2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:97

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو شخص جبرئیل کا دشمن ہو (اس کو غصے میں مر جانا چاہیئے) اس نے تو (یہ کتاب) خدا کے حکم سے تمہارے دل پر نازل کی ہے جو پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيْلَ ( یعنی اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ جو کوئی دشمن ہو جبرئیل کا) حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! بھی میں حضور کی خدمت میں یہود کے پاس سے آیا ہوں اور بعینہٖ یہی قصہ پیش آیا جو حق تعالیٰ نے ان آیات پاک میں بیان فرمایا میرا ارادہ تھا کہ حضور سے سب واقعہ عرض کروں کہ حق تعالیٰ نے مجھ سے پہلے ہی آپ کو مطلع فرمایا دیا۔ سند اس حدیث کی شعبی تک صحیح ہے۔ کلام اس قدر ہے کہ شعبی نے حضرت عمر کو نہیں پایا اور اس حدیث کو ابن جریر نے بطریق سدی حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے اور بطریق قتادہ حضرت عمر ؓ سے بھی یہ حدیث مروی ہے لیکن یہ دونوں سندیں بھی منقطع ہیں اور اس کو ابن ابی حاتم نے ایک اور طریق سے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی حضرت عمر ؓ سے ملا اور کہا کہ یہ جبرئیل جس کو تمہارے پیغمبر ذکر کرتے ہیں ہمارے دشمن ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فوراً فرمایا : مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِلّٰہِ وَ مَلٰءِکَتِہٖ وَ رُسُلِہٖ و جِبْرِیْلَ وَ مِیْکَاءِیْلَ فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوُّہٗ ( جو اللہ کا اور اس کے فرشتوں اور پیغمبروں اور جبرئیل و میکائیل کا دشمن ہے بیشک اللہ اس کا دشمن ہے۔ “ راوی حدیث حضرت عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت حضرت عمر ؓ کی زبان پر نازل ہوئی اور ابن جریر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ نزول آیت کا سبب یہی قصہ ہے اور امام بخاری نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن سلام ؓ ( اپنے اسلام لانے سے پیشتر) اپنی زمین کا کام کاج کرتے تھے اسی حالت میں انہوں نے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں یہ سن کر آپ کی خدمت مبارک میں آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں آپ سے تین باتیں پوچھتا ہوں کہ ان کو نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ایک تو یہ کہ قیامت کی علامتوں میں سے سب سے پہلی علامت کونسی ہے اور دوسرے یہ کہ سب سے پہلے جنت والوں کا کھانا کیا ہوگا۔ تیسرے یہ کہ بچہ کبھی باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کے ہم شکل اس کی وجہ کیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے ابھی جبرئیل ( علیہ السلام) نے ان تینوں سوالوں کا جواب بتایا ہے۔ عبد اللہ بن سلام نے جبرئیل کا نام سن کر کہا کہ یہ تو فرشتوں میں سے یہود کے دشمن ہیں آپ ﷺ نے فوراً یہ آیت یعنی قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ الایۃ پڑھی۔ شیخ ابن حجر کہتے ہیں کہ ظاہر عبارت کے طرز سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حصور نے یہ آیت یہود کا زعم فاسد رد کرنے کے لیے پڑھی۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسی وقت خاص اسی واقعہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہو اور یہی قول قابل اعتماد ہے امام احمد 0 ترمذی اور نسائی نے بطریق بکیر بن شہاب حضرت سعید بن جبیر سے سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ یہودی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ابو القاسم ہم آپ سے پانچ باتیں دریافت کرتے ہیں اگر آپ نے بتادیں تو ہم جانیں گے کہ بیشک آپ نبی ہیں راوی نے تمام حدیث بیان کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہود نے ایک تو یہ دریافت کیا کہ حضرت یعقوب ( علیہ السلام) نے کیا شے اپنے اوپر حرام کرلی تھی اور پیغمبر کی علامت کیا ہے اور رعد اور اس کی آواز کا حال پوچھا اور یہ بھی پوچھا کہ اس کا کیا سبب ہے کہ عورت کے کبھی لڑکا پیدا ہوتا ہے اور کبھی لڑکی۔حضور ﷺ سب باتوں کا جواب دیتے رہے۔ آخر کار یہ پوچھا کہ آسمانی خبریں آپ کے پاس کون لاتا ہے اور آپ کا ساتھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کون ہے حضور نے فرمایا : جبرائیل ( علیہ السلام) ۔ جبرئیل کا نام سنتے ہی بولے وہ جو قتال حرب اور عذاب ہم پر لے کر اترتا تھا اور ہمارا دشمن ہے۔ اگر آپ میکائیل فرماتے کہ جو رحمت اور سبزی اور بارش لے کر آسمان سے اترتے ہیں تو بہت اچھا ہوتا۔ علامہ بغوی نے بلا سند بیان کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ علماء یہود میں سے ایک عالم عبد اللہ بن صور یا کے نام سے مشہور تھا اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ کے پاس کون سا فرشتہ آسمان سے آتا ہے حضور نے فرمایا جبرئیل۔ کہا یہ تو فرشتوں میں سے ہمارا دشمن ہے۔ اگر میکائیل ہوتے تو بیشک ہم آپ پر ایمان لے آتے جبرئیل نے بارہا ہم سے دشمنی کی باتیں کی ہیں منجملہ ان کے یہ ہے کہ ہمارے نبی کو خبر دی کہ بیت المقدس ایک شخص کے ہاتھوں تباہ و برباد ہوگا اور اس شخص کا نام بخت نصر بتایا اور ہم کو اس کے آنے اور تباہی ڈالنے کا وقت بھی بتادیا۔ ہم نے اس کے دفعیہ کی یہ تدبیر سوچی کہ ایک شخص کو بھیجا کہ بخت نصر کو پہلے ہی قتل کر ڈالے اور وہ اس وقت ایک مسکین سا لڑکا تھا اور بابل میں رہتا تھا۔ ہمارا آدمی جب پہنچا تو جبرئیل نے اس کی حمایت کی اور ہمارے آدمی کو وہاں سے الگ کردیا حتی کہ بخت نصر بڑا ہوگیا اور بیت المقدس کو برباد کیا۔ مقاتل نے فرمایا کہ یہود نے کہا تھا جبرئیل ہمارے دشمن ہیں کیونکہ ان کو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم ہوا تھا کہ نبوت ہم میں اتاریں انہوں نے غیروں کو دی۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ یہ دونوں قصے جو شان نزول میں بیان کیے گئے ہیں نزول آیت سے پیشتر واقع ہوئے ہوں اور حضرت عمر ؓ بھی یہود سے ملے ہوں اور ان سے یہ گفتگو یہود کی ہوئی ہو اور یہود بھی اسی وقت جناب رسول اللہ ﷺ سے ملے ہوں اور آپ سے یہ باتیں کی ہوں۔ ابن کثیر نے جبرئیل کو یہاں دونوں جگہ اور سورة تحریم میں جیم کے فتحہ اور راء کے کسرہ سے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور ابوبکر نے جبرئیل جیم اور راء کے فتح اور ہمزہ مک سورة سے پڑھا ہے اور حمزہ اور کسائی نے بھی اسی طرح پڑھا ہے لیکن یہ دونوں بعد ہمزہ کے ی بھی بڑھاتے ہیں اور جَبْرَءِیْلَ پڑھتے ہیں باقی قراء جیم اور راء کے کسرہ سے بغیر ہمزہ کے جِبْرِیْلَ پڑھتے ہیں۔ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰي قَلْبِكَ ( اس نے تو اتارا ہے یہ کلام آپ کے دل پر) فَاِنَّہٗ میں ضمیر ہ جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف اور نَزَّلَہٗ میں قرآن پاک کی طرف راجع ہے۔ اضمار قبل الذکر قرآن شریف کی عظمت شان کی وجہ سے ناجائز نہیں ہے کیونکہ ذہن اس طرف فورًا منتقل ہوجاتا ہے۔۔ مرجع کا ذکر پہلے ہونے کی ضرورت نہیں۔ قلب کی تخصیص اس وجہ سے فرمائی کہ وحی کو قبول کرنے والا قلب پاک نبوی ہی ہے حق عبارت یہ تھا کہ قلبی ( میرے دل پر) فرماتے لیکن بطور حکایت کلام باری تعالیٰ کے قَلْبِکَ فرمایا ( گویا حاصل یہ ہوا کہ اے محمد ﷺ جو کچھ میں کلام کروں وہ ان سے بجنسہٖ نقل کردو) ۔ بِاِذْنِ اللّٰهِ ( خدا کے حکم سے) یعنی اس کے حکم سے جبرئیل ( علیہ السلام) نے اتا را ہے۔ یہ نَزَّلَ کے فاعل سے حال ہے۔ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ وَھُدًى وَّبُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِيْنَ ( جو سچ بتاتا ہے اور اس کلام کو جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت اور خوشخبری ہے ایمان والوں کے لیے) یہ بھی نَزَّلَکے مفعول سے حال ہیں اور جواب شرط ( جو اصل میں قائم مقام جواب شرط ہے) بظاہر فَاِنَّہٗ نَزَّلَہٗ ہے۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ جو شخص جبرئیل ( علیہ السلام) کا دشمن ہو اس نے انصاف کا خون ہی کیا اور کتاب الٰہی جو اس کے پاس ہے اس کا کھلا انکار کیا کیونکہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے قرآن پاک کو اتارا اور قرآن بھی کیسا جو پہلی آسمانی کتابوں کو سچا بتانے والا ہے۔ جواب شرط کو حذف کرکے اس کی علت کو اس کے قائم مقام کردیا یا یہ مطلب ہے کہ جو شخص جبرئیل ( علیہ السلام) سے دشمنی اور عداوت باندھتا ہے تو اس کی عداوت کا سبب یہ ہے کہ اس نے قرآن پاک کو اللہ کے حکم سے آپ پر اتارا۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جواب شرط محذوف ہے۔ موقع کے مناسب جملہ مقدر ہے مثلاً جو جبرئیل ( علیہ السلام) کا دشمن ہو اس کو چاہئے کہ اپنے اسی غیظ و غضب میں مر رہے یا جو شخص جبرئیل ( علیہ السلام) کا دشمن ہو وہ میرا دشمن ہے یا میں اس کا دشمن ہوں اور آخر کی تقدیر پر آئندہ آیت یعنی فَاِنَّ اللّٰہَ عَدُوٌ لِلْکَافِرِیْنَ کا مفہوم دلالت کر رہا ہے۔
Ayah 2:98

