Ayah 2:33قَالَ یَآ اٰدَمُ اَنْبِءْھُمْ بِاَسْمَاءِھِمْ ( فرمایا اے آدم تم فرشتوں کو ان ( چیزوں) کے نام بتادو) مفسرین کے قول کے مطابق بِاَسْمَاءِھِمْم میں ضمیر ھم ان اشیاء کی طرف راجع ہے کہ جن کے نام حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سکھلائے گئے تھے اور جو ہم نے تفسیر لکھی ہے اس کے موافق ملائکہ کی طرف راجع ہوگی اور یہ معنی ہونگے کہ اے آدم فرشتوں کو ان ناموں کی خبر دو جو وہ سیکھ سکتے ہیں یا یہ معنی کہ وہ نام بتاؤ جس کا سیکھنا ہم نے ان کے لیے مقدر کیا ہے اور بجائے بِاَسْمَآءِھِمْ کے بِاَسْمَاءِکُمْ ( اے آدم جو تمہیں نام تعلیم کئے گئے ہیں وہ انہیں بتادو) اس لیے نہیں فرمایا کہ اجمالاً تمام اسماء الٰہیہ کا سیکھنا اس پر موقوف ہے کی ذات باری تعالیٰ تک رسائی ہو اور یہ رسائی بشر کے ساتھ مخصوص ہے ملائکہ کو میسر نہیں۔
فَلَمَّا اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَاءِھِمْ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ( سو جب آدم نے فرشتوں کو ان ( چیزوں) کے نام بتا دیئے تو ( خدا نے فرشتوں سے مخاطب ہو کر) فرمایا کیوں ہم نے تم سے نہ کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں ہمیں معلوم ہیں یہ جو فرمایا ہم نے تم سے نہ کہا تھا۔۔ یہ پہلی آیت اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ کی طرف اشارہ ہے۔ حرمیین اور ابو عمرو نے اِنِّیْ کو یاء کے فتح سے پڑھا اور اسی طرح ہر یاء اضافت کو کہ اس کے بعد الف قطع مفتوح ہو فتح دیتے ہیں مگر چند حروف جو اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں انہیں ہم ان کے محل پر ذکر کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ باقی قراء اس یاء کو سوائے چند جگہ کے فتح نہیں دیتے۔ ان مقامات کو بھی ہم ان کی جگہ پر ذکر کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُْنَ ( اور میں وہ جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو) حسن اور قتادہ نے کہا ہے کہ : وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ میں مَا تُبْدُوْنَسے مراد مضمون آیت اَتَجْعَلُ فِیْھَا مَنْْ یُفْسِدُ فیھَا ہے اور
وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْن ( جو تم چھپاتے تھے) سے مراد فرشتوں کا وہ قول ہے جو آپس میں چپکے چپکے کہا تھا کہ خدا تعالیٰ ہم سے زیادہ بزرگ کوئی خلق پیدا نہ کرے گا۔ علامہ بغوی نے لکھا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ حضرت آدم کا جسد جب مکہ اور طائف کے درمیان پڑا تھا ابلیس ادھر سے گذرا اور کہا اس کو کیوں پیدا کیا گیا ہے پھر اس میں منہ کی راہ میں داخل ہو کہ پیچھے کو نکل گیا اور کہا یہ مخلوق اپنے آپ کو کسی شے سے بچا نہ سکے گی کیونکہ یہ اندر سے بالکل خالی اور کھوکھلا ہے۔ پھر اور فرشتے جو اس کے ساتھ تھے ان سے کہا اگر اس کو تم سے افضل بنایا گیا اور تم کو اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا تو بولو کیا کرو گے سب نے ایک زبان ہو کر کہا ہم اپنے رب جلیل کی اطاعت کریں گے۔ ابلیس نے اپنے دل میں کہا خدا کی قسم اگر میں اس پر مسلط کیا گیا تو میں اسے تباہ کرکے رہوں گا اور جو یہ مجھ پر مسلط کیا گیا تو میں اس کی نہ مانوں گا اور سرکشی و سرتابی کے سوا اور کچھ نہ کروں گا اس پر حق تعالیٰ نے فرمایا : وَاَعْلَمُ مَاُ تبْدُوْنَ وَ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ یعنی فرشتوں نے جو ہماری اطاعت ظاہر کی اسے ہم جانتے ہیں اور شیطان نے جو سرکشی اور معصیت اپنے جی میں چھپا رکھی اس سے بھی ہم واقف ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی نکلتا ہے کہ انبیاء جو انسانوں میں سب سے افضل و خالص بندے ہیں وہ خاص اور افضل فرشتوں سے بھی افضل و اعلیٰ ہیں اور فرشتوں میں افضل وہ ہیں جو انبیاء کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے قاصد بن کر پیام رسانی کرتے ہیں اہل سنت کا مذہب بھی یہی ہے اور یہ جو علماء نے کہا ہے کہ عوام بشر یعنی اولیاء متقی اور صالح عام ملائکہ سے افضل ہیں سو یہ امر قرآن سے ثابت نہیں ہاں حدیثوں سے ثابت ہے۔ چناچہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مؤمن اللہ کے نزدیک بعض فرشتوں سے افضل ہے اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ( علیہ السلام) اور ان کی ذریت کو پیدا کیا تو ملائکہ نے عرض کیا اے رب کریم، یہ تیرے بندے کھاتے پیتے نکاح کرتے اور سوار ہوتے ہیں اور ہم سب کے سب ان تمام چیزوں سے بالکل پاک صاف ہیں تو انہیں دنیا کے ساتھ مخصوص کر دے اور ہمیں آخرت عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بھلا جس مخلوق کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح کو اس میں پھونکا تو اس مخلوق کی طرح ایسی مخلوق کو کس طرح کردوں گا جو میرے کُنْ کے کہتے ہی فوراً پیدا ہوگئی۔ اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے جنت میں بنی آدم اللہ تعالیٰ کی رویت سے مشرف ہوں گے اور فرشتے اس دولت عظمیٰ اور غنیمت کبریٰ سے محروم رہیں گے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ بشر ملائکہ سے افضل ہیں اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ کی رویت تو جنت میں اولیاء کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ اس رویت سے تو تمام مؤمنین مشرف ہوں گے البتہ درجوں کے تفاوت سے رویت میں تفاوت ہوگا۔ چناچہ بعض کو تو صبح و شام رویت نصیب ہوگی اور بعض کو ہر جمعہ اور بعض کو ہر برس اور بعض کو اس سے زیادہ مدت میں تو اس سے عوام ملائکہ پر تمام مومنین کی افضلیت لازم آتی ہے خواہ وہ فاسق ہی ہوں کیونکہ سب مؤمن خواہ فاسق و فاجرہوں یا مطیع و فرمانبردار عذاب بھگتنے کے بعد آخر کار جنت میں جائیں گے چناچہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرً ا یَّرَہٗ یعنی جو ذرّہ برابر بھی عمل کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔ رسول اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہے اور اس کے جی میں گیہوں کے دانہ برابر خیر ہو یا فرمایا ایمان ہو تو وہ آگ سے نجات پا جائے گا اور فرمایا جو لَا الٰہَ اِلَّا اللّٰہ کہے اور اس کے دل میں ایک ذرّہ برابر خیر ہو یا فرمایا : ایمان ہو تو وہ جہنم سے خلاصی پا جائے گا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے حضرت انس سے روایت کیا ہے ایک روایت میں ہے کہ جو شخصلا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ُ کہے اور پھر اسی پر اس کی موت آجائے تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا اگرچہ زنا اور چوری کرے۔ اگرچہ زنا اور چوری کرے۔ اگرچہ زنا اور چوری کرے خواہ ابوذر ؓ ناراض ہی ہو ضرور جنت میں جائے گا۔ اس کو مسلم نے حضرت ابوذر سے روایت کیا اور ظاہر ہے کہ فاسق کا معصوم سے افضل ہونا نہ تو عقلاً جائز ہے اور نہ شرعاً چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِِیْنَ ( کیا ہم ( اپنے) فرمانبردار بندوں کو گنہگاروں کی برابر کردیں گے) تو میں اس اشکال کے جواب میں کہتا ہوں کہ یہ تو ظاہر ہے کہ فساق عقاب و سزاء کے بعد مغفرت پا کر جنت میں جائیں گے اور وہ عذاب یا تو دنیا کی مصیبتوں میں سے ہوگا یا عذاب قبر یا دوزخ میں یا توبہ کرلیں گے تو بلا عقاب چلے جائیں گے اور بعض کو محض فضل باری تعالیٰ شامل حال ہوگا نہ توبہ کریں گے نہ عقاب ہوگا اور جب مغفرت ہوگئی تو نہ فسق رہے گا نہ معصیت بلکہ اولیاء اور متقی اور صلحاء میں جا ملیں گے اور اگرچہ اولیاء کرام باعتبار مراتب ان سے زیادہ ہوں تو اب مغفرت کے بعد نہ کوئی معصیت رہے گی نہ فسق لہٰذا کوئی اشکال ان کی افضلیت میں نہیں ‘ واللہ اعلم۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فرشتوں کے علوم اور کمالات ترقی پذیر ہیں اور وہ بشر سے کسب کمالات کرسکتے ہیں اور جو کوئی یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے : وَ مَا مِنَّا اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌ ( ہم میں سے (یعنی فرشتوں میں سے) ہر ایک کا ایک درجہ اور مقام معین ہے) اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے ایک مقام سے دوسرے مقام تک ترقی نہیں کرتے جو جس کا مقام ہے وہیں رہتا ہے تو اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ مقام اسماء اور صفات کے سے آگے مقام ذات تک ترقی نہیں کرسکتے بخلاف بشر کے کہ وہ مقام محرومی سے مقام ظلال تک اور وہاں سے صفات اور اسماء اور شیونات اور پھر مقام ذات تک ترقی کرسکتا ہے اس ذیل میں بہت سے درجات اور اعتبارات ہیں کہ ان کی تفصیل کی یہ مقام گنجائش نہیں رکھتا اور نہ زبان کو قوت کہ اسے بیان کرسکے۔
Ayah 2:34وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ ( اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو) ابو جعفر نے لِلْمَلٰءِکَۃِ اسْجُدُوْا میں ملائکہ کی تا کو اُسْجُدُوا کے ہمزہ وصل کا ضمہ دے کر مضموم پڑھا ہے اور اسی طرح قل رَّبِ اْحکُمْ میں رب کی باء کو مضموم پڑھا ہے اور باقی قراء نے کسر باء سے پڑھا ہے سجود کے معنی لغت میں تذلل یعنی فروتنی کے ہیں اور اصطلاح شرع میں سجود کے معنی عبادت کے قصد سے زمین پر پیشانی رکھنے کے ہیں۔ فرشتوں کو جس سجدہ کا حکم ہوا تھا یا تو اس سے مراد سجدہ شرعیہ ہے تو اس وقت حقیقت میں خدا تعالیٰ مسجود ہوگا اور حضرت آدم کو محض عزت بڑھانے اور ان کی افضلیت کا اقرار کرانے کے لیے قبلہ بنا دیا گیا تھا امام احمد اور مسلم کی ایک حدیث جو ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے شرعی معنی مراد ہونے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب ابن آدم سجدہ کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے تو شیطان ایک گوشہ میں الگ جا کر روتا اور کہتا ہے کہ افسوس ابن آدم کو سجدہ کا حکم کیا گیا تو اس نے سجدہ کرکے جنت لے لی اور مجھے سجدہ کا حکم کیا گیا تو میں نے نافرمانی کی اور حکم نہ مانا میں جہنم میں جاؤں گا۔ 1 اس تقدیر پر لِاٰدَمَ میں لام الیٰ کے معنی میں ہوگا اور یہ معنی ہوں گے کہ آدم ( علیہ السلام) کی طرف متوجہ ہو کر ہمیں سجدہ کرو جیسا کہ حضرت حسان ؓ کے شعر میں جو جناب صدیق اکبر ؓ کی مدح میں ہے لام الیٰ کے معنی میں ہے شعر یہ ہے۔
اَ لَیْسَ اَوَّلُ مَنْ صَلّٰی لِقِبْلَتِکُمْ وَ اَعْرَفَ النَّاس بالْقُرْانِ وَالسُّنَنِ
کیا صدیق اکبر ؓ ان لوگوں میں جو قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھتے ہیں سب سے اوّل نہیں اور کیا وہ سب سے زیادہ قرآن اور حدیث سے واقف نہیں ( یعنی ضرور ہیں) اس شعر میں لِقِبْلَتِکُمْ میں لام قطعاً بمعنی الیٰ ہے اور یا یہ کہا جائے کہ فرشتوں سے چونکہ بظاہر ادم ( علیہ السلام) کے پیدا کرنے پر ایک اعتراض صادر ہوا تھا اس لیے بطور توبہ کے ایک سجدہ ان کے ذمہ واجب ہوا تو اس سجدہ کا سبب بعید حضرت آدم ہوئے اس لیے لِاٰدَمَ فرمایا تو اب آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت آدم کی وجہ سے ہمیں سجدہ کرو اس تقدیر بر لام لِاٰدَمَ میں سببیت کا ہوگا جیسا کہ صَلِّ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ( نماز پڑھ سورج ڈھلنے کے سبب) میں لام سببیت کا ہے یا سجدہ لغویہ مراد ہے یعنی حضرت آدم کے سامنے تحیۃ اور تعظیم کے طور پر تذلل اور تواضع کرنا مراد لیا جائے جیسا کہ یوسف ( علیہ السلام) کے بھائیوں نے انہیں سجدہ تحیۃ کیا تھا۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ یہ قول صحیح تر ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سجدہ میں فرشتوں نے زمین پر پیشانی نہیں رکھی بلکہ آدم ( علیہ السلام) کے سامنے تعظیم کے لیے جھک گئے تھے اور جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام بھیجا تو اسے بھی باطل و منسوخ کرکے بجائے اس کے سلام مقرر فرمادیا۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ حضرت آدم کی تعظیم کا جو حکم دیا گیا تھا تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آدم ( علیہ السلام) نے جو انہیں اسماء الٰہی تعلیم فرمائے تو بطور شکر اور ادائے حق انہیں آدم ( علیہ السلام) کی تعظیم کا حکم ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے آدمی کی شکر گذاری نہیں کی اس نے اللہ کا بھی شکر نہیں کیا۔ اس حدیث کو امام احمد اور ترمذی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کی تصحیح بھی کی ہے۔
فَسَجَدُوْآ ( سب نے سجدہ کیا) یعنی ملائکہ نے سب کے سب نے۔
