2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:278

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

مومنو! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰٓوا : (اے مسلمانو ! اللہ سے ڈرو اور بقیہ سود چھوڑ دو ۔ یعنی شرط کے مطابق تمہارا جو سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہو وہ وصول نہ کرو چھوڑ دو ۔ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اگر تم دل سے ایمان لائے ہو تو اللہ کے حکم کی تعمیل کرو اللہ کے احکام کی پابندی صدق ایمان کی دلیل ہے۔ ابن جریر ؓ نے عکرمہ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول قبیلۂ ثقیف کے چار بھائیوں کے متعلق ہوا مسعود، عبد یا لیل، حبیب، ربیعہ۔ یہ چاروں عمرو بن عمیر کے بیٹے تھے۔ مقاتل نے بھی یہی بیان کیا لیکن بغوی نے سدی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول حضرت عباس ؓ اور حضرت خالد بن ولید کے حق میں ہوا یہ دونوں حضرات دور جاہلیت میں قبیلہ ثقیف کے بنی عمرو بن عمیرکو سودی قرض دیا کرتے تھے اور دونوں اس کاروبار میں شریک تھے اسلام آیا تو اس وقت ان کا بڑا سودی روپیہ لوگوں پر تھا انہی کے متعلق اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی چناچہ حج و داع میں عرفہ کے دن رسول اللہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا : خوب سن لو جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں کے نیچے (پامال ہوچکی) ہے جاہلیت کے خون ساقط کردیئے گئے (اب ان کا باہمی قصاص نہ ہوگا) اپنے خونوں میں سے سب سے پہلا خون میں ربیعہ بن حارث کا ساقط کرتا ہوں۔ ربیعہ بنی حارث کے قبیلہ کے شیر خوار تھے بنو ہزیل نے ان کو قتل کردیا تھا۔ جاہلیت کا سود (بھی) ساقط کردیا گیا ہے سب سے پہلے میں عباس ؓ بن عبد المطلب کا سود ساقط کرتا ہوں عباس ؓ کا سب سود چھوڑ دیا گیا۔ حج و داع میں بروز عرفہ رسول اللہ نے جو خطبہ دیا اس کے الفاظ بروایت حضرت جابر ؓ نے اسی طرح نقل کیے ہیں لیکن اس میں یہ نہیں ذکر کیا کہ آیت مذکورہ کا نزول اس بارے میں ہوا تھا۔ بغوی (رح) نے بحوالۂ عکرمہ وعطاء بیان کیا ہے کہ حضرت عباس بن عبد المطلب اور حضرت عثمان بن عفان ؓ نے کچھ چھوارے بطور سلم خریدے تھے۔ فصل ٹوٹنے کا زمانہ آیا تو چھوارے والے نے کہا اگر آپ لوگ اپنے پورا حق لے لیں گے تو میرے بچوں کی ضرورت کے لیے کچھ نہیں بچے گا اس لیے مناسب ہے کہ آپ آدھا واجب الادا حق اس وقت لے لیجئے اور باقی کے لیے مدت مقرر کردیجئے میں آپ کو دو گنا کرکے دیدوں گا۔ دونوں حضرات اس تجویز پر راضی ہوگئے جب مدت مقررہ گذری اور وقت ادا آگیا تو (حسب وعدہ) زیادتی کا مطالبہ کیا اس کی اطلاع رسول اللہ کو ہوئی تو آپ نے دونوں کو ممانعت فرمادی اور اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی دونوں بزرگوں نے حکم کی تعمیل کی اور اپنا اصل مال لے لیا (سود چھوڑ دیا ) ۔
Ayah 2:279

