Ayah 2:234وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ ( اور جو تم میں سے مرجائیں) توفی کے معنی ایک شے کو بتمامہ حاصل کرنے کے ہیں یعنی وہ اپنی عمریں پوری کرلیں۔
وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ ( اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ رکیں) یعنی انتظار کریں اس میں ضمیر بیویوں کی طرف ہے یعنی ان مردوں کی بیویاں انتظار کریں اور مبتدا پر سے مضاف محذوف ہے یعنی وازواج الذین یتوفون یتربصن بعدہم۔
بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا (اپنے کو چار مہینے اور دس دن) لفظ عشر کو مؤنث ذکر کرنا لیالی کے اعتبار سے ہے کیونکہ لیالی سے ہی مہینوں اور دنوں کی ابتدا ہوتی ہے، عرب کا قاعدہ ہے کہ جب کسی عدد کو لیالی اور ایام میں مبہم کرنا منظور ہوتا ہے تولیالی کو ایام پر غلبہ دے کر لیالی کا استعمال کرتے ہیں اور ایسے موقعہ میں مذکر کا استعمال نہیں کرتے چناچہ کہتے ہیں : صمت عشر (قرآن شریف میں ہے : ان لبثتم الا عشرًا اور آگے فرمایا ہے : ان لبثتم الا یوما یہ آیت حاملہ وغیرہ سب عورتوں کو شامل تھی پھر اسکا حکم حاملہ عورتوں کے بارے میں اللہ کے اس قول سے منسوخ ہوگیا : واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملہن یعنی حاملہ عوتوں کی عدت یہی ہے کہ وہ اپنے حملوں کو جن لیں) ابن مسعود کا قول ہے کہ میں ہر شخص سے ( اس بارے میں) مباہلہ کرسکتا ہوں کہ چھوٹی سورة نساء یعنی سورة طلاق بڑی سورة نساء یعنی سورة بقرہ کے بعد نازل ہوئی ہے اور اسی پر اجماع ہوگیا ہے مسور بن مخرمہ سے روایت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ کو نفاس آگیا یعنی ان کے شوہر کے مرنے سے چند ہی روز کے بعد ان کے بچہ پیدا ہوگیا وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں اور نکاح کرنے کی آپ ﷺ سے اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی انہوں نے فوراً نکاح کرلیا یہ روایت بخاری نے نقل کی ہے اور صحیحین میں بھی سبیعہ کی حدیث اسی طرح ہے اور ام سلمہ کی سند سے بھی مروی ہے اور نسائی نے نقل کیا ہے کہ سبیعہ کے شوہر کے مرنے سے پندرہ روز کے بعد ان کے بچہ پیدا ہوگیا تھا اور بخاری کی روایت میں چالیس روز کے بعد ہے ایک اور روایت میں دس رات کے قریب مذکور ہیں اور امام احمد نے ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے وہ فرماتے تھے کہ ان کے شوہر کے مرنے سے پندرہ روز کے بعد بچہ ہوگیا تھا حضرت علی ور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایسی عورت اس عدت کو پوری کرے جو دونوں میں بڑی ہو ( یعنی اگر چار مہینے دس دن سے زیادہ میں بچہ ہونے والا ہے تب تو بچہ کے پیدا ہونے کی عدت پوری کرے اور اگر اس سے کم میں ہونے والا ہے تو چار مہینے دس دن کی عدت گذارے) یہ روایت ابوداؤد لے اپنے ناسخ میں ابن عباس ؓ سے نقل کی ہے عمر ؓ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ اگر عورت کے بچہ پیدا ہوجائے اور اس کے شوہر کا ابھی جنازہ ہی رکھا ہو تب بھی اس کی عدت پوری ہوگئی یہ روایت امام مالک ور امام شافعی اور ابن ابی شیبہ نے نقل کی ہے۔
مسئلہ جس باندی کا شوہر مرجائے اس کی عدت بالاجماع دو مہینے اور پانچ دن ہیں۔
فصل مرنے کی عدت میں سو گ کرنا بالاجماع واجب ہے سوائے اس کے کہ حسن اور شعبی سے یہ منقول ہے کہ واجب نہیں اور رجعی طلاق کی عدت میں بالاجماع سوگ نہ کرنا چاہئے اور بائنہ طلاق کی عدت میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں واجب ہے اور امام مالک فرماتے ہیں واجب نہیں اور امام شافعی اور امام احمد سے بھی ایسے ہی دو قول منقول ہیں ہمارے نزدیک صغیرہ ( یعنی چھوٹی بچی) پر سوگ نہیں ہے کیونکہ وہ مکلف نہیں اور نہ ذمیہ عورت پر ہے کیونکہ وہ شریعت کے احکام کی مخاطبہ نہیں ہے۔ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک ان دونوں پر بھی واجب ہے۔ سوگ کرنا اسے کہتے ہیں کہ خوشبو ‘ سرمہ اور مہندی نہ لگائے نہ بناؤ سنگار کرے اور نہ سنگار کرنے کے لیے کسم اور زعفران وغیرہ کے رنگے ہوئے اور حریر اور دیباج کے کپڑے پہنے اور نہ سر کو اور بدن کو تیل لگاء خواہ خوشبودار ہو یا بےخوشبو کا ہو امام شافعی فرماتے ہیں کہ سر کے سوا اور بدن پر خوشبو دار تیل لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پس اگر کسی عورت کو سرمہ لگانے کی بہت ہی سخت ضرورت ہو تو ایسی صورت میں اکثر علماء نے اس کی اجازت دیدی ہے۔
امام شافعی کا قول ہے کہ رات کو سرمہ لگایا کرے اور دن کو اسے پونچھ دیا کرے اسی طرح کسی عذر کی وجہ سے خضاب وغیرہ بھی کوئی حرج نہیں ہے اور رجعی اور بائنہ طلاق والیوں کو اپنے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے نہ رات کو اور نہ دن کو کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : و لا تخرجوھن من بیوتہن و لا یخرجن ( یعنی اور نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں) اور جس کا شوہر مرگیا ہو وہ دن میں یا کسی وقت رات کو باہر نکل سکتی ہے اور ساری رات غیر گھر میں نہ رہے۔ امام شافعی کا قول ہے کہ جس کا شوہر مرگیا ہو اس کو باہر نکلنا مطلقاً جائز ہے ( خواہ دن ہو خواہ رات ہو اور بائنہ ( طلاق) والی) کے لیے دن کو نکلنا جائز ہے عطا کا قول ہے کہ میراث کی آیت نے (عورت کے لیے) گھر مقرر ہونے کو منسوخ کردیا ہے اس لیے وہ جہاں چاہے عدت گذارے سوگ کرنے کا وجوب امّ حبیبہ اور زینب بنت جحش کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے آپ نے فرمایا : لا یحل لامرأۃ من تو من باللہ والیوم الآخر ان تحد علی میت فوق ثلٰث لیال الا علٰی زوج اربعۃ اشہر و عشرا ( یعنی جو عورت اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتی ہو اسے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے سوائے خاوند پر چار مہینے اور دس دن سوگ کرنے کے) یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ کسی عورت کو کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں ہے سوائے خاوند پر چار مہینے اور دس دن سوگ کرنے کے اور اس سوگ میں نہ وہ رنگا ہوا کپڑا پہنے ‘ نہ سرمہ لگائے ‘ نہ خوشبو لگائے ‘ ہاں جب پاک ہوجائے تو تھوڑا سا قسط یا اظفار استعمال میں لے آئے۔ یہ حدیث ( بھی) متفق علیہ ہے اور ابو داؤد نے یہ زیادہ بیان کیا ہے کہ نہ وہ خضاب کرے۔ ام سلمہ فرماتی ہیں ایک عورت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئی ‘ عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! میری بیٹی بیوہ ہوگئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھتی ہیں کیا ہم اس کے سرمہ لگادیں ؟ فرمایا : نہیں پھر اس نے دو یا تین دفعہ پوچھا آپ ہر دفعہ یہی جواب دیتے رہے کہ نہیں پھر فرمایا کہ اب تو یہ عدت کل چار مہینے اور دس ہی دن ہے پہلے تو تمہاری یہ حالت تھی کہ بیوہ پر سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنیاں ماری جاتی تھیں۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ ام سلمہ ہی فرماتی ہیں کہ ( میرے شوہر) ابو سلمہ کا انتقال ہونے کے بعد رسول اللہ میرے پاس تشریف لائے میں نے اس وقت اپنے چہرہ پر ایلوہ مل رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے پوچھا : ام سلمہ یہ کیا چیز ہے ؟ میں نے کہا : حضرت ﷺ یہ ایلوہ ہے ‘ اس میں کچھ خوشبو نہیں ہے۔ فرمایا اس سے چہرہ پر رونق آجاتی ہے ‘ اس لیے اسے تم بس رات کو لگا لیا کرو اور دن کو اتار دیا کرو۔ کسی خوشبو کو نہ لگانا اور نہ مہندی لگا نا کیونکہ یہ خضاب ہے۔ میں نے پوچھا : یارسول اللہ ﷺ ! پھر کنگھی میں اور کون سی چیز لگا کے کروں ؟ فرمایا کہ بس بیری کے پتوں سے سر دھو لیا کرویہ حدیث ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے ام سلمہ ہی آنحضرت ﷺ سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا : المتوفی عنہا زوجہا لا تلبس المص فرمن الثیاب ولا الممشقۃ ولا الحلی ولا تختضب و لا تکتحل ( یعنی بیوہ عورت نہ کسمی کپڑے پہنے اور نہ گلابی اور نہ زیور پہنے اور نہ خضاب کرے اور نہ سرمہ لگائے) یہ حدیث ابو داؤد اور نسائی نے نقل کی ہے زینب بنت کعب سے روایت ہے کہ مالک بن سنان کی بیٹی فریعہ جو ابو سعید خدری کی بہن تھی یہ بیان کرتی تھی کہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس امر کی اجازت لینے کے لیے گئی کہ میں اپنے میکے بنی حذرہ میں چلی جاؤں کیونکہ میرا شوہر اپنے غلاموں کو ڈھونڈنے گیا تھا ان غلاموں نے اسے وہیں مار ڈالا میں (حضرت کی خدمت میں پہنچی اور میں) نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں اپنے میکے چلی جاؤں کیونکہ میرے شوہر نے تو میرے لیے اپنا کوئی مکان بھی نہیں چھوڑا اور نہ کچھ کھانے پینے کو ہے حضرت نے فرمایا ہاں ( چلی جاؤ) اور جب میں آنے لگی تو حجرہ یا مسجد تک آئی تھی کہ مجھے پھر بلایا اور فرمایا جب تک عدت پوری نہ ہوجائے تم اپنے گھر ہی میں رہو۔ کہتی ہیں پھر چار مہینے اور دس دن تک میں عدت میں رہی۔ یہ روایت امام مالک نے اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور ترمذی ‘ ابو داؤد ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ دارمی نے نقل کی ہے اور حاکم نے دو طریقوں سے نقل کی ہے اور صراحت کی ہے کہ دونوں طریقوں سے اس کی سند صحیح ہے اور ترمذی نے اسے حدیث صحیح کہا ہے اور ابن عبد البر کہتے ہیں کہ یہ حدیث مشہور ہے اور علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے جو دارقطنی نے نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک بیوہ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ جہاں چاہے عدت گزار لے بعض نے اس حدیث کی بابت کہا ہے کہ سوائے ابو مالک اشجعی کے اور کسی نے اسے مرفوع نہیں بیان کیا اور ابو مالک ضعیف ہے ابو قطان نے کہا ہے کہ ( اس کی سند میں) محبوب بن محرر ( راوی) بھی ضعیف ہے اور عطا ابن سائب مختلط ہے اور ابوبکر بن مالک ان سب سے زیادہ ضعیف ہے، اسی واسطے دارقطنی نے بھی اسے معلل کہا ہے امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ اگر میت (یعنی عورت کے مرے ہوئے شوہر) کے مکان میں سے اس عورت کا اتنا ہی حصہ ہے کہ وہ اس کافی نہیں ہوتا اور باقی ورثہ اپنے حصہ میں سے اسے نکالتے ہیں تو یہ عورت وہاں سے چلی آئے کیونکہ یہ آنا ایک عذر کی وجہ سے ہے اور عبادات میں عذر کا اثر ہوتا ہے پس یہ ایسی صورت ہوگئی کہ جیسے کسی عورت کو مکان کے گرنے کا ڈر ہو یا وہ کرایہ پر رہتی تھی اور کرایہ دینے کو کچھ نہیں ہے۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَہ بالْمَعْرُوْفِ (پھر جب وہ اپنی مدت پوری کر چکیں ( یعنی ان کی عدت ختم ہوجائے) تو ( اے ائمہ اور مسلمانو ! ) تم اس پر اس کا کچھ گناہ نہیں جو وہ اپنے نفسوں میں دستور کے مطابق کریں ( یعنی زینت کرنا اور نکاح کرنا اور باہر جانا وغیرہ) معروف سے یہ مراد ہے کہ ایسے طریقہ پر کریں جو شریعت 1 کے خلاف نہ ہو اور اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اگر وہ کچھ خلاف شریعت کریں تو مسلمانوں پر انہیں روکنا لازم ہے کیونکہ خلاف سریعت سے روک دینا واجب ہے اگر اس میں وہ کوتاہی کریں گے تو انہیں گناہ ہوگا۔
وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ (اور اللہ تمہارے کاموں سے با خبر) پس وہ تمہارے اعمال کے مطابق تمہیں جزا دیگا۔
Ayah 2:235وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِـيْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاۗءِ ( اور (اے نکاح کے پیغام دینے والو ! ) تم پر کچھ گناہ نہیں اس میں کہ تم اشارتاً ( ان) عورتوں کو نکاح کا پیغام دو ) خطبہ کے معنی نکاح کا پیغام دینے کے ہیں اور تعریض اس کلام کو کہتے ہیں جس سے سننے والا متکلم کی مراد کو سمجھ لے بغیر اس کے کہ حقیقۃً یا مجازاً وہ لفظ اس کی مراد کے لیے موضوع ہو اور کنایہ اس کو کہتے ہیں کہ شے کے لوازم کو ذکر کرکے اصل شیے کو بتایا جائے چناچہ طویل النجاد (لمبے پر تلے والا) لمبے قد والے کو اور کثیر الرماد ( بہت راکھ والا) بہت مہماندار کو بولتے ہیں اور تعریض ہی کی قسم سے یہ ایک روایت ہے کہ سکینہ بنت حنظلہ بیوہ ہوگئی تھیں تو ان کی عدت کے اندر ابو جعفر محمد بن علی الباقر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے بنت حنظلہ میں وہ ہوں کہ رسول اللہ سے میری قرابت داری کو تم خوب جانتی ہو اور میرے دادا علی کے حق سے اور ان کے قدیمی مسلمان ہونے سے بھی تم خوب واقف ہو اس پر سکینہ بولیں کہ کیا میری عدت ہی میں تم مجھ سے نکاح کرنے کا پیغام دیتے ہو۔ حالانکہ اس کا تم سے بھی مواخذہ ہوگا کہنے لگے کہ میں نے تو اپنی آنحضرت سے قرابت داری ہونی تمہارے سامنے ہونی تمہارے سامنے ظاہر کردی ہے اور رسول اللہ بھی ام سلمہ کے پاس ( اپنے نکاح کا پیغام دینے) ان کے شوہر ابو سلمہ کی عدت ہی میں تشریف لے گئے تھے اور اللہ عزوجل کے ہاں اپنا عالی مرتبہ ہونا ان سے بیان کیا تھا اور اس وقت آپ ﷺ اپنے ہاتھ میں (ایک بہت بڑا) بوریا لیے ہوئے تھے اس کے بوجھ کی وجہ سے اس کے نشان آپ ﷺ کے ہاتھ پر پڑگئے تھے۔
اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ( یا اپنے دلوں میں چھپائے رکھو) یعنی تم اسے ذکر نہ کرو نہ صریحاً اور نہ تعریضاً ۔
عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ ( اللہ کو معلوم ہے کہ تم عنقریب ان کو یاد کرو گے) اور ان سے چپکے بیٹھ رہنے پر صبر نہ کرسکو گے اس لیے اشارہ سے ذکر کرنا اس نے تمہارے لیے مباح کردیا اور دل میں رکھنے پر کچھ مواخذہ نہیں کیا اس آیت میں (ایسی حالت میں) نکاح کا پیغام دینے پر ایک طرح کی توبیخ ہے
وَلٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْھُنَّ سِرًّا ( اور لیکن ان سے نکاح کا وعدہ نہ کرو) یہ محذوف ( آیت) سے استثنا ہے جس پر ستذکرونہن دلالت کرتا ہے یعنی تم انہیں دلوں میں ذکر کرو اور اشارۃً نکاح کا پیغام دو لیکن ان سے صراحتًا نکاح کا یا جماع کا وعدہ نہ کرو۔ سر کے لفظ سے جماع مراد ہوتا ہے ( اور کبھی نکاح بھی مراد لے لیا جاتا ہے) کیونکہ یہ جماع کا سب ہوتا ہے۔
اِلَّآ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ( مگر یہ کہ کوئی ایسی بات کہہ دو جس کا رواج ہو) اور وہ یہ کہ اشارۃً کہو اور صراحتًانہ کہو۔ مستثنیٰ منہ محذوف ہے تقدیر آیت یہ ہے : لا تواعدوہن مواعدۃ الا مواعدۃ معروفۃ یا مواعدۃ بقول معروف جاننا چاہئے کہ جو عورتیں ( اپنے شوہروں سے) رضاعت وغیرہ (کا تعلق ہونے کی وجہ سے علیحدہ ہو کر عدت میں ہوں یا جو لعان کی وجہ سے بائنہ ہوگئی ہوں یا جن کو تین طلاقیں مل گئی ہوں کہ ان سے ان کے پہلے شوہر کو نکاح کرنا جائز نہیں ہے پس ان سے بھی اجنبی آدمی کو اشارۃً نکاح کا پیغام دینا جائز ہے اور اگر کوئی بائنہ ہو تو پھر دیکھنا چاہئے کہ اگر اس کے پہلے شوہر کو اس سے نکاح کرنا جائز ہے تو اس کے شوہر کو اس سے اشارۃً اور صراحۃً نکاح کا پیغام دینا جائز ہے لیکن غیر آدمی کو بھی اشارۃً جائز ہے یا نہیں ؟ سو بعض کہتے ہیں کہ جائز ہے جیسے کہ تین طلاقوں والی کو کیونکہ اس کے پہلے شوہر کا حق اس سے منقطع ہوچکا ہے اور بعض کہتے ہیں جائز نہیں ہے کیونکہ نکاح کا اثر باقی ہے پہلا قول زیادہ ظاہر ہے۔
وَلَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ ( اور تم عقد نکاح کا قصد نہ کرو) یہ عدت میں عقد نکاح سے منع کرنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ قصد عقد کے لیے لازم ہے اور اس نہی میں اس طرح کہنے سے زیادہ مبالغہ ہے کہ : لا تعقدوا النکاح ( یعنی عقد نکاح نہ کرو) اور قصد کے حرام ہونے پر اس میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ دلی قصد کرنے پر بالاجماع مواخذہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد : علم اللہ انکم ستذکرونہن [ الایۃ ] سے اس کا مباح ہونا پہلے بیان ہوچکا ہے اور یہ ایسا ہے کہ کوئی کہے کہ : زید طویل النجاد اور کثیر الرماد ہے (عرب ان دونوں لفظوں سے بہادر اور سخی کو بیان کیا کرتے ہیں) پس اگر زید لمبے قد کا اور مہمان نواز ہو تو اس کہنے والے کو جھوٹا نہیں کہہ سکتے اگرچہ نجاد اور رماد اس کے ہاں بالکل نہ ہو ( اور یہ مجازی معنی ہوتے ہیں) اور ممکن کہ اسے حقیقی ہی معنی پر حمل کرلیں اور یہ عدت میں عقد نکاح کے قصد کرنے سے نہیں ہوگی اس صورت میں یہ نہی تنزیہی ہے اس وجہ سے کہ جو شخص قصد کرلے تو عجب نہیں کہ وہ نکاح ہی کر بیٹھے کیونکہ جو چراگاہ کے قریب قریب گھومتا ہے وہ اس میں گھس بھی جاتا ہے۔
حَتّٰي يَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ (جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے) عدت کا نام اس کے فرض ہونے کی وجہ سے کتاب رکھ دیا ہے ( کیونکہ کتاب کے معنی فرض کے ہیں) جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کتب علیکم یعنی تم پر فرض کردیا گیا ہے۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِىْٓ اَنْفُسِكُمْ (اور جان لو کہ اللہ اس کو جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے) یعنی قصد یہ آیت قصد کرنے کے مکروہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
فَاحْذَرُوْهُ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ ( تو اس سے ڈرو ( اور ایسا قصد نہ کرو) اور یہ ( بھی) جان لو کہ اللہ بخشنے والا بردبار ہے) یعنی اس شخص کو بخش دینے والا ہے جو قصد کرکے اللہ کے خوف کی وجہ سے اس کو نہ کرے۔
Ayah 2:236لَاجُنَاحَ عَلَيْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ مَالَمْ تَمَسُّوْھُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَھُنَّ فَرِيْضَةً ( جب تک تم نے عورتوں کو ہاتھ نہ لگایا ہو اور نہ انکے لیے مہر معین کیا ہو تو ( ایسی حالت میں) اگر تم عورتوں کو طلاق دیدو تو اس کا تم پر کچھ گناہ نہیں) چونکہ مباح چیزوں میں طلاق سب سے بری چیز ہے اس لیے اللہ نے اسے ان لفظوں سے ذکر کیا ہے اور مقصود یہ ہے کہ اگر تم نے انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی ہے تو تم پر مہر واجب نہیں ہے ہاں اگر تم نے مقرر کرلیا ہو تو اس صورت میں نصف مہر واجب ہوگا جیسا کہ اس کا حکم عنقریب آتا ہے اور اگر ہاتھ لگانے کے بعد طلاق دی ہے تو مہر مقرر پورا واجب ہوگا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : فاتوھن اجورھن بالمعروف اور اگر کچھ مقرر نہیں کیا تو پھر بالاجماع مہر مثل واجب ہوگا۔ حمزہ کسائی نے یہاں اور احزاب میں لا تمسوھن باب مفاعلہ سے پڑھا ہے معنی دونوں کے ایک ہیں یعنی لم تجامعوھن (ان سے جماع نہ کیا ہو) او تفرضوا میں اور بمعنی الا ان یا بمعنی حتی کے ہے یعنی مگر یہ کہ معین کردو ان کے لیے یا یہاں تک کہ مقرر کردو انکے لیے یا اسکا عطف مدخول لم پر ہے (جسکا ترجمہ آیت کے ترجمہ میں لکھ دیا ہے) فریضۃ فعیلۃ بمعنی مفعول ہے۔ اس میں (ت) اسلئے لائی گئی ہے کہ لفظ وصفیت سے اسمیت کی طرف منقول ہوجائے اور اسکا منصوب ہونا مفعول ہونے کی وجہ سے ہے یہ بھی احتمال ہے کہ مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہو۔
وَّمَتِّعُوْھُنَّ ( اور انہیں متعہ دے دو ) یہ مقدر پر عطف ہے) (گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا): فطلقوھن و متعوھن (یعنی طلاق دیدو اور انہیں فائدہ پہنچاؤ) کہ اپنے مال میں سے انہیں اتنا دیدو کہ جس سے وہ کچھ فائدہ اٹھائیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) ۔ امام شافعی (رح) ۔ امام احمد (رح) کے نزدیک جبکہ ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دی ہو اور کچھ مہر مقرر نہ کیا ہو تو کچھ دے دینا واجب ہے۔ امام مالک (رح) کا قول یہ ہے کہ واجب نہیں ہے بلکہ یہ مستحب ہے اور یہ امر استحبابی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد : حقا علی المحسنین میں حقا اور علی کا لفظ استحباب کے منافی ہے اور امر میں اصل وجوب ہی ہے اس میں (فقہاء کا) اختلاف ہے کہ (متعہ) کس قدر دینا واجب ہے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ تین کپڑے دینے چاہئیں۔ ایک کرتہ ‘ ایک اوڑھنی ‘ ایک چادر اس قسم کے کپڑوں میں سے جو اس جیسی عورتیں پہنتی ہوں امام عورت کے حال کا اعتبار کرتے ہیں اس وجہ سے کہ متعہ مہر مثل کے قائم مقام ہے لہٰذا یہ نصف مہر مثل سے نہ بڑھے اور نہ پانچ درہم سے کم ہو اور یہی قول کرخی کا ہے اور صحیح یہ ہے کہ مرد کا حال معتبر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