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو شخص خدا کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کے پیغمبروں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا خدا دشمن ہے

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَمَلٰۗىِٕكَتِهٖ وَرُسُلِهٖ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰىلَ ( کہ جو دشمن ہے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور رسولوں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا) منجملہ اور فرشتوں کے خاص جبرئیل اور میکائیل کا ذکر بطور تخصیص بعد تعمیم اس لیے فرمایا کہ تاکہ ان دونوں کی فضیلت کا اظہار ہو گویا یہ فرشتوں میں داخل ہی نہیں۔ علو مرتبہ کی وجہ سے ان کی جنس ہی اور ہے۔ نیز کلام بھی ان ہی دونوں میں تھا۔ اس لیے خصوصیت کے ساتھ ان کا ذکر علیحدہ کردیا پھر یہ بھی ظاہر کرنا تھا کہ ایک کی عداوت ہو یا سب کی کفر اور اللہ کی دشمنی میں یکساں ہے۔ حفص، یعقوب اور ابو عمرو نے میکائیل کو بغیر ہمزہ اور بغیر یا کے پڑھا ہے اور نافع نے ہمزہ سے لیکن بلا ی کے مِیْکَاءِلَ پڑھا ہے اور باقی قراء نے میکائیل ہمزہ اور ی سے پڑھا ہے۔ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِيْنَ ( بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے) اس میں بجائے ضمیر کے اس ظاہر لانے کی ( یعنی موقع اس کا تھا کہ یوں فرماتے : اِنَّ اللّٰہَ عَدُوُّھُمْ یعنی بیشک اللہ ان کا دشمن ہے وجہ اس امر کو ظاہر کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دشمنی کا سبب ان کا کفر ہے۔ نیز ملائکہ اور پیغمبروں سے دشمنی رکھنا کفر ہے۔ ابن ابی حاتم نے سعید اور عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ابن صور یا یہودی نے جناب رسول ﷺ سے کہا تھا کہ تم کوئی ایسی نشانی تو اپنی نبوت کی لاتے نہیں جسے ہم بھی پہچان لیں اس پر اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:99

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور ہم نے تمہارے پاس سلجھی ہوئی آیتیں ارسال فرمائی ہیں، اور ان سے انکار وہی کرتے ہیں جو بدکار ہیں

وَلَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ۚ وَمَا يَكْفُرُ بِهَآ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ ( اور ہم نے اتاریں آپ کی طرف کھلی نشانیاں اور نہ انکار کریں گے ان کا مگر وہی جو نافرمان ہیں) الْفَاسِقُوْنَ کے معنی کفر میں بڑھنے اور سرکشی کرنے والے کے ہیں۔ کیونکہ جب کسی معصیت پر فسق کا اطلاق آتا ہے تو اس معصیت کی عظمت پر دلالت کیا کرتا ہے۔ الفاسقون میں الف لام جنس کا ہے۔ عہد کا ہونے کی صورت میں اشارہ یہود کی طرف ہوگا۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مالک بن حنیف یہودی سے ذکر فرمایا کہ دین محمدی کے بارے میں تم سے عہد و پیمان لیا گیا ہے کہ جب وہ دین ظاہر ہو اس کا اتباع کرنا مالک نے سن کر کہا کہ قسم اللہ کی ہم سے ہرگز اس قسم کا عہد نہیں لیا گیا۔ اس کی تکذیب میں اللہ تعالیٰ نے ذیل کی آیت کریمیہ نازل فرمائی۔
Ayah 2:100

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

ان لوگوں نے جب (خدا سے) عہد واثق کیا تو ان میں سے ایک فریق نے اس کو (کسی چیز کی طرح) پھینک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر بے ایمان ہیں

اَوَكُلَّمَا عٰھَدُوْا عَهْدًا ( کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں) اَوَ کُلَّمَا میں ہمزہ استفہام کا انکار کے لیے ہے اور و ایک کلام مقدر پر عطف کرنے کے واسطے ہے۔ تقدیر عبارت کی اس طرح ہے اَکْفَرُوا بالْاٰیٰت وَ کُلَّمَا عَاھَدُوْا .....( کیا آیات کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اور جب کبھی عہد کرتے ہیں .....) اَوَ کُلَّمَا عَاھَدُوا میں ضمیر فاعل سے یہود مراد ہیں اور وہ عہد جو یہود نے کیا تھا یہ تھا کہ اگر محمد ﷺ تشریف لائے تو ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔ چنانچہ ابو رجاء عطاردی کی قرأت اَوَ کُلَّمَا عُوْھِدُوْا ( جب کبھی عہد لیے گئے) بھی یہی بتلا رہی ہے کہ عہد سے مراد یہی ہے کہ نبی آخر الزماں پر ایمان لے آئیں گے ( اس قرأت سے یہ معنی اس طور سے معلوم ہوئے کہ عہد جو یہود سے لیا گیا تھا وہ بالیقین یہی تھا کہ محمد ﷺ پر ایمان لانا چناچہ دوسرے مقام پر ہے : وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاق النَّبِیِیْنَ لَمَا اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتَابٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَاءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُوْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرَنَّہٗ ( اگرچہ ذکر اس آیت میں انبیاء کے عہد کا ہے لیکن مقصود ان کی امم سے عہد لینا ہے) اور عطاء فرماتے ہیں کہ اس عہد سے مراد وہ عہد ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور یہود کے درمیان ہوئے تھے کہ مشرکین کی قتال میں اعانت نہ کریں۔ انہوں نے ان عہدوں کو پورا نہ کیا بلکہ توڑ دیا جیسا کہ بنی قریظہ اور بنی نضیر نے توڑا۔ اس تفسیر پر گویا یہ آیت : اَلَّذِیْنَ عَاھَدْتَّ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَھُمْ ( وہ لوگ کہ ان سے آپ نے عہد لیا پھر اپنے عہد کو وہ توڑتے ہیں) کے ہم معنی ہوئی۔ نَّبَذَهٗ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ ( پھینک دیا ( اور توڑ دیا) اس ( عہد) کو ایک گروہ نے ان میں سے) اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ بد عہدی کرنے والے کم تھے اس لیے آگے فرمایا۔ بَلْ اَكْثَرُھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ( بلکہ ان میں سے بہت تو ایمان ہی نہیں رکھتے) یعنی بد عہدی تو ادنیٰ درجہ کی شے ہے بہت سے تو ان میں سے اللہ تعالیٰ یا تورات پر ایمان ہی نہیں رکھتے جب ایمان ہی نہیں تو بد عہدی کرنے کو وہ کیا گناہ سمجھیں گے۔
Ayah 2:101

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس الله کی طرف سے پیغمبر (آخرالزماں) آئے، اور وہ ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتے ہیں تو جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی، ان میں سے ایک جماعت نے خدا کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا، گویا وہ جانتے ہی نہیں