اِلَّآ اِبْلِیْسَ ( سوا ابلیس کے) یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ ابلیس ملائکہ میں سے تھا ورنہ اسثناء صحیح نہ ہوگا اور ابن عباس ؓ کی روایت جو ہم پہلے لکھ آئے ہیں وہ بھی اس کی موید ہے اور اس سے یہ بھی مستنبط ہوا کہ تمام فرشتے نہیں ہوتے بلکہ اکثر ان میں معصوم ہیں جیسا کہ آدمیوں میں بعض معصوم اور اکثر غیر معصوم ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ ابلیس جنوں میں سے تھا ملائکہ میں پیدا ہوا اور ہزاروں برس ان میں رہا اس لیے تغلیباً اس پر بھی ملک کا اطلاق کیا جاتا ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ فرشتوں کے ساتھ جنوں کو بھی سجدہ کا حکم ہوا تھا لیکن صرف فرشتوں کے ذکر پر اس لیے اکتفاء فرمایا کہ جب بڑوں کو سجدہ کا حکم ہوا تو چھوٹے کس شمار میں ہیں انہیں تو سجدہ کا حکم ہونا بغیر ذکر کے خود سمجھا جاتا تھا اس لیے انہیں صراحت کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت نہ سمجھی گئی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کی بعض قسم ایسی ہو کہ شیاطین اور ان کی جنس ایک ہو اور اختلاف عوارض کی وجہ سے ہو اگر اس پر کوئی یہ اعتراض کرے کہ امام مسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ملائکہ نور سے پیدا کئے گئے اور جن خالص آگ سے اور آدم اس شے 2 سے جو تمہیں بتائی گئی۔ تو یہ حدیث صاف اس پر دلالت کرتی ہے کہ ملائکہ اور جن مختلف الجنس ہیں نہ متحد الجنس تو جواب اس کا یہ ہے کہ اس حدیث میں جنوں کی ایک خاص قسم کا بیان ہے کہ ان کی اور فرشتوں کی حقیقت بالکل مختلف ہے کہ وہ مذکر و مؤنث اور صفت توالد سے موصوف نہیں ہوتے یا یہ تاویل کی جائے کہ نور اور آگ ایک جنس ہے۔ فرق دونوں میں صرف اتنا ہے کہ نور میں شستگی و صفائی بہ نسبت ناء کے زیادہ ہوتی ہے اور آیت : وَ جَعَلُوْا بَیْنَہٗ وَ بَیْنَ الْجِنَّۃِ نَسَبًا ( اور ٹھہرایا ہے کفا رنے جنوں اور خدا تعالیٰ کے درمیان نسب اور رشتہ) کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جن اور ملائکہ کی ایک حقیقت ہے وا اللہ اعلم بحقیقت الحال۔
اَبٰی ( اس نے انکار کیا) یعنی سجدہ کرنے سے رکا۔
وَاسْتَکْبَرَ ( اور بڑا بنا) یعنی اس بات سے بڑائی ظاہر کی کہ آدم ( علیہ السلام) کی تعظیم کرے یا انہیں حق تعالیٰ کی عبادت کا ذریعہ بنائے۔
وَ کَانَ ( اور تھا) یعنی اللہ کے علم میں اول سے کافر تھا یا یہ معنی کہ اب ہوگیا۔
مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ( کافروں میں سے) اور ترک واجب کی وجہ سے کافر نہیں ہوا کیونکہ ترک واجب کفر نہیں بلکہ حق تعالیٰ نے جو اسے حضرت آدم کے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو اس نے اس حکم کو قبیح سمجھا اور استخفاف کیا اور اپنے آپ کو ان سے افضل سمجھا چناچہ اَنَا خَیْرٌ مِنْہ ( یعنی میں اس سے بہتر ہوں بول اٹھا اس لیے کافر ہوا )
Ayah 2:35وَ قُلْنَا یَآ اٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُکَ الْجَنَّۃَ ( اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں بسو) بغوی نے فرمایا ہے کہ جنت میں حضرت آدم ( علیہ السلام) کا کوئی ہم جنس نہ تھا ( اس لیے اکثر ان کی طبیعت ہم جنس نہ ہونے کے سبب گھبرایا کرتی تھی) ایک دن وہ سو رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں جانب سے حضرت حوّ ا کو پیدا کیا جب سو کر اٹھے تو دیکھا کہ سر کے قریب ایک خوبصورت عورت بیٹھی ہوئی ہے حضرت آدم ( علیہ السلام) نے پوچھا تو کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں حوا آپ کی بیوی ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لیے پیدا کیا ہے کہ آپ کو میری وجہ سے آرام ہو اور مجھے آپ کی وجہ سے چین ہو۔ اللہ تعالیٰ نے صرف آدم ( علیہ السلام) کو خطاب فرمایا اور اول سے دونوں کو خطاب نہ فرمایا اس لئے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) ہی کو امر فرمانا مقصود تھا اور حوا ان کی تابع تھیں۔
وَ کُلَا مِنْھَا رَغَدًا ( اور اس میں سے بافراغت کھاؤ)
حَیْثُ شیءْتُمَا ( جہاں کہیں سے تمہارا جی چاہئے)
وَ لَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ( اور اس درخت 1 کے پاس نہ پھٹکنا ( اگر ایسا کرو گے تو اپنی جانوں کو نقصان دینے والوں میں سے ہو گے) حکم میں قوّت پیدا کرنے کے لیے درخت کے پاس جانے سے منع فرمایا ورنہ مقصود اس کے کھانے سے منع کرنا تھا اور نیز اس لیے منع فرمایا کہ کسی شے کے پاس جانے سے اس کی طرف خواہش اور رغبت ہوتی ہے اور فرط خواہش میں حکم شرع بھی یاد نہیں رہتا اس آیت سے یہ مسئلہ مستنبط ہوتا ہے کہ جو چیز معصیت کے قریب کرنے والی ہے وہ مکروہ ہے اور شجر کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا وہ کونسا شجر 2 تھا ؟ حضرت ابن عباس اور محمد بن کعب تو یہ کہتے ہیں کہ وہ گیہوں کی بال تھی ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ انگور تھا ابن جریح کہتے ہیں کہ انجیر تھا اور علی ؓ سے مروی ہے کہ کافور تھا بعض کا قول ہے کہ مراد شجرۃ العلم ہے اس میں بھی اختلاف ہے کہ شجر سے مراد جنس شجر ہے یا شجرہ مخصوص۔ ظَالِمِیْنَ کے معنی اپنی جانوں کو ضرر دینے والے کے ہیں۔ ظلم کے اصلی معنی کسی شئے کو بےموقع رکھنے کے ہیں۔
Ayah 2:36فَاَزَلَّھُمَا الشَّیْطَانُ عَنْھَا ( پھر پھسلا دیا شیطان نے انہیں وہاں سے) عنہا میں ضمیر ھا یا تو شجرہ کی طرف راجع ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ شیطان نے آدم و حوا (علیہما السلام) کو اس درخت کے کھانے کے سبب رستہ سے ڈگمگا دیا اور یا جنت کی طرف راجع ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ شیطان نے انہیں جنت سے دور کردیا اور اس آخری معنی کی تائید حمزہ کی قرأت فَنَازَلَّھُمَا سے ہوتی ہے جس کے معنی ہیں : ” دور کیا ان دونوں کو “ شیطان شطن بمعنی بعدْ ( دوری) سے مشتق ہے کیونکہ شیطان بھی خیر اور رحمت سے دور اور پرے ہے اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب شیطان بارگاہ خداوندی سے ملعون اور راندۂ درگار ہوا اور اسے نکل جانے کا حکم ہوا تو پھر کسی طریق سے اسے آدم ( علیہ السلام) تک رسائی ہوئی کیونکہ وہ تو جنت میں تھے۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ جب ابلیس نے آدم و حوا ( علیہ السلام) کو بہکانے کے لیے جنت میں جانے کا ارادہ کیا تو اسے جنت کے نگہبانوں نے روکا تو اس کے پاس سانپ آیا چونکہ ابلیس کی پہلے سے اس کے ساتھ دوستی تھی اور یہ سانپ کل جانوروں سے زیادہ خوبصورت تھا اس کے چاروں پاؤں مثل اونٹ کے تھے اور یہ بھی جنت کا محافظ تھا ابلیس نے کہا تو مجھے اپنے منہ میں رکھ کر جنت میں پہنچا دے اس نے قبول کیا اور منہ میں لے کر چلا جب جنت کے اور محافظ ملے تو انہیں کچھ خبر نہ ہوئی کہ ابلیس اس کے منہ میں بیٹھا ہے یہ اس طریق سے جنت میں چلا گیا۔
ابن جریر نے ابن مسعود ابن عباس، ابو العالیہ، وہب بن منبہ اور محمد بن قیس ؓ سے بھی اسی روایت کے موافق روایت کیا ہے حسن نے کہا ہے کہ آدم و حوا (علیہما السلام) اکثر جنت کے دروازے پر آیا کرتے تھے ایک روز جو وہ معمول کے موافق آئے تو شیطان نے انہیں بہکا دیا۔