عَلَي الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَعَلَي الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ ( وسعت والے پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق) ابن ہمام فرماتے ہیں اور یہ تقدیر ( یعنی حیثیت شوہر کے مطابق دینا) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ، ابن عباس ؓ ، سعید بن مسیب ؓ اور عطاء شعبی سے مروی ہے۔ بغوی کہتے ہیں ابن عباس سے ؓ سے مروی ہے کہ اعلیٰ درجے کا متعہ یہ ہے کہ ایک خادم ( بھی) ہو اور اوسط درجہ یہ ہے کہ تین کپڑے ہی ہوں ایک کرتہ ایک اوڑھنی ایک پاجامہ اور ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ ایک رقایہ ( یعنی کوئی کپڑا جس سے بدن ڈھک جائے) یا کچھ چاندی ہو امام شافعی کے دو قولوں میں صحیح قول اور ایک روایت میں امام احمد کا (بھی) قول ہے کہ یہ حاکم کے اجتہاد پر ہے ( وہ جس قدر مناسب سمجھے دلادے) اور امام شافعی سے یہ بھی مروی ہے کہ اتنا دینا چاہئے کہ جسے مال کہہ سکیں۔ تھوڑا ہو یا بہت ہو ان کے نزدیک مستحب یہ ہے کہ تیس درہم سے کم نہ ہو اور ایک روایت امام احمد سے یہ ہے کہ متعہ کی مقدار یہ ہے کہ اتنا کپڑادیدے جس سے نماز جائز ہوجائے اور وہ دو کپڑے ہیں ایک کرتہ ایک اوڑھنی بغوی کہتے ہیں عبد الرحمن بن عوف نے ایک عورت کو طلاق دیدی تھی اور متعہ میں اسے ایک حبشی لونڈی دی تھی اور حسن بن علی نے ایک عورت کو متعہ میں دس ہزار دہم دیئے تھے۔
مَتَاعًۢا بالْمَعْرُوْفِ ( فائدہ پہنچانا اچھی طرح سے) یعنی اسی طرح سے جو شرع میں مستحسن ہو نہ کہ حاکم کی زبردستی سے متاعاً مصدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے علی ہذا حقًا۔
حَقًّا عَلَي الْمُحْسِـنِيْنَ : نیکی کرنے والوں پر لازم ہے
Ayah 2:237وَاِنْ طَلَّقْتُمُوْھُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْھُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَھُنَّ فَرِيْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ (اور اگر ہاتھ لگانے (جماع کرنے) سے پہلے تم طلاق دیدو اور ان کے لیے مہرمعین کرچکے ہو تو جو کچھ تم نے معین کیا ہو اس کا آدھا ( دینا) لازم ہے) یعنی جو کچھ تم ان کے لیے مقرر کرچکے ہو اس کا آدھا دینا واجب ہے اس صورت میں جمہور کے نزدیک آدھے مہر سے زیادہ متعہ دینا واجب نہیں ہے مگر حسن اور سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ ہر مطلقہ کے لیے متعہ واجب ہے خواہ مہر مقرر کرنے اور ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی ہو یا مقرر کرنے کے بعد اور ہاتھ لگانے سے پہلے دیدی ہو۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وللمطلقات متاع (یعنی مطلقہ عورتوں کے لیے متعہ ہے) اور سورة احزاب میں فرمایا : یا ایھا الذین امنوا اذا نکحتم المؤمنات ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا فمتعوھن و سرحوھن سراحا جمیلا ( یعنی اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدو تو تمہارے لیے ان کے ذمہ عدت نہیں جسے تم گنواؤ پس تم انہیں کچھ متعہ دو اور اچھی طرح سے رخصت کردو) اور ان عورتوں میں مفوضات اور غیر مفوضات سب داخل ہیں اور جمہور کی دلیل یہ ہوسکتی ہے کہ اس صورت میں یہ متعہ ہی آدھامہر ہے کیونکہ مہر بضع (یعنی عورت کی فرج) کے مقابلہ میں ہوتا ہے اور بضع اس کی طرف سالم لوٹ گیا ہے۔ (یعنی اس عورت سے صحبت وغیرہ نہیں ہوئی ہے) لہٰذا یہ آدھا مہر بطور متعہ ہی کو واجب ہوتا ہے۔
اِلَّآ اَنْ يَّعْفُوْنَ ( مگر یہ کہ وہ ( یعنی مطلقہ عورتیں) معاف کردیں) یعنی آدھا مہر چھوڑ دیں پھر سارا مہر شوہر کا ہوجائے گا۔
اَوْ يَعْفُوَا الَّذِيْ بِيَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ ( یا وہ شخص معاف کردے جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے) یعنی شوہر جو نکاح کے باندھنے اور کھولنے کا مالک ہے اس کا معاف کرنا یہ ہے کہ جو تقسیم ہونے کی وجہ سے اسے ملتا تھا اسے چھوڑ دے پھر پورا مہر عورت کی طرف آجائے گا اور اَلَّذِیْ بیدہِٖ عقدہ النکاح کی تفسیر شوہر سے کرنی 1 ۔ طبرانی نے اوسط میں عمرو بن شعیب سے مرفوعاً نقل کی ہے اور بیہقی نے اپنی سنن میں حضرت علی اور ابن عباس سے نقل کی ہے اور یہی قول سعید بن مسیب ‘ سعید بن جبیر ‘ شعبی ‘ شریح ‘ مجاہد اور قتادہ کا ہے اور یہی مذہب امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے اور امام شافعی (رح) کا بھی جدید اور راجح مذہب یہی ہے۔ اور اس کو معاف کرنا اس لیے کہا کہ شوہر نکاح کرتے وقت عورتوں کو مہر دیتے تھے پھر جس نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدی تو وہ آدھا ا مہر واپس لینے کا مستحق ہوگیا اور جب اس نے وہ واپس نہ لیا تو (گویا) اس نے اپنی طرف سے معاف کردیا۔ یا یعفون (مذکور) کی مناسبت سے اس کو بھی معاف کرنے سے تعبیر فرمایا۔ جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک عورت سے نکاح کی اور پھر صحبت کرنے سے پہلے ہی اسے طلاق دیدی اور اسے پورا مہر دیا اور یہ فرمایا کہ معاف کرنے کا میں زیادہ حقدار ہوں اس کو بیہقی نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے اور بعض کا قول یہ ہے کہ : الذی بیدہ عقدۃ النکاح سے (عورت کا) ولی مراد ہے یہ قول بیہقی نے ابن عباس سے نقل کیا ہے اور یہی مذہب امام مالک کا اور پہلا قول امام شافعی کا ہے اور امام احمد سے دو روایتیں ہیں پس ان کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہیں مگر یہ کہ عورت آدھا مہر شوہر پر چھوڑ کر اسے معاف کردے اگر وہ معاف کرنے کے قابل ہو یعنی ثیب ہو۔ اگر عورت بکرہو تو اس کا ولی معاف کردے یا وہ ایسی ہو کہ اس کا کہنا قابل اعتبار نہ ہو تو اس صورت میں اس کے ولی کو معاف کردینا جائز ہے اور یہی قول علقمہ۔ عطا۔ حسن۔ زہری ربیعہ کا ہے ہماری دلیل یہ ہے کہ مہر تو خالص عورت ہی کا حق ہے اس لیے اور کسی کو اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے اور اسی وجہ سے ولی کو یہ جائز نہیں کہ صغیر کے مال میں سے کسی کو اس میں تصرف کرنا جائز نہیں ہے اور اسی وجہ سے ولی کو یہ جائز نہیں کہ صغیر کے مال میں سے کوئی چیز ہبہ کردے اور نہ بالاجماع طلاق سے پہلے اسے عورت کا مہر ہبہ کردینا جائز ہے لہٰذا آیت کے وہی معنی ٹھیک ہیں جو ہم نے کہے ہیں۔
وَاَنْ تَعْفُوْٓا اَقْرَبُ للتَّقْوٰى ( اور اگر تم معاف کردو تو پرہیزگاری کے بہت ہی قریب ہے) یہ خطاب مردوں اور عورتوں دونوں کو ہے کیونکہ مذکر مؤنث پر غالب ہوتا اور ان تعفوا مبتدا ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے یعنیعفا بعضکم عن بعض اوراقرب للتقویٰ اس کی خبر ہے۔
وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ (اور بعض کے بعض پر افضل ہونے کو مت بھولو) کیونکہ دینے والا اس سے افضل ہوتا ہے جس کو دیا ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ( بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں کو دیکھ رہا ہے) ربط۔ جب میاں بیوی اور اولاد کے احکام ( بیان کرنے) میں کلام بہت طویل گیا تو اب اللہ پاک نے اس پر متنبہ کیا کہ انہیں اپنی ہی حالت میں مشغول رہنا اللہ کے ذکر اور اس نماز سے غافل نہ کردے جو (عمارت) دین کا ستون اور گناہوں کو مٹا دینے والی اور دلوں کے زنگ کو کھرچنے والی ہے اس لیے فرمایا۔
Ayah 2:238حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ ( اور تمام نمازوں کی محافظت کرو 1 ) یعنی ان کے وقتوں میں ادا کرنے اور ان کا التزام رکھنے اور ان کے ارکان اور صفات کو پورا کرنے کے ساتھ۔ اس پر تمام امت کا اجماع ہے کہ نماز قطعی فرض ہے اس کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ لیکن جو جان بوجھ کے ترک کرے اس کی بابت امام احمد کا یہ قول یہ ہے کہ وہ بھی کافر ہوتا ہے اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے اور یہی ایک روایت امام احمد سے بھی ہے کہ وہ کافر نہیں ہوتا لیکن اس سے توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ کرلے تو خیر ورنہ اسے قتل کردیا جائے اور امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ قتل نہ کیا جائے ہاں اسے ہمیشہ قید میں رکھاجائے یہاں تک کہ یا تو توبہ کرلے یا مرجائے۔ امام احمد کی روایت کی دلیل جابر ؓ کی یہ حدیثیں ہیں جابر کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : بین العبد و بین الکفر ترک الصلوۃ ( یعنی بندہ اور کفر میں ترک نماز کا فرق ہے) یہ حدیث مسلم نے نقل کی ہے بریدہ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : العھد الذی بیننا و بینھم ترک الصلٰوۃ فمن ترکھا فقد کفریہ حدیث امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ نے روایت کی۔ عبد اللہ بن عمرو آنحضرت سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز آپ نے نماز کا ذکر فرمایا کہ جو شخض اس کی محافظت کرے گا تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور اور برہان اور نجات ( کا باعث) ہوگی اور جو اس کی محافظت نہ کرے گا تو اس کے لیے یہ نور ہوگی ‘ نہ برہان ہوگی نہ نجات (کا باعث) ہوگی اور قیامت کے دن وہ قارون فرعون ہامان ابی ابن خلف (منافق) کے ساتھ ہوگا یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے جمہور ان حدیثوں کی تاویل کرتے ہیں اس بناپر کہ اقامت نماز کا عطف ایمان پر ہے ماحصل ان سب حدیثوں کا یہ ہے کہ نماز کا حکم تمام احکام اور تمام عبادات سے زیادہ سخت ہے پس جس نے اسے ترک کردیا گویا وہ کافر ہوگیا یا یہ معنی ہیں کہ جس نے اسے حقیر اور ناچیز سمجھ کر ترک کردیا تو بیشک کافر ہوگیا۔ وا اللہ اعلم۔
نماز کے فضائل میں بہت سی حدیثیں ہیں ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : ارایتم لو ان نھر بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمساً ھل یبقی من دونہ شی قال لا یبقی من دونہ شی قال فذٰلک مثل الصلوات الخمس یمحوا اللہ بہن الخطایا (یعنی تم یہ بتاؤ اگر تم میں کسی کے دروازے کے آگے نہر بہتی ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ دفعہ نہائے تو کیا اس ( کے بدن) پر کچھ میل رہے گا ؟ عرض کیا : نہیں ! میل بالکل نہیں رہے گا۔ فرمایا : بس یہی مثال ان پانچوں نمازوں کی ہے ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمام خطاؤں کو نیست و نابود کردیتا ہے۔ ) یہ حدیث متفق علیہ ہے عبادہ بن صامت ؓ کہتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا : خمس الصلٰوۃ افترضھن اللہ تعالیٰ من احسن وضوءھن و صلاھن لوقتھن واتم رکوعھن و خشوعھن کان لہ علی اللہ عھد ان یغفر لہ و من لم یفعل فلیس علی اللہ عھدان شاء غفرلہ و ان شاء عذبہ (یعنی پانچ نمازیں ہیں جو اللہ نے فرض کردی ہیں پس جس نے ان کے وضو کو اچھی طرح کیا اور انہیں ان کے وقت پر پڑھا اور ان کے رکوع اور سجود کو پورا ادا کیا تو ایسے آدمی کو بخش دینے کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لے لیا ہے اور جس نے ایسا نہ کیا تو اس کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ نہیں لیا وہ چاہے اسے بخش دے اور چاہے عذاب دے۔ یہ حدیث امام احمد اور ابوداؤد نے نقل کی ہے اور امام مالک اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور یہ حدیث جمہور کی دلیل ہے اس پر کہ تارک نماز کافر نہیں ہوتا۔ وا اللہ اعلم
وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ( اور بیچ کی نماز کی) مزید اہتمام کے لیے یہ خاص کا عطف عام پر ہے اور وسطیٰ اوسط کی تانیث ہے بغوی کہتے ہیں اوّل صحابہ کا اور ان کے بعد علماء کا صلوٰۃ وسطی میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں وہ صبح کی نماز ہے اور یہی حضرت عمر ‘ ابن عمر ‘ ابن عباس اور معاذ بن جبل ؓ کا قول ہے اور یہی عطا اور عکرمہ اور مجاہد نے کہا ہے اور یہی مذہب امام مالک اور امام شافعی کا ہے اور بعض لوگ اس طرف گئے ہیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ ظہر کی نماز ہے اور یہ قول زید بن ثابت ‘ ابو سعید خدری اور اسامہ کا ہے کیونکہ ظہر کی نماز دن کے وسط میں ہوتی ہے اور وہ دن کی نمازوں کے درمیان میں ہے اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے جو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور امام احمد ‘ ابو داؤد ‘ بیہقی اور ابن جریر نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کی ہے ( وہ کہتے ہیں) کہ آنحضرت ﷺ ظہر کی نماز عین دھوپ کے وقت پڑھا کرتے تھے اور اس وقت اس کا پڑھنا صحابہ پر بہت گراں گذرتا تھا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ والوسطی امام احمد نے دوسرے طریقہ سے زیاد بن ثابت ( ہی) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ظہر کی نماز عین دھوپ کے وقت پڑھایا کرتے تھے اور آپ ﷺ کے پیچھے سوائے ایک یا دو صفوں کے اور نہ ہوتی تھی ( باقی) لوگ دوپہر کو سوتے اور تجارت (وغیرہ) میں رہتے تھے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حافظوا علی الصلوات [ الایۃ ] پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یا تو یہ لوگ باز آجائیں ورنہ میں انکے گھروں کو پھونک دوں گا۔
