2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:6 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اے پیغمبر جن لوگوں نے قبول اسلام سے انکار کیا) کفر کے لغوی معنی ہیں نعمت کا چھپانا اور شرع میں کفر کہتے ہیں ایمان کی ضد اور خداوندی نعمت کے چھپانے کو۔ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ ( ان کے حق میں یکساں ہے کہ تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراؤیا نہ ڈراؤ) یہ اِنَّ کی خبر ہے اور سَوَاء اسم ہے معنی میں اِسْتِوَآءٌ کے اس کا حمل مبتدا پر ویسا ہی ہوا ہے جیسا مصادر کا حمل اسماء پر ہوا کرتا ہے ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اور اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ دونوں جملے بتاویل سواءٌ کے فاعل ہیں اور تقدیر عبارت یوں ہے مُسْتَوٍ عَلَیْھِم اِنْذَارُکَ وَ عَدَمُہٗ یا یوں کہو کہ سَوَاءٌ عَلَیْھِمْ خبر اور ءَاَنْذَرْتَھُمْ اور اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ مبتدا ہے اور عبارت کی تقدیر یوں ہے اِنْذَارُکَ وَ عَدمُہٗ سِیَّانِ عَلَیہم اور فعل ( اگرچہ بلحاظ قوانین نحو مبتدا واقع نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں مخبر عنہ ہونے کی صلاحیت نہیں ہے مگر صرف اس لحاظ سے کہ وہ) مصدر کے معنی کو متضمن ہے مجازاً مبتدا واقع ہوگیا ہے اور مصدر سے فعل کی طرف عدول کرنے کی وجہ ابہام تجدد ہے۔ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ میں ہمزہ اور ام لَمْ تُنْذِرْھُمْ میں اَمْ یہ دونوں گو استفہام کے لیے آیا کرتے ہیں لیکن یہاں معنی استفہام سے مجرد ہیں اس جگہ ان کا ذکر معنی استواء کی تقریر و تاکید کے لیے ہوا ہے انذار کہتے ہیں عذاب الٰہی سے خوف دلانے کو۔ یہاں صرف اِنْذَار پر اکتفا کرنے اور اس کی ضد مذکور نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ضرر کا دفع کرنا نفع حاصل کرنے سے زیادہ مہتم بالشان ہوا کرتا ہے۔ ورش نے ءَ اَنْذَرْتَھُمْ کے دوسرے ہمزہ کو الف سے بدل کر پڑھا ہے اور قالون اور ابن کثیر اور ابو عمر و دوسرے ہمزہ کو تسہیل اور بین بین سے پڑھتے ہیں لیکن قالون باوجود تسہیل کے دو ہمزوں کے بیچ میں الف بھی داخل کرتا ہے اور ہشام 1 ؂ دونوں ہمزوں کے بیچ میں الف داخل کرنے میں تو قالون کے ساتھ متفق ہے مگر تسہیل میں اختلاف رکھتا ہے۔ ( یعنی دوسرے ہمزہ میں تسہیل جائز نہیں رکھتا) ان کے علاوہ باقی تمام قراء دونوں ہمزوں کو ثابت رکھتے اور ( ادخال سے انکار کرتے ہیں) یہی گفتگو ان دو مفتوح ہمزوں میں بھی جاری ہوسکتی ہے جو ایک کلمے میں واقع ہوں۔ تیسیر میں مذکور ہے کہ اس بارے میں ہشام کا مذہب بھی قالون کی رائے کے قریب قریب ہے لیکن جب دونوں ہمزے بلحاظ حرکت مختلف ہوں یعنی ایک مفتوح دوسرا مکسور ہو جیسے ءَ اِذَا کنَّا ترابًا میں تو حرمیان اور ابو عمرو دونوں دوسرے ہمزہ کو تسہیل سے پڑھنا تجویز کرتے ہیں اور قالون اور ابوعمرو دونوں میں الف داخل کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ باقی قراء دونوں ہمزوں کے تحقیق سے پڑھنے کے قائل ہیں۔ ہشام سے دونوں ہمزوں کے بیچ میں الف داخل کرنے کی جو روایت نقل کی جاتی ہے اس میں اختلاف ہے یعنی دو مختلف روایتیں ذکر کی جاتی ہیں ایک میں مطلقاً ہر جگہ داخل کرنا ثابت ہوتا ہے اور دوسری روایت سے صرف سات موقعوں کی تخصیص سمجھی جاتی ہے۔ سورة اعراف اور سورة فصلت میں ءَ اِنَّکُمْ اور اعراف و شعراء میں اَءِنَّ لَنَا لَاجْرًا اور مریم میں ءَ اِذَا مَا مِتُّ اور صٰفّٰت میں ءَ اِنَّکَ اور ءَ اِفْکًا لیکن جب دو ہمزہ کلمہ واحد میں مختلف بالحرکت اس طرح ہوں کہ ایک کو فتحہ دوسرے کو ضمہ ہو تو حرمیان اور ابو عمر و تو دوسرے ہمزہ کو تسہیل سے پڑھتے ہیں اور قالون دونوں میں الف داخل کرتا ہے رہا ہشام وہ سورة صٓ ءَ اُنْزِلَ عَلَیْہِ میں اور سورة قمر ءَ اُلْقِیَ میں تو قالون کی رائے کے ساتھ اتفاق رکھتا ہے اور سورة آل عمران قُلْ ءَ اُنَبِّءُکُمْ میں جمہور کا ساتھ دیتا ہے اور باقی قراءت حقیق سے پڑھنا پسند کرتے ہیں اور ان تین کے سوا چوتھا کوئی موقعہ نہیں ہے۔ لَا یُؤْمِنُوْنَ ( وہ تو ایمان لانے والے ہیں نہیں) اپنے ماقبل کے اجمال کی تفسیر کر رہا ہے (یعنی جملہ سَوَاءٌ عَلَیْہِمْ میں جو ایک طرح کا اجمال تھا لا یُوْمِنوُْنَ سے اس کی تفسیر ہوگئی) اس صورت میں اس جملہ کا کوئی محل اعراب نہ ہوگا اور یہ بھی ممکن ہے کہ حال مؤکدہ ہو یا بدل یا اِنَّ کی خبر اور اس تیسرے احتمال میں درمیانی عبارت بطریق جملہ معترضہ واقعہ ہوگی۔
Ayah 2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 2:7 in the Quran reader

