2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 2:251

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے

فَهَزَمُوْھُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ ( پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے (یعنی اس کی مدد سے) ان کو بھگا دیا) داؤد ( علیہ السلام) مع اپنے والد اور تیرہ بھائیوں کے طالوت کے لشکر میں تھے اور طالوت کے ساتھ وہ بھی نہر اتر گئے تھے داؤد سب بھائیوں میں چھوٹے تھے بکریاں چرایا کرتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نبی کی طرف وحی بھیجی کہ جالوت کو یہ (لڑکا) مارے گا اور اس راستہ میں تین پتھروں نے ان سے کہا کہ ہم سے تم جالوت کو مارو گے اس لیے داؤد نے انہیں اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیا۔ طالوت انہیں ایک گھوڑا اور ایک زرہ اور ایک تلوار دینے لگے تو انہوں نے جواب دیا اگر اللہ نے میری مدد نہ کی تو یہ تلوار وغیرہ مجھے کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اس لیے آپ نے ان سب چیزوں کو وہیں چھوڑ دیا اور اپنی جھولی اٹھا کر دشمن کی طرف بڑھے آپ کا قد چھوٹا تھا دائم المریض زرد رنگ رہا کرتے تھے جب انہیں جالوت نے دیکھا تو وہ بڑا قوی ‘ قد آور ‘ تند خو ‘ تیز مزاج آدمی تھا اکیلا ہی بہت سے لشکروں کو بھگا دیتا تھا لیکن داؤد ( علیہ السلام) کا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں رعب ڈال دیا وہ ( انہیں دیکھ کر) کہنے لگا : کیا تم میرے پاس گو پیا اور پتھر لے کے آئے ہو جیسے کوئی کتے کو مارنے آیا کرتا ہے آپ نے فرمایا ہاں تو تو کتے سے بھی بد تر ہے پھر آپ نے ان تینوں پتھروں کو گوپھن میں رکھا اور ( بسم اللہ کی جگہ) کہا : باسم الہ ابراہیم و اسحاق و یعقوب اور گوپیا مارا تو پتھر جالوت کے بھیجے میں لگ کے گدی سے میں کو نکل گیا وَقَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ ( اور داؤد نے جالوت کو مار ڈالا) اور طالوت نے اپنی بیٹی سے ان کی شادی کردی۔ وَاٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ ( اور اسے ( یعنی داؤد کو) اللہ نے سلطنت دی) یعنی طالوت کے مرنے کے بعد بعض کہتے ہیں کہ داؤد سے پہلے بنی اسرائیل کسی سلطنت پر مجتمع نہیں ہوئے۔ وَالْحِكْمَةَ ( اور نبوت) یہ دونوں چیزیں اللہ نے حضرت داود ہی کو دی تھیں اور اس سے پہلے یہ دونوں نعمتیں (ایک آدمی میں) کبھی جمع نہیں ہوئیں بلکہ سلطنت شاہی خاندان میں رہتی تھی اور نبوت نبی کے خاندان میں۔ وَعَلَّمَهٗ مِمَّا يَشَاۗءُ (اور جو چاہا اسے سکھا دیا) اللہ نے داؤد ( علیہ السلام) کو زبور عنایت کی تھی اور زرہیں بنانا سکھا دیا تھا اور لوہے کو آپ کے واسطے نرم ( مثل موم کے) کردیا تھا پس آپ اپنے ہاتھ ہی کے کام کی مزدوری میں سے کھایا کرتے تھے مقدام بن معدی کرب کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ اس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں ہے جو اپنے ہاتھوں سے کرکے کھائے اللہ تعالیٰ کے نبی داؤد ( علیہ السلام) اپنے ہاتھوں ہی سے کرکے کھاتے تھے یہ حدیث بخاری نے روایت کی ہے داؤد کو اللہ تعالیٰ نے پرندوں کی بولی اور چیونٹی وغیرہ کی زبان سکھلا دی تھی اور اعلیٰ درجہ کی خوش آوازی عطا کی تھی بعض کہتے ہیں کہ جب آپ زبور پڑھا کرتے تھے تو جنگلی جانور آپ کے قریب آجاتے تھے اور لوگ انہیں ہاتھوں سے پکڑ لیتے تھے اور پرند آپ پر سایہ کرلیتے تھے اور چلتا پانی ٹھہر جاتا اور ہوا رک جاتی تھی رسول اللہ نے ابو موسیٰ اشعری سے فرمایا کہ اے ابو موسیٰ تمہیں آل داؤد کی خوش آوازیوں میں سے ایک خوش آوازی عطا ہوئی ہے یہ روایت متفق علیہ ہے۔ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ (اور اگر اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ( یعنی کفار کو) بعض سے ( یعنی مؤمونین سے) نہ دفع نہ کرتا رہے) نافع اور یعقوب نے دفع اللہ کو دفاع اللہ یہاں اور سورة حج میں بھی دال کے کسرہ اور فاء کے بعد الف بڑھا کر پڑھا ہے دفاع کے معنی ہیں دفع کے مفہوم سے زیادتی ہے باقی قراء نے دال کے فتح اور فاء کے جزم سے بغیر الف کے پڑھا۔ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ ( تو تمام زمین میں فساد پھیل جائے) یعنی تمام روئے زمین پر مشرک غالب آکر فساد برپا کردیں پھر تمام شہروں کو ویران کردیں اور بندگان الٰہی کو قتل کردیں اور ان پر ظلم کریں اور تمام یہود و نصاریٰ کے عبادت خانے اور مسجدیں ڈھادیں جن میں اللہ کا نام بکثرت لیا جاتا اور اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اللہ پر ایمان لانے اور اسکی عبادت کرنے سے روک دیں۔ یہ قول حضرت ابن عباس اور مجاہد کا ہے اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ جہاد فرض ہونے ( کا باعث اور اس) کی علت فساد رفع کرنا ہے جیسا کہ آیت : لا اِکْرَاہَ فِی الدِّیْن کی تفسیر میں ہم عنقریب ذکر کرینگے بعض مفسرین نے یہ معنی لیے ہیں کہ اگر مؤمنین اور نیک لوگوں کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کفار اور فجار سے عذاب کو دفع نہ کرتا تو تمام روئے زمین کی مخلوق برباد ہوجاتی بغوی نے عبد الرحمن بن احمد کے طریق سے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ : ان اللہ یدفع بالمسلم الصالح عن ماءۃ اھل بیت من حرانہ البلاء یعنی ایک نیک مسلمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسکے ہمسایوں میں سے سو گھر والوں کی بلا کو دفع کردیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض [ الایۃ ] اسکے علاوہ ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ اگر ( مخلوق میں) نماز پڑھنے والے اور دودھ پیتے بچے اور بےخطا جانور نہ ہوں تو تم پر بہت سخت عذاب ڈال دیا جائے۔ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ( اور لیکن اللہ سارے عالم ( کے لوگوں) پر فضل کرتا ہے۔
Ayah 2:252

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو سچائی کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں (اور اے محمدﷺ) تم بلاشبہ پیغمبروں میں سے ہو

تِلْكَ ( یہ) تلک مبتداء ہے اور آگے اسکی خبر ہے یہ مذکورہ قصوں کی طرف اور طالوت کو بادشاہ کرنے اور تابوت بھیجنے اور سرکش لوگوں کو بھگانے اور داؤد ( علیہ السلام) کے جالوت کو مار ڈالنے اور انکو سلطنت اور حکم اور جو چاہا انہیں سکھا دینے کی طرف اشارہ ہے۔ اٰيٰتُ اللّٰهِ ( اللہ کی آیتیں ہیں) یعنی اس کی قدرت اور تمہاری نبوت کی دلیلیں ہیں۔ نَتْلُوْھَا عَلَيْكَ بالْحَقِّ ( ہم سچائی کے ساتھ پڑھ کر تمہیں سناتے ہیں) یعنی اس طریقہ پر جو واقعہ کے مطابق ہے جس میں اہل کتاب کو بھی شک نہیں۔ وَاِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ ( اور بیشک تم پیغمبروں میں سے ہو) اور یہ آیتیں تمہاری پیغمبری پر یقینی شاہد ہیں کیونکہ جس نے کسی کتاب کو نہ پڑھا ہو وہ ان کو ہرگز نہیں جان سکتا۔ اللہ نے کفارکا یہ قول کہ تم پیغمبر نہیں ہو رد کرنے کے لیے یہاں اِنَّ وغیرہ سے تاکید کی ہے۔