ہم کہتے ہیں یہ دونوں حدیثیں اس پر دلالت نہیں کرتیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ ظہر کی نماز ہے کیونکہ حافظوا علی الصلوات ظہر کی نماز کو بھی شامل ہے اور اکثر کا قول یہ ہے اور یہی سب اقوال سے راجح بھی ہے کہ صلوٰۃ وسطی عصر کی نماز ہے رسول ﷺ اللہ سے ایک جماعت نے نقل کیا ہے اور یہی قول علی ‘ ابن مسعود ‘ ابو ایوب ‘ ابوہریرہ ‘ عائشہ صدیقہ کا ہے اور یہی ابراہیم نخعی ‘ قتادہ ‘ حسن نے کہا ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد کا مذہب ہے کیونکہ حضرت علی ؓ روایت کرتے ہیں کہ جنگ احزاب کے دن نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے گھروں کو اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر ‘ جیسا کہ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ ( کے پڑھنے) سے روک دیا یہاں تک کہ آفتاب (بھی) غروب ہوگیا یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مسلم کی روایت میں اس طرح ہے کہ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ یعنی عصر کی نماز سے روک دیا خدا ان کے دلوں کو اور ان کے گھروں کو آگ سے بھرے۔ ایک اور حدیث ابن مسعود ؓ کی ہے کہ ( ایک مرتبہ) مشرکین نے رسول ﷺ اللہ کو عصر کی نماز نہیں پڑھنے دی تھی یہاں تک کہ دھوپ میں زردی آگئی یا کہا کہ سرخی آگئی اس وقت حضرت ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے ہمیں صلوٰۃ وسطیٰ ( کے پڑھنے) سے روک دیا خدا ان کے پیٹوں میں ا وران کی قبروں میں آگ بھرے یہ حدیث مسلم نے روایت کی ہے ابو یونس ؓ (حضرت عائشہ صدیقہ کے آزاد کردہ) کہتے ہیں کہ مجھے حضرت صدیقہ ؓ نے یہ حکم دیا کہ میرے لیے ایک قرآن مجید لکھ دو پھر فرمایا کہ جب تم اس آیت پر پہنچو تو مجھے اطلاع کردینا چناچہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو میں نے اطلاع کردی ام المؤمنین نے فرمایا کہ : حافظوا علی الصلٰوت والصلٰوۃ والوسطٰی وصلٰوۃ العصر اور فرمایا کہ میں نے رسول ﷺ اللہ سے یہ اسی طرح سنی ہے یہ روایت مسلم نے نقل کی ہے براء بن عازب کہتے ہیں کہ یہ آیت اس طرح نازل ہوئی تھی۔ حافظوا علی الصلوت وصلوٰۃ العصر اور جب تک اللہ عزو جل کو منظور ہوا ہم اسے اسی طرح پڑھتے رہے پھر اللہ نے اسے منسوخ کردیا اور اس طرح نازل ہوئی۔ حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ والوسطٰی یہ روایت مسلم نے نقل کی ہے امام مالک وغیرہ نے عمرو بن رافع سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی بیوی حفصہ کے لیے قرآن شریف لکھتا تھا تو انہوں نے مجھ سے لکھوایا۔ حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ والوسطٰی و صلٰوۃ العصر۔ ابو داؤد نے عبد بن رافع سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں میں ام سلمہ کے لیے قرآن شریف لکھتا تھا فرمایا کہ ( یہ آیت اس طرح) لکھو : حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ والوسطٰی وصلٰوۃ العصر اور ابو داؤد ہی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ وہ بھی اس آیت کو اسی طرح پڑھتے تھے ابو داؤد نے حضرت حفصہ کے آزاد کردہ ابو رافع سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں قرآن شریف لکھتا تھا حضرت حفصہ نے فرمایا کہ ( یہ آیت اس طرح) لکھو : حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ الوسطٰی وصلٰوۃ العصر پھر میں ابی بن کعب سے ملا اور میں نے ان سے اس کو بیان کیا انہوں نے فرمایا یہ اسی طرح ہے جس طرح وہ کہتی ہیں کیا ہم ظہر کے وقت اپنی بکریاں اور اونٹنیوں میں زیادہ مشغول نہیں ہوتے ؟ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ کی حدیثوں کو اصحاب شافعی اپنی حجت ٹھہراتے اور یہ کہتے ہیں کہ صلوٰۃ وسطی پر صلوٰۃ عصر کا عطف کرنا مغائرت کی دلیل ہے ( یعنی اس عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ اور ہے اور صلوٰۃ عصر اور ہے) ہم کہتے ہیں نہیں بلکہ یہ عطف تفسیری ہے اور بغوی نے اپنی تفسیر میں عائشہ صدیقہ کی حدیث بغیر واؤ کے اس طرح نقل کی ہے : حافظوا علی الصلوات والصلٰوۃ والوسطٰی صلوٰۃ العصروا اللہ اعلم۔ ابو قبیصۃ بن ذویب کہتے ہیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ مغرب کی نماز ہے کیونکہ یہ اوسط درجہ کی نماز ہے نہ سب نمازوں سے کم یعنی ثنائی ہے اور نہ سب سے زیادہ یعنی رباعی ہے۔ اور خلف میں یہ کسی سے منقول نہیں کہ صلوٰۃ وسطیٰ عشا کی نماز ہے اور بعض متاخرین نے ذکر کیا ہے کہ صلوٰۃ وسطیٰ عشاء کی نماز ہے کیونکہ یہ ایسی دو نمازوں کے درمیان ہے جن میں قصر نہیں ہوتا۔ بعض کا قول ہے کہ پانچوں نمازوں میں سے بلا تعیین ایک نماز صلوٰۃ وسطیٰ ہے اس کو اللہ نے اس لیے مبہم کردیا ہے تاکہ تمام نمازوں کے ادا کرنے کی محافظت پر بندوں کو ترغیب ہوجائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے شب قدر کو اور ساعت جمعہ کو اور اسم اعظم کو پوشیدہ کردیا ہے اکثر لوگوں کے کلام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیم کے بعد صلوٰۃ وسطیٰ کی تخصیص کرنی اس لیے ہے کہ یہ اور نمازوں سے کوئی زیادہ نماز ہے اور میرے نزدیک یہ کہنا ٹھیک نہیں ہے بلکہ اس طرح بیان کرنا زیادہ تاکید اور اہتمام کے لیے ہے کیونکہ عصر کی نماز کا وقت لوگوں کے بازاروں میں مشغول رہنے کا وقت ہے اس لیے اس میں تاکید اور اہتمام کی زیادہ رعایت کی گئی ہے تاکہ یہ نماز فوت نہ ہوجائے یا بغیر جماعت کے مکروہ طریقہ پر ادا نہ کی جائے یا مکروہ وقت میں اد انہ کی جائے پس اس بنا پر پانچوں نمازوں میں سے جس نماز میں کوئی ایسا مانع ہوگا کہ اسے مسنون طریقہ پر ادا کرنے سے روکے تو اسی میں زیادہ اہتمام کرنا اور اس کی حفاظت رکھنی ضروری ہے مثلاً صبح اور عشا کی نما زجاڑوں 1 میں اور ظہر کی نماز گرمیوں میں اور عصر کی نماز بازاریوں کے لیے اگر ان کے بازار کرنے کا رواج اسی وقت ہو اور مغرب کی نماز اہل مواشی کے لیے۔ وا اللہ اعلم
وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ ( اور اللہ کے آگے مؤدب کھڑے رہا کرو) قنوت سے مرادلوگوں سے باتیں نہ کرنا ہے کیونکہ زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے پیچھے نماز میں باتیں کیا کرتے تھے ہم میں سے بعض آدمی اپنے پاس والے سے بات چیت کرلیتا تھا یہاں تک کہ آیت : وقوموا اللہ قانتیننازل ہوگئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم ہوگیا اور باتیں کرنے سے ہمیں منع کردیا گیا یہ روایت پانچوں اماموں وغیرہ سے نقل کی گئی ہے ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ لوگ نماز میں باتیں کیا کرتے تھے بعض آدمی اپنے بھائی کو کسی ضروری کام کے لیے کہہ دیتا تھا پھر اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا کہ : و قوموا اللہ قانتین اور مجاہد کہتے ہیں کہ قنوت سے مراد خشوع ہے اور فرمایا کہ رکوع طویل کرنا اور نگاہ نیچی رکھنی اور مونڈھوں کو جھکانا قنوت میں داخل ہے علماء کی یہ حالت تھی کہ ان میں سے جس وقت کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوجاتا تھا تو پھر ادھر ادھر دیکھنے یا کنکریوں کو ہٹا یا کسی چیز سے کھیلنے یا کوئی دنیاوی خیال دل میں لانے سے اللہ تعالیٰ سے ڈرتا تھا بعض کا قول یہ ہے کہ قنوت سے مراد طول قیام ہے کیونکہ ترمذی نے جابر ؓ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ افضل نماز کونسی ہے حضور نے فرمایا کہ طول قنوت اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ امر میں اصل وجوب ہے اور طول قیام واجب نہیں ہے اصحاب شافعی کا قول یہ ہے کہ قنوت سے دعا قنوت مراد ہے کیونکہ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ چند قبیلوں یعنی سلیم ‘ رعل ‘ زکوان ‘ عصیہ پر رسول اللہ نے ایک مہینہ لگا تار بد دعا کی تھی۔ یہ قول بھی ضعیف ہے کیونکہ آیت کا سیاق سب نمازوں میں قنوت کے عام ہونے پر دلالت کرتا ہے نہ کسی مہینہ کی کچھ خصوصیت ہے اور نہ کسی نماز کی کہیں خصوصیت ہے اس کے علاوہ صحیح طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ صبح کی قنوت بدعت ہے ابو مالک اشجعی کہتے ہیں میں نے اپنے والد سے کہا کہ اب تم نے نبی ﷺ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے اور ابوبکر اور عثمان ؓ کے پیچھے اور یہاں کوفہ میں حضرت علی ؓ کے پیچھے بھی پانچ برس کے قریب نماز پڑھی ہے کیا یہ صاحین ( دعا) قنوت پڑھتے تھے ؟ فرمایا : بیٹا یہ تو بدعت ہے۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور ایک روایت میں اس طرح ہے ( ان کے والد نے کہا) کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے بھی پیچھے نما زپڑھی ہے آپ نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے ابوبکر ؓ کے بھی پیچھے نماز پڑھی ہے انہوں نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے عمر ؓ کے پیچھے نماز پڑھی ہے ‘ انہوں نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے عثمان ؓ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے انہوں نے بھی قنوت نہیں پڑھی اور میں نے علی ؓ کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے انہوں نے بھی قنوت نہیں پڑھی پھر فرمایا۔ بیٹا یہ بدعت ہے۔ ابو مالک ( اشجعی) کا نام سعد بن طارق بن اسلم ہے بخاری نے کہا ہے کہ طارق بن اسلم صحابی ہیں اور اس حدیث کی سندصحیح ہے اور صبح (کی نماز) میں (دعا) قنوت نہ پڑھنے کی نو حدیثیں ہیں اور اس نماز میں قنوت پڑھنے کی بابت لوگوں نے جو حدیثیں نقل کی ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں یا مجہول ہیں قنوت نازلہ ( جو حادثات پیش آنے کے وقت پڑھی جاتی ہیں) کے بارے میں بہت طول طویل بحث ہے جو یہاں بیان نہیں ہوسکتی۔ شعبی ‘ عطا ‘ سعید بن جبیر ‘ حسن ‘ قتادہ اور طاؤس کا قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی طاعت کے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : امۃ قانتا یعنی مطیعاً کلبی اور مقاتل کہتے ہیں کہ ہر دین والوں کے لیے ایک نما زہوتی ہے وہ اس میں عاصی ہو کر کھڑے ہوتے ہیں پس تم اپنی نماز میں قانت یعنی مطیع بن کر کھڑے ہو اور بعض کا قول یہ ہے کہ قانتین کے معنی مصلین کے ہیں جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا : امن ھو قانت انا اللیل یعنی مصل اور بعض کا قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی ذکر کے ہیں قانتین سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ قیام میں اللہ کو یاد کرتے اور اس کا ذکر کرتے رہو اور سب سے زیادہ ظاہر وہ پہلے ہی معنی ہیں کیونکہ زید بن ارقم کی حدیث ان ہی معنی کے مراد ہونے میں بہت ہی صریح اور صحیح ہے بخلاف حدیثوں کے کیونکہ یہ سب احتمالات ہیں جو مسموع (بات) کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
Ayah 2:239فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا ( پھر اگر تمہیں (دشمن وغیرہ کا) خوف ہو تو پیادہ یا سوار) امام شافعی اور امام احمد نے گھوڑ دوڑ کی حالت میں نماز ( پڑھنے) کے جائز ہونے پر اس آیت سے استدلال کیا ہے اور ابن جوزی نے بخاری کی حدیث سے حجت کی جو نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ جب ان سے کسی نے صلوٰۃ خوف ( یعنی ڈر کی حالت میں نماز پڑھنے) کو پوچھا تو آپ نے اوّل اس کی تفصیل بیان کی پھر فرمایا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو پھر جس طرح بن پڑے پڑھ لو خواہ پیادہ ہو یا چلتے ہو یا اپنے پیروں پر کھڑے ہو یا سوار ہو قبلہ رخ ( بھی) منہ رہے یا نہ رہے۔ نافع کہتے ہیں میر ایہ خیال ہے کہ یہ ابن عمر نے رسول اللہ سے ضرور سنا ہوگا ( وہ اپنی طرف سے ایسا نہیں کہہ سکتے) امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ چلنے اور گھوڑ دوڑ کرنے کی حالت میں نماز (پڑھنی) جائز نہیں ہے اور گھوڑ دوڑ کی حالت میں نما زجائز ہونے کی اس آیت میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ (آیت میں رجال راجل کی جمع ہے اور) راجل کے معنی چلنے والے کے نہیں ہیں بلکہ راجل اپنے دونوں پیروں پر کھڑے ہونے والے کو کہتے ہیں اور اسی طرح حدیث میں بھی رجالاً اور قیاماً میں عطف تفسیری ہے اس لیے وہ حدیث بھی چلنے کی حالت میں نماز کے جائز ہونے پر دلالت نہیں کرتی اس کے علاوہ اس کا مرفوع ہونا فقط نافع کا خیال اور گمان ہے اور وہ صریح مرفوع نہیں ہے۔ اگر کوئی کہے کہ صلوٰۃ خوف میں چلنا پھرنا بالاجماع جائز ہے جیسا کہ انشاء اللہ سورة نساء میں ہم عنقریب ذکر کریں گے تو پھر چلنے کی حالت میں نماز ضرور درست ہونی چاہئے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب شرع سے کوئی ایسا حکم ثابت ہوجائے جس سے رائے ( اور قیاس) نہ چل سکے تو اسے ( ہم اپنی طرف سے) بڑھا نہیں سکتے اس کے علاوہ نماز کے درمیان چل لینا جیسا کہ نماز میں کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ وضو کرنے کے لیے چلتا ہے یہ چلنے کی حالت میں نماز پڑھنے سے بہت کم درجہ ہے لہٰذا اعلیٰ کو ادنیٰ کے ساتھ (قیاس کرکے) نہیں ملا سکتے۔
مسئلہ اسی آیت کی بنا پر تمام ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ اگر بہت ہی زیادہ خوف ہو اور لوگ قبلہ رخ منہ نہ کرسکیں تو پھر سوار ہوئے ہوئے جس طرف ہو سکے پڑھ لیں۔ رکوع ‘ سجدے اشاروں سے کریں لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کا قول یہ ہے کہ اکیلے اکیلے پڑھیں (جماعت سے نہ پڑھیں) اور امام محمد (رح) سے یہ مروی ہے کہ وہ جماعت سے پڑھیں۔ ہدایہ میں کہا ہے کہ یہ ( یعنی امام محمد کا قول) ٹھیک نہیں کیونکہ سب لوگ ایک جگہ نہیں ہوتے۔ مسئلہ ائمہ اربعہ اور جمہور کے نزدیک خوف کی وجہ سے رکعتیں کم نہیں ہوتیں اور مسلم نے مجاہد سے انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کی زبانی حضر میں نماز کی چار رکعتیں اور سفر میں دو رکعتیں اور خوف ( کی حالت) میں ایک رکعت فرض کی ہے اور یہی قول۔ عطا۔ طاؤس۔ حسن۔ مجاہد۔ قتادہ کا ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ صلوٰۃ خوف کے مسائل عنقریب سورة نساء میں ہم ذکر کریں گے۔
فَاِذَآ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ ( پس جب امن سے ہوجاؤ ( اور تمہارا خوف جاتا ہے) تو اللہ کو یاد کرو) یعنی پوری نماز پڑھو مع اس کی تمام شرائط اور ارکان وغیرہ کے۔
كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ ( جیسا تمہیں ( اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبانی) سکھلایا جو تم نہ جانتے تھے) ما علمکم میں ما مصدریہ ہے یا موصوہ اور ما لم تکونواعلم کا مفعول ثانی ہے۔
Ayah 2:240وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا ښ وَّصِيَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ اور (اے مردو ! ) جو تم میں سے انتقال کرجائیں اور بیبیاں چھوڑ جائیں تو ( ان پر واجب ہے کہ) وہ اپنی بیبیوں کے لیے سال بھر تک کھانے کے خرچ اور گھر سے نہ نکالنے کی وصیت کر جائیں) ابو عمرو، ابن عامر، حمزہ اور حفص نے وصیت کو منصوب پڑھا ہے اس صورت میں فلیوصوا کا مفعول ہوگا اور باقی قراء نے مرفوع پڑھا تقدیر عبارت یہ ہوگی۔ کتب علیکم وصیۃ رفع ولی قرأت کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ ایک قرأت کتب علیکم الوصیۃ لازواجکم ہے یا یہاں حکم ہم ( مبتدا محذوف ہو) متاعاً یا تو مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے ای متعوھن متاعاً یا فعل محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے یعنی لیصوا متاعاً یا وصیۃ کا مفعول ہونے کی وجہ سے یعنی یوصوا وصیۃ متاعاً منصوب ہے اور متاعاً سے مراد وہ چیزیں ہیں جن سے عورتیں نفع اٹھائیں یعنی نان نفقہ اور کپڑا غیر اخراج یا تو بدل ہے یا مصدر موکد ہے جیسے تم کہو۔ ھذا القول غیر ما نقول یا ازواجھم سیحال ہے یعنی غیر مخرجات یا منصوب بنزع الخافض ہے یعنی من غیر اخراج مقصود یہ ہے کہ مرنے والوں پر اپنی بیبیوں کے لیے یہ وصیت کردینا واجب ہے کہ وہ ان کے مال میں سے ایک سال بھر تک کھانے ‘ پہننے کا فائدہ اٹھاتی رہیں پس عورتوں کے لیے مردوں کے ذمہ اس آیت کی وجہ سے یہ وصیت کردینی واجب ہے جیسا کہ والدین اوراقربین کے لیے وصیت کردینی اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واجب ہوئی تھی۔ کتب علیکم اذا حضرت احدکم الموت ان ترک خیرا ان الوصیۃ للوالدین والاقربین بالمعروف ( پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا جیسا کہ وہ بھی منسوخ ہوگیا اور اس کا ناسخ بھی وہی ہے جو اس کا ناسخ ہے یعنی میراث کی آیت اور آنحضرت ﷺ کا یہ فرما دینا : لا وصیت لوارث۔ وارث کے لیے وصیت (کرنے کی کوئی ضرورت) نہیں ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ عورت کے چوتھائی حصہ اور آٹھویں حصہ کے وارث ہونے کی وجہ سے اس کا نفقہ ساقط ہوگیا اور جو بحث اور تحقیق ہم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت [ الایۃ ] کی تفسیر میں ذکر کی ہے وہ یہاں بھی جاری ہے اب اسے ہم دوبارہ بیان نہیں کرتے، (زمانۂ ) جاہلیت میں اور اسی طرح ابتداء اسلام میں عورتیں اپنے اپنے شوہروں کے مرجانے کے بعد سال بھر تک سوگ کیا کرتی تھی جیسا کہ ام سلمہ ؓ کی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد اس پر دلالت کرتا ہے کہ : قد کانت احداکن ترمی بالبعرۃ علی راس الحولیہ حدیث متفق علیہ ہے بعض کہتے ہیں کہ پھر (سال بھر کی) مدت اللہ کے قول : اربعۃ اشھر و عشرا سے منسوخ ہوگئی پس وہ آیت تلاوت میں اگرچہ اس آیت سے پہلے ہے مگر نزول میں وہ اس سے پیچھے ہی ہے شیخین نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ (سال بھر کی) مدت اللہ تعالیٰ کے ارشاد : اربعۃ اشھر و عشرا سے منسوخ ہوئی ہے۔ بغوی کہتے ہیں کہ یہ آیت ایک طائف کے رہنے والے کے حق میں نازل ہوئی تھی جسے لوگ حکیم بن حارث کہتے تھے اس نے مدینہ منورہ ہجرت کرلی تھی اور اس کے بال بچے اور ماں باپ بھی اس کے ساتھ تھے اس کا انتقال ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر نبی ﷺ نے اس کے ترکہ میں سے اس کے ماں باپ اور بچوں کو دیا اور اس کی جورو (بیوی ‘ 12) کو کچھ نہیں دیا بلکہ ان ہی سے فرما دیا کہ اس کے خاوند کے ترکہ میں سے ایک سال بھر تک اسے بھی خرچ دیتے رہو، اسحاق بن راہویہ نے بھی اپنی تفسیر میں مقاتل بن حبان سے اسی طرح نقل کیا ہے کہ طائف کے باشندوں میں سے ایک آدمی مدینہ منورہ آرہا تھا آخر حدیث تک، میں کہتا ہوں ( یہ سب کچھ صحیح) لیکن سیاق آیت اس حدیث کے منافی ہے کیونکہ یہ آیت تو وصیت کے واجب ہونے کو چاہتی ہے اور وہ حدیث بغیر وصیت کے اس عورت کے خاوند کے ترکہ میں سے اس کا خرچ واجب ہونے کو چاہتی ہے اور شاید اس کا انتقال اس آیت کے نازل ہونے کے بعدہواہو اور اس نے اس آیت کے مطابق ایک سال بھر تک خرچ دینے کی وصیت کردی ہو اور پھر نبی ﷺ نے بھی اسی طرح عمل کیا ہو اس کے علاوہ یہ حدیث چاہتی ہے کہ یہ آیت اللہ کے ارشاد : یوصیکم اللہ فی اولادکم کے بعد نازل ہوئی اور بعض کا قول ہے کہ اللہ کے قول : و لھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لھن ولد [ الایۃ ] کے بعد نازل ہوئی ہے۔ وا اللہ اعلم
فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْ مَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ ( پھر اگر وہ (یعنی عورتیں سال بھر پورا ہونے سے پہلے بغیر وارثوں کے نکالے) نکل جائیں تو۔ (اے حاکمو ! ) تم پر کچھ گناہ نہیں اس میں جو شریعت کے مطابق وہ اپنے اندر کچھ کرلیں (یعنی سوگ کرنا چھوڑ دیں اور بناؤ سنگھار یا اور نکاح کرنے لگیں تو تمہارے ذمہ ان کو منع کرنا نہیں ہے) بغوی کہتے ہیں کہ یہاں خطاب میت کے ورثاء کو ہے اور جناح کے رفع کی دو وجہ ہیں ایک تو وہی جو پہلے مذکور ہوچکی ہے اور دوسری یہ ہے کہ جب وہ عورتیں ایک سال پورا ہونے سے پہلے نکل جائیں تو ان کا خرچ بند کردینے میں تم پر کچھ گناہ نہیں ہے میں کہتا ہوں کہ یہ معنی عبارۃ النص کے مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر یہ معنی ہوتے تو ( فیما فعلن کی جگہ) فیما فعلتم کہنا چاہئے تھا جس سے مراد خرچ بند کردینا ہوتا اور فیما فعلن یہاں ٹھیک نہیں ہوسکتا وا اللہ اعلم۔ یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ پورے سال بھر میں تک عدت میں بیٹھنا اور سوگ کرنا عورتوں پر پہلے بھی واجب نہ تھا بلکہ وہ میت کے فراق پر افسوس ظاہر کرنے کے لیے جاہلیت کی رسم کے مطابق ایسا کرتی تھیں پھر اللہ نے بطور مروت کے ان کو خرچ دینا واجب کردیا کہ جب تک وہ میت کے فراق پر افسوس کریں اور اس کے گھر سے نہ نکلیں تو اتنے وقت تک نہیں خرچ دیاجائے۔ غرض کہ مردے کی عدت میں جو اللہ تعالیٰ نے چار مہینے اور دس دن نازل فرمائے یہ جدید حکم ہے یہ اپنے سے پہلے کسی اور حکم کو منسوخ کرنے والا نہیں ہے۔ وا اللہ اعلم۔
وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ (اور اللہ زبردست ہے) یعنی جو اس کے حکم کے خلاف کرے اس سے بدلہ لیتا ہے۔
حَكِيْمٌ ( حکمت والا ہے) یعنی مروت کے موافق اور مصلحت کے مطابق حکم دیتا ہے۔