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ( ان کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے) تو وہ بھلائی اور نیک باتوں کو یاد نہیں رکھ سکتے قلب ایک گوشت کے لوتھڑے کا نام ہے ( جو صنوبری شکل میں بائی جانب پسلیوں کے قریب لٹکا ہوا ہے) لیکن کبھی اس کا اطلاق عقل اور معرفت پر بھی ہوا کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ارشاد ہوا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ واضح ہو کہ خدا تعالیٰ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے خواہ وہ اعراض ہوں یا جواہر اور اسباب سب کے اسباب نظر یہ ہیں جن کے عقب میں خدا تعالیٰ ان کے نتائج پیدا کرتا ہے تو جب آدمی اپنے حواس یعنی کان ‘ آنکھ وغیرہ سے کام لیتا اور انہیں استعمال میں لاتا ہے تو اس کے بعد خدا علم بالمحسوسات پیدا کرتا ہے اور جب اسے علم بالمحسوسات حاصل ہوجاتا ہے اور وہ اپنے ذہن کو دو مقدموں کی ترتیب میں خرچ کرتا ہے تو حق سبحانہ و تعالیٰ علم بالنتیجہ پیدا کرتا ہے اگر خدا چاہے تو کوئی چیز بھی پیدا نہ کرے اور حواس کو معطل و بیکار اور ذہن کو مشوش و پریشان کردے اور چاہے تو علم بالمحسوسات حاصل کرادے لیکن یہ علم قلب میں ذرا بھی مؤثر و مفید نہ ہو۔ اسی واسطے جناب نبی عربی ﷺ نے فرمایا کہ اِنَّ قُلُوْبَ بَنِیْ اٰدَمَ کُلّھَا بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَاحِدٍ یُّصَرِّفُہٗ کَیْفَ یَشَآءُ ثُمَّ قَالَ اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَّ الْقلوب صرف قُلُوْبُنَا عَلٰی طَاعَتِک . (یعنی تمام بنی آدمی کے دل خدا کی دو انگلیوں میں اس طرح واقع ہیں جیسے ایک دل۔ وہ دل کو جس طرف چاہتا ہے پلٹ دیتا ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا بار خدایا دلوں کے پلٹ دینے والے تو ہمارے دلوں کو اپنی فرمانبرداری کی طرف پلٹ دے۔ (مسلم) الغرض چونکہ خدا تعالیٰ کو کفار کے دلوں کا پاک کرنا منظور نہ تھا اس لیے ان کو آیات میں فکر کرنے اور قدرت کی نشانیوں میں غور کرنے سے روک دیا اگرچہ انہوں نے آیات و معجزات بھی دیکھے مگر اس کے بعد بھی ان کے دلوں میں ایمان و یقین کے اثر قبول کرنے کا ملکہ پیدا نہیں کیا۔ اسی عدم تاثر اور تصریف قلوب کو کہیں ختم سے اور کہیں طبع سے کسی موقع پر اغفال سے ‘ کسی جگہ اقساء اور غشاوہ سے مجازاً تعبیر کیا گیا ہے۔ مثلاً : خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا نے اس گوشت کے لوتھڑے پر جسے ہم دل کہتے ہیں کوئی پتھر یا شیشے کی سچ مچ مہرلگادی ہے بلکہ مہر لگانے کا یہ مطلب ہے کہ اس نے دلوں میں یہ صلاحیت و قابلیت ہی پیدا نہیں کی کہ وہ ایمان و یقین کے اثر کو قبول کرلیں یا یوں کہئے کہ خدا نے ان کے دلوں کو اور حواس کو ان چیزوں سے تمثیل دی ہے جن پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے یا یوں کہو کہ ختم سے وہ سیاہی مراد ہے جو گناہوں کے مرتکب ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ گنہگاروں کے دلوں پر پیدا کردیتا ہے چناچہ امام بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : المؤمن اذا اذنب ذنبا کانت نکتۃ سودآء فی قلبہ فان تاب و نزع و استَغْفَر صُقِلَ قلبہ منھا و ان زاد زادت حتیٰ تعلو قلبہ فذٰلک الران الذی ذکر اللہ فی کتابہ کَلَّا بل ران عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْایَکْسِبُوْنَ ( یعنی مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ اس کے دل میں پیدا ہوجاتا ہے پھر اگر اس نے جھٹ پٹ توبہ کرلی اور آگے کو گناہ سے باز رہا اور بارگاہ الٰہی میں عفو جرائم کی درخواست کی تو اس کے دل سے وہ سیاہ نقطہ چھیل دیا جاتا اور قلب صاف شفاف کردیا جاتا ہے اور اگر وہ گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سیاہ نقطہ بھی بڑھتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ سارے دل پر چھا جاتا ہے تو جس زنگ کا خدا نے اپنی کتاب یعنی آیت : کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ میں ذکر فرمایا یہ وہی زنگ ہے۔ میں کہتا ہوں یہاں دل کے سیاہ ہونے کا وہی مطلب ہے جو سابق کی حدیث میں مذکور ہوچکا۔ یعنی دل کا بگڑ جانا اور اس کا خراب و فاسد ہوجانا ارشاد فرمایا تھا : اِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلَہٗ اور فساد قلب ضد ہے صلاح قلب کی اور جب مؤمن کے گناہ کی یہ کیفیت ہے کہ ایک گناہ کرنے سے دل سیاہ ہوجاتا ہے تو کافر کی کیا کچھ کیفیت ہوگی اسی کیفیت اور ہیئت کے پیدا کرنے کو کہیں طبع سے تعبیر کیا ہے اور کہیں اغفال سے اور کہیں اقساء وغیرہ سے ختم کے لغوی معنی چھپانے کے ہیں چونکہ کسی چیز پر مہر لگانے سے اس کے مضبوط کرنے اور چھپانے میں مبالغہ کرنا مقصود ہوا کرتا ہے اس لیے دلوں پر مہر لگانے کو ختم سے تعبیر کیا گیا یا یوں کہئے کہ جس طرح کسی چیز پر مہر لگانا یہ اس شخص کا آخری فعل ہے جو اس چیز کے محفوظ کرنے اور چھپانے میں کیا کرتا ہے اسی طرح دلوں کے فاسد و خراب ہونے کا یہ آخری نتیجہ ہے کہ وہ اس مہر لگانے کے بعد بالکل نکمے اور بےکار ہوجاتے ہیں۔ وَ عَلٰی سَمْعِھِمْ ( اور ان کے کانوں پر بھی مہر لگا دی ہے) سَمْعٌ اگرچہ لفظاً مفرد ہے لیکن معنی میں ہے جمع کے یعنی وَ عَلٰی اَسْمَاعِھِمْ اور چونکہ التباس کا خوف نہ تھا اور نیز اعتبار اصل بھی مقصود اور مد نظر تھا اس لیے ایسا کیا گیا سمع اصل میں مصدر ہے اور مصادر جمع کی صورت میں نہیں لائے جاتے اس لیے یہاں لفظ سمع مفرد لایا گیا اس کا عطف علیٰ قُلُوْبِھِمْ پر ہے جیسا کہ قرآن مجید میں دوسرے موقعہ پر ارشاد ہوا ہے وَ خَتَمَ عَلٰی قَلْبِہٖ وَ جَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشَاوَۃً اور جبکہ دل اور کان کا کسی چیز کو دریافت کرنا ہر طرف سے ممکن تھا اور اس میں سب جہتیں مساوی و یکساں تھیں تو ان دونوں کی مانع و حاجب ایک ہی چیز یعنی ختم قرار دی گئی بخلاف آنکھ کے کہ وہ صرف مقابلہ کے ساتھ مخصوص ہے اس لیے مانع غِشَاوَۃً (پردہ) ٹھہرایا گیا جو مقابلہ کے ساتھ مختص ہے چناچہ فرمایا۔ وَ عَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ( اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہے) ابصار جمع ہے بصر کی اور اس کے معنی ہیں کسی چیز کا آنکھ سے ادراک کرنا۔ لیکن اس کا اطلاق کبھی قوت باصرہ پر بھی ہوا کرتا ہے مجازاً اور کبھی نفس آنکھ کو بھی بصر کہتے ہیں اور اسی پر قیاس کرلیجئے سمع کو بھی۔ ابو عمر و ابصار کو امالہ سے پڑھتے ہیں اور کسائی 1 ؂ ہر اس الف میں کیا بحالت وصل اور کیا بحالت وقف امالہ جائز بتاتے ہیں جسکے بعد راء مجرور واقع ہو اور واقع بھی ہو تو لام کلمہ کی جگہ جیسے وَ عَلٰی ابْصَارِھِمْ اور اٰثَارِھِمْ اور النَّار اور النھار اور بقنطار اور بدینار اور الابرار وغیرہ۔ ابو الحارث اس قاعدہ میں ابو عمرو اور کسائی دونوں کی تقلید تو کرتے ہیں مگر مطلق نہیں بلکہ صرف اس موقعہ میں جہاں راء مکرر واقع ہو جیسے الاشرار اور اَلْاَبْرَار وغیرہ ورش ان تمام مقامات میں بین بین سے پڑھتے ہیں اور حمزہ اس قاعدہ میں انکے تابع ہیں مگر اسی موقعہ میں جہاں مقرر واقع ہو ہاں اَلْقَھََّار اور دار البَوَار کو مستثنیٰ کرتے ہیں باوجوی کہ یہاں پر مکرر واقع نہیں لیکن پھر بھی امالہ جائز رکھتے ہیں ابن ذکو ان 2 ؂ نے فقط سورة بقرہ وجمعہ کے ان لفظوں میں اِلٰی حِمَارک . الحمار میں امالہ پڑھا ہے غِشَاوَۃ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی چیز کو حاوی ہو اور اسے سب طرف سے ڈھانک لے یہ مرفوع ہے یا تو اس وجہ سے کہ ترکیباً مبتدا مؤخر واقع ہوا ہے یا اسلئے کہ ظرف کا فاعل ہے۔ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ( اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب لیا گیا ہے اَعْذَبَ الشَّیْء سے اور جب کوئی شخص کسی چیز کا منع کرنے اور روک دینے والا ہوتا ہے تو اہل محاورہ ایسے موقع پر اعَْذَبَ الشیء بولا کرتے ہیں چونکہ سزا بھی مجرم کو دوبارہ جرم پر دلیر ہونے سے منع کرتی اور روکتی ہے اس لیے اسے عذاب کہنے لگے پھر اس کے معنی میں یہاں تک توسیع ہوگئی کہ ہر دکھ اور درد کو عذاب کہنے لگے اگرچہ وہ سزا اور مانع نہ ہو ‘ یا یوں کہئے کہ عذاب مشتق ہے تعذیب سے جس کے معنی ہیں عذاب یعنی شیرینی کے زائل اور دور کرنے کے عَظِیْم ضد ہے حقیر کی ( جیسا کہ کبیر نقیض ہے صغیر کی) اور جب یہ ہے تو عظیم کبیر سے بھی ایک درجہ اوپر رکھتا ہے جیسے حقیر صغیر سے کم رتبہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 2:8

