Ayah 2:198لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ ( تم پر کچھ گناہ نہیں کہ چاہو فضل اپنے پروردگار کا) فضلاً یعنی تجارت وغیرہ سے اللہ تعالیٰ کی عطا اور رزق اگر سفر حج میں طلب کرو تو کچھ گناہ نہیں۔ بخاری نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جاہلیت میں تین بازار تھے عکاظ اور مجنہ اور ذوالمجاز جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگ گناہ سمجھ کر ان بزاروں میں تجارت سے رکے اس پر حق تعالیٰ نے : لیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا۔۔ نازل فرمائی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ ابن عباس ؓ نیلیس علیکم جناح ان تبتغوا فضلا من ربکم فی مواسم الحجپڑھا ہے۔
اور امام احمد اور ابن ابی حاتم اور ابن جریر اور حاکم وغیرہم نے روایت کی ہے کہ ابو اسامہ تیمی نے حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا کہ ہم لوگ مکہ تک سواریاں کرایہ پر چلاتے ہیں اب لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا حج ادا نہیں ہوتا۔
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ کیا تم اوروں کی طرح احرام نہیں باندھتے طواف نہیں کرتے رمی نہیں کرتے میں نے کہا کیوں نہیں سب ارکان ادا کرتے ہیں فرمایا بس تو حج ادا ہوگیا اس کے بعد ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ایک شخص جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور یہی سوال پیش کیا جو تو نے کیا حضور ﷺ نے کچھ جواب نہیں دیا حتیٰ کہ جبرائیل ( علیہ السلام) آیت : لیس علیکم جناح۔۔ لے کر نازل ہوئے۔
فَاِذَآ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ ( پھر جب تم لوٹو میدان عرفات سے) افاضہ کے معنی بہ کثرت چلنے کے ہیں عرفات جمع عرفہ کی ہے عرفات ایک میدان کا نام ہے جمع اس کی اس اعتبار سے ہے کہ اس کا ہر ٹکڑاگویا عرفہ ہے عرفات کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ مقام علامات سے بتایا گیا تھا جب اس کو دیکھا تو پہچان لیا اس لیے اس کا نام عرفات رکھ دیا۔ یا اس لیے کہ جبرائیل ( علیہ السلام) نے ابراہیم (علیہ السلام) کو تمامی مشاعر میں گھمایا جب سب مقامات دکھائے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا عرفت یعنی میں نے پہچان لیا اس مضمون کو ابن جریر نے ابن عباس اور علی ؓ سے نقل کیا ہے اور علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ ضحاک نے کہا ہے کہ جب آدم ( علیہ السلام) زمین پر اترے تو ہند میں آئے اور حوا جدہ میں رہیں ایک مدت تک ایک دوسرے کی تلاش میں رہے۔ عرفات میں آکر دونوں ملے اور وہاں ایک دوسرے کی معرفت ہوئی۔ اس لیے اس میدان کو عرفات کہتے ہیں اور سدی نے کہا ہے کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا اور سب نے تلبیہ سے اس کی اجابت کی اور جن کو آنا تھا وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم فرمایا کہ عرفات میں جائیں اور علامات سے اس کو بتادیا جب عقبہ کے پاس ایک درخت پر پہنچے تو سامنے سے شیطان آیا اور وہاں سے لوٹانے لگا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے شیطان وہاں سے بھاگا اور دوسرے جمرہ پر آیا وہاں بھی ابراہیم (علیہ السلام) نے رمی کی اور تکبیر کہی وہاں سے بھی اڑا اور تیسرے پر آیا ابراہیم وہاں سے چل کر زوالمجاز میں تشریف لے گئے اور اس کے بعد عرفات میں قیام فرمایا اور اس کو بتائی ہوئی علامات سے پہچانا اس لیے وہ وقت تو عرفہ اور وہ مقام عرفات کے نام سے مشہور ہوگیا جب شام ہوئی تو ابراہیم (علیہ السلام) مزدلفہ میں آئے اور ازدلاف کا معنی ہے قرب چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) اس مقام کے پاس آئے تھے اس لیے اس کو مزدلفہ کہنے لگے اور ابو صالح سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ترویہ کی رات یہ خواب دیکھا کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں صبح ہوئی تو تمام دن فکر کیا کہ یہ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے یا شیطان کی جانب سے اور ترویہ کے معنی لغت میں فکر کرنا ہے اس لیے اس دن کو یوم ترویہ کہنے لگے پھر یہی خواب عرفہ کی رات دیکھا جب صبح ہوئی تو پہچانا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اس لیے یہ دن عرفہ کہلانے لگا کیونکہ معرفت کے معنی لغت میں پہچاننا ہے۔
فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ ۠ ( تو یاد کرو اللہ کو مشعر حرام کے پاس) مشعر حرام مزدلفہ کے دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ کا نام ہے اور اس کی حد مازمان سے محسر تک ہے خود مازمان اور محسر مشعر کے اجزاء نہیں ہیں اس مقام کو مشعر اس لیے کہتے ہیں کہ مشعر شعار بمعنی علامت سے ماخوذ ہے چونکہ یہ مقام بھی معالم حج سے ہے اس لیے اس کو مشعر کہنے لگے اور حرام کے اصل معنی منع ( روکنا) ہیں اور معنی منع کے اس میں یہ ہیں کہ یہ مشعر حرام حرم میں ہے اس لیے جن امور کی اجازت شرع سے نہیں وہ اس میں بھی کرنا ممنوع ہیں اور مزدلفہ کو جمع اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کی جاتی ہیں اور عرفہ سوائے بطن عرفہ کے تمام ٹھہرنے کی جگہ ہے اسی طرح مزدلفہ میں بھی اجازت ہے کہ جہاں چاہو ٹھہرو مگر وادی محسر مستثنیٰ ہے کیونکہ رسول اللہ نے فرمایا کہ عرفہ سب ٹھہرنے کی جگہ ہے لیکن تم بطن عرفہ سے اٹھ جاؤ ( یعنی وہاں نہ ٹھہرو) اور مزدلفہ سب قیام کی جگہ ہے لیکن بطن محسر سے الگ ہوجاؤ۔ اس حدیث کو طبرانی نے اور طحاوی اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اور بیہقی نے اس کو موقوف اور مرفوع دونوں طرح روایت کیا ہے اور اسی مضمون کی احادیث جابر اور جبیر بن مطعم اور ابوہریرہ اور ابو رافع سے بھی منقول ہیں لیکن ان کی سندوں میں کلام ہے اور امام مالک نے مؤطا میں اسی حدیث کو مرفوع روایت کیا ہے۔
وَاذْكُرُوْهُ كَمَا ھَدٰىكُمْ ( اور یاد کرو اسے جس طرح اس نے تم کو بتایا ہے) یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے تم کو سکھایا ہے یا ہدایت کیا ہے اس طور سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو یعنی توحید کے ساتھ یاد کرو۔ شرک کے ساتھ کفار کی طرح اللہ کا ذکر نہ کرو۔ کما ھداکم میں مصدریہ یا کافہ ہے۔
وَاِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ( اور بیشک تم تھے اس سے پہلے گمراہوں میں) یعنی بیشک تم اس ہدایت سے پہلے مشرک تھے یا اطاعت اور ایمان سے بالکل جاہل تھے : و ان کنتم میں انمخففہ ہے اور لام فارقہ ہے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان نافیہ ہے اور لام بمعنی الا ہے جیسے کہ آیت کریمہ : و ان نظنک لمن الکاذبین میں بھی یہی صورت ہے۔
Ayah 2:199ثُمَّ اَفِيْضُوْا مِنْ حَيْثُ اَفَاض النَّاسُ ( پھر تم بھی چلو جہاں سے چلیں دوسرے لوگ) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حج کے واسطے عرب تو عرفہ میں ٹھہرتے تھے اور قریش ورے مزدلفہ میں قیام کرتے تھے اس پر حق تعالیٰ نے ثم افیضوا۔۔ نازل فرمائی اور ابن منذر نے اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت کی ہے کہ قریش مزدلفہ میں ٹھہرتے تھے اور لوگ سوائے شیبہ ابن ربیعہ کے عرفہ میں ٹھہرتے تھے اس لیے حق تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ علامہ بغوی (رح) نے فرمایا ہے کہ قریش جو حمس ( شدۃ اور حیثیت والے) کہلاتے تھے اور ان کے حلیف عرفات میں دوسرے اہل عرب کے ساتھ ٹھہرنے کو عار سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم اہل اللہ ہیں اور اس کے حرم کے رہنے والے ہیں اس لیے ہم حرم کو نہیں چھوڑتے اور یہاں سے نہیں نکلتے اور دوسرے لوگ عرفات میں ٹھہرتے تھے پھر جب لوگ عرفات سے چلتے تو حمس مزدلفہ سے کوچ کرتے تھے اس لیے حق تعالیٰ نے اس آیت کریمہ سے ارشاد فرمایا ہے کہ مثل اوروں کے عرفات میں ٹھہریں اور مزدلفہ میں سب کے ساتھ جائیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو بتادیا کہ عرفات میں ٹھہرنا ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) کی سنت ہے ان روایات کے موافق آیت میں الناس سے سوائے حمس کے تمام لوگ مراد ہیں اور ضحاک نے فرمایا ہے کہ الناس سے یہاں ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں جیسے ام یحسدون الناس [ الایۃ ] میں الناس سے محمد ﷺ مقصود ہیں، اسی طرح آیت کریمہ : اذ قال لھم الناس ان الناس قد جمعوا لکم پہلے الناس سے نعیم بن مسعود اشجعی مراد ہے۔ زہری نے فرمایا ہے کہ اس مقام پر الناس سے مراد آدم ( علیہ السلام) ہیں دلیل اس کی یہ ہے کہ سعید بن جبیر کی قرأت : ثم افیضوا من حیث افاض الناسی ہے اور ناسی آدم ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ ناسی کے معنی بھولنے والا ہے اور آدم ( علیہ السلام) بھی اللہ کے عہد کو بھول گئے تھے اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں ثم یعنی عرفات سے آنے کے بعد افیضو .... یعنی مزدلفہ سے منیٰ کو چلو اور تفسیر اوّل اکثر مفسرین کا قول ہے لیکن تفسیر اوّل پر لفظ ثم نہیں بنتا کیونکہ عرفات سے چلنا مشعر حرام سے پہلے ہوتا ہے اس لیے بعض مفسرین نے تو اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ یہاں ثم بمعنی واؤ ہے اور وجہ یہ ہے کہ ثم اس مقام پر عرفات اور مزدلفہ کے ٹھہرنے میں فرق مرتبہ بیان کرنے کے واسطے آیا ہے کیونکہ عرفات کا وقوف تو فرض اور حج کا رکن ہے اس کے فوت ہونے سے حج فوت ہوجاتا ہے بخلاف مزدلفہ میں ٹھہرنے کے کیونکہ وہ بالاتفاق حج کا رکن نہیں لیکن لیث اور علقمہ فرماتے ہیں کہ مزدلفہ کا وقوف بھی رکن ہے اور اس کی نظیر قرآن شریف میں یہ آیت ہے : فک رقبہ او اطعامٌ فی یوم ذی مسغبۃٍ یتیماً ذا مقربۃٍ او مسکیناً ذا متربۃ ثم کان من الذین اٰمنوا الخ (چھڑانا اگر دن کا یا کھانا کھلانا بھوک کے دن یتیم رشتہ دار کو یا محتاج خاک افتادہ کو بعد ازاں ہونا ان لوگوں میں جو ایمان لائے ہیں) مقتضی اس آیت کا یہ ہے کہ ایمان نیکیوں سے مرتبہ میں زیادہ ہے۔ (1) [ عربی زبان میں ثم ( پھر) عطف ترتیبی کے لیے آتا ہے لیکن اس ترتیب میں تعقیب اور تاخیر شرط ہے یعنی ثم سے پہلے جس چیز یا فعل کا وقوع ہوا ہو اس سے کچھ دیر کے بعد اس چیز یا فعل کا وقوع ہونا چاہئے جو ثم کے بعد مذکور ہو ثم کا یہ حقیقی استعمال ہو لیکن آیت میں تعقیب کا معنی درست نہیں ہے بلکہ واقعہ برعکس ہے ہونا تو یہ چاہئے کہ عرفات سے روانگی سے مزدلفہ کا قیام پہلے ہو کیونکہ ثم سے پہلے مزدلفہ کے قیام کا بیان ہے اور ثم سے بعد عرفات سے روانگی کا حکم ہے مگر واقعہ میں اس کے خلاف ہوتا ہے عرفات کا قیام پہلے ہوتا ہے اور مزدلفہ کا قیام اس کے بعد معلوم ہوا کہ آیت میں ثم کا حقیقی معنی مراد نہیں بلکہ مجازی معنی مراد ہے کیونکہ ثم مجازاً ترتیب مرتبہ کیلئے بھی آتا ہے اگر بعض چیزوں کا مرتبہ کم ہو اور بعض کا زیادہ تو ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی کرنے کیلئے ثم کا استعمال کرلیا جاتا ہے جیسے آیت : فک رقبہ او اطعام الخ میں مذکور ہے غلام آزاد کرنا بھوکوں کو کھانا کھلانا اور یتیموں کو پرورش کرنا سب اچھے کام ہیں اور ضروری بھی ہیں مگر ایمان کا درجہ سب سے اونچا ہے اس لیے ثم سے پہلے مذکورہ نیکیوں کا تذکرہ کیا اور ثم کے بعد ایمان کا یہ فقیر کہتا ہے کہ یہ مطلب اس تقدیر پر ہوگا جب ثم کان کو کلام مثبت قرار دیا جائے اور فک رقبہ پر اس کا معنوی عطف ہونا کہا جائے لیکن بعض علماء تفسیر نے ثم کان کو معنیً : منفی کلام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ثم کان کا عطف اقتحم العقبہ پر ہے اور دونوں لا کے تحت ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ نہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ مؤمنوں کی صف میں شامل ہوا اس وقت ثم کا استعمال اپنے حقیقی معنی میں ہوگا کیونکہ جو امور مسلم الثبوت کار ہائے خیر تھے مثلاً یتیم پروری، غریب نوازی اور غلاموں کی آزادی یہ کام اسلام سے پہلے کافروں کی نظر میں بھی اچھے تھے اور کچھ لوگ یہ نیکیاں کرتے تھے لیکن شر پسند لوگ اس زمانہ میں بھی ان نیکیوں سے محروم تھے پس اس آیت کی مراد یہ ہے کہ یہ شخص دور جاہلیت کے محاسن اور خصائل حمیدہ سے بھی محروم تھا پھر جاہلیت کے بعد