وَلَمَّا جَاۗءَھُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ( اور جب آیا ان کے پاس خدا کی طرف سے رسول) رسول سے مراد عیسیٰ اور محمد ﷺ ہیں۔ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَھُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ ڎ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَاۗءَ ظُهُوْرِھِمْ ( جو ان کی کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے تو جس فرقہ کو کتاب دی گئی تھی اس نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا) مَا سے مراد تورات ہے پیٹھ کے پیچھے پھینکنے سے حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ کتاب اللہ پر عمل نہ کیا اگر عمل کرتے تو ہر نبی پر ایمان لانا پڑتا کیونکہ اس کا مقتضی تو یہی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اعراض کرنے اور احکام مندرجہ تورات ( یعنی بعد کے انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے) پر عمل نہ کرنے کو اس شخص کے ساتھ تشبیہ دی کہ جو کسی شے کو پس پشت ڈال دے اور اس کی طرف کچھ التفات نہ کرے۔ كَاَنَّھُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ( گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں) یعنی کتاب اللہ کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے ہیں گویا کہ جانتے ہی نہیں کہ یہ کتاب اللہ ہے یا یہ مطلب کہ جانتے تو ہیں کہ کتاب اللہ ہے لیکن عناد کی وجہ سے تجاہل کرتے ہیں۔
Ayah 2:102

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور ان (ہزلیات) کے پیچھے لگ گئے جو سلیمان کے عہدِ سلطنت میں شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے مطلق کفر کی بات نہیں کی، بلکہ شیطان ہی کفر کرتے تھے کہ لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور ان باتوں کے بھی (پیچھے لگ گئے) جو شہر بابل میں دو فرشتوں (یعنی) ہاروت اور ماروت پر اتری تھیں۔ اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہیں سکھاتے تھے، جب تک یہ نہ کہہ دیتے کہ ہم تو (ذریعہٴ) آزمائش ہیں۔ تم کفر میں نہ پڑو۔ غرض لوگ ان سے (ایسا) جادو سیکھتے، جس سے میاں بیوی میں جدائی ڈال دیں۔ اور خدا کے حکم کے سوا وہ اس (جادو) سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے تھے۔ اور کچھ ایسے (منتر) سیکھتے جو ان کو نقصان ہی پہنچاتے اور فائدہ کچھ نہ دیتے۔ اور وہ جانتے تھے کہ جو شخص ایسی چیزوں (یعنی سحر اور منتر وغیرہ) کا خریدار ہوگا، اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں۔ اور جس چیز کے عوض انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا، وہ بری تھی۔ کاش وہ (اس بات کو) جانتے