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ Open ayah 2:8 in the Quran reader

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

وَ مِنَ النَّاسِ ( اور لوگوں میں سے) ابو عمرو سے النَّاسِ کے فتحہ کا امالہ موضع جرمین جہاں بھی آئے مروی ہے وصل اور وقف میں ان سے خلاف مروی ہے۔ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَ بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ( بعض ایسے بھی ہیں جو منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا اور روزآخرت یعنی قیامت پر ایمان لائے) یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول اور معتب بن قشیر اور جد بن قیس اور ان کے رفقاء کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں اکثر تو یہودی تھے اور بعض منافق۔ نَاساصل میں اناس تھا ہمزہ کو حذف کرکے اس کے عوض حرف تعریف یعنی الف لام لے آئے اسی وجہ سے ہمزہ اور حرف تعریف ایک کلمہ میں جمع نہیں ہوسکتے ( کیونکہ عوض اور معوض میں اجتماع ناجائز ہے) یہ جمع ہے انسان کی اور بعض کے نزدیک جمع نہیں بلکہ اسم جمع ہے کیونکہ جمع کے اوزان میں فعال نہیں آیا۔ پھر یہ یا توانس سے مشتق ہے اور یہ اس لیے کہ آدمی باہم ایک دوسرے سے مانوس و مالوف ہوتے ہیں یا انَسَ سے اور اٰنس کے معنی ہیں ظَھَرَ کے ( جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام میں ارشاد ہوا : اَنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا) اور چونکہ آدمی آپس میں ایک دوسرے پر ظاہر ہوتے اور دکھائی دیتے ہیں اس لیے انہیں ناس کہتے ہیں جس طرح جنوں کو ان کے مخفی اور پوشیدہ ہونے کے سبب سے جن کہتے ہیں النَّاس میں الف لام جنس کا ہے اور مِنْ موصوفہ ہے اس لیے کہ یہاں کوئی معہود نہیں اور بعض کہتے ہیں عہد کا اور معہود اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہے یا مَنْ کو موصولہ کہئے اور اس سے ابن ابی اور اس جیسے لوگوں کو مراد لیجئے کیونکہ وہ ان کفار میں داخل ہیں جن کے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے بلکہ ان سے بڑھ کر ایک اور خصوصیت بھی رکھتے ہیں یعنی فریب، مکر، دھوکہ یہاں صرف خدا اور روز قیامت پر ایمان لانے کا خاص کر ذکر اس واسطے ہوا ہے کہ سلسلہ ایمان کی فہرست میں یہی دو باتیں مقصود اعظم اور مہتم بالشان ہیں۔ وَ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ( حالانکہ وہ ایمان لائے نہیں) ان کے دعوئے باطل کی تردید ہے اور اگرچہ سیاق کلام کے اقتضاء کی وجہ سے اس کی جگہ وَمَا اٰمَنُوْا کہنا چاہئے تھا کہ ان کے قول کے بالکل مطابق ہوجاتا کیونکہ اس میں فاعل کی تصریح نہیں بلکہ فعل کی ہے لیکن اس کے برعکس وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جس قدر ان کی تکذیب میں مبالغہ ہے وہ مَا اٰمَنُوْا میں نہیں پایا جاتا کیونکہ انہیں ایماندار لوگوں کے جرگہ میں سے نکال دینا گزشہ زمانہ میں ان کے ایمان کی نفی کردینے سے زیادہ مؤکد ہے یہی وجہ ہے کہ نفی کی تاکید حرف ب کے ساتھ کی گئی۔
Ayah 2:9

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ Open ayah 2:9 in the Quran reader

یہ (اپنے پندار میں) خدا کو اور مومنوں کو چکما دیتے ہیں مگر (حقیقت میں) اپنے سوا کسی کو چکما نہیں دیتے اور اس سے بے خبر ہیں

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( اللہ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لا چکے ہیں دھوکہ دیتے ہیں) اصل میں خَدْعٌ اسے کہتے ہیں کہ تم کسی شخص کو اس مکروہ اور ناپسند بات کے بر خلاف دھوکہ میں ڈالو جسے تم مخفی رکھتے ہو اور یہ عرب کے قول خدَعَ الضَّبُّ سے لیا گیا یعنی جب گوہ اپنے بل میں چھپ کر شکاری کو ظاہر ہونے اور نکلنے کا دھوکہ دیتی ہے ( تو اہل زبان اسے خدع الضب سے تعبیر کرتے ہیں) خدَعَکے لغوی معنے پوشیدہ کرنے کے ہیں۔ خدا کو دھوکہ دینے کا یہ مطلب ہے کہ وہ رسول خدا ﷺ کو دھوکا دیتے ہیں اس صورت میں یُخَادِعُوْنَ اللّٰہَ میں ایک مضاف محذوف ماننا پڑیگا یا یوں کہو کہ منافقوں کا رسول کے ساتھ یہ معاملہ کرنا گویا عین خدا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے کیونکہ رسول زمین میں خدا کا نائب اور اس کا خلیفہ ہوتا ہے جیسا کہ فرمایا : مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ اور فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّما یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْھِمْ یُخَادِعُوْنَ ہے تو باب مفاعلہ سے اور اس کا خاصہ ہے مشارکت یعنی ایک فعل کا دو شخصوں میں اس طرح واقع ہونا کہ ایک دوسرے کے ساتھ وہی برتاؤ کرے جو اس کے ساتھ کرتا ہے لیکن یہاں یُخٰدَعُوْنَ کے معنی میں ہے اور مفاعلہ مبالغہ کے لیے اختیار کرلیا گیا ہے کیونکہ فعل بوقت مقابلہ زیادہ قوی ہوتا ہے یا یوں کہئے کہ منافقوں کا خدا تعالیٰ کے ساتھ یہ معاملہ کہ ظاہر میں ایمان کا دعویٰ کرتے اور دلوں میں کفر کی جڑ مخفی رکھتے ہیں اور خدا کا ان کے ساتھ یہ برتاؤ کہ ان پر اسلام کے احکام جاری فرماتا ہے باوجودیکہ وہ کافروں سے بھی زیادہ خبیث اور گندے ہیں۔ ادھر جناب نبی اکرم ﷺ اور مسلمانوں کا حکم الٰہی بجا لانا کہ ان کا حال مخفی رکھتے اور اسلام کے احکام ان پر جاری کرتے تھے یہ سب معاملات چونکہ صورۃً ایسے دو شخصوں کے فعل تھے جو باہم ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے ہیں ( اس لیے یُخَادِعُوْنَ کا لفظ جو مشارکت کو مقتضی تھا لایا گیا) پھر یہ جملہ تو یَقُوْلُ کا بیان ہے۔ یا علیحدہ اور جدا مقصود کے بیان کے لیے جملہ شروع کیا۔ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ حرمی قراء اور ابو عمرو کی قرأت وَ مَا یُخَادِعُوْنَ ہے اِلَّا اَنْفُسَھُمْ ( اور حقیقت میں دھوکا نہیں دیتے مگر اپنے آپ کو) کیونکہ خدا پر کوئی چھوٹی سی چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیز بھی چھپی نہیں رہتی اور وہ اپنے برگزیدہ اور مقدس نبی ﷺ اور پاکباز مسلمانوں کو وقتاً فوقتاً ان کے حال پر مطلع کرتا ہے تو وہ اس لحاظ سے خود دھوکہ میں پڑگئے کہ اپنے نفسوں کو اس بات پر فریب خوردہ کردیا کہ ہم عذاب و فضیحت سے بےخوف ہوگئے ( اور نبی وقت اور مسلمانوں پر ہمارا دھوکہ چل گیا لیکن حقیقت میں ایسا نہ تھا اور جب یہ ہے) تو ان کے دھوکہ دینے کا ضرر انہیں پر پلٹ پڑا نہ ان کے غیر پر۔ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ( اور اپنی غفلت و بیخبر ی میں منہمک ہونے کی وجہ سے اس بات کو محسوس نہیں کرتے) اور نہیں سمجھتے کہ ہمارے دھوکہ دینے کا ضرور خود ہم ہی پر پلٹ پڑتا ہے شُعُور کہتے ہیں حواس سے کسی چیز کے معلوم کرنے کو۔ یہاں انہیں کی طرف پلٹ جانے کو اس محسوس چیز کے قائم مقام کیا گیا جو صرف ماؤف الحواس شخص پر مخفی رہتی ہے۔
Ayah 2:10

