Ayah 2:225لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ ( اللہ تم سے مواخذہ نہ کرے گا) یعنی آخرت میں عذاب کے ساتھ یہاں دونوں کلموں میں مواخذہ سے یہی مراد ہے۔
( یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے) کیونکہ کفارہ زکوٰۃ کی طرح خالص اللہ ہی کا حق ہوتا ہے اس کا دنیا میں مواخذہ نہیں ہوتا اور اسی وجہ سے ( یہ حکم ہے کہ) جو شخص مرجائے اور اس کے ذمہ زکوٰۃ یا کفارہ ہو اور اس نے وصیت نہ کی ہو تو وارثوں کے حق سے ان دونوں کو کوئی تعلق نہ ہوگا بخلاف بندوں کے قرض اور عشرہ اور خراج کے ( کہ یہ تینوں ورثہ کے حق میں سے لے لیے جائیں گے) اس کے علاوہ صرف قسم ( کھانے) سے کفارہ لازم نہیں ہوتا بلکہ قسم کے بعد اس کے توڑنے سے لازم آتا ہے پس قسم کے ساتھ کفارہ کے مواخذہ کو متعلق کرنا ہرگز خیال میں نہیں آتا لہٰذا مواخذہ سے مراد عذاب ہی ہے اور کفارہ اس مواخذہ کو رفع کرنے کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔
بِاللَّغْوِ فِيْٓ اَيْمَانِكُمْ ( تمہاری قسموں میں بےہودہ پر) لغت میں لغو ایسی نکمی چیز کو کہتے ہیں جس کا اعتبار نہ کیا جاتا ہو کلام میں ہو یا اور کسی چیز میں۔
قاموس میں اسی طرح ہے یہاں اس سے وہ قسم مراد ہے جو زبان سے بلا خیال اور بلا قصد کے نقل جائے خواہ انشاء ہی ہو یا خبر میں، ماضی میں ہو یا مستقل میں یہی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے۔
امام شافعی (رح) نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ آدمی کی لغو قسم اس طرح کہنا ہے کہ : لا وا اللہ بلی وا اللہ۔
یہی روایت ابو داؤد نے مرفوعاً نقل کی ہے۔ شعبی اور عکرمہ بھی اسی طرح گئے ہیں امام شافعی (رح) کا قول بھی یہی ہے اور لغوی معنی مذکور کے یہی مناسب بھی ہے کیونکہ جب یہ بلا قصد ہے تو یہ اعتبار کرنے کے قابل نہیں ہے اور نہ اس سے اجماعاً گناہ ہوتا ہے اگر یہ اخبار میں ہو۔
اسی طرح امام شافعی (رح) کے نزدیک اس وقت قسم منعقد نہیں ہوتی جب اس طریق کی قسم انشاء میں ہو اور اس کو توڑ دے (یعنی اگر ایسی قسم کو توڑ دے) تو اس کے ذمہ کفارہ لازم نہیں آئے گا ان کی دلیل یہی آیت اس تفسیر کے ساتھ ہے۔
اور امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ قسم منعقدہو جاتی ہے اور حانث ہوجانے پر کفارہ دینا لازم ہوگا کیونکہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ : ثلٰث جدھن جد و ھزلھن جدالنکاح والطلاق والیمین ( یعنی تین چیزیں ایسی ہیں کہ انکو سچ مچ کہنا تو سچ مچ ہوتا ہی ہے لیکن ان کو ہنسی سے کہنا بھی سچ مچ ہی ہوتا ہے ( وہ تینوں یہ ہیں) نکاح، طلاق، قسم۔
اسی طرح صاحب ہدایہ نے کہا ہے۔ یہ حدیث ہمیں حدیث کی کتابوں میں ٖ نہیں ملی ہاں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہمیں اس سند سے ملی ہے کہ عبد الرحمن بن حبیب نے عطا سے انہوں نے یوسف بن ماھک سے انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے مرفوعاً روایت کی ہے کہ : ثلٰث جدھن جد و ہزلھن جد النکاح والطلاق والرجعۃ ( یعنی نکاح طلاق رجعت ان تینوں کا یہ حکم ہے جو پہلے مذکور ہوا)
اس روایت کو امام احمد۔ ابو داؤد۔ ترمذی۔ ابن ماجہ۔ حاکم۔ دار قطنی نے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے حاکم نے صحیح کہا ہے۔
علامہ ابن جوزی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ عطا عجلان کے بیٹے ہیں جو حدیث میں متروک ہیں۔ حافظ ابن حجر (رح) نے کہا یہ ابن جوزی کا وہم ہے کیونکہ وہ عطا ابی رباح کے بیٹے ہیں ( عجلان کے بیٹے نہیں ہیں) اور عبد الرحمن بن حبیب میں بھی محدثین کا اختلاف ہے۔
امام نسائی فرماتے ہیں کہ یہ منکر الحدیث ہیں لیکن اوروں نے ان کی توثیق بھی کی ہے کہ پس یہ حدیث حسن ہے۔
اور اسی کو ابن عدی نے کامل میں ان لفظوں سے نقل کیا ہے : ثلٰث لیس فیھا لعب من کلم بشئ منھا لاعبا فقد وجب ا لطلاق والعتاق والنکاح یعنی تین چیزیں ایسی ہیں جن میں ہنسی نہیں ہوتی جو شخصی انہیں ہنسی کے طور پر زبان سے نکال دے وہ اس کے ذمہ لازم ہوجائیں گے ( وہ یہ ہیں) نکاح، طلاق، عتاق۔
اس میں ابن لہیعہ راوی ضعیف ہیں اور عبد الرزاق نے حضرت عمر ؓ اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے موقوفاً روایت کی ہے ان دونوں نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مزاح نہیں ہوتا نکاح، طلاق۔ عتاق۔
اور ایک روایت ان ہی دونوں سے یہ ہے کہ ایسی چار چیزیں ہیں اور نذر کا لفظ زیادہ کیا ہے۔ ابن ہمام فرماتے ہیں اس میں شک نہیں کہ قسم بھی نذر کے معنی میں ہے پس اس کو بھی نذر پر قیاس کرلیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں کہ جو امام شافعی (رح) نے ذکر کیا ہے وہ مرفوع حدیث ہے جو آیت کے لیے تفسیر اور بیان ہوگیا ہے اور نص کے مقابلہ میں قیاس کا اعتبار نہیں ہوتا اس کے علاوہ مقیس علیہ فقط ایک موقوف اثر میں وارد ہے وہ مرفوع نہیں ہے۔
ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ اگر قسم کی حدیث ثابت بھی ہوجائے تو اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس میں تو فقط اتنا مذکور ہے کہ ہنسی سے قسم کھانے والا بمنزلہ جان بوجھ کر قسم کھانے والے کے شمار ہوگا اور ہنسی سے قسم کھانے والا ارادہ سے قسم کھانے والا ہے ہاں اس کے حکم سے راضی نہیں ہے پس ارادی تخلیق سبب کے بعد اس کے رضا مند نہ ہونے کا اعتبار نہ کیا جائے گا اور بھول کر کوئی بات کہنے والا تو کسی شئ کا قصد بھی نہیں کرتا اور نہ اس کو یہ خبر ہوتی ہے کہ میں کیا کرتا ہوں اور سی طرح غلطی سے کہہ دینے والا ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کو زبان سے نکالنے کا ارادہ نہیں کرتا بلکہ اس کا ارادہ کوئی اور بات کہنے کا ہوتا ہے ( اور غلطی سے نکل کچھ جاتا ہے) پس یہ بھی ہنسی سے کہنے والے کے حکم میں نہیں ہے لہٰذا اس کے بارے میں کوئی نص ہے اور نہ قیاس ہے اس کے علاوہ لغو قسم کی تفسیر میں امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی شئے پر یہ سمجھ کر قسم کھالے کہ میں اس میں سچا ہوں پر اسے اس کے خلاف ظاہر ہو تو اس کو لغو قسم کہا جائے گا۔
زہری۔ حسن۔ ابراہیم نخعی کا یہی قول ہے اور قتادہ اور مکحول فرماتے ہیں کہ ایسی قسم میں نہ کفارہ ہے اور نہ کچھ گناہ ہے باوجودیکہ اس میں قسم کھانے والے کا رادہ قسم کا ضرور ہوتا ہے اگرچہ یہ گمان بھی اس کو ہوتا ہے کہ میں اس میں بری ہوں پس جس قسم کا کسی نے ارادہ ہی نہیں کیا بلکہ وہ مثل سونے والے کے تھا کہ کچھ اس کی زبان سے نکل گیا تو اس کی قسم کا اعتبار نہ کیا جانااولیٰ درجہ ہے۔
امام شافعی کا قول یہ ہے کہ جو قسم ارادہ کے ساتھ ہو اگرچہ سچ ہی ہونے کے گمان پر ہو اگر وہ نفس الامر کے خلاف ہوگی تو اس میں کفارہ دینا واجب ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تفسیر کے مطابق یہ قسم لغو قسم میں سے نہیں ہے بلکہ یہ قلبی کسب میں سے ہے۔ جیسے (یمین) غموس ہوتی ہے ہاں اتنا فرق ہے کہ وہ اپنے گمان کے باعث معذور ہے اس لیے اس میں گناہ نہیں ہوگا۔