وَاتَّبَعُوْا ( اور پیچھے پڑگئے) یعنی یہود نے جادو کے علم پر عمل کیا اسکو سیکھا اور آپس میں ایک دوسرے کو تعلیم دی واتََّبَعُوْا کا نَبَذَ پر عطف ہے حاصل یہ ہے کہ کتاب اللہ کو تو پس پشت ڈال دیا اور سحر و شعبدہ کی کتابوں کے پیچھے پڑگئے۔ میں کہتا ہوں کہ نَبَذَ پر عطف کرنا اس کا بظاہر صحیح نہیں کیونکہ نَبَذَ مقید ایک شرط ( رسول کے آنے) کے ساتھ ہے اور واتَّبَعُوْا ....... کا اس شرط سے تعلق سمجھ میں نہیں آتا اس لیے واتََّبَعُوا کا عطف جملہ شرطیہ وَلَمَّا جَاءَ ھُمْ پر ہونا مناسب ہے۔ مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ ( جو پڑھتے تھے شیطان) تَتْلُوْاگر چہ صیغہ مضارع کا ہے لیکن حال ماضیہ کی حکایت کے طور پر بمعنی ماضی ہے اور کلام عرب میں اکثر مضارع بمعنی ماضی اور ماضی بمعنی مضارع مجازاً مستعمل ہوتا ہے اور تَتْلُو کو یا تو تلاوت بمعنی قرأت ( پڑھنا) سے مشتق کہا جائے اور یاتلوا بمعنی تبعیت ( پیچھے پڑنا) سے لیا جائے۔ تقدیراوّل پر معنی آیت کے وہ ہوں گے جو ترجمہ میں اختیار کئے گئے ہیں اور تقدیر ثانی پر معنی یہ ہوں گے کہ یہود نے اس علم کا اتباع کیا جس کا شیطان ‘ سلیمان ( علیہ السلام) کے زمانہ میں اتباع کرتے تھے۔ عَلٰي مُلْكِ سُلَيْمٰنَ (سلطنت حضرت سلیمان ( علیہ السلام) یہ تَتْلُو کی مؤخر الذکر توجیہ سے متعلق ہے اگر تَتْلُوْ میں معنی افْتَراء کے بقاعدہ تضمین لے لیے جائیں گویا حاصل یہ ہوگا کہ اس علم کا اتباع کیا جس کو شیطان یہ سمجھ کر پڑھتے تھے کہ اس علم سے سلیمان ( علیہ السلام) کی سلطنت قائم ہے اس تفسیر پر وَ مَا کَفَرَ سُلِیْمَنٌ کو ما قبل سے پورا ارتباط ہوجائے گا اور یا علی کو بمعنی فی لے لیا جائے معنی علیٰ مُلْکِ سُْلَیْمٰنَ کے یہ ہوں گے کہ ” سلیمان ( علیہ السلام) کے عہد حکومت میں “ اس تقدیر پر تضمین وغیرہ کے تکلف سے نجات ہوگی۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ سدی نے کہا ہے کہ زمانہ گزشتہ میں شیطان آسمان پر چڑھا کرتے اور ملائکہ جو آپس میں آئندہ واقعات کے متعلق گفتگو کرتے سنتے اور سن کر اس میں بہت سا اپنی طرف سے جھوٹ ملا کر کاہنوں سے کہتے اور کاہن لوگوں کو خبر دیتے لوگ ان اخبار کو لکھ لیتے تھے حتی کہ بنی اسرائیل میں یہ بات پھیل گئی تھی کہ جن علم غیب جانتے ہیں۔ یہ قصہ دیکھ کر سلیمان ( علیہ السلام) نے ایسی تمام کتابوں کو جمع کیا اور انہیں ایک صندوق میں رکھ کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیا اور حکم دیا کہ خبردار آج کے بعد میں یہ بات کسی سے نہ سنوں کہ جن علم غیب جانتے ہیں اگر میں نے پھر کسی سے یہ بات سنی تو اس کی گردن ماروں گا جب سلیمان ( علیہ السلام) نے وفات پائی اور وہ علماء بھی رحلت کر گئے جو سلیمان کے اسرار اور اس دفن کے قصہ سے واقف تھے اور بعد کے لوگ پچھلوں کے جانشین ہوئے تو ایک شیطان آدمی کی صورت میں بنی اسرائیل کے چند آدمیوں کے پاس آیا اور کہا کہ میں تمہیں ایسا خزانہ نہ بتاؤں کہ جسے تم لوگ تمام عمر نہ کھا سکو اس کرسی کے نیچے سے کھود و لوگوں نے کھودنا شروع کیا اور وہ شیطان الگ جا کھڑا ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ کرسی کا یہ خاصہ تھا کہ جو شیطان اس کے پاس آتا فوراً جل جاتا تھا۔ لوگوں نے اس جگہ کو کھودا اور وہ کتب مدفو نہ نکالیں۔ شیطان نے کہا سلیمان ( علیہ السلام) جن و انسان اور پرند چرند کو اسی کے ذریعہ سے مسخر کرتے تھے۔ شیطان تو یہ بتا کر اڑ گیا اور لوگوں میں یہ بات پھیل گئی کہ سلیمان ( علیہ السلام) ساحر تھے اور بنی اسرائیل نے وہ کتابیں لے لیں۔ اسی واسطے اکثر یہود میں سحر پایا جاتا ہے۔ جب ہمارے پیغمبر ﷺ رونق افروز عالم ہوئے اللہ تعالیٰ نے سلیمان ( علیہ السلام) کی قرآن پاک میں برأت ظاہر فرمائی۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے جو دفن کیا تھا وہ سحر کی کتابیں تھیں اور جو شیطان کاہنوں کو ملائکہ سے روزانہ حوادث کے متعلق خبریں دیتے تھے وہ نہ تھیں کیونکہ سالہا سال گزرنے کے بعد وہ خبریں کیا مفید ہوسکتی ہیں اور کلبی فرماتے ہیں کہ شیطانوں نے سحر اور شعبدہ کی کتابیں آصف بن برخیا کی زبانی لکھیں پھر ان کو سلیمان ( علیہ السلام) کے مصلے کے نیچے دفن کردیا اور سلیمان ( علیہ السلام) کو اس کی خبر نہ ہوئی جب سلیمان ( علیہ السلام) کی وفات ہوئی تو شیطانوں نے ان کتابوں کو نکالا اور لوگوں سے کہا کہ سلیمان ( علیہ السلام) نے اسی کی بدولت تمہیں مسخر کیا تھا۔ یہ افسوں شیاطین کا عوام کالانعام پر تو چل گیا لیکن جو علماء صلحاء تھے انہوں نے کہا کہ توبہ توبہ یہ سلیمان ( علیہ السلام) کا علم نہ تھا عوام اور رذیل لوگ اس پر گرے اور اسے سیکھنا شروع کیا اور کتب الٰہیہ کو جو انبیاء (علیہ السلام) نے پہنچائی تھیں چھوڑ بیٹھے اور سلیمان ( علیہ السلام) ساحر مشہور ہوگئے حتی کہ قرآن پاک میں حق تعالیٰ نے ان کی برأت ان لفظوں میں بیان فرمائی۔ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمٰنُ ( اور نہیں کفر کیا سلیمان نے) یعنی سلیمان ( علیہ السلام) نے سحر نہیں کیا کہ اس سے کافر ہوتے سحر کو کفر سے اس لیے تعبیر فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ سحر کفر ہے اور نبی کفر سے معصوم ہوتا ہے۔ وَلٰكِنَّ الشَّيٰطِيْنَ كَفَرُوْا ( لیکن شیطانوں نے کفر کیا) ابن عامر اور حمزہ اور کسائی نے ولٰکن کو تخفیف نون اور شیاطین کے نون کو رفع سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے نون مشدد اور شِیَاطِیْنَ کے نون کو نصب سے پڑھا ہے اور ایسا ہی اختلاف وَ لٰکِنَّ الْبِرَّ اور سورة انفال میں وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَھُمْ اور وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی میں ہے۔ يُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ ( کہ سکھاتے تھے لوگوں کو جادو 1 ؂) یہ کَفَرُوْا کی ضمیر مستترھم سے حال ہے۔ سحر ایسے الفاظ اور اعمال کے جاننے کا نام ہے جن کے ذریعہ سے انسان کو شیاطین سے قرب ہوجاتا ہے اور شیاطین اس کے مسخر ہوجاتے ہیں اور اس کی منشا کے مطابق امداد کرتے ہیں اور وہ الفاظ آدمی کے نفس اور بدن میں مرض اور موت اور جنون کا اثر پیدا کردیتے ہیں اور کان اور آنکھ میں خلاف واقع امر کا خیال جما دیتے ہیں جس سے آدمی ایک شے کو دیکھتا ہے حالانکہ وہ شے کچھ اور شے ہوتی ہے جیسا کہ فرعون کے ساحروں نے رسیاں اور عصا ڈال کر موسیٰ ( علیہ السلام) اور حاضرین کے خیال میں جما دیا تھا کہ یہ چلتے سانپ بچھوں ہیں اور یہ جملہ تاثیرات حق تعالیٰ نے آزمائش کے لیے پیدا کردی تھیں۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ سحر کا وجود اہل سنت کے نزدیک حق ہے لیکن اس پر عمل کرنا کفر ہے اور شیخ ابو منصور فرماتے ہیں کہ مطلقاً یہ کہنا کہ سحر کفر ہے ٹھیک نہیں بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اگر اس کے اندر کوئی ایسی بات ہو کہ جس سے کسی شرعی بات کی تردید ہوتی ہے تو البتہ کفر ہے ورنہ کفر نہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ سحر کی تاثیرات عجیب ہیں خلاف واقع کو متخیل کردیتا ہے۔ تندرست کو مریض کردیتا ہے اور بسا اوقات اس کے اثر سے قتل تک نوبت پہنچ جاتی ہے حتی کہ جس نے اس کے ذریعہ سے کسی کو قتل کیا ہے اس پر قصاص واجب ہوجاتا ہے۔ ختم ہوا قول امام شافعی کا۔ امام شافعی کے اس قول سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ سحر کا بعض حصہ تو کفر اور بعض نہیں اور مدارک میں ہے کہ جو سحر کفر ہے اسے اگر کوئی مرد سیکھے تو حنفیہ کے نزدیک قتل کردیا جائے۔ عورت اگر سیکھے تو قتل نہ کی جائے جیسا کہ مرتد کے بارے میں یہی حکم ہے اور جو سحر کفر نہیں ہے لیکن ایسا ہے کہ اس سے کسی کو ہلاک کرسکتے ہیں تو ایسے سحر سیکھنے والوں کا حکم قاطع الطریق ( رہزن) کا سا ہے اس میں مرد اور عورت برابر ہیں۔ دونوں کو سزا دی جائے اور اگر ساحرتوبہ کرے تو توبہ اس کی قبول کی جائے گی خواہ وہ سحر کفر ہو یا نہ ہو۔ جس نے یہ کہا ہے کہ ساحر کی توبہ مقبول نہیں اس نے غلطی کی دیکھو فرعون کے ساحروں کی توبہ مقبول ہوگئی حالانکہ وہ کفار تھے۔ میں کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ شانہ نے جو سحر کو کفر سے تعبیر فرمایا ہے اور نیز فرمایا ہے : وَ مَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ وَلٰکِنَّ الشَّیَاطِیْنَ کَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاس السِّحْرَ ( اور نہیں کفر کیا سلیمان ( علیہ السلام) نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا کہ لوگوں کو سحر سکھاتے تھے) اور آیت کریمہ : وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرَاہُ مَالَہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ خَلَاقٍ ( اور بیشک وہ جان چکے تھے کہ جس نے اس سحر کو خریدا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، ان جملہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ سحر کے کل یا اکثر الفاظ و اعمال کفر کے موجب اور شرائط ایمان کے بالکل مخالف ہیں اور ایسا ہی ہونا بھی چاہئے کیونکہ شیطان آدمی سے جب ہی راضی ہوتا ہے جبکہ وہ کفر کرے اور بغیر راضی ہوئے اس کی تسخیر اور اس سے تقرب ممکن نہیں۔ رہا امام شافعی اور شیخ ابو منصور کا قول ( کہ سحر کے کل اعمال و الفاظ کفر نہیں ہیں) سو اس کی بنا احتمال عقلی پر ہے ( یعنی ممکن ہے کہ سحر کا کوئی فرد ایسا نکلے کہ اس کے الفاظ و اعمال کفر نہ ہوں) فائدہ جاننا چاہئے کہ جو شخص بذریعہ سیفی (تلوار ‘ 12) یا دعا یا بذریعہ اسماء جلالیہ ایسے آدمی کو قتل کر ڈالے کہ جس کا خون حلال نہیں یا اس کی نعمت بدنی یا مالی کو ضائع کردے تو وہ اگرچہ کافر نہیں لیکن فاسق قطعاً ہے اور اس کا حکم رہزنوں جیسا ہے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَالَّذِینَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَیْرِ مَااکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُھْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا ( جو لوگ مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کو بلا قصور ستاتے ہیں وہ بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہیں) اور جناب رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَ یَدِہٖ ( یعنی مسلمان تو وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان بچیں 1 ؂) اور بلعم بن باعور کا موسیٰ ( علیہ السلام) کے لیے بد دعا کرنا بھی اسی نوع سے ہے۔ بلعم بن باعور کا پورا قصہ سورة اعراف کی آیت : وَاتْلُ عَلَیْہِمْ نَبَأَ الَّذِیْالایۃ کی تفسیر میں آئے گا۔ وَمَآ اُنْزِلَ عَلَي الْمَلَكَيْنِ ( اور اس علم پر جو دو فرشتوں پر اترا تھا) اس کا یا تو السِّحْرَ پر عطف ہے یا مَا تَتْلُوْ پر اور معطوف و معطوف علیہ سے ایک ہی شے مراد ہے۔ عطف یا تو تغایر اعتباری کی وجہ سے ہے اور یا اس لئے کہ معطوف یعنی وَ مَا اُنْزِلَ سے اور نوع سحر کی مراد ہے جو پہلے سے زیادہ قوی ہے۔ بِبَابِلَ ( بابل میں) یا تو المَلَکَیْنِ کا ظرف ہے یا حال اور یا اُنْزِلَ کی ضمیر سے حال ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بابل کوفہ کی زمین کا نام ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ بابل جہل و ماوند ہے واللہ اعلم۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ منجملہ دیگر علوم آسمانیہ کے سحر بھی آسمانی علم ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کیلئے اترا ہے کیونکہ ھادی و مضل تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس پر کوئی یہ کہے کہ حق تعالیٰ نے تو سحر سے بچنے کا حکم فرمایا ہے بھلا وہ اسے کس طرح نازل فرماتا۔ تو اس کا جواب یہء ہے کہ یہ کچھ ضرور نہیں کہ جو نازل ہو اور جس کا ارادہ ہو وہ شرعاً بھی مامور بہ ہو۔ ارادہ الٰہی جس کے متعلق ہوتا ہے وہ اور شئے ہے اور امرشرعی کا تعلق دوسری شے ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کا اپنے دو فرشتوں کے ذریعہ سے امتحان فرمایا جو شقی ازلی تھا وہ سحر سیکھتا اور اللہ کے ساتھ کفر کرتا اور جو سعید ازلی تھا وہ ترک کردیتا اور ایمان پر باقی رہتا اور وہ دونوں فرشتے سحر کے بطلان کو ظاہر کردیتے اس سے بچنے کا حکم فرماتے۔ واللہ اعلم۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ : وَ مَا اُنْزِلَ میں ما نافیہ ہے اس تقدیر پر آیت کی توجیہ اس طرح ہوگی کہ یہود کہا کرتے تھے کہ سحر کا علم آسمان سے فرشتوں پر اترا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انکے زعم فاسد کو رد فرمایا اور معنی آیت کے یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ نے سحر کو فرشتوں پر نازل نہیں فرمایا اور مَا اُنْزِلَ کا عطف اس تفسیر پر مَا کَفَرَ سُلَیْمَانُ پر ہوگا اور بِبَابِلَ ۔ یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ کے متعلق ہوگا۔ ھَارُوْتَ وَمَارُوْتَ ( ہاروت و ماروت پر) اَلْمَلَکَیْنِکا تقدیر اول پر عطف بیان ہے اور یہی ظاہر ہے اور ما کے نافیہ ہونے کی صورت میں الشَّیَاطِیْنَسے بدل البعض ہے۔ وَمَا يُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ ( اور نہ سکھاتے وہ ہاروت و ماروت کسی کو مِنْ اَحَدٍمیں مِنْ زائدہ ہے۔ حَتّٰى يَقُوْلَآ ( جب تک کہ ان سے یہ نہ کہہ دیتے) یعنی خیر خواہی کے طور پر وہ فرشتے کہتے۔ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ (کہ ہم تو ذریعہ آزمائش ہیں) فَلَا تَكْفُرْ ( تو کافر مت ہو) یعنی سحر مت سیکھ تو اس کے سبب کافر ہوجائے گا نتیجہ ( کفر) کا اطلاق سبب ( سحر) پر کیا گیا ہے بعض مفسرین نے فرمایا ہے وہ فرشتے سیکھنے والے کو سات دفعہ یہی نصیحت کرتے تھے۔ عطا اور سدی فرماتے ہیں جب وہ کسی طرح نہ مانتا تو کہتے اچھا جا فلاں جگہ کی راکھ پر تو پیشاب کردے وہ پیشاب کرتا پیشاب کرتے ہی اس کے اندر سے ایک چمکتا ہو انور نکلتا اور آسمان کی طرف چلا جاتا یہ ایمان و معرفت تھی اور آسمان سے ایک سیاہ شے دھوئیں جیسی آتی اور کانوں کے ذریعہ اندر اتر جاتی اور یہ اللہ کا غضب اور کفرہوتا تھا نعوذ باللہ منہ اور تقدیر ثانی یعنی ما کے نافیہ ہونے کی صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ شیطان اس سیکھنے والے کو سکھاتے نہ تھے جب تک یہ نہ کہ دیتے کہ ہم تو امتحان فتنہ میں پڑے ہوئے ہیں تو ہمارے جیسا کیوں ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ کہنا نصیحت ہے اور شیطان سے اس کا صدور ممکن نہیں اس واسطے ہم نے کہہ دیا کہ تفسیر اول ظاہر ہے۔ فَيَتَعَلَّمُوْنَ ( پھر سیکھتے تھے) ضمیر ھم مستتر مِنْ اَحَدٍ سے جو عموم سمجھا گیا ہے۔ اس کی طرف راجع ہے۔ مِنْهُمَا ( ان دونوں سے یعنی ہاروت ماروت سے اور فَیَتَعلَّمُوْنَ کا عطف یا تو جملہ مقدر پر ہے اور تقدیر عبارت کی یہ ہے فَیَابُوْنَ فَیَتَعَلَّمُون یعنی وہ لوگ انکار کیے جاتے تھے اور یا یُعَلِّمُوْنَ النّاس السِّحْرَپر عطف ہے۔ مَا يُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهٖ ( وہ باتیں کہ جدائی ڈال دیں ن کی وجہ سے میاں بی بی میں) یعنی سحر کی وہ قسم تعلیم کرتے تھے جس سے میاں بی بی میں بغض اور عداوت واقع ہوجائے۔ وَمَا ھُمْ بِضَاۗرِّيْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ( اور وہ نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے اس سے کسی کو بغیر حکم خدا کے) ھم کی ضمیر یا تو ساحروں کی طرف اور یا شیاطین کی جانب راجع ہے۔ مِنْ اَحَدٍ میں من زائد ہے اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ ( یعنی ساحر یا شیطان سحر کے ذریعہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے مگر اللہ کی قضا اور قدر اور مشیت سے کیونکہ اسباب دنیاویہ سب کے سب عادی و ظاہر ہیں موثر بالذات نہیں عادۃ اللہ یونہی جاری ہے کہ جب ان اسباب کا وجود ہوتا ہے تو تاثیر ان کے بعد پیدا کردیتے ہیں۔ وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ ( اور سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچا وے) مَایَضُرُّھُمْ سے مراد سحر ہے اور ضرر اس کا ظاہر ہے کہ کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ( اور نفع نہ دے) اس طرف اشارہ ہے کہ علوم غیر نافعہ جیسے طبعی (1) [ طبعی علوم ہوں یا ریاضی یا الٰہی بہر حال غیر مفید اور بیکار علوم کی تحصیل کی عقل سلیم بھی اجازت نہیں دیتی۔ قاضی صاحب نے ایسے ہی علوم کی تحصیل کو شرعاً مکروہ قرار دیا ہے لیکن وہ طبیعات اور ریاضیات جو عمرانیات کی جان ہیں، ہندسہ، حساب، علم الاشکال، معن دنیا ت، ارضیات، نباتات، اور خواص کائنات عنصریہ۔ ان سب کی تحصیل اگر اصول اسلام کو توڑنے اور تعلیم اسلام کے خلاف دلائل قائم کرنے کے لیے ہو تو ظاہر ہے کہ حرام ہوگی اسلام کے خلاف کوئی کوشش جائز نہیں ہوسکتی۔ لیکن اگر اسلامی افکار و مسائل کی تنقیح اور اثبات کے لیے ہو تو نہ فقط یہ کہ مکروہ نہیں بلکہ مستحب، بلکہ بعض مواقع پر واجب ہوجاتی ہے علوم لسانیہ میں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ حلت و حرمت کی بنا اغراض و غایات کے اختلاف پر ہے جیسی غایت و غرض ویسا ہی حکم۔ رہے الٰہیات فلسفیہ تو ظاہر ہے کہ ان کی بناء بھی فساد علل پر ہے۔ اندھیرے میں پتھر پھینکنا لا حاصل غیر مفید بلکہ بعض وقت ضرر رساں ہوتا ہے۔ ہاں اگر افکار فلسفیہ کی تحصیل عقائد اسلامیہ کی صداقت ثابت کرنے کے لیے کی جائے اور منکرین اسلام کے اعتراضات کو دفع کرنا مقصود ہو تو ان کی تحصیل میں بھی کوئی گراہت نہ ہوگی۔ اسی لیے متکلمین اسلام نے مشائبہ اور اراقیہ کے فلسفہ کو حاصل کیا تھا تاکہ اس کو حاصل کرکے اس کی تردید کریں۔ چننچہ علم کلام کی وضع کی اصل وجہ یہی تھی۔ واللہ اعلم ] ریاضی وغیرہ کا سیکھنا سبب وقت برباد ہونے کے مکروہ ہے۔ اسی واسطے جناب رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ ( یعنی اے اللہ میں علم غیر نافع سے پناہ مانگتا ہوں۔ فائدہ علم غیر نافع کی دو قسمیں ہیں ایک قسم تو وہ ہے جو کسی کے لیے بھی نافع نہ ہو۔ کیونکہ اس سے نفع متصور ہی نہیں جیسے طبعی اور مثل اس کے اور دسری قسم وہ ہے کہ اس کا عالم جب اس پر عمل نہ کرے تو نافع نہ ہو واللہ اعلم اور جو علم ضرر کرنے والے ہیں جیسے سحر و شعبدہ اور فلاسفہ کے الٰہیات بلا دلیل صریح ان کی حرمت میں تو شک ہی نہیں۔ علامہ بغوی نے ابن عباس ؓ ، کلبی اور قتادہ ؓ سے ہاروت ماروت کے قصہ کو اس طرح نقل کیا ہے کہ جب فرشتوں نے دیکھا کہ اولاد آدم کے دفتر کے دفتر گناہوں کے آسمان پر جاتے ہیں تو بطور طعن کہا کہ دیکھو یہ کیسے بندے ہیں اپنے مالک حقیقی کی نافرمانی کرتے ہیں حق تعالیٰ نے فرمایا اگر میں تمہیں زمین پر اتار دوں اور جو قویٰ ان میں رکھے ہیں وہی اگر تم میں بھی پیدا کردوں تو تم بھی ایسے ہی گناہوں میں مبتلا ہوجاؤ۔ فرشتوں نے عرض کیا خداوندا تو پاک ہے ہم ہرگز تیری نافرمانی نہ کریں گے حکم ہوا کہ جو تم میں بہت اچھے ہیں انہیں منتخب کرلو۔ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت اور عزرائیل کو منتخب کیا اللہ تعالیٰ نے ان میں شہوات کو پیدا کردیا اور حکم کیا زمین پر جاؤ اور لوگوں کے مقدمات عدل کے ساتھ فیصل کیا کرو اور شرک خون ناحق اور زنا اور شراب سے ان کو منع فرمایا۔ حسب ارشاد خداوندی تینوں فرشتے زمین پر آئے اور اپنی خدمات میں مصروف ہوئے۔ ایک مرتبہ عزرائیل کے قلب میں شہوت پیدا ہوئی۔ اسی وقت حق تعالیٰ سے معافی چاہی اور توبہ کرکے دعا کی خداوندا مجھے تو آسمان کی طرف اٹھا لیجئے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اس کے بعد عزرائیل اس داعیہ معصیت کے کفارہ میں چالیس برس سجدہ میں پڑے رہے اور اب تک ندامت کی وجہ سے سر نگوں رہتے ہیں۔ اب رہے ہاروت و ماروت دونوں دن بھر تو لوگوں میں برابر حکومت کرتے رہتے شام کو اسم اعظم کے ذریعہ آسمان پر چلے جاتے ابھی ایک مہینہ بھی اس حالت میں نہ گزرا تھا کہ امتحان خداوندی پیش آیا۔ وہ یہ ہوا کہ ایک عورت مسماۃ زہرہ اور اس کے شوہر کا قصہ ان کے اجلاس میں پیش ہوا اور یہ زہرہ اہل فارس کی ملکہ نہایت حسینہ جمیلہ تھی یہ اسے دیکھتے ہی فریفتہ ہوگئے اور اس کو پھسلانا شروع کیا اس نے انکار کیا اور کہا جب تک تم بت پرستی اختیار نہ کرو اور میرے خاوند کو قتل نہ کرو اور شراب نہ پیو۔ میں تمہارے پاس نہیں آسکتی غرض کہ پہلے اس نے شراب پیش کی وہ انہوں نے پی۔ پھر ان سے قتل کرایا پھر ان کے ساتھ ہم بستر ہوئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے زہرہ کو تو مسخ کر کے شہاب بنا دیا اور ان پر یہ گزری کہ جب شام ہوئی اور حسب معمول انہوں نے آسمان پر چڑھنا چاہا تو بازوؤں نے یاری نہ دی۔ اس زمانہ میں حضرت ادریس علی نبینا و (علیہ السلام) زمین پر نبی تھے یہ دونوں فرشتے ان کی خدمت میں آئے اور دعا اور شفاعت طلب کی بارگاہِ الٰہی سے حکم ہوا کہ ان معاصی پر تمہیں عذاب تو ضرور ہوگا لیکن اس قدر تخفیف کی جاتی ہے کہ دنیوی اور اخروی عذاب میں تمہیں اختیار دیا جاتا ہے جو چاہو پسند کرلو۔ فرشتوں نے دنیوی عذاب کو بہت سہل و آسان سمجھا کیونکہ یہاں کا عذاب تو عنقریب منقطع ہونے والا ہے۔ (معالم التنزیل ‘ ج 1) چناچہ اب تک وہ بابل میں الٹے ایک آگ بھرے کنوئیں لٹکے ہوئے ہیں۔ ابن راہویہ اور ابن مردویہ نے علی ؓ سے روایت کیا ہے جناب رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ زہرہ پر لعنت کرے کہ اسی نے ہاروت ماروت دو فرشتوں کو فتنہ میں ڈالا۔ واللہ اعلم۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قصہ اخبار احاد بلکہ روایات ضعیفہ شاذہ سے ہے اور قرآن پاک اس پر کسی طرح دلالت نہیں کرتا اور اس قصہ میں بعض روایت تو ایسی بےسروپا ہیں کہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہیں مثلاً ربیعہ بن انس سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زہرہ کو مسخ کرکے ستارہ بنا دیا تھا اور وہ اسم اعظم سیکھ کر آسمان پر چڑھ گئی اور ہاروت و ماروت باوجود اس کے کہ زہرہ کے معلم تھے اور ارتکاب معصیت میں اس کی برابر تھے بلکہ بوجہ سکر کے زہرہ سے معصیت میں کم تھے لیکن وہ آسمان پر نہ چڑھ سکے۔ واللہ اعلم محمد بن یوسف صالحی سبیل الرشاد میں بحوالہ شیخ کمال الدین فرماتے ہیں کہ علماء نے اس قصہ کو صحیح نہیں مانا اور نہ حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ اور ابن عباس ؓ سے اس کی روایت کو ثابت سمجھا۔ شیخ کمال الدین فرماتے ہیں کہ اس قصہ کے متعلق تمام روایتیں سر تاپا موضوع ہیں اس بارے میں جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی روایت صحیح نہ سقیم مروی نہیں اور فرمایا کہ یہ روایتیں یہود کی گھڑت اور ان کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔ صالحی فرماتے ہیں کہ جب یہ قصہ محض بےاصل اور گھڑت ٹھیرا تو اس آیت کی تفسیر اس تقدیر پر کچھ اور ہونی چاہئے سو وہ یہ ہے کہ علماء نے اس کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ جب سحر اور ساحروں کا شیوع ہوا اور معجزہ اور کرامات اور سحر میں اشتباہ ہوگیا تو حق تعالیٰ نے دو فرشتے اس غرض سے بھیجے کہ لوگوں کا امتحان کریں اور لوگوں کو سحر کی حقیقت بتادیں تاکہ حقیقۃ الامر معلوم ہوجائے اور سحر اور معجزہ و کرامات میں فرق معلوم ہو۔ چناچہ جو شخص ان کے پاس سحر سیکھنے آتا ہے۔ اس کو اول ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم آزمائش کے لیے آئے ہیں چناچہ جو شخص اس غرض سے سیکھتا تھا کہ اس سے پرہیز کرے اور معجزہ و کرامات میں فرق معلوم کرے تو وہ حق تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ اور مقبول ہوتا تھا اور جو اس لیے نہ سیکھتا تو اس کی کفر تک نوبت پہنچتی اسی واسطے فرشتے اول ہی کہ دیتے تھے۔ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَۃٌ فَلَا تَکْفُر ( ہم تو آزمانے کے لیے ہیں تو کافر نہ بن) پھر اسے بتاتے کہ جب ساحر فلاں کام کرتا ہے تو میاں بی بی میں عداوت اور بغض پیدا ہوجاتی ہے اس تفسیر کے موافق فرشتوں کا یہ فعل سراسر حق تعالیٰ کی طاعت ہوگی اور ملائکہ کی عصمت متفقہ کے خلاف نہ ہوگا۔ علامہ بیضاوی نے فرمایا ہے کہ یہ قصہ یہود سے لیا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ سلف صالحین کے رموز سے ہو اور اس کا حال ارباب بصیرت پر مخفی نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ حل اس کا یہ ہے کہ مَلَکَیْنِ سے مراد قلب اور روح اور عالم امر کے تمام لطائف ہیں اور صرف دو کو یا تو اس لیے ذکر فرمایا کہ یہ بتانا منظور ہے کہ وہ لطائف متعدد ہیں ان کی تعداد بتانی مقصود نہیں اور یا اس واسطے کہ بعض سالکوں پر منجملہ لطائف ستہ یہ دو ہی منکشف ہوئے ہیں پس اس سالک نے لفظ ملکین سے اپنے مکشوف ( قلب اور روح) سے کنایہ کیا اور عورت جس کا نام زہرہ تجویز کیا ہے اس سے مراد نفس ہو جو کہ عناصر سے پیدا ہوا ہے اور وجہ اس کنایہ کی یہ ہے کہ جس طرح اس قصہ میں اس عورت نے ملکین کو گناہ کا حکم کیا تھا اسی طرح یہ نفس امارہ بھی برائی کا حکم کرتا ہے اور جب حق تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے عالم امر کے لطائف کو نفس کے ساتھ مزدوج فرمادیا اور ان میں محبت اور عشق رکھ دیا تو یہ لطائف تاریک اور مکدر اور اپنے خالق سے غافل ہوگئے چناچہ اس تاریک قالب میں جو شہوات کی آگ سے بھرا ہوا ہے یہ لطائف محبوس اور اوندھے پڑے ہیں۔ بابل کے آگ بھرے ہوئے کنوے سے یہی مراد ہے پھر جب انسان مرجائیں گے اور قیامت قائم ہوگی تو اگر کچھ نور ایمان ہے تو ان لطائف کو اس قید خانہ سے نجات ہوجائے گی۔ اب رہا نفس سو اگر وہ نیک بندوں کا ہے تو لطائف کے قرب و مجاورت اور ریاضات تکلیفیہ اور اسم اعظم یعنی اللہ کے نام پاک کی بدولت آسمان پر ایسا پرواز کر جائے گا گویا چمکتا ہوا روشن سفید ستارہ ہے اور اسے اس طرح خطاب کیا جائے گا۔ یَااَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَءِنَّۃُ ارْجِعِیْٓ الیٰ رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِی (اے نفس مطمئنہ اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی سو داخل ہو میرے خاص بندوں میں اور داخل ہو میری بہشت میں) نفس اگرچہ ابتداء میں خبیث اور شریر تھا لیکن اپنی قوت استعدادیہ کی بدولت جو کہ اس خاک دان میں رکھی ہے لطائف پر بھی فوق لیا گیا۔ جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ جاہلیت میں اچھے ہیں وہ اسلام میں بھی اچھے ہیں جب کہ دینی سمجھ رکھتے ہوں اس حدیث کو امام مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ وَلَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىھُ ( اور بیشک وہ ( یہود) جان چکے تھے کہ جس نے اس ( سحر) کو خریدا) یعنی سحر کو کتاب اللہ کے عوض لیا۔ لَمَنِ اشْتَرَاہ میں لام ابتداء کا ہے اس لام نے علموا کو عمل سے معلق کردیا ہے۔ مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ڜ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ( اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور بیشک وہ شے بہت بری ہے جس کے عوض وہ اپنی جان بیچ رہے ہیں اگر جانتے ہوتے) ( تو نہ خریدتے) لو کا جواب محذوف ہے کلام سابق اس پر دال ہے۔ اگر کوئی بطور شبہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو تاکید سے فرمادیا کہ وَلَقَدْ عَلِمُوْا ( بیشک جان چکے) تو پھر لو کانوا یعلَمُوْن (اگر جانتے) کے کیا معنی ہوں گے۔ اس شبہ کے علماء نے مختلف جواب دئیے ہیں۔ بعض نے یہ فرمایا ہے کہ جب انہوں نے اپنے علم پر عمل نہ کیا تو گویا جانا ہی نہیں اور بعض نے فرمایا ہے کہ جس علم کا اثبات کیا ہے وہ عقل طبعی اور اپنے فعل کی برائی اور اس پر عقاب کے مرتب ہونے کا علم اجمالی ہے اور جس کی نفی کی ہے وہ قیامت کے عذاب لاحق کی حقیقت کا علم ہے۔ میرے نزدیک عمدہ جواب یہ ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں ایک علم تو وہ جو سطحی ہو ظاہر قلب سے اس کا تعلق ہو اس علم کا مقتضیٰ عمل نہیں ہے اور یہود کا جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنے بیٹوں کی طرف پہچاننا بھی اس قبیل سے تھا کہ یہ پہچان ان کو کچھ نافع نہ تھی ان کی بعینہ ایسے ہی مثال تھی جیسے گدھے پر دفتر لدے ہوں اور دوسرا علم وہ جو قلب کی تہ میں جا گھسے اور اس کو منور کردے اور نفس کے اندر اطمینان بخشے آیت کریمہ : اِنَّمَا ایَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلٰمَاءُ ( اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے علما ہی ڈرتے ہیں) میں یہی علم مراد ہے اور حدیث شریف میں جو آیا ہے کہ جناب سرورکائنات ﷺ نے فرمایا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں آسمان والے ان کو دوست رکھتے ہیں اور جب وہ مرتے ہیں تو قیامت تک دریا کی مچھلیاں ان کے لیے استغفار کرتی ہیں تو اس حدیث کے مصداق اسی علم کے عالم ہیں۔ علم کی ان دونوں قسموں کی طرف جناب رسول اللہ ﷺ نے اشارہ بھی فرمایا ہے۔ فرمایا ہے کہ بہترین بندے علماء حق ہیں اور بدترین لوگ برے علماء ہیں اسی حدیث کو دارمی نے احوص بن حکیم ؓ سے روایت کیا ہے اور حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ علم دو ہیں ایک علم دل میں ہے اور وہ نافع ہے اور دوسرا علم محض زبان پر ہے۔ یہ علم آدمی کے خلاف اللہ کی طرف سے حجت ہے اس کو بھی دارمی نے روایت کیا ہے۔
Ayah 2:103