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 2:10 in the Quran reader

ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ ( ان کے دلوں میں یہ پہلے ہی کفر کا مرض تھا) مَرَض اسے کہتے ہیں جو بدن کو عارض ہو کر اسے حد اعتدال سے خارج کردے اور (رفتہ رفتہ) ضعیف و کمزور کرکے ہلاکت ( کے گڑھے) تک پہنچا دے اور کبھی اس کا اطلاق اعراض نفسانیہ جیسے جہل ‘ حسد ‘ کفر اور سوء اعتقاد پر بھی مجازاً ہوجایا کرتا ہے کیونکہ ( جس طرح مرض حقیقی مانع صحت ہوتا اور ہلاکت و موت کے پنجہ میں گرفتار کردیتا ہے اسی طرح) یہ اوصاف بھی فضائل و محامد کے حاصل ہونے سے مانع ہوتے ہیں اور ہلاکت ابدی تک پہنچا دیتے ہیں منافق جن اغراض نفسانیہ کی بیماری میں مبتلا تھے وہ نہایت ہی موذی اور خبیث تھی۔ اس کے علاوہ ریاست و عظمت کے فوت ہونے اور مسلمانوں کی رفعت شان و شوکت ظاہر ہونے سے سخت متالم اور رنجیدہ تھے۔ فَزَادَھُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ( تو اب خدا نے ان کے ان اغراض خبیثہ کو زنگ اور ختم سے تقویت دے کر ان کا مرض اور بھی زیادہ کردیا) اور قرآنی آیتیں نازل فرما کر ان کی اصل بیماری میں زیادتی کردی کہ جوں جوں آیات الٰہی کے ساتھ کفر کرتے جاتے ہیں کفرو عداوت میں بڑھتے جاتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو کہ خدا نے اپنے نبی اکرم ﷺ کی مدد کرکے اور منافقوں کی دشمنی و عداوت طشت ازبام کرکے ان کے مرض کو اور بھی زیادہ کردیا) حمزہ نے زاد اور اسی طرح جاء اور شاء اور ران اور خاف اور خاب اور طاب اور خاق کو امالہ سے پڑھا ہے جس جگہ بھی اور جہاں کہیں بھی واقع ہوں۔ علیٰ ہذا القیاس سورة النجم میں لفظ زاغ کو اور سورة صفْ میں زاغوا کو امالہ سے پڑھنا جائز بتایا ہے خواہ یہ افعال ضمیر سے متصل ہوں یا نہ ہوں۔ ہاں شرط یہ ہے کہ افعال مذکورہ ثلاثی مجرد ہوں اور بس ابن ذکوان اس قاعدہ میں حمزہ کے تابع ہیں لیکن نہ مطلقاً بلکہ صرف جاء اور شاء میں جہاں کہیں بھی واقع ہوں اور زاد کو بھی امالہ سے پڑھتے ہیں مگر نہ ہر جگہ بلکہ صرف اسی موقع پر اور ایک روایت میں آیا ہے کہ ہر جگہ اور ہر موقع پر وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ( اور ان کو درد ناک عذاب ہوتا ہے اَلِیْمٌ معنی میں ہے مولم کے اور یہ عذاب کی صفت میں بطریق مبالغہ واقع ہوا ہے۔ یَکْذِبُوْنَ مامصدریہ ہے اس کو کو فیوں نے تخفیف سے اور باقی قراء نے تشدید سے پڑھا ہے پہلی تقدیر پر معنی یہ ہونگے کہ منافق اپنے دعوے اٰمَنّا میں جھوٹے ہیں اور دوسرے توجیہ پر یہ مطلب ہوگا کہ منافقوں کو جناب نبی کریم ﷺ کی در پردہ تکذیب پر عذاب درد ناک ہوگا۔
Ayah 2:11

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ Open ayah 2:11 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ملک میں فساد نہ پھیلاؤ) فساد ضد ہے صلاح کی اور یہ دونوں لفظ ہر قسم کی ضرر دینے والی اور نفع بخشنے والی چیزوں کو عام ہیں ( یعنی فساد کا لفظ ہر طرح کی مضرت رساں اور تکلیف دہ چیزوں کو شامل ہے اور صلاح کا لفظ ہر قسم کی مفید اور نفع بخش چیزوں کو) منافقوں کا ملک میں فساد پھیلانا (کیا تھا) مسلمانوں کو دھوکا دے کر لڑائیوں کی شورش پھیلانا ‘ آتش جنگ ہر طرف بھڑکانا ‘ مسلمانوں کے بھیدوں کو طشت ازبام کرکے کافروں کو ان پر پل پڑنے کی ترغیب دینا ! جناب نبی کریم ﷺ اور قرآن مقدس پر ایمان لانے سے لوگوں کو روکنا تھا۔ کسائی نے قیل کو اور نہ صرف قیل کو بلکہ غیض اور جئی اور حیل اور سیق اور سیئی اور سیئت کو اشمام سے پڑھا ہے اور ابن عامر نے اخیر کے چاروں کلموں میں موافقت کی ہے مگر نافع نے صرف اخیر کے دو صیغوں میں موافقت کی ہے۔ یہاں اشمام سے مراد ہے فاء کلمے کے کسرہ کو ضمے کی طرف اور یا کو واؤ کی طرف مائل کرنا ( یعنی کسرہ کو ضمے اور یاء کو واؤ کی بو میں پڑھنا) اور بعضے کہتے ہیں کہ فاء کلمے کو ضمے سے بطور اشباع اور بعضوں کے نزدیک بطور اختلاس پڑھنا۔ بعض قراء اس بات کے قائل ہیں کہ دونوں ہونٹوں سے ضمہ مقدرہ کی طرف اشارہ کرنا اور پھر اسے خالص کسرے سے پڑھنا اشمام ہے لیکن پہلی روایت صحیح تر ہے ( اور اسی پر قراء کا اتفاق بھی ہے) کسائی اور ابن عامر اور نافع کے علاوہ باقی قاری قیل کو صرف کسرے سے پڑھتے ہیں۔ قَالُوْا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ ( تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو لوگوں میں میل جول کرانے والے ہیں) حالانکہ وہ محض جھوٹے اور دروغ گو ہیں یہ منافقوں کا مقولہ ہے اور ان لوگوں کے رد میں استعمال کیا گیا ہے جو انہیں ملک خدا میں فساد نہ پھیلانے کی بابت نصیحت کرتے تھے۔ رد بھی پر زور طور پر کلمہ انما کے ساتھ ہے ( یعنی جب مسلمان ان سے کہتے تھے کہ ملک میں فساد نہ ڈالو تو وہ اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ کہہ کر ان کے قول کی تردید کرتے تھے یا یوں کہو کہ جب مسلمان انہیں فساد کے برپا کرنے سے روکتے تھے تو وہ باہم کہتے تھے : اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ گویا وہ فساد کو صلاح کی صورت میں دیکھتے تھے اور یہ اس لیے کہ ان کو ان کے تمام برے کرتوت اچھی اور مزین صورت میں دکھائے جاتے تھے۔
Ayah 2:12