Ayah 2:253

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہیں ہیں) ان میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے خدا نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے امور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ بن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے ان کو مدد دی۔ اور اگر خداچاہتا تو ان سے پچھلے لوگ اپنے پاس کھلی نشانیاں آنے کے بعد آپس میں نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا تو ان میں سے بعض تو ایمان لے آئے اور بعض کافر ہی رہے۔ اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ باہم جنگ و قتال نہ کرتے۔ لیکن خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

تِلْكَ الرُّسُلُ تِلْکَ سے مرسلین کی جماعت کی جانب اشارہ ہے آیت مندرجۂ بالا وَاِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ سے جماعت مرسلین کا علم ہوچکا ہے۔ الرسل میں لام استغراقی ہے ( یعنی تمام پیغمبر) تِلْکَ موصوف ہے الرسل اس کی صفت ہے دونوں کا مجموعہ مبتدا ہے اور فضلنا بعضھم علی بعض خبر ہے۔ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ (ہم نے (مذکورۂ بالا) پیغمبروں کی جماعت میں سے ایک کو دوسرے پر برتری عطا فرمائی) ۔ (لغت میں) فضل کا معنی ہے کسی صفت میں زیادتی یعنی وصف مشترک میں ایک چیز کا دوسری چیز سے بڑھ جانا ہے لیکن عرف اور اصطلاح میں فضل ایسے کمال کی زیادتی کو کہتے ہیں جس پر دنیا میں ستائش اور آخرت میں ثواب مرتب ہو۔ اب اگر ایک میں مخصوص طور پر ایک کمال ہو اور دوسرے میں خصوصیت کے ساتھ دوسرا کمال تو فی الجملہ ہر ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہوجاتی ہے یعنی ( جدا جدا) دنیوی ستائش اور اخروی ثواب کا استحقاق دونوں کو حاصل ہوتا ہے لیکن پوری پوری فضیلت اسی کو حاصل ہوتی ہے جس کو ثواب اور قرب الٰہی زیادہ حاصل ہو۔ تمام انبیاء اور پیغمبر اگرچہ وصف رسالت و نبوت میں شریک ہیں اور سب کو اجرو ثواب کا استحقاق ہے لیکن کثرت ثواب اور مراتب قرب میں ان کے درمیان اتنا تفاوت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی اس سے واقف نہیں ہاں اللہ کے بتانے سے ہی اس کا علم ہوسکتا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے۔ مِنْھُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ (ان میں سے کوئی تو وہ تھا جس سے اللہ نے کلام کیا) اہل تفسیر کہتے ہیں اس سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) ہیں کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ کے متعلق ہی فرمایا ہے : فَلَمَّا جَاءَ مُوسٰی لِمِیْقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۔۔ لیکن اس آیت سے تو یہ نہیں معلوم ہوتا کہ حضرت موسیٰ کو ہی یہ فضیلت دی گئی تھی ( ہاں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے ہم کلام ہونا اس سے ثابت ہوتا ہے پس ہوسکتا ہے کہ اللہ نے کسی دوسرے پیغمبر سے بھی کلام کیا ہو) اسی لیے بعض لوگ کہتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور آنحضرت ﷺ دونوں مراد ہیں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے طور پر کلام کیا اور حضور سرور کائنات فخر موجودات ﷺ سے شب معراج میں جبکہ بقدر دو کمانوں کے یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا تھا اس وقت اللہ نے اپنے بندہ کو وحی سے سرفراز فرمایا ان دونوں حالتوں اور کلاموں میں عظیم الشان تفاوت ہے۔ وَرَفَعَ بَعْضَھُمْ دَرَجٰتٍ (اور کوئی وہ تھا جس کو بمراتب بلندی عطا فرمائی) یعنی بعض کو بعض پر یا بعض کو باقی تمام سے اونچا کردیا۔ بعض انبیاء کو بعض پر بمراتب بلندی تو بہت سے انبیاء کو حاصل ہوئی تھی رسولوں کو انبیاء پر فضیلت عطا کی گئی تھی پھر اولوا العزم رسولوں کو دوسرے رسولوں پر بھی بہت رفعت حاصل تھی لیکن تمام رسولوں اور نبیوں پر برتری صرف رسول اللہ کو حاصل ہوئی تھی۔ اس قول کا ثبوت احادیث سے ہوتا ہے اور اسی پر اجماع امت ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کے دن میں بنی آدم کا سردار ہوں گا اور ( میرا یہ کلام بطور) فخر نہیں ہے۔ میرے ہاتھ میں حمد کا پھریرا ہوگا اور ( میرا یہ قول بھی بطور) فخر نہیں ہے آدم کی تمام اولاد اور اس کے علاوہ دوسرے بھی میرے ہی جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور جب زمین شق ہوگی تو سب سے اوّل میں ہی برآمد ہوں گا اور ( یہ بھی بطور) فخر نہیں ہے اور میں ہی سب سے اوّل سفارشی ہوں گا اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ کچھ صحابی ؓ بیٹھے باتیں کر رہے تھے حضور اقدس ﷺ برآمد ہوئے اور صحابیوں ؓ کو باتیں کرتے سنا۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا تھا۔ دوسرے نے کہا موسیٰ ( علیہ السلام) سے اللہ نے کلام کیا۔ تیسرے نے کہا عیسیٰ کلمۃ اللہ اور روح اللہ تھے۔ چوتھے بولے آدم کو صفی اللہ بنایا تھا۔ حضور ﷺ نے برآمد ہو کر فرمایا : میں نے تمہاری تعجب خیز باتیں سنیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ تھے بیشک وہ ایسے ہی تھے اور موسیٰ کلیم اللہ تھے واقعی وہ ایسے ہی تھے اور عیسیٰ ( علیہ السلام) کلمۃ اللہ اور روح اللہ تھے حقیقت میں وہ ایسے ہی تھے اور آدم صفی اللہ تھے جبکہ وہ اسی طرح تھے۔ لیکن میں حبیب اللہ ہوں ﷺ اور ( میرا یہ کلام بطور) فخر نہیں۔ میں ہی جنت کی زنجیر سب سے پہلے کھٹکھٹاؤں گا اور اللہ میرے لیے جنت کو کھول دے گا اور مجھے اندر داخل فرمائے گا۔ اس وقت میرے ساتھ فقراء مسلمین بھی ہوں گے اور ( یہ بات بطور) فخر نہیں۔ میں اللہ کے ہاں تمام اگلوں پچھلوں سے زیادہ معزز ہوں اور ( یہ کلام بھی بطور) فخر نہیں۔ (ترمذی و دارمی) حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں قائدِ مرسلین ہوں اور ( یہ کلام بطور) فخر نہیں۔ میں خاتم النبییّن ہوں اور ( یہ کلام بطور) فخر نہیں میں سب سے اوّل سفارش کرنے والا ہوں اور سب سے پہلے میری سفارش مانی جائے گی اور ( یہ بات بھی بطور) فخر نہیں۔ ( دارمی) حضرت ابی بن کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت کا دن ہوگا تو میں انبیاء کا امام ‘ خطیب اور ان کی طرف سے سفارشی ہوں گا اور اس پر مجھے کوئی فخر نہیں۔ (ترمذی) حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : زمین شق ہونے کے بعد سب سے اوّل میں ہی برآمد ہوں گا اور مجھے جنت کا خلعت (لباس) پہنایا جائے گا۔ پھر عرش کے دائیں جانب اس مقام پر میں کھڑا ہوں گا کہ میرے سوا اس جگہ پر مخلوق میں سے کوئی کھڑا نہ ہوگا۔ (ترمذی) حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ( میرے لیے) اللہ سے وسیلہ طلب کرو صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! وسیلہ کیا چیز ہے ؟ فرمایا : جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے جس پر صرف ایک شخص پہنچے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ پہنچنے والا میں ہی ہوں گا۔ (ترمذی) یہ تمام احادیث اگرچہ احاد ہیں لیکن معنی کے لحاظ سے ان میں تواتر ہے اور امت اسلامیہ نے ان کو مانا ہے۔ امام محی السنۃ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ رسول اللہ کو ان جیسے تمام معجزات دیئے گئے تھے جو دوسرے پیغمبروں کو الگ الگ دیئے گئے تھے اور اس مجموعہ معجزات کے علاوہ بھی آپ کو معجزات عطا فرمائے گئے تھے جیسے انگلی کے اشارہ سے چاند کا پھٹ جانا۔ آپ کے جدا ہونے کی وجہ سے ستون حنانہ کا رونا، پتھروں اور درختوں کا آپ کو سلام کرنا، چو پایوں کا کلام کرنا اور آپ ﷺ کی رسالت کی شہادت دینا۔ آپ کی انگلیوں کے درمیان سے فوارہ کی طرح پانی کا پھوٹ کر نکلنا ان کے علاوہ بیشمار معجزات تھے جن میں سے سب سے نمایاں قرآن مجید ہے جس کی مثل پیش کرنے سے آسمان و زمین کے باشندے عاجز رہے اس بیان کے بعد بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہر نبی کو کوئی ایسا معجزہ دیا گیا جو دوسرے انسانوں کی قدرت سے خارج تھا اور مجھے جو معجزہ عطا کیا گیا وہ اللہ کا کلام (قرآن) ہے جو میرے پاس وحی کے ذریعے سے بھیجا گیا پس مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے متبعین کی تعداد زیادہ ہوگی۔ ( متفق علیہ) بغوی (رح) نے اپنی سند سے بحوالہ حضرت جابر ؓ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں عطا کی گئیں ایک ماہ کی مسافت تک میرا رعب ڈال کر میری مدد کی گئی، زمین کو میرے لیے مسجد اور پاک قرار دیا گیا لہٰذا میری امت میں سے جس کسی کو ( جہاں) نماز کا وقت آجائے وہ ( وہیں) نماز پڑھ لے ( خواہ مسجد ہو یا گھر یا صحرا وغیرہ) میرے لیے مال غنیمت حلال کیا گیا مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور مجھے شفاعت ( کا حق) دیا گیا اور ہر نبی کو صرف اسی کی قوم کی ہدایت کے لیے بھیجا جاتا رہا مگر مجھے سب لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا۔ (متفق علیہ) بغوی (رح) نے اپنی سند سے بروایت حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا : چھ امور میں مجھے انبیاء پر برتری عطا فرمائی گئی مجھے الفاظ جامعہ ( یعنی ایسے الفاظ جو باوجود مختصر ہونے کے معانی کثیرہ اور حقائق عظیمہ کو حاوی ہوں) دیئے گئے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال کر میری مدد کی گئی۔ مال غنیمت میرے لیے حلال کیا گیا۔ میرے لیے زمین کو مسجد اور پاک قرار دیدیا گیا۔ مجھے تمام مخلوق ( جن و انس) کے لیے بھیجا گیا۔ مجھ پر انبیا کو ختم کردیا گیا۔ (مسلم) اس مبحث کی تفصیل بہت طویل ہے تنگی مقام مفصل بیان کی اجازت نہیں دیتی اس موضوع پر بڑی بڑی کتابیں تصنیف کی جا چکی ہیں۔ وَاٰتَيْنَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنٰتِ (اور عیسیٰ بن مریم ( علیہ السلام) کو ہم نے کھلے ہوئے معجزات عطا کیے۔ حضرت عیسیٰ نے پالنے کے اندر ہی لوگوں سے باتیں کیں آپ مادر زاد نابینا اور برص کی بیماری والے کو تندرست کردیا کرتے تھے۔ آپ مردوں کو زندہ کردیتے تھے اور آسمان سے آپ پر خوان اتارا گیا تھا۔ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ (اور جبرائیل ( علیہ السلام) کے ذریعہ سے ہم نے اس کی مدد کی تھی) اس کی تشریح پہلے گذر چکی ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہودی حد سے زیادہ آپ کی توہین کرتے تھے ( نعوذ باللہ حرامی بچہ کہتے تھے) اور عیسائی آپ کی تعظیم میں بہت آگے بڑھ چکے تھے ( نعوذ باللہ خدا کا بیٹا کہنے لگے تھے) ۔ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ (مفعول محذوف ہے) یعنی اگر اللہ سب لوگوں کو ہدایت کرنا چاہتا تو۔ مَا اقْتَتَلَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِھِمْ (پیغمبروں کے بعد لوگ باہم نہیں لڑتے۔ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْھُمُ الْبَيِّنٰتُ (کھلے ہوئے معجزات آنے کے بعد) وَلٰكِنِ اخْتَلَفُوْا (لیکن اللہ نے اپنی جلالی و جمالی صفات اور اپنے مختلف اسماء ( مثلاً ) ہادی ‘ مضل ‘ غفار ‘ قہار ‘ منتقم اور عفو کا ظہور چاہا اس لیے ( کفر و اسلام اور ہدایت و گمراہی میں) لوگ مختلف ہوگئے۔ فَمِنْھُمْ مَّنْ اٰمَنَ (پس کچھ تو ایمان لے آئے ( یعنی اللہ نے اپنی مہربانی سے دین انبیاء کا پابند رہنے کی ان کو ہدایت و توفیق عطا فرمادی) یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت ہدایت کا مظہر قرار پایا۔ وَمِنْھُمْ مَّنْ كَفَرَ (اور کچھ وہ لوگ ہوئے جنہوں نے کفر کیا یعنی اللہ نے تقاضائے عدل کے تحت ان کی مدد نہیں کی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کا دین اللہ کی صفت اضلال کا مظہرقرار پایا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا پس جس نے وہ نور پا لیا ہدایت یاب ہوگیا اور جو نور کو نہ پاسکا وہ گمراہ ہوگیا اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ علم الٰہی کے مطابق قلم ( لکھ کر) خشک ہوگیا۔ (احمد وترمذی) وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا اس جملہ کا دوبارہ ذکر اوّل جملہ کی تاکید کے لیے ہے۔ ۣوَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ (لیکن اللہ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ کوئی اس کی حکمت کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ امام بغوی کا بیان ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب سے دریافت کیا امیر المؤمنین مجھے تقدیر کی حقیقت بتا دیجئے۔ فرمایا یہ تاریک راہ ہے اس پر نہ چل۔ اس نے مکرر سوال کیا آپ نے فرمایا یہ گہرا سمندر ہے اس میں داخل نہ ہو۔ اس نے سوال کا پھر اعادہ کیا تو فرمایا یہ پوشیدہ راز ہے اس کی جستجو نہ کر۔ یعنی حقیقت تقدیر ناقابل فہم ہے انسانی دانش کی وہاں تک رسائی نہیں جس طرح گہرے سمندر میں گھسنا اور تاریک راہ میں چلنا تباہی آفریں ہے اسی طرح اس حقیقت (سر بستہ) کی جستجو ہلاکت انگیز ہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا میں نے خود سنا کہ رسول اللہ فرما رہا تھے جس نے تقدیر کے معاملہ میں کچھ گفتگو کی اس سے قیامت کے دن باز پرس ہوگی اور اگر کچھ نہ کہا تو سوال نہ ہوگا۔ (ابن ماجہ) حضرت ابی بن کعب ؓ نے فرمایا اگر اللہ تمام آسمان و زمین کے رہنے والوں کو عذاب دے تو اس کا عذاب ظلم نہ ہوگا اور اگر سب پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہوگی ( یعنی اعمال موجب سزا ہیں اور مجرم کو سزا دینا ظلم نہیں اور رحم کرنا اس کی مہربانی ہے اور مہربانی اعمال کے زیر اثر نہیں بلکہ اعمال سے بہتر ہوگی) اگر تم کو ہِ احد کی برابر سونا راہ خدا میں خرچ کرو تو اللہ قبول نہیں فرمائے گا۔ تاوقتیکہ تمہارا ایمان تقدیر پر نہ ہو اور جب تک تم کو اس کا یقین نہ ہو کہ جو کچھ تم کو پہنچنے والا ہے وہ پہنچ کر رہے گا اور نہیں پہنچنے والا ہے تو نہیں پہنچے گا اگر اس عقیدہ کے خلاف دوسرے عقیدہ پر مرو گے تو دوزخ میں جاؤ گے۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت حذیفہ بن یمان ؓ کے اقوال بھی اسی مضمون کے مروی ہیں بلکہ حضرت زید بن ثابت نے تو فرمان نبوی اسی مضمون کا بیان کیا ہے۔ ( احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ) ایک شبہ : آیت مذکورہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ بعض انبیاء بعض سے افضل تھے لیکن حضرت ابو سعید و حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کے پیغمبروں کے درمیان ( باہمی تفضیل نہ کرو) دوسری روایت میں ہے کہ ایک کو دوسرے پر برتری نہ دو ۔ (صحیحین) حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک اور روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے موسیٰ ( علیہ السلام) سے برتر نہ کہو ایک دوسری حدیث میں فرمایا : میں قائل نہیں کہ کوئی بھی یونس بن متی سے افضل ہے۔ ( متفق علیہ) ازالہ : حضور ﷺ کی مراد یہ ہے کہ جب تک اللہ نہ بتادے خود اپنی رائے سے دلیل شرعی کے بغیر ایک پیغمبر کو دوسرے پر فضیلت دینا جائز نہیں کیونکہ فضیلت کا معنی کثرت ثواب اور قرب خداوندی کے زیادتی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور انسانی رائے سے اس کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا ہاں اگر قرآن یا حدیث سے بعض انبیاء کی بعض پر فضیلت ثابت ہو تو تفضیل بین الانبیاء میں کوئی حرج نہیں ہے اب اگر دلیل فضیلت قطعی ہو تو تفضیل شخصی کا عقیدہ رکھنا واجب ہے اور اگر دلیل متن حدیث یا اسناد حدیث کے لحاظ سے ظنی ہو جس میں غلطی کا احتمال ہوسکتا ہو تب بھی تفضیل بین الانبیاء کا عقیدہ رکھنے میں کوئی گناہ نہیں اسی پر انبیاء کے علاوہ دوسروں کو قیاس کرنا چاہئے کہ دلیل ظنی کی بنا پر کسی عالم (صحابی، تابعی وغیرہ) کو دوسرے عالم پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مؤخر الذکر دونوں حدیثیں اس وقت کی ہوں جب کہ رسول اللہ کو تمام انبیاء پر اپنی فضیلت معلوم نہ ہوئی ہو۔ وا اللہ اعلم۔ مسئلہ : معتزلہ کا قول ہے کہ جو چیز بندوں کے لیے اصلح یعنی زیادہ مفید ہے اس کو کرنا خدا پر واجب ہے اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ پر کوئی چیز لازم نہیں تمام حوادث اس کی مشیت کے تابع ہیں وہ سب کچھ کرسکتا ہے اچھائی ہو یا برائی، ایمان ہو یا کفر اس آیت سے اہل سنت کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تمام آدمیوں کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں جس طرف چاہتا ہے موڑ دیتا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! اے دلوں کو پھیر دینے والے ہمارے دلوں کو اپنی طاعت کی طرف پھیر دے۔ (مسلم، احمد، ترمذی) ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت انس کی روایت سے اور امام احمد نے حضرت ابو موسیٰ ؓ کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے۔
Ayah 2:254

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ (اے اہل ایمان ہم نے اپنے عطا کردہ رزق میں سے جس چیز کو خرچ کرنا تم پر واجب کردیا ہے اس کو خرچ کرو۔ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ (اس دن کے آنے سے پہلے جس میں تم اپنے قصور کی تلافی اور عذاب خداوندی سے بچاؤ نہیں کرسکو گے۔ لَّا بَيْعٌ (کیونکہ اس روز خریدو فروخت نہ ہوگی کہ مال حاصل کرکے راہ خدا میں خرچ کرسکو یا عذاب سے اپنی جانوں کو بچانے کے لیے بطور عوض مال دے سکو۔ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ (اور نہ دوستی ہوگی کہ دوست تمہاری مدد کرسکیں یا دوستی کی وجہ سے چشم پوشی کرسکیں۔ وَّلَا شَفَاعَةٌ (اور نہ بغیر اذن خدا سفارش ہوگی) ابو عمرو (رح) اور ابن کثیر نے اس آیت میں لَا کے بعد تینوں لفظوں پر اور سورۂ ابراہیم کی آیت : لَا بَیْعٌ فِیْہِ وَ لَا خِلَالٌ میں دونوں لفظوں پر اور سورة طور کی آیت : لَا لَغْوٌ فِیْھَا وَ لَا تَاثِیْمٌ میں دونوں لفظوں پر فتحہ بغیر تنوین کے پڑھا ہے اور اصل استعمال یہی ہے ( یعنی لا نفی جنس کے لیے ہے اور یہی لَا کا اصل استعمال ہے باقی قاریوں نے ہر جگہ لَا کے بعد رفع مع تنوین پڑھا ہے کیونکہ یہ سوال محذوف کا جواب ہے سوال ہوتا تھا کہ کیا اس روز بیع یا دوستی یا سفارش ہو سکے گی اس کا جواب دیا اس روز نہ بیع ہوگی نہ دوستی نہ سفارش۔ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (اور کافر ہی بےجا حرکتیں کرنے والے ہیں ‘ عبادت بےمحل کرتے ہیں اور مال صرف بےمحل کرتے ہیں علاوہ ازیں اللہ کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے اور اپنی جانوں کو عذاب خداوندی میں مبتلا کرتے ہیں اس طرح وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ پس اے ایمان والو ! تم ان کی طرح نہ بنو۔ یا آیت میں الکافرون سے مراد وہ کافر ہیں جو زکوٰۃ کی فرضیت کے منکر تھے۔ بیضاوی (رح) نے لکھا ہے الکافرون سے مراد ہیں زکوٰۃ نہ دینے والے، ترک زکوٰۃ کی برائی کی شدت کو ظاہر کرنے کے لیے زکوٰۃ نہ دینے کو کفر سے تعبیر کیا۔ جیسے حج نہ کرنے کو کفر کرنے سے تعبیر کیا ہے اور من لَم یُحجُّ کی جگہ من کَفَرَ فرمایا ہے نیز آیت : ویل للمشرکین الذین لا یاتون الزکٰوۃ میں عدم ادائے زکوٰۃ کو مشرکوں کی صفت قرار دیا ہے اور یہ اشارہ کیا ہے کہ ترک زکوٰۃ کافروں کی خصوصیت ہے۔ حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد عرب مرتد ہوگئے اور کہنے لگے ہم زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : اگر یہ اونٹ کی ٹانگ باندھنے کی رسیّ دینے سے بھی انکار کریں گے تو میں ان کے خلاف جہاد کروں گا۔ میں نے کہا : اے جانشین رسول اللہ لوگوں کو ملائے رکھئے ان سے نرمی کیجئے فرمایا : تم جاہلیت میں تو بڑے سخت تھے ( اب) اسلام میں کیا ضعیف ہوگئے۔ یقیناً وحی ختم ہوگئی دین کامل ہوگیا تو کیا میری زندگی میں دین میں نقصان ہو سکے گا۔ (رواہ رزین)