جب اسلام آیا تو یہ ایمان سے بھی بےبہرہ رہا۔] وا اللہ اعلم اس کے بعد معلوم کرنا چاہئے کہ اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مزدلفہ کا ٹھہرنا رکن نہیں ہے اختلاف اس میں ہے کہ آیا واجب ہے کہ اگر فوت ہوجائے تو قربانی واجب ہو یا سنت ہے جمہور تو واجب کہتے ہیں لیکن قدر واجب میں اختلاف ہے ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ یوم نحر کی طلوع فجر کے بعد مزدلفہ کا وقوف واجب ہے اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ نحر کی شب کو مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب ہے اگرچہ ایک ہی ساعت ہو اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ آدھی رات کے بعد ٹھہرنا واجب ہے وجوب کی دلیل یہی آیت کریمہ : فا اذا افضتم من عرفاتٍ الخ ہے یہ آیت شریفہ اپنی عبارت سے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور اس کے اشارہ سے وقوف عرفات سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ کلام سے مقصود تو مشعر حرام کے پاس ذکر کرنا ہے اور عرفات سے چلنا اس کی شرط ہے اس لیے وقوف مزدلفہ واجب ہوا اگر کوئی کہے کہ ذکر مشعر حرام کے پاس کسی کے نزدیک واجب نہیں اور یہ امر بطور استحباب کے ہے پھر وقوف مزدلفہ کے واجب ہونے پر استدلال اس آیت سے کیسے صحیح ہوگا تو جواب اس کا یہ ہے کہ ذکر کے معنی غفلت کو دور کرنا ہے اور غفلت کا ازالہ جیسا کہ زبان سے ہوتا ہے اسی طرح اعضا کے کام میں لانے سے بھی ہوتا ہے۔
صاحب حصین نے فرمایا ہے کہ جو اللہ کا مطیع ہے وہ ذاکر ہے اس بنا پر مزدلفہ کا وقوف عبادت کی نیت سے لا محالہ ذکر ہے اور یہی مامور بہ ہے اس لیے وقوف واجب ہوا دوسری بات یہ ہے کہ جب مزدلفہ میں ٹھہرنا ہوگا تو تلبیہ اور دعا اور مغرب اور عشا اور فجر کی نماز بھی ضرور ہی وہاں پڑھنی ہوں گی اور یہ سب ذکر ہے تو ممکن ہے کہ لازم 1 بول کر ملزوم 2 مراد لیا ہو جیسا کہ آیت کریمہ : فاقرؤا ما تیسر من القرآن ( پڑھو جو آسان ہو قرآن میں سے) اس میں نماز پڑھنا مراد ہے لیکن چونکہ قرأت نماز کے لیے لازم تھی اس لیے اس کو ذکر فرمایا یہ تو وقوف کے واجب ہونے کا اثبات قرآن سے تھا اب سنئے کہ حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مزدلفہ کا ٹھہرنا واجب ہے عروۃ بن مضرس ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مزدلفہ میں ہمارے ساتھ فجر کی نماز میں یوم نحر کے دن حاضر رہا اور ہمارے ساتھ چلنے تک ٹھہرا اور عرفہ میں رات یا دن کو اس سے پہلے ٹھہرا اس کا حج پورا ہوا اس حدیث کو اصحاب سنن اور ابن حبان اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث تمام اہل حدیث کی شرط کے مواف صحیح ہے تو دیکھئے کہ اس حدیث میں جناب رسول اللہ نے حج کی تکمیل کو ومزدلفہ کے ٹھہرنے پر موقوف فرمایا ہے یہی دلیل وجوب کی ہے اور نسائی نے اس حدیث کو اس طرح روایت کیا ہے کہ جس نے مزدلفہ کے ٹھہرنے کو امام کے ساتھ پالیا اس نے حج پا لیا اور جس نے نہیں پایا اس نے حج نہیں پایا اور ابو یعلی نے اس مضمون کو اس طرح کہا ہے کہ جس نے مزدلفہ کو نہیں پایا اس کا حج نہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مزدلفہ میں ٹھہرنا بعد صبح کے واجب ہے اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے نیز اس آیت سے بھی یہی سمجھا جاتا ہے کہ مزدلفہ میں بعد صبح کے ٹھہرنا واجب ہے کیونکہ آیت میں مزدلفہ کا ٹھہرنا عرفات 3 کے ٹھہرنے پر مرتب ہے اور اس پر سب کا اجماع ہے کہ عرفات میں ٹھہرنے کا وقت آخر رات تک ہے اس بنا پر جو شخص عرفات میں آخر دسویں رات تک اگرچہ ایک ساعت ہی ٹھہرا ہو اس نے حج پالیا اب لا محالہ مزدلفہ میں ٹھہرنے کا وقت بعد صبح کے ہوگا اور عبد الرحمن بن یعمر دیلمی فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ عرفات میں ٹھہرے ہوئے ہیں اور لوگ آرہے ہیں۔ نجد والے بھی آئے اور انہوں نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ حج کیا ہے فرمایا کہ حج بروز عرفہ ہے ( یعنی عرفات میں نویں تاریخ کو ٹھہرنا) اور جس نے مزدلفہ کو صبح کی نماز سے پہلے پا لیا اس نے حج پالیا اور ایام منیٰ ایام تشریق ہیں جو وہی دن ٹھہرا اور چل دیا اس پر کچھ گناہ نہیں اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اس حدیث کو طحاوی نے روایت کیا ہے اور اس حدیث سے امام مالک (رح) یہ مسئلہ مستنبط کرتے ہیں کہ مزدلفہ میں صبح سے پہلے ٹھہرنا واجب ہے لیکن یہ استنباط صحیح نہیں کیونکہ اصحاب سنن اور حاکم اور دارقطنی اور بیہقی نے اس حدیث کو اس مضمون سے روایت کیا ہے کہ حج عرفہ جو شخص صبح کی نماز سے پہلے مزدلفہ کو رات کو آگیا اس کا حج پورا ہوگیا یہ مضمون مزدلفہ میں ٹھہرنے پر بالکل دال نہیں اور امام احمد حدیث مذکور سے یہ مستنبط فرماتے ہیں کہ مزدلفہ میں رات گذارنا واجب ہے کیونکہ جناب رسول اللہ نے مزدلفہ میں رات گذاری اور بعد نماز صبح کے آپ ٹھہرے اور آپ نے فرمایا کہ مجھ سے اپنے حج کے طریق سیکھ لو۔
میں کہتا ہوں کہ مقتضی اس استدلال کا یہ معلوم ہوتا ہے کہ شب باشی اور بعد صبح کے قیام کرنا دونوں واجب ہیں لیکن چونکہ رسول اللہ نے اپنے کنبہ کے ضعیف لوگوں کو مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح ہی جانے کی اجازت عطا فرما دی تھی اس سے معلوم ہوا کہ صبح کے بعد کا ٹھہرنا واجب نہیں چناچہ شیخین نے صحیحین میں روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ میں بھی ان ہی لوگوں میں تھا جن کو رسول اللہ نے آگے بھیج دیا تھا اور صحیحین میں حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے ہم کو منیٰ کی طرف چاند چھپنے کے بعد چلنے کی اجازت دے دی تھی اور ابن عمر اور ام حبیبہ ؓ سے بھی اسی مضمون کی احادیث منقول ہیں ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ضعفا کو اجازت ہوجانے سے یہ نہیں نکلتا کہ اور قوی لوگوں کے ذمہ بھی مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب نہیں۔ اگر کوئی کہے کہ اس آیت سے جب یہ نکلا کہ عرفہ اور مزدلفہ میں ٹھہرنا واجب ہے اور مزدلفہ میں ٹھہرنا رکن نہیں ہے تو پھر تم کیسے کہتے ہو کہ عرفات میں ٹھہرنا رکن ہے تو جواب اس اعتراض کا یہ ہے کہ وقوف عرفہ کے رکن ہونے پر اجماع ہے اگر عرفہ میں ٹھہرنا فوت ہوجائے تو حج فوت ہوجائے گا اور اگر مزدلفہ کا ٹھہرنا فوت ہو تو حج نہیں جاتا اور اسند اجماع یہ ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ حج عرفہ ہے ( یعنی عرفہ کا ٹھہرنا) اور خبر واحد اجماع کی سند بن سکتی ہے اور کیا عجب ہے کہ اہل اجماع نے وقوف عرفات کی رکنیت کو حضور ﷺ کے ہی قول سے لیا ہو۔ وا اللہ اعلم۔