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:12 in the Quran reader

دیکھو یہ بلاشبہ مفسد ہیں، لیکن خبر نہیں رکھتے

اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ ( سنو جی ! یہی لوگ فسادی ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں) یہ خدا کی طرف سے منافقوں کے دعوے کی تردید ہے اور یہ تردید بھی نہایت بلیغ ( یعنی منافق جو اس بات کے دعوے دار تھے کہ ہم ملک میں فساد نہیں پھیلاتے بلکہ لوگوں میں میل جول پیدا کراتے ہیں تو خدا تعالیٰ نے ان کے اس دعوے باطل کو ایسے پر زورطرز کے ساتھ رد کیا کہ اس سے بلیغ زیادہ کوئی وجہ ہو نہیں سکتی مثلاً ) جملے کا مستانفہ ہونا حرف تنبیہ کے ساتھ شروع کرنا جو تحقیق مضمون کا فائدہ دیتا ہے پھر کلمہ اِنَّ سے اس کی تاکید مزید کرنا خبر کو معروف بالام لانا اسم اور خبر کے بیچ میں ضمیر فصل داخل کرنا اور جملہ لَا یَشْعُروْنَ کو استدراک کے ساتھ بیان کرنا۔
Ayah 2:13

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:13 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النّاسُ ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آؤ) یعنی جس طرح مہاجرین و انصار اسلام میں سچے دل سے داخل ہوگئے ہیں تم بھی ویسے ہی صاف دل سے داخل ہوجاؤ یا یہ معنی کہ جس طرح یہودیوں میں سے عبد اللہ بن سلام وغیرہ ایمان لے آئے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لے آؤ۔ یہ جملہ ان ہی ناصحین کا مقولہ ہے جو منافقوں کو ملک خدا میں فساد پھیلانے سے منع کرتے تھے اور تکمیل نصیحت کے لیے لایا گیا ہے کیونکہ فساد سے اعراض کرنا اور تقاضائے ایمان کو بجا لانا یہی کمال انسان ہے کَمَا اٰمَنَ النَّاس نصب کے محل میں ہے کیونکہ اٰمَنُوْا کا مفعول مطلق واقع ہوا ہے اور مامصدر یہ ہے یا کافہ جیسا کہ رُبَمَا میں۔ قَالُوْآ اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآءُ ( تو کہتے ہیں باہم کہ کیا ہم بھی اسی طرح ایمان لائیں جس طرح اور احمق ایمان لے آئے ہیں) سفہ کہتے ہیں خفت عقل کو اور اس کی ضد ہے علم۔ بعض کہتے ہیں جو شخص عمداً ورقصداً جھوٹ بولتا ہے اسے سفیہ کہتے ہیں منافقوں نے مسلمانوں کو یا تو اس وجہ سے احمق اور بیوقوف کہا کہ واقعی وہ ان کے فساد رائے کے معتقد تھے یا تحقیر شان کی وجہ سے کہا۔ اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآءُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ ( سنو جی ! یہی لوگ احمق 1 ؂ ہیں) کیونکہ رات دن معجزات دیکھتے ہیں تورات سے پیغمبر آخر الزماں ﷺ کی معرفت حاصل کرتے ہیں اور باوجود اس کے ایمان نہیں لاتے تو جو شخص آسمانی کتاب کی شہادت اور معجزات کے ثبوت کے بعد بھی خدا کے کلام مقدس پر ایمان نہ لائے اس کے نبی کریم ﷺ کا انکار کرے اس سے بڑھ کر اور کون احمق ہوسکتا ہے اس جملہ میں بھی ویسا ہی رد اور مبالغہ ہے جیسا کہ سابق جملہ میں تھا حرمیین اور ابو عمرو نے السفہا کو خاص کر وصل کی حالت میں دوسرے حمزہ کی تسہیل سے پڑھا ہے اور یہی حال ہے ان دو ہمزوں کا جو دو کلموں میں واقع ہوں اور دونوں حرکت میں مختلف ہوں جیسے مِن الْمَآء اور مِمَّا اور شُھَدَآءَ اِذْ حَضَرَ اور مَنْ یَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ اور وَجَآءَ اُمَّۃٌ میں اور تسہیل کا حکم یہ ہے کہ ہمزہ کا اس کے مخرج اور اس حرف کے مخرج کے درمیان تلفظ کریں کہ جس کے مناسب ہمزہ کی حرکت ہے یہ حکم دائمی نہیں ہے بلکہ اس وقت تک ہے جب تک کہ ہمزہ کا ماقبل مفتوح یا مکسور یا مضموم نہ ہو کیونکہ جس حالت میں کہ ہمزہ کسرہ ما قبل کے ساتھ ہو تو وہ یاء مفتوحہ سے اور جس حالت میں ضمہ ماقبل کے ساتھ ہو واؤ مفتوحہ سے بدل دیا جاتا ہے اور جس ہمزہ مک سورة کا ماقبل مضموم ہو واؤ مکسور سے بدل دیا جاتا ہے اور حرمیین اور ابو عمرو کے سوا اور قراء نے سُفَھَاء اور اَلَآ انَّھُمْ کے ہمزوں کو تحقیق سے پڑھا ہے (یعنی ابدال و تسہیل وغیرہ نہیں کیا بلکہ ہمزہ کو اسی کے مخرج سے پڑھا ہے) وَ لٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ (لیکن وہ جانتے نہیں) اس آیت میں حق تعالیٰ نے لَا یَعْلَمُوْنَ فرمایا اور اس سے پہلی آیت میں لَا یَشْعُرُوْنَ تو اس اختلاف عنوان کی وجہ یہ ہے کہ دینی کاموں کے آگاہ ہونے اور معلوم کرنے میں تو فکر اور غور اور نظر کرنے کی حاجت ہے اس لیے لَا یَعْلَمُوْنَ فرمایا اب رہا فساد تو وہ حس ظاہری اور ادنیٰ التفات سے بھی معلوم ہوسکتا ہے اس وجہ سے وہاں لَا یشعرون ہی فرمانا مناسب ہوا۔
Ayah 2:14

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 2:14 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں، اور جب اپنے شیطانوں میں جاتے ہیں تو (ان سے) کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور (پیروانِ محمدﷺ سے) تو ہم ہنسی کیا کرتے ہیں

