2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:87

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَقَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بالرُّسُلِ ۡ ( اور ہم نے دی موسیٰ ( علیہ السلام) کو کتاب (تورات) اور پے در پے بھیجے اس کے پیچھے رسول) یعنی ہم نے بعد موسیٰ ( علیہ السلام) کے کتنے ہی رسول پے در پے بھیجے اس سے معلوم ہوا کہ من بعدہ (بعد اس کے) تاکید کے لیے بڑھایا گیا ہے کیونکہ قفینا میں خود پیچھے لانے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ موسیٰ کے بعد یوشع، شموئیل شمعون، داؤد، سلیمان، ایوب، شعیا، ارمیا، عزیر، حزقیل، الیسع، یونس، زکریا، یحییٰ ، اور الیاس وغیرہم (علیہم السلام) پیغمبر ہوئے ہیں۔ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ ( اور دئیے ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلے معجزے) بینات سے مراد نبوت کی کھلی کھلی دلیلیں ہیں، جیسے اندھے مادر زاد اور برص والے کو شفا دینا اور مردوں کو زندہ کردینا وغیرہ وغیرہ یا بینات سے مراد انجیل ہے۔ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ ( اور قوت دی اس کو روح پاک (جبرائیل) سے) ابن کثیر نے بروح القدس میں قدس کی دال کو سکون سے اور دیگر قراء نے ضمہ سے پڑھا ہے اور روح القدس سے مراد یا تو جبرئیل ( علیہ السلام) ہیں یا وہ روح مراد ہے جو عیسیٰ ( علیہ السلام) کے اندر اللہ تعالیٰ نے پھونکی تھی۔ القدس یعنی طہارت مصدر بمعنی اسم فاعل یعنی طاہر ہے اور قدس ( پاک) سے مراد اللہ تعالیٰ ہے تعظیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پاک کی طرف نسبت فرمائی ہے جیسے بیت اللہ ( اللہ کا گھر) اور ناقۃ اللہ ( اللہ کی اونٹنی) اور اسی کے ہم معنی دوسرے مقام پر فرماتے ہیں : وَ نَفخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا ( پھونکا ہم نے اس میں اپنی روح سے) یا روح کی اضافت القدس کی طرف ایسی ہے جیسے حاتم الجود ( حاتم سخاوت کا) میں حاتم کی اضافت الجود کی طرف اس صورت میں القدس ( پاکی) صفت روح کی ہوگی اور جبرائیل اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کو معاصی سے معصوم اور پاک ہونے کی وجہ سے پاک فرمایا ہے اور خاص حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) میں پاکی کی ایک یہ وجہ بھی ہے کہ ولادت کے وقت شیطان کے لگنے سے انہیں اللہ تعالیٰ نے پاک رکھا تھا۔ چناچہ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بچہ اولاد آدم ( علیہ السلام) میں پیدا ہوتا ہے اسے ولادت کے وقت شیطان چھوتا ہے سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے کہ وہ دونوں شیطان سے محفوظ رہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور نیز حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) میں ایک وجہ طہارت کی یہ تھی کہ وہ مردوں کی پشت اور حیض والے رحم سے محفوظ رہے تھے اور جبرائیل سے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو تائید کی صورت یہ تھی کہ جبرائیل ( علیہ السلام) کو حکم ہوگیا تھا کہ جس جگہ عیسیٰ ( علیہ السلام) چلیں پھریں تم ان کے ساتھ رہو چناچہ حسب ارشاد خداوندی جبرئیل ( علیہ السلام) ہر وقت ان کے ساتھ رہتے تھے حتیٰ کہ ان کو آسمان پر لے گئے۔ بعض مفسرین نے کہا کہ روح سے اسم اعظم مراد ہے جس کے ذریعہ سے عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرنے اور لوگوں کو عجائبات دکھاتے تھے بعض نے کہا کہ روح سے مراد انجیل ہے۔ چناچہ آیت : اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمرِْنَا ( وحی کی ہم نے طرف آپ کے اے محمد ﷺ روح ( یعنی قرآن) اپنے حکم سے) میں بھی روح سے مراد قرآن پاک ہے۔ کتاب اللہ کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ جس طرح روح بدن کی حیات کا سبب ہے اس طرح کتاب اللہ دلوں کی حیات کا ذریعہ ہے۔ اخیر کی دو تفسیروں میں روح کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف اور اس کو طہارت ( پاکی) کے ساتھ موصوف کرنا ظاہر ہے کیونکہ روح سے مراد جب کتاب ٹھیری تو اللہ تعالیٰ کی طرف اضافت کرنا اور اس کو پاک کہنا دونوں صحیح اور ظاہر ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ جب یہود نے جناب رسول اللہ ﷺ سے عیسیٰ کا ذکر سنا تو عرض کیا کہ معجزات عیسیٰ ( علیہ السلام) ور جو جو قصے حضرت انبیاء (علیہم السلام) کے ہم سے کہتے ہو ہم تو آپ کو جب سچا سمجھیں کہ جب اسی قسم کے افعال اور معجزات تم بھی لاؤ اس پر ذیل کی آیت نازل ہوئی۔ 1 ؂ اَفَكُلَّمَا جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰٓى اَنْفُسُكُمُ ( تو کیا جب کبھی لایا تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم کہ نہ پسند کیا تمہارے جی نے) جَاءَ کُمْ میں خطاب یہود کو ہے۔ ھوی کسرہ واو کے ساتھ بمعنی محبت اور ھوی بفتحہ اوپر سے نیچے گرنا۔ اَفَکُلَّمَا کا پہلے جملوں پر عطف ہے افکلما .... میں فاء اور مضمون متعلق فاء کے درمیان ہمزہ یہود کو زجر و توبیخ کرنے اور ان کی حالت پر تعجب ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے۔ کہ موسیٰ ( علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) کے متواتر بھیجنے پر انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی بےجا فرمائشیں کرنے لگے 2 ؂ اور یہ بھی تفسیر ہوسکتی ہے کہ اَفَکُلَّمَا سے کلام مستقل شروع ہوا اور فاء ایک کلام محذوف پر عطف کرنے کے لیے لائی گئی ہو اور چونکہ مضمون سابق ( انبیاء کے بھیجنے) پر سوال پیداہو سکتا تھا کہ پھر ان لوگوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ کیا برتاؤ کیا تو جواباً ارشاد ہو افَکَفروا بِھِم ( یعنی انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کفر کیا) پھر توبیخ کے طور پر خطاب ہوا : اَکْفَرْتُمْ بِھِمْ فَکُلَّمَا جَاءَ کُمْ کیا تم نے ان کا انکار کیا پس جب کبھی لایا تمہارے پاس ..... اسْتَكْبَرْتُمْ ( تکبر کرنے لگے) یعنی تم ایمان لانے اور پیغمبروں کے اتباع سے تکبر کرنے لگے۔ فَفَرِيْقًا كَذَّبْتُمْ ( پھر ایک جماعت کو تم نے جھٹلایا) یعنی ایک فریق کی جیسے عیسیٰ ( علیہ السلام) و محمد ﷺ و غیرہما کی تم نے تکذیب کی وَفَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ ( اور ایک جماعت کو قتل کرنے لگے) یعنی انبیاء کی ایک جماعت کو جیسے زکریا اور یحییٰ اور شعیب وغیرہم کو قتل کردیا۔ انبیاء ( علیہ السلام) کے قتل کو جو کہ زمانہ گذشتہ میں ہوچکا ہے صیغہ مضارع سے اس لیے تعبیر فرمایا کہ ایک امر عظیم ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جو امر عظیم ہوتا ہے اس کو اس طرح بیان کیا کرتے ہیں کہ وہ بالکل پیش نظر ہوجائے گویا اب ہو رہا ہے اس بنا پر قتل انبیاء ( علیہ السلام) کو جو نہایت ہولناک اور عظیم اور حیرت ناک امر ہے مضارع کے صیغہ سے تعبیر فرمایا ( جیسے کہتے ہیں کہ میں دہلی گیا وہاں دیکھتا ہوں کہ بڑی جامع مسجد ہے اور آگے چلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک قلعہ ہے) نیز آیات چونکہ پہلے سے نون پر ختم ہو رہی ہیں۔ اس لیے اس کی رعایت سے تقتلون فرمایا اور اس لیے بھی صیغہ مضارع سے تعبیر فرمایا کہ یہ بات بخوبی معلوم ہوجائے کہ پہلے تو تم نے انبیاء ( علیہ السلام) کو قتل کیا مگر اب بھی تم اس سے خالی نہیں ہو اور رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہو چناچہ تم نے ان پر سحر 1 ؂ کیا اور با ارادہ قتل آپ سے قتال کرتے ہو۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ پر کسی نے سحر کیا حتی کہ حضور کی یہ حالت ہوگئی تھی کہ آپ کو یہ خیال ہوتا تھا کہ فلاں کام کرلیا حالانکہ وہ کام کیا ہوا نہیں ہوتا تھا چند روز یہی حالت رہی پھر ایک روز آپ نے اللہ تعالیٰ سے خوب دعا کی پھر مجھ سے فرمایا عائشہ تمہیں یہی خبر ہے کہ جس کی تحقیق کے لیے میں نے جناب الٰہی میں مناجات کی تھی۔ اس کا حال مجھے معلوم ہوگیا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا دو شخص میرے پاس آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائنتی پھر ایک نے دوسرے سے کہا کہ ان کو کیا بیماری ہے دوسرے نے جواب دیا جادو ہے پھر پہلے نے پوچھا کس نے کیا ہے ؟ دوسرے نے کہا لبید بن عاصم یہود نے۔ پوچھا کس شے میں کیا ہے ؟ کہا : ایک کنگھی اور کچھ بال اور کھجور کے پھل کے غلاف کے اندر کیا ہے۔ پھر پوچھا یہ سب چیزیں کہاں ہیں کہا چاہ ذروان میں، اس کے بعد جناب رسول اللہ ﷺ مع ایک جماعت صحابہ کے اس کنویں پر تشریف لے گئے حضور نے فرمایا وہ کنواں یہی ہے جس کی صورت اور پانی مجھے دکھایا گیا ہے میں کہتا ہوں کہ تقتلون صیغہ استقبال بھی ہوسکتا ہے اور معنی یہ ہونگے کہ ایک فریق کو تم قتل کرو گے اور مراد فریق سے محمد ہیں اور اس قتل کا ظہور اس طرح ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو خیبر کی ایک یہودن نے بکری کے گوشت میں زہر ملا کر کھلا دیا تھا سو اس کا اثر حضور کو وفات کے وقت تک رہا اور اس صورت میں اور انبیاء کے قتل کا ذکر یا تو بالکل متروک اور یا مقدر ہوگا اور تقدیر عبارت کی یہ ہوگی وفریقاً قتلتم و فریقاً تقتُلُوْن یعنی انبیاء کے ایک فریق کو تو تم قتل کرچکے اور ایک جماعت کو قتل کرو گے۔ حضرت جابر سے مروی ہے کہ خیبر کی یہودن بکری کا گوشت زہر آلود کرکے رسول اللہ ﷺ کے لیے ہدیہ میں لائی۔ حضور نے ایک دست اس میں سے اٹھایا اور کھانا شروع کیا اور چند صحابہ ؓ نے بھی کھانا شروع کیا جب کچھ کھالیا تو حضور نے فرمایا کہ کھانے سے سب ہاتھ اٹھالو اور یہودن کے بلانے کو آدمی بھیجا جب وہ آئی تو دریافت کیا کہ تو نے اس گوشت میں زہر ملا یا ہے اس نے پوچھا آپ کو کس نے خبر دی فرمایا کہ بکری کے اس ہاتھ نے خبر دی ہے جو میرے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اقرار کرلیا اور کہا میں نے یہ فعل اس وجہ سے کیا کہ اگر آپ نبی ہیں تو آپ کو کچھ نقصان نہ ہوگا اور جو نبی نہیں ہیں تو ہم آرام سے ہوجائیں گے۔ حضور نے اس کے اس قصور کو معاف فرمایا اور کچھ سزا نہیں دی اور جس جس نے اس گوشت میں سے کھایا وہ وفات پا گیا۔ 2 ؂ اور رسول اللہ ﷺ نے اس زہر کو خارج کرنے کے لیے شانہ مبارکہ سے خون نکلوایا 3 ؂۔ اس حدیث کو ابو داؤد اور دارمی نے روایت کیا ہے اور عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ مرض الموت میں فرماتے تھے عائشہ ! خیبر میں زہرآلود کھانا میں نے کھایا تھا اس کا الم اب تک مجھے معلوم ہوتا رہا اب اس وقت اسی زہر کی وجہ سے میری زندگی کی رگ منقطع ہو رہی ہے اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے جو یہودیوں کو انبیاء کے ایک فریق کا مکذب قرار دیا اور فرمایا : فَفَرِیقًا کَذَّبْتُمْ (ایک فریق کی تم نے تکذیب کی) تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بعض انبیاء کی تکذیب نہیں کی جیسے یوشع اور عزیر ( علیہ السلام) اگر کوئی شبہ کرے کہ بعض انبیاء دونوں فریق میں داخل ہیں یعنی لوگوں نے ان کی تکذیب بھی کی اور قتل بھی کیا وہ ان میں سے کسی فریق میں نہ آئے تو جواب یہ ہے کہ یہ شبہ تو جب وارد ہوسکتا تھا جب کہ عطف او کے ساتھ ہوتا ‘ یعنی مضمون اس طرح ہوتا کہ یا تو تم نے تکذیب کی اور یا قتل کیا تو اس سے مستفاد ہوتا کہ تکذیب اور قتل میں سے انبیاء کے ساتھ ایک شے ضرور ہوئی ہے اور دونوں نہیں ہوئیں اور یہاں عطف واؤ کے ساتھ ہے اس لیے یہ شبہ خود ہی مرتفع ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 2:88