اس میں اختلاف ہے کہ عرفات میں ٹھہرنے کا وقت کیا ہے امام احمد نے تو یہ فرمایا ہے کہ عرفہ کے دن کی صبح صادق کے بعد سے ٹھہرنے کا وقت ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن بعد زوال سے ہے اور امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ عرفہ کے دن غروب آفتاب سے دسویں تاریخ کی صبح صادق تک ٹھہرنے کا وقت ہے۔ امام مالک کا استدلال عبد الرحمن بن یعمر دیلمی ؓ کی حدیث گذشتہ سے ہے کیونکہ اس میں صاف مذکور ہے کہ جو شخص مزدلفہ کی رات صبح کی نماز سے پہلے آیا اس کا حج پورا ہوا اور امام احمد (رح) کی دلیل عروہ بن نضر ؓ کی حدیث ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے کہ جو عرفات میں اس سے پہلے آیا رات کو یا دن کو اس کا حج تمام ہوا اور امام ابوحنیفہ (رح) اور شافعی (رح) کی دلیل یہ ہے کہ مسلم اور دیگر اہل حدیث نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہ یوم ترویہ کو منیٰ کی طرف چلنے کے لیے سوار ہوئے اور وہیں آکر ظہر عصر مغرب عشا فجر پانچوں نمازیں پڑھیں پھر تھوڑی دیر ٹھہرے حتیٰ کہ سورج نکل آیا اس کے بعد حضور نے ایک چرمی خیمہ (عرفات میں) نصب کرنے کا حکم دیا اسی وقت ایک چرمی قبہ آپ کے لیے نصب کردیا گیا اس کے بعد آپ منیٰ سے چلے اور عرفات میں پہنچے تو قبہ نصب کیا ہوا پایا آپ وہاں اترے جب دن ڈھل گیا اپنی اونٹنی قصویٰ پر سوار ہو کر بطن وادی میں تشریف لائے اب اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ٹھہرنے کا وقت بعد زوال کے ہے اگر قبل از زوال ہوتا تو ضرور حضور پہلے بطن وادی میں تشریف لاتے اور قبہ میں تشریف نہ رکھتے بعض نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ یہ حدیث تو صرف اس پر دال ہے کہ بعد زوال کے ٹھہرنا افضل ہے اس سے یہ نہیں نکلتا کہ اگر زوال سے پہلے ٹھہراتو کافی نہیں اور سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر ؓ عرفہ کے دن زوال کے بعد حجاج کے پاس آئے اور میں ساتھ تھا پس فرمایا کہ اے حجاج اگر سنت کا اتباع چاہتا ہے تو اس وقت چل اس نے کہا اچھا ابھی چلتا ہوں لیکن اس حدیث سے بھی زوال کے بعد ٹھہرنے کی افضلیت کبھی جاتی ہے یہ نہیں نکلتا کہ اگر زوال سے پہلے ٹھہرا تو جائز نہیں۔
وَاسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( اور گناہ، بخشواؤ اللہ سے بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) یعنی جاہلیت میں جو حرکات ناشائستہ حج کے دنوں میں کرتے تھے ان کو اللہ سے بخشواؤ۔
Ayah 2:200فَاِذَا قَضَيْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ ( پھر جب تم پورے کر چکو اپنے حج کے ارکان) یعنی جب ارکان حج سے فارغ ہوجاؤ اور یہ فراغت جمرہ عقبہ کی رمی اور ذبح اور سر منڈانے اور طواف اور سعی کے بعد یوم نحر کو ہوتی ہے جاننا چاہئے کہ ارکانِ حج احرام اور وقوف عرفہ اور طواف زیارت تو بالاجماع ہیں اور امام شافعی نے فرمایا ہے کہ سعی اور سر منڈانا بھی ہے اور سعی کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔ حلق ( سر منڈانا) کی بحث انشاء اللہ ہم سورة حج میں ذکر کریں گے۔
فَاذْكُرُوا اللّٰهَ ( تو یاد کرو اللہ کو) یعنی اللہ کی تحمید اور تکبیر اور ثنا بیان کرو۔
كَذِكْرِكُمْ اٰبَاۗءَكُمْ ( مثل اپنے باپ دادے کے یاد کرنے کے) اس کا قصہ یہ ہے کہ جاہلیت میں اہل عرب جب حج سے فارغ ہوتے تھے تو بیت اللہ کے پاس کھڑے ہو کر اپنے باپ دادا کے فضائل اور مفاخر بیان کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کا حکم فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا اور سب کے باپ دادوں کامولیٰ ہے اس کا ذکر کرنا چاہئے باپ دادوں نے ان کو پیدا نہیں کیا بلکہ سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے چناچہ دوسرے مقام پر فرمایا ہے : افرائیتم ما تمنون ا انتم تخلقونہ ام نحن الخالقون ( بھلا دیکھو تو سہی جو عورتوں کے رحم میں ٹپکاتے ہو کیا تم اس کو پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا فرمانے والے ہیں) ابن عباس اور عطاء نے فرمایا ہے کہ معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ کی ایسی یاد کرو جس طرح چھوٹے ننھے بچے اپنے باپ کو یاد کرتے ہیں۔
میں کہتا ہوں کہ اس تقدیر پر تو بہ نسبت باپوں کے ماؤں کا ذکر کرنا زیادہ زیبا تھا۔
اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا (بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یاد ہو) اشد یا تو مجرور اور ذکر پر معطوف ہے اس وقت تقدیر عبارت کی یہ ہوگی : واذکروا اللہ ذکرا کذکرکم اٰباء کم او کذکر اشد منہ ( یاد کرو اللہ کو مثل اپنے باپ دادوں کی یاد کے بلکہ مثل ایسی یاد کے جو پہلی یاد سے بڑھی ہوئی ہو) اور یا کذکرکم کا مضاف الیہ پر عطف ہے یا منصوب ہے اس تقدیر پر یا تا اباء کم پر عطف ہوگا اور ذکراً مصدر بمعنی مفعول ہوگا اور یا تقدیر اس طرح ہوگی کونوا اشد ذکر اللہ منکم لاباء کم اس عبارت کا بھی حاصل وہی ہے۔
فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ ( پھر بعض آدمی کہتے ہیں) ان سے وہ لوگ مراد ہیں جن کی طمع صف دنیا ہی پر منحصر ہے یعنی وہ مشرک جو حشر و نشر کے منکر ہیں۔
رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا ( اے ہمارے پروردگار دیدے ہم کو دنیاہی میں) اتنا کا مفعول ثانی بغرض تعمیم حذف کردیا گیا مطلب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو دنیا ہی میں ہر شے دیدے مشرکین کی عادت تھی کہ حج میں دنیا ہی کو مانگتے تھے۔
وَمَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ : اور نہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ
Ayah 2:201وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ رَبَّنَآ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (اور کوئی ان میں سے کہتا ہے اے ہمارے پروردگار دے ہم کو دنیا میں بھلائی) حسنۃ میں تنکیر تعظیم کی ہے یعنی بڑی بھلائی یعنی عمل کا خالص اللہ کے لیے کرنا اور ممکن ہے کہ عموماً سب بھلائیاں مراد ہوں کیونکہ نکرہ موقع اثبات میں بھی بعض مرتبہ قرینہ اور مقام کی وجہ سے عام ہوجاتا ہے جیسا کہ تمرۃ خَیرٌ من جرَادَۃٍ یعنی ہر تمرہ ہر ٹڈی سے بہتر ہے۔ اس بنا پر ٹڈی کے قتل کرنے کے بدلے اگر کوئی تمرہ دے تو کافی ہوجائے گا۔ یہ آیت نظیر ہوگئی اس دعا کی جو حدیث شریف میں آئی ہے : اللّٰھُم انی اسالک من الخیر کلہ عاجلہ و اٰجلہ ما علمت منہ و مالہ اعلم
وَّفِي الْاٰخِرَةِ حَسَـنَةً ( اور آخرت میں بھی بھلائی) حسنہ سے مراد اللہ کی رضا مندی اور تمام نعمتیں ہیں۔
وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ( اور ہم کو بچالے دوزخ کے عذاب سے) علامہ بغوی نے اپنی سند سے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ ایسا دبلا ہو رہا ہے کہ جیسے بیضہ (انڈے) میں سے پرندہ کا بچہ نکلتا ہے حضور ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تو اللہ سے کچھ دعا کرتا تھا یا کچھ مانگا کرتا تھا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں یوں کہا کرتا تھا کہ اللہ جس قدر آپ مجھ کو آخرت میں عذاب کریں گے دنیا ہی میں کرلیجئے حضور ﷺ نے فرمایا۔ سبحان اللہ تیرے اندر اس عذاب کی برداشت کی قوت نہیں ہے تو نے اس طرح کیوں نہ کہا : ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ نیز حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ اکثر یہ آیت یعنی ربنا اٰتنا فی الدنیا الخ (بطور دعا) تلاوت فرمایا کرتے تھے اور عبد اللہ بن سائب فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ رکن بنی جمح اور رکن اسود کے درمیان ربنا اتنا فی الدنیا [ الایۃ ] پڑھتے تھے۔ اس حدیث کو ابو داودو اور نسائی اور ابن حبان اور حاکم اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور ابو الحسن بن الضحاک نے روایت کیا ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے تھے کہ جناب رسول اللہ اگر سو مرتبہ بھی دعا فرماتے تھے تو ربنا اتنا فی الدنیا۔۔ ہی سے دعا شروع فرماتے اور اسی پر ختم فرماتے تھے اور اگر دو دائیں فرماتے تو ان دونوں میں سے ایک یہی دعا ہوتی تھی اور نقی بن مخلد نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ کی دعا کے اوّل میں اور اوسط میں اور آخر میں یہی آیت ہوتی تھی : ربنا اتنا فی الدنیا۔۔
Ayah 2:202اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ نَصِيْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا ۭ وَاللّٰهُ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : یہی ہیں جن کے لیے حصہ ہیں ان کے کیے کا اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے
Ayah 2:203وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِيْٓ اَ يَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ ۭ فَمَنْ تَعَـجَّلَ فِيْ يَوْمَيْنِ (اور یاد کرتے رہو اللہ کو گنتی کے چند دنوں میں پھر جو جلدی چلا گیا دو ہی دن میں) اولیک فریق ثانی ( جو دین اور دنیا دونوں کی بھلائی کے طالب ہیں) کی طرف اشارہ ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ دونوں فریق مراد ہیں۔ مما کسبوا دعا کو کسب اس لیے فرمایا کہ وہ اعمال میں سے ہے : وا اللہ سریع الحساب ( اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے) حسن فرماتے ہیں کہ جتنی دیر میں آنکھ جھپکتی ہے اس سے بھی جلدی حساب لے لیں گے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ قیامت عنقریب آنے والی ہے اس لیے آخرت کو طلب کرو ایام معدوادت سے ایام تشریق مراد ہیں ان کو معدودات کمی کے سبب سے فرمایا ہے ابن عباس ؓ اور دیگر مفسرین سے اسی طرح منقول ہے اور نیز آیت : فمن تعجل فی یومین بھی اس پر دال ہے۔ فمن تعجل فی یومین یعنی جس نے کوچ کرنے میں جلدی کی اور ایام تشریق کے دوسرے دن چل دیا۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ جو شخص دوسرے دن نہ چلا اور ایام تشریق کا تیسرا دن آگیا تو اس دن کی رمی اس پر واجب ہے۔ اس میں اختلاف ہے کہ تشریق کی راتوں میں سے تیسری رات کا اعتبار ہے یا تیسرے دن کا جمہور تو رات کا اعتبار کرتے ہیں اس بنا پر جو شخص منیٰ میں ٹھہرا رہا حتیٰ کہ تیسری رات آگئی تو اس کے لیے کوچ کرنا بغیر رمی جمار کے حلال نہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر رمی ضروری نہیں ہاں اگر منیٰ میں اس کو تیسرے دن کی صبح ہوجائے تو البتہ اس دن کی رمی اس پر واجب ہوگی اور جب تک صبح نہ ہوئی اس کو اجازت ہے کہ رات کو کوچ کرے۔ امام ابوحنیفہ (رح) یہ فرماتے ہیں کہ رمی کا وقت دن ہے تو جو شخص رات کو چل دیا اس کی ایسی مثال ہے جیسے جمعہ کے وقت سے پہلے کسی نے سفر کیا کہ اس پر جمعہ واجب نہیں اور جمہور یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ کنکریاں مارنے کا وقت رات نہیں ہے لیکن ٹھہرنے کا وقت تو ہے اور منی میں شب باشی کرنا رات ہوجانے کے بعد واجب ہے کوچ کرنا حلال نہیں۔ وا اللہ اعلم
فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ : تو اس پر کچھ گناہ نہیں ( گناہ اس لیے نہیں ہے کہ اس نے رخصت پر عمل کیا۔