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے

وَلَوْ اَنَّھُمْ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ : اور اگر وہ (یہود) ایمان لے آتے (محمد ﷺ پر) اور (اللہ کے عذاب سے معاصی اور سحر کو چھوڑ کر) بچتے تو ان کا بدلہ) کسی فعل کے بدلہ کو ثواب اور مثوبہ اس لیے کہتے ہیں کہ ثاب یَثُوْبُ کے معنی لوٹنے کے ہیں چونکہ نکو کار بندہ بھی نیک کام کے بدلہ کی طرف رجوع کرتا ہے اس لیے اس بدلہ کو بھی ثواب کہنے لگے۔ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَيْرٌ ( اللہ کے پاس بہتر ہوتا) لَمَثُوبَۃٌ .... لَوْکا جواب ہے اور اصل اس کی لَاُثِیْبُوا مَثُوْبَۃٌ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ خَیْرًا بِمَا شَرَوْا بِہٖ اَنْفُسَھُمْ ہے ( بیشک ایسا ثواب دیئے جاتے کہ وہ اللہ کے یہاں اس سے بہتر ہوتا جس کے بدلہ انہوں نے اپنے نفس بیچے) فعل کو حذف کرکے باقی کو جملہ اسمیہ اس غرض سے بنا دیا کہ ثواب کے دوام اور ثبات اور اس کے یقینی خیر ہونے پر دلالت کرے اور مفضل علیہ ( سحر) کو یا تو اس لیے حذف کیا کہ مفضل کو اس سے عالی سمجھا کہ مفضل علیہ سے اس کو کسی قسم کی مناسبت ہو اور یا اس واسطے کی تخصیص کسی شے کی نر ہے۔ تفضیل کل ہوجائے اور معلوم ہوجائے کہ جملہ اشیاء سے بہتر ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ لَوْ تَمنی کا ہے اور لَمَثوْبَۃٌ کلام مستقل ہے۔ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ ( اگر جانتے ہوتے تو ایمان لے آتے) یعنی اگر جانتے کہ اللہ کا ثواب بہتر ہے اس کی جزاء میں بھی مثل سابق کے کلام ہے۔ ابن منذر نے روایت کیا ہے کہ مسلمان جناب رسول اللہ ﷺ سے کہا کرتے تھے ( اعنا اور اسے مراعاۃ سے مشتق گردانتے اور مطلب اس کلمہ کا یا تو یہ ہوتا کہ یا رسول اللہ کلام سننے میں ہماری رعایت فرمائیے۔ یعنی ہماری عرض معروض غور سے سنئے اور یا یہ معنی کہ جو کچھ آپ ہماری تعلیم کے لیے فرماتے ہیں اس میں رعایت فرمائیے اور ہمارے سمجھنے تک توقف فرمائیے۔ رعی کے معنی لغت میں دوسرے کی مصلحت کی نگہداشت کے ہیں یہود کی زبان میں لفظ راعن نہایت فحش گالی تھی۔ بعض نے کہا کہ انکے نزدیک اس کے یہ معنی تھے : اِسْمَعْ لَا سَمِعْتَ یعنی سن خدا کرے تو نہ سنے ( یعنی معاذ اللہ تیرے کان پھوٹیں) معاذ اللہ اور بعض نے کہا اس کے معنی تھے اور احمق گویا رعونت سے مشتق قرار دیتے ہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہوں یہود نے جو سنا کہ مسلمان جناب سرور کائنات ﷺ کی خدمت میں یہ کلمہ بولتے ہیں تو انہیں ایک شگوفہ ہاتھ آگیا اور انہوں نے بھی اس کلمہ کو بہ نیت معنی قبیح ستعمال کرنا شروع کیا اور آپس میں (خدا ان پر لعنت کرے) خوف ہنسی اڑاتے۔ ایک روز سعد بن معاذ ؓ ان کی اس نیت فاسدہ کو پہچان گئے سن کر فرمایا اگر اب میں نے تم سے یہ کلمہ جناب فخر عالم ﷺ کی جناب میں کہتے سنا تو یاد رکھنا گردن اڑادوں گا وہ بولے کہ تم بھی تو کہتے ہو اس پر حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت کریمہ نازل فرمائی۔
Ayah 2:104

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوا انْظُرْنَا ( اے ایمان والو ! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو۔ یعنی ہماری طرف نظر شفقت فرمائیے اور ہماری گذارش سماعت فرمائیے یا یہ معنی کہ ہمارا نتظار فرمائیے اور ذرا توقف فرمائیے تاکہ ہم آپ کا کلام سمجھ لیں۔ وَاسْمَعُوْا ( اور سنا کرو) یا تو یہ معنی کہ جو تم کو حکم کیا جاتا ہے اس کو سنو اور اطاعت کرو اور یا یہ مطلب کہ مجمع ہیں حضور ﷺ کا کلام اچھی طرح سن لیا کرو تاکہ دوسری مرتبہ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ وَلِلْكٰفِرِيْنَ ( اور کافروں کے لیے) کافرین سے مراد یہود ہیں جنہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو برے کلمہ سے یاد کیا تھا۔ عَذَابٌ اَلِــيْمٌ ( درد ناک عذاب ہے) مسلمانوں کے جو یہود میں حلیف تھے ان سے مسلمان بطور خیر خواہی کہتے تھے کہ محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ اور وہ جواب دیتے تم جس شے کی طرف ہمیں بلاتے ہو وہ ہمارے دین سے بہتر نہیں اگر بہتر ہوتا تو ہم ضرور اسے پسند کرتے انکی تکذیب کے لیے حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 2:105