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں

وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ( اور کہتے ہیں ہمارے دل غلافوں میں ہیں) غلف جمع اغلف کی ہے اغلف وہ قلب ہے جس پر خلقی پر دہ پڑا ہوا ہو کہ اس کی وجہ سے نہ حق بات کو سنے اور نہ سمجھے اور دوسری جگہ اسی کی نظیر یہ آیت ہے وَ قَالُوْ قُلُوْبُنَا فِی اَکِنَّۃٍاور کہا کفار نے کہ ہمارے دل پر دوں میں ہیں) مجاہد اور قتادہ نے اسی طرح فرمایا ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ غلف کی اصل غُلُفٌ ضمہ لام سے تھی پھر لام کی تخفیف کے لیے ساکن کردیا اور اعرج اور ابن عباس ؓ کی قرأت سے اس کی تائید ہوتی ہے کیونکہ ان دونوں حضرات نے غلف کو ضمہ لام سے پڑھا ہے۔ اس تقدیر پر غلف جمع غلام کی ہے اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ ہمارے دل ہر قسم کے علم کے غلاف اور برتن ہیں۔ یعنی ان میں ہر قسم کا علم بھرا ہوا ہے تمہارے علم کی ضرورت نہیں۔ ابن عباس اور عطا نے اسی طرح فرمایا ہے اور کلبی نے فرمایا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہمارے دل پر علم کے برتن ہیں جو بات سنتے ہیں اسے محفوظ کرلیتے ہیں لیکن تمہاری بات کو نہ سمجھتے ہیں نہ محفوظ کرتے ہیں سو اگر تمہاری بات میں کسی قسم کی خیر اور نیکی ہوتی تو ہمارے دل ضرور اسے محفوظ کرلیتے ہیں اور سمجھتے اس پر حق تعالیٰ نے ان کے قول کو رد کیا اور فرمایا کہ ان کے دل خلقۃ پر دوں میں نہیں ہیں بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ملعون بنا دیا ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر بچہ فطرت ( یعنی قبول حق کی استعداد) پر پید ہوتا ہے پھر اس کے والدین یا تو اسے یہودی بنادیتے ہیں یا نصرانی یا مجوسی و مشرک بنا دیتے ہیں ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ جو اس سے پہلے ( یعنی بلوغ اور کسی دین کے سمجھنے سے پہلے ہی مرگئے ہیں ان کا کیا حال ہوگا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو خبر ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ہیں۔ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ ( نہیں بلکہ پھٹکار دیا انکو اللہ نے) مطلب یہ ہے کہ انکے دل علم کے مخزن اور برتن ہرگز نہیں انکا یہ کہنا محض لاف و باطل ہے بلکہ وجہ اس انکار کی یہ ہے کہ انکے کفر کی وجہ سے اللہ نے انکے دلوں کو ہر قسم کی خیر سے دور کردیا اور دھتکار دیا۔ بِكُفْرِھِمْ ( ان کے کفر کی وجہ سے) چناچہ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو اس طرح تعبیر فرمایا ہے : فَاَصَمَّھُمْ وَ اعَْمَٰی اَبْصَارَھُم ( بہرا کردیا انہیں اللہ تعالیٰ نے اور ان کی بینائیوں کو اندھا کردیا) پھر یہ دعوئے علم اور یہ استغناء انہیں کس طرح شایاں ہوسکتا ہے۔ فَقَلِيْلًا مَّا يُؤْمِنُوْنَ ( سو بہت ہی کم ایمان لاتے ہیں) قلیلاً یا تو حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور یا مبالغہ کے لیے زیادہ کیا گیا ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے۔ کہ یہ لوگ ایمان لاتے ہیں بہت ہی کم تعداد میں “ چناچہ مشرکین یہود سے زیادہ ایمان لائے قتادہ نے اس آیت کی تفسیر اسی طرح فرمائی ہے یا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ ایمان لاتے ہیں بہت کم ایمان لانا اور یا منصوب بنزع حرف جر ہے اور اس تقدیر پر آیت کے یہ معنی ہیں کہ جس جس شے پر ایمان لانا واجب ہے ان میں سے بہت کم پر ایمان لاتے ہیں کیونکہ کتاب اللہ کے بعض حصہ پر ایمان لاتے اور بعض کو چھوڑ دیتے ہیں اور واقدی نے فرمایا ہے معنی یہ ہیں کہ نہ قلیل ایمان لاتے ہیں نہ کثیر “ یعنی بالکل ایمان نہیں لاتے جیسے بولتے ہیں مَا اقل مَا تفعل کذا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ فلاں کام تم بہت کم کرتے ہو اور مراد یہ ہے کہ فلاں کام تم بالکل نہیں کرتے پس اس صورت میں قلۃ سے مجازاً عدم مراد ہے۔
Ayah 2:89

