ہے ایک اور ایک سے زیادہ پر بھی اس کا اطلاق آتا ہے۔ بِنَاۗءً ۠ : (عمارت) مصدر بمعنی اسم مفعول یعنی تم پر آسمان کا خیمہ نصب کیا۔ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً : (اور اتارا آسمان سے پانی) اور آسمان سے پانی کا اترنا ظاہر ہے کیونکہ اوّل بارش آسمان (1) [ یعنی اسباب سماویہ کی وجہ سے بخارات پیدا ہوتے ہیں اور بخارات بصورت ابر نزول بارش کے اسباب ہیں تو گویا بارش کا نزول آسمان سے ہوا ] سے بادل میں آتی ہے پھر بادل سے زمین پر انزل کا عطف جَعَلَ پر ہے۔ فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ : (پھر نکالا پانی کی وجہ سے پھلوں سے تمہارا کھانا) پھلوں کا نکلنا ( اور ایسے ہی نباتات کا اگنا) حقیقتاً تو اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہے لیکن قادر مطلق نے ایسے پانی کو جو مٹی کے ساتھ مخلوط ہو اس اگنے کا ظاہری سبب بنا دیا ہے (2) [ اور ایسے ہی ہر شے اپنے ظاہری سبب کے ساتھ مربوط و متعلق ہے ] مِنَ الثَّمَرَات میں مِن یا تبیعصیہ ہے یا بیانیہ اور رِزْقًا یا تو اَخْرَجَ کا مفعول ہے بمعنی مرزوق اور لَکُمْ زِرْقًا کی صفت اور یا مفعول لہٗ ہو اس صورت میں رزقاً مصدر (اپنے معنی میں) ہوگا اور لَھُمْ رِزْقًا کا مفعول بہ اس تقدیر ثانی کا موافق معنی یہ ہوں گے کہ پھلوں کو تمہارے رزق دینے کے لیے اگایا۔ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا : (سو نہ ٹھہراؤ کسی کو اللہ کے برابر) اللہ تعالیٰ کے برابر و شریک بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہیں اللہ تعالیٰ جیسی کسی اور کی عبادت کرنے لگو اور یا یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مد مقابل اور ضد نہ بناؤ کہ اللہ تعالیٰ ضد اور مثل دونوں سے پاک ہے جملہ فَلَا تَجْعَلُوْا الخ اُعْبُدُوْاسے متعلق ہے اور فَلَا تَجْعَلوُا یا تو نہی ہے۔ اُعْبُدُوا پر معطوف ہے۔ یا نفی۔ جو اَنْ کے مقدر ہونے کے سبب منصوب ہے اور وجہ نصب یا تو یہ ہے کہ اُعْبُدُوْا کا جواب ہے یا یہ کہ لَعلَّکُمْ میں لعل کا جواب ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کے قول لَعَلّیْ اَبْلُغُ الْاَسْبَاب [ الْاٰیۃ ] میں فَاَطَّلِعَ بھی اسی لیے منصوب ہے۔ اس توجیہ پر آیۃ کے یہ معنی ہو نگے کہ اگر تم ڈرو گے تو اللہ کا شریک نہ بناؤ گے یا متعلق ہے اَلَّذِیْ جَعَلَ کے اگر استیناف ہو۔ اس بناء پر کہ وہ نہی ہے مگر خبر واقع ہوئی ہے اس تاویل پر کہ مَقُوْلٌ فِیْہِ محذوف قرار دیا جائے ( یعنی اس بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ خدا کا شریک نہ ٹھہراؤ) اور مبتدا میں شرط ہونے کی وجہ سے فَلَا تَجْعَلُوْا پر فاء سببیت لائی گئی ہے معنی یہ ہوئے کہ جس نے تم کو ان نعمتوں کے ساتھ پیدا کیا وہ اسی لائق ہے کہ اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ جملہ تَجْعَلُوْاکی ضمیر سے حال ہے اور تَعْلَمُوْنَ کا مفعول یا تو ترک کردیا ہے یعنی تمہارا حال یہ ہے کہ تم اہل علم و عقل ہو ‘ جانتے بوجھتے ہو اگر ادنیٰ تامل بھی کام میں لاتے تو کبھی شریک نہ کرتے اور مقصود اس سے صرف دھمکی ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تم اہل علم و عقل نہ ہوتے تو شرک جائز ہوجاتا اور یا مفعول محذوف ہے کہ تم جانتے ہو کہ سارے عالم کا خالق ایک ہے کیونکہ تم خودمقر و معترف ہو چناچہ فرمایا : وَلَءِنْ سَاَلْتَھُمْ مَنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ( یعنی اے محمد ﷺ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور یہ کہیں گے کہ اللہ نے) شروع رکوع سے یہاں تک تو حق تعالیٰ شانہ نے توحید کے پہچاننے کے طریق یعنی مصنوعات میں نظر و فکر کرنے کی تعلیم دی اب وَ اِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍسے جناب سرور کائنات کی رسالت اور قرآن پاک کی صداقت کو جو تمام ایمانیات اور اعتقادیات کو شامل ہے بیان فرمایا ہے۔
