2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

اور خدا (کی خوشنودی) کے لئے حج اور عمرے کو پورا کرو۔ اور اگر (راستےمیں) روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو (کردو) اور جب تک قربانی اپنے مقام پر نہ پہنچ جائے سر نہ منڈاؤ۔ اور اگر کوئی تم میں بیمار ہو یا اس کے سر میں کسی طرح کی تکلیف ہو تو (اگر وہ سر منڈالے تو) اس کے بدلے روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب (تکلیف دور ہو کر) تم مطمئن ہوجاؤ تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے فائدہ اٹھانا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جس کے اہل وعیال مکے میں نہ رہتے ہوں اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ خدا سخت عذاب دینے والا ہے

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۭ ( اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے) یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ حج اور عمرہ اور ان کا پورا کرنا اور حج کو عمرہ سے نسخ نہ کرنا جملہ امور واجب ہیں۔ حج پر تو اجماع ہوچکا ہے کہ حج فرض عین محکم غیر قابل نسخ ہے اور اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : واللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلاً (اور اللہ کا فرض ہے لوگوں پر حج کرنا اس کا گھر کا جس کو مقدور ہو اس تک پہنچنے کا) اور رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ اوّل گواہی دینا اس امر کی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔ دوسرے قائم کرنا نماز کا۔ تیسرے ادا کرنا زکوٰۃ کا۔ چوتھے حج۔ پانچویں روزے رکھنا رمضان کے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور اس مضمون کی بہت حدیثیں ہیں۔ رہا عمرہ سو امام احمد کے نزدیک عمرہ واجب ہے اور امام شافعی کے دو قول ہیں صحیح تر یہی ہے کہ عمرہ واجب ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) سے وجوب مروی ہے اور امام مالک (رح) نے فرمایا ہے کہ عمرہ سنت ہے اور امام ابوحنیفہ کا بھی مذہب مشہور یہی ہے اور امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے کہ سنت ہے جو لوگ سنت کے قائل ہیں ان کے نزدیک تاویل آیت اس طرح ہوگی کہ عمرہ شروع کرلینے سے پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے اور حج کی بھی یہی شان ہے امام احمد کے مذہب ( وجوب عمرہ) کی تائید علقمہ اور ابراہیم نخعی (رح) کی قرأت واتموا الحج والعمرۃ اللہ سے ہوتی ہے حضرت علی ؓ کی بھی یہی قرأت ہے اور بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ واجب ہے۔ چنانچہ چند احادیث نقل کی جاتی ہیں حضرت ابن عباس ؓ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے حوالہ سے تعلیم جبرئیل کی حدیث میں روایت کرتے ہیں کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھ کو خبر دیجئے کہ اسلام کیا ہے فرمایا اس امر کی گواہی دینا کہ کوئی معبود سوائے اللہ کے نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور قائم کرنا نماز کا اور ادا کرنا زکوٰۃ کا اور حج وعمرہ کرنا اور جنابت سے غسل کرنا اور وضو کو پورا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا عمرہ کا ذکر اگرچہ صحاح میں نہیں ہے لیکن اور ثقات نے اس کو روایت کیا ہے اور دار قطنی نے اس کو صحیح کہا ہے نیز عمرہ کا ذکر ابوبکر جو سعی نے اپنی کتاب میں کیا ہے اس لیے یہ مقبول ہے اور حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا عورتوں پر بھی جہاد ہے فرمایا ان پر ایسا جہاد ہے کہ اسمیں قتال نہیں وہ حج اور عمرہ ہے اس حدیث کو ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اس کے علاوہ اور بہت سی احادیث ضعیف ہیں کہ ان کو ہم ذکر نہیں کرتے ہیں اور اٰثار صحابہ ؓ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ عمرہ واجب ہے منجملہ ان کے یہ ہے کہ ضبی بن معبد نے حضرت عمر ؓ سے عرض کیا کہ میں نے حج اور عمرہ دونوں کا بہ نیت فرض احرام باند ھ لیا۔ فرمایا تجھے طریقہ رسول اللہ پر چلنے کی توفیق عنایت کردی گئی۔ حضرت ابن عمرکا قول ہے کوئی صاحب مقدور ایسا نہیں کہ حج اور عمرہ اس پر واجب نہ ہو اس اثر کو ابن خزیمہ اور دار قطنی اور حاکم نے روایت کیا، سند اس کی سند صحیح ہے اور بخاری نے تعلیقاً اس کو ذکر کیا ہے اور اسی باب میں حضرت ابن عباس کا اثر ہے کہ اس کو امام شافعی (رح) نے ذکر کیا ہے اور بخاری اسے تعلیقاً لائے ہیں اور جو لوگ عمرہ کے سنت ہونے کے قائل ہیں ان کا حتجاج اور استدلال ان احادیث سے ہے حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ مجھے بتائیے کہ عمرہ واجب ہے یا نہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ واجب نہیں لیکن اگر کرے گا تو تیرے لیے بہتر ہے اس حدیث کو ترمذی اور امام احمد اور بیہقی نے روایت کیا ہے لیکن اس کے راویوں میں حجاج بن الطاۃ راوی مدلس اور متروک ہے ابن مھدی اور عطان اور یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل اور ابن مبارک اور نسائی نے اس کو ترک کردیا ہے ہاں ذہبی نے اس کے بارے میں لفظ صدوق ( سچا) کہا ہے اور ترمذی نے اسی حدیث کو حسن صحیح کہا ہے اور بیہقی نے اسی حدیث کو ایک اور طریق سے روایت کیا ہے اس طریق میں یحییٰ بن ایوب ہے۔ اس کی نسبت امام احمد نے سیء الحفظ ( برے حفظ والا) فرمایا ہے اور ابو حاتم نے لا یحتج بہ ( قابل استدلال نہیں) کے خطاب سے یاد کیا اور ابن عدی صدوق (سچا) فرماتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ حضرت جابر ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ حج اور عمرہ دونوں فریضہ ہیں۔ ابن عدی نے ابن لھیعہ کے طریق سے اس حدیث کو روایت کیا ہے تو اس حدیث اور حدیث گذشتہ میں تعارض ہوگیا لیکن اس آخر کی حدیث میں ابن لھیعہ ضعیف ہے۔ ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص فرض نماز کے واسطے چلا اس کو مثل حج کے ثواب ملے گا اور جو نفل نماز کے لیے چلا اس کو مثل عمرہ کے ثواب ہوگا اس حدیث کو طبرانی نے یحییٰ بن حارث کے طریق سے روایت کیا ہے عبد اللہ بن قانع۔ ابوہریرہ ؓ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ حج جہاد ہے اور عمرہ نفل ہے اس حدیث کو امام شافعی نے ابو صالح حنفی سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اسی مضمون کی حدیث طلحہ بن عبد اللہ اور ابن عباس ؓ سے بھی بیہقی نے روایت کی ہے۔ دارقطنی نے عبد اللہ بن قانع کی نسبت کان یخطی ( چوک جاتا تھا) کہا ہے۔ ترقانی نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن شیخ تقی الدین نے کبار حفاظ ( بڑے حافظوں) میں شمار کیا ہے اور ابو صالح حنفی جس کا نام ماہان ہے۔ ابن حزم نے اس کی تضعیف کی ہے لیکن ابن ہمام نے کہا ہے کہ اس کا ضعیف ہوناصحیح نہیں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک جماعت نے اس سے احادیث لی ہیں اور طلحہ کی حدیث کی سند میں عمرو بن قیس روی مجروح ہے حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس کی سند ضعیف ہے رہی ابن عباس کی حدیث سو اس کی سند میں بہت سے مجہول راوی ہیں اور عمرہ واجب نہ ہونے میں آثار صحابہ کے بھی ہیں۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ حج فرض ہے اور عمرہ نفل ہے اس اثر کو ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے ابن ہمام نے کہا ہے کہ عبد اللہ بن مسعود بہت اچھے مقتدا ہیں اس لیے ان کی اقتدا ضروری ہے پس تحقیق یہ ہے کہ اس بارے میں احادیث اور آثار سب متعارض ہیں ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ جب تعارض ہوا تو شک سے وجوب ثابت نہ ہوگا اور صاحب ہدایہ نے کہا ہے کہ تعارض کے ہوتے ہوئے فرضیت ثابت نہیں ہوسکتی اور صاحب ہدایہ کا یہ قول نہایت مناسب ہے کیونکہ فرضیت کا مبنی دلیل قطعی پر ہے اس لیے تعارض کے وقت احتیاطاً وجوب کا قائل ہونا بہتر ہے تاکہ تکرار نسخ لازم نہ آئے۔ جمہور علماء کا مذہب ہے کہ حج کو عمرہ سے فسخ کرنا جائز نہیں ان کی دلیل یہی آیت : واتموا الحج الخ ہے امام احمد فرماتے ہیں کہ حج کو عمرہ سے فسخ کرنا جائز ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ حجۃ الوداع میں صحابہ کا احرام حج کا تھا جناب رسول ﷺ نے سب کو حکم فرمایا کہ حج کو فسخ کرکے عمرہ بنا لیں اور فرمایا کہ تم اپنے حج کے احرام کو عمرہ بنا لو مگر جس نے ہدی کے قلادہ ڈالا ہے وہ فسخ نہ کرے اور دس سے زیادہ احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں ان سے شک زائل ہوجاتا ہے اور علم حاصل ہوجاتا ہے من جملہ ان احادیث کے یہ ہے کہ ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو جناب رسول اللہ ﷺ نے یمن میں میری قوم کے پاس بھیجا جب میں وہاں سے واپس ہو کر آیا تو دیکھا کہ حضور ﷺ بطحا میں تشریف رکھتے ہیں فرمایا تم نے کا ہے کی نیت کی ہے ؟ میں نے عرض کیا جو حضور ﷺ نے نیت کی ہے وہی میری ہے پھر فرمایا کہ تمہارے پس ہدی ہے میں نے عرض کیا نہیں پھر میں نے حضور کے حکم سے بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا طواف کرکے حلال ہوگیا پھر ترویہ کے روزحج کا احرام باندھا پھر جب حضرت عمر کا زمانہ ہوا تو فرمایا کہ ہم کتاب اللہ پر عمل کریں گے اللہ تعالیٰ نے اتمام کا حکم فرمایا چناچہ فرمایا : واتموا الحج والعمرۃ اللہ اور حضور ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہیں چناچہ آپ نے ہدی کی قربانی ہونے تک احرام نہیں کھولا۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ صحابہ ؓ نے صرف حج کا احرام باندھا تھا پھر جناب رسول اللہ نے فرمایا کہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرکے اپنے احرام کھول دو اور بال کتراؤ پھر حلال ہو کر مقیم رہو اور ابن عباس ؓ کی حدیث میں ہے کہ صحابہ کو آپ ﷺ نے حکم فرمایا کہ حج کو عمرہ بنالیں اور حضرت عائشہ ؓ و حضرت حفصہ ؓ سے بھی اسی مضمون کی حدیثیں مروی ہیں اور ان میں اتنازیادہ ہے کہ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں احرام کھولتے فرمایا میں نے اپنی ہدی کے قلادہ ڈالا ہے اس لیے میں نحر کرنے تک حلال نہیں ہوتا اور ابن عمر ؓ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے اور یہ چھ حدیثیں صحیحین میں ہیں۔ مسلم نے ابو سعید خدری ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ ہم نکلے اور حج کی لبیک پکارتے تھے حتیٰ کہ جب میں نے بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ نے فرمایا کہ عمرہ بنالو لیکن جس کے پاس ہدی ہے وہ اپنے حال پر رہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں حلال ہوجاتا اسی مضمون کی احادیث حصرت براء بن عازب اور بیع بن صبرہ ؓ سے مروی ہیں ہم نے منار الاحکام میں تفصیل سے لکھا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ آیت واتموا الحج والعمرۃ ..... قطعی ہے اور قطعی کی تخصیص اور نسخ احادیث احاد سے جائز نہیں تو میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ یہ احادیث بسبب کثرت شہرت کے اس حد تک پہنچی ہیں کہ اس واقعہ کا انکار نہیں ہوسکتا آیت : واتموا الحج آیت فان احصرتم سے عام مخصوص بعض ہے علاوہ اس کے یہ بھی ہے کہ واتموا کے عمومی حکم سے جناب رسول اللہ نے اس شخص کو مخصوص فرمایا ہے جس کا حج فوت ہوگیا ہو اور عمرہ کے افعال سے اس کے لیے حج سے نکلنے کی اجازت فرمائی ہے اور اس پر اجماع منعقد ہے پس معلوم ہوا کہ یہ آیت ظنی الدلالۃ ہے اور خبر واحد سے اس کی تخصیص جائز ہے اور جمہور نے امام احمد کے دلائل کا یہ جواب دیا ہے کہ فسخ حج جو ان احادیث سے مفہوم ہوتا ہے یہ صحابہ ؓ کے ساتھ خاص ہے اور خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ بلال بن حارث ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ فسخ حج خاص ہمارے ہی لیے ہے یا سب کے واسطے فرمایا نہیں بلکہ خاص ہمارے واسطے ہے اس حدیث کو ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا حضرت عمر ؓ سے مروی ہے آپ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ میں فصل کرو کہ حج کو حج کے مہینوں میں ادا کرو اور عمرہ کو ان مہینوں کے علاوہ اس طرح تمہارا حج اور عمرہ پوری طرح ادا ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ غالباً یہ اس کا بیان ہے جو حضرت عمر ؓ کے نزدیک افضل ہے علامہ ابن جوزی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کو سوائے عبد العزیز بن محمد داروردی کے کسی نے روایت نہیں کیا اور ابو حاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث قابل استدلال نہیں اور امام احمد فرماتے ہیں کہ کوئی حدیث صحیح اس مضمون کی نہیں ہے فسخ حج خاص صحابہ ؓ کے لیے تھا میں کہتا ہوں کہ عمر ؓ بن خطاب فرماتے ہیں کہ زمانہ رسول اللہ میں دو متعہ تھے ( ایک تو متعہ حج یعنی حج کو فسخ کرنا جو یہاں مراد ہے دوسرے متعہ نکاح جو بالاتفاق حرام ہے) میں ان کو حرام کرتا ہوں یعنی وہ حرمت جو رسول اللہ سے میرے نزدیک ثابت ہے اس کو ظاہر کرتا ہوں پس حضرت عمر ؓ کے اس قول سے وہ احادیث سب قابل العمل نہیں رہیں اگر یہ قول نہ ہوتا تو بیشک بلال ؓ کی حدیث ان احادیث کے دفع کے لیے کافی نہ تھی کیونکہ بظار ضعیف ہے لیکن حضرت عمر کا قول اس حدیث کی صحت پر معنی دلالت کرتا ہے۔ حضرت عثمان ؓ سے کسی نے متعہ حج کے متعلق سوال کیا فرمایا متعہ حج ہمارے لیے تھا تمہارے لیے نہیں۔ اس حدیث کو ابو داؤد نے بسند صحیح روایت کیا ہے اگر فسخ کا اختصاص صحابہ کے ساتھ حضرت عمر ؓ و عثمان ؓ کے نزدیک ثابت نہ ہوتا تو یہ دونوں جناب رسول اللہ کے حکم کی کبھی مخالفت نہ فرماتے اور حضرت عمر ظنی الدلالۃ آیت سے اپنی سنی ہوئی حدیث کے مقابلہ میں کبھی استدلال نہ کرتے اور حضرت عثمان و عمر ؓ کے قول میں متعہ جو لفظ آیا ہے اس سے عمرہ سے حج کا فسخ کرنا مراد ہے تمتع جو قرآن پاک سے ثابت ہے وہ مراد نہیں اس کی مشروعیت پر تو اجماع منعقد ہے چناچہ جب غبی بن معبد ؓ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تو حضرت عمر ؓ نے ان کو فرمایا کہ تجھے اپنے نبی کی سنت کی توفیق مل گئی اس حدیث کو ابو داؤد (رح) نے روایت کیا ہے۔ ایک شخص نے حج کی نیت کی تھی پھر عمرہ سے اس کو فسخ کردیا تو حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا یہ فسخ ان ہی لوگوں کے واسطے تھا جو جناب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے یہ قول ابوذر کا بھی بلال بن حارث کی حدیث گذشتہ کا موید ہے دوسری روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابوذر ؓ نے فرمایا متعہ تو خاص ہمارے لیے تھا۔ علامہ ابن جوزی نے فرمایا ہے کہ ابوذر ؓ کے اس اثر کو کوفہ کے ایک ایسے شخص نے روایت کیا ہے کہ وہ ابوذر ؓ سے نہیں ملا۔ میں کہتا ہوں کہ اس سے اس اثر میں کوئی قدح نہیں کیونکہ اس تقدیر پر یہ اثر مرسل ہوگا اور مرسل ہمارے نزدیک حجت ہے وا اللہ اعلم۔ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ ( پھر اگر تم روک لیے جاؤ) یعنی اگر تم حج سے یا اس عمرہ سے جس کی تکمیل کا تم کو حکم دیا گیا ہے روکے جاؤ۔ علماء نے اتفاق کیا ہے کہ یہ آیت حدیبیہ کے قصہ میں نازل ہوئی ہے اور یہ امر ثابت ہے کہ جناب رسول اللہ کا حدیبیہ کے سال میں عمرہ کا احرام تھا اس کے بعد آپ ﷺ روک لیے گئے پھر آپ حلال ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام مالک (رح) نے جو فرمایا ہے کہ احصار ( روکنا حج یا عمرہ سے) حج کے ساتھ خاص ہے عمرہ کی احصار سے حلال ہونا جائز نہیں یہ قول صحیح نہیں۔ احصرتم کے معنی یہ ہیں کہ اے مسلمانو ! اگر تم مسلمان یا کافر دشمن کی وجہ سے یا مرض یا خرچ کے فنا ہونے یا عورت کے لیے محرم کے مرجانے کے سبب سے بیت اللہ تک پہنچنے سے روکے جاؤ۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے حصار کی یہی تفسیر کی ہے کیونکہ احصار اور حصر کے معنی لغت میں منع ( روکنا) ہے اب اس روکنے کا خواہ کچھ سبب ہو بلکہ اکثر استعمال تو اس لفظ کا اسی روکنے میں ہے جو مرض کی وجہ سے ہو۔ فراء اور کسائی اور اخفش اور ابو عبیدہ اور ابن سکیت اور دیگر اہل لغت سے منقول ہے کہ احصار کا استعمال تو اس روکنے میں ہے جو مرض کے سبب سے ہو اور حصر کا استعمال اس رکاوٹ میں ہے جو دشمن کے سبب سے ہو۔ ابو جعفر نحاس نے کہا ہے کہ تمام اہل لغت کا اس پر اجماع ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اہل لغت کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ اکثر استعمال اس طرح ہے یہ مطلب نہیں کہ احصار کا استعمال مرض کے ساتھ اور حصرکا دشمن کے ساتھ خاص ہے اگر یہ مطلب ہوتا تو یہ اعتراض لازم آتا کہ آیت فان احصرتم دیکھو قصہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ہے اور وہاں مرض کی وجہ سے نہیں رکے تھے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ حصر اور احصار ہم معنی ہیں چناچہ عرب بولتے ہیں حصرت الرجل عن حاجتہ ( روکا میں نے اس شخص کو اس کی حاجت سے) اور احصرہ العدودشمن نے چلنے سے روک دیا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ آیت اپنے عموم لفظ سے امام ابوحنیفہ کی دلیل ہے اور امام مالک اور امام شافعی اور امام احمد جو فرماتے ہیں کہ حصر دشمن سے ہی ہوتا ہے ان پر یہ آیت حجت ہے اور امام شافعی (رح) نے حصرحدیبیہ کو بسند صحیح ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اس لیے ائمہ ثلاثہ کا قول ہے کہ یہ آیت دشمن کے ہی روکنے میں نازل ہوئی ہے۔ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ اعتبار عموم لفظ کا ہوتا ہے نزول کے سبب خاص کا اعتبار نہیں اگر کوئی کہے کہ سیاق آیت سے تو تخصیص مفہوم ہوتی ہے چناچہ آگے چل کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فاذا امنتم ( جب امن میں ہو تم) اور امن خوف سے ہی ہوتا ہے تو ہم اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ اس تقریر سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ احصار دشمن سے ہی ہوتا ہے بلکہ اس سے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ دشمن سے جو روک ہو وہ بھی احصار ہے جیسے کہ آیت کریمہ : والمطلقات یتربصن بانفسھن ثلٰثۃ قروء ( وہ عورتیں جن کو طلاق دی گئی ہے روکے رکھیں اپنے آپ کو تین حیض) اور آیت کریمہ : وبعولتھن احق بردھن ( اور ان کے شوہر زیادہ حقدار ہیں ان کے لوٹالینے کے) اس پر دال نہیں ہیں کہ مطلقات سے مراد فقط رجعی طلاق دی ہوئی عورتیں ہیں بلکہ اس پر دال ہے کہ رجعی طلاق والیاں بھی المطلقات میں داخل ہیں مرض کے سبب سے احصار کے ثبوت کی دلیل 1 ؂ یہ ہے کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول اللہ ضباعۃ بنت زبیر کے پاس تشریف لائے اور پوچھا کہ تو نے حج کا ارادہ کیا ہے ضباعہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں تو بیمار ہوں (یعنی بوجہ مرض اندیشہ ہے کہ شاید حج کو تمام نہ کرسکوں) فرمایا نہیں حج کر اور شرط کرلے یہ کہہ دے کہ اے اللہ جس جگہ مرض کی وجہ سے تو مجھ کو روک دے گا وہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہوگی۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور مسلم نے ضباعہ کے قصہ کو ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے اور ابو داؤد اور نسائی کی روایت اس طرح ہے کہ ضباعہ ؓ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا یارسول اللہ میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں کیا مشروط ارادہ کرسکتی ہوں فرمایا ہاں ! ضباعہ نے عرض کیا کس طرح کہوں فرمایا اس طرح کہو : لبیک اللّٰھم لبیک محلی من الارض من حیث تحبسنی ( یعنی میں حاضر ہوں ‘ اے اللہ میں حاضر ہوں۔ زمین کے جس حصہ میں تو مجھ کو روکے وہ ہی میرے حلال ہونے کی جگہ ہے) اس کہہ لینے سے تجھ کو اختیار ہوجائے گا کہ جہاں مرض کی وجہ سے آگے نہ جاسکے وہاں حلال ہوجائے اس حدیث کو ترمذی نے صحیح کہا ہے لیکن مرسل ہے۔ عقیلی نے فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ سے ضباعہ کا قصہ باسانید صحیحہ جیدہ مروی ہے اور ابن خزیمہ نے خود ضباعہ ہی سے اس کو روایت کیا ہے اور بیہقی نے انس اور جابر ؓ سے اس قصہ کو روایت کیا ہے اور اسی حدیث سے امام احمد اور شافعی (رح) نے مستنبط کیا ہے کہ اگر شرط کرلے تو اگرچہ احصار دشمن سے نہ ہوا ہو تب بھی حلال ہونا جائز ہے حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عمار، حضرت ابن مسعود، حضرت عائشہ، اور حضرت ام سلمہ وغیرہم ؓ سے بھی شرط کرنا ثابت ہے۔ علامہ ابن جوزی نے فرمایا ہے کہ اگر مرض ہی حلال ہونے کو مباح کرنے والا ہے تو پھر شرط کرنا لغو ہے۔ حدیث ضباعہ کا ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ حدیث خبر واحد ہے اس لیے آیت کے معارض نہیں ہوسکتی اور بعض نے یہ جواب دیا ہے کہ شرط کرنا منسوخ ہے چناچہ ابن عباس ؓ سے ایک حدیث مروی ہے اس سے منسوخ ہونا ظاہر ہے لیکن اس حدیث میں حسن بن عمارہ راوی متروک ہے میرے نزدیک حدیث ضباعہ کے یہ معنی ہیں کہ یہ حدیث استحباب پر محمول ہے جس شخص کو یہ خوف ہو کہ میں مریض ہوجاؤں گا یا اور کسی عذر کا خیال ہو تو مستحب ہے کہ احرام کے وقت شرط کرلے تاکہ خلاف وعدہ لازم نہ آئے اگرچہ عذر کی وجہ سے یہ خلاف وعدہ جائز ہے اور امام بو حنیفہ (رح) کے مذہب کی تائید عکرمہ کا وہ قول کرتا ہے جو حجاج بن عمرو انصاری سے مروی ہے اس کا مضمون یہ ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جسکا کوئی عضو شکستہ ہوجائے یا لنگڑا ہوجائے (حالت احرام میں) وہ حلال ہوگیا اور آئندہ سال اس کے ذمہ ایک حج ہے۔ اس حدیث کو ترمذی اور ابو داؤد اور نسائی اور ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے لیکن علامہ بغوی نے اس کی تضعیف کی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کو ضعیف کہنے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہیں کہ اس کی سند میں یحییٰ بن کثیر پر اکر اختلاف ہوا ہے اور حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ صحیح یہی ہے کہ اس حدیث کو یحییٰ نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے حجاج سے روایت کیا ہے اس کے آخر میں اتنا زیادہ ہے کہ عکرمہ کہتے ہیں میں نے ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ سے اس حدیث کی نسبت پوچھا تو فرمایا حجاج نے سچ کہا ہے اور یحییٰ القطان کی روایت میں عکرمہ نے حجاج سے بلفظ سماع روایت کیا ہے ( یعنی یہ کہا ہے کہ میں نے حجاج سے سنا ہے) اور ابو داوٗد اور ترمذی نے عکرمہ اور حجاج کے درمیان میں عبد اللہ بن رافع کو زیادہ کیا ہے۔ اور ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس زیادتی پر معاویہ بن سلام نے معمر کی متابعت کی ہے اور میں نے محمد یعنی بخاری سے سنا ہے کہ وہ فرماتے ہیں تھے کہ معمر اور معاویہ کی حدیث اصح ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ زیادتی صحت حدیث کے منافی نہیں اس لیے کہ اگر عکرمہ نے خود حجاج سے سنا ہے تو فھوا المراد ورنہ عبد اللہ بن رافع جو واسطہ ہیں وہ بھی ثقہ ہیں اگرچہ بخاری نے خود ان کے واسطہ سے روایت نہیں کیا۔ حافظ نے اسی طرح کہا ہے میں کہتا ہوں کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ عکرمہ نے حجاج سے بلا واسطہ اس حدیث کو سنا ہو اور بواسطہ عبد اللہ بن رافع بھی حاصل کیا ہو اللہ اعلم اور ہمارا مذہب حصرت ابن مسعود ؓ سے بھی مروی ہے۔ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ( تو جو کچھ ہو سکے قربانی بھیجو) یہ یا تو مبتدا ہے اور خبر محذوف ہے تقدیر عبارت کی اس طرح ہے : فَعََلَیْکُمْ مَا اسْتَیْسَرَ .... یا مبتدا محذوف کی خبر ہے اور تقدیر اس طرح ہے الواجب ما استیسر .... اور یا فعل محذوف کا مفعول اس کو مانا جائے یعنی اھدوا ما استیسرا ... ہدی یا اونٹ ہے یا گائے یا بکری اور بکری ادنیٰ درجہ ہے یہ آیت امام مالک پر حجت ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ محصر پر ہدی واجب نہیں اور جو لوگ ہدی کے واجب ہونے کے قائل ہیں ان میں اختلاف ہے امام شافعی سے تو ایک روایت یہ ہے کہ اگر ہدی نہ ملے تو بکری کی قیمت کا کھانا مساکین کو کھلا دے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو ہر ایک مد غلہ کے عوض ایک دن روزہ رکھے شافعی نے اس کو دم جنایتہ پر قیاس فرمایا ہے اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اور ایک روایت امام شافعی سے بھی یہی ہے کہ بجز ہدی کے اور کچھ جائز نہیں کیونکہ بدلہ کا مقرر کرنا رائے اور قیاس سے جائز نہیں اور دم احصار کو دم جنایت پر بسبب فرق ہونے کے قیاس نہیں کرسکتے۔ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ ( اور نہ منڈاؤ اپنے سر یہاں تک کہ پہنچ جائے قربانی اپنے ٹھکانے) محلہ کی تفسیر میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ محل ہدی سے مراد حرم ہے کیونکہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ثم محلھا الی البیت العتیق ( پھر ہدی کے اترنے کی جگہ بیت اللہ ہے) اور اس لیے کہ خون بہانا فی نفسہٖ تو رعبادت نہیں ہے کسی زمانہ خاص یا مکان خاص میں ہو تو اس وقت یہ عبادت ٹھہرایا جائے گا اس لیے اگر حرم میں ذبح نہ ہو تو عبادت نہ ہوگا اور جب ذبح عبادت نہ ہوا تو محصر حلال نہ ہوگا اس لیے واجب یہ ہے کہ محصرہدی کو حرم میں بھیجے اور ذبح کے لیے کوئی دن مقرر کردے کہ فلاں دن ذبح کردینا جب وہ دن آئے محصر حلال ہوجائے گا ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ذبح کے لیے دسویں تاریخ کا ہوناضروری نہیں اور امام ابو یوسف اور محمد (رح) فرماتے ہیں کہ اگر حج سے روکا گیا ہے تو دسویں ہی تاریخ جو یوم نحر کہلاتا ہے ذبح کرے اس بنا پر ان کے نزدیک دن معین کرنے کی ضرورت نہیں اور امام مالک اور شافعی اور احمد (رح) نے فرمایا ہے محلہ سے وہ موضع مراد ہے جہاں وہ روکا گیا ہے خواہ وہ جگہ حرم ہو یا حرم سے باہر کیونکہ قصہ حدیبیہ میں مسور بن مخرمہ سے وایت ہے کہ جب عہد نامہ کے لکھنے سے فراغت ہوئی تو جناب رسول اللہ نے اپنے اصحاب ؓ سے فرمایا کہ اٹھو نحر کرو پھر بال منڈواؤ حضور ﷺ نے تین بار یہ کلمات فرمائے لیکن کوئی اپنی جگہ سے نہ اٹھا۔ (1) [ وجہ اس کی یہ تھی کہ یہ صلح صحابہ ؓ کو ناگوار ہوئی تھی سب یہ کہتے تھے کہ مغلوب ہو کر کیوں صلح کریں۔] حتی کہ خود حضور ﷺ نے اپنے اونٹ کو نحر کیا اور حجام کو بلا کر سر منڈایا جب لوگوں نے یہ دیکھا تو اٹھے اور نحر کیا اور آپس میں ایک دوسرے کا سر مونڈا اور غم کی وجہ سے یہ حالت تھی کہ گویا ایک دوسرے کو قتل کرتا تھا اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے اور یعقوب بن سفیان نے مجمع بن یعقوب کے طریق سے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ جب جناب سرور کائنات ﷺ اور آپ کے اصحاب روکے گئے تو حدیبیہ میں سب نے نحر کیا اور سر منڈایا اور اللہ تعالیٰ نے ایک ہوا بھیجی کہ اس نے سب کے بالوں کو حرم میں جا کر ڈال دیا اور امام مالک (رح) نے موطا میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ اور آپ کے اصحاب ؓ حدیبیہ میں حلال ہوئے تو ہدی کا نحر کی اور سروں کو منڈایا اور ہر شے سے حلال ہوگئے۔ امام مالک اور شافعی (رح) نے فرمایا ہے کہ حدیبیہ حرم سے باہر ہے۔ حنفیہ نے اس کا دو طرح سے جواب دیا ہے اوّل یہ کہ جناب رسول اللہ نے اپنی ہدی حرم میں ناجیہ بن جندب اسلمی ؓ کے ہاتھ بھیجی تھی اس حدیث کو امام طحاوی اور نسائی نے ناجیہ سے روایت کیا ہے دوسرے یہ کہ حدیبیہ کا بعض حصہ تو حل میں ہے اور بعض حصہ حرم میں چناچہ طحاوی نے مسور سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ کا حدیبیہ میں خیمہ تو حل میں تھا اور مصلّٰے حرم میں جب یہ امر ثابت ہوگیا تو ظاہر یہ ہے کہ حرم میں ہی نحر کیا ہوگا۔ میں کہتا ہوں کہ ناجیہ کی حدیث شاذ اور مشہور کی مخالف ہے اور اگر اس کا ثبوت بھی ہوجائے تو دونوں روایتوں کی تطبیق کے لیے یہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بعض ہدی حرم میں بھیج دی ہوں اور بعض کا حل میں نحر کیا ہو اور نیز آیت : ھم الذین کفروا وصدوکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفاً ان یبلغ محلہ ( یہ لوگ وہ ہی تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو روکامسجد حرام سے اور قربانی کے جانور کو روکا کہ وہ رکی کھڑی رہے نہ پہنچنے پائے اپنی جگہ) سے بھی یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہدی اپنی جگہ نہیں پہنچی اور یہ بھی اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہدی کی جگہ حرم ہی ہے اس لیے بہتر جواب یہی ہے کہ بخاری نے ابن عباس ؓ سے تعلیقاً روایت کیا ہے کہ محصر اگر ہدی کو حرم میں بھیجنے کا مقدور نہ رکھتا ہو تو جہاں کہیں روکا جائے نحر کردے اور اگر ہو سکے تو اس پر بھیجنا واجب ہے اس تقدیر پر آیت : وَلَا تحلقوا رؤسکم حتی یبلغ الھدی محلہ کے معنی یہ ہوں گے کہ اگر تم سے ہو سکے تو ہدی کے اس کی جگہ پہنچنے تک سر مت منڈاؤ اور یہ آیت عام ہوگی لیکن بعض افراد جناب رسول اللہ کے فعل سے اور آیت : والھدی معکوفا ..... سے مخصوص ہوں گے۔ وا اللہ اعلم اگر کوئی یہ کہے کہ ابو داؤد نے محمد بن اسحاق سے محمد بن اسحاق نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو حاضر حمیری سے سنا ہے کہ وہ ابو میمون بن مھران سے یوں بیان کرتے تھے کہ جس سال اہل شام نے مکہ میں ابن زبیر ؓ کا محاصرہ کیا تھا اسی سال میں بھی عمرہ کرنے کے لیے گیا اور میری قوم کے چند لوگوں نے میرے ساتھ ہدی کردی تھیں کہ ان کو حرم میں ذبح کردینا جب ہم یہاں آئے تو اہل شام نے ہم کو حرم میں گھسنے سے روکا میں نے ہدی کو اسی جگہ نحر کیا پھر حلال ہو کر وہاں سے واپس ہوگیا جب سال آئندہ عمرہ قضا کرنے آیا تو ابن عباس ؓ کی خدمت میں بھی حاضر ہوا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ ہدی کے عوض دوسری ہدی بھیج دو کیونکہ جناب رسول اللہ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا تھا کہ جو ہدایا تم نے حدیبیہ میں نحر کی تھیں ان کے عوض دوسری قربانیاں کرو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حرم سے باہر نحر کرنا جائز نہیں اور اگر کردیا تو اعادہ کرنا چاہئے۔ میں کہتا ہوں کہ محمد بن اسحاق راوی اس کی سند میں مختلف فیہ ہے اور اس حدیث پر تمام امت نے عمل ترک کیا ہے کوئی اس کا قائل نہیں اس مقام پر اور مسائل میں بھی اختلاف ہے چند مسئلے ہم ذکر کرتے ہیں۔ مسئلہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قران کرنے والے پر دو دم واجب ہیں کیونکہ اس کے دو احرام ہیں ایک حج کا اور ایک عمرہ کا اور جمہور تو یہ کہتے ہیں کہ احرام ایک ہے اس لیے ایک ہی دم کافی ہے۔ فان احصرتم فما استیسر من الھدی کا عموم جمہور کے قول کی تائید کرتا ہے۔ مسئلہ اس میں اختلاف ہے کہ جب کوئی حج یا عمرہ سے روکا گیا تو آیا محض اس رکنے ہی سے وہ حلال ہوگیا یا حلال ہونے کی نیت کے ساتھ ذبح کرلینا بھی ضروری ہے یا نیت اور ذبح اور سر منڈانا تینوں لازم ہیں تیسرا قول امام شافعی اور جمہور کا ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ روکے جانے سے حج کے افعال ساقط ہوگئے احرام کے افعال باقی ہیں حلق ( سر منڈانا) شرع میں محلل ( حلال کرنے والا) قرار دیا گیا ہے اس لیے بغیر حلق کے حلال نہ ہوگا اور حلق کا بحیثیت محلل ہونے کے حرم کے ساتھ مقیدہونا ثابت نہیں حلق ( سر منڈانا) یا قصر (کتروانا) کے واجب ہونے اور حلق کے اولیٰ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ حدیبیہ کے دن جناب رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ؓ اور کترنے والوں پر بھی آپ ﷺ نے پھر فرمایا منڈانے والوں پرا اللہ رحمت فرمائے صحابہ نے پھر عرض کیا کترانے والوں پر بھی تیسری مرتبہ میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ کترانے والوں پر بھی اس حدیث کو طحاوی نے ابن عباس اور ابو سعید ؓ سے روایت کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) و محمد (رح) فرماتے ہیں کہ اگر حرم میں روکا گیا تو حلق واجب ہے اور اگر حل میں روکا گیا تو واجب نہیں کیونکہ حلق کا عبادت ہونا خاص زمانہ یا مکان کے ساتھ مخصوص ہے کافی میں اسی طرح ہے اور ہدایہ میں ہے کہ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام محمد کے نزدیک حلق واجب نہیں ذبح ہی سے حلال ہوجاتا ہے اور امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک حلق لازم ہے کیونکہ نبی ﷺ نے حدیبیہ کے سال اس کا حکم فرمایا تھا لیکن اگر حلق نہ کیا تب بھی کچھ حرج نہیں۔ ( یعنی دم وغیرہ اس کے ذمے واجب نہیں) فقط ذبح ہی سے حلال ہوجائے گا اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ صرف حصار سے حلت احرام ہوجاتی ہے ذبح واجب نہیں۔ یہ آیت امام مالک کے خلاف حجت ہے دلیل امام مالک کی یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن ہم سے رسول اللہ نے فرمایا کہ ایک ہدی کے اندر سات تک شریک ہوجائیں۔ اس حدیث کو دارقطنی (رح) نے روایت کیا ہے اور شیخین نے جابر ؓ سے اس طرح روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے 6 ھ میں عمرہ کا احرام باندھا۔ آپ کے ہمراہ ایک ہزار چار سو آدمی تھے۔ اب ان دونوں حدیثوں کے ملانے سے یہ امر معلوم ہوا کہ ہدی ہر محصر پر واجب نہیں اور صرف نیت سے احرام کھل جاتا ہے ذبح کی ضرورت نہیں کیونکہ ستر اونٹ پانسو آدمیوں کو بھی کافی نہیں تو اور باقی آدمی بغیر ہدی کے رہ گئے۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ اور لوگوں نے بکریاں ذبح کی ہوں اور علاوہ ازیں یہ ہے کہ یہ امام مالک کا استدلال نص قطعی کے مقابلہ میں خبر واحد سے ہے اس لیے مقبول نہیں۔ (اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ کتابی یا آن لائن نسخے سے ملاحضہ فرمائیں۔ طوالت کے باعث اس سے زیادہ نقل نہیں کیا جا رہا)