علامہ بغوی نے فرمایا کہ جب حضرت آدم جنت میں گئے تو بولے کیا خوب ہو جو ہمیشہ اس میں رہا کریں پھر جبکہ شیطان جنت میں آدم و حوا کے پاس جا کھڑا ہوا تو انہیں خبر نہ تھی کہ یہ ابلیس ہے ( یہ بات سنتے ہی) بےاختیار زارو قطاررونے لگا اور اتنا رویا اور نوحہ کیا کہ ان دونوں پر بھی رقت طاری ہوگئی ( سب سے پہلے نوحہ کرنے والا ابلیس ہے) جب آدم و حوا نے اس کے نوحہ وزاری کو دیکھا تو بولے کیوں روتا ہے ؟ ابلیس نے کہا مجھے تمہارے ہی اوپر رونا آتا ہے کہ اب تم دونوں مرو گے اور جنت کی نعمتیں تم سے چھوٹ جائیں گے یہ خبر وحشت اثر سن کر آدم و حوا (علیہما السلام) کو بھی اثر ہوا اور دونوں کے دونوں غمزدہ ہوگئے جب ابلیس لعین نے دیکھا کہ میرا جادو اثر کر گیا تو چارہ گری کے لہجے میں کہنے لگا کہ خیر جو مقدر میں ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا لیکن اب میں تمہیں ایک تدبیر بتاتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ فلاں درخت کھانے سے ہمیشہ کی زندگی نصیب ہوجاتی ہے۔ حضرت آدم نے انکار کیا اور کہا کہ میں اس درخت کو کبھی نہ کھاؤں گا جب اس نے دیکھا کہ میرے ہاتھ سے شکار نکلا تو بولا خدا کی قسم میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ آدم و حوا ( علیہ السلام) اس لعین کی باتوں میں آکر دھوکہ کھا گئے اور خیال کیا کہ بھلا ایساکون ہے جو خدا کی جھوٹی قسم کھائے ( آخر کار) پہلے تو حضرت حوا نے پیش قدمی کی اور جا کر اسے کھالیا پھر حضرت آدم ( علیہ السلام) نے کھایا۔ سعید بن المسیب ؓ اللہ کی قسم کھا کر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت آدم ( علیہ السلام) نے ہوش و حواس میں نہیں کھایا بلکہ حوا نے انہیں شراب پلا دی تھی جبکہ خود نشہ میں مست ہوگئے تو حوا انہیں کھینچ کر اس درخت کے پاس لے گئیں انہوں نے کھالیا۔
فَاَخْرَجَھُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ پس نکلوا دیا دونوں کو اس ( آرام) سے کہ جس میں تھے۔
ابن عباس اور قتادہ ؓ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے فرمایا آدم جو نعمتیں ہم نے تمہارے لیے جنت میں جائز اور مباح کردی تھیں کیا وہ کافی نہ تھی جو یہ تم نے کھایا آدم نے عرض کیا خداوندا جنت کی نعمتیں بیشک میرے لیے بہت تھیں مگر مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ کوئی تیرے نام کی جھوٹی قسم بھی کھاتا ہے۔ سعید بن جبیر ؓ نے ابن عباس ؓ سے روایت کی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ( علیہ السلام) سے فرمایا آدم تم نے یہ فعل کیوں کیا۔ انہوں نے عرض کیا کہ الہ العالمین حوا نے ایسی باتیں بنائیں کہ وہ درخت مجھے بھلا معلوم ہوا۔ جناب باری تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ میں اس پر عذاب مسلط کروں گا یعنی حمل میں تکلیف ہوگی اور پھر وضع حمل کے وقت دکھ اور تکلیف اور رنج علیحدہ اور ہر مہینے جو خون آیا کرے گا وہ جدا یہ سن کر حوا رونے لگیں حکم ہوا کہ تجھ پر اور تیری سب بیٹیوں پر رونا مسلط کیا گیا۔
وَ قُلْنَا اھْبِطُوْا ( اور ہم نے حکم دیا کہ تم سب اتر جاؤ)
ُبَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ( تم ایک دوسرے کے دشمن ہو) بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدَوٌّ حال ہے ضمیر کی وجہ سے واؤ حالیہ کی ضرورت نہ رہی۔ علامہ بغوی نے عکرمہ ؓ سے انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کرکے کہا ہے یہ حدیث مرفوع ہی ہے کہ نبی ﷺ سانپوں کے مار ڈالنے کا حکم فرمایا کرتے تھے اور فرمایا ہے جو انہیں خوف کی وجہ سے چھوڑ دے اور نہ مارے وہ ہم میں سے نہیں۔ ایک روایت میں ہے جب سے ہماری انکی ( یعنی سانپوں کی) لڑائی ہوئی پھر صلح نہیں ہوئی ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ میں جنوں کی ایک قوم مسلمان ہوگئی ہے اگر تم کہیں سانپ دیکھو تو (اسی وقت نہ مارو ممکن ہے کہ کوئی ان جنوں میں سے ہوا) اوّل اسے تین بار مہلت دو پھر اگر دل چاہئے تو مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔
وَلَکُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ ( اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا ہے) مستقر موضع قرآن ہے۔
وَّمَتَاعٌ اِلٰی حینَ ( اور نفع مندہونا ہے ایک مدت تک ( موت کے آنے تک)
Ayah 2:37فَتَلَـقّيٰٓ اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ پھر اسی کیلئے آدم نے اپنے رب سے ( معذرت کے) چند کلمے۔
ابن کثیر نے فَتَلَقّٰی اٰدَمُ میں آدم کو منصوب اور کَلِمَاتٍ کو مرفوع پڑھا ہے اس قرأت پر یہ معنی ہونگے کہ آدم کے پاس ان کے رب کی طرف سے کلمات آئے اور یہ کلمات حضرت آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول ہونے کے سبب تھے۔ باقی اور قاریوں نے آدم کو مرفوع اور کلمات کو منصوب پڑھا ہے اس تقدیر پر تلقٰے کے معنی سیکھ لیے ہونگے اور وہ کلمات یہ ہے : رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور برباد ہوجائیں گے بعض نے کہا ہے کہ وہ کلمات یہ نہ تھے بلکہ وہ کلمات استغفار وزاری کے تھے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آدم و حوا ( علیہ السلام) دو سو برس روئے اور چالیس روز تک نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ حضرت آدم سو برس تک حوا کے پاس نہ آئے۔ یونس بن حباب اور علقمہ بن مرثد فرماتے ہیں کہ اگر سارے زمین والوں کے آنسوں جمع کئے جائیں تو حضرت داوٗد ( علیہ السلام) کے آنسو ان سے زیادہ ہونگے اور اگر حضرت داوٗد اور زمین والوں کے آنسو جمع کئے جائیں تو حضرت آدم ( علیہ السلام) کے آنسو بڑھ جائیں گے۔ شہر بن حوشب فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آدم ( علیہ السلام) نے گناہ کی شرمندگی سے تین سو برس تک سر نہیں اٹھایا۔
فَتَابَ عَلَیْہِ ( تو اللہ ان پر متوجہ ہوا) یعنی پھر اللہ ان پر متوجہ ہوا) یعنی پھر آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول کرلی۔
توبہ گناہ کا اقرار کرنے اور اس پر نادم و شرمندہ ہونے اور آئندہ ایساکام نہ کرنے کا عزم مصمم کرنے کو کہتے ہیں صرف حضرت آدم ( علیہ السلام) کی توبہ قبول ہونے کو اس لیے ذکر فرمایا کہ حضرت حوا تبعًا مذکور ہوگئیں اور یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک میں عورتوں کا ذکر نہیں کیا گیا (تبعاً مردوں کے ساتھ عورتیں مذکور ہوگئیں) ۔
اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ ( بیشک وہی توجہ فرمانے والا) یعنی بندوں پر مغفرت کے ساتھ رجوع کرنے والا اور متوجہ ہونے والا ہے توبہ کے اصل معنی لغت میں رجوع کے ہیں۔ اگر بندہ کی طرف منسوب کریں تو گناہ سے پھرنا اور باز رہنا مراد ہوگا اور جو اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت کریں تو عذاب کرنے سے اعراض فرمانا اور مغفرت کی طرف توجہ فرمانا مقصود ہوگا۔
الرَّحِیْم ( بہت بڑا مہربان ہے) مبالغہ کا صیغہ ہے۔