وَ اِذَا لَقُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْا اٰمَنَّا ( اور جب مؤمنین سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لا چکے ہیں) یعنی ہم بھی تمہاری طرح ایمان لے آئے ہیں یہ آیت منافقین کے معاملہ کا بیان ہے کہ جس کو وہ کفار اور مؤمنین سے کیا کرتے تھے اور جس آیت سے اصل قصہ منافقین کا شروع کیا گیا ہے ( یعنی وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ ) وہ آیت ان کے نفاق کی تمہید کے لیے بیان کی گئی ہے۔ (مضمون مکرر نہیں ہے جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے) وَ اِذَا خَلَوْا ( اور جب تنہائی میں) لفظ خَلَوْا آیا تو خلوت بفلان الیہ سے مشتق ہے اور یہ اس وقت بولتے ہیں جبکہ ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ تنہا اور اکیلا ہو یا یہ کہ خلاک ذمہ سے مشتق ہے جس کے معنی یہ ہے کہ تجھ سے مذمت برطرف ہوئی اور القرون الخالیۃ بھی اسی سے مشتق ہے۔ اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ ( اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں) شیاطین سے مراد منافقین کے سردار و پیشوا ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ پانچ شخص یہود میں سے منافقین کے سردار و پیشوا تھے۔ مدینے میں کعب بن اشرف قبیلہ بنی اسلم میں، ابو بردۃ قبیلہ جہینہ میں، عبد الدار بنی اسد میں، عوف بن عامر شام میں، عبد اللہ بن سوداء شیطان لغت میں سرکش اور حد سے گزرنے والے کو کہتے ہیں خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا آدمیوں میں سے چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے شِیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ (یعنی اسی طرح ہم نے پیدا کردیئے ہر نبی کے دشمن شیطان آدمیوں میں سے اور جنات میں سے) اور دوسری آیت میں فرمایا : مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّاسِ (یعنی پناہ مانگتا ہوں میں شیطان کی برائی سے جو جنوں اور آدمیوں میں سے ہو) اور یا مراد شیاطین سے کاہن ہیں کہ ہر کاہن کے ساتھ شیطان ہوتا تھا جو اس کا تابع ہوتا تھا۔ لفظ شیطان یا تو شَطَنَ سے مشتق ہے کہ جس کے معنی ہیں دور ہوا۔ جیسا کہ عرب اپنے محاورہ میں بولتے ہیں بیئر شطون ( یعنی بہت گہرا کنواں) چونکہ شیطان شر میں بڑھا ہوا ہے اور خیر سے دور ہے اس لیے اسکا نام شیطان رکھا گیا یا یہ کہ شاط سے مشتق ہے کہ جسکے معنی ہیں باطل ہوا۔ چناچہ شیطان کا ایک نام باطل بھی ہے اس صورت میں نون شیطان میں زائد ہوگا۔ قَالُوْا اِنَّا مَعَکُمْ ( کہتے ہیں کہ ہم بیشک تمہارے ساتھ ہیں) یعنی دین اور اعتقاد میں تمہارے ساتھ ہیں جملہ اسمیہ کے ساتھ اور پھر اس کو اِنَّ سے مؤکد کرکے کافروں کو مخاطب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ کافروں کو یقینی طور پر منافقوں کا اپنے دین و اعتقاد پر ثابت قدم رہنا معلوم ہوجائے۔ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِءُ وْنَ ( ہم تو مؤمنین کے ساتھ ٹھٹھا کرنے والے ہیں) یہ جملہ یا تو پہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جو شخص کسی کے ساتھ ٹھٹھا کرنے والا اور اسے ہلکا سمجھنے والا ہوتا ہے وہ اس کے خلاف پر مصر ہوا کرتا ہے یا پہلے جملے سے بدل ہے کیونکہ جو اسلام کی تحقیر کرتا ہے وہ بڑے کفر کا مرتکب ہے یا جملہ مستانفہ ہے گویا یہاں ایک سوال پیدا ہوتا تھا اس کا یہ جواب ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب منافقین نے اپنے شیاطین سے کہا کہ ہم دین و اعتقاد میں تمہارے ساتھ ہیں تو انہوں نے کہا جب یہ بات ہے تو تم ایمان کا دعویٰ کیوں کرتے ہو۔ اس وقت منافقین نے اس کے جواب میں یہ جملہ کہا۔ استھزاء لغت میں سخریت یعنی ٹھٹھا کرنے اور استخفاف یعنی ہلکا سمجھنے کو کہتے ہیں اور لفظ ھزأت اور استھزأت ہم معنی ہیں جیسا کہ احببت اور استحببت کے ایک معنی ہیں اور اصل استہزاء کے معنی خفۃ کے ہیں چناچہ ناقۃ تھزأ یعنی سبک رَو اونٹنی کہا جاتا ہے اور ابو جعفر نے ان الفاظ میں ہمزہ کو حذف کرکے پڑھا ہے۔ مستھزون۔ یستھزون۔ استھزوا۔ لیطفوا۔ لیواطوا۔ و یستنبؤنک۔ خاطون۔ خاطین۔ متکون۔ متلین۔ فمالون المنشون۔
Ayah 2:15

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 2:15 in the Quran reader

ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں

اَللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ ( خدا انکے ساتھ ٹھٹھا کرتا ہے) یعنی انہیں ٹھٹھا کرنے کی جزا دیتا ہے لفظی مقابلہ کے طور پر ٹھٹھا کرنے کی سزا کو ٹھٹھا کرنے سے تعبیر کردیا ہے۔ علامہ بغوی (صاحب معالم التنزیل) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ٹھٹھا کرنا یہ ہے کہ ان کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھول دیا جائے گا۔ جب وہ اس دروازہ تک پہنچیں گے تو فوراً بند کردیا جائے گا اور آگ کی طرف دھکیل دیئے جائیں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ کا ٹھٹھا کرنا یہ ہے کہ مؤمنین کے لیے ایک نور پیدا کیا جائے گا کہ جس کی روشنی سے پل صراط پر چلیں گے جب منافق اس نور تک پہنچیں گے تو ان کے اور مؤمنین کے مابین ایک پردہ حائل ہوجائے گا جیسا کہ حق تعالیٰ اپنے کلام پاک میں ایک جگہ فرماتا ہے فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ ( یعنی پھر بنا دی جائے ان کے درمیان ایک دیوار کہ جس کا ایک دروازہ ہوگا) حسن نے فرمایا ہے کہ ٹھٹھا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے نفاق کو مومنین پر ظاہر فرما دیتا ہے۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب الصمت میں حسن سے روایت کیا ہے کہ جو لوگوں سے ٹھٹھا کرتے ہیں ان میں سے ایک کے لیے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا اور اسے پکارا جائے گا کہ آیہاں آ۔ جب وہ وہاں تک پہنچے گا اور دروازہ سے پرے ہی ہوگا کہ دروازہ بند کردیا جائے گا ایسا ہی ہوتا رہے گا حدیث کا مضمون ختم ہوا یہ حدیث مرسل اور جید ہے جملہ اللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ کو علیٰحدہ بیان کیا گیا اور پہلے کلام پر عطف نہیں کیا گیا تاکہ یہ بات خوب واضح ہوجائے کہ اللہ ہی ان کی جزا دینے کے لیے کافی ہے مؤمنین کو ان سے تعرض کرنے کی حاجت نہیں اور بجائے اَللّٰہُ یَسْتَھْزِئُ بِھِمْ کے اللّٰہُ مُسْتَھْزِئٌ بِھِمْ نہیں فرمایا تو اس میں یہ حکمت ہے کہ سزاء استہزاء انہیں متواتر ملتی رہے گی (اور اس تکرار پر مضارع کا صیغہ خود دلالت کررہا ہے) چناچہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے : اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّھُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ یعنی کیا نہیں دیکھتے وہ کہ سال میں ایک یا دو دفعہ مبتلائے مصیبت ہوتے رہتے ہیں۔ وَ یَمُدُّھُمْ ( اور اللہ انہیں مہلت دیتا ہے) لفظ یمد مَدَّ الْجَیْشَ سے مشتق ہے اور مد الجیش کے معنی ہیں لشکر کو زیادہ کیا اور اسے قوت دی مد کے اصلی معنی زیادتی کے ہیں۔ لفظ مد اور امداد ہم معنی ہیں صرف فرق ہے تو اتنا ہے کہ مد کا استعمال اکثر شر میں آتا ہے اور امداد کا خیر میں جیسا کہ حق تعالیٰ کے اس قول میں امداد کا استعمال خبر میں آیا ہے وَ اَمْدَدْنَاکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ (اور ہم نے مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی ہے) فِیْ طُغْیَانِھِمْ ( اپنی سرکشی میں اطغیان سے مراد گناہ اور کفر میں حد سے متجاوز ہونا۔ کسائی نے لفظ طغیان کو ہر جگہ امالہ سے پڑھا ہے۔ یَعْمَھُوْنَ ( بہکے پھرتے ہیں) لفظ عمد لغت میں بصیرت یعنی دانائی اور سمجھ کے ضائع ہونے کو کہتے ہیں جیسا کہ لفظ عمیٰ بینائی کے ضائع ہونے کو بولتے ہیں۔
Ayah 2:16

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ Open ayah 2:16 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