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت

وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ ( اور جب پہنچی ان کے پاس خدا کی طرف سے کتاب جو سچا بتاتی ہے اس کتاب کو جو ان کے پاس ہے) کتاب سے مراد قرآن شریف ہے لِمَا مَعَھُم میں ما سے مراد تو رات ہے اور لما کا جواب محذوف ہے اور دوسرے لما کا جواب اس پر دلالت کرتا ہے۔ وَكَانُوْا مِنْ قَبْلُ ( اور وہ پہلے سے) یعنی نبی ﷺ کے مبعوث ہونے سے پہلے۔ يَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَي الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ( کافروں پر فتح بھی مانگا کرتے تھے) یعنی رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل کتاب کی یہ حالت تھی کہ مشرکین عرب کے مقابلہ میں حضور کے وسیلے اور برکت سے مدد طلب کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ اے اللہ اس نبی کی برکت سے جو آخر زمانہ میں مبعوث ہوگا اور جس کی صفت اور حالات ہم تورات میں دیکھتے ہیں ہماری مدد کر اور حق تعالیٰ کی طرف سے امدا دہوتی تھی اور مشرکین جو ان کے مقابل ہوتے ان سے کہا کرتے کہ اب نبی آخر الزماں کا زمانہ قریب آتا جاتا ہے وہ ہماری تصدیق فرمائیں گے پھر ہم ان کے ساتھ ہو کر تمہیں اس طرح قتل اور ہلاک کر ڈالیں گے جیسے عاد اور ثمود اور ارم برباد اور ہلاک کئے گئے۔ یا یہ معنی ہیں کہ یہود مشرکین پر جناب رسول اللہ ﷺ کی نعت اور اوصاف ظاہر کرتے اور کہتے کہ عنقریب ایک نبی تشریف لانے والے ہیں۔ اس تقدیر پر یسفتحون میں سین مبالغہ کے لیے ہوگا اور نیز سین اس طرف یہی اشارہ ہے کہ حضور کی نعت بیان کرنے والا گویا اپنے نفس سے خود یہ سوال کرتا ہے کہ ایسے نبی کب ہوں گے۔ فَلَمَّا جَاۗءَھُمْ مَّا عَرَفُوْا ( پس جب آپہنچا ان کے پاس وہ جس کو جان پہچان رکھا تھا) ما موصولہ ہے اور ضمیر جو اس کی طرف عائد ہے محذوف ہے اور مراد ما عرفوا سے محمد ﷺ ہیں کیونکہ تورات میں جو آپ کی صفت مذکور ہے اس سے آپ کو بخوبی پہچان چکے تھے۔ كَفَرُوْا بِهٖ ( تو انکار کردیا) اس کفر کی وجہ دو ہوسکتی ہیں یا تو اس بات کی ضد کہ یہودیوں میں سے کوئی نبی کیوں نہ ہوا اور یا مال اور ریاست کے جانے کا خوف۔ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الْكٰفِرِيْنَ ( پس خدا کی پھٹکار کافروں پر) بجائے علی الکافرین کے علیھم ضمیر کے ساتھ لانے کا موقع تھا لیکن اسے اس لیے ظاہر کردیا کہ معلوم ہوجائے کہ یہی لوگ لعنت کے مستحق ہیں کیونکہ ان میں کفر موجود ہے اس صورت میں الکافرین میں ال عہد کا ہوگا اور یا ال جنس کا لیا جائے اس وقت یہ معنی ہوں گے کہ اللہ کی لعنت تمام کافروں پر ہے اور من جملہ ان کے یہ بھی ہیں سو یہ بھی ملعون ہوئے۔
Ayah 2:90

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ( بری ہے وہ شے جس کے بدلے خریدا انہوں نے اپنی جانوں کو) مطلب یہ ہے کہ جس شئے کے عوض انہوں نے اپنے نفس کے اخروی نصیب اور حصے کو بیچ ڈالا وہ بہت بری ہے اور یا یہ معنی ہوں کہ جس شئے کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو اپنے گمان فاسد میں خرید لیا ہے یعنی چھڑایا ہے وہ بہت بری ہے۔ اَنْ يَّكْفُرُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ( کہ انکار کرنے لگے ایک کلام کا جو اتارا اللہ نے) یہ بئس کا مخصوص بالذم ہے۔ بَغْيًا (اس حسد میں) یَکْفُروا کا مفعول لہ ہے ا شتَرَوا کا نہیں کیونکہ اشتروا اور بغیا کے درمیان میں فاصلہ ہے۔ بغی کے معنی ہیں طلب اور فساد چناچہ بغی، یبغی، بغیاً اس وقت بولتے ہیں جب کوئی شئے کو طلب کرے اور بغی الجرح اس وقت بولتے ہیں جب زخم میں فساد آجائے اور ظالم کو باغی اس واسطے کہتے ہیں کہ وہ فساد کرتا ہے اور جو امام وقت کی مخالفت پر ماقبلہ کے لیے نکلے اسے بھی اس کلیے باغی بولتے ہیں کہ وہ فساد کرتا ہے اور حاسد کو اس وجہ سے باغی کہتے ہیں کہ وہ محسود پر ظلم کرتا اور اس کی نعمت کا زوال چاہتا ہے معنی آیت کے یہ ہیں ” کہ حسد اور اغیر موجود کی طلب اور فساد کی وجہ سے کفر کرتے ہیں۔ اَنْ يُّنَزِّلَ اللّٰهُ ( کہ اتارے اللہ ( قرآن) بتقدیر لام بغیاً کے متعلق ہے یعنی یہ ہیں کہ اس پر حسد کرنے کی وجہ سے کفر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن کو اتارتا ہے ابو عمرو اور ابن کثیر نے یُنَزِّلَ کو ہر جگہ بتخفیف زاء پڑھا ہے بلکہ تنزل اور منزل کو بھی غیر مشدد باب افعال سے پڑھا ہے۔ لیکن ابن کثیر نے چند موقعوں کو مستثنیٰ کیا ہے اوّل و ما ننزلہ سورة حجر میں دوم وننزل من القرآسوم حتی تنزل علینا سورة اسراء میں ان تینوں جگہ میں ابن کثیر نے تشدید سے پڑھا ہے اور ابو عمرو نے بھی چند موقعوں میں تشدید سے پڑھا ہے۔ اول علی ان ینزل اٰیۃ سورة انعام میں دوم ما ننزلہ سورة حجر میں جو اول گذر چکا اور مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰءِکَۃَ اِلَّا بِلْحَقْ میں سب قراءت شدید سے پڑھتے ہیں اور باقی قراء سب جگہ تَنَزُّلسے مشتق کرکے تشدید سے پڑھتے ہیں لیکن حمزہ اور کسائی لفظ ینزل الغیث کو سورة لقمان اور سورة شوریٰ میں تخفیف سے پڑھتے ہیں۔ مِنْ فَضْلِهٖ ( اپنے فضل سے) یعنی بلا اس کے کہ کوئی عمل ان سے ایسا وجود میں آئے کہ جس سے وہ اس نعمت کے مستحق ہوں۔ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ( اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے) مراد اس سے محمد ﷺ ہیں۔ فَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰي غَضَبٍ ( پس کمایا انہوں نے غصہ پر غصہ) یعنی رسول اللہ ﷺ اور قرآن کا انکار کیا تو اللہ کا ان پر اس سبب سے غصہ ہوا اور پہلے اس سے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور انجیل کا انکار کرنے اور تورات پر عامل نہ ہونے اور گو سالہ کی عبادت کرنے اور ہفتہ کے دن حد سے زیادتی کرنے وغیرہ سے بھی غصب الٰہی میں مبتلا تھے اب غضب پر غضب ہوگیا۔ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ ( اور کافروں کے لیے عذاب ہے ذلت کا) مطلب یہ ہے کہ کافروں کو عذاب ہوگا اس سے ان کو ذلیل و رسوا کرنا مقصود ہوگا اور گنہگار مؤمنوں کو جو عذاب ہوگا اور ذلت اور رسوائی کے لیے نہ ہوگا بلکہ ان کو گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوگا۔
Ayah 2:91