Ayah 2:38قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا ( ہم نے حکم دیا کہ تم سب کے سب یہاں سے اتر جاؤ) بعض مفسرین نے کہا ہے کہ پہلی آیت میں جو اترنا مذکور ہے تو وہ جنت سے آسمان پر تھا اور اس آیت میں جو مذکور ہے وہ آسمان سے زمین پر اترنا ہے اور بعض نے کہا کہ دوسری مرتبہ یا تو تاکید کے لیے ذکر فرمایا ہے یا اختلاف مقصود کی وجہ سے کیونکہ اول تو بطور عقاب و عذاب اور دوسری دفعہ حکم تکلیفی دینے کے طریق پر ارشاد فرمایا۔ جمیعاً ترکیب میں حال ہے اور معنی کے اعتبار سے پہلے مضمون کی تاکید ہے سو یہ اس کو مقتضی نہیں کہ انہیں جمع ہی ہو کر اترنے کا حکم ہو۔
فَامََّا یَاتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی ( پھر اگر میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے فا عطف کے لیے ہے۔ ان حرف شرط اور ما زائد ہے اِنْ کی تاکید کے لیے بڑھا دیا گیا ہے اور اسی بنا پر یاتی فعل پر نون تاکید لانا صحیح ہوگیا ورنہ اس میں طلب کے معنی نہیں اور نون تاکید ایسے ہی افعال میں آتا ہے۔ جن میں طلب کے معنی ہوں۔ ھُدًی سے مراد رسول اور کتاب ہے اور خطاب اولاد آدم کو ہے ( جو آدم کی پشت میں موجود تھی)
فَمَنْ تَبَِعَ ھُدَایَ ( تو جو میری ہدایت پر چلیں گے) مَنْ حرف شرط ہے اور شرط ثانی یعنی مَنْ تَبِعَ اپنی جزاء سے مل کر جزاء شرط اوّل (فَاَمّا یَأْتِیَنَّکُمْ مِنِّیْ ھُدًی) کی ہے اس کلام سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہدایت کے آنے میں شک اور احتمال ہے تو اس طرز سے بیان فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ رسول اور کتاب کا بھیجنا عقلاً واجب نہیں بلکہ ممکن ہے۔ کسائی نے ھُدَایَی مَثْوَایَ ۔ مَحْیَایَ کو جہاں کہیں بھی واقع ہوں امالہ سے پڑھا ہے اور رُوْیَاکَ کو صرف سورة یوسف کے اوّل میں امالٰہ سے پڑھا ہے اور ابو عمرو اور ورش نے خاص رؤیاک کو بین پڑھا ہے۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ حق تعالیٰ نے لفظ ہدیٰ تو مکرر ذکر فرمایا ہے اور پہلے ہدی کی طرف ضمیر راجع نہ فرمائی ‘ اس کہ وجہ یہ ہے کہ اوّل مقام پر تو ہدی سے مراد عام معنی ہیں اور دوسری جگہ خاص اور وہ یہ ہے کہ جو ہدایت رسول لائے ہیں اور جسے عقل مقتضی ہے تو اس کے موافق یہ معنی ہونگے کہ جو میری ہدایت کا اتباع اور اس طرح پر کرے کہ جس پر عقل گواہی دیتی ہے اس کی بھی اس میں رعایت رکھے۔
فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ ( انہیں نہ کچھ ڈر ہوگا)
وَ لَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ( اور نہ وہ کبھی غمگین ہوں گے) یعنی جس امر سے انہیں خوف ہوگا وہ اس خوف سے غمگین نہ ہوں گے مطلب یہ کہ خوف ہی نہ ہوگا کیونکہ خوف تو ایسے امر پر ہوتا ہے جو آئندہ ہونے والا ہو اور حزن ایسے امر پر ہوتا ہے جو واقع ہوچکا ہو۔ یا یہ معنی ہیں کہ آخرت میں تکلیف دہ امر کا انہیں خوف نہ ہوگا اور نہ کسی محبوب شے کے فوت ہونے کا غم۔ گویا بطور مبالغہ عذاب کی نفی فرمائی ہے اور ثواب ثابت کیا ہے۔
Ayah 2:39وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اور جو نافرمانی کرینگے) : مَنْ تَبِعَ پر عطف ہے گویا یہ ارشاد ہے جو ہماری ہدایت کو نہ مانے بلکہ کفر کرے۔
وَ کَذَّبُوا بِاٰیَاتِنَآ ( اور ہماری آیتوں ( قرآن وغیرہ کتب) کو جھٹلائیں گے) ۔
اُوْلٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ( وہی دوزخی ہوں گے) قیامت میں۔
ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے) یعنی اس میں رہیں گے نہ نکلیں گے نہ مریں گے۔ اس قصہ سے تین باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ جنت پیدا کردی گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ اوپر کی جانب ہے۔ تیسرے یہ کہ کافروں کو ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوگا کبھی نجات نہ پائیں گے۔ فرقہ حشویہ نے اس قصہ سے یہ نکالا ہے کہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) معصوم نہ تھے کہتے ہیں کہ دیکھو حضرت آدم ( علیہ السلام) باوجودیکہ نبی تھے مگر پھر ایک امر ممنوع کے مرتکب ہوئے ہمارے علماء نے ان کو مختلف طور سے جواب دیئے ہیں۔
(1) جب یہ واقعہ ہوا اس وقت وہ نبی نہ ہوئے تھے اور جو اس کا مدعی ہے اسے دلیل لانی چاہئے (2) یہ کہ وہ نہی تنزیہی نہیں اور ظالم و خاسر اپنے آپ کو اس لیے کہا ( اگرچہ ظالم و خاسر کا اطلاق مرتکب کبیرہ پر آتا ہے) کہ انہوں نے ایک ادنیٰ و افضل کے ترک سے اپنے نفس کو ظلم و خسران میں ڈالا۔ (3) انہوں نے بھول کر کھایا تھا نہ قصداً و ارادۃً چناچہ خدا تعالیٰ خود اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ( یعنی پس آدم بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادہ نہ پایا) اور یہ بھولنا اس طرح واقع ہوا کہ جب ابلیس لعین نے باتیں بنائیں اور قسمیں کھائیں تو اس کے اس کہنے سننے اور قسمیں کھانے سے حضرت آدم کا میلان اس درخت کی طرف ہوا مگر انہوں نے اپنے نفس کو اللہ کے حکم کی وجہ سے روک لیا اس کے بعد شراب پی اور نشہ چڑھا تو کچھ یاد نہ رہا اور میل طبعی جوش زن ہوا اور کھالیا۔ اب رہی یہ بات کہ جب بھولے سے یہ فعل کیا تو معتوب کیوں ہوئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عتاب اس بات پر ہوا کہ ایسے امور کے مرتکب کیوں ہوئے جس سے یہ آفت بھولنے کی پیش آئی ‘ ہوشیار کیوں نہ رہے اور ممکن ہے کہ بھولنا امت سے تو معارف کردیا گیا ہو اور انبیا سے بوجہ ان کے مقرب اور معزز ہونے کے معاف نہ کیا گیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ خطا و نسیان صرف امت محمدیہ علیہ الصلوٰۃ والتحیۃ سے معاف کیا گیا ہو یہ مسئلہ عنقریب سورت کے آخر میں مفصل طور سے آئے گا (4) اجتہاد میں خطا واقع ہوئی تھی تحریم کو نہی تنزیہ سمجھ گئے۔ یا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ سے خاص معین درخت سمجھے اور اس قسم کے دوسرے درخت سے کھالیا حالانکہ مراد خداوندی یہ تھی کہ اس قسم کا جو بھی درخت ہو اسے نہ کھاؤ رہا عتاب تو وہ بطور مواخذہ نہیں ہوا بلکہ بطورسببیت کے ہوا۔ جیسا کہ کوئی بھولے سے زہر کھالے تو وہ اس کے اثر سے ضرور مرے گا۔ شروع سورت سے یہاں تک حق تعالیٰ نے توحید اور رسالت ہی کے دلائل بیان فرمائے ہیں اور کسی خاص قوم کی طرف خطاب کرکے نہیں فرمایا بلکہ عام طور سے سب کو مخاطب بنایا اور جو نعمتیں تمام بنی آدم کو شامل اور عام تھیں وہ سب بیان فرمائیں اب عنان خطاب خاص گروہ بنی اسرائیل کی طرف منعطف فرماتے ہیں اور منجملہ دیگر قبائل اور گروہوں کے انہیں اس لیے خطاب فرمایا کہ یہ سورت مدنی ہے مدینہ میں بنی اسرائیل کثرت سے تھے اور ان لوگوں میں اکثر اہل علم بھی تھے اور ان کی بہ نسبت دوسری قوموں کا اتنا غلبہ بھی نہ تھا اور نیز دوسرے لوگ بےچارے اُمّی اور کم سمجھ تھے اس لیے مناسب ہوا کہ انہیں اسلام کی طرف متوجہ کیا جائے۔ تاکہ وہ لوگ بھی انکی تقلید سے راہ حق پر آجائیں اور ان کا اتباع اور ان کے لیے حجت بن جائے اس لیے ارشاد ہوتا ہے۔