اُوْلٰءِکَ اَلَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بالْھُدٰی فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ (یہی ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی سو نفع نہ لائی ان کی سوداگری) اِشْتَروْا میں اِشْتَراء سے مراد استبدال اور ضَلَلاَۃٌ سے مراد کفر اور ھدٰی سے مراد ایمان ہے اور خریدو فروخت کے ذریعے سے اصل سرمایہ پر زیادتی طلب کرنے کو تجارۃ کہتے ہیں اور ربح تجارۃ کی طرف مجازاً اسناد کردیا ہے اور وجہ مناسبت یہ ہے کہ لفظ تجارت ربح 2 ؂ کے فاعل کے ساتھ متصل ہے یا یہ مناسبت ہے کہ تجارۃ ربح کا سبب ہے جیسا کہ فاعل ربح کا سبب ہوتا ہے۔ وَ مَا کَانوُْا مُھْتَدِیْنَ ( اور وہ راہ پانے والے نہ ہوئے) یعنی تجارت سے انہوں نے راہ نہ پائی کیونکہ تجارت سے مقصود سرمایہ کی سلامتی کے ساتھ نفع کا حاصل ہونا ہے سو انہوں نے اصل سرمایہ ہی کو ضائع کردیا۔ یہاں سرمایہ سے فطرت 3 ؂ مراد ہے اور نفع حاصل نہ کرنے سے مراد حق اور کمال کا حاصل نہ کرنا۔
Ayah 2:17

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 2:17 in the Quran reader

ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے

مَثَلُھُمْ ( ان کا عجیب حال) لفظ مثل اور مثل اور مثیل اصل میں نظیر کو کہتے ہیں پھر اس قول مشہور کو کہنے لگے جس کا محل استعمال محل وضع سے مشابہ ہو اور مثل وہی قول بن سکتا ہے جس میں کسی قسم کی غرابت ہو اس کے بعد ہر حال عجیب و نادر کو مثل بولنے لگے چناچہ اس آیت میں مثل کے معنی حال عجیب اور نادر کے ہی ہیں۔ کَمَثَلِ الَّذِیْ ( ان لوگوں کے حال عجیب کی مانند ہے) اس مقام میں الَّذِیْ بمعنی الَّذِیْن ہے جیسا کہ آیت : وَ خُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوْا ( میں الّذی بمعنی الذین ہے) اور الذی کو بجائے الذین کے ذکر کرنا جائز ہے حالانکہ لفظ القائم کو بجائے القائمین کو بولنا جائز نہیں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ الذی کی صورت میں مقصود بیان الذی خود نہیں ہے بلکہ اس جملہ کو بیان کرنا مقصود ہے جو صلہ ہے دوسری وجہ یہ ہے کہ الذی اسم تام نہیں بلکہ اسم تام کا گویا جز ہے اور کسی اسم کے جز کی جمع نہیں آتی (بلکہ اسم تام کی جمع آتی ہے) اور الذین اس کی جمع نہیں بلکہ وہ اسم مستقل ہے کہ اس میں کسی قدر زیادتی ہے کہ وہ زیادتی معنی زائد پر دال ہے اور اسی واسطے الذین ہمیشہ یا کے ساتھ آتا ہے۔ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمََّآ اَضَآءَ تْ مَاحَوْلَہٗ ( جنہوں نے آگ سلگائی پس جب آگ نے آگ جلانے والوں کے اردگرد کو روشن کردیا) ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ ( تو لے گیا اللہ ان کی روشنی کو) یہ آیت لما کا جواب ہے اور بجائے روشنی کے آگ نہیں فرمایا کیونکہ یہاں مقصود آگ سے ان کو روشنی ہی تھی اور نور کے ضائع کرنے کو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کرنے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ تمام امور اسی کے پیدا کرنے سے موجود ہوتے ہیں اور یا یہ ہے کہ اس موقع میں آگ بجھنا کسی خفی یا سماوی سبب سے وقوع میں آیا ہوگا اس لیے اس فعل کو اللہ کی طرف منسوب کردیا یا ذہاب نور کو مؤکد بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کردی اور یا جواب لما کا اختصار اور التباس نہ ہونے کی وجہ سے محذوف ہے جیسا کہ حق تعالیٰ کے قول وَ لَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ میں جواب لماکا حذف کردیا گیا ہے اس تقدیر پر جملہ ذَھَبَ اللّٰہُ ..... یا تو مستانفہ ہے یعنی ایک کلام سابق سے پیدا ہونے والے سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ ہوسکتا تھا کہ کیا و جہ ہے کہ منافقین کو اس شخص کے حال سے تشبیہ دی جس نے آگ سلگائی اور پھر وہ آگ بجھ گئی ‘ یا یہ کہ جملہ تشبیہ یعنی کَمَثلِ الَّذِیْ اسْتَوْقَدَ نَارًا سے بیان کے طور پر بدل ہوگا اور ان دونوں صورتوں میں ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرھِمْ میں ضمیر منافقین کی طرف راجع ہوگی۔ وَ تَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ ( اور انہیں چھوڑ دیا اندھیروں میں کہ کچھ نہیں دیکھتے) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے چند امور کو اختیار فرمایا اوّل یہ کہ ظلمت کو ذکر فرمایا ( حالانکہ اصل مقصود بغیر ذکر ظلمت کے بھی حاصل تھا) دوسرے یہ کہ صیغہ جمع سے ذکر فرمایا۔ تیسرے یہ کہ بصورت نکرہ بیان فرمایا چوتھے یہ کہ ظلمت کی صفت لا یبصرون ذکر کی۔ یہ چاروں امر ظلمت کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے ذکر فرمائے۔ حاصل یہ ہوا کہ گویا وہ ایک ظلمت تہ بر تہ (تہہ در تہہ) متعدد تاریکیوں کا مجموعہ ہے اور چونکہ لفظ ترک آیۃ میں صیر کے معنی کو شامل ہے اس لیے قائم مقام افعال قلوب کے کردیا گیا اور لا یبصرون کا مفعول ترک کردیا گیا گویا یہ فعل متعدی ہی نہیں اور اس طرح نفس رویت کی ہی نفی ہوگئی۔ یہ آیت یا تو بطور مثل اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے حق میں بیان فرمائی ہے جس کو ایک قسم کی ہدایت عطا فرمائی اور اس نے ضائع کردی اس کو نعمت ابدی تک پہنچنے کا ذریعہ نہ بنایا جب وہ ہدایت ضائع ہوگئی تو حیران اور حسرت مند رہ گیا پس یہ آیت سابق آیت کے مضمون کی توضیح و اثبات کے لیے ذکر فرمائی کیونکہ منافقوں نے اس کلمہ حق کو جو ان کی زبانوں سے نکلا تھا۔ دلوں میں کفر کو پوشیدہ کرکے ضائع کردیا تھا ‘ یا یہ آیت مثل نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے منافقین کے ایمان کو آگ سے تشبیہ دی کیونکہ دنیا میں وہ ایمان ان کے خون اور مال کو محفوظ رکھتا ہے اور احکام اور غنائم میں ان کو مسلمانوں کا شریک بنا دیتا ہے مگر اس کا اثر باقی رہنے والا نہیں ایسا ایمان ان کو آخرت میں تباہ کردے گا اور دنیا میں ان کا حال سب پر ظاہر ہوجاتا ہے گویا آگ بجھا دی جاتی ہے۔
Ayah 2:18

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ Open ayah 2:18 in the Quran reader