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے

وَاِذَا قِيْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَاۗءَهٗ ۤ ( اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لے آؤ اس پر جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کہتے ہیں ہم تو ایمان لائیں گے اسی پر جو اترا ہے ہم تو (تورات) اور کفر کرتے ہیں اس کے ماسوا کے ساتھ) ( قرآن و انجیل) مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ ( سے قرآن اور تمام کتب سماوی مراد ہیں) وَ یَکْفُرُوْنَ قَالُوا کی ضمیر مستتر ہے حال ہے لفظ وَرَآء اصل میں مصدر ہے ظرف بنا دیا جاتا ہے جب فاعل کی طرف مضاف ہو تو وراء بمعنی ما تیواری بہ ( وہ جانب جس سے پوشیدگی حاصل کی جائے یعنی پشت) ہوتا ہے اور جب مفعول کی طرف اضافت ہو تو وراء بمعنی ما یواریہ ( وہ جانب جو پوشیدہ کردے) یعنی آگے کی جانب ہوتا ہے اور اسی واسطے وراء کو اضداد میں گنا جاتا ہے اور کبھی وراء کے معنی سوا کے بھی ہوتے ہیں جیسا : فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَاءَ ذٰلِکَ ( پس جو طلب کرے اس کے سوا) میں وراء بمعنی سوا ہے۔ وَھُوَ الْحَقُّ ( حالانکہ وہ سچا ہے) ضمیر ھو ما ورآء ہٗ یعنی قرآن پاک اور انجیل کی طرف راجع ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَھُمْ ( سچ بتانے والا اس ( کتاب) کو جو ان کے پاس ہے) یہ حال موکدہ ہے یہود جو یہ کہتے تھے کہ ہم تو اسی پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے۔ یعنی تورات پر تو اس سے ان کی تردید ہوگئی کیونکہ جب وہ قرآن کو نہیں مانتے جو تورات کے موافق ہے اور تورات اس کے موافق ہے تو یہ نہ ماننا خود تورات کو نہ ماننا ہے۔ قُلْ ( کہہ دیجئے اے محمد ﷺ ! ) فَلِمَ ( پھر کیوں) مَاصل میں مَا تھا خبریہ اور استفہامیہ میں فرق کرنے کے واسطے الف حذفف کردیا چناچہ فِیْمَ و بِمَ وَ عَمَّ آتا ہے۔ تَقْتُلُوْنَ ( قتل کرتے ہیں) بمعنی قتلتم ہے انبیاء کا قتل کرنا اگرچہ ان کے آباء و اجداد سے ظہور میں آیا تھا لیکن چونکہ یہ خلف اپنے سلف کے افعال سے راضی اور ان کے متبع ہیں اور نیز یہ بھی نبی کریم ﷺ کے قتل کے درپے ہیں اس لیے قتل کو ان کی طرف منسوب کردیا ہے۔ اَنْۢبِيَاۗءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ( خدا کے نبیوں کو اس سے پہلے اگر مؤمن تھے ( یعنی اگر تم تورات پر ایمان رکھتے ہوتے تو انبیاء کو کیوں قتل کرتے ہو کیونکہ تورات تو یہ بول رہی ہے : ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَکُم لَتُوْمِنُنَّ بہٖ وَ لَتَنْصرُنَّہٗ ( پھر آئے تمہارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرتا ہو اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہو تم ضرور اس کی مدد کرنا) اور تکذیب سے صاف صاف منع کر رہی ہے چہ جائیکہ انہیں قتل کرنا۔ اِنْ کُنْتُمْ ....... جزاء محذوف ہے پہلا کلام اس پر دلالت کرنے والا موجود ہے۔
Ayah 2:92

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے

وَلَقَدْ جَاۗءَكُمْ ( اور اچکے تمہارے پاس) ابو عمرو و حمزہ و کسائی اور ہشام نے قَدْ جَاءَ کُم میں جہاں کہیں ہو قد کی دال کو جیم میں ادغام کرکے پڑھا ہے اور اسی طرح لَقَدْ ذَرَأَنَا میں دال اور ذال میں اور لَقَد زَیَّنَّا میں دال اور زاد میں اور قد سمع میں دال اور سین میں اور قد شغفھا میں دال اور شین میں اور فقدد ضل میں دال اور ضاد میں فَقَد ظَلَمَمیں دال اور ظاء میں ادغام کرکے پڑھا ہے اور طاء مہملہ قرآن شریف میں جس جگہ بعد دال کے واقع ہوئی ہے اس میں ادغام ضروری ہے اور ہشام کے سوا اور قراء نے لَقَدْ صَرَّفْنَا کی دال کو صاد میں ادغام کیا ہے اور ابن ذکوان نے چار موقعوں میں حمزہ کسائی اور ہشام کا اتباع کرکے ادغام کیا ہے یعنی ذال اور زاء اور ضاد اور ظاء جب قد کے بعد واقع ہوں اور ورش نے صرف اخیر کے دو حرفوں میں یعنی ضاد اور ظاء میں موافقت کی ہے ابن کثیر اور عاصم اور قالون نے ان آٹھوں حروف گذشتہ میں بغیر ادغام کے پڑھا ہے اور قد کے بعد اگر دال ہو تو وہاں سب کے نزدیک ادغام ہوگا جیسیقَدْ دَخَلُوْا اسی طرح قد کے بعد اگر تا ہو تو وہاں بھی سب کے نزدیک ادغام ہوگا۔ جیسے : قَد تَبَیَّین لیکن حسین نے نافع سے روایت کیا ہے کہ اگر تاء بعد قد کے ہوگی تو ادغام نہ کرینگے بلکہ اظہار کرینگے۔ مُّوْسٰى بالْبَيِّنٰتِ ( موسیٰ کھلی نشانیاں لے کر) اس سے نبوت کی صاف صاف نشانیاں یعنی معجزات مراد ہیں اور وہ نو معجزے تھے۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ ( پھر بنا لیا تم نے گو سالہ کو معبود ان کے پیچھے) یعنی موسیٰ ( علیہ السلام) کی تشریف آوری کے بعد یا موسیٰ کے کوہ طور پر جانے کے بعد۔ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ( اور تم ظلم کرتے تھے) یہ یا تو حال ہے اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ تم نے گو سالہ کو معبود بنا لیا اس حالت میں کہ تم ظالم تھے یا جملہ معترضہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ تمہاری تو عادت ہی ظلم کی ہے۔ یہ آیت اور اس کے بعد کی آیت یہود کی تردید کے لئے لائی گئی ہے کیونکہ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ : نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا ( یعنی ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا ہے۔ خلاصہ آیت کا رد کے پیرایہ میں یہ ہے کہ کیوں جی تم جو یہ کہتے ہو کہ جو ہم پر نازل ہوا ہے اس پر ایمان لاتے ہیں ( بولو کیا یہی ایمان لانا ہے کہ گوسالہ کو معبود بنا لیا ہے اور باوجود معجزات دیکھنے کے بھی ایمان نہ لائے) اور نیز اس امر پر تنبیہ کرنا منظور ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بھی ان لوگوں کا برتاؤ ایسا ہی ہے جیسے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ اس تفسیر پر اس قصہ کی تکرار بےوجہ نہ ہوگی۔
Ayah 2:93