Ayah 2:40یٰبَنبِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ ( اے اسرائیل کی اولاد) بنی اصل میں بَنِیْنَ تھا نون اضافۃ کی وجہ سے گرگیا بنین ابن کی جمع ہے اور ابن بناء سے مشتق ہے جس کے معنی بنا اور تعمیر کرنے کے ہیں کیونکہ ابن (پسر) بھی باپ کا بنا کیا ہوا ہوتا ہے ( یعنی باپ ایک ظاہری سبب اس کی بنا کا بن جاتا ہے) اسرائیل حضرت یعقوب ( علیہ السلام) کا لقب ہے۔ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے اس کے معنے ہیں عبد اللہ ( اللہ کا بندہ) اِسْرَاء بمعنی عبد اور ایل بمعنی اللہ بعض نے کہا ہے کہ اسرائیل کے معنی ہیں صفوۃ اللہ ( اللہ کا برگزیدہ) ابو جعفر نے اسرائیل کو بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے۔
اذْکُرُوْا ( یاد کرو) ذکر اصل میں دل سے یاد کرنے کو کہتے ہیں اور جو زبان سے یاد ہو اسے بھی اس وجہ سے ذکر کہ دیتے ہیں کہ زبان سے یاد کرنا دل سے یاد کرنے کی دلیل ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اذکروا کے معنی ہیں ” شکر کرو “ کیونکہ شکر میں یہی نعمت کا ذکر ہوتا ہے حسن فرماتے ہیں کہ نعمت کا ذکر کرنا ہی شکر ہے۔
نِعْمَتِیْ ( میرے احسان) لفظ نعمت لفظاً بصیغہ واحد ہے مگر اس کے معنی جمع کے ہیں کیونکر نعمت ایک نہ تھی بلکہ غیر متناہی نعمتیں تھیں۔
اَلَّتِیْ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ( جو میں نے تم پر کئے) خاص انہیں نعمتوں کے یاد کرنے کا امر اور حکم فرمانا کہ جو انہیں دی گئی تھیں اس بنا پر ہے کہ یہ یاد رضا و شکر اور اطاعت نبوی کا باعث ہو کیونکہ جو نعمت اپنے پر ہوا کرتی ہے وہی موجب شکر و اطاعت ہوا کرتی ہے اور غیروں کی نعمت و خوشحالی بعض اوقات حسد اور غیرت کا سبب بن جاتی ہے۔ چہ جائیکہ شکر اور اطاعت کا سبب بنے ( اس میں اختلاف ہے کہ وہ کون کون سی نعمتیں ہیں جنہیں بنی اسرائیل کو یاد کرنے کا حکم ہوا) قتادہ فرماتے ہیں وہ وہی نعمتیں ہیں جو بنی اسرائیل ہی کے ساتھ خاص تھیں جیسا کہ فرعون سے نجات دینا ‘ اس کو غرق کرکے دریا میں رستہ بنا دینا ‘ بیاباں میں ابر کا سائباں بننا۔ دیگر مفسرین نے فرمایا ہے کہ تمام نعمتیں مراد ہیں جو ان پر اور سب پر ہوئیں۔
وَاَ فُوْا بِعَھْدِیْ ( اور تم پورا کرو میرا اقرار) اقرار پورا کرنے سے مراد یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اطاعت اختیار کرو۔
اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ( پورا کروں گا میں اقرار تمہارا) یعنی تمہیں اطاعت اور ایمان کا بدلہ اور اجر دوں گا عہد کی اضافت معاہد اور معاہد دونوں کی طرف ہوتی ہے چناچہ اس آیت میں ایسا ہی ہوا ہے کیونکہ عہد کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے کہ بنی اسرائیل سے ایمان کا عہد لیا اور ثواب کا وعدہ فرمایا پس بِعَھْدِی میں اضافت عہد کرنے والے کی طرف ہے اور بِعَھْدِکُمْ میں جس سے عدہ کیا ہے اس کی طرف ہے یا یہ کہا جائے کہ دونوں جگہ اضافت مفعول ہی کی طرف ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ تم نے جو مجھ سے عہد کیا ہے اسے تم پورا کرو تو میں نے جو عہد کیا ہے اسے میں پورا کردوں گا۔ ابن جریر نے بسند صحیح ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ میرے عہد کو پورا کرو یعنی محمد ﷺ پر ایمان لاؤ میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا یعنی احکام شاقہ مثل قطع موضع نجاست وغیرہ تم سے اٹھادوں گا۔ علامہ بغوی نے فرمایا کلبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) کی زبانی بنی اسرائیل سے یہ عہد کیا تھا کہ میں بنی اسماعیل میں ایک نبی اُمّی بھیجوں گا جو تم میں سے اس کا اتباع کرے گا اور جو نور اس کے پاس ہوگا اس کی تصدیق کرے گا تو میں اس کے گناہ بخش دوں گا اور جنت میں داخل کرکے دو چند اجر دوں گا۔ اس میں اختلاف ہے کہ قرآن پاک میں اس عہد کا ذکر کونسی آیت میں ہے۔
کلبی کہتے ہیں کہ وہ عہد یہ ہے : وَ اِذْ اَخَذَ اللہ ُ مِیْثاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ ( یعنی یاد کرو اس وقت کو جب کہ اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا یعنی محمد ﷺ کے بارے میں جو عہد لیا ہے اسے یاد کرو۔
میں (مفسر) کہتا ہوں کہ وہ عہد حق تعالیٰ کا وہ قول ہے جو موسیٰ ( علیہ السلام) کے جواب میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : رَبِّ لَوْ شِءْتَ اَھْلَکْتَھُمْ مِنْ قَبْلُ وَ اِیَّا یَ سے اِنَّا ھُدْنَا اِلَیْکَ قَالَ عَذَابِی اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَاءُ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ فَسَاَکْتُبْھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُوْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیَاتِنَا یُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مکْتُوْبًا عِنْدَ ھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِتک۔ قتادہ اور مجاہد نے فرمایا کہ عہد سے مراد سورة مائدہ کی یہ آیت ہے : وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَاءِیْلَ وَ بَعَثْنَا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا وَ قَال اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ لَءِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَ اَتَیْتُمُ الزَکٰوۃ وَ اَمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْھُمْ وَ اقَرْضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءً السَّبِیْلِ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان ہی میں کے بارہ سردار مقرر کئے اور اللہ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور ان کی مدد کرو گے اور اللہ کو نیک قرض دیتے رہو گے تو میں بالضرور تم سے تمہارے گناہ دور کردوں گا اور تمہیں جنتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں پھر جس نے تم میں سے اس کے بعد کفر کیا وہ بیشک سیدھی راہ سے بہک گیا اور حسن نے فرمایا ہے کہ عہد سے مراد سورة بقرہ کی یہ آیت ہے : وَ اِذْ اَخَذْنَا میثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ خُذُوْا مَا اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ( یعنی اور جب لیا ہم نے تم سے عہد اور بلند کیا تم پر پہاڑ اور کہا ہم نے پکڑو جو ہم نے تمہیں دیا مضبوطی سے اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم بچ جاؤ اور جو شے بنی اسرائیل کو دیکھی وہ شریعت موسوی تھی ( تو حسن کے قول کے موافق عہد سے مراد شریعت موسوی ہوئی) میں کہتا ہوں کہ ان اقوال میں باہم کچھ مخالفت اور اختلاف نہیں حسن اور قتادہ کے ہر دو قول کا حاصل بھی وہی ہے جو کلبی اور ابن عباس کے قول کا ہے کیونکہ اول قول جو قتادہ اور مجاہد کا ہے اس میں یہ ہے اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے اور پیغمبروں میں محمد ﷺ بھی ہیں تو آپ ﷺ پر بھی ایمان لانے کا اقرارہوا اور بعینہٖ یہی قول ابن عباس اور دوسرا قول حسن کا ہے وہ یہ ہے کہ عہد سے مراد شریعت تورات ہے اور ظاہر ہے کہ شریعت توراۃ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ محمد ﷺ پر ایمان لاؤ پس حسن کے قول کا حاصل بھی وہی ہوا جو ابن عباس اور کلبی کے قول کا ہے۔