وَمَنْ تَاَخَّرَ فَلَآ اِثْمَ عَلَيْهِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى ( اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کچھ گناہ نہیں یہ ان کے لیے ہے جو پرہیزگاری کریں) یعنی جس نے کوچ میں تاخیر کی اور تیسرے دن رمی کی اس پر بھی کچھ گناہ نہیں اور یہ ادنیٰ اور افضل ہے۔ اس آیت میں اہل جاہلیت کا رَد ہے بعض لوگ تو جلدی چلے جانے والوں کو گنہگار سمجھتے تھے اور بعض تاخیر کرنے والوں پر گناہ کا دھبہ لگاتے تھے لمن اتقیٰ یعنی یہ احکام اس شخص کے لیے ہیں جو پرہیزگاری اختیار کرے کیونکہ وہی ان سے منتفع ہوگا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ لمن اتقی کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص اپنے حج میں ان اشیا سے بچا جن کو اللہ تعالیٰ نے منع کردیا ہے تو وہ بخشا بخشایا وہاں گیا اس پر کچھ گناہ نہیں خواہ وہ کوچ میں جلدی کرے یا دیر کرے۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ حضرت علی ؓ اور ابن مسعود کا بھی یہی قول ہے اور ایک حدیث مرفوع اس کی مؤید بھی ہے جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جس نے اللہ کے واسطے حج کیا اور نہ اس میں جماع کیا نہ فسق کیا وہ ایسا ہو کر آیا گویا اس کی ماں نے ابھی اس کو جنا ہے ( بےگناہ) اس حدیث کو ابوہریرہ ؓ ؓ نے روایت کیا ہے نیز ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ حج مبرور ( جس میں کوئی امر خلاف شرع نہ ہوا ہو) کا بدلہ سوائے جنت کے اور کچھ نہیں اور ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حج اور عمرہ دونوں فقر اور گناہوں کو ایسا دور کردیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے کے میل کو اس حدیث کو امام شافعی اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور حضرت عمر ؓ سے بھی امام احمد نے اسی مضمون کی حدیث روایت کی ہے۔
جاننا چاہئے کہ ایام تشریق میں منی میں ٹھہرنا اور راتوں کو رہنا اور رمی یہ سب بالاتفاق رکن نہیں ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فاذا قضیتم مناسکم فاذکروا اللہ [ الایۃ ] اس آیت میں مناسک کے ادا کرلینے پر منیٰ میں ذکر کرنے کو مرتب فرمایا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ بعد کے سب افعال داخل مناسک نہیں ہیں رہا وجوب سو اس میں اختلاف ہے امام احمد (رح) تو فرماتے ہیں کہ رات کو رہنا اور رمی کرنا دونوں واجب ہیں اور امام مالک (رح) کہتے ہیں کہ ٹھہرنا واجب اور رمی سنت مؤکدہ اور امام ابوحنیفہ (رح) بالعکس فرماتے ہیں یعنی رمی واجب اور ٹھہرنا سنت اور امام شافعی (رح) اللہ کے دو قول ہیں ایک قول تو امام احمد کے موافق ہے اور دوسرا امام ابوحنیفہ (رح) کے موافق ہے اور بعض بعض علماء نے فرمایا ہے کہ رمی تو تکبیر کی حفاظت کے لیے مشروع ہوئی ہے پس اگر رمی ترک کردی اور تکبیر کہہ لی تو کافی ہے اس مذہب کو ابن جریر نے حضرت عائشہ ؓ اور دیگر صحابہ ؓ سے نقل کیا ہے اور ظاہر آیت کے بھی یہ موافق ہے لیکن اجماع کے خلاف ہے۔
امام احمد آیت کریمہ : واذکرو اللہ فی ایام [ الایۃ ] سے استدلال کرتے ہیں کہ یہ آیت رمی اوراقامۃ دونوں کے واجب کرنے کا احتمال رکھتی ہے۔ گویا مجمل ہے جناب رسول ﷺ اللہ نے اپنے فعل سے دونوں کا وجوب صاف ظاہر فرما دیا اور اپنے اتباع کا حکم فرمایا کہ مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ مقصود ٹھہرنے اور رات گذارنے سے رمی ہے خود رات کا گذارنا مطلوب نہیں اور دلیل اس کی یہ ہے کہ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ ابن مسعود ؓ نے بطن وادی سے رمی کی لوگوں نے ان سے کہا کہ اور لوگ تو اوپر کی طرف سے رمی کرتے ہیں ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس مقام سے میں نے رمی کی ہے یہی مقام اس ذات پاک کا ہے جس پر سورة بقرہ نازل ہوئی ہے۔ ( یعنی جناب رسول ﷺ اللہ ) پس ابن مسعود کا یہ قول اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ یہ آیت رمی کے ہی بارے میں نازل ہوئی ہے دوسری دلیل امام صاحب کی یہ ہے کہ عاصم بن عدی ؓ فرماتے ہیں کہ جناب رسول ﷺ اللہ نے منیٰ میں اونٹ کے چرواہوں کو رات سے چل دینے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ یوم نحر کی رمی کرلو۔ اسکے بعد گیارہویں تاریخ اور بارہویں کو اور پھر کوچ کے دن رمی کرو اور نسائی میں اس طرح ہے کہ چرواہوں کو حضور ﷺ نے رات سے چلنے کی اجازت عطا فرمائی اور فرمایا کہ یوم النحر میں رمی کرلیں اور دو دن بعد کی رمی بھی اسی دن کرلیں ایک دن میں تینوں دن کی رمی جمع کرلیں امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی تفسیر یہ ہے کہ یوم النحر میں رمی کریں پھر جب یوم النحر سے اگلا روز گذر جائے تو بارہویں تاریخ کو اوّل گیارہویں کی رمی کی قضا کریں پھر بارہویں کی رمی کریں۔ وجہ استدلال اس حدیث سے یہ ہے کہ دیکھو رسول ﷺ اللہ نے رمی کی قضا کو واجب فرمایا اقامت کی قضا کو لازم نہیں فرمایا پس معلوم ہوا کہ رمی مقصود ہے اور وہاں کا ٹھہرنا اور رات گذارنا تبعاً واجب ہے۔
امام احمد جواب دیتے ہیں کہ چرواہوں کو ضرورت کے لیے اجازت دے دینا اس امر کو نہیں چاہتا کہ وہاں ٹھہرنا واجب نہ ہو بلکہ رخصت اور اجازت تو ایسے ہی امر کی ہوا کرتی ہے جو واجب ہو اور امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر اور ابن عمر ؓ ان ایام میں نمازوں کے بعد مجالس میں بچھونے پر جا کر اور خیموں میں اور راہ میں غرض ہر حال میں تکبیر کہتے تھے اور لوگ بھی انکی تکبیر سن کر تکبیر کہتے تھے اور اسی آیت سے استدلال کرتے تھے وجہ استدلال کی یہ ہے کہ ایام تشریق میں مطلقاً کسی جگہ ذکر بالاتفاق واجب نہیں صرف منیٰ میں واجب ہے اور یہ آیت کریمہ : فمن تعجل الخ اس پر دال ہے اور یہ ظاہر ہے کہ یہ نیت عبادت وثواب وہاں رہنا ذکر ہے اور ذکر لسانی اگر ہو تو اور بھی اولیٰ و افضل ہے پس معلوم ہوا کہ اس آیت کا محمل اور مصداق منیٰ میں قیام کرنا ہے رمی نہیں ہے ہم کہتے ہیں کہ تم نے جو کچھ بیان کیا ہے یہ اس کے کچھ منافی نہیں کہ مجمل آیت رمی اوراقامۃ دونوں ہوں ‘ وا اللہ اعلم۔