میں کہتا ہوں کہ اگرچہ یہ قسم (لغو قسم) میں سے نہیں ہے لیکن نہ اس میں کفارہ ہے اور نہ گناہ ہے گناہ نہ ہونے کی دلیل تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد : و لیس علیکم جناح فیما اخطأتم بہ و لکن ما تعمدت قلوبکم ( یعنی جو تمہارے منہ سے غلطی نکل جائے اس میں تم پر گناہ نہیں ہے ہاں جس کا تم دل سے ارادہ کرکے کہو) اور کفارہ نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کفارہ کا دار و مدار تو گناہ ہی ہوتا ہے کیونکہ کفارہ گناہ رفع کرنے کے لیے ہے اور جب گناہ نہیں تو کفارہ بھی نہیں۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ یہ قسم : فیما عقدتم الایمان میں داخل نہیں ہے حالانکہ کفارہ اسی طرف راجع ہوتا ہے اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ( تمہارے کہنے کے مطابق) اگر کفارہ کا دارو مدار گناہ ہی پر ہے) تو ازروی اجماع و حدیث خطاء اور نسیان میں تو گناہ نہیں ہوتا پس ( اس قاعدہ کے مطابق) خطا سے قتل کردینے پر بھی کفارہ نہ ہوگا۔
ہم کہتے ہیں قتل کردینا بہت سخت کام ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ( اس میں) دو گناہ مقرر کیے ہیں ایک گناہ تو اس جان کے مارنے ( یعنی خون کرنے) کا یہ کبیرہ گناہ ہے جو جان کے قتل کردینے میں ہوتا ہے او یہ کفارہ سے رفع نہیں ہوتا اس لیے اس میں کفارہ واجب ہونے کے ہم قائل نہیں ہیں اور خطا سے قتل کردینے میں یہ گناہ رفع ہوجاتا ہے اور دوسرا گناہ احتیاط نہ کرنے کا ہے اور اسی گناہ کی وجہ سے خطاء سے قتل کردینے میں کفارہ واجب ہوتا ہے سعید بن جبیرفرماتے ہیں کہ قسم لغو وہ ہے جو معصیت پر ہے اس میں حانث ہوجانے پر اللہ مواخذہ نہیں کرتا بلکہ اس میں حانث ہوجائے اور کفارہ دیدے اور اس قول پر لغو اور منعقدہ دونوں قسمیں ایک ہوجائیں گی۔ حالانکہ یہ آیت دونوں کے علیحدہ علیحدہ ہونے پر دلالت کرتی ہے جو شرکت کے بالکل منافی ہے اس کے علاوہ کفارہ واجب ہونے کا قائل ہونا مواخذہ نہ ہونے کے قائل ہونے کے منافی ہے کیونکہ کفارہ تو گناہ ہی پر مبنی ہوتا ہے اور مسروق فرماتے ہیں کی معصیت پر قسم کھانے میں کفارہ نہیں ہے کیا کہیں شیطانی لغزشوں پر بھی کفارہ دیا جاتا ہے اور شعبی نے ایک آدمی کے حق میں فرمایا تھا جس نے معصیت کرنے پر قسم کھالی تھی کہ اس کا کفارہ یہی ہے کہ اس معصیت سے توبہ کرلے میں کہتا ہوں کہ معصیت پر قسم کھالی تو اللہ تعالیٰ کے قول : ولٰکن یواخذ کم بما عقدتم الایمانکے عموم میں داخل ہے کیونکہ اس قسم میں تو اس کے پورا کرنے کا ارادہ یقینی ہوتا ہے پس وہ منعقدہ میں سے ہوئی نہ کہ لغو میں سے اور منعقدہ قسم کفارہ واجب کردیتی ہے ہاں اس کا معصیت پر ہونا اس کے توڑدینے کو واجب کرتا ہے اور یہ بعینہٖ آنحضرت ﷺ کے اس قول کا مقتضی ہے کہفَلْ یُکْفِرُوْا یَاتِ بِمَا ھُوُ خَیْرٍ وَا اللہ اَعْلَمُ ۔
وَلٰكِنْ يُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ ( لیکن اس قسموں پر تم سے مواخذہ کرے گا جن کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہے) یعنی جس جھوٹی قسم کا تم نے قصد اور ارادہ کیا ہو اور قصد و ارادہ ہی سے معصیت کے مرتکب ہوئے ہو ہم نے یہ تفسیر مواخذہ کے قرینہ سے کی ہے۔ کیونکہ مواخذہ تو معصیت ہی پر ہوتا ہے پس اس قید سے سچی قسمیں سب نکل گئیں اور وہ قسمیں بھی جو سچی ہونے کے خیال سے ہوں اور اسی طرح اس قید سے منعقدہ (قسم) بھی نکل جاتی ہے کیونکہ اس میں بھی ( فقط قسم کھانے میں) معصیت نہیں ہوتی بلکہ قسم کھانے کے بعد حانث ہوجانے میں ہوتی ہے اگر کوئی کہے کہ سورة مائدہ میں یہ آیت ہے ولٰکن یواخذکم بِمَا عقدّتم الایمان ( یعنی اللہ تم سے ان پر ضرور مواخذہ کرے گا جن قسموں کا تم نے ارادہ کیا ہو) اور یہ معصیت ہونے اور اس پر مواخذہ ہونے پر دلالت کرتی ہے پر تم کیونکر کہتے ہو کہ اس سے منعقدہ قسم نکل گئی ‘ الی آخرہٖ ۔
میں کہتا ہوں وہاں تقدیر کلام کی یہ ہے لیکن اللہ تم سے ان قسموں پر مواخذہ کرے گا جن کا تم نے ارادہ کیا تھا اگر تم حانث ہوجاؤ اور یہاں یہ تقدیر نہیں ہے کیونکہ تقدیر بھی مجاز کی ایک قسم ہے اور حقیقت اور مجاز دونوں جمع نہیں ہوتے اور (یمین) غموس پر مواخذہ محض قسم کھانے سے ہوتا ہے پس اس آیت سے مرد فقط یمین غموس باقسامہ ہے اور یہاں وہ تقدیر نہیں ہے اور سورة مائدہ کی آیت سے مراد فقط منعقدہ قسم ہے اور اس میں یہ تقدیر ہے۔ وا اللہ اعلم
اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ : بما کسبت قلوبکم اور بما عقدتم الایمان دونوں کا مطلب ایک ہی ہے اور وہ لغو (قسم) کی ضد ہے ( عرب) کہتے ہیں کہ قلب کا کسب عقد اور نیت ہے پس ماکسبت قلوبکم اور ما عقدتم الایمان دونوں (یمین) غموس (یمین) منعقدہ (یمین) مظنونہ سب کو شامل ہیں لہٰذا ان سب میں کفارہ دینا واجب ہوگا۔ ہم کہتے ہیں ایسا نہیں ہے بلکہ عقد یمین ( یعنی منعقدہ قسم) سے مراد یہ ہے کہ قسم کھا کر اپنے اوپر ایک چیز کو ایسا لازم کرلینا کہ اس کا پورا کرنا اس آیت کی وجہ سے واجب ہو : یا یھا الذین امنوا اوفوا بالعھود ( یعنی اے ایمان والو اپنے عقدوں کو پورا کیا کرو) اور اس میں نہ کوئی معصیت ہے اور نہ کچھ مواخذہ ہے ہاں حانث ہونے کے بعد اور کسب قلب حضرت عائشہ ؓ کی تفسیر کے مطابق لغو قسم کی ضد ہے پس وہ اس سے مطلقاً عام ہے لیکن مواخذہ کے قرینہ سے آیت میں بلا کسی قسم کی تقدیر کے ہم اسے اس معصیت پر حمل کرتے ہیں جو محض قسم کھانے سے حاصل ہو پس یہ فقط ( یمین غموس ہی ہے اور غموس میں کفارہ نہیں ہے کیونکہ اللہ کے قول : فکفارتہ کی ضمیر فقط ماعقدتم الایمان کی طرف راجع ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ غموس محض کبیرہ گناہ ہے سپ اگر اس قسم پر کفارہ واجب ہوگا تو پھر یہ کفارہ غموس کی معصیت کے لیے یا تو اسے چھپانے اور زائل کرنے والا ہوگا یا نہ ہوگا اگر انہیں ہے تو کفارہ کفارہ نہ رہا اور اگر ہے تو پھر یہ بہت سی صورتوں کو شامل ہے۔ مثلاً کوئی جھوٹی قسم کھا کے کسی مسلمان کا مال دبالے پھر اس کا کفارہ دے دے ( تو تمہارے قول کے مطابق یہ بری ہوجائے گا) حالانکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفرعنکم سیئاتکم ( یعنی اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے) اور فرمایا : ان الحسنات یذھبن السیأت آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ پانچوں نمازیں اور جمعہ دوسرے جمعہ تک اور رمضان دوسرے رمضان تک اپنے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں جب تک کہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے پس اس سے صاف معلوم ہوگیا کہ طاعات صغیرہ ہی گناہوں کے کفارہ ہوتے ہیں کبیرہ کے نہیں ہوتے باقی رہے کبیرہ گناہ سو ان سے خلاصی ہونے کی صورت سوائے استغفار کے اور کوئی نہیں ہے ہاں اگر اللہ اپنی رحمت سے اسے چھپالے اور اسکی مغفرت کردے اور شاید اللہ تعالیٰ نے اپنے اس آئندہ قول سے اسی طرف اشارہ کیا ہو کہ۔
وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ ( اور اللہ بخشنے والا بردبار ہے) اگر وہ چاہے تو توبہ سے یا بلا توبہ بھی کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور یہ مغفرت اور بردباری کا وعدہ بظاہر اس آیت کی طرف راجع ہے کہ لا یواخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم کیونکہ رفتار کلام لغو قسم ہی کی بابت ہے اور یمین غموس اس کے تابع ہونے کے طور پر ذکر کردی گئی ہے اس پر بخاری کی وہ روایت جو انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کی ہے دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے فرمایا : لا یؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ایسے شخص کے بارے میں نازل کی گئی ہے جو کہتا تھا لا وا اللہ و بلی وا اللہ وا اللہ اعلمجاننا چاہئے کہ یمین کے معنی اصل میں قوت کے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : لاخذنا منہ بالیمین ( یعنی بیشک ہم نے اسے قوت کے ساتھ پکڑ لیا) اور بائیں ہاتھ کے خلاف عضو کو ( یعنی سیدھے ہاتھ کو) بھی اس کی قوت ہی کی وجہ سے یمین کہتے ہیں اور قسم کو بھی یمین اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ کا نام بول کر اس میں کلام کی تقویت ہوجاتی ہے قسم دو طرح کی ہوتی ہے اوّل قسم یہ کہ بلا ارادہ زبان سے نکل جائے خواہ وہ گذشتہ خبر کے متعلق ہو آئندہ کے متعلق صادق ہو یا کاذب ہو یا انشاء میں ہو اسی کا نام لغو یمین ہے اور اس کا کچھ اعتبار نہیں ہوتا نہ اس کے ساتھ کوئی حکم متعلق ہوتا ہے سوائے اس کے جو ہم بیان کرچکے ہیں انشاء میں امام ابوحنیفہ کا خلاف ہے دوسری قسم وہ جو ارادہ سے ہو اور اس کی بھی دو قسمیں ہیں یا تو خبر میں ہو یا انشاء میں اگر خبر میں ہے تو وہ خبر اگر فی الواقع اور متکلم کے گمان میں بھی سچی ہے مثلاً تم نے یہ کہا قسم ہے اللہ کی محمد بیشک اللہ کے رسول ہیں اور قیامت یقیناً آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور آفتاب یقیناً نکلا ہوا ہے تو اس میں کسی قسم کا کلام نہیں ہے کہ ایسی قسم بیشک عبادت ہے اسی واسطے اللہ کے سوا اور کسی کی قسم کھانی جائز نہیں ہے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ دادوں کی قسمیں کھایا کرو جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ ہی کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے یہ حدیث متفق علیہ ہے ابن عمرہی سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ سے میں نے خود سنا کہ جس نے اللہ کے سوا اور کسی کی قسم کھائی اس نے شرک کیا یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے باپ دادوں اور ماؤں اور بتوں کی قسمیں ہرگز نہ کھایا کرو اور اللہ کی بھی قسم نہ کھاؤ ہاں اگر تم سچے ہو یہ حدیث ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے اور اگر وہ خبر فی الواقع جھوٹی ہے اور متکلم اسے اپنے گمان میں سچ سمجھ رہا ہے تو پھر دیکھنا چاہئے کہ اگر اس کا گمان کسی ظنی دلیل پر مبنی ہے۔ جیسے خبر واحد کہ اس میں کسی راوی نے جھوٹ بول دیا ہے یا اس کے معنی میں غلطی کردی ہو یا کسی سلف صالح کا اثر ہو یا حس وغیرہ میں غلطی ہوگئی ہو اور اس کے جھوٹ پر کوئی یقینی دلیل وہاں نہ ہو تو امام ابوحنیفہ (رح) کی تفسیر کی مطابق اسی کا نام یمین مظنون اور یمین لغو ہے اور اس کا حکم ہم بیان کرچکے ہیں اور اگر اس کا گمان کسی دلیل پر مبنی نہیں ہے۔ مثلاً کوئی بلا جانے بلا دیکھے ‘ بلا کسی کے خبر دیدئے یہ کہہ دے کہ زید کھڑا ہے یا اب کھڑا ہوگا) تو اس کا نام یمین غموس ہے جس سے منع کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ولا تقف ما لیس لک بہ علم ( اور نہ در پے ہو اس چیز کے جس کا تجھے علم نہ ہو) ۔
اور اگر کسی کے جھوٹ پر دلیل بھی قائم ہو تو وہ بطریق اولیٰ یمین غموس ہوگی جیسا کہ کفار کہتے ہیں کہ مسیح اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں اور قبروں والوں کو ( زندہ کرکے) اللہ تعالیٰ نہیں اٹھائے گا اور اگر وہ خبر فی الواقع سچی اور متکلم کے گمان میں جھوٹی ہے جیسے رسول اللہ سے منافق لوگ کہتے تھے کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں یا وہ خبر فی الواقع بھی جھوٹی اور متکلم کے گمان میں بھی جھوٹی ہے جیسے یہود کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بشر پر کوئی شے نہیں نازل کی اور کہتے ہیں کہ جو مرگیا اللہ اسے نہیں اٹھائے گا اور جیسے قرض دار ( قرض خواہ سے) کہا کرتا ہے کہ میرے ذمہ تیرا کچھ نہیں ہے پس اس کا نام یمین غموس ہے اس کے قریب جانا (یعنی ارادہ کرنا) بھی جائز نہیں ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ شریک ماننا۔ والدین کی نافرمانی کرنا۔ خون کردینا اور یمین غموس۔ یہ حدیث بخاری نے نقل کی ہے ابن مسعود کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے یمین پر حلف کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے کسی مسلمان آدمی کا مال دبا لے حالانکہ ہے اس میں جھوٹا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پیشی کے وقت اس پر سخت ناراض ہوگا پھر اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمناً قلیلا [ الایۃ ] یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
ابو امامہ کہتے ہیں رسول ﷺ اللہ نے فرمایا کہ جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق چھین لیا تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوزخ واجب کردی اور جنت اس پر حرام کردی۔ یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے عبد اللہ بن انیس کہتے ہیں کہ انحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے بڑے کبیرہ گناہ یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ماننا۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور یمین غموس یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے۔ خریم بن فاتک نے مرفوعاً تین مرتبہ کہا کہ جھوٹی شہادت اللہ کے ساتھ شریک کرنے کے برابر ہے پھر یہ آیت پڑھی : فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور۔ یہ روایت ابو داؤد اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے ہے اور اگر وہ خبر انشاء میں ہے اس طرح پر کہ متکلم اپنے اوپر کوئی شے لازم کرتا ہے یا کسی شے سے اپنے آپ کو روکتا ہے تو اس کا نام یمین منعقدہ ہے اور سوۂ مائدہ میں اللہ تعالیٰ کے اس قول سے یہی مراد ہے : ولٰکن یؤاخذکم بما عقدتم الایماناس کا حکم انشاء اللہ تعالیٰ یہاں ہم عنقریب ذکر کریں گے۔
Ayah 2:226لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ( جو لوگ اپنی بیویوں ( کے پاس جانے) سے قسم کھا بیٹھتے ہیں) یعنی یہ حلف کرلیتے ہیں کہ ہم ان سے مجامعت نہ کریں گے۔ اٰلَیْتُہ کے معنی قسم کے ہیں اور اس کا تعدیہ علیٰ سے ہوتا ہے لیکن جب یہ دوری کے معنی کو متضمن ہوتا ہے تو اس کا تعدیہ مِن سے کردیا جاتا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں ایلاء اہل جاہلیت کی طلاق تھی۔ سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ایلاء اہل جاہلیت کا ستانا تھا جب کسی کو اپنی بیوی سے محبت نہ ہوتی تھی اور نہ وہ یہ چاہتا تھا کہ دوسرا اس سے نکاح کرے تو وہ یہ قسم کھا لیتا تھا کہ میں کبھی اس کے نزدیک نہ جاؤں گا اس کو اس طرح چھوڑے رکھتا تھا کہ وہ نہ بیوہ ہوتی تھی نہ خاوند والی رہتی تھی شروع اسلام میں سب لوگ اس کے پابند تھے پھر اسلام میں اس کی مدت معین ہوگئی۔
تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ ( انہیں چار مہینے انتظار کرنا (لازم) ہے) یہ سارا مبتدا ہے اور اس سے پہلے اس کی خبر ہے یا یہ ظرف کا فاعل ہے تربص کے معنی انتظار اور توقف کرنے کے ہیں ظرف کی طرف اس کی نسبت مجازاً کردی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس مدت میں ایلاء کرنے والے کو ٹھہرنے کا حق ہے اس میں طلاق نہیں پڑتی یا اس میں طلاق کا مطالبہ نہیں کیا جاتا یہ اختلاف آگے آئے گا۔
فَاِنْ فَاۗءُوْ ( پس اگر رجوع کرلیں) یعنی چار مہینے گذرنے کے بعد وطی کے ساتھ اپنی قسم سے عورتوں کی طرف رجوع کرلیں یہ معنی امام شافعی امام مالک اور امام احمد کے قول کے مطابق با عتبار ظاہر آیت کے میں کیونکہتعقیب کے لیے ہے اس کے علاوہ یہ وجہ بھی ہے کہ آدمی اس طرح مولی ( ایلاء کرنے والا) نہیں ہوتا کہ چار مہینے ( تک نہ جانے) پر قسم کھالے جیسا کہ اس سے کم میں بھی مولیٰ نہیں ہوتا بلکہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب اس سے زیادہ پر قسم کھائے کیونکہ رجوع ایلا کی مدت میں ہونا ضروری ہے دوسرے یہ کہ چار مہینے گذر جانے سے طلاق نہیں پڑتی اور ابن مسعود کی قرأت اس طرح ہے : فان فاؤا فیھن یعنی ان ( چار مہینے) میں (اگر رجوع کرلیں) اسی قرأت کی وجہ سے امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ اگر کسی نے چار مہینے کی قسم کھائی تو وہ مولیٰ ہوجائے گا اور ان چار مہینے میں ہی رجوع کرنا درست ہے پس اس اختلاف کا دارو مدار اس پر ہے کہ قرأت شاذہ پر عمل کرنا جائز ہے یا نہیں اور ائمہ کا قول یہ ہے کہ جائز نہیں ہے کیونکہ نہ وہ حدیث ہے اور نہ قرآن ہے۔ اگر قرآن کی آیت ہوتی تو متواتر ہوتی اور امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب ہے کیونکہ اس سے خالی نہیں کہ یا تو وہ قرآن ( کی آیت) ہے اور یا قرآن کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے اور یہ دونوں حجت ہیں اگر کوئی کہے کہ یہ ہم نے مانا کہ قرأت شاذہ حجت ہے لیکن جب اس کے اور قرأت متواترہ کے درمیان تعارض ہوجائے تو اس وقت اس کا ساقط ہونا ضروری ہے ہم کہتے ہیں ساقط ہونا اس صورت میں ضروری ہے کہ دونوں جمع نہ ہو سکیں اور یہاں تو جمع ہوسکتی ہیں کیونکہجیسا کہ تعقیب کے لیے آتی ہے اسی طرح کبھی کسی مجمل وغیرہ کی تفصیل کے لیے بھی آتی ہے جو مجمل اس سے پہلے ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے : و نادٰی نوح ربہٗ فقال رب ان ابنی من اھلی اور جیسے اس آیت میں : یسئلک اہل الکتاب ان تنزل علیہم کتاباً من السمآء فقد سألوا موسیٰ اکبر من ذالک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ اور یہاں جب یہ بیان کیا گیا کہ ایسے مردوں کو بلا وطی کے چار مہینے انتظار کرنا چاہئے تو یہ ایسا موقع ہے جو تفصیل کو چاہتا ہے اس لیے فان فاؤافرما کر سمیع علیم تک اس کی تفصیل کی اس کے علاوہ اگرکو زمانہ میں تعقیب کے لیے مان لیں تو یہ احتمال ہوتا ہے کہ شاید یہ باعتبار ایلاء کے ہو یعنی پس اگر وہ ایلا کے بعد رجوع کرلیں اور متواترہ قرأت مطلقاً رجوع کرنے پر دلالت کرتی ہے خواہ وہ ان چار مہینے میں ہو یا ان کے بعد ہو اور قرأت شاذہ مقید ہے کہ رجوع ان ہی چار مہینے میں ہو پس مطلق کو مقید پر حمل کرلیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ ابن مسعود کی قرأت مشہور ہے۔ (شاذہ نہیں ہے) اس سے کتاب (ا اللہ) کی تخصیص اور مطلق کو مقید پر حمل کرلینا جائز ہے۔
فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) حسن۔ ابراہیم۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ جس وقت مولی ( ایلاء کرنے والا) رجوع کرے تو اس کے ذمہ کفارہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور رحمت کا وعدہ کیا ہے اور جمہور کے نزدیک اس کے ذمہ کفارہ واجب ہے کیونکہ مغفرت کا وعدہ کرنا اس کفارہ کی نفی نہیں کرتا جو سورة مائدہ کی آیت سے ثابت ہوچکا ہے اور آنحضرت (علیہ السلام) کے اس قول سے بھی کہ : من حلف علٰی یمین فری غیرھا خیرا منھا فلیکفر و لیات بما ھو خیر۔
Ayah 2:227وَاِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ ( اور اگر انہوں نے طلاق کا ارادہ کرلیا ہو) امام مالک امام شافعی امام احمد فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر چار مہینے کے بعد انہوں نے رجوع نہ کیا اور طلاق دینے کا ارادہ کرکے طلاق دے دی۔
فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ( تو بیشک اللہ سننے والا ہے ( انکے طلاق دینے کو) جاننے والا ہے) ( ان کی نیتوں کو) اور اسی تاویل کی بنا پر انہوں نے کہا ہے کہ محض چار مہینے گذر جانے سے طلاق نہیں پڑے گی بلکہ طلاق کا پڑنا طلاق دینے پر موقوف رہے گا کیونکہ اگر طلاق دینے پر موقوف نہ رہے اور فقط چار مہینے ختم ہوتے ہی طلاق پڑجائے تو اس کے طلاق کا ارادہ کرنے کے کوئی معنی نہ ہوں گے اور نہ اس کے ذیل میں اللہ کا قول : ان اللہ سمیع مناسب رہے گا اس تاویل پر تردید نفی و اثبات میں دائر نہیں ہے بلکہ ایک تیسیر صورت اور ہے وہ یہ کہ نہ وہ رجوع کرے اور نہ طلاق دے اور اس صورت کے حکم سے یہاں سکوت ہے سو اس میں اس تاویل کے قائلین کا بھی قول مختلف ہے اکثر فقہاء کا قول یہ ہے کہ حاکم اسے طلاق دیدے کیونکہ جب ایلاء کرنے والا امساک بالمعروف سے رکا رہا تو تسریح بالاحسان میں حاکم اس کے قائم مقام ہوجائے گا جیسا کہ عنین کا حکم ہے اور ایک روایت میں امام شافعی اور امام احمد سے یہ بھی مروی ہے کہ حاکم اس پر زبردستی کرکے طلاق دلوادے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر انہوں نے ارادتاً طلاق کی وجہ سے رجوع کو چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ مدت ( چار مہینے کی) گذر گئی اور اس سے طلاق پڑگئی (تو اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے) نیز علماء فرماتے ہیں کہ اگر اس سے طلاق نہیں پڑے گی تو اس کے لیے چار مہینے کے بعد رجوع کرلینا جائز ہوگا پھر رجوع کرنے کی قید جو ابن مسعود کی قرأت میں ان کے قول فیھن سے ہوتی ہے اس کے کوئی معنی نہ ہوں گے اور اگر ہم یہ کہیں کہ چار مہینے کے بعد رجوع کرنا جائز نہیں ہے اور طلاق دینا اس پر لازم ہے تو ( اس کہنے سے) اجماع مرکب کا خلاف لازم آئے گا کیونکہ اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آیت میں جو تردید ہے وہ بھی اس کا انکار کرتی ہے اور اس تاویل پر اللہ تعالیٰ کے قول فان اللہ سمیع کے یہ معنی ہیں کہ اللہ اس لڑائی جھگڑے وغیرہ کو سننے والا ہے جو رجوع نہ کرنے کا سبب ہو جیسا کہ وہ شیطان کے وسوسہ کو سنتا ہے یا وہ اس ایلاء کو سننے والا ہے جو طلاق ہے اور بلا وطی کے چارمہینے گذر جانے پر موقوف رہتی ہے علیم جاننے والا ہے ان کے ظلم کو جو ہمیشہ اس پر رہتے ہیں اس تاویل پر آیت کا معنی وعید آمیز ہوگا اور آثار صحابہ اس بارے میں متعارض ہیں چناچہ حضرت عمر عثمان علی زید بن ثابت ابن مسعود۔ ابن عباس۔ ابن عمرؓ تو یہی فرماتے ہیں جو امام ابوحنیفہ کا قول ہے سوائے اس روایت کے جو حضرت عمر سے مروی ہے کہ وہ رجعی طلاق ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ دارقطنی نے اسحاق سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے مسلم بن شہاب نے بیان کیا اور وہ سعید بن مسیب اور ابوبکر بن عبد الرحمن سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب فرماتے تھے کہ چار مہینے گذر جائیں تو وہ ایک طلاق ہے اور جب تک عورت عدت میں رہے خاوند کو رجوع کرلینے کا پورا اختیار ہے عبد الرزاق نے نقل کیا ہے کہ ہم سے معمر نے ‘ انہوں نے عطاء خراسانی سے ‘ انہوں نے ابی سلمہ بن عبد الرحمن سے نقل کیا کہ عثمان بن عفان اور زید بن ثابت دونوں ایلاء کی بابت فرماتے تھے کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو وہ ایک ہی طلاق ہے اور عورت اپنی جان کی زیادہ حقدار ہے وہ طلاق والی عورت کی طرح عدت پوری کرے اور عبد الرزاق ہی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ہم سے معمر نے انہوں نے قتادہ سے نقل کیا کہ علی ؓ اور ابن مسعود ؓ دونوں فرماتے تھے کہ جب ( ایلاء کے) چار مہینے گذر جائیں تو وہ ایک طلاق ہوتی ہے اور عورت اپنی جان کی سب سے زیادہ حقدار ہے طلاق والی عورت کی طرح وہ بھی عدت گذارے اور عبد الرزاق ہی نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ ہم سے معمر اور ابن عیینہ نے بیان کیا وہ ابی قلابہ سے نقل کرتے تھے ابو قلابہ کہتے ہیں کہ نعمان نے اپنی بیوی سے ایلاء کرلیا تھا آپ (ایک روز) ابن مسعود کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ابن مسعود نے ان کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ جب چار مہینے گذر جائیں تو تم ایک طلاق کا اقرار کرلینا ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ ہم سے ابو معاویہ نے انہوں نے اعمش سے انہوں نے حبیب سے انہوں نے سعید بن جبیر سے انہوں نے ابن عباس اور ابن عمر سے نقل کیا وہ دونوں فرماتے تھے کہ جب کسی نے ایلاء کرکے رجوع نہ کیا یہاں تک کہ چار مہینے گذر گئے تو یہ بائنہ طلاق ہے اور حضرت عثمان ؓ ، حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ سے ایک ایسی روایت بھی ہے جو اس کے خلاف ہے اور امام شافعی (رح) کے مذہب کے موافق ہے اسی طرح ان کے علاوہ اور صحابہ سے بھی مروی ہے۔ دارقطنی نے روایت کی ہے کہتے ہیں ہم سے ابوبکر میمونی نے بیان کیا وہ کہتے تھے میں نے امام احمد بن حنبل کو عطاخراسانی کی حدیث سنائی جسے وہ حضرت عثمان سے روایت کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں یہ کیسی ہے عثمان غنی سے تو اس کے خلاف مروی ہے کسی نے پوچھا اس کا روای کون ہے فرمایا حبیب ابن ثابت بروایت طاؤس از حضرت عثمان امام مالک نے موطا میں جعفر بن محمد سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے علی بن ابی طالب سے روایت کی ہے آپ فرماتے تھے کہ جب کسی نے اپنی بیوی سے ایلاء کرلیا تو اسے طلاق نہیں ہوئی پھر اگر چار مہینے گذر گئے تو اب انتظار کیا جائے کہ یا تو وہ طلاق دے دے یا رجوع کرلے۔ امام بخاری (رح) نے سند کے ساتھ ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ آپ اس ایلاء کی بابت فرماتے تھے جس کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے کہ اس مدت گذرنے کے بعد عورت حلال نہیں رہتی ہاں یا تو خوش خوئی کے ساتھ رکھے یا طلاق کا ارادہ کرلے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم کیا ہے اور امام بخاری کہتے ہیں مجھ سے اسماعیل بن اویس نے فرمایا کہ مجھ سے امام مالک نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ چار مہینے گذر جانے پر انتظار کرنا چاہئے تاکہ وہ طلاق دیدے۔ امام شافعی فرماتے ہیں ہم سے سفیان نے انہوں نے یحییٰ بن سعید سے انہوں نے سلیمان بن یسار سے روایت کی سلیمان فرماتے ہیں کہ دس سے کچھ اوپر صحابہ سے میں ملا ہوں وہ سب کے سب یہ فرماتے تھے کہ ایلاء کرنے والے کا انتظار کرنا چاہئے میں کہتا ہوں کہ صحابہ میں سے جو لوگ انتظار کی طرف گئے ہیں بغوی (رح) نے حضرت عمر ؓ اور ابی الدرداء کو بھی ان ہی میں ذکر کیا ہے ابن ہمام ؓ کہتے ہیں کہ جو روایت ہم نے حضرت عثمان ؓ اور زید بن ثابت ؓ سے نقل اللہ کی ہے وہ اس سے بہتر ہے جو امام احمد نے حضرت عثمان سے نقل کی ہے کیونکہ ہماری سند بہت قوی اور سلسلہ وار ہے، خلاف امام احمد کی روایت کے کہ اس میں حبیب تک چند راویوں کا حال کچھ معلوم نہیں اور نہ یہ کہیں معلوم ہوتا ہے کہ طاؤس ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے حدیث سنی ہے اور محمد بن علی ؓ کی روایت جسے وہ علی ابن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں مرسل ہے جیسے کہ قتادہ ؓ کی روایت حضرت علی ؓ سے مرسل ہے اور یہ دونوں ہم عصر بھی ہیں اور جو روایت ہم نے ابن عمر ؓ اور ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے اس کے سب راویوں سے شیخین نے صحیحین میں حدیثیں نقل کی ہیں پس اس روایت پر اس روایت کو جو صحیح بخاری میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کسی طرح کی ترجیح نہیں ہے۔ بغوی کہتے ہیں کہ ( ایلاء میں) انتظار کرنے کی طرف تابعین میں سے سعید بن جبیر ؓ ، سلیمان بن یسارا ؓ و رمجاہد (رح) گئے ہیں اور اس کے خلاف کی طرف سفیان ثوری۔ سعید بن مسیب اور زہری گئے ہیں لیکن ان دونوں کا قول یہ ہے کہ ایک رجعی طلاق پر جائے گی۔ عبد الرزاق نے امام ابوحنیفہ (رح) کے مذہب کے موافق تابعین میں سے عطا۔ جابر بن یزید عکرمہ۔ سعید بن مسیب۔ ابوبکر بن عبد الرحمن و مکحول سے روایت کی ہے اور اسی طرح دارقطنی نے ابن حنفیہ ‘ شعبی ‘ نخعی ‘ مسروق ‘ حسن ‘ ابن سیرین ‘ قبیصہ ‘ سالم ‘ ابی سلمہ سے روایت کی ہے۔
اور ترجیح میں یہ کہا گیا ہے کہ اس میں شک نہیں کہ ظاہر میں قرأت متواترہ امام شافعی (رح) وغیرہ کے مذہب کی موئد ہے، امام ابوحنیفہ (رح) کا مذہب اس سے بلا ایسے تکلف کے مستفاد نہیں ہوتا کہ جس کی طرف بغیر سماعت کے رجوع کرنا جائز نہیں ہے۔ پس صحابہ میں سے جس نے یہ کہا کہ یہ ظاہر آیت کے مطابق ہے تو جان لیا جائے گا کہ یہ بات انہوں نے رائے سے کہی ہے اور جس نے امام ابوحنیفہ (رح) کی تاویل کے مطابق کہا اس کا قول سننے پر محمول کرلیا جائے گا ابن ہمام فرماتے ہیں کہ یہ ترجیح کا عام قاعدہ ہے وا اللہ اعلم اور یہاں اور بمعنی چند اختلاف ہیں ایک یہ کہ جب کسی نے بلا اللہ کی قسم کھائے ایلاء کیا تو وہ مولیٰ ( ایلاء کرنے والا) شمار ہوگیا یا نہیں جیسے کہ طلاق۔ عتاق۔ صدقہ اور عبادتوں کو واجب کرلے ( مثلاً کہے کہ اگر میں ایساکروں تو غلام آزاد یا میرے ذمہ حج واجب) اس بارے میں امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ وہ شخص مولیٰ شمار ہوگا خواہ اس نے عورت کو فقط تکلیف میں رکھنے ہی کا ارادہ کیا ہو یا اس کی کوئی بہتری سمجھی ہو مثلاً وہ بیمار ہو یا اپنی بہتری سمجھی ہو کہ مثلاً خود بیمار ہو اور امام مالک کا قول یہ ہے کہ وہ مولی نہیں شمار ہوگا ہاں اسی صورت میں کہ غصہ میں یا عورت کو تکلیف دینے کے ارادے سے قسم کھالے اور امام احمد کا قول یہ ہے کہ فقط عورت کو تکلیف دینے کی صورت میں مولیٰ ہوگا اور امام شافعی (رح) سے دونوں (طرح کے) قول مروی ہیں لیکن ان میں سے صحیح امام ابوحنیفہ (رح) ہی کے قول کے مطابق ہے، دوسرا اختلاف یہ ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تکلیف دینے کے لیے بلا قسم کھائے چار مہینے سے زیادہ تک وطی نہ کی تو وہ مولیٰ شمار ہوگا یا نہیں امام مالک اور امام احمد سے ایک روایت میں یہ ہے کہ ہاں ( مولیٰ ہوجائے گا) اور جمہور کا قول یہ ہے کہ نہیں، تیسرا اختلاف یہ ہے کہ غلام کے ایلاء کی مدت بھی عموم آیت کی وجہ سے امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک چار ہی مہینے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ایسے امر کے لیے بیان کی گئی ہے جس کا میلان طبیعت کی طرف ہے اور وہ یہ کہ اتنی مدت تک عورت کو بلا خاوند کے صبر کم ہوتا ہے پس اس میں غلام اور آزاد برابر ہیں جیسے کہ عنین کی مدت میں امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) کے نزدیک غلام ہونے کی وجہ سے مدت نصف ہوجائے گی ہاں امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک عورت کی رقیت ( یعنی باندی ہونے) کا اعتبار ہوگا اور امام مالک (رح) کے نزدیک خاوند کے غلام ہونے کا یہ اختلاف ان دونوں کے طلاق ہونے پر مبنی ہے چوتھا اختلاف یہ ہے کہ جب کوئی وطی کرنے سے معذور ہوجائے تو وہ رجوع کس طرح کرے ؟ امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ اتنا کہہ دے کہ میں نے رجوع کرلیا ( اس سے رجوع ہوجائے گا) پھر اگر وہ اس مدت کے گذرنے سے پہلے وطی پر قادر ہوجائے گا تو وطی کرنی اس پر واجب ہوجائے گی پھر اگر وہ اس مدت کے گذرنے سے پہلے وطی پر قادر ہوجائیگا تو وطی کرنی اس پر واجب ہوگی اور امام شافعی کے نزدیک بلا وطی کے رجوع نہیں ہوسکتا کیونکہ قسم کی خلاف ورزی بھی اس کے بغیر نہیں ہوتی۔
Ayah 2:228وَالْمُطَلَّقٰتُ ( اور جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو) یہ لفظ عام ہے تمام مطلقہ عورتوں کو شامل ہے طلاق رجعی ہو یا بائنہ عورت کو حمل ہو یا نہ ہو عورت سے صحبت ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو ‘ لونڈی ہو یا حرہ۔ حدیث اور اجماع کی وجہ سے لونڈیوں کو اس آیت سے خاص کرلیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ باندی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت بھی دو ہی حیض ہیں یہ روایت ترمذی ‘ ابو داؤد ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی نے حضرت عائشہ ؓ سے نقل کی ہے۔ اس بحث کو جو اس حدیث میں ہے اور یہ مسئلہ کہ عموم قرآن کی تخصیص خبر واحد سے کی گئی ہے۔ آیت : الطلاق مرتان کی تفسیر میں ( انشاء اللہ تعالیٰ ہم عنقریب ذکر کریں گے اس آیت کا حکم حاملہ عورتوں کے حق میں آیت : و والات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن کی وجہ سے منسوخ ہے اسی طرح حکم مذکور کا عموم اس عورت کے حق میں بھی منسوخ ہے جس سے صحبت نہ کی گئی ہو کیونکہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : یا ایھا الذین امنوا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فمالکم علیھن من عدۃ [ الایۃ ] ۔
يَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ( وہ اپنے آپ کو روکے رکھیں) اور یتربصن خبر بمعنی امر تاکید کیلئے ہے بانفسھن کے لفظ سے
عورتوں کو رکے رہنے پر برانگیختہ کرنا مقصود ہے یعنی وہ اپنی جانوں کو روکے رکھیں اور اس پر غالب رہیں اگرچہ یہ ان کی خواہش کے خلاف ہے۔
ثَلٰثَةَ قُرُوْۗءٍ ( تین حیض آنے تک) اس مدت میں خاوند نہ کرلیں۔ لفظ قرء اضداد میں سے ہے اور مشترک ہے باتفاق اہل لغت حیض اور طہر دونوں پر بولا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) اور امام مالک فرماتے ہیں اور یہی حضرت عائشہ ابن عمرو زید بن ثابت سے مروی ہے کہ یہاں ( اس قرء سے) مراد طہر ہے ابن عمر کی اس روایت کی وجہ سے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی تھی پھر حضرت عمر ؓ نے آنحضرت ﷺ سے اس کا ذکر کیا حضور ﷺ سنتے ہی غصہ میں بھر گئے پھر فرمایا اسے چاہئے کہ عورت سے رجوع کرلے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر اسے حیض آئے پھر پاک ہوجائے اس کے بعد اگر طلاق ہی دینی ہو تو طہر کی حالت میں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدے پس یہی وہ عدت ( اور وقت) ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے یہ روایت متفق علیہ ہے اور اس حدیث کو دلیل بنانے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک فرماتا ہے : یا یھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن (یعنی اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت میں دو ) ود کہتے ہیں کہ لعدتھن میں لام کے معنی وقت کے ہیں یعنی ان کی عدت کے وقت میں دو اور اس حدیث میں اس عدت کا اشارہ اس طہر کی طرف ہے جس میں (عورت کو) ہاتھ نہ لگایا ہو پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ ( آیت میں) قروء سے مراد چند طہر ہیں ہم کہتے ہیں کہ استعمال میں لام وقت کے معنوں میں وہاں ہوتا ہے جہاں عہد کا نہ ہو اور یہاں ( لام کو وقتیہ کہنے سے) عدت کا طلاق پر مقدم یا اس کے ساتھ ساتھ ہونا لازم آتا ہے کیونکہ اس کا مقتضا یہ ہے کہ طلاق کا وقوع عدت کے وقت میں ہو ( اور یہ ٹھیک نہیں) بلکہ یہاں لام آئندہ عدت ہونے کے معنی کا فائدہ دینے کے لیے ہے باتفاق تمام اہل عربیہ تاریخ کے متعلق اس طرح کہا کرتے ہیں : خرج لثلٰث بقین من رمضان ہمارے اس قول کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ اس طرح پڑھتے تھے : یا ایھا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوھن فی قبل عدتھن اور اسی حدیث میں جو مسلم نے روایت کی ہے موجود ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس طرح پڑھا : واذا طلقتم النساء فطلقوھن بقبل عدتھنیا آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد میں کہ فتلک العدۃ التی امر اللہ بھا ہم یہ کہیں گے کہ اس عدت سے مراد طلاق کا وقت ہے یعنی وہ یہی وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے نہ کہ ( یہ) وہ عدت ہے) جو طلاق کے بعد واجب ہوتی ہے کبھی امام شافعی کی طرف سے ( اس آیت سے) اس طرح بھی حجت پیش کی جاتی ہے کہ ثلاثۃ میں ت ممیز کے مذکر ہونے پر دلالت کرتی ہے اور جس قروء کے معنیٰ حیض کے ہیں وہ مؤنث ہے اور جو معنی طہر ہے وہ مذکر ہے لہٰذا یہاں سے یہ (طہر) ہی مراد ہے اور یہ حجت بھی کچھ نہیں کیونکہ جب کسی چیز کے دو نام ہوں ایک مذکر ہو جیسے بر ( گیہوں کو کہتے ہیں) اور دوسرا مؤنث ہو جیسے حنطۃ ( اس کے بھی معنی گیہوں کے ہیں) اور وہاں حقیقی ثانیت نہ ہو تو اعتبار ان میں سے مذکر کا ہوتا ہے) یہ قاعدہ مسلّمہ ہے اور یہاں اسی طرح ہے کیونکہ حیض مؤنث ہے اور قرء مذکر ہے اور جس وقت تانیث حقیقی ہوتی ہے ( اور لفظ مذکر جیسے شخص ( کے لفظ) سے عورت مراد لے لیں تو اس میں دونوں صورتیں جائز ہوتی ہیں ( امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کا قول یہ ہے کہ اس (قرء کے لفظ) سے حیض مراد ہے اس کی چند دلیلیں ہیں ایک تو وہی جو امام شافعی کے ابن عمر کی حدیث کو حجت بنانے میں گذر چکی ہے جو مسلم نے نقل کی ہے اور ابن عباس ؓ اور ابن عمر کی قراءت بھی ہے دوسری دلیل یہ ہے کہ ثلاثۃ کا لفظ ایک خاص عدد ہے نہ اس سے کم ہونے پر دلالت کرتا ہے اور نہ اس سے زیادہ ہونے پر اور طلاق سنت طریقہ کے مطابق بالاجماع طہر ہی میں ہوتی ہے۔ اجماع کے علاوہ اس کی دلیل ابن عمر کی حدیث بھی ہے جو پہلے گذر چکی ہے پس ثلاثۃ قروء حیض ہی میں بنتا ہے نہ کہ طہر میں کیونکہ اس میں شک نہیں کہ یہ طہر جس میں طلاق واقع ہوئی ہے یا تو عدت میں شمار ہی نہ ہوگا حالانکہ یہ اجماع کے بالکل خلاف ہے اس کا کوئی قائل نہیں اس کے باوجود اس وقت تین پر زیادتی لازم آتی ہے یا یہ طہر عدت میں شمار ہوگا تو اب عدت یہ ہوگی کہ دو طہر پورے اور ایک طہر کا چکھ حصہ ( یعنی جس میں طلاق واقع ہوئی ہے) اور یہ تین طہر نہ رہے اور اگر دو طہر پورے اور ایک طہر کے کچھ حصہ پر ثلاثۃ کا اطلاق کردینا جائز ہے تو اللہ تعالیٰ کا قول : فعدتھن ثلٰثۃ اشھر من ثلٰثۃ اشہر کا بھی اطلاق ( دو مہینے پورے اور ایک مہینے کچھ حصہ پر) جائز ہوگا حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں ہے اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول : الحج اشھر معلومات میں اشہر کا اطلاق دو مہینے پورے اور ایک مہینے کے کچھ حصہ پر ہوا ہے ہم کہتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ الحج ثلاثۃ اشہر بلکہ فقط اشہر کہا ہے اور یہاں یہ نہیں کہا کہ قروء بلکہ فرمایا : ثلاثۃ قروء اور یہ اور بھی بڑی دلیل صراحت کے ساتھ ہے پس اس قروء کو تین سے کم پر حمل کرنا مجازاً بھی جائز نہیں ہے کیونکہ ثلاثۃ کا لفظ مجازی معنی لینے سے مانع ہے کہ یہاں معبر پورے پورے قرء میں قرء کا کچھ حصہ معتبر نہیں ہے اس کی دلیل وہی ابن عمر کی حدیث ہے جس سے امام شافعی نے حجت کی ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے اس طہر میں طلاق دینے کی اجازت نہیں دی جو اس حیض کے متصل تھا جس میں پہلے طلاق دی گئی تھی تاکہ بلا پورے پورے قرء کا فاصلہ ہوئے دو طلاقتیں جمع نہ ہوجائیں۔
تیسری دلیل آنحضرت (علیہ السلام) کا یہ قول ہے :
طلاق الامۃ تطلیقتان و عدتھا حیضتان یعنی باندی کی طلاقتیں دو ہیں اور اسکی عدت دو حیض ہیں) باوجودیکہ اس پر اجماع ہے کہ لونڈی حرہ کے عدت کرنے میں مخالف نہیں بلکہ فقط مقدار کے اندر دونوں میں تفاوت ہے پس اس سے ظاہر ہوگیا کہ قرء سے مراد حیض ہی ہیں۔
چوتھی دلیل یہ ہے کہ عدت فقط اس لیے شروع کی گئی ہے تاکہ رحم کا ( بچہ سے) خالی ہونا معلوم ہوجائے اور یہ حیض ہی آنے سے (معلوم) ہوتا ہے نہ کہ طہر سے اور اسی واسطے لونڈی میں استبراء کرنا حیض ہی سے واجب ہے نہ کہ طہر سے۔
پانچویں دلیل یہ ہے کہ اگر قرء بمعنی طہر ہو تو تیسرا حیض آنا شروع ہوتے ہیں مدت ختم ہوجائے گی اور اگر بمعنی حیض ہو تو جب تک عورت تیسرے حیض سے پاک نہ ہو عدت ختم نہ ہوگی پس شک سے عدت نہیں پوری ہوتی۔
ہمارا مذہب خلفاء راشدین۔ عبادلہ۔ ابی بن کعب۔ معاذ بن جبل ابی الدرداء۔ عبادہ بن صامت۔ زید بن ثابت اور ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے ابو داؤد اور نسائی نے معبد جہنی کو بھی انہی میں سے شمار کیا ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب۔ ابن جبیر۔ عطا۔ طاؤس۔ مجاہد۔ قتادہ۔ عکرمہ۔ ضحاک۔ حسن بصری۔ مقاتل۔ شریک القاضی ‘ ثوری ‘ اوزاعی ‘ ابن شبرمہ ‘ ربیعہ ‘ سدی ‘ ابو عبیدہ ‘ اسحاق سے بھی یہی مروی ہے اور اسی کی طرف امام احمد بن حنبل نے بھی رجوع کیا ہے۔ امام محمد بن حسن موطا میں فرماتے ہیں کہ ہم سے عیسیٰ بن ابی عیسیٰ خیاط نے انہوں نے شعبی سے شعبی نے نبی ﷺ کے تیرہ صحابہ سے روایت کی ہے وہ سب کے سب یہ فرماتے تھے کہ مرد اپنی بیوی کا سب سے زیادہ حقدار ہے یہاں تک کہ وہ تیسرے حیض سے ( پاک ہو کر) غسل کرلے۔ وا اللہ اعلم۔
وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ يَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِيْٓ اَرْحَامِهِنَّ ( اور عورتوں کو اس کا چھپانا جائز نہیں ہے جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا ہے) یعنی عدت پوری ہونے کی جلدی کرنے اور رجعی طلاق کا شوہری حق باطل کرنے کے لیے حمل اور حیض کو چھپانا جائز نہیں ہے اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ اس بارے میں عورت کا قول مقبول ہے۔
اِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ( اگر اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں) جز محذوف ہے یعنی اگر وہ اللہ پر ایمان رکھتی ہیں تو نہ چھپائیں کیونکہ مؤمن کی شان یہی ہے کہ حرام فعل کا مرتکب نہ ہو اس سے غرض تاکید اور توبیخ کرنی ہے ‘ وا اللہ اعلم۔
وَبُعُوْلَتُهُنَّ ( اور ان کے خاوند) بعول ‘ بعل کی جمع ہے اور تَ اس میں جمع کے لحاظ سے ہے۔ جیسا کہ عمومۃ میں اور اصل میں بعل کے معنی مالک اور سردار کے ہیں خاوند کا نام اس لیے بعل رکھ دیا گیا ہے کہ وہ بھی اپنی بیوی کا کار مختار ہوتا ہے اور ھن کی ضمیر رجعی طلاق والی عورتوں کی طرف ہے اور اس میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ جیسا کہ اگر ظاہر کو مکرر کرکے دوبارہ اس کی تخصیص کرتے یا بعولۃ مصدر ہے۔ مضاف محذوف کے قائم مقام ہے یعنی اہل بعولتہن۔
اَحَقُّ بِرَدِّھِنَّ ( ان کو ( اپنی زوجیت میں) واپس لینے کے حق دار ہیں) یعنی نکاح کی طرف رجعت کرنے کے ساتھ خواہ عورت رضا مند ہو یا نہ ہو اور افعل یہاں بمعنی فاعل ہے یعنی حقیق۔
فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْٓا اِصْلَاحًا ( اس ( انتظار کرنے کے زمانہ) میں اگر انہیں ( اس رجعت سے) اصلاح منظور ہو) نہ کہ عورت کو ستانا جیسا کہ جاہلیت کے زمانہ میں لوگ کرتے تھے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا اور جب اس کی عدت پوری ہونے کو ہوتی تھی تو پھر رجعت کرلیتا تھا بعد اس کے پھر طلاق دے دیتا تھا اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ رجعت کے لیے اصلاح کا قصد شرط ہے یہاں تک کہ اگر کسی نے ستانے ہی کے قصد سے رجعت کی تو بھی رجعت نہ ہوگی۔ بلکہ یہ ستانے سے منع کرنے اور اصلاح ( کا قصد کرنے) کی رغبت دلانے کی لیے ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ اگر انہیں اصلاح کرنی منظور ہو تو رجعت کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ رجعی طلاق سے رجعت کرنے پر سب کا اتفاق ہے اس میں اختلاف ہے کہ اس عدت میں وطی کرنا بھی جائز ہے یا نہیں۔
امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کا قول اظہر روایت میں یہ ہے کہ جائز ہے اور دوسری روایت میں ان کا قول بھی امام شافعی کے قول کے موافق ہے کہ جائز نہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ قاطع یعنی طلاق ہونے کی وجہ سے زوجیت کا علاقہ بالکل جاتا رہا۔