Ayah 2:197

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے مہینے (معین ہیں جو) معلوم ہیں تو شخص ان مہینوں میں حج کی نیت کرلے تو حج (کے دنوں) میں نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے نہ کسی سے جھگڑے۔ اور جو نیک کام تم کرو گے وہ خدا کو معلوم ہوجائے گا اور زاد راہ (یعنی رستے کا خرچ) ساتھ لے جاؤ کیونکہ بہتر (فائدہ) زاد راہ (کا) پرہیزگاری ہے اور اے اہل عقل مجھ سے ڈرتے رہو

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ ۚ ( اور حج کے چند مہینے معلوم ہیں) یعنی حج کا وقت بلکہ احرام کا وقت چند مہینے معلوم ہیں کیونکہ ارکان کا وقت تو یوم عرفہ اور یوم نحر کے سوا اور نہیں ہے۔ طبرانی نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ حج کے مہینے شوال اور ذیقعدہ اور ذی الحجہ ہیں۔ میں (مفسر) کہتا ہوں کہ پورا شوال اور پورا ذی قعدہ اور نو دن یوم نحر کی صبح تک ماہ ذی الحجہ کے مراد ہیں اور ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ شوال اور ذیقعد اور دس دن ذی الحجہ کے ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ دونوں روایتوں کے الفاظ صحیح ہیں کیونکہ مقصد دونوں کا ایک ہے جس نے دس کہا ہے اس نے دس رات مراد لی ہیں اور جس نے نو ذکر کئے ہیں اس نے نو دن لیے ہیں اور دو ماہ دس روز کو لفظ جمع سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ عرب کی عادت ہے کہ وقت کو پورا ذکر کرتے ہیں اگرچہ فعل اس کے بعض حصہ میں ہوا ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : سبحان الذی اسریٰ بعبدہ ٖ لیلاً ( پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کو لے گیا) حضور رات کے بعض حصہ میں تشریف لے گئے مگر پوری رات ذکر فرمائی اور عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اشہر سے شوال اور ذیقعدہ اور پورا ذی الحجہ مراد ہے کیونکہ بعد عرفہ کے بھی حاجی پر بہت سے افعال کرنے واجب ہوتے ہیں مثلاً ذبح کرنا رمی اور سر منڈانا اور طواف زیارت اور منیٰ میں رہنا اور ایام تشریق میں رمی جمار کرنا اس لیے یہ بقیہ ایام بھی حج میں ہی شمار کرلیے گئے میں کہتا ہوں کہ یہ جملہ افعال ذی الحجہ کی تیرہ تاریخ تک تمام ہوجاتے ہیں اب پورے مہینہ کو شمار کرنا بظاہر صحیح نہیں ہے۔ علامہ بیضاوی نے فرمایا ہے کہ تمام زی الحجہ حج کا مہینہ ہے کیونکہ وقت حج سے مراد ان کے نزدیک یہ ہے کہ سوائے حج کے اور مناسک اس میں مستحسن نہ ہوں۔ چناچہ امام مالک (رح) بقیہ ذی الحجہ میں عمرہ کو مکروہ بتاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ توجیہ درست نہیں کیونکہ حج کے مہینوں میں آفاقی کے لیے بالاتفاق عمرہ مکروہ نہیں اور خود جناب رسول اللہ ﷺ نے ذیقعدہ میں چار عمرے کئے ہیں اسی طرح امام مالک اور شافعی (رح) کے نزدیک مکی کو تمتع جائز ہے چناچہ ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں امام شافعی (رح) اس آیت سے مستنبط کرکے فرماتے ہیں کہ حج کے مہینوں سے پہلے حج کا احرام جائز نہیں اور اگر احرام باندھا بھی تو وہ حج کا نہ ہوگا عمرہ کا ہوجائے گا اور داؤد نے فرمایا کہ ان مہینوں سے پہلے احرام حج کا ہوتا ہی نہیں لغو ہوتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) اور مالک اور احمد فرماتے ہیں اگر ان مہینوں سے پہلے حج کا احرام باندھا تو منعقد ہوجائے گا لیکن مکروہ ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ احرام حج کی شرط ہے رکن نہیں ہے اسی واسطے اگر کسی نے مبہم احرام باندھا یعنی نہ حج کی نیت کی نہ عمرہ کی اور پھر اس کے بعد حج یا عمرہ یا قرآن کی نیت کرلی تو جائز ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ یمن سے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو حضور ﷺ نے دریافت فرمایا تم کا ہے کی نیت کی ہے اور کس چیز کا احرام باندھا ہے حضرت علی ؓ نے جواب دیا جو حضور کی نیت ہے وہی میری ہے اور ابو موسیٰ ؓ کی حدیث بھی اسی مضمون کی ہے یہ دونوں حدیثیں صحیحین میں موجود ہے جب ثابت ہوگیا کہ احرام شرط ہے تو وقت پر اس کی تقدیم جائز ہے جیسے وضو نماز سے پہلے کرنا درست ہے لیکن فرق اس قدر ہے کہ وضو تو محض شرط ہے اور اس میں کچھ مشابہت رکن کی بھی پائی جاتی ہے چناچہ غلام نے اگر احرام باندھ لیا تھا اور اس کے بعد یوم عرفہ سے پہلے وہ آزاد کیا گیا تو اس کا فرض ادا نہ ہوگا اسی مشابہت کی وجہ سے ہم کراہت کے قائل ہوئے ہیں جب یہ معلوم ہوگیا کہ احرامِ حج کا وقت چند معین مہینے ہیں اور یہ مہینے ارکان کا وقت نہیں ہیں ارکان کا وقت صرف دو دن ہے تو اب بظاہر امام شافعی (رح) کا قول درست معلوم ہوتا ہے کیونکہ احرام اگرچہ حج کی شرط ہے رکن نہیں اور شرط اگرچہ مشروط کے وقت پر مقدم ہوسکتی ہے لیکن شرط کی خود اس کے وقت پر تقدیم جائز نہیں جیسا کہ عشا ادائے وتر کی شرط ہے تو جس نے عشا غروب شفق سے پہلے ادا کرلی اس کے وتر جائز نہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ عشا کو وقت وتر سے پہلے ادا کیا بلکہ اس سبب سے کہ عشا کو خود اس کے وقت سے پیشتر پڑھا۔ وا اللہ اعلم بالصواب۔ فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ ( پس جس نے لازم کرلیا ان میں حج) یعنی جس نے اپنے ذمہ ان مہینوں میں حج کو واجب کرلیا یعنی حج کا احرام باندھا اس میں اختلاف ہے کہ احرام کیا ہے۔ امام مالک اور شافعی (رح) واحمد تو یہ فرماتے ہیں کہ احرام نام قلب سے نیت کرنے کا ہے جیسا کہ روزہ کی نیت ہوتی ہے اور تلبیہ اس میں شرط نہیں لیکن امام مالک فرماتے ہیں کہ احرام کے وقت تلبیہ واجب ہے اگر چھوڑ دیا تو ایک قربانی واجب ہے اور امام احمد و شافعی سے بھی ایک روایت اسی طرح ہے لیکن مشہور مذہب ان دونوں کا یہ ہے کہ تلبیہ سنت ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ احرام نیت کے ساتھ تلبیہ ہونے کو کہتے ہیں جیسے نماز میں تکبیر ہے اور ایک روایت امام شافعی (رح) سے بھی اسی طرح ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ نماز پر اس کو قیاس کرنا باعتبار روزہ کے زیادہ مناسب ہے۔ ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ہے کہ حج کا فرض اہلال 1 ؂ ہے اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ تلبیہ فرض ہے اور ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود کا قول بھی مثل ابن عمر ؓ کے قول کے روایت کیا ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اہل مدینہ ذی الحلیفہ سے اہلال کریں اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو اس کو چاہئے کہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے۔ تو دیکھو کہ حضور ﷺ نے اہلال کا حکم فرمایا اور اہلال کے معنی تلبیہ کو پکار کر کہنا ہے اور امر وجوب کے لیے ہوتا ہے تو جو تلبیہ کے وجوب کے قائل نہیں یہ احادیث ان پر حجت ہیں اور احرام کو حضور ﷺ نے اہلال سے تعبیر فرمایا اور پہلے معلوم ہوچکا کہ اہلال پکار کر تلبیہ کہنا ہے تو معلوم ہوگیا کہ احرام کی حقیقت تلبیہ ہے لیکن امام ابوحنیفہ (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ جس نے اونٹ کے قلادہ ڈالا اور اس کو لے کر حج کے ارادہ سے چلا تو وہ محرم ہوگیا اگرچہ اس نے تلبیہ نہ کہا ہو تو اس صورت میں امام صاحب نے فعل کو قول کا نائب قرار دیا کیونکہ ذکرجس طرح قول سے حاصل ہوتا ہے اسی طرح فعل سے بھی اس کا وجود ہوتا ہے دیکھو جو شخص اذان سن کر نماز کے لیے فوراً چلا تو یہ چلنا ہی جواب اذان کی جگہ ہوجائے گا کیونکہ پکار نے والے کی اجابت فعل سے کرنا زیادہ بہتر ہے اور تلبیہ کے معنی ہی خود حاضری اور طاعت کے لیے مستعد ہونے کے ہیں وا اللہ اعلم۔ صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جس نے اونٹ کے قلادہ ڈالا وہ محرم ہوگیا لیکن یہ حدیث مجہول ہے ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں اس حدیث کو ابن عباس اور ابن عمر ؓ پر موقوف کیا ہے۔ میں کہتا ہوں ان دونوں اثروں کو اصل مدعا سے کچھ بھی لگاؤ نہیں کیونکہ یہ تو ابن عباس اور ابن عمر کا مذہب ہے کہ جس نے مکہ کو ہدی بھیجی اور اس کا ارادہ حج کا نہیں وہ محرم ہوگیا جو چیزیں محرم پر حرام ہوجاتی ہیں وہ اس پر قربانی ذبح ہونے تک حرام ہوگئیں اور ابن عباس و ابن عمر (رح) کے قول کے یہی معنی ہیں اسی طرح اور صحابہ ؓ سے بھی منقول ہے لیکن پھر اس کے خلاف پر اجماع منعقد ہوگیا۔ امام بخاری نے روایت کی ہے کہ زیاد بن ابی سفیان نے حضرت عائشہ کو لکھا کہ عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس نے ہدی بھیج دی اس پر نحر کرنے تک وہ چیزیں حرام ہوجاتی ہیں جو حاجی پر ہوتی ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ نے سن کر فرمایا یہ بات درست نہیں میں نے خود اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کی ہدی کے قلادے بٹے ہیں اور پھر حضور ﷺ نے ان قلادوں کو ہدی کے گلے میں ڈال کر میرے باپ کے ہمراہ مکہ بھیجا ہے اور کوئی شے حضور ﷺ نے اپنے پر حرام نہیں فرمائی حافظ نے فرمایا ہے کہ یہ واقعہ 9 ہجری کا ہے اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ مسئلہ ابتداء اسلام کا ہے اور پھر منسوخ ہوگیا۔ فَلَا رَفَثَ (تو نہ عورت کے پاس جانا ہے) زجاج نے کہا ہے کہ رفث ہر اس شأ کو کہتے ہیں جو مرد عورت سے چاہتا ہے بعض نے کہا ہے کہ رفث فحش اور بری بات کو کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ فحش اور بری بات تو ہمیشہ حرام ہے احرام کے ساتھ اس کی کوئی خصوصیت نہیں ہے۔ وَلَا فُسُوْقَ ( اور نہ کوئی گناہ کا کام کرنا) ابن عمر فرماتے ہیں کہ فسوق اس شے کو کہتے ہیں جس سے محرم منع کیا گیا ہے مطلب یہ ہوا کہ محرمات احرام کا ارتکاب مت کرو اور ایسی چیزوں بالاتفاق چھ ہیں اوّل رفث یعنی وطی اور جو چیزیں وطی کی طرف مائل کریں جیسے بوسہ وغیرہ اس کو اللہ تعالیٰ نے الگ کرکے اس لیے ذکر فرمایا دیا کہ ایسی شئ ہے کہ حج اور عمرہ کو بالکل ہی فاسد کردیتی ہے بخلاف اور محرمات کے کہ ان کے ارتکاب سے صرف قربانی لازم آتی ہے اور حج وعمرہ فاسد نہیں ہوتا لیکن اگر جماع وقوف عرفہ کے بعدہو تو اس وقت حج کے فاسدہونے میں اختلاف ہے لیکن حرمت میں اس وقت بھی شک نہیں۔ دوسرے خشکی کے شکار کا قتل کرنا اور اس کی طرف اشارہ کرنا یا اور کسی طرح سے دوسرے کو بتانا اللہ تعالیٰ نے فرمایا : لا تقتلوا الصید وانتم حرم ( شکار کو تم حالت احرام میں قتل مت کرو) اور فرمایا : و حرم علیکم صید البر ما دمتم حرما ( تم پر خشکی کا شکار حرام کیا گیا جب تک تم محرم رہو) انشاء اللہ تعالیٰ اس کی مفصل بحث سورة مائدہ میں آئے گی۔ تیسرے بالوں کا اور نا خن کا دور کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : وَلَا تحلقوا رؤسکم حتی یبلغ الھدی محلہ ( اور مت منڈاؤ سروں کو یہاں تک کہ ہدی اپنے ٹھکانے پر جا پہنچے اور جوں جو میل سے پیدا ہوتی ہے اس کا قتل کرنا بال منڈانے کے حکم میں ہے۔ چوتھے بدن یا کپڑے میں عطر کا استعمال کرنا رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ہے کہ ایسی شے مت پہنو جس کو زعفران یا ورس لگا ہو اس حدیث کو ابن عمر ؓ نے روایت کیا ہے اور بخاری و مسلم میں ہے یہ چار اشیاء تو مردوں اور عورتوں دونوں پر حرام ہیں اور دو چیزیں خاص مردوں پر حرام ہیں اوّل سلا کپڑا اور موزے پہننا لیکن گر کسی کے پاس جوتی نہ ہو اس کو موزے پہننے کی اور جس کے پاس تہ بند نہ ہو اس کو پائجامہ پہننے کی اجازت ہے۔ دوسرے سر کا ڈھکنا ‘ رہا چہرہ کا ڈھانکنا سو امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک تو یہ مردوں عورتوں سب پر حرام ہے اور امام شافعی اور احمد فرماتے ہیں کہ خاص عورتوں پر حرام ہے کیونکہ ابن عمر فرماتے ہیں کہ مرد کا احرام سر میں ہے اور عورت کا احرام چہرہ پر ہے اس حدیث کو دار قطنی اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور بعض نے اس حدیث کو مرفوع بھی کہا ہے لیکن صحیح نہیں۔ اور عثمان بن عفان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حالت احرام میں چہرہ مبارک ڈھانکتے تھے اس حدیث کو دارقطنی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔ چناچہ موطا میں ہے کہ فراقصہ بن عمیر حلفی نے حضرت عثمان ؓ کو عرج میں دیکھا کہ حالت احرام میں اپنا چہرہ ڈھانکے ہوئے تھے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک محرم کو اس کی سواری نے پٹک دیا تھا ( جب تکفین کے وقت اس کا سر اور چہرہ ڈھانکنے لگے) تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اس کے سر اور چہرہ کو مت ڈھانکو کیونکہ قیامت میں یہ تلبیہ کہتا ہوا اٹھے گا ایک ساتویں شے اور ہے حالت احرام میں اس کی حرمت کے اندر اختلاف ہے وہ عقد نکاح ہے امام مالک اور شافعی اور احمد تو فرماتے ہیں کہ محرم کو جائز نہیں کہ اپنا یا دوسرے کا عقد نکاح کرے یا دوسرے کو نکاح کا وکیل کرے اور اگر کیا تو منعقد نہ ہوگا دلیل ان کی یہ حدیث ہے کہ حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ محرم نہ نکاح کرے اور نہ نکاح کیا جائے اور نہ منگنی کرے اس حدیث کو مسلم اور ابو داؤد وغیرہ نے روایت کیا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ محرم کو نکاہ کرنا جائز ہے اور منعقد بھی ہوجائے گا کیونکہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ نے حضرت میمونہ ؓ سے عقد نکاح کیا اور آپ محرم تھے اور وطی آپ نے ان سے حلال ہونے کے بعد کی اور حضرت میمونہ ؓ مقام سرف میں رحلت فرما ہوئیں اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے جمہور نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اس نکاح میں خود اختلاف ہے چناچہ مسلم نے یزید بن اصم سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے خود میمونہ بنت الحارث ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے نکاح کیا اور آپ اس وقت حلال تھے اور یزید فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ میری اور ابن عباس ؓ کی خالہ ہوتی ہیں۔ جمہور کہتے ہیں کہ خود میمونہ کا بیان زیادہ معتبر ہے کیونکہ وہ اپنے حال سے بہ نسبت ابن عباس ؓ کے زیادہ واقف تھیں اور اگر بالفرض تعارض بھی مان لیا جائے تو حضرت عثمان ؓ کی حدیث جو صاف حرمت کو بتارہی ہے وہ تو معارضہ سے سالم ہے اور علاوہ ازیں حضرت عثمان ؓ کی حدیث قولی ہے اور میمونہ کا قصہ ایک آپ کا فعل ہے ممکن ہے کہ آپ کی خصوصیت ہو خصوصاً نکاح کے باب میں آپ کے لیے بہت سی ایسی خصوصیات ہیں کہ دوسرے کے واسطے نہیں ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ فسوق تمام معاصی کو کہتے ہیں لیکن فسوق کی تفسیر اوّل ظاہر ہے کیوں کہ معاصی اگر مراد ہوں تو حج کے ساتھ خصوصیت نہ رہے گی۔ ابن کثیر اور ابو عمر نے لا رفث لا فسوقکو رفع اور تنوین سے لا کا عمل باطل کرکے پڑھا ہے اور باقی قراء نے نصب سے بلا تنوین پڑھا ہے اور دونوں طرح پڑھنا جائز ہے اور نظیر اس کی لا حول ولا قوۃ الاّ باللہ ہے۔ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ( اور نہ جھگڑا کرنا ہے حج میں) وَلَا جِدَالکو ابوجعفر نے رفع اور تنوین سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے نصب سے پڑھا ہے۔ اہل جاہلیت کی عادت تھی کہ عرفات میں مختلف مواقع پر ٹھہرتے تھے اور ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ میں ابراہیم (علیہ السلام) کی جگہ ٹھہرا ہوں اور اسی پر آپس میں لڑائی جھگڑا ہوتا تھا اسی بنا پر بعض عرفات میں قیام کرتے تھے اور بعض مزدلفہ میں بعض ذیقعدہ میں حج کرتے تھے اور بعض ذی الحجہ میں اور ہر ایک کہتا تھا کہ جو میں کرتا ہوں یہی ٹھیک ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ وَلَا جدال یعنی جس طرح رسول اللہ نے کیا ہے اب اس پر حج قرار پکڑ گیا اس میں اختلاف نہ کرو۔ مجاہد نے فرمایا کہ ولا جدال کے یہ معنی ہیں کہ اب اس میں کچھ شک اور نزاع نہیں ہے کہ حج ذی الحجہ میں ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ نے نسی (1) [ قبائل مصر کے معاشی ذرائع بہت محدود تھے ملک میں زراعت تھی نہ بڑی تجارت قبائل حمیر ( یمنی) کی حالت مضر سے بہتر تھی ان کا ملک بھی زرخیز تھا اور عیر ملکی تجارت بھی ان کے ہاتھ میں تھی اور صنعت میں بھی وہ مضر سے بہتر تھے لیکن کعبہ کی تولیت مضر کے ہاتھ میں تھی قریش قبائل مضر ہی کی ایک شاخ تھی اس لیے مذہبی سیادت اور فرائض حج کا تعلق مضر ہی سے تھا۔ مضر کی معاش کا بیشتر تعلق آپس کی لوٹ مار سے تھا ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر چڑھائی کرتا اس کے مویشیوں کو لوٹتا اور عورتوں مردوں اور بچوں کو گرفتار کرکے یا باندی ‘ غلام بناتا اور بازار میں لے جا کر فروخت کردیتا یہ عام دستور تھا اور ہر زمانہ میں قتل و غارت کا بازار گرم رہتا تھا لیکن حج کے مہینوں میں علاوہ مذہبی فرض ادا کرنے کے تین میلے بھی لگتے تھے۔ ذوالمجاز، ذوالمجنہ اور عکاظ اس لیے ان مہینوں میں راستوں کا مامون رہنا ضروری تھا ورنہ تجارت قطعاً بند ہوجاتی اور کوئی حج کو نہ آسکتا تھا اس لیے ماہ رجب زیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم کو عرب نے ماورائے حرام قرار دے رکھا تھا یعنی ان چار مہینوں میں جدال، قتال، مار دھاڑ بالکل بند رکھی جاتی اور جو شخص جہاں چاہتا امن کے ساتھ چلا جاتا مگر سب کو چھوڑ کر مسلسل تین ماہ تک جدال قتال سے رکا رہنا عرب کی جنگجو طبائع کے خلاف تھا اس کے علاوہ مسلسل بندش قتال سے ان کی معاش پر بھی اثر پڑتا تھا اس لیے انہوں نے کبس یا کبیسہ یا نسی کی ایک رسم ایجا کر رکھی تھی حج کے بعد عکاظ کے میلہ میں جب لوگ شریک ہوتے تھے تو قریش کا ایک سردار کھڑے ہو کر اعلان کردیتا کہ آئندہ محرم کے مہینہ میں میں نے جدال قتال جائز کردیا اس سال محرم کا مہینہ ماہ حرام نہیں رہا بلکہ محرم کی حرمت کی جگہ میں نے ماہ صفر کو حرام بنا دیا آئندہ صفر میں جدال قتال ناجائز ہے اس رسم نسی کو قرآن نے زیادت فی الکفر قرار دے دیا اور اس جگہ فی الحج فرمادیا۔] کو باطل فرمایا رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ سنو ! یہ زمانہ پھر کر اسی ہیئت پر آگیا جیسا آسمان زمین کی پیدائش کے وقت تھا (یعنی اب اس میں کوئی گھٹانا بڑھانا نہ کرے) اس حدیث کو بخاری و مسلم نے ابوبکر ؓ سے روایت کیا ہیفی الحج لا کی خبر ہے۔ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ يَّعْلَمْهُ اللّٰهُ ( اور جو کچھ تم کرو گے نیکی اللہ اس کو جان لے گا) مطلب یہ ہے کہ جو کچھ تم بھلاکام کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں تم کو اس کا بدلہ دیں گے نھی عن المنکرکے بعد خیر پر برانگیختہ فرمایا ہے۔ وَتَزَوَّدُوْا ( اور زاد راہ لے جایا کرو) اس کے متعلق ایک قصہ ہے۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اہل یمن کی عادت تھی کہ جب وہ حج کو آتے تو زاد راہ ساتھ نہ لاتے اور یہ کہتے تھے کہ ہم لوگ متوکل ہیں اور جب مکہ آتے تو لوگوں سے بھیک مانگتے تھے اور علامہ بغوی (رح) نے کہا ہے کہ لوٹ اور غضب تک ان کی نوبت پہنچتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وتَزودوا یعنی زاد راہ اس قدر لے جایا کرو کہ جس سے وہاں تک پہنچ جاؤ اور آبرو کو بچاؤ۔ فَاِنَّ خَيْرَ الزَّاد التَّقْوٰى ( بیشک بہتر زاد راہ پرہیزگاری ہے) التقوٰی سے مراد وہ شے ہے جو سوال کرنے اور لوٹ مار کرنے سے محفوظ رکھے۔ وَاتَّقُوْنِ ( اور مجھ سے ڈرو) ابو عمر نے والتقون کو وصل کی حالت میں یا کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے وصل اور وقف دونوں صورتوں میں حذف یا سے پڑھا ہے۔ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ ( اے عقلمندو) اس خطاب سے اس لیے یاد فرمایا کہ عقل کا اقتضا ہے کہ اللہ غالب سے ڈریں۔