وَ اِیَّایَ ( اور مجھ سے) فعل مقدر کا مفعول ہے
فَارْھَبُوْنِ ( ڈرتے رہو) اس فعل کی تفسیر کر رہا ہے فارْھَبُوْنِ یعنی مجھ سے عہد شکنی اور تمام اوامرو نواہی میں ڈرو، رھبۃ ایسے خوف کو بولتے ہیں جس میں پرہیز اور بچاؤ ہو اور یہ کلام تخصیص کا فائدہ دیتا ہے ( معنی یہ ہیں کہ مجھ ہی سے ڈرو اور سے نہ ڈرو اور اِیَّاکَ نَعْبُدُ سے اس میں زیادہ تخصیص ہے کیونکہ اس میں مفعول مقدم اور مکرر لایا گیا ہے اور فعل مکرر ہے کیونکہ ایک فعل مقدر ہے دوسرا ملفوظ اور پھر فاء جزائیہ بھی ذکر کی گویا تقدیر کلام یہ ہوئی اِنْ کُنْتُمْ رَاھِبِیْنَ فَاِیَّایَ اِرْھَبُوْا فَارْھَبُوْنِی ( یعنی اگر تم ڈرنے والے ہو تو مجھی سے ڈرو اور پھر مجھی سے ڈرو) اور یہ جملہ امور مفید تخصیص ہیں ( اور اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں اتنے امور مجتمع نہیں) اور یہ آیت وعدہ اور وعید دونوں کو شامل ہے ( چناچہ فرمایا ہے کہ میں تمہارا اقرار پورا کروں گا یعنی اجر اور ثواب دوں گا یہ وعدہ ہے اور فرمایا کہ مجھ سے ڈرو یہ وعید ہے) اور نیز وجوب شکر اور وفاء عہد پر دلالت کرتی ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مؤمن کو مناسب یہ ہے کہ اپنے اللہ کے سوا اور کسی سے نہ ڈرے جن الفاظ میں ی محذوف ہے جیسے فارْھَبُوْن، فَاتَّقُون، واخْشَوْنِ وغیرہ یعقوب سب جگہ ان کو تحریر کے اندر ثابت رکھتے ہیں اور ایسی ( یا) قرآن میں اکسٹھ ہیں اور نافع بروایۃ ورش وصل کی حالت میں ان میں سے سینتالیس کو ثابت رکھتے ہیں اور قالون کی روایت کے موافق بیس جگہ ثابت کرتے ہیں اور قالون کی روایت کے موافق دو جگہ اختلاف ہے اور وہ التلاق اور التناد ہے۔ ابن کثیر وصل اور وقف دونوں حالتوں میں اکیس جگہ یا کو لکھنے میں باقی رکھتے ہیں اور ابن کثیر سے چھ موقعوں میں مختلف روایت ہے اور وہ چھ مواقع یہ ہیں : (1) تَقَبَّلَ دُعَای سورة ابراہیم میں ‘ 2) یَدْعُ الدَّاعِسورۂ قمر میں اس میں یدع کی واؤ کو بھی باقی رکھتے ہیں ‘ 3) ‘ اَکْرَمَن ‘ 4) اَھَانَنَ سورة فجر میں ‘ 5) اِنَّہٗ مَنْ یتََّقِ سورة یوسف میں ‘ 6) یُسْرِ سورة فجر میں چناچہ اول کے پانچ موقعوں میں بزی وصل اور وقف دونوں حالتوں میں ( یا) کو لکھنے میں باقی رکھتے ہیں اور مَنْ یَّتَّقِ میں قنبل وصل اور وقف دونوں حالتوں میں یا کو ثابت رکھتے ہیں یسر کی یا کو صرف وصل میں ثابت رکھتے ہیں اور اس میں ان سے خلاف بھی مروی ہے اور ابو عمرو وصل کی حالت میں چونتیس جگہ یا کو ثابت رکھتے ہیں اور اَکْرَمَن اور اَھَانَنْ میں اختیاردیا ہے خواہ ( یا) لکھی جائے یا نہ لکھی جائے۔ کسائی یَوْمَ یَأْتِیْ کی یا کو سورة ہود میں اور مَا کُنَّا نَبْغِ کی یا کو سورة کہف میں ثابت رکھتے ہیں اور ان دونوں کے سوا اور جگہ ثابت نہیں رکھتے اور حمزہتَقَبَّلْ دُعَایَ کی یا کو صرف وصل میں اور اَتُمِدُّوْنَنِی کی یا کو سورة نمل میں وصل اور وقف دونوں حالتوں میں لکھنے میں باقی رکھتے ہیں اور عاصم سب جگہ حذف کرتے ہیں اور دوسرے دو موقعوں میں عاصم سے مختلف روایت ہے ایک فَمَا اٰتَانِیَ اللّٰہُ وصل کی حالت میں حفص اس ( یا) کو مفتوح پڑھتے ہیں اور وقف میں ساکن اور دوسرے یا عباد سورة زخرف میں وصل کی حالت میں ابوبکر ؓ اس (یا) کو مفتوح پڑھتے اور وقف میں ساکن کرتے ہیں اور شعبہ پہلے موقع میں یعنیفَمَا اٰتَانِیَ اللّٰہُ میں یا کو حذف کرتے ہیں اور حفص یا عباد میں حذف کرتے ہیں اور ابن عامر ہشام کی روایت کے موافق ثُمَّ کَیْدُوْنِی کی یا کو سورة اعراف میں ثابت رکھتے ہیں اور ابن ذکوان کی روایت کے موافق سورة کہف میں فَلَا تَسْأَلْنِیکی یا کو ثابت رکھتے ہیں اور یہ تمام اختلاف اپنے اپنے موقع میں انشاء اللہ تعالیٰ مفصل مذکور ہوگا۔
Ayah 2:41وَ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلْتُ (اور مان لو جو میں نے اتارا ہے) اس سے مراد قرآن پاک ہے اس آیت کا اَوْفُوْا بِعَھْدِی پر عطف تفسیری ہے یا یہ آیت تخصیص بعد تمیم ہے یعنی اَوْفُوْا بِعَھْدِیسے عام شیئے یعنی مطلق ایمان لانے کا حکم ہوا تھا۔ اس کے بعد پھر خاص شے یعنی قرآن پاک پر ایمان لانے کا امر ہے۔
مُصَدِّقًا ( اس شے کی تصدیق کرنے والی) اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن پاک ان تمام امور کی تصدیق کرتا ہے جو تورات انجیل وغیرہ کتب سماویہ میں مذکورہ ہیں مثلاً مختلف قصص نبی ﷺ کی بعثت صفت اور بعث۔ دعوۂ ثواب وعید عذاب۔ بیان توحید تمام انبیاء پر بلا تفریق ایمان لانے کا حکم تمام احکام کا امتثال اور ممنوعات سے اجتناب یا یہ معنی ہیں کہ قرآن شریف اس کا گواہ ہے کہ جو کتب الٰہیہ تمہارے پاس ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہیں۔
لِّمَا مَعَکُمْ ( جو تمہارے پاس ہے) یعنی کتب آسمانی توراۃ وغیرہ۔ حاصل یہ ہوا کہ تورۃ اور انجیل کا اتباع اس کا مقتضی ہے کہ تم قرآن پر ایمان لاؤ اور اس لیے بطور تعریض ارشاد ہوا کہ ” اول اسکے ساتھ کفر کرنے والے نہ بنو (بلکہ سب سے اول ایمان لاؤ جیسے ورقہ بن نوفل چونکہ توراۃ کے عالم تھے دیکھو سب سے پہلے ایمان لے آئے) ۔
وَ لَا تَکُوْنُوٓا اَوَّلَ کَافِرٍ بِہٖ ( اور نہ بنو اس کے پہلے منکر) اس سے مراد حقیقی معنی نہیں بلکہ یہ کلام بطور تعریض فرمایا ہے جیسے تعریضاً کہا کرتے ہیں کہ بھائی میں تو جاہل نہیں ہوں تو مراد اپنے سے جہل کی نفی منظور نہیں ہوتی بلکہ کسی شخص کے جہل کا اثبات مقصود ہوا کرتا ہے اب یہ اعتراض واقع نہ ہوگا کہ مشرکین مکہ تو قرآن کے ساتھ یہود سے پہلے کفر کرچکے تھے پھر یہود پر کس طرح یہ نہی متوجہ ہوسکتی ہے کہ تم اول کافر مت ہو “ یہ معنی ہیں کہ تم اہل کتاب میں سے ہو اوّل کفر کرنے والے نہ ہوجاؤ یا یہ مراد کہ اپنی کتاب کے ساتھ اول کفر کرنے والے نہ بنو کیونکہ قرآن شریف کے ساتھ کفر کرنا بعینہٖ دیگر کتب الٰہیہ کے ساتھ کفر کرنا ہے اس صورت میں بِہٖ میں ضمیر ہ مَا مَعَکُمْ کی طرف راجع ہوگی۔