جاننا چاہئے کہ حدیث نے اس آیت کا اجمال اس طرح واضح کیا ہے کہ یوم النحر میں صرف جمرہ عقبہ کی رمی سات کنکریوں سے واجب ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) ومالک (رح) کے نزدیک اس رمی کا وقت یوم النحر کی طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور امام احمد (رح) و شافعی (رح) کے نزدیک دسویں شب کی نصف کے بعد سے ہے اور مجاہد ؓ کے نزدیک یوم النحر کی طلوع آفتاب سے اس کا وقت ہے۔ مجاہد کی دلیل ابن عباس ؓ کی یہ حدیث ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے اہل میں ضعفاء کو آگے بھیج دیا اور یہ فرمایا کہ آفتاب نکلنے تک تم رمی نہ کرنا اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے اور صحیح کہا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ استحباب پر محمول ہے اور طلوع آفتاب سے پہلے صبح صادق کے بعد بھی رمی جائز ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ طحاوی نے خود اپنی سندوں سے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول ﷺ اللہ نے ابن عباس کو اور دوسرے ضعفا کو آگے بھیج دیا اور فرمایا کہ جمرہ کی صبح تک رمی نہ کرنا اور یہی حدیث اس امر کی بھی دلیل ہے کہ قبل از صبح رمی جائز نہیں۔ امام شافعی و احمد (رح) فرماتے ہیں کہ قبل از صبح جائز ہے کیونکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جناب رسول ﷺ اللہ نے ام سلمہ کو دسویں شب کو بھیج دیا انہوں نے قبل از فجر جمرہ کی رمی کی پھر آگے چل کر طواف افاضہ کیا اس حدیث کو دار قطنی نے روایت کیا ہے ہم کہتے ہیں یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں ضحاک بن عثمان راوی ہے اور قطان نے اس کو ( لین) ضعیف کہا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ نماز فجر سے پہلے رمی کی، طلوع فجر سے پہلے نہیں کی اس تقدیر پر یہ خود ہماری دلیل مجاہد (رح) کے خلاف ہوجائے گی۔ رمی کا آخری وقت امام ابو یوسف (رح) کے نزدیک زوال تک ہے کیونکہ جناب رسول ﷺ اللہ نے اس جمرہ کی رمی یوم نحر کو چاشت کے وقت کی ہے اور جمہور کے نزدیک آخر وقت غروب تک ہے کیونکہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ یوم نحر میں جناب رسول ﷺ اللہ سے لوگ مختلف سوال کرتے تھے آپ فرماتے تھے کچھ حرج نہیں چناچہ ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہ میں نے ذبح سے پہلے سر منڈا لیا فرمایا کچھ حرج نہیں اب ذبح کرلے ایک نے پوچھا کہ میں نے عشا کے بعد رمی کی ہے فرمایا کچھ ڈر نہیں، اس حدیث کو بخاری اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے اور عشاء کے بعد کا مطلب یہ ہے کہ بعد زوال کے رمی کی ہے کیونکہ عشاء کا اطلاق اس وقت پر ہے جو بعد زوال کے ہے غروب کے بعد مراد نہیں کیونکہ یوم نحر غروب سے پہلے پہلے کہلاتا ہے چناچہ اس حدیث کی بعض طرق میں صریح مذکور ہے کہ یہ سوال سائل نے ظہر کے وقت کیا تھا اور اس رمی کا آخر وقت گیارہویں تاریخ کے طلوع فجر تک ہے کیونکہ رسول اللہ نے چرواہوں کو رات کے وقت رمی کرنے کی اجازت عطا فرمائی تھی اس حدیث کو ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے اس اجازت عطا فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ معذور کو تو بلا کراہت رات کو رمی جائز ہے اور غیر معذور کو بہ کراہت جائز ہے اور ایام تشریق یعنی گیارہویں بارہویں تیرہویں کو تینوں جمروں کی رمی کرنا چاہئے ہر جمرہ کی رمی سات کنکریوں سے کرے۔ اس رمی کا اوّل وقت پہلے دن تو صبح سے ہے اور دوسرے دن بعد زوال کے ہے کیونکہ جابر ؓ کی حدیث میں ہے کہ پھر جناب رسول ﷺ اللہ نے دن ڈھلے تک رمی نہیں فرمائی اور آخر وقت ہر دن میں بلاکراہت غروب تک رمی کا وقت ہے اور معذور کے واسطے اگلے دن کی صبح صادق تک ہے اور غیر معذور کے واسطے صبح تک تاخیر کرنا مکروہ ہے دلیل اس کی وہی چرواہوں کی اجازت عطا فرمانے کی حدیث ہے۔ اسی طرح تیسرے دن یعنی تیرھویں تاریخ بھی بعد زوال کے اوّل وقت ہے اور آخر وقت غروب تک ہے اور یہی امام ابو یوسف اور محمد کا مسلک ہے صرف اوّل دو دنوں اور اس تیسرے دن میں اس قدر فرق ہے کہ اس تیسرے دن میں بعد غروب کے رمی بالاتفاق جائز نہیں کیونکہ وہ رات ایام تشریق کی نہیں اور رمی ایام تشریق ہی میں ہوتی ہے اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ تیرہویں تاریخ کو زوال سے پہلے بھی رمی جائز ہے لیکن مجھے اب تک اس قول کی دلیل صحیح معلوم نہیں ہوئی۔
ابن ہمام نے اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ یوم نفر ( تیرہویں تاریخ) کو جب دن بلند ہو تو رمی اور طواف صدر کا وقت آگیا اس حدیث کو بیہقی نے روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں طلحہ بن عمر راوی ہے بیہقی اور ابن معین اور دارقطنی نے اس کو ضعیف کہا ہے اور امام احمد اس کو متروک الحدیث کے لقب سے یاد کرتے ہیں اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا ایام تشریق میں رمی جمار کے اندر ترتیب واجب ہے یا نہیں۔ جمہور کے نزدیک تو ترتیب واجب ہے ( یعنی اوّل پہلے جمرہ کی رمی کرے پھر دوسرے کی پھر تیسرے کی) اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ترتیب سنت ہے جمہور کی دلیل تو یہ ہے کہ رائے سے کوئی امر تعبدی ثابت نہیں ہوتا اس لیے جس طریق وہیئت سے احادیث میں وارد ہے وہ طریق و ہیئت واجب ہے اور ترتیب کا فوت ہونا کسی جگہ نہیں آیا اس لیے ترتیب واجب ہے اور امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر تینوں جمروں کی رمی ایک نسک ہوتی تو بیشک تمام خصوصیات کی رعایت ضروری تھی لیکن یہ امر ثابت ہے کہ ہر جمرہ کی رمی علیحدہ مستقل نسک ہے اس لیے ہر جمرہ کی رمی میں تو تمام خصوصیات واردہ کی رعایت لازم ہے اور تمام جمروں کی رمی میں جو کہ مختلف علیحدہ علیحدہ نسک ہیں ‘ واجب نہیں جیسا کہ رمی اور ذبح اور حلق میں ترتیب شرط نہیں۔
میں کہتا ہوں کہ امام صاحب کے قول کے موافق تو قیاس سے یہ امر ثابت ہوتا ہے کہ یہ ترتیب اگرچہ شرط نہیں ہے لیکن پھر بھی واجب ہے اس کے ترک پر قربانی واجب ہونا چاہئے جیسے کہ اگر رمی اور ذبح اور حلق میں ترتیب فوت ہوتی ہے تو قربانی واجب ہوتی ہے اسی طرح یہاں بھی قربانی واجب ہونا ضروری ہے اب تک مجھ کو ان دونوں مسئلوں میں فرق صاف سمجھ نہیں آیا۔ وا اللہ اعلم
وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ( اور ڈرتے رہو خدا سے اور جانتے رہو کہ تم اس کے پاس جمع ہو گے) مطلب یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جانے رہو کہ تم سب اسی کے پاس جمع ہوگے پھر وہ تم کو تمہارے اعمال اور اخلاص کے موافق بدلہ دیں گے فقط وا اللہ اعلم۔