ہم کہتے ہیں کہ طلاق کا عمل عدت پوری ہونے تک بالاتفاق نہیں ہوتاکیون کہ دونوں (میاں بیوی) میں میراث جاری ہوتی ہے اور عورت کی رضا مندی بغیر رجعت جائز اور اس کا نان نفقہ واجب ہوتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ (عدت میں) نکاح قائم رہتا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کا قول و بعھولتھن بھی دلالت کرتا ہے وہ کہنے ہیں بعل کا اطلاق تو ہوسکتا ہے کہ با عتبار گذشتہ زمانہ کے ہو اور رد کا لفط نکاح نہ رہنے پر دلالت کرتا ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ بعل کے مجازی معنی رد کے مجازی معنی لینے سے بہتر نہیں ہیں کیونکہ اس طرح بولا جاتا ہے ردَّ البیع فی البیع اس سے بالغ کے لیے اختیار ثابت ہوجاتا ہے اس کے علاوہ جب اس آیت میں لفظ بعل اور لفظ رد کے مجازی معنی مراد لینے میں تعارض ہوا تو ان دونوں کا اعتبار کرنا ساقط ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کا قول : فامساک بمعروف اور امسکوھن بمعروف سالم رہا کیونکہ امساک ( نکاح کے) باقی رہنے پر دلالت کرتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ رد کو پہلی حالت کی طرف رد کرنے پر محمول کر لیاجائے اور وہ حالت عورت کی اس طرح ہوتی ہے کہ عدت گذرنے کے بعد وہ حرام نہ ہو پس اس وقت کوئی اشکال نہ ہوگا اس میں ائمہ کا اختلاف ہے کہ رجعت میں ( عورت سے) کہنا شرط ہے یا نہیں۔ امام شافعی کا قول یہ ہے کہ بلا عورت سے کہے رجعت نہ ہوگی ان کے اس قول کی وجہ یہ ہے کہ رجعت ان کے نزدیک بمنزلہ نئے سرے سے نکاح کرنے کے ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کا قول یہ ہے کہ جب خاوند نے اس سے صحبت کرلی یا اس کا بوسہ لے لیا یا شہوت سے اسے ہاتھ لگایا یا شہوت سے اس کی شرمگاہ کو دیکھ لیا تو ان سب سے رجعت ہوجائے گی جیسے کہ کہنے سے رجعت ہوتی ہے ان کے اس قول کی وجہ وہی ہے جو پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ ان دونوں کے نزدیک رجعت بمنزلہ جدید نکاح کے نہیں ہے بلکہ وہ پہلے ہی نکاح کو باقی رکھنے کے لیے ہے۔ لہٰذا اس میں ایسا فعل کافی ہے جو اس کے باقی رکھنے پر دلالت کرے جیسا کہ خیار ساقط کرنے میں اور امام مالک (رح) کا قول مشہور روایت میں یہ ہے کہ اگر صحبت کرنے سے رجعت کی نیت کرلی ہے تو رجعت ہوجائے گی ورنہ نہ ہوگی اس میں بھی اختلاف ہے کہ رجعت پر گواہ کرنے شرط ہیں یا نہیں۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ شرط ہے اور یہی ایک قول امام شافعی سے بھی مروی ہے اس قول کی بنا ایک آیت پر ہے جو سورة طلاق میں ہے : واشھدو ذویء عدل منکم (کہ تم اپنے میں سے دو منصف گواہ کرلیا کرو) امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک فرماتے ہیں اور ایک صحیح قول امام شافعی کا بھی یہی ہے اور ایک روایت میں امام احمد کا بھی مذہب یہی ہے کہ یہ شرط نہیں ہے اور آیت میں امر استحباب پر محمول ہے کیونکہ اگر ( رجعت پر) گواہ کرنا واجب ہے تو طلاق پر بھی کرنا واجب ہوگا کیونکہ یہ امر اللہ تعالیٰ کے قول : فارقوھن بمعروف کے ساتھ ہی ہے حالانکہ اس کا کوئی فاعل نہیں ہے اور اگر وہاں بھی واجب ہے تو بالاستقلال واجب ہوگا اور فقط رجعت کے لیے شرط نہ ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قول : فامسکوھن بمعروف اور سرحوھن بمعروف عام ہے۔
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِيْ عَلَيْهِنَّ (اور عورتوں کا حق مردوں پر ایسا ہے جیسا عورتوں پر ہے) یعنی عورتوں کے حقوق مردوں کے ذمہ ایسے ہی ہیں جیسے عورتوں کے ذمہ مردوں کے لیکن وجوب اور مطالبہ کے مستحق ہونے میں نہ کہ جنس میں ( کہ دونوں کے حقوق ایک ہی قسم کے ہوں) ۔
بِالْمَعْرُوْفِ ۠ ( دستور کے مطابق) یعنی جو شریعت سے معلوم ہو مثلاً نکاح کے حقوق ادا کرنا اور حسن سلوک سے رہنا۔ پس دوسرے کو ستانے کا ارادہ کرنا کسی کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ سب کو اصلاح ہی کرنی منظور ہونی چاہئے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی اپنی بیوی کے ( خوش کرنے کے) لیے ویسی ہی زینت کروں جیسے وہ میرے ( خوش کرنے کے) لیے زینت کرنے کو پسند کرتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولھن مثل الذی علیہن بالمعروف معاویہ قشیری کہتے ہیں میں نے (حضرت ﷺ سے) پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ہم پر ہماری بیوی کا حق کیا ہے فرمایا جب تم کھاؤ اسے بھی کھلاؤ اور جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ اور منہ پر نہ مارو اور نہ برا کہو اور نہ اس سے کشیدگی کرو ( ہاں گھر ہی گھر میں) یہ حدیث امام احمد۔ ابو داؤد۔ ابن ماجہ نے نقل کی ہے جعفر بن محمد اپنے باپ سے وہ حضرت جابر سے حجۃ الوداع کے قصہ میں نقل کرتے ہیں کہ عرفہ کے دن رسول اللہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ ان کو تم نے ( اپنے قبضہ میں) اللہ کے امان پر لیا ہے اور اللہ ہی کے ایک حکم کی وجہ سے تم نے ان کی شرمگاہوں کو حلال سمجھا ہے تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر ایسے شخص کو نہ لٹائیں جو تمہیں ناگوار گذرے اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں مارو لیکن حد سے زیادہ نہیں اور تمہارے ذمہ ان کا یہ حق ہے کہ تم دستور کے مطابق انہیں کھانا کپڑا دو یہ روایت مسلم نے نقل کی ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ان اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا و خیارکم خیارکم النساء ( یعنی سب مسلمانوں میں پورا ایماندار وہ ہے جو سب سے زیادہ خوش خلق ہو اور اچھے لوگ تم میں وہی ہیں جو اپنی بیبیوں سے اچھی طرح رہیں) یہ حدیث ترمذی نے نقل کی اور کہا ہے کہ یہ حسن صحیح ہے ابو داؤد نے بھی یہ حدیث خلقاتک نقل کی ہے اور ترمذی نے ایسی ہی روایت حضرت عائشہ صدیقہ سے نقل کی ہے اور عبد اللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ کوئی تم میں سے اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارا کرے جس طرح غلام کو مارتے ہیں۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم سب میں اچھا وہی ہے جو اپنی اہل سے اچھی طرح رہے اور میں تم سب سے اچھا ہوں جو اپنی اہل سے اچھی طرح رہتا ہوں۔ یہ حدیث ترمذی اور دارمی نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے ابوہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے میں تم میری وصیت یاد رکھنا۔ کیونکہ عورتیں پسلی سے پیدا کی گئی ہیں اور پسلی میں زیادہ ٹیڑھا پن اوپر کی طرف ہوتا ہے پس اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہوگے تو توڑ بیٹھو گے اور اگر چھوڑ دو گے تو ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ لہٰذا ان کے بارے میں میری وصیت یاد رکھنا۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ( اور مردوں کو عورتوں پر فوقیت ہے) یعنی مردوں کا حق اور مرتبہ زیادہ ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو ( اللہ تعالیٰ کے سوا) سجدہ کرنے کا حکم دیتا و عورت کو اپنے خاوند کے لیے سجدہ کرنے کا ضرور حکم دیتا بوجہ اس حق کے جو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ذمہ مردوں کا کردیا ہے۔ یہ حدیث ابو داؤد نے قیس بن سعد سے نقل کی ہے اور امام احمد نے معاذ بن جبل ؓ سے اور ترمذی نے ابوہریرہ سے اسی طرح نقل کی ہے اور بغوی (رح) نے ابو ظبیان سے اور ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس عورت کا خاوند مرتے وقت اس سے راضی ہو تو وہ ضرور بہشت میں جائے گی۔ یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے۔ طلق بن علی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس وقت خاوند اپنی بیوی کو بلائے تو اسے اس کے پاس آجانا چاہئے اگرچہ تنور پر (روٹی پکا رہی) ہو یہ حدیث ترمذی نے نقل کی ہے۔
وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ ( اور اللہ غالب ہے) یعنی جو کسی پر ظلم کرے اس سے بدلہ لینے پر قادر ہے۔
حَكِيْمٌ ( حکمت والا ہے) یعنی حکمتوں اور مصلحتوں کی وجہ سے احکام کو مشروع کرتا ہے۔