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

مَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْكِتٰبِ وَلَا الْمُشْرِكِيْنَ ( وہ لوگ جو کافر ہیں کتاب والے ہوں یا مشرک خوش نہیں ہیں) وُدّ کے معنی ہیں کسی شے سے تمنا آمیز محبت کرنا اسی واسطے اس لفظ کا استعمال تمنا اور محبت دونوں میں الگ الگ بھی آیا ہے مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِمیں مِن بیانیہ ہے اور لا زائد ہے المشرکین کا اہل الکتاب پر عطف ہے۔ اَنْ يُّنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِّنْ خَيْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ( اس بات سے کہ اتاری جائے تم پر بھلائی خدا کی طرف سے) مِنْ خَیْرٍ ..... یَودّ کا مفعول ہے پہلا من استغراق کے واسطے زیادہ کیا گیا ہے اور دوسرا من ابتداء کے لیے ہے۔ خیر سے مراد وحی ہے مطلب یہ کہ اے مومنو ! کافر تم سے حسد رکھتے ہیں اور یہ نہیں چاہتے کہ وحی تم پر اترے۔ وَاللّٰهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ( اور اللہ اپنی رحمت کے لیے خاص کرلیتا ہے جس کو چاہتا ہے اور اللہ بڑی مہربانی والا ہے) رحمت سے مراد نبوت ہے۔ فضل بلا وجہ ابتداً کسی کے ساتھ نیکی کرنے کو کہتے ہیں۔ مشرکین کہا کرتے تھے کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو ایک شئے کا امر فرماتے ہیں پھر اسی بات سے منع کرتے ہیں اور اس کے خلاف کا حکم کرتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ یہ کہتے ہیں اپنی طرف سے کہتے ہیں۔ اس پر حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت شریفہ نازل فرمائی۔
Ayah 2:106

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰيَةٍ ( جو منسوخ کردیتے ہیں ہم کوئی آیت) مِن بیانیہ ہے اور نسخ کے دو معنی آتے ہیں ایک نقل اور کا پی ( نسخ الکتاب) بھی اسی سے ماخوذ ہے دوسرے معنی رفع اور ازالہ ( اٹھانا علیحدہ کرنا) ہیں چناچہ بولتے ہیں : نسخت الشمس الظل (علیحدہ کردیا دھوپ نے یا آفتاب نے سایہ کو) یہاں دوسرے معنی مراد ہیں۔ یہ کلام تو باعتبار نعت کے تھا۔ حقیقت الامر یہ ہے کہ کتاب اللہ میں نسخ چند وجوہ پر آیا ہے ایک تو کسی آیت کی تلاوت کا وقت انتہا بیان فرمانا اور حکم کا اپنے حال پر باقی رہنا جیسے آیت رجم کا حکم باقی ہے اور تلاوت منسوخ ہوگئی یا حکم کی انتہا بیان کرنا اور قرأت علی حالہا باقی رہنا جیسے اقارب کے لیے وصیت کرنے کی آیت اور وہ آیت جس میں عدت وفات ایک سال آئی ہے اور یا تلاوت اور حکم دونوں کی غایت بیان فرمانا۔ چناچہ کہتے ہیں کہ سورة احزاب مثل سورة بقر طویل تھی اس کے اکثر حصہ کی تلاوت اور حکم دونوں اٹھا دیئے گئے۔ اس کے بعد جاننا چاہئے کہ جس آیت کا حکم منسوخ ہو اس کی دو قسمیں ہیں ایک وہ کہ اس حکم منسوخ کی جگہ دوسرا حکم قائم مقام نہ ہو جیسے اپنے رشتہ داروں کو وصیت کرنا میراث سے منسوخ ہوگیا اور ایک سال عدت وفات کا ہونا چار ماہ دس روز سے منسوخ ہوگیا اور دوسری قسم وہ ہے کہ دوسرا حکم قائم مقام نہ ہو جیسے عورتوں کا امتحان کہ ابتدا میں تھا بعد میں منسوخ ہوگیا اور نسخ اوامرو نواہی پر وارد ہوتا ہے اخبار میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ جمہورنے مَا نَنْسَخْ کو فتح نون اور سین سے نسخ بمعنی رفع سے مشتق کرکے پڑھا ہے معنی یہ ہوں گے جو اٹھا تے ہیں ہم کوئی آیت ..... اور ابن عامر نے ضمہ نون اور کسرۂ سین سے انساخ سے مشتق قرر دے کر پڑھا ہے۔ اس صورت میں یا تو یہ معنی ہوں کہ ہم آپ کو یا جبرئیل کو کسی آیت کے منسوخ کرنے کا حکم دیتے ہیں اور یا یہ کہ ہم کسی آیت کو منسوخ پاتے ہیں اور ما ننسخ میں ما شرطیہ ہے جو ننسخ کو جزم کرنے والا ہے اور ما مفعول ہونے کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ اَوْ نُنْسِهَا ( یا بھلا دیتے ہیں) ابن کثیر اور ابو عمرو نے نُنْسِھَاکو نون اول اور سین کے فتحہ سے نساء بمعنی تاخیر سے مشتق کرکے پڑھا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے ” مؤخر کریتے ہیں حکم کسی آیت کا اور اس کی تلاوت کو اٹھا لیتے ہیں “ اس تفسیر کے موافق نسخ کے معنی تلاوت اور حکم کا اٹھانا ہوں گے اور یا یہ معنی کہ ہم اس آیت کو لوح محفوظ میں مؤخر کردیتے ہیں یعنی آپ پر نازل نہیں کرتے اس تفسیر پر نسخ کے معنی کسی آیت کو اتارنے کے بعد اٹھانا اور نساء کے معنی بالکل نہ اتارنا ہوں گے اور باقی قراء نے ننسھا کو ضمہ نون اور کسرۂ سین سے انساء ( بھلانا) اور نسیان سے ” بھولنا “ جو حفظ کے مقابل ہے پڑھا ہے اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ ہم آپ کے قلب سے کسی آیت کو محو کرتے ہیں ابو امامہ بن سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ چند صحابہ ایک شب نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ایک سورت پڑھنی چاہی تو وہ سورت بالکل یاد نہ آئی صرف بسم اللہ یاد رہ گئی۔ صبح ہی جناب فخر عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ واقعہ عرض کیا حضور نے فرمایا کہ اس سورت کی تلاوت اور حکم دونوں اٹھا لئے گئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ننسھا کے معنی نترکھا ہیں یعنی چھوڑتے ہیں منسوخ نہیں کرتے۔ جیسے آیت کریمہ : نسوا اللہ فنسیہم میں بھی نسیان سے مراد ترک ہے مگر یہ معنی یہاں درست نہیں ہیں کیونکہ آگے نأت بخیر منھا اس پر چسپاں نہیں ہوتا۔ نَاْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَآ ( تو نازل کردیتے ہیں اس سے بہتر) یعنی جب کوئی آیت منسوخ یا محو کرتے ہیں تو نفع یا سہولت عمل یا کثرت ثواب میں اس سے بہتر آیت نازل فرماتے ہیں یہ مطلب نہیں کہ کوئی آیت کسی آیت سے بہتر ہے اور دوسری بہتر نہیں ہے کیونکہ تمام کلام اللہ ایک ہے اور سب سے بہتر ہے۔ اَوْ مِثْلِهَا ( یا اس جیسی) یعنی نفع یا سہولت یا کثرت ثواب میں برابر کی آیت نازل کرتے ہیں۔ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ( کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے) یہ استفہام تقریری ہے یعنی بیشک آپ جانتے ہیں۔ علماء نے اس آیت سے چند مسائل اپنے مسلک کے موافق استنباط کئے ہیں اول تو یہ کہ نسک بغیر بدل نہیں ہوسکتا دوسرے یہ کہ حکم منسوخ کے عوض گراں حکم نہیں ہوسکتا۔ تیسرے یہ کہ کتاب اللہ کا حدیث سے منسوخ ہونا جائز نہیں اور جواب اس کا یہ ہے کہ کسی حکم کا بالکل نہ ہونا ہی خیر ہوتا ہے اور جو زیادہ گراں ہوتا ہے وہ ثواب کی رو سے کبھی زیادہ نافع ہوتا ہے اور حدیث بھی اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے نبی ﷺ کو دی اور سکھائی ہے اسلئے وہ نأت بخیر کے خلاف نہیں ہے۔