علامہ بغوی (رح) نے بروایت کلبی و مقاتل و عطا فرمایا ہے کہ اخنس بن شریف بنی زہرہ کا حلیف تھا اخنس اس کو اس لیے کہتے تھے کہ خنس لغت میں الگ ہوجانے کو کہتے ہیں چونکہ اخنس بھی بدر کے تین سو اشخاص کو لے کر جناب رسول اللہ کی معیت سے ہٹ گیا تھا اس لیے اس کا نام اخنس ہوگیا یہ شخص بہت شیریں کلام خوبصورت ملیح تھا جناب رسول اللہ کی خدمت میں آتا بیٹھتا اور باتیں بناتا تھا اور قسمیں کھا کھا کر کہتا تھا کہ مجھے آپ ﷺ سے محبت ہے اور حضور ﷺ بھی اسے ملاطفت فرماتے تھے واقع میں وہ منافق تھا اور اس کے بارے میں حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت کریمہ نازل فرمائی۔
Ayah 2:204وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ ( اور بعضا آدمی ایسا ہے کہ تم کو پسند آتی ہے اس کی بات) یعنی آپ کو اخنس کی بات اچھی معلوم ہوتی ہے ابن جریر نے سدی سے اس آیت کی تفسیر اسی طرح کی ہے اور ابن ابی حاتم اور ابن اسحاق نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مختصر لشکر جناب رسول اللہ نے کسی جگہ بھیجا تھا اور اس میں عاصم اور مرثد ؓ بھی تھے اتفاقاً اس لشکر نے شکست کھائی تو منافقین میں سے دو شخصوں نے کہا کہ یہ لوگ بھی کیسے بد نصیب تھے نہ تو چین سے اپنے اہل و عیال میں رہے اور نہ اپنے سردار ( جناب رسول ﷺ اللہ) کا پیغام ہی ادا کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت : و من الناس من یعجبک الخنازل فرمائی۔
فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ( دنیا کی زندگی میں) یا تو یعجبک کے متعلق ہے اس وقت یہ مطلب ہوگا کہ اس شخص کی بات آپ کو دنیا ہی میں پسند آتی ہے کیونکہ کلام فصیح اور شیریں ہوتا ہے اور آخرت کے اعتبار سے ناپسندیدہ ہے کیونکہ فضیحت اور رسوئی اس کا انجام ہے اور یا قولہٗ کے متعلق اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ یہ جو دنیا کی غرض سے دعویٰ محبت کا کرتا ہے اور اسلام ظاہر کرتا ہے یہ ہی آپ ﷺ کو پسندیدہ ہے ( فصاحت اور شیرینی کی حیثیت سے) ۔
وَيُشْهِدُ اللّٰهَ ( اور وہ گواہ بناتا ہے اللہ کو) یعنی یہ منافق اللہ کی قسم کھاتا ہے اور اللہ کو گواہ بناتا ہے۔
عَلٰي مَا فِيْ قَلْبِهٖ ( اس بات پر جو اس کے دل میں ہے) یعنی اس پر قسمیں کھاتا ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہے وہ زبان کے مطابق ہے اور کہتا ہے کہ قسم اللہ کی میں آپ پر ایمان لانے والا ہوں اور آپ ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔
وَھُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ ( حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے) یعنی حالانکہ یہ منافق مسلمانوں سے اشد درجہ کی عداوت اور خصومت رکھتا ہے۔ خصام خاصمت کا مصدر ہے زجاج نے کہا کہ خصام خصم کی جمع ہے جیسے بحار جمع بحر کی ہے اور و ھو الد الخصام یشہد کے فاعل سے حال ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو الد خصم ہو۔ قتادہ فرماتے ہیں یعنی جو معصیت کے اندر سخت قساوت والا باطل پر اڑنے والا ہو کلام تو حکمت کے کرے اور اعمال اچھے نہ ہوں۔
Ayah 2:205وَاِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِي الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيْهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ ۭ ( اور جب لوٹ کر جائے تو دوڑتا پھرے ملک میں تاکہ فساد پھیلائے اس میں اور تباہ کرے کھیتی اور نسل) مروی ہے کہ اخنس مذکور اور ثقیف کے درمیان کچھ نزاع تھا اخنس نے ان پر شب خون مارا اور ان کی کھیتیاں جلا ڈالیں اور انکے مویشی ہلاک کردیئے اور مقاتل نے فرمایا ہے کہ اخنس اپنے ایک مدیون کے پاس تقاضے کے لیے طائف گیا تھا وہاں جا کر اس کی کھیتی جلا دی اور اس کی ایک گدھی تھی اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے اس قصہ کو حق تعالیٰ نے : و اذا تولیٰ الخ سے بیان فرمایا ہے نسل ہر چوپا یہ اور انسان کی نسل کو بولتے ہیں۔ ضحاک نے فرمایا کہ : اذا تولٰی کے معنی یہ ہیں کہ کسی ملک کا والی اور بادشاہ ہوتا ہے تو فسادد کرتا ہے اور مجاہد نے فرمایا : و اذا تولٰی۔۔ کے معنی یہ ہیں کہ جب کسی ملک کا والی اور بادشاہ ہوتا ہے تو ظلم اور زیادتی کرتا ہے پھر اس ظلم کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بارش روک لیتے ہیں اور کھیتی اور مویشی ہلاک کردیتے ہیں۔ چونکہ موجب اور باعث اس ہلاکت کا یہی تھا اس لیے مجازاً اسی کی طرف نسبت کردی۔
وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ( اور اللہ پسند نہیں کرتا فساد کو) یعنی اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند فرماتے ہیں اس لیے اس پر جو اللہ کا غضب ہو اس سے بچنا چاہئے۔
Ayah 2:206وَاِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بالْاِثْمِ ( اور جب اس سے کہا جائے کہ ڈر اللہ سے تو آمادہ کرتا ہے اسکو غرور گناہ پر) قیل لہٗ میں ہٗ ضمیر سے مراد اخنس ہے۔ اخذتہ العذۃ ...... یعنی عار اور جاہلیت کی غیرت اور تکبر اس کو گناہ پر آمادہ کرتے ہیں۔ عرب بولتے ہیں اخذتہ بکذا یعنی میں نے اس کو فلاں کام پر برانگیختہ اور آمادہ کیا۔ بالاثم میں باء سببیت کی ہے۔ معنی یہ ہیں کہ جو گناہ اس کے قلب میں ہے یعنی کفر اس پر تکبر اس کو آمادہ کرتا ہے۔
فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ ( بس کافی ہے اس کو دوزخ) یعنی جہنم اس کو عذاب اور بدلہ کے لیے کافی ہے جہنم سزا کی جگہ کا نام ہے اصل میں یہ لفظ نار ( آگ) کا ہم معنی ہے بعض نے کہا یہ معرب ہے۔ مھاد کے معنی فرش یعنی بچھونا۔
وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ( اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے) یہ قسم مقدر کا جواب ہے اور مخصوص بالذم یعنی جہنم محذوف ہے۔ علامہ بغوی نے بیان کیا کہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص بندہ کو یہ کہے کہ اللہ سے ڈر وہ جواب میں کہے کہ میاں تم اپنی تو خیر لو۔ مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ سے کسی نے کہا کہ اللہ سے ڈرو۔ حضرت عمر ؓ نے فوراً اپنا رخسار براہ تواضع زمین پر رکھ دیا۔