2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

اور بادل کا تم پر سایہ کئے رکھا اور (تمہارے لیے) من و سلویٰ اتارتے رہے کہ جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائی ہیں، ان کو کھاؤ (پیو) مگر تمہارے بزرگوں نے ان نعمتوں کی کچھ قدر نہ جانی (اور) وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑتے تھے بلکہ اپنا ہی نقصان کرتے تھے

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمْ الْغَمَامَ ( اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا) غمام ( ابر) غم (بمعنی چھپانے اور پوشیدہ کرنے) سے مشتق ہے اور ابر کو غمام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ آفتاب کو چھپا لیتا ہے۔ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ بنی اسرائیل کو قوم عمالقہ سے جہاد کرنے کا حکم ہوا یہ تعمیل حکم میں جھجکے اور سستی کی اس پر انہیں ایک سنسان ہُو کے میدان 1 ؂ میں چالیس سال تک حیران و پریشان پھرنے کی سزا ملی تو آخر کار اس ہولناک میدان میں کہ جس میں نہ کوئی درخت سایہ دار تھا اور نہ کوئی سایہ کی شے تھے بھٹکتے پھرے سب نے موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی آپ کی مناجات پر حق تعالیٰ نے ایک پتلا پتلا سفید ابر بارش کے ابر میں سے سایہ کے لیے بھیجا اور ایک نور کا ستون رحمت فرمایا وہ اندھیری راتوں میں روشن ہوجاتا۔ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ ( اور ہم نے اتارا تم پر من) یعنی تیہ میں اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ مَن سے مراد ترنجبین ہے اور بعض نے کہا پتلی چپاتی۔ مجاہد فرماتے ہیں کہ مَن گوند کی مثل ایک شے ہے درختوں پر آآ کر گرجاتی تھی اس کا مزہ شہد کا سا ہوتا تھا۔ مروی ہے کہ اول اللہ تعالیٰ نے صرف مَن نازل فرمایا تھا جب کھاتے کھاتے انہیں بہت دن گذر گئے تو سب نے حضرت موسیٰ سے عرض کیا کہ حضرت اس مَن کی مٹھاس نے تو ہمیں تباہ کردیا۔ کہاں تک اسے کھائیں جناب باری میں دعا کیجئے کہ ہمیں گوشت کھلائے اس پر اللہ تعالیٰ نے سلویٰ نازل فرمایا۔ وَالسَّلْوٰی ( اور سلویٰ ) سلویٰ اکثر مفسرین کے نزدیک ایک پرند ہے جو بٹیر کے مشابہ ہوتا ہے اور بعض نے کہا خود بٹیر ہی تھا اور اس کے نزول کی یہ کیفیت ہوتی کہ اللہ تعالیٰ ایک ابر بھیجتا اس میں سے طلوع آفتاب تک نیزہ برابر طول اور میل بھر عرض میں سلویٰ برابر برستا ہر ایک شخص اس میں سے ایک دن رات کی قدر اٹھا لیتا اور جمعہ کے روز دو دن کی قدر کیونکہ ہفتہ کے دن کچھ نہ برستا تھا اور ہم نے ان سے کہہ دیا۔ کُلُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ ( کھاؤ پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تمہیں دیں) طیبات حلال اور لذیذ چیزیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا تھا کہ ہر روز جس قدر کھا سکو لیا کرو مگر دوسرے دن کے لیے ذخیرہ نہ کرکے نہ رکھنا۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل نہ کی اور سینت سینت کر رکھنے لگے آخر کار وہ نعمت بند ہوگئی اور جو اٹھا رکھتے وہ خراب ہوجاتا۔ امام احمد بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کھانا اور گوشت کبھی نہ سڑتا اور جو حوّا نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے خاوند سے بےوفائی نہ کرتی 1 ؂۔ وَ مَا ظَلَمُوْنَا ( اور ان لوگوں نے ہمارا تو کچھ نہ بگاڑا) اس میں اختصار ہے معطوف علیہ ہے تقدیر کلام یہ ہے کہ پھر ان لوگوں نے نعمت کی ناشکری کرکے اپنا نقصان کیا اور ہمار اکچھ نہ کیا۔ وَ لٰکِن کَانُوْا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ( لیکن کچھ اپنا ہی کھوتے رہے) اور اپنانقصان اس طرح کیا کہ آخرت میں حق تعالیٰ کے عذاب کے مستحق ہوئے اور دنیا میں اپنا رزق کھویا جو بلا مشقت دنیوی اور بلا حساب اخروی انہیں ملتا تھا۔
Ayah 2:58

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ (اور ( وہ وقت) یاد کرو جب ہم نے کہا داخل ہوجاؤ اس گاؤں میں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ھٰذِِ الْقَرْیۃ سے مراد اریحا ہے قریہ جبارین بھی یہی ہے اس میں قوم عاد کے بقیہ لوگ رہتے تھے جو عمالقہ کے نام سے مشہور تھے مجاہد فرماتے ہیں کہ بیت المقدس مراد ہے بعض نے کہا ایلیا بعض نے کہا شام۔ فَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِءْتُمْ رَغَدًا ( اور اس میں جہاں چاہو با فراغت کھاؤ) رغدًا یا تو مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور یا فکلوا کی ضمیر سے حال ہونے کے سبب حال ہونے پر یہ معنی ہوں گے کھاؤ جہاں سے چاہو اس حال میں کہ رزق تمہارے لیے وسیع ہے۔ وَّادْخُلُو الْبَابَ ( اور دروازہ میں گھسو) یعنی گاؤں کے دروازوں سے کسی دروازہ میں داخل ہو۔ مروی ہے کہ اس گاؤں کے سات دروازے تھے۔ سُجَّدًا ( عاجزی کرتے ہوئے) یعنی عاجزی کرتے ہوئے جھکے جھکے جاؤ۔ وہب کہتے ہیں۔ سجداً کے یہ معنی ہیں کہ جب داخل ہوجاؤ تو حق تعالیٰ کو شکر کا سجدہ کرو۔ وَ قُوْلُوا حِطَّۃٌ ( اور حطۃ کہتے ہوئے جاؤ) لفظ حطۃ مبتدا محذوف مسئلتنا کی خبر ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اے اللہ ! ہمارے گناہ معاف اور ساقط کردے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اس سے یہ مراد ہے کہ لا الہ الا اللہ کہو کہ یہ کلمہ بھی گناہوں کو حط یعنی ساقط کردیتا ہے۔ نَّعْفِرْ لَّکُمْ ( تو ہم معاف کردیں گے) اغفر بمعنی ستر 2 ؂ سے مشتق ہے۔ نافع نے نغفرلکم کو یُغْفَرْلَکُمْ یا مضموم اور فتحہ فاء سے پڑھا ہے اور ابن عامر نے تاء مضموم سے اور سورة اعراف میں نافع، عامر اور یعقوب تینوں نے تاء مضموم سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے نون مفتوح اور کسر فاء سے۔ خَطَایَا کُمْ ( تمہارے قصور) خطایا اصل میں خطائ بروزن ذبائح تھا۔ یاء زائدہ کو ہمزہ سے بد ل دیا تو دو ہمزہ جمع ہوگئے۔ سیبویہ کے نزدیک اول ہمزہ کو ی سے بدل لیا اور خلیل کے نزدیک خَطَائ میں ہمزہ ی پر مقدم کردیا خَطَائِ ہوگیا پھر دونوں صورتوں میں ی کو الف سے بدل لیا اب ہمزہ دو الف کے درمیان واقع ہوگیا اس لیے اسے ی سے بدلا خطا یا ہوگیا۔ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ( اور نیک بندوں کو ثواب زیادہ دیں گے) مطلب یہ ہے کہ اگر تم اطاعت کرو گے تو تم میں سے جو گناہگار ہیں انکے تو ہم گناہ بخش دینگے اور جو پہلے ہی سے نیک ہیں انکے لیے ثواب بڑھادیں گے اور جملہسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ کو قُوْلُوا کے جواب سے علیحدہ اور مستقل اس لیے ذکر فرمایا تاکہ اس طرف اشارہ ہوجائے کہ نیک کار تو اطاعت ضرور ہی کریں گے۔