(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے

صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ ( وہ بہرے ہیں ‘ گونگے ہیں ‘ اندھے ہیں) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے آگ سلگائی تھی جب اللہ نے ان کے نور کو ضائع کردیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا تو ان کو مدہوش کردیا اور ان کے حواس میں خلل آگیا پس اس تفسیر کے موافق یہ کلام حقیقۃ ہے (مجاز ماننے کی ضرورت نہیں) اور اگر بنورھم میں ضمیر منافقین کی طرف راجع ہو تو معنی یہ ہونگے کہ جب انہوں نے حق کی طرف کان نہ لگائے حق بات کہنے اور آیات کو سمجھنے ا ورحق پر غور کرنے سے انکار کیا تو گویا ان کے حواس اور قوی جاتے رہے اور اس تقدیر پر ان کو بہرے ‘ گونگے ‘ اندھے کہنا تمثیل کے طور پر ہے استعارہ نہیں ہے کیونکہ مستعار بہ یعنی کلمہ ہم اگرچہ لفظاً محذوف ہے لیکن حکم میں ملفوظ ہی کے ہے پس جو استعارہ کی شرط ہے وہ فوت ہوگئی۔ اس صورت میں یہ آیت تشبیہ سابق کا گویا نتیجہ ہوگی۔ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ( سو وہ نہیں لوٹتے) یعنی وہ حیران ہیں اتنا بھی نہیں جانتے کہ جس جگہ سے آگے تھے وہاں کس طرح واپس ہوں یا یہ معنی کہ گمراہی سے اس ہدایت کی طرف جس کو ضائع کردیا واپس نہیں ہوتے۔
Ayah 2:19

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:19 in the Quran reader

یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے

اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ ( یا ان کا حال آسمانی بارش والوں کا سا ہے) لفظ صیب صوب بمعنی نزول سے فیعل کے وزن پر ہے بارش کو صیب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ بھی نازل ہوتی ہے اور لفظ صوب میں مبالغہ ہے کیونکہ صوب کے معنی بےحد بہنے کے ہیں اور خود صیغہ فیعل میں بھی مبالغہ ہے اور تنکیر صیب کی تفخیم کے لیے ہے اور کلمۂ اوشک میں مساوات کے لیے اصل میں موضوع ہے پھر اس کے استعمال میں وسعت کرلی گئی اور جو مساوات بغیر شک کے ہو اس کے لیے بھی استعمال کرنے لگے۔ اس آیت میں او کے یہ معنی ہوں گے کہ منافقین کو دونوں قصوں سے تشبیہ دینا برابر ہے گویا مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب تجھ کو تشبیہ میں اختیار دیا جاتا ہے دونوں قصوں میں سے جس قصہ کے ساتھ چاہے تشبیہ دے جیسا کہ آیت : وَ لَا تُطِعْ مِنْھُمْ اٰثِمًا اَوْ کَفُوْرًا کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے مخاطب تجھ کو کفار کی خصلتوں میں اختیار دیا جاتا ہے ( یعنی نہی اطاعت میں سب برابر ہیں) اور السماء کو معرف باللام لانا بتارہا ہے کہ ابر آسمان کے تمام اطراف کو محیط ہوگیا تھا کیونکہ آسمان کے ہر جانب کو سماء کہتے ہیں اور بعض نے کہا ہے کہ سماء کے معنی آیت میں ابر کے ہیں کیونکہ ہر اونچی شئے کو سماء بولتے ہیں اور الف و لام تعریف جنس کے لیے ہے لیکن اور آیتیں ظاہر الفاظ کے لحاظ سے یہ بتلا رہی ہیں کہ بارش آسمان سے برستی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّماَءِ مَاءً طَھُوْرًا یعنی اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاک کرنے والا) اور ابن حبان نے بیان کیا ہے کہ حسن سے کسی نے دریافت کیا بارش آسمان سے برستی ہے یا ابر سے ؟ فرمایا آسمان سے ابر تو محض علامت ہے اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے بیان کیا کہ خالد بن معدان نے فرمایا۔ بارش عرش کے نیچے سے نکل کر ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف اترتی ہوئی آسمان دنیا میں ایک مقام پر جس کو اثرم کہتے ہیں جمع ہوجاتی ہے پھر سیاہ ابر ہوجاتا ہے اور وہ بارش اس میں داخل ہوجاتی ہے اور ابر اس کو پی لیتا ہے پھر اس کو اللہ تعالیٰ جس طرف چاہتا ہے لے جاتا ہے اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ بارش ساتویں آسمان سے اترتی ہے۔ فِیْہِ ( کہ اس بارش میں اندھیری اور گرج اور بجلی ہے) فیہ میں ضمیر یا تو صیب کی طرف راجع ہے یا سماء کی طرف کیونکہ لفظ سماء مذکر و مؤنث دونوں طرح آتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَلسَّمَآءُ مُنْفَطِرٌ بِہٖ اور فرمایا ہے : اِنْفَطَرَتْ ۔ ظُلُمٰتٌ مطلب یہ ہے کہ ظلمتیں تو بر تو (تہہ در تہہ) ہیں اوّل ظلمت بارش کی دوسری ابر کی تیسری رات کی۔ وَّرَعْدٌ رعد اس آواز کو کہتے ہیں جو ابر سے سنائی دیتی ہے۔ وَّ بَرْقٌ برق اس آگ کو کہتے ہیں جو ابر سے نکلتی ہے اور لفظ رعد اور برق دونوں مصدر ہیں اسی واسطے ان کی جمع نہیں آتی علی ؓ اور ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے کہ رعد فرشتہ کا نام ہے جو ابر کو چلاتا ہے اور برق آگ کے کوڑے کی چمک ہے فرشتہ اس کوڑے سے ابر کو چلاتا ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آواز ابر کے دفع کرنے کی ہے اور بعض نے کہا کہ یہ آواز فرشتہ کی تسبیح کی ہے۔ مجاہد نے فرمایا کہ رعد فرشتہ کا نام ہے اور اس کی آواز کو بھی رعد کہتے ہیں اور بارش کو رعد اور برق کا مقام اس لیے فرمایا کہ یہ دونوں چیزیں بارش برسنے کے وقت ہوتی ہیں اور لفظ رعد و برق کا رفع فاعل ظرف ہونے کی وجہ سے ہے۔ یَجْعَلوُْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ (اپنی انگلیاں کانوں میں دے لیتے ہیں) یجعلون میں ضمیر اصحاب صیب (بارش والوں) کی طرف راجع ہے ( اگرچہ لفظِ ) اصحاب لفظاً مذکور نہیں مگر معنی نیت میں ہے۔ کسائی نے اَذَانَھُمْ اور اٰذَانِنَا طُغْیَانِھِمْ کو ہر جگہ امالہ سے پڑھا ہے اور بجائے پوروں کے انگلیاں مبالغہ کے لیے ذکر کردی ہیں۔ یہ جملہ مستانفہ ( یعنی جواب سوال کا ہے) گویا سائل سوال کرتا ہے کہ باوجود ان شدائد کے جو اوپر مذکور ہوئیں ان لوگوں کی اس وقت کیا حالت تھی۔ مِّنَ الصَّوَاعِقِ ( کڑک کے مارے) جار مجرور یجعلون کے متعلق ہے صَعِق ایسی شدید آواز کو کہتے ہیں کہ جو سنے مرجائے یا بےہوش ہوجائے اور خود موت اور بےہوشی کو کہ جو اس آواز کا اثر ہے صَعِق کہتے ہیں چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا : فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ ( یعنی مرجائیں گے آسمان والے) اور صواعق جمع صاعقہ کی ہے اور تا مبالغہ کے لیے ہے یا مصدری ہے اور ہر عذاب مہلک کو بھی صاعقہ کہتے ہیں اس آیت میں صواعق سے مراد خوفناک رعد کا ازدحام اور دھکا پیل ہے آگ لئے ہوئے جس شئے پر گزرتا ہے بغیر ہلاک کئے نہیں چھوڑتا یا مراد مطلق رعد ہے۔ حَذَرَ الْمَوْتِ (موت کے ڈر سے) یہ یجعلون کی علت ہے۔ وَاللّٰہُ مُحِیْطٌ بالْکٰفِرِیْنَ ( اور اللہ کافروں کا احاطہ کرنے والا ہے) یعنی اللہ سے کفار بچ نہیں سکتے جیسا کہ محیط سے وہ شے نہیں بچ سکتی جو اس کے احاطہ میں ہو کفار مکرو فریب کرکے اللہ کے عذاب سے نجات نہیں پاسکتے۔ ابو عمر اور کسائی نے قدوری کی روایت کے موافق کاف کے فتحہ کو جب راء کے بعد ہو اور جس جگہ بھی واقع ہو امالہ سے پڑھا ہے اور ورش نے بین بین پڑھا ہے۔