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے

وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۭخُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاسْمَعُوْا ۭ (اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا اور اٹھایا تمہارے اوپر طور ( اور کہا ہم نے) کہ پکڑو جو کچھ دیا ہے ہم نے تم کو مضبوطی سے اور سنو) یعنی قبول کرو اور اطاعت کرو۔ اطاعت کو سننے سے اس لیے تعبیر کیا کہ سننا اطاعت کا سبب ہے۔ قَالُوْا سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا ( تو بولے سناہم نے اور نہیں مانا) یعنی ہم نے تمہاری بات تو سن لی اور تمہارا حکم نہ مانا۔ اہل معافی نے کہا ہے کہ یہود نے سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَازبان سے نہیں کہا تھا بلکہ زبان سے تو اقرار اطاعت ہی کیا لیکن بعد میں جب نافرمانیاں کرنے لگے تو اب معلوم ہوا گویا اس وقت زبان حال سے انہوں نے یہی کہا تھا اس لیے یہی قول ان کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ میں کہتا ہوں کہا اہل معافی کا یہ قول بظاہر صحیح ہے کیونکہ اگر اس وقت زبان سے یہی کہتے تو طور ان پر سے ہرگز نہ الگ کیا جاتا اور ہلاک کردیئے جاتے۔ وَاُشْرِبُوْا فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِھِمْ ( اور رچ گیا تھا ان کے دلوں میں گوسالہ ان کے کفر کی وجہ سے) یعنی گوسالہ کی محبت ان کے دلوں میں ایسی سرایت کرگئی تھی جیسے کہ رنگ کپڑے میں سار ہوجاتا ہے اور گوسالہ کو معبود سمجھ جانے کی توجیہ یہ ہے کہ یہ لوگ غایت حماقت کی وجہ سے یا تو مجسمہ تھے اور یا حلولیہ تھے اور ایسا عجیب جسم دیکھا نہ تھا اس لیے سامری نے جو کچھ بہکایا وہ دلوں میں راسخ ہوگیا۔ قُلْ بِئْسَمَا يَاْمُرُكُمْ بِهٖٓ اِيْمَانُكُمْ ( اے محمد ﷺ آپ فرما دیجئے بہت برا سکھا تا ہے تم کو تمہارا ایمان) بِءْسَمَا یَاْمُرُکُمْ .... میں مخصوص بالذم محذوف ہے حاصل یہ ہے کہ تم جو تورات پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہو (چنانچہ کہا تھا : نُؤْمِنُ بِمَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا ( تو اس تورات پر ایمان لانے نے تمہیں یہ بات (گوسالہ کی عبادت) کیسی بری بتائی یا یہ حاصل ہے کہ تورات پر ایمان لانے نے یہ قبیح باتیں جن جن کی قباحت بہت ظاہر ہے کیسی بری سکھلائی ( اس کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی بچہ شرارت کرتا ہو تو اسے کہتے ہیں کیوں صاحب تمہیں تمہارے استاد نے یہی تعلیم دی ہے۔ ) اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ( اگر ہو تم ایمان والے) یہ ان کے دعوے میں اور زیادہ جرح و قدح ہے اور جواب شرط کا محذوف ہے پہلا کلام اس پر دلالت کرتا ہے تقدیر عبارت کی یہ ہوئی : اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ بالتَّوْرَاۃِ فَبئسما یامرکم بہ ایمانکم (یعنی اگر تم (موافق اپنے دعوے کے) ایمان والے ہو تو یہ تمہارا یمان بہت بری بات بتا تا ہے کیونکہ مؤمن جو کام کرتا ہے وہ اپنے ایمان کے مقتضی کے موافق کرتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان برے کام نہیں بتاتا اور یہ لوگ امور قبیحہ میں مبتلا ہیں معلوم ہوا کہ مؤمن نہیں اور یا یہ معنی ہوں کہ اگر تم ایمان والے ہو تو ایسے امور قبیحہ تم سے سر زد نہ ہوتے لیکن سرزد ہوئے تو معلوم ہوا کہ مؤمن نہیں ہو۔ یہود جھوٹے دعوے اور لاف زنی کیا کرتے تھے کہ : لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَیَّامًا مَعْدُوْدَۃ ( ہم کو آگ چھوئے گی بھی نہیں مگر گنتی کے چند روز) اور لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ کَانَ ھُوْدًا اَوْ نَصارٰی ( ہرگز نہ جائیں گے جنت میں مگر جو یہودی یا عیسائی ہوں گے) اور نَحْنُ ابناءُ اللہ وَ اَحِبَّاؤُہٗ ( ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں) اللہ تعالیٰ نے ان کی ان بےہود گوئیوں کا ذیل کی آیت سے جواب ارشاد فرمایا۔
Ayah 2:94

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر آخرت کا گھر اور لوگوں (یعنی مسلمانوں) کے لیے نہیں اور خدا کے نزدیک تمہارے ہی لیے مخصوص ہے تو اگر سچے ہو تو موت کی آرزو تو کرو

