Ayah 2:232وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ ( اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں ( یعنی ان کی عدت پوری ہوجائے) تو تم انہیں نہ روکو) یعنی منع نہ کرو عضل کے معنی منع کرنے کے ہیں اور اصلی معنی اس کے ضیق اور شدت کے ہیں (چنانچہ) الداء العضال عرب میں اس بیماری کو کہتے ہیں جس کا علاج نہ ہو سکے۔ امام شافعی (رح) سے منقول ہے کہ دونوں کلاموں کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں جگہ بلوغ کے الگ الگ معنی ہیں۔
اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ ( اس سے کہ وہ اپنے خاوندوں سے نکاح کریں) اس کے مخاطب ( عورت کے) اولیا ( یعنی ورثاء ہیں یہ آیت معقل بن یسار کی بہن جملاء بنت یسار کے بارے میں نازل ہوئی ہے بداح بن عاصم بن عجلان نے اسے طلاق دیدی تھی بخاری۔ ابو داؤد ترمذی وغیرہ نے معقل بن یسار سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک شخص سے کردیا تھا پھر اس نے اسے طلاق دیدی اور جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو وہ پھر پیغام لے کر ائے میں نے اس سے یہ بات کہی کہ پہلے تو میں نے تم سے اس کا نکاح کردیا تھا تمہارا گھر بسا دیا تھا سب طرح تمہاری آبرو تھی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر پیغام لے کر آئے ہو۔ ایسا نہیں ہوسکتا خدا کی قسم اب وہ تمہارے ہاں ہرگز نہیں جاسکتی اور وہ آدمی کچھ برا نہ تھا اور میری بہن بھی پھر اس کے ہاں جانا چاہتی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : فلا تعضلوھن ان ینکحن ازواجھن تب میں نے ( حضور کی خدمت میں) عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! اب میں ضرور کردوں گا۔ چناچہ پھر اسی سے نکاح کردیا ابن جریر نے بہت سے طریقوں سے بحوالہ سدی نقل کیا ہے کہ یہ آیت جابر بن عبد اللہ انصاری کے حق میں نازل ہوئی ان کی ایک چچا زاد بہن تھی اس کے خاوند نے اسے طلاق دیدی تھی اور جب اس کی عدت پوری ہوگئی تو پھر اس نے ان کی بہن سے نکاح کرنا چاہا تو جابر ؓ نے صاف انکار کردیا پہلا قول زیادہ صحیح اور قوی ہے اور شاید یہ دونوں ہی قصوں میں نازل ہوئی ہو۔ آیت کا سیاق یہ چاہتا ہے کہ یہ خطاب ان مردوں کو ہو جنہیں آیت : واذا طلقتم النساء میں خطاب کیا گیا ہے ( یعنی) جو اپنی بیویوں کو ان کی عدت پوری ہونے کے بعد دوسرے خاوندوں سے نکاح کرنے سے ظلماً روکتے تھے اور ہم نے جو بخاری وغیرہ کی روایت شان نزول میں ذکر کی ہے اس کا مقتضا یہ ہے کہ یہ خطاب اولیاء کو ہو کیونکہ وہ روکنا جملا کے بھائی معقل بن یسار کی جناب سے ہوا تھا پس میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ یہ خطاب سب لوگوں کو ہو کیونکہ ( یہ قاعدہ ہے کہ) جس وقت کوئی فعل ایک آدمی سے صادر ہوتا ہے تو اس کی نسبت ایک جماعت کی طرف کردی جایا کرتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے کہ : لا تاکلو اموالکم بینکم بالباطل [ الایۃ ] ( ایک دوسرے کے مال نہ کھایا کرو) اور فرمایا : ولا تخرجوا انفسکم من دیارکم [ الایۃ ] ( تم خود ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نہ نکالو) اور اس وقت آیت کے سیاق اور شان نزول میں کوئی مزاحمت ( اور مخالفت) نہیں ہے اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ جب تم میں کے کچھ مرد عورتوں کو طلاق دیدیں اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں تو اے اولیا پہلے تم ان کو پہلے خاوندوں سے یا ان کے علاوہ اور کسی کے ساتھ نکاح کرلینے سے مت روکو لفظ ازواج کے بہر صورت مجازی معنی مراد ہیں کیونکہ اس موقع پر خاوند کہنا یا تو با عتبار گذشتہ کے ہے ( یعنی جو پہلے خاوند تھا اور یا با عتبارآئندہ کے ہے (یعنی جو نکاح کرنے کے بعد خاوند ہوجائیں گے) وا اللہ اعلم۔ شافعیہ نے اس آیت میں اولیاء کو مخاطب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیت میں دلیل ہے اس امر کی کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کرسکتی کیونکہ اگر وہ خود ایسا کرسکتی تو پھر ولی کے روکنے کے کوئی معنی ہی نہیں ہیں۔ شافعیہ نے عورت کی طرف نکاح کی نسبت کرنے کو مجاز پر حمل کیا ہے اور کہا ہے کہ نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف فقط اس سبب سے ہے کہ نکاح ان کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے مگر یہ استدلال ضعیف ہے کیونکہ ولی اس صورت میں بھی روک سکتا ہے کہ جب نکاح عورت کا اختیاری فعل قرار دیا جائے۔ دیکھو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : لا تمنعوا اماء اللہ عن مساجد اللہ ( یعنی اللہ کی لونڈیوں کو اللہ کی مسجدوں ( میں آنے) سے تم نہ روکا کرو) باوجودیکہ مسجدوں میں آنا عورت کا اختیاری فعل ہے بلکہ روکنا اور برانگیختہ کرنا اختیاری ہی فعل میں ہوتا ہے پس اس مسئلہ میں شافعیہ ( کو اگر استدلال کرنا ہی تھا تو ان) کے لیے اس آیت سے استدلال کرنا بہتر تھا کہ : ولا تنکحوا المشرکین حتی یؤمن ( کیونکہ اصل اسناد میں حقیقت ہی ہے ) ۔
مسئلہ کیا آزاد عاقلہ بالغہ عورت بغیرولی کے اپنا نکاح کرسکتی ہے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ عورت کو خود اپنی گفتگو کے ساتھ اپنا نکاح کرلیا جائز ہے اور اس کی رضا مندی سے اس کے وکیل کے ذریعہ سے بھی نکاح ہوجاتا ہے اگرچہ ولی اس پر رضا مند نہ ہوں برابر ہے کہ وہ خاوند اس کا کفو ہو یا نہ ہو ہاں کفو نہ ہونے کی صورت میں ولی اعتراض کرسکتا ہے اور ایک روایت میں ان سے یہ بھی مروی ہے کہ غیر کفو ( کی صورت) میں نکاح نہیں ہوتا اور امام محمد کے نزدیک کفوا اور غیر کفو دونوں سے نکاح ہوجاتا ہے لیکن ولی کی اجازت پر موقوف رہتا ہے امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر عورت شریف زادی اور خوبصورت یا مالدار ہے کہ ایسی عورتوں سے نکاح کرنے کا ہر کوئی خواہاں ہوتا ہے تو اس کا نکاح بغیر ولی کے درست نہ ہوگا اور اگر عورت ایسی نہیں ہے تو اس کا نکاح اس کی رضا مندی سے کوئی اجنبی بھی کرسکتا ہے ہاں اس کی گفتگو سے نہیں ہوتا۔ امام شافعی اور امام احمد کا قول یہ ہے کہ بغیر ولی کے نکاح ہوتا ہی نہیں اور یہی ایک روایت امام ابو یوسف سے بھی ہے انہوں نے اسی (مذکورہ) آیت سے استدلال کیا ہے اور اس پر جو اعتراض ہے اس کو تم ابھی سن چکے ہو اور چند حدیثوں سے بھی استدلال کیا ہے منجملہ ان کے ایک حدیث حضرت عائشہ صدیقہ کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : ایما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیہا فنکاحہا باطل فنکاحہا باطل فنکاحہا باطل فان دخل بہا فلھا المہر بما استحل من فرجہا فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لہ ( یعنی جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرلے تو اس کا نکاح باطل ہے تو اس کا نکاح باطل ہے اس کا نکاح باطل ہے پس اگر اس سے صحبت ہوجائے تو اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھ لینے کی وجہ سے وہ مہر کی مستحق ہوگی اور اگر ان میں کچھ جھگڑا ہوجائے تو جس کا کوئی ولی نہ اس کا ولی سلطان ہے۔ ) یہ حدیث اصحاب سنن نے ابن جریج کی سند سے ‘ انہوں سلیمان بن موسیٰ سے انہوں نے زہری سے انہوں نے عروہ سے انہوں حضرت عائشہ سے نقل کی ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے طحاوی کہتے ہیں ہم سے ابن ابی عمان نے یہ بیان کیا کہ مجھ سے یحییٰ بن معین بیان کرتے تھے انہوں نے ابن عتبہ سے اور ابن عتبہ نے ابن جریج سے روایت کی ہے ابن جریج کہتے ہیں کہ میں زہری سے ملا اور یہی حدیث میں نے انہیں سنائی تو انہوں نے اس کا (صاف) انکار کردیا (کہ مجھے معلوم نہیں) ابن جوزی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ زہری نے سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی ہے لہٰذا زہری کا یہ انکار کردینا ان کے بھول کی وجہ سے ہوا ہے، نیز حضرت عائشہ کی دوسری حدیث ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : لا نکاح الا بولی والسلطان ولیمن لا ولی لہٗ اس حدیث کو ترمذی۔ ابوداؤد ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور اس (کی سند) میں حجاج بن ارطاۃ (راوی) ضعیف ہے اور حضرت عائشہ ؓ ہی فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : لا نکاح الا بولی و شاہدی عدل ( یعنی ولی اور دو منصف گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا) اس حدیث کو دارقطنی نے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں یزید بن سنان اور اس کا باپ راوی ہیں جن کی نسبت دارقطنی نے کہا ہے کہ یہ اور اس کا باپ دونوں ضعیف ہیں اور نسائی نے کہا ہے کہ یہ متروک الحدیث ہے اور امام احمد نے بھی اس کو ضعیف ہی شمار کیا ہے، نیز حضرت عائشہ ہی سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : لا بد للنکاح من اربعۃ الولی والزوج و شاہدین ( یعنی نکاح کے لیے چار آدمیوں کا ہونا ضروری ہے۔ ولی۔ شوہر اور دو گواہ یہ حدیث دار قطنی نے روایت کی ہے اور اس کی سند میں نافع بن میسر ابو خطیب ( راوی) مجہول ہے اور ایک حدیث ابو بردہ کی ہے جو انہوں نے اپنے باپ ابو موسیٰ سے انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتا یہ حدیث۔ امام احمد نے نقل کی ہے اور ایک مرفوع حدیث ابن عباس کی ہے کہ نکاح بغیر ولی کے نہیں ہوتا اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے یہ حدیث امام احمد نے حجاج بن ارطاۃ کی سند سے روایت کی ہے اور یہ ( راوی) ضعیف ہے اور یہی ایک اور سند سے بھی مروی ہے اس ( سند) میں عدی بن فضل اور عبد اللہ بن عثمان دونوں ضعیف ہیں اور ابن عباس کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ وہ عورتیں زنا کار ہیں جو اپنا نکاح خود کرلیں نکاح بغیر ولی اور دو گواہوں اور مہر کے نہیں ہوتا۔ مہر تھوڑا ہو یا بہت ہو۔ یہ حدیث ابن جوزی نے روایت کی ہے اور اس ( کی سند) میں ایک راوی تھ اس ہے یحییٰ نے کہا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے اور ابن عدی کہتے ہیں کہ راوی کسی قابل نہیں اور ایک حدیث ابن عمر اور ابن مسعود کی ہے دونوں کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نکاح بغیر ولی اور دو عادل گواہوں کے نہیں ہوتا ابن مسعود کی حدیث میں (ایک راوی) بکیر بن بکار ہے ( اسکی بابت) یحییٰ نے کہا ہے کہ یہ راوی کچھ نہیں اور ( ایک راوی) عبد اللہ بن محرز ہے جسے دارقطنی نے متروک کہا ہے اور ابن عمر کی حدیث میں ثابت بن زہیر (راوی) منکر الحدیث ہے اسی طرح ابو حاتم نے کہا ہے ابن حبان کہتے ہیں کہ اس کی حدیث قابل حجت نہیں ہوتی اور ایک حدیث ابوہریرہ کی ہے وہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا کہ نہ عورت کسی عورت کا نکاح کرے اور نہ خود اپنا نکاح کرے کیونکہ وہ زنا کار عورت ہے جو اپنا نکاح آپ کرتی ہے یہ حدیث دارقطنی نے دو طریقوں سے نقل کی ہے ایک طریق میں جمیل بن حسن راوی ہے اور دوسرے میں مسلم بن ابی مسلم ہے۔ یہ دونوں مجہول ہیں اور ایک مرفوع حدیث جابر کی ہے کہ بغیر مرشد ولی اور دو عادل گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا یہ حدیث ابن جوزی نے روایت کی ہے اس ( کی سند) میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ہے۔ نسائی اور یحییٰ کہتے ہیں کہ یہ راوی متروک ہے اسکی حدیث لکھنے کے قابل نہیں اور اس میں قطر بن یسیر ( بھی) ضعیف ہے۔
اور ایک حدیث معاذ بن جبل کی ہے جو انہوں آنحضرت ﷺ سے روایت کی ہے آپ نے فرمایا کہ جو عورت بغیر ولی کے اپنا نکاح کرلے تو وہ زنا کار ہے یہ حدیث دارقطنی نے نقل کی ہے اور اس میں ابو عصمہ اسم بن ابی مریم (راوی) ہے جس کی بابت یحییٰ نے کہا ہے کہ یہ راوی کچھ نہیں اور دارقطنی نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے۔ حنفیہ نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : حتیٰ تنکح زوجاً غیرہ اور ان ینکحن ازواجھن سے استدلال کیا ہے کیونکہ اصل اسناد میں حقیقت ہے یعنی یہ کہ عورت اپنا نکاح خود کرلے اور حضرت ابن عباس کی اس مرفوع حدیث سے بھی : الایم احق بنفسہا من ولیہا والبکر تستاذن فی نفسہا و اذنہا صماتہا (یعنی بیوہ اپنی جان کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے اور بن بیاہی کا نکاح کرنے میں اس سے اجازت لینی چاہئے اور اس کی اجازت اس کا خاموش ہوجانا ہے) یہ حدیث مسلم۔ امام مالک۔ ابو داؤد۔ ترمذی۔ نسائی نے روایت کی ہے اور اس سے استدلال کرنے کی یہ وجہ ہے کہ اولیاء کا سوائے نکاح کردینے کے اور کوئی حق نہیں ہے اور بیوہ عورت اپنے نفس کی اس سے زیادہ حقدار ہے تو پس یہ اپنا نکاح کرنے میں بھی اس سے اولیٰ ہوگی۔ اور ابو سلمہ بن عبد الرحمن کی حدیث سے ( بھی) استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول ﷺ اللہ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میرے باپ نے ایک آدمی سے میرا نکاح کردیا ہے اور میں راضی نہیں ہوں۔ حضور ﷺ نے اس کے باپ سے فرمایا کہ تمہیں نکاح کا اختیار نہیں اور اس عورت سے فرمایا کہ جا تو جس سے چاہے نکاح کرلے۔ یہ حدیث ابن جوزی نے روایت کی ہے شافعیہ نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اور مرسل سے حجت نہیں ہوسکتی ہم کہتے ہیں ( ہمارے نزدیک مرسل ( حدیث) حجت ہے