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کا نقصان اور تمہارا نقصان

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا (یعنی اگر تم نے بقیہ سود نہ چھوڑا تو آگاہ ہوجاؤ) حمزہ اور ابوبکر نیفَاٰذِنُوْا بروزن اٰمِنُوْاپڑھا ہے یعنی دوسروں کو اطلاع دیدو۔ لفظ ایذان ‘ اُذُن سے بنا ہے یعنی کانوں میں ڈال دو ‘ سنا دو ۔ باقی اہل قراءت نے فاذَنُوْا پڑھا ہے یعنی جان لو اور یقین کرلو۔ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ : اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے جنگ کا۔ حرب کی تنوین سے جنگ کی عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ سعید بن جبیرنے حضرت ابن عباس ؓ کا اثر نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن سود خوار سے کہا جائیگا۔ لڑائی کیلئے اپنے ہتھیار لے لے۔ ابن عباس ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ نے چھواروں کو کھانے کے قابل ہونے سے پہلے خریدنے کی ممانعت فرمائی اور فرمایا : جب کسی بستی میں سود کھلم کھلا ہوجاتا ہے تو اس بستی والے اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو اتار لیتے ہیں۔ (رواہ الحاکم وصححہ) حضرت عمرو بن عاص ؓ نے کہا میں نے خود حضور ﷺ سے سنا کہ جس قوم میں سود کھلم کھلا ہوجاتا ہے ان کی پکڑ بصورت قحط ہوتی ہے اور جس قوم میں رشوت کھلم کھلا ہوجاتی ہے وہ (دشمنوں کے) خوف (کے عذاب) میں پکڑے جاتے ہیں 1 ؂۔ (رواہ احمد) اہل حقیقت نے بیان کیا ہے کہ اللہ کی طرف سے جنگ دوزخ ہے اور اللہ کے رسول کی طرف سے جنگ تلوار ہے اسی بنیاد پر بیضاوی نے لکھا ہے کہ یہ لفظ چاہتا ہے کہ باغی کی طرح سود خوار سے توبہ طلب کی جائے تاکہ وہ امر خداوندی کی طرف لوٹ آئے توبہ نہ کرے تو اس سے جنگ کی جائے۔ میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ سود خوار کے پاس اگر اپنی حفاظت کی طاقت نہ ہو تو امام پر واجب ہے کہ اس کو قید کردے اور جب تک توبہ نہ کرے قید رکھے اور اگر اس کے پاس حفاظتی طاقت ہو اور امام اس کو گرفتار نہ کرسکے تو وہ باغی قرار دیا جائے گا اور اس سے اس وقت تک جنگ کی جائے جب تک وہ توبہ نہ کرلے یہ ہی حکم ہر تارک فرض کا ہے نماز، زکوٰۃ وغیرہ کا تارک اور کبیرہ گناہ کا مرتکب، جبکہ علی الاعلان وہ گناہ پر جما رہے۔ سب کا یہی حکم ہے۔ رزین نے مناقب ابی بکر ؓ میں حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی تو عرب اسلام سے پھرگئے اور کہنے لگے ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : اگر یہ لوگ (زکوٰۃ کے) اونٹ کے پاؤں کی رسّی دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ میں نے عرض کیا : اے رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ؓ لوگوں کو ملائے رکھئے اور ان کے ساتھ نرمی کیجئے۔ فرمایا : (اے عمر ! ؓ تم جاہلیت میں تو بڑے سخت تھے اور اسلام میں آکر کمزور ہوگئے ؟ وحی کا سلسلہ بند ہوگیا دین مکمل ہوگیا اب کیا میرے جیتے جی دین میں نقصان آسکتا ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : خدا کی قسم میں اس شخص سے ضرور قتال کروں گا جو نماز اور زکوٰۃ میں تفریق کرتا ہے کیونکہ زکوٰۃ مالی فریضہ ہے اگر یہ لوگ وہ بکری کا بچہ بھی دینے سے انکار کریں گے جو رسول اللہ کو دیا کرتے تھے تو خدا کی قسم اس باز داشت پر میں ان سے لڑوں گا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر ؓ کا فیصلہ ہی حق ہے۔ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ (یعنی اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے اصل سے زیادہ لے کر تم (قرضدار پر) ظلم نہیں کرو گے اور نہ ادائیگی میں ٹال مٹول یا اصل مال میں کمی کرکے تم پر ظلم کیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : (ادائے اصل میں) غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ (متفق علیہ) بیضاوی (رح) نے لکھا ہے اس آیت میں سمجھا جاتا ہے کہ اگر (سود خواری کو حلال سمجھنے والے) توبہ نہ کریں تو اصل مال بھی ان کا نہ رہے گا کیونکہ حرام کو حلال قرار دینے پر اڑ جانے والا مرتد ہے اور اس کا مال مفت کی غنیمت ہے۔ بیضاوی کا یہ قول ہمارے بیان مذکور یعنی شافعی کے قول کے مطابق ہے کیونکہ شافعی (رح) کے نزدیک مرتد کا کل مال غنیمت مفت ہے۔ لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اگر مرتد کو قتل کردیا گیا ہو یا بھاگ کر وہ دار الحرب میں چلا گیا ہو تو اس کی حالت اسلام کی کمائی اس کے مسلمان وارثوں کو تقسیم کردی جائے گی اور حالت ارتداد کی کمائی غنیمت مفت کے حکم میں ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کسی حکم کا مفہوم (مخالف) حجت نہیں ہے۔ پھر حالت اسلام کی کمائی جو وارثوں کو تقسیم ہوگی مرتد کی تو بہر حال نہ رہے گی۔ بیت المال میں داخل کی جائے گی یا وارثوں کو تقسیم کردی جائے۔ مرتد کے لیے تو دونوں صورتیں برابر ہیں اس کی ملک سے تو اخراج ہو ہی جائے گا) ۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بنی عمر و اور دوسرے سود خواروں نے کہا ہم اللہ سے توبہ کرتے ہیں ہم کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے لڑنے کی طاقت نہیں چناچہ سب لوگ صرف اپنا اصل مال لینے پر راضی ہوگئے۔ یہ ابو یعلی کی روایت کردہ حدیث کا تتمہ ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس کے بعد بنی مغیرہ نے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور فصل توڑنے تک مہلت کے خواستگار ہوئے مگر قرض خواہوں نے مہلت دینے سے انکار کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 2:280