Ayah 2:23

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو

وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا (اور اگر تم اس کلام سے شک میں ہو جو ہم نے اتارا) نَزَّلْنَا کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت و واقعات نازل کیا اور یہ اس لئے فرمایا کہ زیادہ تر شک کا سبب یہی تھا کیونکہ لوگ اور شعراء کے کلام پر اسے بھی قیاس کرتے تھے ( یعنی کہتے تھے اگر یہ کلام باری تعالیٰ ہوتا تو ایک ہی دفعہ کل کا کُل نازل ہوجاتا یہ تو بشر کا کلام ہے جیسے اور شاعر بتدریج اشعار کہتے ہیں اسی طرح یہ بھی ہے چنانچہ) ان کے اس زعم فاسد کو حق تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بیان بھی فرمایا ہے لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً (یعنی یہ قرآن محمد ﷺ پر ایک ہی مرتبہ کیوں نہ اتارا گیا) تو ان سے معارضہ اسی طرز کلام سے چاہئے تھا تاکہ شبہ کی بیخ کنی بالکل ہوجائے اور ان پر بوجہ احسن حجت قائم ہوجائے۔ عَلٰي عَبْدِنَا : (اپنے بندے پر) عبد سے مراد سرور عالم ﷺ ہیں حق تعالیٰ نے حضور انور کو اپنی ذات پاک کی طرف نسبت فرمایا اور عبدنا ( یعنی ہمارا بندہ) فرمایا اس نسبت کی دو وجہ ہوسکتی ہیں ایک تو حضور کے ذکر کی تعظیم و اہمیت کا اظہار۔ دوسرے اس بات کا اظہار کہ آپ حکم الٰہی کے پورعے پورے مطیع و فرمانبردار ہیں۔ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ : (تو لے آؤ ایک سورة ) امر تعجیز کے لیے ہے سورة قرآن کے ایسے ٹکڑے کا نام ہے جس کا اوّل و آخر معلوم ومتمیز ہو یہ سور المدینہ سے مشتق ہے کیونکہ شہر کی فصیل کی طرح سورت بھی قرآن کے ایک مخصوص حصہ کو محیط ہوتی ہے یا سور بمعنی رتبہ سے ماخوذ ہے کیونکہ اس کے پڑھنے والے کو ایک قسم کا رتبہ اور شرف حاصل ہوتا ہے اور یہاں سورة سے مراد ایک سورة کی مقدار ہے ( نہ خود سورة ) اور سورة کی مقدار تین چھوٹی آیتیں ہیں۔ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ : (اس قسم کی) سورة کی صفت ہے اور مِثْلِہٖمیں ہ کی ضمیر یا تو مَا نَزَّلْنَاکی طرف راجع ہے اس صورت میں مِنْتبعضیہ یا بیانیہ یا زائدہ ہوگا اور آیۃ کے معنی اس تقدیر پر یہ ہونگے کہ بلاغت اور حسن نظم میں قرآن جیسی کوئی سورة لے آؤ یا عَبْدِنَا کی طرف راجع ہے اور من ابتدائیہ ہے اس توجیہ پر یہ معنی ہونگے کہ کوئی سورة محمد ﷺ جیسے امی شخص کی بنائی ہوئی لے آؤ یا فاتوا کا صلہ ہے پہلی ترکیب اولیٰ و انسب ہے کیونکہ دوسری ترکیب سے یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید قرآن کا مثل غیر اُمّی شخص سے ممکن ہو حالانکہ قرآن پاک بذاتہٖ ہر حال میں معجز ہے چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے : قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰی اَنْ یَاتُوْا بِمِثْلِ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَ لَوْ کَانَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَھِیْرًا (اے محمد ان لوگوں سے کہہ دو کہ اگر آدمی اور جن جمع ہو کر اس کی کوشش کریں کہ اس قرآن جیسا ( اور کلام) بناکر لائیں تو بھی ایسا کلام نہ لاسکیں گے اگرچہ بعض بعض کے لیے پشت پناہ ہوجائیں وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ ( اور بلاؤ اپنے معبودوں کو) یعنی اپنے معبودوں سے مدد مانگو جن کی تم عبادت کرتے ہو اور سمجھ رہے ہو کہ قیامت کو اللہ کے سامنے وہ ہماری گواہی دیں گے یا یہ معنی کہ ان لوگوں کو بلا لو جو تمہارے پاس آکر تمہاری امداد و اعانت کریں۔ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ (اللہ کے سوا) یعنی اللہ کے اولیاء اور دوستوں کے سوا اور عرب کے فصحاء کو بلاؤ کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ جو کلام تم نے اپنے گمان کے موافق قرآن کی مثل بنایا ہے آیا وہ واقع میں قرآن پاک کی مثل ہے (فصحاء عرب کو جو شہادت کے لیے طلب فرمایا حالانکہ وہ کفار تھے ممکن تھا کہ وہ جھوٹی شہادت دیں اور ان کی بکواس کو قرآن پاک کے ہم پلہ کہہ دیں تو اس کی وجہ یہ ہے) کہ عقل سلیم اس بات کو پسند ہی نہیں کرسکتی کہ جس شے کی خرابی اور فساد آفتاب کی طرح روشن ہو اس کی صحت اور حسن کی گواہی دیدے۔ ( یہ تو ایسا ہے کہ جیسا کوئی آسمان کو زمین کہے یا ایسی مثال ہے کہ جیسے کوئی بڑا شاعر فصیح وبلیغ ماہر فن شعر کہے اور اسکے مقابلہ میں ایک ادنیٰ آدمی جو تک بندی سے بھی آشنا نہ ہو تک ملانے لگے تو ظاہر ہے کہ اس کے اشعار آبدار کے سامنے اس کی تک بندی کو کونسا عاقل سن سکتا ہے خواہ وہ موافق ہو یا مخالف سب کے سب ان کی تکذیب کرنے کو موجود ہوجائیں گے) ۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اگر تم سچے ہو) کہ یہ قرآن بشر کا کلام ہے ( تو کوئی سورت اس کی مثل لے آو) اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ کا جواب محذوف ہے کیونکہ ما قبل اس پر دال ہے۔
Ayah 2:24

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر (ایسا) نہ کر سکو اور ہرگز نہیں کر سکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے (اور جو) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا ( اگر قرآن کا مثل نہ بنا سکے) زمانہ ماضی میں۔ وَلَنْ تَفْعَلُوْا ( اور ہرگز نہ بنا سکو گے) یہ جملہ شرط اور جزاء کے مابین جملہ معترضہ ہے اور جملہ خبر غیب ہے اس مقام پر کلام پاک کے حق تعالیٰ نے دو اعجاز بیان فرمائے۔ (ایک تو اس کا مثل بنانے سے عاجز ہونا دوسرے پیشن گوئی کہ اس کا مثل آئندہ بھی ہرگز نہ بنا سکو گے) فَاتَّقُوا ( تو بچو) یعنی جب یہ بات خوب ظاہر ہوگئی کہ قرآن معجز ہے تو اس پر ایمان لے آؤ اور ایمان لاکر بچو۔ النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا اس آگ سے جس کا ایندھن وقود اس شئے کو کہتے ہیں جس سے آگ سلگائی جائے۔ النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (آدمی اور پتھر ہیں) لفظ وقود مصدر بھی ہوسکتا ہے اس وقت النَّاسُ وَالْحِجَارَۃ سے پہلے مضاف محذوف ہوگا معنی یہ ہونگے کہ روشن ہونا جہنم کی آگ کا آدمیوں اور پتھر کا جلنا اور سلگنا ہے۔ عبد الرزاق اور سعید بن منصور اور ابن جریر اور ابن منذر اور حاکم اور بیہقی اور دیگر رواۃ نے ابن مسعود کا قول اور ابن جریر نے ابن عباس کا قول اور ایسا ہی ابن ابی حاتم نے مجاہد اور ابو جعفر کے اقوال نقل کئے ہیں اور صدر اوّل میں سے کسی نے اس کے خلاف نہیں کہا کہ جو پتھر جہنم کا ایندھن ہوگا وہ گندھک سیاہ کا پتھر ہے اور بعض نے کہا ہے کہ سب قسم کے پتھر مراد ہیں اور یہ اس لئے فرمایا تاکہ اس آگ کی عظمت وہیبت معلوم ہوجائے اور بعض نے کہا ہے کہ حجارہ سے مراد بت ہیں۔ حق تعالیٰ نے اِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا میں لفظ اِنْ ارشاد فرمایا ہے کہ جس کا ترجمہ اگر ہے حالانکہ یہ موقع اِذَا کا تھا کہ جس کا ترجمہ جب ہے کیونکہ اگر کا لفظ شک کے موقع میں استعمال ہوا کرتا ہے ( چناچہ کہتے ہیں کہ اگر زید آیا تو میں بھی آؤں گا) اور جب کا لفظ یقین کے محل پر بولتے ہیں (چنانچہ کہا جانا ہے جب سورج نکلے گا تو آؤنگا زید کا آنا مشکوک اور سورج کا نکلنا یقینی ہے) اور یہ امر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی قسم کا شک نہیں اس کے نزدیک گذشتہ اور آئندہ سب برابر ہے تو اس طرز سے کلام فرمانے کی دو وجہ ہیں ایک تو یہ کہ ان کے ساتھ ٹھٹھا و استہزاء کرنا منظور ہے ( جیسے کوئی کہے کہ میں تمہارے پاس جمعہ کے دن آؤں گا اور دوسرا کہے کہ اگر اس ہفتہ میں جمعہ ہی نہ آئے تو یہ کلام محض استہزاء و تمسخر ہوگا اسی طرح قرآن کے مثل سے عاجز ہونا اللہ تعالیٰ کو محقق معلوم تھا اس لیے اس طرز سے کلام کرنا محض استہزاء کے لیے ہے) دوسری وجہ یہ ہے کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے ان کے گمان کے موافق کلام فرمایا ہے کیونکہ قبل از تامل و غور مثل سے عاجز ہونا انکے نزدیک محقق و ثابت نہ تھا۔ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ ( تیار کی گئی ہے کافروں کے واسطے) یہ جملہ مستانفہ (یعنی جواب سوال مقدر کا ہے گویا سائل سوال کرتا تھا کہ ایسی آگ کس کے لیے ہے تو اس کا جواب دیا گیا) یا النَّارُسے حال ہے اور قد اس سے پہلے مقدر ہے اور وَقُوْدُھَا کی ضمیر ہا سے حال نہ ہوگا کیونکہ اس تقدیر پر وقودھا کی خبر ( ذی الحال اور حال کے درمیان) فاصل ہوجائے گی ( اور یہ جائز نہیں) ۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نارُکُمْ ھٰذِہٖ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً مِنْ نَارِجَھَنَّم (متفق علیہ) یعنی تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کے ستّر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ (اس حدیث کو بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے) نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اِنَّ اَھْوَنَ اَھْلِ النَّارِ عَذَابًا مَنْ لَہٗ نَعْلَانِ وَ شِرَاکَانَ مِنْ نَارٍ یَغْلِیْ مِنْھُمَا دِمَاغُہٗ کَمَا یَغْلِی الْمِرْجَلُ مَا یَرٰی اَنَّ اَحَدًا اَشَدُّ مِنْہُ عَذَابًا وَ اِنَّہٗ لَاَھْوَنُھُمْ عَذَابًا .(متفق علیہ) یعنی جہنم میں سب سے کم عذاب و الا وہ شخص ہوگا جسے دو جوتیاں اور تسمے (1) [ شراک تسمے کو کہتے ہیں ] آگ کے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ ایسا جوش مارتا ہوگا جیسے دیگ جوش مارتی ہے اور وہ خیال کرے گا کہ مجھ سے زیادہ سخت عذاب کسی کو نہیں حالانکہ وہ باعتبار عذاب سب سے کم ہوگا اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ سرور عالم ﷺ نے فرمایا : اُوْقِدَ عَلَی النَّارِ اَلْفَ سَنَۃٍ حَتی احمَرَّتَ ثُمَّ اُوْقِدَ عَلَیْھَا اَلْفَ سَنَۃٍ حَتّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ اُوْقِدَ عَلَیْھَا اَلْفَ سَنَۃٍ حَتّٰی اسْوَدَّتْ فَھُوَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ (رواہ الترمذی) یعنی جہنم کی آگ ایک ہزار برس تک دھونکائی گئی یہاں تک کہ وہ بالکل سرخ ہوگئی پھر ایک ہزار برس اور دھونکائی تو سفید ہوگئی پھر ایک ہزار برس اور دھونکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہوگئی اب بالکل سیاہ تاریک ہے اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اَنْذَرْتُکُم النَّارَ اَنْذَرْتُکُم النَّار (یعنی میں تمہیں جہنم کی آگ سے ڈراتا ہوں) ۔ راوی حدیث نعمان بن بشیر کہتے ہیں کہ حضور یہی الفاظ فرماتے رہے اور آپ ﷺ نے اتنی بلند آواز سے فرمایا کہ اگر حضور ﷺ اس وقت میری جگہ تشریف رکھتے تو آپ کی آواز مبارک کو بازار والے سن لیتے اور اس جوش سے آپ فرماتے رہے کہ جو گلیم آپ زیب تن فرمائے ہوئے تھے وہ قدموں پر آپڑی تھی۔ اس حدیث کو دارمی نے روایت کیا ہے اور ان آیات و احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جہنم اب موجود ہے۔