حضرت عائشہ کی ایک حدیث ہے کہ قتادہ ( نامی ایک عورت) ان کے پاس آئی اور کہا کہ میرے باپ نے اس کا حسب (نسب) بڑھانے کے لیے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے کردیا ہے اور یہ نکاح مجھے ناپسند ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا بیٹھ جا اتنے میں آنحضرت بھی تشریف لے آئے اس عورت نے یہ قصہ پھر حضور سے بیان کیا آپ نے اس کے باپ کے پاس ایک آدمی بھیجا اور اس بارے میں اس عورت ہی کو اختیار دیدیا وہ بولی یا رسول اللہ میں اپنے باپ کے کیے ہوئے نکاح کو ایسے ہی رہنے دیتی ہوں۔ میں نے فقط یہ چاہا تھا کہ سب عورتوں کو یہ بات جتلادوں کہ باپوں کو اس بارے میں کچھ اختیار نہیں ہے۔ یہ حدیث نسائی نے روایت کی ہے یہاں استدلال کی یہ صورت ہے کہ اس حدیث میں اس عورت کے اس کہنے کو اس بارے میں باپوں کو کچھ اختیار نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ثابت رکھنا (یعنی اس کا انکار نہ فرمانا) حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ حدیث کے اور حد یث : لا نکاح الا بولی کے معارض ہے حنفیہ کہتے ہیں کہ جب نصوص آپس میں متعارض ہوں تو ان میں ترجیح کا کوئی طریقہ نکالنا یا کچھ تاویل کرکے دونوں کو جمع کرنا ( یعنی دونوں کے معنی بنانا) واجب ہے۔ پس ترجیح کے طریقہ پر تو جو روایت مسلم نے نقل کی ہے وہ سند کی رو سے سب سے زیادہ صحیح اور قوی ہے بخلاف ان حدیثوں کے جو اور محدثین نے نقل کی ہیں کیونکہ وہ ضعف یا اضطراب سے خالی نہیں ہیں اور احادیث کا تعارض دور کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے قول : لا نکاح الا بولی کے یہ معنی ہیں کہ وہ نکاح مسنون طریقہ پر نہیں ہوتا یا یہ مطلب ہے کہ نکاح اسی شخص کے ساتھ ہوتا ہے جس کے لیے ولایت ہوتا کہ اس سے مسلمان عورت کے ساتھ کافر کے نکاح کرنے میں نفی ہوجائے علی ہذا القیاس نکاح فاسدہ میں سے محرم عورت کے ساتھ نکاح کرنے یا پہلے خاوند کی عدت میں نکاح کرنے وغیرہ کی بھی نفی ہوجائے اور حضرت عائہا کی حدیث کے یہ معنی ہیں کہ عورت غیر کفو سے نکاح کرلے ( وہ نکاح نہیں ہوتا) جو لوگ غیر کفو سے عورت کے نکاح کرنے کو بالکل ناجائز کتے ہیں ان کے قول پر باطل کے معنی حقیقی ہیں اور جو لوگ اسے درست کہتے ہیں اور نکاح فسخ کرنے میں ولی کے حق کو ثابت کرتے ہیں ان کے قول پر باطل حکماً مراد ہے اور نصوص کے اطلاقات میں یہ سب تاویلیں شائع ( ذائع) ہیں اور دفع تعارض کے لیے اس کا مرتکب ہونا واجب ہے یا ہم کہیں گے کہ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب عورت اپنا نکاح اپنے ولی کی اجازت سے کرلے تو وہ نکاح جائز ہے امام شافعی کے قاعدہ پر تو اس لیے کہ وہ مفہوم کے قائل ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) کے قاعدہ پر اس لیے کہ یہ بطلان کے حکم میں داخل نہیں ہے اور اصل جواز ہے پس اس سے ثابت ہوا کہ عورت کا خود نکاح کرلینا ( نفس) نکاح میں خرابی نہیں لاتا بلکہ خرابی لانے والا ولی کا حق ہے جو آنحضرت ﷺ کے اس قول سے مستفاد ہوتا ہے کہ : الایم احق بنفسہا من ولیہا ” اور ولی کا حق غیر کفو ( سے نکاح کرلینے میں دفع عار کے لیے روک پیدا کرتا ہے۔
اِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ ( جب وہ باہم رضا مند ہوجائیں) یعنی پیغام دینے والے مرد اور عورتیں یہ ان ینکحن کے متعلق ہے باہم رضا مندی شرط ہونے کی بنا پر تمام فقہا کا اس پر اجماع ہے کہ بالغہ عورت جب بیوہ ہو اس پر زبردستی کرنی جائز نہیں ہے اور بن بیاہی بالغہ میں اختلاف ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ باپ اور دادا کے لیے ایسی لڑکی کا نکاح بغیر اس کی رضا مندی کے کردینا جائز ہے صرف باپ کے بارے میں یہی قول امام مالک کا ہے اور یہی ایک مشہور روایت امام احمد سے بھی ہے کیونکہ یہ آیت بیوہ عورتوں کے بارے میں ہے۔ ابن جوزی نے اس روایت کے مفہوم سے حجت کی ہے جو ابن عباس نے مرفوعاً ان لفظوں سے نقل کی ہے کہ : الثیب احق بنفسہا من ولیہما والبکر یستامر ہا ابو ہا فی نفسھا۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ استدلال ایسے مفہوم سے ہے جو حدیث یا آیت سے مخالف ہے اور مفہوم ہمارے نزدیک حجت نہیں ہے اس کے علاوہ یہ حدیث اور آیت ہماری حجت ہے نہ کہ ہمارے مقابلہ میں کیونکہ یہ حدیث بکر سے اجازت لینے کے واجب ہونے پر صریح دال ہے اور اجازت لینا زبردستی کرنے کے بالکل منافی ہے اور اس آیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ذلکم ازکٰی لکم واطہر [ الایۃ ] اس پر دلالت کرتا ہے کہ (عورتوں کو) روکنے کی حرمت اور رضا مندی کی شرط ان خرابیوں کے خلاف ہے جو روکنے اور زبردستی کرنے میں ہوتی ہیں جیسا کہ ہم عنقریب ذکر کریں گے اور یہ خرابیاں بکر اور بیوہ دونوں پر زبردستی کرنے میں برابر ہیں اگر کوئی اعتراض کرے کہ جب اختیار ہونے میں بکر اور بیوہ دونوں برابر ہیں تو پھر آنحضرت ﷺ کے ارشاد : الثیب احق بنفسہا من ولیہا اور والبکر یستامر میں فرق کرنے کی کیا وجہ ہے اور اسی طرح مسلم کی روایت کے مطابق : الایم احق کے بکرکو ذکر کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ ہم کہتے ہیں فرق کی وجہ اس کی اجازت کی کیفیت بیان کرنی ہے کہ اِذْنُھا صماتھا (یعنی باکرہ کا اجازت دینا اس کا خاموش ہوجانا ہے) بخلاف بیوہ عورت کے کہ اس کا خاموش ہوجانا اجازت ہونے میں معتبر نہیں ہے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے سے ایک وکیل کردے یا صریح اجازت دے اور اس کے علاوہ باکرہ لڑکیاں اپنا نکاح اکثر خود نہیں کیا کرتیں اور اسی وجہ سے حضور انور نے عام طور پر فرما دینے کے بعد اس کو خصوصیت کے ساتھ فرمایا کہ لوگ اجازت لینے میں سستی نہ کرنے لگیں ابن جوزی (رح) نے اس روایت سے بھی حجت لی ہے جو حسن سے مرسلاً مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لیستأمر الابکار فی انفسہن فان ابین اجبرن ( یعنی باکرہ لڑکیوں کے نکاح کرنے میں اس سے اجازت لینی چاہئے اگر وہ انکار کریں تو ان پر زبردستی کی جائے) اور یہ حدیث متن اور سند دونوں اعتبار سے ساقط ہے متن کے اعتبار سے تو اس لیے کہ اجازت لینے اور زبردستی کرنے میں صریح تناقض ہے کیونکہ اس وقت (یعنی جب اس پر زبردستی کرسکتے ہیں تو) اس سے اجازت لینے میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور سند کے اعتبار سے اس لیے کہ اس کی سند میں عبد الکریم (راوی) ہے ابن جوزی نے ( اس کی بابت) کہا ہے کہ اس کے متہم ہونے پر سب محدثین کا اجماع ہے اور ہمارے موافق (بھی) بہت سی حدیثیں ہیں بعض ان میں سے وہ ہیں جو ہم نے ذکر کردی ہیں منجملہ ان کے ایک حدیث ابن عباس ؓ کی ہے کہ ایک باکرہ لڑکی نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور بیان کیا کہ میرے باپ نے میر انکاح کردیا ہے اور وہ مجھے ناپسند ہے اس پر حضور ﷺ نے اس کو اختیار دے دیا۔ یہ حدیث امام احمد۔ ابو داؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ نے متصل سند کے ساتھ اور صحیح راویوں سے نقل کی ہے اور بیہقی کا یہ کہنا کہ یہ مرسل ہے کچھ مضر نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بعض طریقوں سے مرسل ہے اور ہمارے نزدیک مرسل ( بھی) حجت ہے اور بعض صحیح طریقوں سے متصل ہے ابن قطان نے کہا ہے کہ ابن عباس کی یہ حدیث صحیح ہے اور یہ عورت خنساء بنت جذام نہیں ہے کہ جس کا نکاح اس کے باپ نے کردیا تھا اور وہ بیوہ تھی پھر اس کی مرضی نہ ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے اس کا نکاح توڑ دیا، یہ روایت بخاری نے نقل کی ہے ابن ہمام کہتے ہیں مروی ہے کہ خنساء بھی باکرہ تھی نسائی نے اس کی حدیث روایت کی ہے اور اس میں یہ (ذکر) ہے کہ یہ باکرہ تھی لیکن ترجیح بخاری کی روایت کو ہے اور دارقطنی نے ابن عباس ؓ کی حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ نے ایک باکرہ اور ایک بیوہ کا نکاح توڑ دیا تھا ان دونوں کا نکاح انکے باپ نے بغیر ان کی رضا مندی کے کردیا تھا دارقطنی نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپنی باکرہ لڑکی کا نکاح کردیا تھا وہ اس نکاح سے راضی نہ تھی تو آنحضرت ﷺ نے اس کا نکاح توڑ دیا اور ایک اور روایت میں ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ جو عورتیں اپنے باپوں کے نکاح کئے ہوئے کو پسند نہ کرتی تھیں تو آنحضرت ﷺ انہیں ان کے خاوندوں سے علیحدہ کرلیتے تھے خواہ وہ باکرہ ہوں یا بیوہ۔ دارقطنی نے جابر سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپنی باکرہ لڑکی کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کردیا تھا پھر وہ لڑکی حضور ﷺ کی خدمت میں آئی ( اور اس نے اپنی ناخوشی ظاہر کی) تو آپ ﷺ نے اس میں تفریق کرادی حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ قتادہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئی۔ کہنے لگی کہ میرا باپ اچھا آدمی ہے اس نے میرا نکاح اپنے بھتیجے سے اس لیے کردیا ہے تاکہ اس کا رذیل پن جاتا رہے۔ یہ سنتے ہی حضور ﷺ نے نکاح کے بارے میں اسے اختیار دیدیا وہ بولی کہ میں نے اپنے باپ کے کیے ہوئے نکاح کو تو ویسے ہی رکھا ہے لیکن میں نے یہ چاہا تھا کہ سب عورتوں پر یہ بات ظاہر کردوں کہ اس بارے میں باپوں کو کچھ اختیار نہیں ہے۔ دارقطنی کہتی ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ ، جابر ؓ اور عائشہ ؓ تینوں کی حدیثیں مرسل ہیں اور ابن برید کا حضرت عائشہ سے سننا ثابت نہیں ہے اور جابر کی حدیث کا امام احمد نے ( بھی) انکار کیا ہے اور دارقطنی کہتے ہیں کہ صحیح یہی ہے کہ یہ حدیث عطا سے مرسل ہے اور اس کے مرفوع ( کرکے بیان) کرنے میں شعیب کو وہم ہوگیا ہے ابن جوزی کہتے ہیں کہ ابن عمر ؓ کی حدیث ثابت نہیں کیونکہ ابن ابی ذئب نے نافع سے کچھ نہیں سنا بلکہ عمر بن حسین سے سنا ہے اور اسی حدیث کی بابت کسی نے امام احمد سے پوچھا تھا کہ انہوں نے فرمایا تھا۔ یہ باطل ہے ہم کہتے ہیں کہ مرسل حدیث حجت ہیں خاص کر استشہاد اور تقویہ کے لیے اور ابن جوزی کا یہ کہنا کہ یہ حدیثیں اس صورت پر محمول ہیں کہ کوئی باکرہ بالغہ غیر کفو سے نکاح کرلے تو یہ بلا سبب خلاف ظاہر پر حمل کرنا ہے اس کے علاوہ حضرت عائشہ کی حدیث میں اس حمل کے ابطال پر یہ لفظ صریح ہیں کہ میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میرا نکاح کردیا ہے کیونکہ چچا کا بیٹا تو کفو ہوتا ہے اور یہ کہنا کہ یہ بھتیجے ان کی ماں کی طرف سے تھا تو یہ بھی احتمال بعید بلا دلیل ہے وا اللہ اعلم۔ مسئلہ اس پر سب (فقہاء) کا اتفاق ہے کہ باکرہ صغیرہ کے نکاح کردینے کا باپ کو اختیار ہے اور بیوہ صغیرہ میں اختلاف ہے امام مالک۔ امام شافعی۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ بیوہ صغیرہ کا نکاح ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ بالغ ہونے سے پہلے اس کے اجازت دینے کا اعتبار نہیں ہوتا اس کی وجہ یہ ہے کہ اجازت عقل پر موقوف ہے اور بالغ ہونے سے پہلے عقل ( کا ہونا) معتبر نہیں ہے لہٰذا اس کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہوتا اور بیوہ کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے نہیں ہوتا پس اس کا نکاح بھی درست نہ ہوگا اس نتیجہ کا صغریٰ تو اجماع (ہونے) کے بعد بدیہی ہے ہاں کبریٰ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد سے ثابت ہوتا ہے کہ : الثیب احق بنفسہا اور یہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور ابوہریرہ کی حدیث کہ بیوہ کا نکاح اس سے اجازت لیے بغیر نہ کیا جائے اسے ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور خنساء کی حدیث کہ میرے باپ نے میرا نکاح کردیا ہے اور میں رضا مند نہیں ہوں اور وہ بیوی تھی تو نبی ﷺ نے اس کا نکاح توڑدیا اس کو بخاری نے نقل کیا ہے اور ابن عباس ؓ کی حدیث کہ بیوہ کے ولی کو ( اس کا) کچھ اختیار نہیں ہے اسے دارقطنی نے نقل کیا ہے اور یہ حدیث ضعیف ہے دارقطنی نے اس میں نقص بیان کیا ہے اور جواب یہی ہے کہ خنساء بالغہ تھی کیونکہ اس پرا جماع ہے کہ بیوہ صغیر سے اجازت نہ لی جائے اور نہ اس کا اجازت دینا صحیح ہے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اسے خود نکاح کرلینا جائز نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ باپ کے لیے اس کا نکاح کردینا جائز ہے اگرچہ وہ رضا مند نہ ہو کیونکہ باکرہ صغیرہ میں ولایت کا سبب یا تو صغیرہ ہونا ہوتا ہے یا باکرہ ہونا اس کے سوا اور کوئی سبب نہیں ہے اور بالغہ میں بکارۃ معتبر نہیں ہے جسے ہم پہلے بیان کرچکے ہیں پس اسی طرح صغیرہ میں بھی اور اب فقط صغیرہ ہی ہونا (سبب) رہا اور وہ اس (مذکورہ صورت) میں بھی ہے
بِالْمَعْرُوْفِ (دستور کے مطابق) یعنی جو شریعت میں معروف ہو اور شرافت ( بھی) اسے مستحسن سمجھے۔ بالمعروف فتراضوا کی ضمیر مرفوع سے حال ہے یا مصدر محذوف کی صفت ہے یعنی تراضیًا کائنًا بالمعروف اور اس میں اس امر کی دلیل ہے کہ غیر کفو کے ساتھ نکاح کرنے سے اور اس نکاح سے جو شریعت میں جائز نہیں ہے جیسے عدت میں نکاح کرنا اور اس کے علاوہ اور نکاح جو ممنوع ہیں اس سے روکنا جائز ہے اس آیت میں اس سے منع نہیں کیا گیا۔
ذٰلِكَ ( یہ) اشارہ اس طرف ہے جو ( عورتوں کو) روکنے سے پرہیز کرنا اور باہم رضا مندی کا خیال رکھنا پہلے بیان ہوچکا ہے یہ انفرادی خطاب ہر ایک کو ہے یا کاف محض خطاب کے لیے ہے مخاطب لوگوں کی تعیین نہیں ہے ایک ہو یا چند یا یہ خطاب آنحضرت ﷺ کو ہے جیسے : یا ایہا النبی اذا طلقتم النسائ میں۔ یا یہ کہا جائے کہ کاف کے لیے کچھ اعراب نہیں تو اس صورت میں یہ خیال ہوسکتا ہے کہ کاف نفس کلمہ کا ہے خطاب کے لیے نہیں ہے اسی بنا پر واحد ‘ تثنیہ ‘ جمع ‘ مذکر ‘ مؤنث میں عرب کاو منصوب اور موحد پڑھتے ہیں :
يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ( اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے) یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ احکام شریعت کے کفار مخاطب نہیں ہیں یا یہ کہا جائے کہ خاص انہی کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ نصیحت حاصل کرنے والے اور نفع اٹھانے والے اس سے یہی لوگ ہیں۔
ذٰلِكُمْ ( یہ) سب لوگوں کو خطاب ہے۔
اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ (تمہارے حق میں نفع دینے والی اور بڑی پاک کرنے والی ہے) یعنی گناہوں کی پلیدی سے کیونکہ اگر ( عورتوں) کو مطلق نکاح سے روکا جاتا تو وہ اکثر زنا ( کاری) میں پڑجاتیں اور اگر اس نکاح سے روکا جاتا جس سے وہ خود رضا مند ہوگئی ہیں اور ایسے شخص سے نکاح کرنے پر زبردستی کی جاتی جس سے وہ رضا مند نہیں ہیں تو اندیشہ تھا کہ یہ دونوں ( میاں بیوی) اللہ تعالیٰ کی حدود کو قائم نہ رکھیں اور خلع کرنے یا طلاق دینے کی نوبت آئے۔
وَاللّٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ( اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے ( اس کو جس میں نفع اور بہتری ہے) اور تم نہیں جانتے) یعنی اپنی کم عقلی اور انجام کار سے ناواف ہونے کے باعث۔
Ayah 2:233وَالْوَالِدٰتُ يُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ ( اور مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلالیں) بچوں کو ماؤں کی طرف اس لیے منسوب کردیا ہے تاکہ یہ ان کے مہربان ہونے اور دودھ پلانے کا باعث ہو اور یہ امر وجوب کے لیے ہے جو مبالغہ کی غرض سے جملہ خبریہ سے بیان کردیا گیا ہے لیکن یہ حکم اس صورت میں منسوخ ہے کہ جب ماں دودھ پلانے سے قاصر ہو یعنی اس میں قدرت نہ ہو اور باپ ( اناکو) نوکر رکھ لینے پر قادر ہو تو باپ بچے کو اور عورت سے پلوائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : فان تعاسرم فسترضع لہ اخری ( یعنی اگر تم آپس میں تنگی کرو تو دودھ اور عورت پلائے) یا یہ آیت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : لا تضار والدۃ بولدھا سے مخصوص ہے اور اس کی ماسوا میں حکم اپنی اصل پر ہے اور اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ اگر مرد اپنی بیوی یا اپنی معتدہ کو دودھ پلانے کے لیے نوکر رکھے تو یہ جائز نہیں ہے اور امام شافعی کا قول ہے کہ اسے نوکر رکھ لینا جائز ہے اور ہماری دلیل یہ ہے کہ دودھ پلانا دیانتاً عورت کے ذمہ ہے مگر جب وہ باوجود انتہا درجہ کی محبت ہونے کے دودھ نہ پلائے تو اس کے معذور ہونے کے خیال سے قضاءً اس سے معذور سمجھ لیا گیا ہے پھر جب وہ اجرت پر پلانے کے لیے آمادہ ہوگئی تو اس سے (دودھ پلانے پر) اس کا قادر ہونا ظاہر ہوگیا اور یہ دودھ پلانا اس پر واجب تھا تو اب اسے اجرت لینی جائز نہیں ہے اگر کوئی یہ کہے کہ یہ دلیل چاہتی ہے کہ مطلقہ کی عدت پوری ہونے کے بعد اس کے بچہ کو دودھ پلانے کے لیے اسی کو نوکر رکھ لینا جائز نہ ہو حالانکہ یہ بالاتفاق جائز ہے ہم کہتے ہیں کہ عدت پوری ہونے کے بعد اس کو نوکر رکھ لینے کا جواز اللہ کے اس فرمان سے ثابت ہوا ہے۔ : فان ارضعن لکم فاتوھن اجورھن [ الایۃ ] پس اس سے معلوم ہوا کہ ماں پر دودھ پلانا واجب اس شرط سے ہے کہ باپ کے ذمہ آیت و علی المولود لہ رزقہن و کسوتھن سے اس کا نان نفقہ واجب ہو پس زوجہ ہونے اور عدت میں ہونے کی حالت میں وہ ایجاب اسے نان نفقہ دینے کی وجہ سے قائم ہے اور عدت کے بعد اس کے ذمہ نان نفقہ نہیں ہے اس لیے یہ اجرت اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔
حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ (پورے دو برس) صفت کمال سے اس لیے تاکید کردی ہے کہ ( اکثر مائیں وغیرہ) اس میں سستی کردیتی ہیں اس قید کا مقتضا یہ ہے کہ پورے دو برس تک دودھ پلانا واجب ہو لیکن اس کے بعد چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا : فان ارادا فصالًا عن تراض منہما و تشاور فلا جناح علیہما تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ قید فقط اس لیے ہے کہ دو برس کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں ہے نیز دو برس کے بعد دودھ پلانے کے جواز کی نفی ہونی اپنی اصل پر ہے کیونکہ اصل یہی ہے کہ آدمی کی تعظیم کی وجہ سے اس کے اجزا سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ یہ نفی اللہ کے اس ارشاد سے بھی ظاہر ہوتی ہے :
لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يُّـتِمَّ الرَّضَاعَةَ (اس شخص کے لیے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے) کیونکہ دودھ کی مدت پوری ہونے کے بعد اور کوئی چیز نہیں ہے اور یہ اس شخص کے لیے بیان ہے جس کی طرف وجوب کا حکم متوجہ ہوتا ہے یعنی یہ دو برس تک دودھ پلوانا اس شخص کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہئے یا یہ یرضعن کے متعلق ہے کیونکہ باپ کے ذمہ دودھ پلوانا مثل نان نفقہ کے واجب ہے اور ماں کے ذمہ دودھ پلانا واجب ہے اگر اسے تکلیف نہ ہو قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے پورے دو برس دودھ پلانا ماؤں پر فرض کیا تھا پھر اپنے قول : لمن ارد ان یتیم الرضاعۃ سے اس میں تخفیف کردی پس اس آیت سے ثابت ہوا کہ دودھ پلانے کی مدت دو برس ہے اس کے بعد جائز نہیں ہے اور نہ دو برس کے بعد دودھ پلانے سے محرم ہونا ( یعنی رضاعی ماں وغیرہ ہونا) ثابت ہوتا ہے اور یہ قول امام ابو یوسف۔ امام شافعی امام احمد کا ہے اور یہی حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عمر ؓ سے مروی ہے ان دونوں روایتوں کو دارقطنی نے نقل کیا ہے اور ابن مسعود اور حضرت علی سے (بھی) مروی ہے ان دونوں کو بن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے۔ امام مالک کا قول یہ ہے کہ (دودھ پلانے کی مدت) دو برس سے کچھ زیادہ ہے اور اس زیادہ کی انہوں نے کوئی حد نہیں بیان کی امام ابوحنیفہ (رح) نے ( اس زیادہ کی حد) تین مہینے فرمائی ہے اور امام زفر نے تین برس فرمائے ہیں اور سب ائمہ نے دو برس سے زیادہ ہونے کو اللہ کے ارشاد کاملین سے لیا ہے کیونکہ کمال یہ چاہتا ہے کہ ان دو برس میں بچہ (اچھی طرح) کھاتا نہیں لہٰذا اتنی مدت ( اور) ہونی ضروری ہے کہ اس میں بچہ کو کھانا کھانے کی عادت ہوجائے اور اس زیادتی ( کی مدت) کو ہر ایک امام نے اپنی اپنی رائے سے مقرر کیا ہے اور امام مالک نے کوئی مدت مقرر نہیں کی ہم کہتے ہیں کہ کمال کا یہ تقاضا ہونا ممنوع ہے کہ دو برس میں بچہ کھانا نہیں کھاتا بلکہ کمال کو ( اللہ نے) اس لیے ذکر کیا ہے تاکہ لوگ سستی کرکے ان دو برس کو ان سے کم پر نہ حمل کریں ہمارے اس قول پر ابن عباس ؓ کی یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : لا رضاع الا ما کان فی حولین ( یعنی دودھ پلانا وہی ہے جو دو برس کے اندر ہو) اس حدیث کو ابن جوزی اور دارقطنی نے نقل کیا ہے۔ دارقطنی کہتے ہیں ابن عیینہ سے مروی ہے کہ اس حدیث کے سب راوی ٹھیک ہیں سوائے ہثیم بن جمیل کے اور یہ ( بھی) ثقہ ( اور) حافظ ہے اسی طرح امام احمد عجلی۔ ابن حبان وغیرہ نے اس کو ثقہ کہا ہے۔