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ ( کہہ دیجئے اے محمد ﷺ اگر تمہارے واسطے) لَکُمْ کَانت کی خبر ہے اور الدَّارُ الْاٰخِرَةُ ( عاقبت کا گھر) کا نت کا اسم ہے عِنْدَ اللّٰهِ ( اللہ کے ہاں) یہ کانت کا ظرف ہے۔ خَالِصَةً ( خاص ہے) دَارُ سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ ( دوسروں کے لیے نہیں) اَلنَّاسِمیں اَ لْ یا تو استغْراق کا ہے یا جنس کا اور یا مراد اس سے مسلمان ہو اور ال عہد کا ہو۔ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ( تو مرنے کے کی آرزو کرو) یعنی اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو موت مانگو اس لیے کہ جس شخص کو یہ یقیناً معلوم ہوجائیگا کہ میں جنتی ہوں اور اللہ کے پیاروں میں سے ہوں تو وہ ضرور اس طرح کی پریشانی والے گھر سے خلاصی اور نجات کی تمنا کرے یگا اور اللہ کے ملنے کا مشتاق ہوگا۔ ابن مبارک نے باب زھد میں اور بیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مؤمن کا تحفہ موت ہے اور دیلمی نے بھی حضرت جابر ؓ سے اس مضمون کو نقل کیا ہے اور حسین بن علی ؓ سے مرفوعاً منقول ہے کہ مؤمن کا پھول موت ہے اور حبان بن الاسود فرماتے ہیں کہ موت ایک پل ہے جو دوست کو دوست سے ملا دیتا ہے یہ آیت و احادیث اس پر دال ہیں کہ آخرت کی منزلوں میں سے قبر پہلی منزل ہے اور اس مضمون کو ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عثمان سے مرفوعاً نقل بھی کیا ہے اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے بلا کیف وصل موت کے بعد قیامت سے پہلے دنیا سے زیادہ حاصل ہوگا کیونکہ اگر یہ امر نہ ہوتا تو موت کی تمنا میں کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ موت دوست سے ملنے کا پل ہوتا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو اس فراق کے عذاب شدید سے خلاصی کے لیے موت مانگو اس تقدیر پر یہ آیت آیت مباہلہ کی نظیر ہوگی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر یہ یہودی موت کی تمنا کرتے تو اسی دم ہر شخص کا ان میں سے اپنے آب دہن سے گلا گھٹ جاتا اور روئے زمین پر ایک بھی یہودی باقی نہ رہتا سب کے سب ہلاک ہوجاتے اس حدیث کو بیہقی نے دلائل میں لکھا ہے اور بخاری اور ترمذی نے بھی مرفوعاً کچھ الفاظ بدل کر اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے اس کو موقوفاً نقل کیا ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ( اگر تم سچے) اس کی جزاء محذوف ہے کلام گذشتہ اس پر دلالت کر رہے ہے۔ فصل اس مقام پر یہ مسئلہ قابل نظر ہے کہ آیا موت کی تمنا کرنا جائز ہے یا نہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی مصیبت مالی یا جسمانی یا اولاد و اہل و عیال کے مرنے کی وجہ سے موت کی تمنا کرتا ہے تو جائز نہیں۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مصیبت کے سبب کوئی تم میں سے موت کی ہرگز تمنا نہ کرے اگر اس تمنا کرنے کو جی ہی چاہتا ہے اور بغیر تمنا کے رہ ہی نہیں سکتا تو اس قدر کہہ دے کہ اے اللہ جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہو تو مجھے زندہ رکھ اور جب میرا مرنا بہتر ہو تو موت دے۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور انہیں سے ایک روایت میں ہے کہ جب کوئی تم میں سے مرتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے اور عمر خیر ہی کو بڑھاتی ہے ( یعنی عمر بری چیز نہیں کچھ نہ کچھ اس میں مؤمن خیر ہی کرے گا) اور ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ کوئی تم میں سے موت کی ہرگز تمنا نہ کرے کیونکہ یہ شخص یا تو نیک کار ہوگا تو شاید نیکی زیادہ کرے اور یا بدکار ہے تو ممکن ہے کہ بدی سے باز آجائے اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے اور نیز ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی تم میں موت کی تمنا نہ کرے اور نہ موت کے آنے سے پہلے اس کی دعا کرے کیونکہ موت آنے کے بعد آدمی کا عمل بالکل منقطع ہوجاتا ہے اور مؤمن کی عمر خیر اور نیکی ہی بڑھاتی ہے اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے اور موت کی تمنا ممنوع ہونے میں اور بہت سی حدیثیں احمد اور بزار اور بیہقی نے جابر ؓ سے روایت کی ہیں اور مروزی نے قاسم مولی معاویہ ؓ سے اور ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اور نیز اسی موضوع پر احمد اور ابو یعلی اور حاکم اور طبرانی نے ام الفضل سے روایت کی ہے اور یہ سب رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ ایک امر ضروری یہاں قابل تنبیہ یہ ہے کہ زبان سے موت کی تمنا کرنے اور سوال کرنے سے نہی وارد ہوئی ہے ویسے تمنا اور رغبت اگر ہو تو اس سے نہی نہیں کیونکہ دل کا میلان تو ایک مجبوری امر ہے اس کے دفع پر آدمی کو قدرت نہیں ہاں اگر کوئی دینی فتنہ کے خیال سے موت کا سوال کرے تو کچھ حرج نہیں چناچہ امام مالک اور بزار ثوبان ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ جب آپ لوگوں میں فتنہ ڈالنا چاہئے تو مجھے اس فتنہ سے محفوظ رکھ کر اپنے پاس بلا لیجئے اور امام مالک نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنی دعا میں فرمایا کہ اے اللہ میری قوت ضعیف ہوگئی اور میری عمر زیادہ ہوگئی اور میری رعیت جا بجا پھیل گئی اب اے اللہ مجھے صحیح سالم بلا کسی کے حکم کے ضائع اور کوتاہی کئے ہوئے اپنے پاس بلالے۔ چناچہ اس دعا کو ایک مہینہ بھی نہ گزرا تھا کہ حضرت عمر ؓ کی وفات ہوگئی۔ اور طبرانی نے عمرو بن عنبسہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی تم میں سے موت کی تمنا نہ کرے ہاں اگر اپنے عمل پر اعتماد نہ ہو ( کہ شاید برا عمل ہوجائے) تو موت کی تمنا جائز ہے اور جب اسلام میں چھ خصلتیں دیکھوتو موت کی تمنا کرو اور تمہاری جان (بالفرض) تمہارے قبضہ میں بھی ہو تو اس کو چھوڑ دو ( یہ تمنا اور دعائے موت میں مبالغہ ہے) وہ چھ خصائل یہ ہیں : (1) خونریزی (2) لڑکوں کی سلطنت (3) شرط کی کثرت (4) جاہل بیوقوفوں کا امیر ہونا (5) فیصلہ حکم کی بیع ( یعنی مقدمات کا فیصلہ کرنے کو بیچنا (6) قرآن پاک کو راگ بنانا اور ابن عبد البر نے تمہید میں روایت کیا ہے کہ عمرو بن عنبسہ ؓ سے موت کی تمنا کی بابت بعض لوگوں نے پوچھا کہ آپ موت کی کیوں تمنا کرتے ہیں اس سے تو منع کیا گیا ہے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے چھ چیزیں ظاہر ہونے سے پہلے مر رہو۔ ( یعنی موت کا سوال کرو) (1) جاہل بیوقوفوں کی سلطنت، (2) شرط کی کثرت، (3) حکم کی بیع، (4) خون کے معاملہ کی پرواہ نہ کرنا، (5) قرابت کو قطع کرنا۔ (6) قرآن کو مزامیر بنانا۔ حاکم نے ابن عمر ؓ سے اور ابن سعد نے ابوہریرہ ؓ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور خوف فتنہ کی وجہ سے بعض سلف صالحین نے اکثر تمنا کی ہے چناچہ اس قسم کے مضامین ابن سعد نے خالد بن معدان سے اور ابن عساکر اور ابو نعیم نے خالد مذکور سے اور مکحول اور ابن ابی الدنیانے ابو الدرداء ؓ سے اور ابن ابی شیبہ اور ابن ابی الدنیا نے ابی جحیفہ سے اور ابن ابی الدنیا اور خطیب اور ابن عساکر نے ابو بکرہ سے اور ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے اور طبرانی اور ابن عساکر نے عرباض بن ساریہ ؓ سے روایت کئے ہیں اور اگر موت کی تمنا اللہ کے ملنے کے شوق میں کرے تو یہ بہت ہی اچھا ہے۔ ابن عساکر نے ذوالنون مصری (رح) سے روایت کی ہے آپ فرماتے تھے کہ شوق سب مقامات سے برتر مقام ہے اور سب درجوں سے بڑھ کر درجہ ہے جب بندہ کو یہ مقام نصیب ہوتا ہے تو اپنے پروردگار کے شوق میں موت کی آرزو کرتا ہے اور اس کے دیر میں آنے سے اکتاتا ہے۔ میں (صاحب تفسیر) کہتا ہوں کہ اس آیت میں مقصود خطاب سے یہی تمنا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے شوق میں ہو اب اس تقدیر پر فَتَمَنُّوُ الْمَوْتَ کی تفسیر یہ ہوگی کہ اللہ کے شوق میں موت کی تمنا کرو۔ ابن سعد اور بخاری و مسلم نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ میں سنا کرتی تھی کہ ہر نبی کو وفات سے پیشتر اختیار دیا جاتا ہے کہ خواہ دنیا میں رہو یا یہاں چلے آؤ جب رسول اللہ ﷺ کو مرض کی شدت ہوئی تو میں نے سنا کہ آپ فرما رہے تھے : مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النَّبِییِّیْنَ وَالصِّدِّیقِیْنَ وَالشُّھَدَاءِ وَالصَّالِحِیْن وَ حَسُنَ اُوْلٰءِکَ رَفِیْقًا ( ان کے ساتھ جن پر خدا تعالیٰ نے احسان اور انعام فرمایا ہے یعنی نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بندے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں) میں سمجھ گئی کہ اب حق تعالیٰ کی طرف سے اختیار ملا ہے اور آپ ﷺ نے آخرت کو اختیار فرمایا ہے اور نسائی نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری گود میں لیٹے 1 ؂ تھے کہ آپ پر بےہوشی طاری ہوئی میں آپ کے بدن مبارک پر ہاتھ پھیرتی تھی اور آپ کے لیے ان کلمات سے دعاء شفار کرتی تھی : اَذھِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ ( اے لوگوں کے پروردگار شدت کو دور فرمائیے) اس کے بعد آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے ہاتھ کو میرے ہاتھ سے الگ کرلیا اور فرمایا نہیں میں تو اللہ سے رفیق اعلیٰ کا سوال کرتا ہوں۔ طبرانی نے روایت کی ہے کہ ملک الموت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس ان کی روح قبض کرنے آئے ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ملک الموت ! بھلا کہیں ایسا دیکھا ہے کہ کوئی دوست اپنے دوست کی روح قبض کرے۔ ملک الموت نے یہ سن کر حق تعالیٰ سے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہہ دو کہ تم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ کوئی دوست اپنے دوست کے ملنے کو ناگوار جانے ابراہیم (علیہ السلام) نے سن کر فرمایا میری روح ابھی قبض کرلو ! اور یوسف ( علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ مجھ کو اسلام کی حالت میں وفات دے اور نیک بندوں سے ملا دے اور علی ؓ فرماتے تھے کہ مجھے کچھ پرواہ نہیں خواہ موت مجھ پر گرائی جائے یا میں موت پر گرایا جاؤ اس کو ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے اور عمار صفین میں فرماتے تھے کہ میں آج اپنے دوستوں سے یعنی محمد ﷺ اور آپ کے گروہ سے ملوں گا۔ اس قول کو طبرانی نے کبیر میں اور ابو نعیم نے دلائل میں نقل کیا ہے اس پر اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ امام احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول للہ ﷺ کی خدمت اقدس میں بیٹھے تھے آپ نے وعظ فرمایا اور ہمارے دلوں کو نرم کیا۔ سعد بن وقاص ؓ یہ وعظ سن کر خوب روئے اور کہہ اٹھے اے کاش میں تو مرجا تا۔ حضور نے فرمایا کہ سعد ! میرے پاس ہو کر موت کی تمنا کرتے ہو اور یہی مضمون تین بار فرمایا پھر فرمایا : سعد ! اگر تم جنت کے لیے پیدا کئے گئے ہو اور تمہاری عمر طویل اور عمل اچھے ہوں تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ موت کی تمنا کرنا ہر حال میں ناجائز ہے خواہ کوئی مالی یا جسمی ضرر ہو یا نہ ہو چناچہ حضرت سعد ؓ نے اس قصہ میں موت کی تمنا کسی مالی یا بدنی ضرر وغیرہ سے نہیں کی بلکہ عذاب کے خوف سے کی تھی۔ میں کہتا ہوں بیشک یہ امر صحیح ہے کہ عذاب کے خوف سے تمنا کی لیکن موت سے اللہ کا عذاب دفع نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے تو استغفار کرنا اور اعمال صالحہ میں سبقت کرنا اور گناہوں سے بچنا ضروری ہے اور سی بنا پر جناب رسول اللہ ﷺ نے موت کی تمنا کرنے کو منع فرمایا ہے۔ تحقیق مقام یہ ہے کہ گناہ میں مبتلا ہوجانے یا طاعت میں کوتاہی کے خوف سے موت کی تمنا کرنا جائز ہے۔ اس میں شبہ نہیں اور محبوب حقیقی کی لقاء کے شوق میں خود تمنا کرنا بعض سلف سے مرض الموت میں وارد ہوا ہے چناچہ پہلے ہم نے جناب رسول ﷺ اور ابراہیم (علیہ السلام) اور عمار وغیرہم سے نقل کیا ہے کہ جب موت کا وقت قریب ہو اور اعمال صالحہ کی زیادتی کی ان کو امید نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کی لقاء کے شوق میں موت کو حیات پر ترجیح دی۔ عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے ملنے کو مکروہ سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ملنے کو مکروہ جانتا ہے اس پر حضرت عائشہ ؓ یا اور کسی زوجہ مطہرہ نے عرص کیا یا رسول اللہ ہم تو سب موت کو مکروہ اور برا سمجھتے ہیں۔ فرمایا یہ مطلب نہیں مطلب یہ ہے کہ مؤمن جب مرنے کے قریب ہوتا ہے تو اللہ کی رضا مندی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعزاز کی خوشخبری (1) [ اولیائے کرام کو خوشنودی باری تعالیٰ کا علم قریب موت کے وقت یا تو کشف سے معلوم ہوتا ہے، یا ہاتف کے کلام سے یاس حالت میں کثرت سے ان پر برکات نازل ہونے کو ان کا ذوق محسوس کرتا ہے، یا ملک الموت اور رحمت کے فرشتوں کو جب دیکھتے ہیں تو رضائے حق کا ان کو علم ہوجاتا ہے، منہ (رح) تعالی، 12] اس کو دی جاتی ہے پھر اس وقت اس کو کوئی شے آخرت سے زیادہ پیاری نہیں ہوتی پس وہ اللہ کے ملنے کو دوست رکھتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کے ملنے کو چاہتا ہے اور کافر کی موت جب قریب ہوتی ہے تو اللہ کے عذاب اور عقاب کی خوشخبری اس کو دی جاتی ہے اس وقت کوئی شے اسے آئندہ حالت سے زیادہ بری اور مبغوض اور مکروہ نہیں ہوتی پس وہ اللہ کے ملنے کو مکروہ جانتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ملنے کو مکروہ جانتا ہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے اور تندرستی کی حالت میں کسی سلف سے موت کی تمنا کرنا منقول نہیں لیکن ہاں خوف فتنہ کی وجہ یا عمل میں تقصیر کے خوف سے البتہ منقول ہے۔ جیسے حضرت عمر ؓ سے ہم نے اوپر نقل کیا ہے اور حضرت علی ؓ کا مقولہ بھی اسی پر محمول ہے اور غلبہ حال میں بھی موت کی تمنا کرنا اولیاء کرام (رح) سے وارد ہے، انبیاء اور صحابہ اور اصحاب صحو (ہوشیاری والے یعنی ان پر حال غالب نہیں حال پر وہ خود غالب ہیں) سے یہ تمنا نہیں ہوسکتی وہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ سے ملنے کے لیے تڑپتے ہیں مگر اعمال صالحہ کی زیادتی کو غنیمت سمجھتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے ؂ فَاِنِّیْ فِی الْوِصَالِ عُبَیْدُ نَفْسِیْ وَ فِی الْھِجْرَانِ مَوْلٰی لِلْمَوَالِیْ ( یعنی میں وصال میں تو اپنے نفس کا غلام ہوں ( یعنی حسنات اور اعمال صالحہ میں جو کہ خط نفس کے لیے مشغول رہتا ہوں اور ہجر میں غلاموں کا بھی غلام ہوں) یہود چونکہ شدت جہل اور عناد کی وجہ سے مدعی تھے کہ ہم اللہ کے دوست ہیں ہمیں عمل کی حاجت نہیں اس لیے ان کو کہا گیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو موت کی تمنا کرنا تمہارے لیے ضروری ہے اور چونکہ ان کا دعویٰ جھوٹا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کو ذیل کی آیت میں رد فرمایا۔
Ayah 2:95