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو (اسے) کشائش (کے حاصل ہونے) تک مہلت (دو) اور اگر (زر قرض) بخش ہی دو توتمہارے لئے زیادہ اچھا ہے بشرطیکہ سمجھو

وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ : اور اگر کوئی تنگدست ہو اس جگہ کان تامہ ہے خبر کی ضرورت نہیں ہے یعنی اگر کوئی تنگدست قرضدارہو بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ کان کی خبر اس جگہ نہیں کی گئی اگر اسم نکرہ ہو تو خبر کو ذکر نہ کرنا جائز ہے جیسے اس جملہ میں ہے۔ اِنْ کَانَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَاَکْرِمُہٗ میں کہتا ہوں کہ بغوی کی مراد یہ ہے کہ غریماً خبرمحذوف ہے اصل عبارت اس طرح تھی : اِن کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ غَرِیْمًا اگر کوئی تنگدست قرض دار ہو ابو جعفر کی قراءت میں عُسُرَۃٍ اور باقی علماء کی قراءت میں عُسْرَۃٍ آیا ہے۔ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ : تو فراخدستی تک انتظار کا حکم ہے یا تم پر فراخدستی تک انتظار لازم ہے (اوّل صورت میں مبتدا محذوف ہے اور نظرۃٌ اس کی خبر ہے اور دوسری صورت میں نظرۃٌ مبتدا مؤخر ہے یا یہ معنی ہے کہ انتظار ہونا چاہئے (اس صورت میں فعل محذوف ہوگا اور جملہ فعلیہ ہوجائے گا) نافع نے مَیْسُرۃٍ سین کے پیش کے ساتھ اور باقی قراء نے سین کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ رسول اللہ نے فرمایا : جو تنگدست کو سہولت 1 ؂ دیگا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کو سہولت دیگا۔ (رواہ مسلم و رواہ ابن حبان مختصراً ) وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ : یعنی قرض معاف کردینا تمہارے لیے بہتر ہے ادا کی مہلت دینے سے اس کا ثواب زیادہ ہے ہوسکتا ہے کہ تصدق سے مراد مہلت دینا ہی ہو کیونکہ عمران بن حصین کی مرفوع حدیث ہے جس کسی مسلمان کے قرض کی ادائیگی کا وقت آجائے اور وہ (قرضدار کو) مہلت دیدے تو ہر دن کے عوض اس کو ایک صدقہ (کا ثواب) ہوگا۔ (رواہ احمد) مطلب یہ ہوگا کہ (وقت مقرر پر) لینے سے مہلت دینا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ واضح مطلب وہی ہے جو ہم نے ترجمہ میں بیان کردیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے کہا تھا میں شہادت دیتا ہوں کہ رسول اللہ فرما رہے تھے قیامت کے دن جس شخص پر سب سے پہلے اللہ کا سایہ ہوگا وہ شخص وہ ہوگا جس نے کسی تنگ دست کو ادائے قرض کی مہلت اس وقت تک دی ہو جب تک اس کو میسر آئے یا اپنا مطالبہ بالکل معاف کردیا ہو اور کہہ دیا ہو کہ میں اپنے حق سے اللہ واسطے تجھے سبکدوش کرتا ہوں اور (معافی کے بعد) قرض کی تحریر جلا دی ہو (رواہ الطبرانی ) ۔ بغوی (رح) نے شرح السنہ میں حدیث مذکور کی روایت ان الفاظ کے ساتھ کی ہے کہ جو قرضدار سے (قرض کو) دور کردے گا یا مٹا دے گا تو قیامت کے دن وہ عرش کے سایہ میں ہوگا۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی روایت بھی اسی طرح ہے۔ بغوی نے حضرت ابو الیسر ؓ کی روایت بھی اسی طرح نقل کی ہے۔ طبرانی نے کبیر میں حضرت اسعد بن زرارہ کی اور اوسط میں حضرت شداد بن اوس کی روایت سے بھی حدیث مذکور اسی طرح نقل کی ہے حضرت ابو قتادہ کے متعلق منقول ہے کہ آپ کسی شخص سے اپنا قرض طلب کرتے تھے وہ آدمی چھپ گیا۔ حضرت ابو قتادہ ؓ نے پوچھاتو نے ایسا کیوں کیا اس نے جواب دیا تنگ دستی کی وجہ سے ابو قتادہ ؓ نے اس سے تنگدست ہونے کی قسم لی۔ اس نے قسم کھالی۔ آپ نے اس کی تحریر منگوا کر اس کو دیدی اور فرمایا : میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ جو شخص تنگدست کو مہلت دے یا اس کو قرض معاف کردے اللہ اس کو روز قیامت کی سختیوں سے محفوظ رکھے گا۔ مسلم (رح) نے بھی ابو قتادہ ؓ کی یہ مرفوع حدیث نقل کی ہے۔ (1) [ حضرت ابوبکر صدیق ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے اور دنیا و آخرت میں اس کی سختی دور کر دے تو چاہیے کہ وہ تنگ دست کو ادائے قرض کی مہلت دے اور قرض (کے مطالبہ) کو ترک کر دے اور جس شخص کو اس بات سے خوشی ہوتی ہو کہ قیامت کے دن اللہ اس کو قعر جہنم سے بچا کر اپنے سایہ میں لے لے اور اس پر اپنا سایہ کر دے تو اس کو چاہیے کہ مؤمنوں پر درشت خو نہ ہو بلکہ ان کے لیے نرم دل ہو۔ ] حضرت ابو مسعود ؓ کا قول مروی ہے کہ گذشتہ اقوام میں سے ایک آدمی کی جان ملائکہ نے قبض کی اور روح سے پوچھا کیا تو نے کبھی کوئی نیک کام کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا نہیں۔ ملائکہ نے کہا یاد کرلے اس نے کہا اور تو کوئی نیکی نہیں کی ہاں اتنی بات ضرور تھی کہ میں لوگوں کو قرض دیدیا کرتا اور میں نے اپنے کارندوں سے کہہ دیا تھا کہ فراخدست کو (ادائیگی کی) مہلت دیا کرو اور تنگدست سے (بالکل ہی) درگذر کرلیا کرو۔ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا : تم بھی اس شخص سے درگذر کرو۔ (رواہ مسلم) حضرت عقبہ بن عامر ؓ کی روایت بھی مسلم میں اسی طرح ہے اور صحیحین میں حضرت حذیفہ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَیعنی اگر مہلت دینے اور معاف کردینے کی فضیلت تم جان جاؤ تو پھر یہ کام تم پر دشوار نہ ہوگا۔ (یعنی آیت میں شرط مذکور ہے جس کی جزاء محذوف ہے) ۔
Ayah 2:281