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْـحَيُّ (یعنی عبادت کا مستحق اللہ ہی ہے اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، اسی کا دانا بینا شنوا اور صاحب قدرت و ارادہ ہونا درست ہے اور تمام مناسب صفات اس کے لیے لازم ہیں وہ خود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اس کی تمام صفات بھی ازلی ابدی ہیں کیونکہ عدم فعلیت اور امکان سے وہ پاک ہے پس حیات ہی اس کی تمام صفات کمالیہ کا سرچشمہ ہے۔ الْقَيُّوْمُ (مخلوق کو تھامنے والا) عمر وبن مسعود ؓ کی قرأت میں اَلْقِیَّام اور علقمہ کی قرأت میں اَلْقَیّمُ ہے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے ان تمام الفاظ کا معنی ایک ہی ہے۔ قیوم کا معنی ہے نگران۔ (ابن مجاہد) یا ہر نفس کے اعمال کا نگران۔ (کلبی) قیوم کا ترجمہ منتظم بھی کیا گیا ہے۔ ابو عبیدہ ؓ نے کہا قیوم کا معنی ہے غیر فانی۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ قیوم وہ ہے جو ہمیشہ مخلوق کی حفاظت اور تدبیر کرنے والا ہو سیوطی (رح) نے ترجمہ کیا ہے ہمیشہ باقی رہنے والا۔ میں کہتا ہوں ان تمام اقوال کا مشترک معنی یہ ہے کہ اللہ لا زوال ہے بذات خود موجود ہے دوسری چیزوں کی نگرانی کرنے اور ہستی کو قائم رکھنے والا ہے اس کے بغیر کسی چیز کی بقاء اور ہستی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اللہ کے قیوم ہونے کا تقاضا ہے کہ جس طرح ہر چیز اپنی ہستی کے لیے خدا کی محتاج ہے اسی طرح بقاء ہستی میں بھی اس سے بےنیاز نہیں ہے جس طرح سایہ اصل شئ کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ کائنات اللہ کی محتاج ہے شان اعلیٰ اللہ کی ہی ہے۔ لَا تَاْخُذُهٗ سِـنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ( اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند) اونگھ کا ذکر نیند سے پہلے کیا باوجود یکہ زوربیان کا تقاضا تھا کہ نیند کا ذکر اونگھ سے پہلے کیا جاتا ( کیونکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو نیند نہیں آتی نیند تو نیند اونگھ بھی نہیں آتی۔ ) مذکورہ طرز بیان کی وجہ یہ ہے کہ وجود خارجی کے لحاظ سے اونگھ نیند سے پہلے ہوتی ہے۔ اونگھ اعصاب دماغی کی وہ سستی ہوتی ہے جو نیند کا پیش خیمہ ہوتی ہے اور نیند اس استرخائی کیفیت کو کہتے ہیں جو مرطوب بخارات کے چڑھنے سے دماغی اعصاب میں پیدا ہوجاتی ہے اور اعضاء کے اسی ڈھیلے پن کی وجہ سے ظاہری حواس ( بیرونی) احساس سے بیکار ہوجاتے ہیں۔ آیت مذکورہ میں صفت سلبیہ کا اظہار ہے جس سے تشبیہ ( مخلوق سے مشابہت) کی نفی ہو رہی ہے گویا اللہ کے حی وقیوم ہونے کی یہ تائید ہے نیند موت کی بہن ہے جس کو نیند یا اونگھ آتی ہے اس کا (بیرونی) نظام زندگی درست نہیں رہتا۔ وہ اشیاء کی حفاظت اور نگہداشت سے (نیند کے اوقات میں) قاصر ہوجاتا ہے اسی لیے القیوم اور لا تاخذہ کے درمیان حرف عاطف نہیں لایا گیا ( کیونکہ حرف عطف مغایرت پر دلالت کرتا ہے اور یہاں فقدانِ نُعاس و نوم اللہ کی قیومیت کی دلیل ہے) حضرت ابو موسیٰ اشعری کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے ہمارے مجمع میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں فرمائیں۔ فرمایا : کوئی شک نہیں کہ اللہ نہیں سوتا اور نہ سونا اس کے لیے زیبا ہے۔ وہ میزان کو نیچا اونچا کرتا ہے، اس کے سامنے رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے لائے جاتے ہیں اور دن کے اعمال کی پیشی رات کے اعمال (آنے) سے پہلے ہوجاتی ہے۔ اس کا حجاب نور ہے اگر پردۂ نور الٹ جائے تو اس کے انوار جمال حد نگاہ تک مخلوق کو سوختہ کردیں۔ (مسلم) لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ (آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ ) یہ جملہ اللہ کی قیومیت کی تائید اور توحید الوہیت کی دلیل ہے مراد یہ ہے کہ زمین و آسمان کی حقیقت کا جن اجزاء سے قوام ہوا ہے یا وہ اشیاء جو آسمان و زمین کے قوامی اجزاء تو نہیں ہیں مگر ان کے اندر موجود ہیں سب کی سب اللہ ہی کی ہیں اگر لہ السموات والارض و ما فیہن کہا جاتا تو مفہوم مذکور اس جملہ سے پورے طور پر ادا نہیں ہوتا۔ مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗٓ اِلَّا بِاِذْنِهٖ (اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کون سفارش کرسکتا ہے) یہ عظمت خداوندی کا اظہار ہے اور اس امر کا بیان ہے کہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے برابر اور ہمسر نہیں کہ خود سفارش کرے اللہ کے عذاب کو دور کرسکے مقابلہ کرکے عذاب کو روک دینے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ (وہی ان کے سامنے کی اور پیچھے کی چیزوں کو جانتا ہے یعنی ان سے پہلے کی اور بعد کو آنے والی چیزوں کو یا ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو انسان جانتے ہیں اور ان چیزوں کو بھی جن کو انسان نہیں جانتے یا ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو لوگ لیتییا ترک کرتے ہیں یا کسی چیز کو انداز کردینا بتاتا ہے کہ انداز کرنے والے نے اس چیز کو پس پشت پھینک دیا۔ ھُمْ کی ضمیر ما فی السموات والارض کی طرف راجع ہے ما فی السمٰوات والارض عاقل اور بےعقل دونوں کو شامل ہے لیکن اہل عقل کو بےعقل مخلوق پر ترجیح دے کر ایسی ضمیر ذکر کردی جو اہل عقل کے لیے مخصوص ہے اور بےعقل مخلوق اہل عقل کے ذیل میں آگئی یا ھُمْ کی ضمیر ذا کی طرف راجع ہے (جومَنْ ذَالَّذی میں مذکور ہے) اور ذَا سے مراد ہیں انبیاء اور ملائکہ۔ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖٓ ( اور اہل علم اللہ کے علم کے کسی حصہ کا احاطہ نہیں کرسکتے یعنی اللہ کی معلومات کے کسی حصہ کو پورے طور پر نہیں جان سکتے۔ اللہ کو ہر چیز معلوم ہے پھر من عِلْمِہٖ کی قید لگانے سے اس بات پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ کوئی علمی احاطہ نہیں کرسکتا۔ احاطہ علمی کی نفی سے مراد ہے ایسے علم کامل کی نفی جو تمام اشیاء کی حقیقت کو محیط ہو۔ علم محیط صرف باری تعالیٰ کی خصوصیت ہے کسی مخصوص چیز کی حقیقت کا کامل علم بطور ندرت ممکن ہے کہ کسی کو ہوجائے لیکن تمام اشیاء کی حقیقت کوئی نہیں جانتا۔ یا علم سے مراد وہ علم غیب ہے جو اللہ کے لیے مخصوص ہے یعنی اللہ کے علم غیب کے کسی حصہ کو کوئی احاطہ کے ساتھ نہیں جانتا۔ اِلَّا بِمَا شَاۗءَ (ہاں جس چیز کا علم اللہ دینا چاہے) تو اس کو مخلوق کا علم محیط ہوتا ہے اور ایسا کم ہے اللہ نے خود ارشاد فرمایا ہے : وما اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلاً وَ لَا یُحِیْطُوْنَ میں واؤ حالیہ ہے اور یعلم کی ضمیر فاعلی ذوالحال ہے ‘ یا واؤ عاطفہ ہے۔ دونوں جملوں کا مجموعہ بتارہا ہے کہ محیط کل اور ہمہ گیر علم ذاتی اللہ کی خصوصیت ہے اور یہ اللہ کی وحدانیت کا ثبوت ہے اس لیے دونوں جملوں کے درمیان حرف عطف کو ذکر کیا۔ وَسِعَ كُرْسِـيُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (اس کی کرسی آسمانوں اور زمینوں کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے۔ بیضاوی (رح) نے لکھا ہے یہ محض تمثیل 1 ؂ ہے اللہ کی عظمت کی تصویر کشی مقصود ہے ورنہ واقع میں نہ اللہ کی کرسی ہے اور نہ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ سعید بن جبیر ؓ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : کرسی سے مراد علم ہے مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔ صحیفہ علمی 2 ؂ کو کُرَّاسۃ اسی وجہ سے کہتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ کرسی سے مراد حکومت اور اقتدار ہے موروثی حکومت کو عرب کرس کہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ اگر کرسی کا معنی علم یا اقتدار قرار دیا جائے تو آیت : لہ ما فی السموات وما فی الارض یعلم مابین ایدیھم و ما خلفھم کے بعد جملہ مذکورہ کا ذکر بےسود ہوگا ( کیونکہ آیت مذکورہ کا ابتدائی حصہ اللہ کے اقتدار پر اور آخری حصہ اللہ کے کمال علمی پر دلالت کر رہا ہے) محدثین کا مشہور قول یہ ہے کہ کرسی ایک جسم ہے ( جس میں لمبائی، چوڑائی اور موٹائی ہے) بغوی (رح) کا بیان ہے کہ کرسی ( کے مصداق) میں علماء کا اختلاف ہے حسن کا قول ہے کہ کرسی ہی عرش ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ کرسی عرش کے سامنے قائم ہے اور آیت : وسع ..... کا مطلب یہ ہے کہ کرسی کی وسعت زمین اور آسمان کی وسعت کے برابر ہے۔ ابن مردویہ (رح) نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے رسول اللہ : ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں کرسی کے مقابلہ میں ایسی ہیں جیسے کسی بیابان میں کوئی چَھلّا پڑا ہو اور کرسی سے عرش کی بڑائی ( بھی) ایسی ہے جیسے چھلّے سے بیابان کی بڑائی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول مروی ہے کہ کرسی کے اندر ساتوں آسمان ایسے ہیں جیسے کسی ڈھال میں سات درہم ڈال دیئے جائیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور مقاتل کا قول ہے کہ کرسی کے ہر پایہ کا طول ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کے برابر ہے۔ کرسی عرش کے سامنے ہے کرسی کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں ہر فرشتے کے چار منہ ہیں ان فرشتوں کے قدم ساتویں نچلی زمین کے نچلے پتھر پر ہیں یہ مسافت پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہے ایک فرشتہ کی شکل ابو البشر یعنی حضرت آدم کی طرح ہے جو سال بھر تک آدمیوں کے لیے رزق کی دعا کرتا رہتا ہے دوسرے فرشتہ کی صورت چوپایوں کے سردار یعنی بیل کی طرح ہے چو پایوں کے لیے سال بھر رزق مانگتا رہتا ہے۔ لیکن جب سے گو سالہ کی پوجا کی گئی اس وقت سے اس کے چہرہ پر کچھ خراشیں ہوگئی ہیں تیسرے فرشتہ کی صورت درندوں کے سردار شیر کی طرح ہے جو سال بھر درندوں کے لیے رزق کا طالب رہتا ہے چوتھے فرشتہ کی صورت پرندوں کے سردار یعنی گدھ کی طرح ہے جو پرندوں کے لیے سال بھر رزق کا سوال کرتا رہتا ہے۔ بعض احادیث میں آیا ہے کہ حاملین عرش اور حاملین کرسی کے درمیان ستّر حجاب تاریکی کے اور ستّرحجاب نور کے ہیں اور ہر حجاب کی موٹائی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہے اگر یہ حجابات نہ ہوں تو کرسی کے اٹھانے والے عرش کے اٹھانے والوں کے نور سے سوختہ ہوجائیں۔ (یعنی جل جائیں ‘ 12) اصل میں کرسی صرف اتنی ہی جگہ کو کہتے ہیں جس پر بیٹھا جاتا ہے نشست گاہ سے فاضل جگہ کو کرسی نہیں کہا جاتا گویا لفظ کرسی کرس سے بنا ہے کرس کا معنی ہے کسی چیز کے اجزاء کو باہم جوڑ دینا۔ کرسی عرش اور بیت کی نسبت خدا کی طرف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیزیں ایک خاص قسم کے جلوہ الٰہی کے لیے مخصوص ہیں۔ آیت : فَسَوَّاھُن سبع سموات کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے لکھا ہے کہ عرش کی شکل کا کروی ہونا اور اس کا آسمانوں کو محیط ہونا حدیث سے مستنبط ہے لیکن اس جگہ حضرت ابوذر کی روایت مذکورہ سے ثابت ہو رہا ہے کہ کرسی آسمانوں کو محیط ہے اور عرش کرسی کو گھیرے ہوئے ہے اور بعض آسمان بعض کا احاطہ کیے ہوئے ہیں اس قول کا تقاضا ہے کہ ہر آسمان بھی کردی ہو اسی لیے بعض لوگ قائل ہیں کہ آٹھواں آسمان کرسی ہے اور نواں آسمان عرش۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو آسمانوں کی تعداد سات بتائی ہے اور عرش و کرسی کا شمار آسمانوں میں نہیں کیا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ دوسرے آسمانوں سے عرش و کرسی کی ماہیت جدا ہے اور خاص تجلیات کے لحاظ سے ان کو دوسرے آسمانوں سے امتیازحاصل ہے۔ وا اللہ اعلم۔ (1) [ ہیئت قدیم کے یونانی اور مصری علماء کہتے تھے جیسا کہ سبع شداد اور شرح چغمنی وغیرہ کتب میں مذکور ہے کہ مجموعۂ عالم کی شکل کروی ہے گویا یہ کائنات ایک پیاز کی گانٹھ ہے جس کے تیرہ پرت ہیں اور ہر چھلکا اپنے اندرونی چھلکوں کو محیط ہے سب کو محیط فلک الافلاک اطلس ہے اس کے اندر فلک ثوابت ہے اس کے نیچے فلک زحل پھر فلک مشتری پھر فلک مریخ پھر فلک شمس پھر فلک زہرہ پھر فلک عطارد پھر فلک قمر گویا فلک قمر فلک دنیا ہے اور ہماری جانب سب سے اوّل یہی ہے اور آخری انتہائی نواں آسمان فلک الافلاک ہے فلک قمر کے نیچے کرۂ نار ہے اور کرۂ نار کے نیچے کرۂ ہوا اور ہوا کے نیچے پانی اور پانی کے نیچے زمین اور یہی زمین مرکز عالم ہے۔ علماء ہیئت قدیم افلاک کو تہ بر تہ محیط مانتے تھے قرآن مجید اور احادیث مقدسہ میں عرش کرسی اور سبع سموات کے الفاظ آئے ہیں سبع سموات کے ساتھ طباقاً کا لفظ بھی مذکور ہے کچھ علماء اسلام نے یونانی ہیئت و فلسفہ کی صداقت تسلیم کرنے میں اتنا غلو کیا کہ قرآن کی عبارت کو بھی اس کے مطابق بنانے کی مکروہ کوشش کی کچھ احادیث کے اشارات یا صراحتوں کو اپنے مطلب کی تائید میں لے آئے فضلو و اضلوا عرش کو نواں اور کرسی کو آٹھواں آسمان بنا دیا۔ طباقاً کا ترجمہ تہ بر تہ کردیا۔ عرش و کرسی کو الگ ذکر کرنے کی وجہ ماہیات کے امتیاز اور خصوصی تجلیات کی بارش کو قرار دیا لیکن فلسفہ قدیم تو آسمانوں کو ازلی ابدی قدیم بالغیر کہتا ہے عمر میں خدا کے برابر قرار دیتا ہے ان کا پھٹنا اور پھر جوڑا جانا محال سمجھتا ہے بلکہ مادۂ عناصر کو بھی لا زوال کہتا ہے اور زمانہ کو بھی حادث نہیں مانتا، فلسفہ کا وہ کونسا عقیدہ اور فکر یہ ہے جو قرآنی صراحت یا حدیث کی عبارت سے جوڑ کھا سکتا ہے پھر صرف ترتیب عالم کے سلسلہ میں قرآنی صراحت اور وحی غیر منطوق کی عبارت کو ہیئت قدیم کے مطابق بنانے کی کوشش مہلک نہیں تو اور کیا ہے کیا یہ تفسیر بالرائے نہیں اگر فلسفہ اور ہیئت کو قرآن کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی تو پھر بھی یہ کاوش قابل برداشت ہوتی سود مند نہ ہوتی مگر تباہ کن بھی نہیں ہوتی مگر قرآن کو توڑنا مروڑنا اور بےمزہ تاویلیں کرکے فلسفہ سے جوڑنا تو قرآن کو بازیچہ حکماء بنا دے گا کسی فلسفہ کو اٹل صداقت کا حامل نہیں قرار دیا جاسکتا ایک فلسفہ دوسرے کی تکذیب کرتا ہے جدید قدیم کو داستان پارینہ قرار دیتا ہے موجودہ سائنس افلاک کو محیط مانتی ہی نہیں سات آسمان نہیں دس کروڑ آسمان کہتی ہے تیس کروڑ زمینیں قرار دیتی ہے۔ وہ کہتی ہے چالیس کروڑ گیندیں خلاء میں فطری ضابطۂ جذب کے زیر اثر معلق ہیں کوئی اونچی کوئی نیچی دکھائی دیتی ہے واقع میں نہ کوئی اوپر ہے نہ نیچے کوئی منتہی ہی نہیں پھر تحت اور فوق کا حقیقتاً تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہر کرہ کا دوسرے کرہ سے فاصلہ لاکھوں کروڑوں میل بلکہ بعض کا فاصلہ تو ناقابل احاطہ ہے اس کا حساب کرنے سے علم حساب عاجز ہے کوئی کرہ اتنا چھوٹا ہے کہ ہمارے ایک دن رات میں اس کی دوری حرکت پوری ہوجاتی ہے کوئی اتنا بڑا ہے کہ اس کی دوری حرکت ہماری پچیس یا پچاس ہزار سال میں پوری ہوتی ہے۔ یہ ساری فضا مادۂ سیال یا چمکدار برقیات سے بھری ہوئی ہے ہر کرہ اپنے محور پر گھوم رہا ہے زمین بھی گھوم رہی ہے بڑے بڑے یہی سات سیارے ہیں چاند سوج، مریخ، زحل، مشتری، عطارد، زہرہ باقی سیاروں کی کامل شناخت آلات اور مراصد پر موقوف ہے۔ چالیس کروڑ کروّں میں بھی کائنات کا حصر نہیں۔ یہ آخری گنتی نہیں جتنا معلوم ہوا ہے وہ بہت قلیل حصہ ہے خدا جانے نامعلوم کتنا باقی ہے کیا سائنس کے یہ مسلمات غلط ہیں ممکن ہے کچھ وہم کی کارپردازی ہو کچھ حقیقت ثابتہ ہو جس زمانہ میں جس فلسفہ نے جو کچھ کہا صحیح سمجھ کر ہی کہا۔ فلسفہ کا یونہی ردو بدل ہوتا رہے گا اور ہوتا رہا ہے لیکن حقیقت قرآنیہ اپنی جگہ ثابت ہے ناقابل تغیر ہے فلسفہ قدیم یا تحقیقات جدیدہ سے موافق بنانے کے لیے آیات و احادیث میں تاویل بارد کرنا مذہبی افلاس کا ثبوت اور عقلی دہشت زدگی کی علامت ہے۔ قرآن مجید میں سبع سموات کلمۂ حصر نہیں کہ زیادتی کا انکار کیا جائے نہ مزید کی کوئی خاص شمار بتائی ہے کہ تعداد کو محدود کردیا جائے۔ طباقاً کا ترجمہ تہ بر تہ محض احتمالی ہے احتمال سے تعیین نہیں ہوتی۔ طبقاً عن طبق کا ترجمہ تہ بر تہ نہیں درجہ بدرجہ ہے طباقاً کا ترجمہ بھی درجہ بدرجہ ہوسکتا ہے اور یہ ترتیب درجات بھی اضافی اور عرفی ہے حقیقی فوق و تحت کو تسلیم کرنا ضروری نہیں غیر محاذی اشیاء میں زیر و زبر اور بالا و پست کا تصور بلکہ وقوع ہوسکتا ہے اور ہوتا ہے اس لیے ہوسکتا ہے کہ احاطہ کا قول غلط ہو اور تاثیر جذب کے زیر اثر تمام کردی اجسام جدا جدا معلق ہوں حدیث معراج میں ایک آسمان کا دوسرے آسمان سے فاصلہ پانچ سو برس کی راہ کے برابر بتایا گیا ہے اگر یہ طباقاً کے لفظ کے منافی نہیں تو پھر تمام قرات کو جدا جدا اور درجہ بدرجہ قرار دینا کیونکر طباقاً کے مفہوم کے خلاف قرار دیا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوذر اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی احاطہ کرسی صراحتاً ثابت ہوتا ہے نہ استنباطاً کیونکہ اس میں عظمت کرسی کی تصویر کشی کی گئی ہے دوسرے آسمانوں کو کرسی کے مقابلہ میں اتنا چھوٹا دکھایا گیا ہے جیسے سپر کے اندر سات چھلیّ یا صحراء میں ایک چھلاّ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کرسی سموات کو محیط ہے لیکن یہ احاطہ محتاج تاویل ہے جسمانی احاطہ ہے یا اقتدار اور حکم کا احاطہ یا عظمت و بزرگی کا احاطہ کوئی تعیین از خود نہیں کی جاسکتی اللہ ہر چیز کو محیط ہے کیا یہ احاطہ جسمانی ہے یا قدرت حکمت اور علم کا احاطہ ہے یا حکم اور اقتدار کا احاطہ ہے اہل ایمان کے قلوب کا رحمن کی چٹکی میں ہونا کیا قلوب کے جسمانی احاطہ پر دلالت کرتا ہے پھر وسعت کرسی کو جسمانی جوسے تعبیر کرنا اور فلک ہشتم کو ہر طرف سے سماوات کو محیط ماننا فلسفہ قدیم سے شکست خوردگی کی علامت نہیں تو اور کیا ہے پس صحیح مسلک اس فقیر کی نظر میں یہ ہے کہ احادیث مقدسہ اور قرآن مجید کی صراحتوں میں کوئی ایسی تاویل اور تعیین اور خواہ مخواہ ایسا استنباط نہ کیا جائے جس کا مقصود ہی فلسفہ سے تطبیق ہو ہاں اگر کوئی فلسفہ قرآنی صراحت کی تائید کر رہا ہو تو اس کو شہادت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ وا اللہ اعلم ] وَلَا يَـــــُٔـــوْدُهٗ یہ لفظ اَوَدٌ سے ماخوذ ہے اَوَدٌ کا معنی ہے کجی۔ حِفْظُهُمَا (یعنی آسمان و زمین یا کرسی اور کرسی کے اندر سمائی ہوئی چیزوں کی حفاظت کا اللہ پر بار نہیں پڑتا ان کی نگہداشت اللہ کو تھکا نہیں دیتی۔ یہ اور اس سے پہلے کا جملہ اللہ کی علمی وسعت اور اس کی عمومی واقفیت کی ہمہ گیری کا بیان ہے یا مرتبۂ خداوندی کی عظمت و جلال اور اس کی قیومیت محیطہ کا اظہار ہے مذکورہ بالا دونوں جملے ایک ہی جملہ کا حکم رکھتے ہیں اور چونکہ گذشتہ کلام میں سے ہر جملہ سابق جملہ کی تاکید اور توضیح ہے ( گویا ایک ہی کلام کے متعدد اجزاء ہیں) اس لیے کسی جملہ کا دوسرے پر عطف نہیں کیا۔ وَھُوَ الْعَلِيُّ ( اللہ ہر مثل اور نظیر سے برتر وبالا ہے کوئی کسی طور پر اس کی طرح نہیں نہ ذات کے لحاظ سے نہ اوصاف کے لحاظ سے تعریف کرنے والے اس کی تعریف کرتے ہیں اور بیان کرنے والے اس کے اوصاف بیان کرتے ہیں لیکن وہ ہر تعریف اور بیان سے برتر ہے اس کی شان وہی ہے جو اسی کے لیے زیبا ہے۔ الْعَظِيْمُ وہ اتنی عظمت والا ہے کہ تمام کائنات اس کے مقابلہ میں بےمقدار ہے۔ آیت الکرسی میں خصوصیت کے ساتھ اللہ کی ذات وصفات کے مباحث بیان کئے گئے ہیں یہ آیت بتارہی ہے کہ اللہ ہی کا وجود اصلی اور حقیقی ہے ‘ اس کی ہر صفت کامل ہے ‘ اس کی حیات اور حیات کی تابع دوسری صفات مثلاً علم قدرت، ارادہ، سننا، دیکھنا اور کلام کرنا سب ہی اوصاف کمال ہیں۔ وہ ساری کائنات کو ہستی اور قوام ہستی عطا کرنے والا ہے ہر چیز کا قیام اسی کی ذات سے ہے لیکن یہ قیام ایسا نہیں جیسا عرض کا جو ہر کے ساتھ ہوتا ہے بعض اکابر کا قول ہے کہ عالم ایک مجموعہ اعراض ہے جو ذات واحد میں جمع ہیں اس قول سے دھوکہ ہوسکتا ہے کہ ذات خداوندی سے عالم کا قیام اس طرح ہے جس طرح جو ہر کے ساتھ عرض کا قیام ہوتا ہے مگر یہ مطلب غلط ہے قیام عالم باللہ کی کیفیت ناقابل تصور ہے خیال کی پہنائیاں اس کو نہیں سما سکتیں۔ قیام کے مفہوم کی قریب الفہم تعبیر کے لیے ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اللہ ہماری رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہے مگر یہ قرب مکانی نہیں نہ حلولی ہے اللہ احتیاج مکانی اور حلول سے پاک ہے ہر تغیر اور ضعف سے منزہ ہے مالک الملک و الملکوت ہے اس کی گرفت بہت سخت ہے اس کا انتقام ناقابل برداشت ہے اس کی اجازت کے بغیر کوئی اس سے سفارش بھی نہیں کرسکتا۔ اس کا علم ہمہ گیر ہے ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز کی حقیقت کو ہر طرح محیط ہے اس کی معلومات کا علم کسی کو نہیں ہاں اگر وہی کچھ بتادے تو ہوسکتا ہے۔ اس کی حکومت اور قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں وہ بعض مخلوق پر جلوہ انداز ضرور ہوتا ہے لیکن یہ پر تو افگنی اس کی ذاتی برتری میں رخنہ انداز نہیں ہوتی کوئی امر دشوار اس کے لیے تعب آفریں (تھکا دینے والا ‘ 12) نہیں ہوتا کسی شئ میں مشغولیت اس کو دوسری چیز سے غافل نہیں بنا سکتی وہ تمام نا مناسب اوصاف سے پاک اور کل حمد کرنے والوں کی ستائش سے برتر ہے وہ رسول مکرم ﷺ جس کے دست مبارک میں قیامت کے دن حمد کا جھنڈا ہوگا خود ذات الٰہی کی حمد کا حق ادا کرنے سے قاصر تھا اسی لیے اس نے ( اپنی دعا میں) کہا تھا تو ویسا ہی ہے جیسی تو نے اپنی ثنا کی ہے اللہ کی عظمت کے سامنے ہر چیز حقیر ہے اس کی بزرگی پورے طور پر کوئی عالم نہیں جانتا نہ کسی عابد کی عبادت اللہ کی عظمت کا حق ادا کرسکتی ہے رسول اللہ نے خود اپنی عبادت کے قصور کا اقرار کیا ہے فرمایا ہے ہم نے تیری عبادت تقاضائے عبادت کے برابر نہیں کی اسی لیے جب حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا یا رسول اللہ قرآن میں سب سے بڑھ کر عظمت والی آیت کونسی ہے ؟ فرمایا : آیت الکرسی : اَﷲُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ ۔۔ عرض کیا گیا سب سے زیادہ عظمت والی سورت کونسی ہے۔ فرمایا : قُلْ ھُوَ اللہ اَحَدٌ۔ ( دارمی، بروایت اسقع بن عبد کلابی) حارث بن اسامہ ؓ نے بروایت حسن مرسلاً بیان کیا کہ سب سے بڑھ کر عظمت والی آیت آیۃ الکرسی ہے۔ حضرت ابی بن کعب کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ابو المنذر ؓ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے ؟ میں نے عرض کیا : اَﷲُ لَآ اِلٰہَ ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ حضور ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا تجھ کو علم مبارک ہو پھر فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی ایک زبان اور دو لب ہیں پایۂ عرش کے پاس فرشتہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے۔ (مسلم) میں کہتا ہوں شاید اس آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ فرشتے اس آیت کی تلاوت کرکے اللہ کی تقدیس کرتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ عالم مثال میں ہر چیز کی ایک صورت ہے یہاں تک کہ قرآن کی آیات قرآن کی اور رمضان کی بھی ( عالم مثال میں) شکلیں معین ہیں۔ ابن مردویہ نے بروایت حضرت ابن مسعود ؓ اور ابن راہویہ نے اپنی مسند میں بروایت حضرت عوف بن مالک ؓ اور امام احمد (رح) و امام مالک (رح) نے بروایت حضرت ابوذر غفاری ؓ ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ آیت الکرسی آیات قرآنی کی سردار ہے (ترمذی و حاکم) حضرت انس کی روایت ہے کہ آیت الکرسی (ثواب میں) چوتھائی قرآن (کے برابر) ہے۔ (احمد) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص آیت الکرسی اور : حٓمٓ تنزیل الْکِتَابِ مِنَ اللہ الْعَزِیْزِ العَلِیْمِ کی دو آیتیں صبح کو پڑھے گا وہ دن بھر شام تک محفوظ رہے گا اور جو شام کو پڑھے گا اور رات بھر ( اللہ کی) امان میں صبح تک رہے گا۔ (رواہ الترمذی والدارمی) ترمذی نے اس حدیث کو غریب کہا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھے رمضان کی زکوٰۃ کے مال کی حفاظت پر مامور فرمایا : (رات کو) کوئی آکر لپ بھر بھر کر غلہ اٹھا کرلینے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے کہا میں تجھے رسول اللہ کی خدمت میں لے جاؤ . ں گا وہ بولا میں محتاج ہوں عیالدار ہوں، بڑا ضرورت مند ہوں میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا حضور ﷺ نے فرمایا : ابوہریرہ ؓ رات والے تمہارے قیدی کا کیا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے اپنی سخت محتاجی اور عیالداری کا دکھ ظاہر کیا تھا مجھے اس پر رحم آگیا میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ فرمایا : آگاہ ہوجاؤ اس نے تم سے جھوٹ بولا آئندہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا یہ سن کر مجھے اس کے دوبارہ آنے کا یقین ہوگیا۔ چناچہ میں اس کی تاک میں رہا وہ آیا اور پھر لپ میں غلہ بھرنے لگا فوراً میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا اب تو میں رسول اللہ کی خدمت میں تجھے ضرور لے کر جاؤں گا اس نے پہلے کی طرح پھر وہی بات کہی کہ مجھے چھوڑ دو ۔ الخ ( صبح کو) رسول اللہ نے بھی وہی بات فرمائی جو پہلے فرمائی تھی آخرتیسری بار (جب وہ پھر چوری کرنے آیاتو) میں نے کہا یہ آخری باری ہے تو دوبارہ نہ آنے کا وعدہ کرتا رہا اور پھر واپس آتا رہا ( اب تو میں تجھے ضرور ہی لے جاؤں گا) اس نے کہا تم مجھے چھوڑ دو میں تم کو چند الفاظ ایسے سکھاتا ہوں جن سے اللہ تم کو فائدہ عطا فرمائے گا۔ جب تم اپنے بستر پر ( رات کو لیٹنے کے لیے) جاؤ تو آیت الکرسی اَﷲُ لَآ اِلٰہَ اِلّا ھُوَ الْحَیُّ القیوم ...... پڑھ لیا کرو۔ تمہاری نگہداشت کے لیے اللہ کی طرف سے ایک نگران مقرر رہے گا پھر صبح تک کوئی شیطان تمہارے پاس آنے نہ پائے گا۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ صبح کو خدمت گرامی میں پہنچا تو حضور ﷺ نے فرمایا : تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا : حضور ﷺ اس نے کہا کہ میں تم کو چند الفاظ ایسے بتاتا ہوں کہ ان کے ذریعہ سے اللہ تم کو فائدہ عطا فرمائے گا۔ ارشاد فرمایا : سنو وہ ہے تو جھوٹا مگر اس نے یہ بات تم سے سچ کہی۔ کیا تم واقف ہو کہ تین راتوں سے تم کس سے گفتگو کرتے رہے ؟ میں نے عرض کیا : نہیں فرمایا : وہ شیطان ہے (بخاری) نسائی، ابن حبان اور دارقطنی (رح) نے بروایت حضرت ابو امامہ اور شعب الایمان میں بیہقی (رح) نے بروایت حضرت صلصال ؓ دیہمی وحضرت علی ؓ بن ابی طالب مرفوعاً بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا اس کو ( حجاب) موت کے علاوہ جنت کے داخلہ سے اور کوئی چیز روکنے والی نہ ہوگی۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص بستر خواب پکڑتے وقت آیت الکرسی پڑھے گا اللہ اس کے گھرکو اس کے ہمسایہ کے گھر کو اور گردا گرد کے دوسرے گھر والوں کو اپنی امان میں رکھے گا۔ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس ؓ کی مرفوع روایت لکھی ہے کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھے گا اللہ اگلی نماز تک اس کا محافظ رہے گا اور اس کی پابندی صرف نبی کرتا ہے یا صدیق یا شہید۔ (1) [ دنیوری نے مجالس میں حسن کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جبرائیل ( علیہ السلام) نے مجھ سے آکر کہا کہ جنی شیطان تمہارے ساتھ فریب کرنے ( کی گھات) میں لگا رہتا ہے لہٰذا جب بستر پر پہنچا کرو تو آیت الکرسی پڑھ لیا کرو۔ فردوس میں حضرت ابو قتادہ ؓ کی روایت سے منقول ہے کہ بےچینی کے وقت جو شخض آیت الکرسی پڑھتا ہے اللہ اس کی مدد کرتا ہے حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر ؓ ایک روز برآمد ہوئے اور فرمایا : کہ تم میں سے کوئی مجھے بتاسکتا ہے کہ قرآن مجید میں سب سے زیادہ عظمت والی، سب سے بڑھ کر عدل آگیں اور خوفناک ترین اور سب سے بڑھ کر امید آفریں کونسی آیت ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : میں نے خود آنحضور ﷺ سے سنا ہے کہ قرآن میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت : اَﷲُ لاَ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْم ہے اور سب سے بڑھ کر عدل آگیں آیت : اِنَّ اللہ یَاْمُرُ بالْعَدْلِ وَالْاِحْسَان الخ ہے اور خوفناک ترین آیت : فَمَنْ یََّعْمَلُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہُ وَ مَنْ یَّعْمَل مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرَّا یَّرَہُ ہے اور سب سے زیادہ امید آفریں آیت : قُلْ یٰا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ اِلٰی اَخرِہٖ ہے۔ مؤلف (رح) ۔ ]