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

لیکن ان اعمال کی وجہ سے، جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں، یہ کبھی اس کی آرزو نہیں کریں گے، اور خدا ظالموں سے (خوب) واقف ہے

وَلَنْ يَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا ( اور کبھی ہرگز آرزو نہ کرینگے موت کی) اس جملہ میں پیشینگوئی اور غیب کی خبر کے طور پر ایک معجزہ ہے۔ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْهِمْ ( بوجہ ان گناہوں کے جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں) اس سے مراد جہنم میں جانے کے وہ اسباب ہیں جن کا یہود ارتکاب کرتے تھے مثلاً محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول اور قرآن کو کلام اللہ نہ ماننا اور تورات کی تحریف کرنا وغیرہ وغیرہ خود ان کی ذات کے فعل کو ان کے ہاتھوں کی طرف اس لیے نسبت کردیا کہ انسان کے لیے ہاتھ قدرت کا آلہ ہے اور اکثر نفع نقصان کے کام اسی سے ظہور پذیر ہوتے ہیں اس لیے ید ( ہاتھ) سے خود ذات مراد لے لی اور کبھی ید (ہاتھ) سے قدرت بھی اسی وجہ سے مراد لیتے ہیں۔ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ ( اور اللہ جاننے والا ہے گنہگاروں کو) یہ یہود کو دھمکی اور اس امر پر تنبیہ ہے کہ وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 2:96

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

بلکہ ان کو تم اور لوگوں سے زندگی کے کہیں حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس جیتا رہے، مگر اتنی لمبی عمر اس کو مل بھی جائے تو اسے عذاب سے تو نہیں چھڑا سکتی۔ اور جو کام یہ کرتے ہیں، خدا ان کو دیکھ رہا ہے

وَلَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰي حَيٰوةٍ ( اور البتہ پاؤ گے تم انکو سب لوگوں سے زیادہ حریص جینے کی) لَتَجِدَنَّھُمْ میں لام قسم کا ہے اور نون تاکید قسم کے واسطے ہے اور تجد افعال قلوب سے ہے لَتَجِدَنَّھُمْ میں ھُم ضمیر تجد کا مفعول اول ہے اور مفعول ثانی احرص الناس ہے اور حیاۃ کو نکرہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ حیات کی کوئی بڑی قسم مراد لی گئی ہے یعنی حیات دراز۔ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُــوْا ( اور ان لوگوں سے بھی زیادہ جو مشرک ہیں) باعتبار معنی کے اس کا عطف الناس پر ہے گویا عبارت اس طرح ہوگی۔ احرص من الناس و من الذین اشرکو یا احرص پر عطف ہے اور دوسرا اَحْرَصمقدر ہے اور جار مجرور اس کے متعلق ہے۔ مشرکین اگرچہ الناس میں داخل تھے لیکن کلام میں زور پیدا کرنے کے لیے ان کو علیحدہ ذکر کیا جیسے جبریل کا عطف الملٰءِکۃ پر قوت کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین کو زندگی کی اور لوگوں سے زیادہ حرص تھی کیونکہ وہ تو حیات اخروی کے قائل ہی نہ تھے دنیوی حیات ہی کو حیات سمجھتے تھے اور یہود باوجود اس کے کہ ثواب و عقاب کو جانتے تھے پھر بھی ان کا سب سے زیادہ حریص دنیا ہونا اس پر دلیل ہے کہ جہنم کی آگ پر ان کو بدرجہ کمال صبر ہے اور جہنم سے ان کو بالکل کسی درجہ میں بھی خوف نہیں پس اس لحاظ سے آیت : لَتَجِدَنَّھُمْ ....... میں زیادہ توبیخ اور دھمکی ہوگی۔ يَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ يُعَمَّرُ اَلْفَ سَـنَةٍ ( ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے اے کاش جیتا رہے ہزار برس) لَو کو بعض مفسرین نے مصدر یہ بمنزلہ اَن کے بنایا ہے لیکن فرق اَن اور لوْ میں یہ ہے کہ اَن نصب کرتا ہے اور لوْ نصب نہیں کرتا اس تقدیر پر لَوْ یُعَمِّر یَوَدُّ کا مفعول ہوگا اور بیضاوی نے کہا ہے کہ لوْ بمعنی لَیْتَ ہے اور اصل کلام لَوْ اُعمَر ( کاش عمر دیا جاؤں میں) صیغہ متکلم سے تھا لیکن یودُّ چونکہ صیغہ غائب کا تھا اس لیے اس کی رعایت سے اس کو بھی صیغہ غائب سے لائے اس تفسیر پر کلمہ تمنی یعنی لوْ ان کی خواہش اور رغبت کی حکایت کے لیے لایا گیا ہے اور مفعولیَوَدّ کا محذوف ہے جس پر یَوَدُّ کے بعد کا مضمون دلالت کرتا ہے اور لَوْ یُعَمِّرُ گویا ان کی زیاتی حرص کے بیان کے لیے علیحدہ مستقل کلام ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جملہ یَوَدّ مبتدا محذوف کی صفت ہو اور ظرف مستقر یعنی مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوا اس مبتدا کی خبرہو اور تقدیر عبارت کی اس طرح ہو وَ مِنَ الَّذِیْن اَشْرَکُوْا نَاسٌ یَوَدُّ اَحَدُھُمْ..... اور مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مراد یہود ہیں جو قائل تھے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں (نعوذ باللہ) ابو العالیہ اور ربیع نے کہا ہے کہ اَلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا سے مجوس مراد ہیں کیونکہ ان کا سلام آپس میں یہ تھا ” زی ہزار 1 ؂ سال “ پس حاصل آیت کا یہ ہوا کہ یہود سب لوگوں سے زیادہ زندگی کے حریص ہیں مجوس سے بھی زیادہ حریص ہیں اور مجوس ہزار برس کی زندگی کی تمنا کرتے ہیں اور اصل سَنَۃٌ کی سَنْوَۃٌ ہے کیونکہ جمع سنوات آتی ہے اور بعض نے کہا ہے اصل سَنَۃٌ کی سَنْھَۃٌ ہے۔ وَمَا ھُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ يُّعَمَّرَ ( اور نہیں اس کو نجات دینے والا عذاب سے اس قدر جینا) ضمیر ھو یا تو اَحَدُھُمْ کی طرف راجع ہے اور اَنْ یُّعَمَّرَ مُزَحْزِحِہٖ کا فاعل ہے اور معنی یہ ہیں کہ کوئی ان میں ایسا نہیں کہ اس کو عمر دیا جانا عذب سے بچا سکے اور یا ضمیر ھُوَ یُعَمَّرَ کے مصدر کی طرف راجع ہے اور یُعَمَّرَ اس سے بدل ہے۔ یا یہ ضمیر مبہم ہے یعنی کسی کی طرف راجع نہیں اور اَنْ یُّعَمَّر اس کی تفسیر ہے۔ اگر کوئی یہ شبہ کرے کہ دنیا میں عمر زیادہ ہونے سے عذاب اخروی لا محالہ دور ہو ہی جاتا ہے پھر یہ کیسے فرمایا کہ عذاب دور نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں کہ ہزار سال بلکہ دنیا کی تمام عمر جب دوامی آخرت کے مقابلہ میں ایسی نسبت رکھتی ہے جیسے ایک ساعت کو ایک دن سے یا ایک مرتبہ آنکھ جھپکنے کو ایک زمانہ متناہی سے تو عذاب سے وہ دوری جو ہزار برس یا زیادہ کی عمر کی وجہ سے حاصل ہو کس شمار میں ہوئی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ناقابل توجہ ہے اور یا مراد وہ دوری ہے جو عمل صالح کی وجہ سے عذاب سے ہوتی ہے اس صورت میں اور بھی زیادہ دھمکی ہوگی کہ عمر کا بڑھنا عذاب کو دور کرنے والا نہیں بلکہ عذاب کو بڑھانے والا ہے کیونکہ جس قدر عمر بڑھے گی گناہ بڑھیں گے اور اعمال صالحہ کم ہونگے اور یہ زیادتی عذاب کا موجب ہے۔ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِمَا يَعْمَلُوْنَ ( اور اللہ دیکھتا ہے جو وہ کرتے ہیں) یعقوب نے یعملون کو بصیغہ ٖخطاب (تعملون) پڑھا ہے اس قرأت پر خطاب یہود کو ہوگا اور باقی قراء نے صیغہ غائب سے پڑھا ہے۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند میں اور ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر نے بطریق مختلفہ شعبی سے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر یہود کے پاس تشریف لاتے اور تورات سنتے تھے اور اس سے خوش ہوتے اور تعجب فرماتے کہ یہ قرآن پاک کی تصدیق کرتی ہے ایک روز حسب دستور یہود تورات پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اس طرف تشریف لے گئے حضرت عمر ؓ نے سب کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں سچ بتاؤ تم جانتے ہو کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں ان میں سے جو عالم تھا اس نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں حضرت عمر ؓ نے فرمایا پھر تم لوگ اتباع کیوں نہیں کرتے کہا کہ اس وجہ سے کہ ہم نے ان سے پوچھا تھا کہ وحی کون لاتا ہے تو معلوم ہوا جبرائیل وحی لاتا ہے اور وہ ہمارا دشمن ہے وہی شدت اور ہلاکت اور عذاب لاتا تھا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں میں نے پوچھا ملائکہ میں سے کس سے تمہاری صلح ہے جواب دیا میکائیل سے کیونکہ وہ بارش اور رحمت لاتے ہیں میں نے پوچھا حق تعالیٰ کے ہاں ان دونوں کا مرتبہ کیا ہے کہا ایک اللہ کے دائیں اور دوسرا بائیں۔ میں نے کہا جب ان کے قرب اور مرتبہ کی یہ کیفیت ہے تو جبرئیل ( علیہ السلام) کو یہ رواہ نہیں کہ میکائیل سے عدوات رکھے اور نہ میکائیل کو یہ جائز ہے کہ جبرئیل کے دشمن سے صلح رکھے اور میں بیشک اس کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اور جبرائیل اور میکائیل سے جو صلح رکھے اور جو ان کو دشمن رکھے اس کے یہ بھی دشمن ہے۔ (1) [ حاکم نے حضرت ابو سعید خدری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو جبرئیل و میکائیل ہیں اور زمین والوں میں سے ابوبکر و عمر ؓ ۔ طبرانی نے بسند حسن حضرت ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آسمان میں دو فرشتے ہیں ایک سختی کا حکم دیتا ہے دوسرا نرمی کا اور ہر ایک ٹھیک کرتا ہے یہ دونوں حضرت جبرئیل و میکائیل ہیں پھر فرمایا دو نبی ہیں ایک سختی کا حکم دیتا ہے دوسرا نرمی کا اور دونوں حق پر ہیں یہ دونوں حضرت موسیٰ اور حضرت نوح ( علیہ السلام) ہیں پھر فرمایا میرے دو ساتھی ہیں ایک نرمی کا حکم دیتا ہے دوسرا سختی کا اور دونوں حق کرتے ہیں۔ فرمایا یہ دونوں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ ہیں۔] پھر میں وہاں سے اٹھ کر نبی ﷺ کی خدمت اقدس میں آیا اور میرا ارادہ تھا کہ آپ کو اس قصہ کی خبر کرو کہ مجھ سے پہلے ہی آپ نے فرمایا عمر ! آج جو آیات نازل ہوئی ہیں کیا ان کی تمہیں خبر نہ دوں۔ یہ فرما کر حضور نے ذیل کی آیت کو کٰفِرِیْنَ تک پڑھنا شروع کیا۔