میں (مفسر) کہتا ہوں ممکن ہے کہ اولیت سے مراد اولیت ذاتی یعنی اوروں کے کفر کا سبب بننا ہو کیونکہ علماء اور رؤساء کا ایمان لانا اوروں کے ایمان لانے کا سبب اور ان کا کفر دوسروں کے کفر کا سبب ہوتا ہے اور اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو کہ سب سے بد ترعلماء بےعمل ہیں اس حدیث کو دارمی نے احوص بن حکیم سے اور احوص نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے۔ اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ تم اپنے متبعین کے کفر کا سبب نہ بنو ورنہ ان کا گناہ بھی تمہارے ہی ذمہ ہوگا اور اوّل کَافِرٍ ضمیر جمع سے خبر ہے اور تاویل میں اول فریق کے ہیں یہ معنی ہیں ” تم میں سے ہر ایک اول کافر نہ بنے “ جیسا بولتے ہیں کہ ہمیں ” فلاں شخص نے جوڑا پہنایا “ تو یہاں بھی یہی تاویل کی جاتی ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک ایک حلّہ پہنایا اور لفظ اَوّل افلع التفضیل ہے اس کا کوئی فعل اس کے لفظوں سے نہیں ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اصل اَوَلُ تھی جو اَوْاَلْ تھی وال بروزن سال سے مشتق ہے ہمزہ ثانیہ خلاف قیاس واؤ سے بدل دیا گیا اور یا اَوَلُ تھی جو اول سے مشتق ہے ہمزہ واؤ سے بدل کر ادغام کرد یا گیا۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ یہ آیت کعب بن اشرف اور دیگر علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
وَلَا تَشْتَرُوْا بِاٰیَاتِیْ ( اور نہ لو میری آیتوں کے عوض) یعنی میری آیتوں پر ایمان لانے کے بدلے میں دنیا کا سامان نہ لو یا یہ معنی کہ تورات کی ان آیات کے بدلہ میں کہ جن میں محمد ﷺ کی نعت مذکور ہے دنیا کا سامان نہ لو۔
ثمَنًا قَلِیْلًا ( مول تھوڑا) یعنی دنیا کا سامان کیونکہ دنیا کا سامان خواہ کتنا ہی ہو لیکن آخرت کی لذات کے مقابلہ میں وہ بالکل لا شئے اور حقیر ہے۔ شان نزول اس آیت کا یہ ہے کہ یہود کے علماء اور رؤساء کو جہلا اور عوام سے آمدنی بہت ہوتی ہے ان بےچاروں سے سالانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا اور ہر قسم کے مال ‘ کھیت ‘ مویشی اور نقد سب چیزوں سے حصہ لیتے تھے اب اسلام پھیلا تو ڈرے کہ اگر ہم نے محمد ﷺ کی نعت ظاہر کی اور ان کا اتباع اختیار کرلیا تو یہ سب آمدنی ہمارے ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ اسلئے انہوں نے دنیا کو دین پر ترجیح دی اور دین چھوڑ بیٹھے اور توراۃ میں آپ ﷺ کی نعت کو بدل دیا اور آپ ﷺ کے اسم مبارک کو محو کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وَ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ ( اور مجھ ہی سے ڈرتے رہو) یعنی ایمان لاؤ اور آخرت کو اختیار کرو پہلی آیت میں چونکہ عوام بنی اسرائیل کو خطاب تھا اس لیے فارْھَبُوْنَ فرمایا کیونکہ رہبت اسی خوف کو بولتے ہیں جو ابتدائے تقویٰ میں ہوتا ہے گویا رہبت تقویٰ کا مقدمہ ہے اور اس آیت میں علماء کو خطاب ہے اس لیے فاتَّقُوْنَ لائے کیونکہ تقویٰ رہبت کے بعد ہوتا ہے اور آخری حالت میں ظہور پاتا ہے۔
Ayah 2:42وَلَا تَلْبِسُوْا الْحَقَّ بالْبَاطِلِ ( اور نہ ملاؤ سچ میں جھوٹ) لَبْسٌ کے معنی لغت میں خلط ( ملانا) ہے اور یہاں ایک بات کو دوسری کے ساتھ ایسی طرح رلانا ملانا مراد ہے جس سے دونوں میں کچھ فرق اور تمیز نہ رہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے بنی اسرائیل جو سچی بات یعنی محمد ﷺ کی نعت اور صفت میں نے تم پر اتاری ہے اسے باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اس کو اپنے ہاتھوں متغیر نہ کرو کہ حق اور باطل میں بالکل تمیز نہ رہے۔ مقاتل نے فرمایا ہے کہ توراۃ میں جو سرور کائنات خلاصہ موجودات محمد ﷺ کی صفت اور نعت وارد ہوئی تھی اس میں سے یہود نے بعض چیزوں کا تو اقرار کیا اور بعض کو چھپالیا اور یہ انہوں نے اس لیے کیا تاکہ اپنا کام بھی بن جائے اور خدا تعالیٰ کے دربار میں بھی جھوٹے نہ ہوں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اس کے موافق وَ لَا تَلْبِسُوا الحَقَّ میں الحق سے مراد بعض اشیاء کا اقرار اور الباطل سے بعض کا چھپانا مراد ہے۔
وَ تَکْتُمُو الْحَقَّ ( اور نہ چھپاؤ حق بات) یا تو لا نہی کے تحت میں داخل ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے اور یا بعد واؤ کے ان مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور ترکیب اخیر کے موافق معنی یہ ہوں گے کہ حق و باطل کے ملانے جلانے اور حق بات کے چھپانے میں ان دونوں فعل کو جمع نہ کرو۔
وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ( جان بوجھ کر) یعنی باوجود اسکے کہ تم جانتے ہو کہ محمد ﷺ نبی برحق ہیں اور اس سے بھی خوب واقف ہو کہ یہ ہمارا فعل ایک امر حق کو چھپانا ہے پھر بھی ایسے امور پر دلیر ہو یہ نہایت قبیح اور برا ہے کیونکہ اگر جاہل ہوتے تب تو بظاہر یہ عذر بھی ہوسکتا تھا کہ ہم جاہل تھے ہم کو خبر نہ تھی جان بوجھ کر جرأت کرنا بہت بےحیائی ہے۔
Ayah 2:43وَ اَقِیْمُوا الصَّلوٰۃَ وَ اٰتُو الزَّکٰوۃَ ( اور قائم کرو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ) مراد یہ ہے کہ جیسی نماز مسلمان پڑھتے اور جیسی زکوٰۃ مسلمان دیتے ہیں ایسی ہی نماز اور زکوٰۃ تم بھی پڑھو اور ادا کرو۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار جس طرح اصول 1 کے مکلف ہیں اسی طرح فروع ( یعنی احکام مثل نماز روزہ حج زکوٰۃ وغیرہا) کے بھی ادا کرنے کے مخاطب اور مکلف ہیں۔ لفظ زکوٰۃ یا توز کا الزرع ( بڑھی کھیتی) سے مشتق ہے اور یا تزکی (پاک ہوا) سے مشتق ہے کیونکہ زکوٰۃ میں مال پاک بھی ہوجاتا ہے اور بڑھتا بھی ہے چناچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے : یَمْحَقُ اللّٰہُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقَات یعنی اللہ تعالیٰ سود کو گھٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھتا ہے۔
وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ( اور جھکو جھکنے والوں کے ساتھ) یعنی محمد ﷺ اور حضور کے صحابہ ؓ کے ساتھ مل کر نما زپڑھا کرو نماز کو بلفظ رکوع ذکر فرمایا حالانکہ رکوع نما زکا ایک رکن ہے خود عین نماز نہیں ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ حکم یہود کو ہے اور یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ اس آیت میں باجماعت نماز پڑھنے کی ترغیب وتحریض ہے۔
مسئلہ داؤد ظاہری کے نزدیک جماعت رکن ہے اور امام احمد کے نزدیک فرض رکن نہیں۔ جمہور علماء کے نزدیک سنت موکدہ، واجب کے قریب ہے چناچہ صبح کی سنتیں سب سنتوں سے زیادہ مؤکد ہیں ہاں اگر یہ خوف ہو کہ جماعت فوت ہوجائے گی تو سنت ترک کردینا ضروری ہے اس سے معلوم ہوا کہ جماعت واجب کے قریب ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ہے جماعت کی نماز ستائیس درجے افضل ہے علیحدہ نماز پڑھنے سے۔