Ayah 2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ ( تو بدل ڈالی شریر لوگوں نے وہ بات جو ان سے کہی گئی تھی) دوسرے لفظ سے بظاہر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی کل بنی اسرائیل سے صادر نہیں ہوئی اس لیے بَدَّلُوْا ضمیر راجع کرکے نہیں فرمایا بلکہ ان میں سے بعض نے استغفار و توبہ کی بجائے جس کا حکم ہوا تھا لذائذ دنیوی کی طلب کے کلمات بدل دئیے تھے۔ علامہ بغوی نے اپنی سند سے بخاری کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے اور حِطَّۃ کہتے ہوئے داخل ہونا سو انہوں نے حِطَّۃ کو بدلا اور سرین کے بل گھسٹتے ہوئے گئے اور بجائے حِطَّۃ کے حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ ( گہیوں جو میں) کہا۔ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ( تو ہم نے ان شریروں پر نازل کیا) لفظ اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مکرر ذکر فرمایا حالانکہ علیہم کافی تھا۔ اس میں نکتہ یہ ہے کہ ان کی حالت قبیحہ کو پوری طرح معاینہ کرانا منظور ہے اور نیز یہ تنبیہ فرمانا مقصود ہے کہ یہ عذاب ان پر بوجہ ان کے ظلم کے نازل ہوا کیونکہ وہ بجائے اطاعت کے نافرمانی کرتے اور اپنی ہلاکت کا خود سامان کرتے تھے۔ میں کہتا ہوں کہ اس طور پر بیان کرنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اگر عَلَیْھِمْ فرماتے تو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ تمام بنی اسرائیل پر عذاب نازل ہوا اور اب یہی سمجھا جاتا ہے کہ عذاب خاص مجرموں پر ہی نازل ہوا تھا۔ رِجْزًا ( عذاب) ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں لفظ رجز وارد ہوا ہے اس سے مراد عذاب ہے اور لغت میں رجز اور رجس اس شئے کو کہتے ہیں جس سے طبیعت کو گھن آئے اور نفرت ہو۔ مِّنَ السَّمَاءِ (آسمان سے) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ عذاب طاعون تھا کہ اس سے ایک ساعت میں ستّرہزار آدمی ہلاک ہوگئے تھے۔ ابن جریر نے ابن زید سے روایت کیا ہے کہ طاعون ایک رجز ہے جو تم سے پہلوں پر نازل ہوا تھا۔ ( اس روایت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل پر طاعون آیا تھا) بِمَا کَانُوْ ایَفْسُقُوْنَ ( ان کی نافرمانی کی سزا میں)
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے (خدا سے) پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مارو۔ (انہوں نے لاٹھی ماری) تو پھر اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے، اور تمام لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر (کے پانی پی) لیا۔ (ہم نے حکم دیا کہ) خدا کی (عطا فرمائی ہوئی) روزی کھاؤ اور پیو، مگر زمین میں فساد نہ کرتے پھرنا

وَاِذَا اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ ( اور ( یاد کرو) جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کیلئے پانی مانگا تو ہم نے کہا : اے موسیٰ ! ( اپنا عصا مار) یہ قصہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل اس میدان لق و دق میں پیاسے تھے۔ مروی ہے کہ موسیٰ کا عصا جنتی آس کا تھا آپ کے قد کے برابر دس ہاتھ لمبا تھا اور اس میں دو شاخیں تھیں تاریکی میں روشن ہوجاتیں اس عصا کو آدم ( علیہ السلام) جنت سے لائے تھے۔ آدم کے بعد انبیاء میں نسلاً بعد نسلٍ چلا آیا حتیٰ کہ شعیب کو مرحمت فرمایا۔ اَلْحَجَر ( پتھر پر) اس میں لام عہد کا ہے ( یعنی خاص پتھر مراد ہے) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ پتھر آدمی کے سر کے برابر بصورت مربع تھا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اسے اپنے توبرہ میں رکھتے تھے۔ عطاء فرماتے ہیں کہ اس پتھر کے چار گوشے تھے ہر گوشہ میں سے تین چشمے نکلے بارہ گروہوں کے لیے بارہ چشمے نکلے آئے۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ یہ پتھر وہی تھا جس پر موسیٰ ( علیہ السلام) نے غسل کرنے کے لیے کپڑے اتار کر رکھ دیئے تھے۔ پھر وہ پتھر کپڑے لے کر بھاگا تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اس کے پیچھے دوڑے تھے حتی کہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر گزر ہوا انہوں نے آپ کی نسبت کہا تھا کہ انہیں ادرہ (1) [ درد فوطے بڑا ہوتا، 12] کا مرض ہے اس لیے پردہ کی بہت احتیاط کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان بند کرنے کے لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا بدن دکھلادیا اور اسی وقت جبرئیل ( علیہ السلام) تشریف لائے اور موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا کہ حکم الٰہی یہ ہے کہ اس پتھر کو اٹھا لو اس میں میری ایک قدرت اور تمہارا ایک معجزہ ظاہر ہوگا آپ نے اٹھا کر اپنے توبرہ میں رکھ لیا اور اس پتھر کے بھاگنے کا قصہ بخاری و مسلم میں مذکور ہے مگر بخاری و مسلم میں یہ نہیں ہے کہ جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یہ فرمایا الخ عبد بن حمید نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ وہ طور کا پتھر تھا۔ بنی اسرائیل اسے اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ اس میں اختلاف ہے کہ وہ پتھر کس نوع کا تھا۔ بعض نے کہا سنگ مرمر تھا۔ بعض نے کہا سنگ کدن اس میں بارہ گڑھے تھے ہر گڑھے میں سے ایک شیریں چشمہ جوش زن ہوتا تھا جب ہر گروہ پانی سے سیراب ہو لیتا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اسے اٹھانا چاہتے تو اس میں عصا مارتے تھے پانی بند ہوجاتا۔ وہ پتھر چھ لاکھ آدمیوں کو روزانہ سیراب کرتا تھا۔ وہب اور دیگرمفسرین نے کہا ہے کہ الحجر میں الف لام جنس کا ہے یعنی کوئی خاص پتھر نہ تھا بلکہ یہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ جس پتھر پر عصا مارتے اس میں سے چشمے ابل پڑتے۔ عطاء نے فرمایا حضرت موسیٰ بارہ جگہ اس پر بارہ دفعہ عصا مارتے تھے ہر جگہ سے ایک شے عورت کے پستان کی مثل ظاہر ہوتی اور اس میں سے ذرا ذرا پانی رستا پھر تھوڑی دیر کے بعد نہریں پھوٹ پڑتیں۔ فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشَرَۃَ عَیْنًا قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدُوْنَ ( سو بہہ نکلے اس سے بارہ چشمے ( اور) ہر قوم نے اپنا گھاٹ پہچان لیا ( اور ہم نے انہیں کہہ دیا) کھاؤ پیو اللہ تعالیٰ کی روزی اور نہ پھر و زمین میں فساد مچاتے) فانفجرت متعلق ہے کلام محذوف کے تقدیر کلام یہ ہے : فَاِنْ ضَرَبْتَ اِنْفَجَرَتْ ( یعنی اے موسیٰ اگر تم مارو گے توبہہ نکلیں گے) یا تقدیر کلام اس طرح ہے فَضَرَبَ فَانْفَجَرَت یعنی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے عصا مارا تو بہ نکلے۔ اکثر مفسرین کہتے ہیں کہ اِنْفَجَرَتْ اور اِنْبَجَسَتْ کے ایک معنی ہیں۔ ابو عمرو کہتے ہیں کہ انبجست کے معنی ہی رسنے لگے اور انفجرت کے معنی ہیں بہہ نکلے۔ بارہ چشمے ان کے گروہوں کی گنتی کے موافق تھے مَشْرَبَ ظرف مکان ہے۔ مطلب یہ کہ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ اختیار کرلیا۔ دوسرے کے گھاٹ پر کوئی نہ جاتا تھا۔ کُلُوْا واشْرَبُوا یعنی من اور سلویٰ کھاؤ اور چشموں کا پانی پیو۔ مِنْ رِزْقِ اللّٰہِ یعنی اگرچہ سب رزق اللہ تعالیٰ ہی کے دیئے ہوئے ہیں مگر اور رزقوں میں بظاہر تمہارے خیال میں تمہارے کسب کو بھی کچھ دخل ہے لیکن یہ رزق تمہیں بلا تمہاری مشقت کے ملتا ہے عَثٰی کے معنی سخت فساد کے ہیں مُفْسِدِیْن لَا تَعْثَوْکا حال موکد ہے۔ بیضاوی کہتے ہیں کہ مُفْسِدِیْنَ کے لانے میں ایک جدید فائدہ یہ ہے کہ عَثٰیسے مراد اگرچہ اکثر فساد ہی ہوتا ہے لیکن کبھی عَثٰیکا مفہوم عدم فساد میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی ظالم جابر کا مقابلہ کرنا اور کبھی صلاح (جو فساد کی ضد ہے ( کے ضمن میں متحقق ہوتا ہے جیسے خضر (علیہ السلام) کا طفل معصوم کو قتل کرنا اور کشتی کو توڑ ڈالنا۔ میں (مفسر ‘ 12) کہتا ہوں (2) [ حدیث میں لفظ بعیثان آیا ہے بعیثان کا مادہ عیث ہے اور تعث کا مادہ عثٰی ہے اول اجوف یائی ہے اور دوسرا ناقص یائی۔ لغت میں دونوں ہم معنی ہے۔ ہم معنی ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ عثیی، عیث کا مقلوب ہے۔ جیسے طحر ‘ طرح کا اور آدام، آرام کا حروف مکان کا قلب عربی الفاظ میں بکثرت وارد ہے۔ شاید حضرت مؤلف (رح) نے اسی وجہ سے عثٰی کی معنوی تحقیق میں لفط یعیثان کو پیش کیا جس کا مصدر عیث ہے معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف کے نزدیک یہیعثٰی ‘ عیث کا مقلوب ہے۔ واللہ اعلم ] ممکن ہے کہ عَثٰیسے مطلق تبذیر ( فضول خرچی اور اسراف بیجا) مراد ہو چناچہ حضرت عمر ؓ کی حدیث میں عَثٰیکا استعمال اس معنی میں آیا ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ ہیں : قال لرسول اللہ ﷺ کسرٰی و قیصر یعیثان فیما یعیثان فیہ و انت ھکذا۔ یعنی حضرت عمر ؓ نے جناب رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ( یا رسول اللہ ﷺ یہ کسریٰ اور قیصر مال کو خوب اڑا رہے ہیں اور آپ اس فقرو فاقہ کی حالت میں ہیں۔ اس تقدیر پر مفسدین حال موکد نہ ہوگا بلکہ حال مقید ہوگا۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور جب تم نے کہا کہ موسیٰ! ہم سے ایک (ہی) کھانے پر صبر نہیں ہو سکتا تو اپنے پروردگار سے دعا کیجئے کہ ترکاری اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز (وغیرہ) جو نباتات زمین سے اُگتی ہیں، ہمارے لیے پیدا کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہوں۔ (اگر یہی چیزیں مطلوب ہیں) تو کسی شہر میں جا اترو، وہاں جو مانگتے ہو، مل جائے گا۔ اور (آخرکار) ذلت (ورسوائی) اور محتاجی (وبے نوائی) ان سے چمٹا دی گئی اور وہ الله کے غضب میں گرفتار ہو گئے۔ یہ اس لیے کہ وہ الله کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اس کے) نبیوں کو ناحق قتل کر دیتے تھے۔ (یعنی) یہ اس لیے کہ نافرمانی کئے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ ( اور ( وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم تو ایک کھانے پر ہرگز نہ رہیں گے) طعام واحد ایک کھانے سے مراد مَن اور سلویٰ ہے۔ واحد سے مراد وہ ہے جو تبدیل نہ کیا جائے یعنی دونوں وقت ایک ہی قسم کا کھانا ہو یہ مراد نہیں کہ ایک شے ہو۔ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا ( پس مانگئے ہمارے لیے اپنے پروردگار سے کہ پیدا کردے) یخرج جوابِ اَمر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔ مِمَّا تُنْبِتُ الاَرْضُ مِنْ بَقْلِھَا وَ قَثَّاآھَا و فُوْمِھَا وَعَدَسِھَا وَ بَصَلِھَا ( ان چیزوں میں سے جنہیں زمین اگاتی ہے سبزی، ککڑی اور گہیوں اور مسور اور پیاز مما میں من تبیعض کا ہے اور تنبت فعل ارض کی طرف مجازاً مسند کردیا گیا ہے۔ گویا قابل ( زمین) کو فاعل قرار دیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فوم سے مراد روٹی ہے اور عطا کہتے ہیں کہ گیہوں مراد ہیں مِنْ بَقْلِھَا میں مِنْ تبیین کے لیے ہے یعنی مما تنبت کا بیان ہے قائم مقام حال اور بعض نے کہا ہے کہمما تنبت سے باعدادۂ جارہ (من) بدل ہے۔ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَ اَدْنٰی ( موسیٰ نے کہا کیا تم عوض میں لینا چاہتے ہو وہ چیز جو ادنیٰ ہے) قال میں ضمیر یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہو یا موسیٰ ( علیہ السلام) کی طرف۔ ادنیٰ سے خسیس اور ردی شے مراد ہے اور دنو کے اصل معنی قرب مکانی کے ہیں لیکن یہاں حقارت کے لیے مجازاً استعمال کیا گیا ہے جیسے بعد کو کبھی شرف اور رفعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ ( اس چیز کے بدلے جو بہتر ہے) خیر سے مراد من اور سلویٰ ہے اور خیر اسے اس لیے فرمایا کہ نہ تو دنیا میں اسکے حاصل کرنے میں مشقت اور نہ آخرت میں اس کا کچھ حساب کتاب اور دنیا کی دوسری نعمتوں کے مقابلہ میں بدن کے لیے نہایت نافع۔ اِھْبِطُوْا مِصْرًا ( اچھا) اتر پڑو کسی شہر میں) یعنی اگر تم نہیں مانتے تو کسی شہر میں جا اتر و۔ ضحاک نے کہا ہے کہ شہر سے مراد فرعون کا شہر ہے۔ مصر ساکن الاوسط ہونے کے سبب منصرف ہے۔ فَاِنَّ لَکُمْ مَّا سَاَلْتُمْ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْھِمْ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ ( تمہیں ملے گا جو کچھ تم مانگتے ہو اور لگا دی گئی ان پر ذلت 1 ؂ اور محتاجی) اس تقدیر پر تو ضُرِبَتْ عَلَیْہِمُ الْقُبَّۃ ( کھینچ دیا گیا ان پر خیمہ) سے ماخوذ ہوگا اور یا یہ معنی کہ ذلت اور فقر لیس دیا اور چپکا دیا گیا۔ اس صورت میں ضُرِبَتْ ضُرِبَتِ الطِیْنُ عَلَی الْحَاءِطِ ( مٹی دیوار پر لیپ دی گئی) سے مشتق ہوگا اس ذلت و محتاجی کی وجہ کفران نعمت تھی۔ مَسْکَنَۃ فقر کو اس لئے کہتے ہیں کہ فقر آدمی کو نچلا بٹھا دیتا ہے اور ساکن کردیتا ہے چلبلا پن اور اکڑ سب جاتی رہتی ہے یہودیوں کی حالت دیکھو اگرچہ کیسے ہی مالدار ہوں لیکن فقیر و گدا گر معلوم ہوتے ہیں اور بعض نے کہا : مسکنہ سے مراد دل کا فقر اور مال کی حرص ہے۔ وَ بَاءُ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیَات اللّٰہِ ( اور وہ لوٹے اللہ کے غضب میں یہ اسلئے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے) باء بمعنیرجعوا (وہ لوٹے) اس لفظ کا استعمال شر کے سوا خیر میں نہیں آتا۔ ذٰلککا مشارٌ الیہ غضب ہے۔ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ سے مراد انجیل اور قرآن اور تورات کی وہ آیتیں ہیں جو محمد ﷺ کی نعت میں ہیں۔ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیِیْنَ ( اور نبیوں کو قتل کیا کرتے تھے) نافع نے النبیین اور النبی الانبیاء اور النوبۃ کو ہمزہ سے پڑھا ہے اور قالون نے سورة احزاب میں وامرأۃ مومنہ ان وھبت نفسھا للنبی اور بیوت النبی الا ان یُّوذَنَ لَکُمْ میں النبی کو خاص وصل کی حالت میں بلا ہمزہ کے پڑھا ہے جو قاعدہ دو ہمزہ مک سورة کے جمع ہونے میں جاری کرتے ہیں وہی یہاں بھی جاری کرتے ہیں اور باقی قراء ان الفاظ میں کہیں ہمزہ نہیں پڑھتے جو لوگ ہمزہ پڑھتے ہیں ان کے نزدیک یہ الفاظ مہموز ہوں گے اور جو نہیں پڑھتے ان کے نزدیک بھی یا تو مہموز ہونگے اور ہمزہ کو تخفیف اور کثرت استعمال کے سبب حذف کردیتے ہیں اور یا ناقص اور نبوۃ ( بمعنی مکان مرتفع) سے مشتق ہونگے۔ بِغَیْرِ الْحَقِّ ( یعنی وہ انبیاء کے قتل کو اپنے اعتقاد کے اعتبار سے بھی ناحق سمجھتے تھے کیونکہ انہوں نے انبیاء سے کوئی ایسا امر نہ دیکھا تھا جو ان کے قتل کی اجازت دے صرف نفسانی خواہش اور حب دنیا ہی اس کا باعث ہوئی اور بغیر الحق کے یہ معنی بیان کرنے کی ہمیں اس لیے ضرورت ہوئی کہ اگر یہ توجیہ نہ کی جائے تو پھر بغیر الحق ( ناحق) کے کوئی معنی ہی نہ ہونگے کیونکہ انبیا کا قتل تو ہمیشہ ناحق ہی ہوتا ہے کوئی بھی صورت ایسی نہیں جو ان کا قتل حق ہو۔ مروی ہے کہ یہود نے ایک دن میں ستّر نبیوں کو قتل کیا تھا۔ ذٰلِکَ ( اس کا مشار الیہ کفر اور قتل ہے اگرچہ ذٰلک سے ایک ہی چیز کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے مگر یہاں بتاویل مذکور دو شے یعنی کفر اور قتل کی طرف اشارہ کرنا جائز ہوگیا (اور معنی یہ ہوں گے کہ جو کچھ ذکر کیا گیا یعنی کفر اور قتل نافرمانی کے سبب ہوا) اور ذٰلک سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کرنا اس لیے بھی جائز بلکہ احسن ہوگیا ہے کہ مضمرات اور مبہمات یعنی اسماء اشارہ و اسماء موصولات کا تثنیہ اور جمع حقیقت میں تثنیہ اور جمع نہیں ہے اسی واسطے الذی بمعنی جمع آتا ہے۔ بِمَا عَصَوْا و کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ( نیز) اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور حد سے بڑھ جاتے تھے) یعنی کثرت گناہ اور حد سے تجاوز کرنے کے سبب کفر اور انبیاء کے قتل تک کی نوبت پہنچ گئی تھی بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسم اشارہ یعنی ذالک کو اس لیے مکرر ذکر فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ ان پر غضب کے نزول کا سبب جیسا کہ کفر ہوا اسی طرح معاصی اور حدود اللہ سے تجاوز کرنا بھی ہوا۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست، (یعنی کوئی شخص کسی قوم و مذہب کا ہو) جو خدا اور روز قیامت پر ایمان لائے گا، اور نیک عمل کرے گا، تو ایسے لوگوں کو ان (کے اعمال) کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا اور (قیامت کے دن) ان کو نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ غم ناک ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( جو ایمان لائے) ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر زبانی ایمان لے آئے ہیں خواہ ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اس تقدیر پر اس میں منافقین بھی داخل ہوگئے۔ ( اب اس تفسیر پر آگے جو مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ..... آتا ہے وہ مکرر نہ ہوگا کیونکہ اس سے مراد خالص مؤمن ہیں کما سیجء) ۔ وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا (اور جو یہودی ہوئے) بمعنی تَھَوَّدُوْا چناچہ ھاد اس وقت بولتے ہیں جبکہ کوئی دین یہودیت میں آجائے اور لفظ یہود یا تو عربی ہے ھاد بمعنی تاب ( توبہ کی) سے مشتق ہے۔ یہود کو یہود یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے گو سالہ کی عبادت سے توبہ کی تھی۔ یا اس لیے کہ وہ مقولہ انا ھدنا الیک ( اے اللہ ہم آپ کی طرف رجوع کرتے ہیں) کے قائل ہوئے تھے اور یا یہ لفظ یہوداً کا جو یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادہ کا نام ہے معرب ہے۔ پھر پورے گروہ کو یہود کہنے لگے جیسا کہ اکثر قبائل کے نام ان کے بزرگوں کے نام پر ہوتے ہیں۔ وَالنَّصَارٰی ( اور عیسائی) جمع ہے نصران کی جیسے نَدَامٰٰی جمع ہے ندمان کی اور ی نصرانی میں مبالغہ کی ہے جیسے لفظ احمری ( بہت سرخی میں بھی ی مبالغہ کی ہے۔ نصرانیوں کو یا تو اس لیے نصرانی کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی تھی اور یا یہ کہ وہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے ہمراہ موضع ناصرہ یا نصران میں آئے تھے۔ وَالصَّابِءِیْنَ ( اور بےدین) اہل مدینہ نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے ہمزہ سے صبو کے اصلی معنی خروج (نکلنا) ہیں اور صباأُ فلان اس وقت عرب بولتے ہیں جب کوئی ایک دین سے دوسرے دین کی طرف مائل ہوجائے اور صَبَأ نَاب البَعِیْرِ ( اونٹ کا دانت نکلا) اس وقت بولتے ہیں جب اونٹ کا دانت نکل آتا ہے اور فرقہ صابئین کو صابئین اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کسی دین میں بھی داخل نہیں ہر دین سے نکلے ہوئے ہیں۔ حضرت عمر ؓ اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ صابئین اہل کتاب ہی کی ایک قوم کا نام ہے لیکن یہ دونوں کے احکام میں اختلاف کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے نہ ان کی عورتوں سے نکاح جائز اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ صابئین اہل کتاب میں سے ایک قوم ہے ان کا دین مجوسیت اور یہودیت کے بین بین ہے اور کلبی کہتے ہیں کہ ان کا دین نصرانیت اور یہودی کے درمیان میں ہے نہ پورے نصرانی نہ بالکل یہودی۔ قتادہ کہتے ہیں کہ صابئین اس قوم کا نام ہے جو زبور پڑھتی اور فرشتوں کی عبادت کرتی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتی ہے انہوں نے ہر دین میں سے کچھ حصہ لے کر ایک علیحدہ دین قائم کیا ہے۔ مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ( ان میں سے جو لوگ اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان لائے) ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو اللہ اور محمد ﷺ اور قیامت کے دن پر زبان اور دل دونوں سے ایمان لائے ہیں اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ : اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا میں اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے امت محمد ﷺ کے خالص مؤمن مراد ہیں اور بعض نے کہا پہلی امتوں کے مؤمن مراد ہیں۔ ( بعض نے کہا) وہ لوگ مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ایمان لا چکے تھے اور دین حق کی تلاش و جستجو میں تھے۔ جیسے جیب نجار ‘ قیس بن ساعدہ ‘ زید بن عمرو بن نفیل ‘ ورقہ بن نوفل ‘ البراء الشنی ‘ ابوذر غفار ‘ سلمان فارسّی ‘ بحیرا وھب اور وفد نجاشیان میں سے بعض نے تو اپنا مقصود حاصل کرلیا یعنی نبی اکرم ﷺ کی دولت محبت سے مشرف ہو کر آپ کے جاں نثاروں میں شامل ہوئے اور بعض یہ آرزو اپنے ساتھ لے کر پہلے ہی راہی ملک عدم ہوئے خطیب نے کہا ہے کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے وہ لوگ مراد ہے جو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے دین پر منسوخ ہونے سے پہلے قائم تھے ان سب تفسیروں پر مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ ۔۔ سے وہ لوگ مراد ہوں گے جو ایمان پر مرے میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ ۔۔ سے وہ لوگ مراد ہوں جن کا ایمان تصفیہ و تزکیہ قلب و قالب سے کامل ومنور ہوگیا ہے اور وہ حضرات صوفیہ کرام ؓ ہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے کوئی کامل مؤمن نہ ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ اور اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں اس حدیث کو بخاری مسلم، احمد، نسائی اور ابن ماجہ نے انس ؓ سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور حدیث میں آیا ہے کہ حضور سرور عالم ﷺ نے فرمایا ہے تم میں سے کوئی مؤمن نہ ہوگا جب تک اس کی یہ حالت نہ ہوجائے کہ جو اپنے لیے چاہتا ہے وہی دوسرے کے لیے چاہے اس حدیث کو بخاری، مسلم، احمد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا ہے اور حدیث میں وارد ہوا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا بندہ ایمان کی حقیقت پر نہیں پہنچتا جب تک کہ اپنی زبان پر غمگین نہ ہو ( یعنی جب تک زبان سے نکلے ہوئے برے الفاظ پر غمگین نہ ہو) اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا ہے۔ علامہ بغوی کہتے ہیں ممکن ہے کہ مَنْ اٰمَنَ مِنْھُم۔۔ سے پہلے واؤ مقدر ہو اور آیت کے یہ معنی ہوں کہ اے محمد ﷺ جو لوگ آپ ﷺ کے بعد ایمان لائیں گے۔ وَ عَمِلَ صَالِحًا ( اور نیک کام کرتے رہے) یعنی حق تعالیٰ کے امر کے موافق عمل کئے۔ فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ( تو ان کے لیے ان کے پروردگار کے پاس اجر ہے) اجر سے مراد وہ اجر ہے جس کا حق تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور وہ جنت۔ مراتب قرب اور چشمہ تسنیم ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے مقرب لوگ سیراب ہوں گے۔ وَلَا خوفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ( اور نہ ان کو کسی قسم کا ڈر ہوگا اور نہ غمگین ہوں گے یعنی جس وقت کفار عقاب سے ڈریں گے اور کوتاہی کرنے والے اپنی عمر کے اکارت جانے اور درجات سے محروم رہنے پر غمگین ہوں گے اس وقت ان کے پاس نہ خوف کا گزر ہوگا نہ غم کی باریابی مَنْ اٰمَنَ مِنْھُم میں من مبتداء ہے اور فَلَھُمْ اَجرُھُمخبر۔ مبتدا خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر اِنَّ کی خبر ہے اور یا انّ کے اسم سے بدل ہے اور خبر اِنَّ کی اس صورت اخیرہ میں فلھم اجرھمہو گی اور مسند الیہ یعنی اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْامعنی شرط کو شامل ہے اس لیے فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ خبر پر فلانا جائز ہوگیا۔ سیبویہ کے نزدیک خبر اِنَّ پر فلانا ممنوع ہے لیکن سیبویہ کے اس قول کے تردید میں آیہ اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّم کافی ہے کہ یہاں خبر اِنَّ پر صریحآرہی ہے۔
Ayah 2:63

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّوْر ( اور وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا اور طور (پہاڑ) تم پر اٹھایا ( لٹکایا) یہ عہد حضرت موسیٰ کے اتباع اور تورات پر عمل کرنے کا تھا۔ طور سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔ علامہ بغوی کہتے ہیں کہ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی تو موسیٰ نے اپنی قوم کو اس کے قبول کرنے اور ماننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم فرمایا وہ صاف انکار کر بیٹھے کیونکہ اس میں طرح طرح کے احکام شاقہ تھے اور شریعت موسوی نہایت سخت تھی اس انکار پر حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل کے پھیلاؤ کے موافق ایک پہاڑ کو اس کی جگہ سے الگ کرکے قد آدم بلند سائبان کی طرح ان کے سر پر لا کھڑا کیا اور کہہ دیا کہ اگر تم تورات کو نہ مانو گے تو یہ پہاڑ تم پر چھوڑ دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس قصہ کو اسی طرح نقل کیا ہے اور عطا (رح) نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے سروں پر طور کو لا کھڑا کیا اور ایک آگ ان کے سامنے سے بھیجی اور دریائے شور پیچھے سے آیا اور حکم ہوا کہ قبول کرو ورنہ یہ چیزیں تمہیں ہلاک کر ڈالیں گے۔ خُذُوْا مَا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( اور ہم نے کہا کہ ( اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو۔ تاکہ تم بچ جاؤ) یعنی تورات پر عمل کرو تاکہ معاصی یا ہلاکت سے دنیا میں اور عذاب سے آخرت میں بچو یا یہ معنی کہ تورات پر اس امید سے عمل کرو کہ متقی ہوجاؤ۔ القصہ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ اب تو کوئی بچاؤ کی جگہ بھی نہیں تو جھٹ قبول کرلیا اور سجدہ میں گرپڑے اور اسی حالت میں لگے پہاڑ کو دیکھنے اس لیے یہود میں یہ طریقہ جاری ہوگیا کہ وہ اپنے آدھے چہرہ سے سجدہ کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ ہم پر سے اسی سجدہ کی بدولت عذاب اٹھا یا گیا ہے۔
Ayah 2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَلَولَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ ( پھر تم اس کے بعد پھرگئے (یعنی عہد کے پورا کرنے سے تم نے منہ پھیرا) تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی) فضل سے مہلت دینا اور عذاب کو مؤخر کرنا مراد ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اے نبی اسرائیل اگر محمد ﷺ کے وجود با جود کا فضل تم پر نہ ہوتا تو تم پر ضرور عذاب الٰہی نازل ہوتا کیونکہ حق تعالیٰ نے حضور سرور عالم ﷺ کو رحمت للعالمین بنایا ہے اس لیے حضور کے وجود سراپا جود سے عذاب مؤخر کردیا گیا اور دھنس جانے اور صورتیں بدل جانے کا عذاب اٹھا لیا گیا۔ لَکُنْتُمْ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( تو بیشک تم خسارہ یاب ہوتے) یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو تم اب بھی خسارہ اور عذاب میں گرفتار ہوتے جس طرح کہ پہلے اگر اللہ کا حکم قبول نہ کرتے تو پہاڑ سے ہلاک کر ڈالے جاتے۔
Ayah 2:65

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ( اور تم جان چکے ہو جنہوں نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی) لفظ سبت کے معنی اصل میں قطع کے ہیں اور ہفتہ کو سبت یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو قطع کیا یعنی پیدا کیا یا اس لیے کہ یہود کو اس دن عبادت کے سوا اور کل کاموں سے قطع تعلق کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے زمانہ میں دریا کے کنارے ایک شہر آباد تھا اس میں ستّرہزار بنی اسرائیل تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار حرام فرمایا تھا ان کی آزمائش کے لیے کل مچھلیاں دریا کے اوپر جمع ہوجاتیں اور اس کثرت سے جمع ہو تیں کہ پانی بھی دکھائی نہ دیتا اور ہفتہ کے سوا اور دنوں میں ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی۔ جب انہوں نے یہ کیفیت دیکھی تو شکار کے لیے ایک حیلہ نکالا کہ لب دریا حوض کھود دیتے اور دریا سے پانی اور مچھلیاں آنے کے لیے نالیاں بنا لیتے جب ہفتہ کا دن ہوتا تو پانی کی موج سے مچھلیاں حوض میں آجاتیں اور حوض چونکہ گہرے خوب تھے اور پانی ان میں کم ہوتا تھا اس لیے وہ ان میں سے نکل نہ سکتی تھیں ہفتہ گذرتے ہی اتوار کو ان کا شکار کرتے اور بعض مفسرین نے کہا یہ حیلہ کرتے کہ جال اور کانٹے لگا دیتے مچھلیاں آکر اس میں پھنس جاتیں اور اتوار کو نکال لیتے اور ایلہ والے تین قسم کے ہوگئے ایک وہ کہ خود حیلہ نہ کرتے اور اوروں کو منع کرتے۔ دوسرے وہ کہ خود تو حیلہ نہ کرتے مگر اوروں کو منع بھی نہ کرتے۔ تیسری قسم کے وہ لوگ جو حیلہ کرتے تھے منع کرنے والے بارہ ہزار آدمی تھے جب انہوں نے منع کرنے والوں کا کہا نہ مانا تو داؤد ( علیہ السلام) نے ان پر لعنت کی اور اللہ کا غضب نازل ہوا بندر بن گئے۔ فَقُلْنَا لَھُمْ کُونُوا قِرَدَۃً خَاسِءِیْنَ ( تو ہم نے انہیں کہا بن جاؤ بندر دھتکارے ہوئے) یہ امر تکوینی ہے نہ تشریعی۔