وَعَلَي الْمَوْلُوْدِ لَهٗ (اور جس کا بچہ ہے اس پر) یعنی باپ پر کیونکہ بچہ اسی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اسی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ عبارت کا تغیر اس معنی کی طرف اشارہ کرنے کے لیے ہے کہ دودھ پلوانے کا وجوب اور دودھ پلانے والی کا خرچہ باپ کے ذمہ ہے اور (لہٗ میں) لام اختصاص کے لیے ہے اور اسی وجہ سے ظاہر الروایت میں امام ابوحنیفہ کا قول یہ ہے کہ بالغ لڑکی اور بالغ لڑکے کا خرچ خاص باپ ہی کے ذمہ ہے ماں کے ذمہ نہیں ہے جیسا کہ چھوٹے بچہ کا اور خصاف اور حسن کی روایت میں امام موصوف سے یہ مروی ہے کہ یہ خرچ دونوں کے ذمہ ہے لیکن میراث کے قاعدہ کے موافق تین حصے کرکے ( یعنی دو حصے باپ کے ذمہ اور ایک حصہ ماں کے ذمہ)
رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بالْمَعْرُوْفِ ( دستور کے مطابق ان ( ماؤں) کے کھانے اور کپڑے کی ذمہ داری ہے) اگر بچہ کی ماں اس ( کے باپ) کی بیوی ہے یا عدت میں ہے تو یہ کھانا اور کپڑے اس کے بیوی ہونے کے حکم کی وجہ سے جائز ہے اور اگر وہ عدت پوری ہونے کی وجہ سے اجنبی عورت ہوگئی ہے تو پھر یہ ( باپ کے ذمہ) اجرت کے طور پر واجب ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فاتوھن اجورھن دلالت کرتا ہے اور اس خرچہ کی مقدار بقدر وسعت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ( آگے) فرمایا ہے :
لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا ( ہر شخص کو گنجائش ہی کے مطابق تکلیف دی جاتی ہے) اس میں اس مر کی دلیل ہے کہ گنجائش سے زیادہ تکلیف ( دی جانی) اگرچہ عقلاً جائز ہے لیکن شرعاً جائز نہیں ہے خاص کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے
لَا تُضَاۗرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِھَا وَلَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ ۤ (نہ بچہ کی وجہ سے ماں کو تکلیف دی جائے اور نہ بچہ کی وجہ سے اسے جس کا بچہ ہے ( یعنی باپ کو) ابن کثیر یعقوب نے لا تضار کو رفع کے ساتھ پڑھا ہے اس وجہ سے کہ یہ لا تکلف سے بدل ہے پس یہ خبر بمعنی نہی ہے اور باقی قاریوں نے نہی کے صیغہ سے نصب کے ساتھ پڑھا ہے اور ان دونوں صورت میں یہ صیغہ معروف اور مجہول ہونے کا احتمال رکھتا ہے اور (ب) سببیت کے لیے ہے معنی یہ ہیں کہ نہ ماں اپنے بچہ کے سبب سے اپنے خاوند کو کوئی تکلیف دے یعنی اس سے نخرے کرے اور نفقہ یا اجرت میں اس سے زیادہ مانگے اور بچہ کی خبر گیری میں کمی کرکے اس کے دل کو پریشان کرے یا بچہ کے اپنے مانوس ہوجانے کے بعد اس سے کہے کہ اور انا لے آؤ وغیرہ وغیرہ اور نہ باپ اپنے بچہ کے سبب سے اپنی بیوی کو تکلیف دے اس طرح کہ اس سے بچہ چھین لیں حالانکہ وہ اسے اس اجرت پر دودھ پلانا چاہتی ہے جو کوئی غیر عورت لے یا اس کی اجرت میں کمی کرے یا اس سے زبردستی پلوائے باوجودیکہ اور انا مل سکتی ہے اور ماں دودھ نہیں پلا سکتی وغیرہ وغیرہ یہ معنی لا تضار کے معروف ہونے کی صورت میں ہیں اور مجہول ہونے کی صورت میں بھی یہی معنی ہیں لیکن عکس ترتیب کے ساتھ اور احتمال ہے کہ لا تضار کے معنی لا تضر کے ہوں اور ب زائد ہو یعنی نہ ماں اپنے بچہ کو تکلیف دے نہ باپ اپنے بچہ کو تکلیف دے اس طور پر کہ اس کی خبر گیری میں دودھ پلوانے میں اور اس پر خرچ کرنے میں کمی کرنے لگے اور ماں اسے باپ کو نہ دے یا ماں سے مانوس ہونے کے بعد باپ اسے چھین لے اور بچہ کو دونوں کی طرف منسوب کرکے اس لیے ذکر کیا ہے کہ دونوں کو اس سے محبت زیادہ ہوجائے۔
وَعَلَي الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ ( اور ایسا ہی اس کے وارث پر ہے) اس کا عطفو علی المولود لہ پر ہے اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ معروف کی تفسیر اور معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ وارث کی تفسیر میں اختلاف ہے امام مالک اور اما شافعی فرماتے ہیں کہ یہاں وارث سے مراد وہ لڑکا ہی خود ہے جو اپنے باپ متوفی کا وارث ہے اس کے دودھ پینے کی اجرت اور اس کا خرچہ اس کے مال میں سے لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو ماں کے ذمہ ہے اور بچہ کے خرچ کے لیے سوائے والدین کے اور کسی پر جبر نہیں ہوسکتا اور بعض کا قول یہ ہے کہ اس (وارث) سے مراد ہے یا باپ جو بھی زندہ ہو اس کے ذمہ دودھ پلانے کی اجرت اور روٹی کپڑا ایسا ہی ہے جیسا باپ کے ذمہ یہ قول بھی امام شافعی اور امام مالک کے مذہب کے موافق ہے پہلے قول پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ بچہ کا خرچ اسی کے مال میں سے ہونا اس پر مقدم ہے کہ اس کا خرچہ اور کسی پر ہو خواہ وہ باپ ہو یا کوئی ہو۔ ہاں جس وقت یہ مان لیا جائے کہ بچہ کے پاس مال نہیں ہے۔ پس یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے کہ بچہ کے ذمہ اس کا خرچہ ویسا ہی واجب ہے کہ جیسا اس کے باپ کے ذمہ تھا بلکہ یہ بات الٹی کہنی پڑے گی اور یہ کوئی کیونکر کہہ سکتا ہے ‘ یہ جان لینے کے بعد کہ بچہ کے پاس مال نہیں ہے اور دوسرے قول پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر فقط باپ زندہ ہے یا دونوں زندہ ہیں تو یہ حکم تو پہلے گذر چکا ہے کہ ماں کا کپڑا باپ کے ذمہ ہے اس کے دوبارہ بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ آیت ان دونوں کے زندہ رہنے کی صورت میں یہ چاہتی ہے کہ نفقہ ان دونوں ہی کے ذمہ ہو اور یہ ما سبق کے منافی ہے اور اگر فقط ماں ہی زندہ ہو تو یہ معنی ہوں گے کہ ماں پر ماں کا رزق ہے اور اس وقت یہ لازم آئے گا کہ وہی مستحق ہو اور اسی پر استحقاق ہو۔ امام احمد ‘ اسحاق ‘ قتادہ ‘ ابن ابی لیلیٰ کا قول یہ ہے کہ الوارث سے مراد بچہ کا وارث ہے خواہ مرد ہو یا عورت ہو مطلب یہ ہے کہ ہر وارث سے بقدراس کی میراث کے زبردستی نفقہ لیا جائے وہ عصبہ ہو یا نہ ہو اور برابر ہے کہ وہ بچہ اس کا وارث ہوتا ہو یا نہ ہوتا ہو۔ مثلاً جس صورت میں کوئی لڑکی ہو کہ اس کے چچا کا بیٹا اور اس کا بھتیجے تو اس کے وارث ہوتے ہیں اور وہ ان کی وارث نہیں ہوتی اور ایک روایت میں امام احمد سے یہ بھی ہے کہ زبردستی اسی پر کی جائے کہ جہاں ان دونوں میں توارث بھی جاری ہو ( یعنی ایک دوسرے کا وارث بھی ہو) اور امام احمد کی پہلی روایت کے موافق امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے اور آیت سے یہی ظاہر و متبادر بھی ہے اور اس میں کوئی خفا نہیں ہے ہاں امام ابوحنیفہ (رح) نے وارث میں ذی رحم محرم کی قید لگائی ہے۔ پس اس قید سے معتق اور چچا زاد بھائی وغیرہ نکل جائیں گے اور وجہ اس قید کے بڑھانے کی عبداللہ بن مسعود کی قراءت ہے کہ و علٰی الوارث ذی رحم المحرم مثل ذالک۔ پس امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنے اصل قاعدہ پر عمل کیا کہ ابن مسعود ؓ کی قرأت سے کتاب (ا اللہ) کی تخصیص اور اس پر کچھ زیادتی کرنی جائز ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ وارث سے مرادعصبہ ہے پس بچہ کے عصبوں پر (نفقہ کے بارے میں) زبردستی کی جائے جیسے دادا۔ بھائی۔ بھتیجوں۔ چچا کا بیٹا بغوی کہتے ہیں یہی قول حضرت عمر بن خطاب کا ہے اور ابراہیم۔ حسن۔ مجاہد۔ عطا۔ سفیان بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض ( مفسرین) کا قول یہ ہے کہ یہاں نفقہ مراد نہیں ہے بلکہ اس کا مفاد مراد ہے معنیٰ یہ ہیں کہ وارث پر مضرت کا ترک کردینا لازم ہے (یعنی وہ اس بچہ کو کسی طرح کی تکلیف نہ دے) بغوی کہتے ہیں یہی قول زہری اور شعبی کا ہے، میں کہتا ہوں یہ معنی ہرگز ٹھیک نہیں ہیں کیونکہ ترک مضرت کا واجب ہونا تو وارث ہی کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ والدین کے بارے میں یہ اس لیے ذکر دیا گیا ہے کہ مضرت کا وہ وہم دفع ہوجائے جو مذکورہ آیت سے ہوتا تھا اس کے علاوہ وضع کے اعتبار سے ذالک کا لفظ بعید کے لیے ہے اور بعید وجوب نفقہ ہے نہ کہ قریب کے لیے جو مضرت ہے۔ وا اللہ اعلم اور اسی آیت کی وجہ سے امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ دولتمند پر ( اس کے) ہر زی رحم محرم کا نفقہ واجب ہے جس وقت کہ وہ زی رحم محرم صغیر ( سن) تنگ دست ہو یا بالعہ عورت تنگدست ہو یا مرد ہی لنگڑا لولا ہو یا اندھا تنگ دست ہو اور یہ قیدیں اس وجہ سے لگائیں ہیں کہ مورد نص تو صغیر ہے ( یعنی نص صغیر سن ہی کے بارے میں آئی ہے) اور صغر محتاجگی کے اسباب میں سے ہے پس جس ذی رحم محرم میں کوئی محتاجگی کا سبب ہوگا تو اس سبب کی وجہ سے (اس حکم میں) اسے صغیر کے ساتھ کردیا جائے گا۔ بخلاف اس تنگدست کے جو کمانے والا ہو کیونکہ وہ اپنے کمانے کی وجہ سے غنی ہے اس کو صغیر کے ساتھ نہیں ملا سکتے اور نہ اس کا کسی پر نفقہ واجب ہوتا ہے اور ( نفقہ میں) میراث کی مقدار کا اعتبار ہوگا ( یعنی جسے جس قدر ورثہ پہنچتا ہوگا اس پر اسی قدر نفقہ بھی واجب ہوگا) کیونکہ ایک حکم کو کسی مشتق کی طرف منسوب کرنا اس امر کی دلیل ہوتا ہے کہ ماخذ اشتقاق اس حکم کی علت ہے پس ماں پر اور دادے پر تہائی نفقہ لازم ہوگا اور اپاہج بھائی تنگدست کا نفقہ اس کی متفرق متمول بہنوں پر میراث کے موافق پانچواں پانچواں حصہ ہوگا علی ہذا القیاس۔ اور علماء کہتے ہیں کہ معتبر اہلیت وراثت ہے نہ کہ اس کا حاصل کرنا کیونکہ یہ تو مرنے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے پس ( اس قول کے مطابق) جب کسی تنگدست کے ایک ماموں اور ایک چچا زاد بھائی ہو تو اس کا نفقہ ماموں کے ذمہ ہوگا نہ کہ چچا زاد بھائی کے ذمہ اور باوجود اختلاف دین کے نفقہ واجب نہیں ہوتا ( یعنی اگر ایک کافر ہو دوسرا مسلمان ہو تو ان میں ایک کا دوسرے کے ذمہ نفقہ نہ ہوگا) کیونکہ ان میں اہلیت وراثت نہیں ہے اور (نفقہ کے) وجوب کی علت وہی ہے اور نہ تنگدست پر نفقہ واجب ہے کیونکہ یہ صلہ رحمی کرنے کے لیے واجب ہوتا ہے اور صلہ رحمی میں خود تنگدست ہی کا اوروں پر استحقاق ہے پس اس پر کسی کا استحقاق کیونکر ہوسکتا ہے لیکن ظاہر روایت میں جو امام ابوحنیفہ کا یہ قول ہے کہ ہر شخص پر اپنے والدین اور دادا دادی کو خرچ دینا واجب ہے جس وقت کہ وہ محتاج تنگ دست ہوں اگرچہ وہ کافر ہوں اور یہ کہ ان کا نفقہ اولاد ہی کے ذمہ ہے اور سب پر برابر ہے خواہ ( اولاد) مرد ہوں یا عورتیں ہوں تو یہ وراثت کے طریقہ پر نہیں ہے اس میں امام احمد کا اختلاف ہے وہ فرماتے ہیں کہ مرد اور عورتوں پر تہائی کے طور پر ہے (یعنی مرد کے ذمہ دو حصے اور عورت کے ذمہ ایک حصہ) اور یہی ایک روایت امام ابوحنیفہ (رح) سے بھی ہے تو ان کے اس قول کا مبنیٰ ( اور دلیل) یہ آیت نہیں ہے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کا نفقہ جزئیت (یعنی اولاد ہونے) کی وجہ سے واجب ہے نہ کہ وراثت کی وجہ سے والدین کافر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : و ان جاہداک علی ان تشرک بی ما لیس لک بہ علم فلا تطعھما و صاحبہما فی الدنیا معروفا ( یعنی اور اگر تیرے ماں باپ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک کر جس کا تجھے علم نہیں تو تو ان کی پیروی نہ کر اور دنیا میں ان کے ہمراہ اچھی طرح رہ) اور یہ تو اچھی طرح رہنا نہیں ہے کہ وہ دونوں بھوکے مرجائیں اور وہ دولتمند ہو اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ : انت ومالک لابیک ( یعنی تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کی ملک ہے) اس حدیث کو نبی ﷺ سے صحابہ کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے اور اصحاب سنن اربعہ نے حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت کی ہے فرماتی ہیں رسول ﷺ اللہ نے فرمایا : ان اطیب ما اکل الرجل من کسب ولدہ و ان ولدہ من کسبہ ( یعنی مال طیب وہ ہے جو آدمی اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھائے اور اس کی اولاد اس ( کی خود) کی کمائی میں سے ہے) اس حدیث کو ترمذی نے حسن کا ہے۔
ابو داؤد اور ابن ماجہ نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے باپ سے اور ان کے باپ نے اپنے دادا سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت کی خدمت میں عرض کیا میرے پاس مال ہے اور میرے والد ( کے پاس کچھ نہیں وہ) میرے مال کے محتاج ہیں (انہیں دوں یا نہیں) تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا : انت ومالک لوالدک ان اولادکم من اطیب کسبکم کلوا من کسب اولادکم ( یعنی تم اور تمہارا مال تمہارے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری ہی اعلیٰ درجہ کی کمائی میں سے ہے لہٰذا تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھایاکرو) ان حدیثوں کا مقتضی یہ ہے کہ بیٹے کے مال کا باپ مالک ہونا ہے لیکن اجماع اور آیت میراث کی دلالت وغیرہ کی وجہ سے یہ ظاہری مقتضی مراد نہیں لیا جاتا بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ ضرورت کے وقت باپ ( بیٹے کے مال کا) مالک بن سکتا ہے لہٰذا ماں باپ کا نفقہ بیٹے پر واجب ہے وارثوں میں سے اور کوئی شخص اس درجہ میں شریک نہیں اور جب یہ نفقہ وراثت کے طور پر ثابت نہ ہوا تو اس میں وراثت کا طریقہ بھی معتبر نہ ہوگا ہاں قیاس کی وجہ سے دادا دادی ماں باپ کے حکم میں ہیں اسی واسطے وہ دونوں ماں باپ (کے نہ ہونے کی صورت میں ان) کی میراث کو لے لیتے ہیں اور دادا نکاح میں ولی ہوجاتا ہے۔ عمرو بن شعیب اپنے دادا سے انکے دادا اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں فقیر ہوں میرے پاس کچھ نہیں ہے اور ایک یتیم بچہ میرے پاس (پرورش کے لیے) ہے آپ نے فرمایا کہ اپنے یتیم کے مال میں سے کھاؤ (پیو) لیکن اسراف نہ کرنا اور نہ اپنے پاس جمع کرلینا۔ یہ حدیث ابو داؤد۔ نسائی۔ ابن ماجہ نے نقل کی ہے اور جب امام شافعی اور امام مالک نے وارث کی یہ تفسیر کی جو ہم بیان کرچکے ہیں تو اب امام مالک فرماتے ہیں کہ سوائے والدین اور صلبی اولاد کے اور کسی کے لیے ( نفقہ) واجب نہیں نہ دادوں کے لیے نہ دادیوں کے لیے نہ پوتوں کے لیے اور نہ نواسوں کے لیے اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ اصول اور فروع (یعنی باپ ‘ دادا وغیرہ ادھر اور بیٹاپوتا وغیرہ ادھر) دونوں کے لیے (ان کے آپس میں) نفقہ مطلقاً واجب ہے ہاں نسب کے ان دونوں ستونوں سے تجاوز نہیں کرسکتا اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ نفقہ کا بار خاص مردوں ہی پر ہے مثلاً دادا۔ بیٹا۔ پوتا عورتوں پر نہیں ہے اور امام مالک فرماتے ہیں کہ نفقہ کا بار صلبی اولاد پر برابر ہے جس وقت وہ دونوں دولتمند ہوں ( خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ہوں اور اگر ان میں ایک دولتمند ہے اور دوسرا فقیر ہے تو پھر فقط دولتمند ہی پر ہے۔ وا اللہ اعلم۔
فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا ( پھر اگر وہ دونوں (یعنی ماں باپ) دودھ چھڑانا چاہیں) یعنی دو برس سے پہلے) کیونکہ دو برس کے بعد چھڑانا تو واجب ہے چناچہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ دودھ پلانے کی انتہائی مدت دو برس ہے اس شخص کے لیے جو پوری مدت تک پلوانا چاہئے اگر کسی کو شبہ ہو کہ فان ارادا کی فا اس بات کو چاہتی ہے کہ دودھ چھڑانا دو سال کے بعدہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں فا مطلق دودھ پلانے کی بعدیت کو بیان کرنے کے لیے ہے نہ دو سال کے بعد کو۔ اور مدارک میں کہا ہے کہ یہاں مطلق حکم بیان کیا گیا ہے خواہ دو برس سے زیادہ ہو یا کم ہو یہ ایک ( مدت اور) حد بیان کرنے کے بعد وسعت دینا اور (آسانی کرنا) صاحب مدارک نے یہ اس لیے کہا ہے تاکہ یہ آیت امام ابوحنیفہ (رح) کے مذہب کے موافق ہوجائے (کیونکہ امام اعظم کا مذہب ہے) کہ دو برس کے بعد اور چھ مہینے دودھ پلانا جائز ہے میں کہتا ہوں کہ اگر یہ آیت اس تہدید کے لیے ناسخ ہے اور یہ حکم مطلق ہے یا دو برس کے بعد کے ساتھ مقید ہے تو اس سے تین برس کے بعد بھی دودھ پلانے کا جواز لازم آئے گا اور یہ اجماع کے خلاف ہے اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے اور نہ ڈھائی برس وغیرہ کی مدت معین کرنے کی کوئی وجہ ہے اور حنفیہ نے جو یہ کہا ہے کہ ڈھائی برس تک دودھ پلانے کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : و حملہ و فصالہ ثلٰاثون شہرا سے ہوتا ہے تو یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم اس کو اس کے موقع پر یعنی سورة نساء میں اللہ تعالیٰ کے قول : و امہاتکم التی ارضعنکم کی تفسیر میں عنقریب بیان کریں گے اگر کسی کو شبہ ہو کر فصال ( دودھ چھڑانے) کو دو سال سے پہلے لینے کی صورت میں بھی تو دو سال کی مدت معین کرنے کا نسخ لازم آتا ہے ہم کہتے ہیں کہ پورے دو برس تک دودھ پلانے کے واجب ہونے میں اللہ کے اس قول کی قید ہے۔ لمن اراد ان یتم الرضاعۃ اور آیت دودھ چھڑانے کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہے جس وقت کہ ان کا یہ ارادہ آپس کی رضا مندی اور مشورہ سے ہو لہٰذا نہ یہاں منافاۃ ہے اور نہ نسخ ہے وا اللہ اعلم۔
عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ ( آپس کی رضا مندی اور مشور سے) یعنی اہل علم کے مشورہ سے تاکہ وہ بتلائیں کہ اسوقت میں دودھ چھڑانا اس بچہ کو کچھ مضر نہ ہوگا اور مشاورت کے معنی رائے زنی کرتا ہے۔
فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ( تو ان پر ( اس میں) کوئی گناہ نہیں ہے) اور دونوں کی رضا مندی اس لیے معتبر رکھی گئی ہے تاکہ ان میں سے ایک کسی غرض وغیرہ کی وجہ سے ایسا نہ کر بیٹھئے کہ جس سے بچہ کو ضرر ہو اور اس سے معلوم ہوا کہ دونوں میں سے ایک کے لیے بغیر آپس کی رضا مندی اور رائے والوں سے مشورہ لینے کے دو برس سے پہلے دودھ چھڑانا جائز نہیں ہے۔
وَاِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْٓا اَوْلَادَكُمْ ( اے بچوں کے باپوں) اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو) یعنی ان بچوں کی ماں کے سوا اور اناؤں سے جب کہ ان کی مائیں انہیں دودھ پلانے سے انکار کردیں یا تو اپنی کسی تکلیف کی وجہ سے یا دودھ نہ ہونے کی وجہ سے یا وہ نکاح کرنا چاہتی ہیں یا وہ اناؤں سے زیادہ تنخواہ مانگتی ہیں اور یہ قیود ہم نے اس لیے لگا دی ہیں کہ والدین میں سے ایک کے دوسرے کے ضرر نہ دینے کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ مفعول اوّل کو استغنا کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّآ اٰتَيْتُمْ ( تو تم پر کچھ گناہ نہیں ہے جب کہ تم نے جو کچھ دینا مقرر کیا تھا وہ ان کے ( یعنی ان کی ماؤں کے) حوالے کردیا ہو۔ ما آتیتم سے یہ مراد ہے کہ جو کچھ تم نے ان کی ماؤں کے دودھ پلانے کی تنخواہ بقدر ان کے دودھ پلانے کے مقرر کردی ہو یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اناؤں کی تنخواہیں ان کے حوالے کرچکے ( تو اب تم پر کچھ گناہ نہیں ہے) اور حوالے کردینا اجماعاً مستحب ہے جواز کی شرط نہیں ہے ابن کثیر نے یہاں اور سورة روم میں آتیتم الف مقصورہ کے ساتھ پڑھا ہے اور اس کے معنی ما فعلتم کے ہیں اور اس وقت تسلیم کے معنی اطاعت کرنے اور اعتراض نہ کرنے کے ہیں یعنی جب والدین میں سے ایک نے دوسرے کے فعل یعنی دودھ پلوانے کی اطاعت کرلی ( تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں)
بِالْمَعْرُوْفِ (دستور کے مطابق) یہ سلمتم کے متعلق ہے یعنی ایسے طریقہ پر جو شریعت میں مستحسن اور متعارف ہو اور شرط کا جواب محذوف ہے اس پر اس کا ما قبل دلالت کرتا ہے۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ ( اور اللہ سے ڈتے رہو 1 ) بچوں اور اناؤں کی بابت جو پہلے بیان کیا گیا ہے یہ آیت اس کی حفاظت کرنے ( اور اس پر کار بند ہونے) کی تاکید کیلئے ہے۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ( اور جان لو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے) یہ ترغیب اور تہدید ہے۔