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے اور ہر شخص اپنے اعمال کا پورا پورا بدلہ پائے گا۔ اور کسی کا کچھ نقصان نہ ہوگا

وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ : اور اس روز سے ڈرتے رہو جس میں تم کو اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا اس سے مراد ہے قیامت کا دن یا مرنے کا دن۔ یعنی اللہ کی طرف جانے کی تیاری کرو۔ ابو عمرو اور یعقوب کی قراءت ترجعون بفتح تاء ہے اور باقی قراءت ُ رْجَعُوْنَ پڑھتے ہیں تم لوٹو گے یا لوٹائے جاؤ گے۔ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ : پھر ہر شخص کو اس کے اچھے برے کرتوت کا بدلہ دیا جائے گا۔ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ : ثواب گھٹا کر یا (جرم سے زیادہ) عذاب بڑھا کر ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ( سورة بقرہ کی یہ آخری آیت ہے جو رسول اللہ پر نازل ہوئی۔ حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے کہا سورة بقرہ کی دو سو اسی آیات کے کنارہ پر رکھو۔ (کذا قال بغوی) ثعلبی نے بحوالۂ سدی صغیر بروایت کلبی از ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ اکیس روز زندہ رہے۔ فریانی ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول بیان کیا ہے کہ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ اس کے بعد آپ ﷺ (صرف) سات رات زندہ رہے اور وفات مبارک پیر کے دن 3 ربیع الاوّل کو زوال کے بعد 11 ھ میں ہوگئی۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ کا قول بھی یہی بیان کیا ہے۔ وا اللہ اعلم۔ اللہ نے آیت تہدید پر وحی کو ختم کردیا۔