Ayah 2:66

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

اور اس قصے کو اس وقت کے لوگوں کے لیے اور جو ان کے بعد آنے والے تھے عبرت اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا

فَجَعَلْنٰھَا نَکَالاً ( پس بنا دیا ہم نے اس واقعہ کو عبرت) نَکل کے اصل معنی منع یعنی روکنے کے ہیں چونکہ عبرت۔ صاحب عبرت کے لیے گناہوں اور ناشائستہ افعال سے روکنے والی ہوا کرتی ہے اس لیے اسے بھی نکال بولنے لگے اور اسی وجہ سے قید کو بھی نکل بولتے ہیں کہ وہ اسیر کو فرار سے مانع ہے۔ لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَ مَا خَلْفَھَا ( موجودہ اور گذشتہ لوگوں کے لیے) اس کے یا تو یہ معنی ہیں جو ہم نے ( آیت کے ترجمہ میں) اختیار کئے ہیں اور اس صورت میں ما دونوں جگہ بمعنی من ہوگا اور یا یہ معنی کہ ہم نے اس واقعہ کو ان کی گذشتہ اور آئندہ حرکات اور معاصی کی وجہ سے عبرت بنا دیا۔ اس صورت میں ما اپنے معنی پر رہے گا اور لام تعلیل کا ہوگا اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے فَجَعَلْنَا ھَا وَ مَا خَلْفَھَا نَکَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا اس صورت میں حاصل یہ ہوگا کہ ہم نے اس واقعہ کو اور جو اس کے بعد اس کی عقوبت قیامت میں مرتب ہوگی ان کے موجودہ گناہوں کی وجہ سے عبرت بنا دیا (اس میں سراسر تکلف ہے) وَ مَوْعِظَۃ لِّلْمُتَّقِیْنَ ( اور پرہیزگاروں کیلئے نصیحت) متقین سے امت محمدیہ کے متقی مؤمن مراد ہیں۔
Ayah 2:67

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ ایک بیل ذبح کرو۔ وہ بولے، کیا تم ہم سے ہنسی کرتے ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ میں الله کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ ( جب کہا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے) اس قصہ کا شروع تو اللہ نے دوسرے رکوع وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا سے بیان فرمایا ہے اور یہاں اس مقام پر بقیہ قصہ ار شاد ہوتا ہے اور اس تقدیم و تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اگر قصہ کو ترتیب سے بیان فرماتے تو من وجہ یہ سمجھا جاتا کہ قصہ مقصود ہے اس لیے آخر کو اوّل بیان فرمایا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو مستقل طور سے بنی اسرائیل کا کفران نعمت اور حکم الٰہی سے تمسخر کرنا اور اس میں کرید کرنا اور حکم پہنچنے پر تعمیل نہ کرنا بیان فرمانا مقصود ہے۔ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص عامیل نامی مالدار تھا اور اس کا ایک چچا زادبھائی فقیر تھا اور عامیل کا اس چچا زاد بھائی کے سوا کوئی وارث نہ تھا جب اس نے دیکھا کہ میرے سوا اس کا کوئی اور وارث نہیں اور آخر کار اس کا ترکہ مجھے ہی ملے گا تو لاؤ اس کا کام ابھی تمام کردو اور سارا مال اپنے قبضہ میں لاؤ یہ سوچ کر اسے قتل کر ڈالا اور اس کی نعش کو ایک دوسرے گاؤں میں لے جا کر عین آبادی میں پھینک دیا پھر دوسرے دن اس کی جستجو و تلاش کرنے لگا اور کئی آدمیوں پر خون کا دعویٰ بھی کردیا موسیٰ ( علیہ السلام) نے جو ان لوگوں کو بلا کر پوچھا تو انہوں نے کہا ہم نے قتل نہیں کیا موسیٰ ( علیہ السلام) بہت حیران ہوئے پھر ان سب نے حضرت موسیٰ سے التجا کی کہ آپ جناب باری میں دعا فرمائیں کہ یہ معاملہ فیصل ہوجائے اور قاتل کا پتہ لگ جائے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے دعا کی حکم ہوا۔ اِنَّ اللہ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً ( اللہ تعالیٰ تمہیں حکم فرماتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو) بقرہ بقر بمعنی شق (چیرنا) سے مشتق ہے۔ بقرہ کو بقرہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زمین کو زراعت کے لیے چیرتی ہے۔ قَالُوْا ( انہوں نے کہا ) اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا ( کیا تم ہم سے تمسخر کرتے ہو) گائے ذبح کرنے کے حکم کو اس لیے انہوں نے تمسخر قرار دیا کہ بھلا گائے ذبح کرنے اور قاتل معلوم ہونے میں کیا مناسبت وہ اسے دل لگی و تمسخر سمجھے اور یہ نہ سمجھے کہ احکام الٰہیہ میں اسرار ہوا کرتے ہیں عقول متوسط ان کے فہم سے قاصر ہوا کرتی ہیں۔ انہیں چاہئے تھا کہ فوراً تعمیل حکم کرتے۔ ھُزوًا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ حاصل یہ ہے ” کہ کیا تو ہمیں مسخرہ بناتا ہے۔ “ یا ھزُوًا کو بمعنی اسم مفعول نہ کہا جائے بلکہ مصدر کو خود اپنے ہی معنی پر رکھا جائے اس وقت یہ توجیہ کی جائے کہ مبالغہ کے لیے بجائے ھُزوا ھزوا کہہ دیا اس تقدیر پر یہ مطلب ہوا کہ اے موسیٰ کیا آپ نے ہمیں مذاق اور دل لگی سمجھ لیا “ اور یا ھزُوًا سے پہلے لفظ اہل محذ وف مانا جائے اس صورت میں یہ حاصل ہوگا کہ کیا ہمیں مسخری کرنے والے بنا رہے ہو۔ حفص نے ھزُوًا اور کفوا میں زاء اور فاء کو مضموم پڑھا ہے اور حمزہ نے فا اور زا کو ساکن کرکے پڑھا ہے اور حمزہ نے کفوا اور ھزوا کو وصل کی حالت میں ہمزہ سے پڑھا ہے اور وقت کی صورت میں ہمزہ کو واؤ سے بدل کر پڑھا ہے اور باقی قراء نے ضمہ فاء اور ذاء اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔ قَالَ اَعُوْذُ باللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجَاھِلِیْنَ ( حضرت موسیٰ نے) کہا پناہ اللہ کی اس سے کہ میں نادان بن جاؤں) مطلب یہ ہے کہ ہنسی اور دل لگی اور جواب مطابق سوال نہ دینا تو جاہلوں کی عادت ہے جاہلوں سے اللہ کی پناہ میں ایسا کیوں ہوں گا گویا اس کلام میں موسیٰ نے تمسخر کی تہمت کا انکار کردیا۔ اعوذ باللہ سے یہ ظاہر کردیا کہ یہ تہمت استہزاء اور خاص کر مجھ پر کہ میں نبی برحق ہوں نہایت سخت اور عظیم ہے جب ان لوگوں نے جانا کہ گائے ذبح کرنا اب ہم پر اللہ کی طرف سے آہی پڑا اور پہلے سے گائے کے ذبح کرنے اور اپنے مقصود کے حصول میں بعد سمجھے تھے اس لیے یہ خیال کہ جس گائے کے ذبح کرنے کا حکم ہوا ہے۔ وہ کوئی بڑی عجیب گائے ہوگی اس لیے اس کی صفات کے طالب ہوئے اور یہ ان کی بڑی حماقت تھی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر یہ لوگ کوئی سی گائے لے کر ذبح کردیتے تو کافی تھی لیکن انہوں نے آپ پر تنگی کی اللہ تعالیٰ نے ان پر تنگی و تشدد فرمایا۔ اِس حدیث کو حضرت سعید بن منصور نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور ابن جریر نے بسند صحیح حضرت ابن عباس ؓ سے موقوفاً روایت کیا ہے ان کی اس پوچھ گچھ میں جو انہیں ایک خاص گائے ذبح کرنی پڑی۔ خدا تعالیٰ کی ایک عجیب حکمت تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک مرد صالح تھا اور اس کا ایک صغیر سن لڑکا تھا اور اسکے پاس ایک گائے کا بچہ تھا جسے وہ اپنے مرنے سے پہلے جنگل میں لایا اور اللہ تعالیٰ سے مناجات کی۔ خداوندا میں اس گائے کے بچہ کو اپنے بیٹے کے جوان ہونے تک آپ کے پاس امانت رکھتا ہوں پھر اسے چھوڑ کر چلا آیا اور آکر مرگیا۔ وہ بچھیا جنگل میں چرا کرتی جو اسے دیکھتا اس سے دور بھاگ جاتی جب وہ لڑکا جوان ہوا تو بڑا نیک تھا۔ والدہ کا بہت خدمت گذار بنا رات کے تین حصے کرکے ایک میں سوتا۔ دوسرے حصہ میں نماز پڑھتا۔ تیسری میں اپنی والدہ کے سرہانے بیٹھ جاتا اور سویرے جنگل سے لکڑیاں لا کر بازار میں فروخت کرتا اور اس کی قیمت کے تین حصہ کرکے ایک حصہ تو اللہ کی راہ میں دیتا اور ایک حصہ والدہ کو دیتا اور ایک میں آپ کھاتا پیتا ایک دن اس کی والدہ نے کہا بیٹا تیرا باپ تیرے لیے ایک گائے میراث میں چھوڑ گیا ہے اور فلاں جنگل میں سپرد خدا ہے تو جا اور یہ کہہ کر آواز دے کہ اے ابراہیم و اسماعیل کے معبود وہ گائے عنایت فرمادے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ جب تو اسے دیکھے گا تو تجھے معلوم ہوجائے گا کہ اس کی کھال سے گویا سورج کی شعاعیں نکل رہی ہیں اور چونکہ وہ گائے بہت خوبصورت اور زرد رنگ تھی اس لیے لوگ اسے سنہری گائے کہا کرتے تھے وہ جوان اپنی والدہ کے فرمانے کی بموجب اس جنگل میں آیا تو اسے چرتے دیکھ کر جس طرح ماں نے پکارنے کو کہا تھا پکارا وہ گائے بحکم الٰہی دوڑ کر سامنے چلی آئی۔ جوان گردن پکڑ کر کھینچنے لگا۔ گائے بولی اے ماں کے خدمت گزار مجھ پر سوار ہو لے تجھے آرام ملے گا اس نے کہا میری ماں کا یہی حکم ہے کہ گردن پکڑ کر لانا نہ کہ سوار ہو کر۔ گائے بولی اے جوان تو میرے کہنے سے سوار ہوجاتا تو پھر میں ہرگز تیرے قابو میں نہ آتی اور تیرا ماں کی اطاعت کے سبب وہ مرتبہ ہے کہ اگر تو پہاڑ کو حکم دے تو تیرے ساتھ چلنے لگے القصہ وہ گائے لے کر اپنی ماں کے پاس آیا۔ ماں نے کہا کہ بیٹا تو فقیر ہے دن کو لکڑیاں لانے رات کو قیام کرنے کی تجھ پر سخت مشقت و تکلیف ہے اس لیے مناسب یہ ہے کہ اسے فروخت کردے۔ جوان نے قیمت پوچھی کہا تین دینار کو دے دے۔ ( اس وقت گائے کی عام قیمت یہی تھی) ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ جب بیچنے لگے تو مجھ سے پوچھ لینا جوان اپنی مادر مہربان کے فرمانے کے بموجب گائے کو بازار میں لے گیا ادھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت دکھلانے اور اس کو اس کی والدہ کی خدمت میں جانچنے کے لیے ایک فرشتہ بھیجا آتے ہی اس نے قیمت پوچھی جوان نے کہا تین دینار مگر شرط یہ ہے کہ میں اپنی والدہ سے پوچھ لوں فرشہ نے کہا تو مجھ سے چھ دینار لے اور گائے مجھے دے دے ماں سے پوچھنے کی ضرورت نہیں اس نے کہا تو مجھے اگر اس کے برابر سونا بھی تول دے تو میں بلا رضا مندی اپنی والدہ کے نہ دوں گا یہ کہہ کر اپنی ماں کے پاس آیا اور کیفیت بیان کی ماں نے کہا جاؤ چھ ہی دینار کو دے دینا مگر خریدار سے میری رضا مندی کی شرط کرلینا۔ جوان پھر بازار گیا اور اس سے ملا اس نے کہا تو نے اپنی والدہ سے پوچھ لیا کہا ہاں پوچھ لیا مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ میری رضا مندی کی شرط کرلینا اس خریدار غیبی نے کہا تو اپنی ماں سے نہ پوچھ اور مجھ سے بارہ دینار لے جو ان نے انکار کیا اور اپنی ماں کے پاس آیا اور سارا قصہ بیان کیا ماں نے کہا وہ فرشتہ ہے تیرا امتحان لیتا ہے اب اگر اس سے ملنا ہو تو یہ پوچھنا کہ ہم اسے فروخت کریں یا نہ جب وہ بازار گیا اور اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے بیچنے کی بابت دریافت کیا اس نے کہا اپنی والدہ سے کہنا کہ اسے ابھی فروخت نہ کریں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) تم سے ایک مقتول کے معاملہ میں خریدیں گے تم اسے کھال بھر دینار سے کم میں فروخت نہ کرنا چناچہ انہوں نے اسے فروخت نہ کیا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ امر مقدر فرما دیا تھا کہ یہ فلاں گائے ذبح کریں گے اس لیے وہ اس کے لیے وہ اس کے اوصاف حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے پوچھتے رہے اور اللہ تعالیٰ اس گائے کے اوصاف بیان فرماتا رہا۔ حتی کہ اس کے تمام و کمال اوصاف بیان کردیئے یہ سب اس جوان کی نیک نیتی اور اپنی والدہ کی خدمت کا ثمر تھا اور اللہ تعالیٰ ککا اس پر فضل و رحم تھا۔
Ayah 2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو

قَالُوْا دْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ( کہنے لگے پوچھ ہمارے رب سے بیان فرما دے ہمیں کہ وہ کیسی (گائے) ہے) لفظ ما سے اکثرجنس سے سوال ہوتا ہے اور یہاں جنس معلوم تھی جانتے تھے کہ گائے ہے لیکن یہاں اس کی حالت دریافت کرنی منظور ہے اور بظاہر یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ای بقرۃ ( وہ کونسی گائے) کَیْفَ ھِیَ ( وہ کیسی ہے) استعمال فرماتے لیکن ان الفاظ کے ترک کرنے اور مَا ھِیَ کے اختیار کرنے میں یہی وجہ ہے جو پہلے گذر چکی کہ بنی اسرائیل اسے بہت عجیب سمجھتے تھے کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کا پتہ لگ جائے وہ اپنے جی میں یہ سمجھے ہوئے تھے کہ کوئی عجیب گائے ہوگی جس کی تمام گایوں سے شان نرالی ہوگی گویا کہ وہ گائے کی جنس ہی نہ ہوگی بلکہ کچھ اور ہوگی صرف برائے نام گائے ہوگی اس لیے یہ قرار دے کر کہ انہیں اس کی حقیقت ہی معلوم نہیں لفظ مَا ھِیَاستعمال کیا ہے۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ (حضرت موسیٰ نے) کہا ( اللہ تعالیٰ ) فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے یقول انھا میں ضمیر ہاء اس گائے کی طرف راجع ہے جس کا حکم ہوا تھا۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ اس گائے کی طرف ضمیر راجع ہونے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے سے انہیں ایک خاص گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا اور اس صورت میں وقت خطاب سے بیان کی تاخیر لازم آتی ہے اور یہ جائز نہیں تو جواب یہ ہے کہ وقت خطاب سے بیان کی تاخیر جائز ہے البتہ وقت حاجت سے تاخیر نہ ہونی چاہئے نیز ضمیر کے راجع ہونے سے تعیین ہرگز معلوم نہیں ہوتی کیونکہ مطلق اطلاق پر دلالت کرتا ہے سو ضمیر سے اتنا سمجھا جاتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو اور وہ مطلق ہے تعیین کہاں سمجھی گئی۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی سی ایک گائے ذبح کردیتے تو کافی تھا۔ ہاں اس سے یہ ضرورمعلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی مطلق کا اوّل حکم ہو تو اس کی تقیید جائز ہے اور یہ تقیید اگر اطلاق سے کچھ مدت بعد ہوگی تو نسخ کے حکم میں ہوگی اور نسخ ادا سے پہلے جائز ہے چناچہ شب معراج میں پچاس نمازیں واجب ہوئی تھیں پھر اسی وقت منسوخ کردی گئیں اور اگر مطلق اور اس کی تقیید میں کچھ مدت فاصل نہ ہو تو یہ تقیید تخصیص ہوگی جیسا کہ آیت : فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ ایام میں ابن مسعود ؓ کی قراءت میں لفظ متتابعات زیادہ ہے تو یہ لفظ ثلٰثۃ ایامکا مخصص ہوجائے گا اور اسی بناء پر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر مطلق اور مقید دو واقعوں میں ہوں تو مطلق کو مقید پر حمل نہ کریں گے جیسا کہ کفارہ ظہارہ میں تحریر رقبہ ( آزاد کرنا ایک غلام کا) اور کفارہ قتل میں مؤمنہ کی قید زیادہ ہے تو ہر ایک پر عمل کریں گے مطلق کی جگہ مطلق پر مقید کی جگہ مقید پر عمل اور جو مطلق و مقید ایک واقعہ میں ہوں اور تقیید و اطلاق اسباب کے اندر ہوتی ہو تو اس صورت میں بھی دونوں پر عمل کریں گے چناچہ حدیث میں صدقہ فطر کے باب میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :” صدقہ فطر ہر آزاد کی طرف سے ادا کیا کرو۔ “ اور دوسری حدیث میں ہے کہ غلام مسلمان اور آزاد مسلمان کی طرف سے دیا کرو۔ “ تو حنفیہ ان دونوں پر عمل کرتے اور مسلمان اور کافر دونوں کی طرف سے دیتے ہیں۔ مسلمان غلام کی طرف سے تو ہر دو حدیث کی وجہ سے اور کافر غلام کی طرف سے اوّل حدیث کی وجہ سے۔ البتہ اگر ایک ہی حکم اور ایک ہی واقعہ میں مطلق اور مقید وارد ہوں تو مطلق کو مقید پر حمل کریں گے کیونکہ ایسے موقعہ پر دونوں کو کسی طرح جمع نہیں کرسکتے اور مطلق میں تقیید کا احتمال موجود ہی ہے اس لیے حنفیہ نے قسم کے کفارہ میں روزوں کے اندر پے در پے ہونے کی شرط کی ہے۔ ابن جریر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت : وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ ( اللہ کے لیے لوگوں پر خانہ کعبہ کا حج ہے) نازل ہوئی تو عکاشہ بن محصن ؓ نے سرور عالم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہر سال حج فرض ہے آپ نے کچھ جواب نہ دیا پھر پوچھا۔ پھر بھی آپ ﷺ نہ بولے جب تیسری دفعہ پوچھا تو آپ نے فرمایا ہر سال فرض نہیں اور فرمایا اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال فرض ہوجاتا اور تم سے ہو نہ سکتا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مطلق میں تقیید کا احتمال ہے۔ لَّا فَارِضٌ ( نہ بوڑھی) یعنی نہ ایسی بوڑھی ہو کہ بچہ دینے کے قابل نہ رہی ہو۔ گائے جب بچہ دینے کے قابل نہیں رہتی تو عرب فرضت البقرۃ فروضا ( گائے بوڑھی ہوگئی) بولتے ہیں اور یہ لفظ فرض بمعنی قطع سے مشتق ہے بوڑھی کو فارض کہنے کی وجہ یہ ہے کہ گویا اس کی عمر کے برس منقطع ہوگئے۔ وَّ لَا بِکْرٌ ( اور نہ بن بیاہی) یعنی نہ ایسی چھوٹی ہو کہ بچہ دینے کے قابل بھی نہ ہو ب ک ر کی ترکیب اولیت کے واسطے ہے جس کلمہ میں یہ حرف ہوں گے اس میں اولیت کے معنی پائے جائیں گے چناچہ باکورہ اس پھل کو کہتے ہیں جو پہلے پہل اترے۔ فارض اور بکر سے تائے تانیث اس لیے حذف کرلی گئی کہ یہ دونوں صفتیں مؤنث کے ساتھ مختص ہیں جیسا کہ لفظ حائض سے حذف کردی گئی ہے۔ عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِکَ ( ان دونوں میں بیچ کی راس) اخفش نے کہا ہے کہ عوان اس مادہ کو کہتے ہیں جو کئی دفعہ بچے دے چکی ہو چناچہ عونت المرأۃ ( عورت ادھیڑ ہوگئی) عرب اس وقت بولتے ہیں جبکہ عورت کا سن تیس سے متجاوز ہوجائے۔ ذٰلک کا مشار الیہ بتاویل مذکور فارض اور بکر ہے کیونکہ بَیْنَ ہمیشہ متعدد کی طرف مضاف ہوا کرتا ہے۔ فَافْعَلُوْا مَا تُوْمَرُوْنَ ( اب کرو جو تمہیں حکم دیا گیا) ما یا تو موصولہ ہے یا مصدریہ اگر موصولہ ہو تو یہ معنی ہونگے کہ ” جس شے کا حکم کئے جاتے ہو اسے کر۔ “ اور اگر مصدر یہ ہو تو مصدر کو اسم مفعول کی تاویل میں کریں گے اور معنی یہ ہوں گے کہ اپنے امر شدہ حکم کو بجا لاؤ۔ “ ان لفظوں میں امتثال امر الٰہی پر تحریض و ترغیب اور بار بارسوال کرنے پر تہدید و توبیخ ہے۔
Ayah 2:69

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ پروردگار سے درخواست کیجئے کہ ہم کو یہ بھی بتائے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ نے کہا، پروردگار فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں (کے دل) کو خوش کر دیتا ہو

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۭ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا ( وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ ہمیں اچھی طرح سمجھا دے کہ اس کا کیا رنگ ہے ( موسیٰ نے) کہا : (خدا) فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے زرد ہے اور اس کا رنگ خوب گہرا ہے) لفظ فاقع۔ صفراء کی تاکید ہے اور لونھا فاعلیت کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فاقع کے معنی گہری زردی کے ہیں اور حسن نے کہا زردی سیاہی مائل۔ میں کہتا ہوں کہ فاقع کے معنی زردی سیاہی مائل کے نہیں ہیں کیونکہ فقوع خالص زردی کو بولتے ہیں اور اسی لیے فاقع کو اس کی تاکید کہا گیا جیسا کہ اسود حلک ( کا لا بھجنگ) احمرقانی ( گہرا سرخ) اخضر ناصر ( خوب سبز) ابیض نقق ( بہت سفید) مبالغہ کے لیے بولتے ہیں۔ تَسُرُّ النَّاظِرِیْنَ ( دیکھنے والوں کو بھلی لگتی ہو یعنی ایسی گہری زردی ہو کہ دیکھنے والوں کو بھلی معلوم ہو۔ سرور اصل میں اس لذۃِ قلبی کا نام ہے جو کسی نفع کے حاصل ہونے یا حاصل ہونے کی امید سے پائی جائے۔
Ayah 2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی

قَالوُادْ عُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ( بولے اپنے رب سے ہمارے لیے پوچھ کہ ہمیں اچھی طرح سمجھادے کہ وہ کس قسم میں ہے) یہ پہلے ہی سوال کی تکرار ہے جو مزید انکشاف کی طلب کے لیے ہے۔ اِنَّ الْبََقَرَ تَشَابَہ عََلَیْنَا ( ہمیں گایوں میں شبہ پڑگیا) یہ مکرر سوال کرنے کا عذر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن صفات کی گائے ارشاد ہوئی ہے اس جیسی بہ کثرت پائی جاتی ہیں اس لیے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی گائے سے ہمارا مقصود حاصل ہوگا اور تشابھت مؤنث کا صیغہ اس لیے نہیں استعمال کیا کہ لفظ بقر مذکر ہے ( اگرچہ مراد مؤنث ہے) ۔ وَ اِنَّا اِنْشَآء اللّٰہُ لَمُھْتَدُْنَ ( خدا نے چاہا تو ہم ٹھیک پتہ لگا لیں گے) یعنی اگر خدا نے چاہا تو ہم ایسی گائے ذبح کرنے کی طرف راہ یاب ہوں گے یا یہ مطلب کہ ہمیں قاتل مل جائے گا۔ آیت : وَ اِنَّا اِنْ شَاء اللّٰہُُ لَمُھْتَدُوْنَسے ہمارے علماء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جہاں جو واقعات ہوتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہوتے ہیں۔ معتزلہ اور کر امیہ نے یہ مستنبط کیا ہے کہ ارادہ خداوندی حادث ہے اہل سنت کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ : وَ اِنَّا اِنْ شَاء اللّٰہُ میں تعلیق باعتبار تعلق ہے۔ ( یعنی ارادہ جو جناب باری کی صفت ہے وہ تو قدیم ہی ہے لیکن واقعات کے ساتھ اس کا تعلق حادث ہے) جناب سرور کائنات علیہ افضل الصلوت والتحیات نے فرمایا ہے کہ اگر بنی اسرائیل لفظ انشاء اللہ نہ کہتے تو ابدالآباد تک اس گائے کا پتہ نہ چلتا ہے۔ اس حدیث کو بغوی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے اور ابن جریر نے اس کی سند کو معضل کہا ہے۔