Ayah 2:189يَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ( اے محمد ﷺ آپ ﷺ سے پہلے رات کے چاندوں کا حال پوچھتے ہیں) اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ معاذ بن جبل انصاری اور ثعلبہ بن غنم انصاری ؓ نے جناب رسول اللہ کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ ہلال اول تو باریک سا ظاہر ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے بالکل بھر جاتا ہے اور پورا ہوجاتا ہے اس کے بعد باریک ہونا شروع ہوتا ہے حتیٰ کہ ویسا ہی ہوجاتا ہے جیسا کہ اوّل تھا ایک حالت پر نہیں رہتا اس کے جواب میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یہ روایت علامہ بغوی (رح) نے نقل کی ہے اور ابو نعیم اور ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں بطریق سدی صغیر ابن عباس ؓ سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور ابن ابی حاتم نے بطریق عوفی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگوں نے چاند کا حال جناب رسالت ماب ﷺ سے دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ صحابہ ؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ یہ چاند کیوں پیدا کیا گیا ہے اسی پر یہ آیت نازل ہوئی :
قُلْ ھِىَ مَوَاقِيْتُ للنَّاسِ وَالْحَجِّ ( فرما دیجئے کہ یہ وقت ہے لوگوں کے (معاملات) کے لیے اور حج کے واسطے) اگر چاند کے مختلف ہونے اور تغیر و تبدیل کی حکمت کا سوال ہو تو یہ جواب مطابق سوال کے ہوگیا حاصل جواب کا یہ ہوا کہ حکمت اس تغیرو تبدل میں یہ ہے کہ لوگوں کے لیے ان کے معاملات دینی و دنیوی میں علامت ہوجائے کہ اس سے اپنے کاروبار کا وقت مقرر کرلیں۔ مثلاً حج کا وقت روزہ کا وقت اس سے معلوم ہوتا ہے اور اگر چاند کے حالات بدلنے کی علت کا سوال ہو تو اس وقت بظاہر جواب مطابق سوال کے نہیں بنتا لیکن نظر تحقیق سے دیکھا جائے تو نہایت عمدہ اور حکیمانہ جواب ہے گویا حاصل جواب کا یہ ہے کہ سائل کے حال کے لائق یہ ہے کہ چاند کے اختلاف حال کا فائدہ اور نفع دریافت کرنے علت کی تحقیق سے کچھ نفع نہیں اس میں اشتغال بےفائدہ ہے اس لیے لازم ہے کہ اس سے بچے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علوم غریبہ 1 یعنی جن علوم سے دین کا کوئی فائدہ خاص نہیں ہے جیسے ہیئت اور نجوم وغیرہ میں عمر برباد کرنا جائز نہیں۔ مواقیت جمع میقات کی ہے میقات وقت سے اسم آلہ ہے اور مراد مواقیت سے اس مقام پر وہ ہے جس سے حج روزہ عدت قرض اور دیگر معاملات کی مدت اور وقت معلوم ہو۔
وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا ( اور نیکی یہ نہیں کہ تم آؤ گھروں میں ان کے پچھواڑے سے) ابن کثیر اور ابن عامر اور حمزہ اور کسائی نے الفاظ ذیل میں یا کی وجہ سے حرف اوّل کو مکسور کرکے پڑھا ہے۔ البیوت العیون الشیوخ اور ابن عامر اور حمزہ اور کسائی جو جیوبھن کو اور حمزہ اور ابوبکر نے العیوب کو بھی کسرۂ حرف اوّل سے پڑھا ہے اور دیگر قراء نے اپنی اصل کے موافق ضمہ سے پڑھا ہے امام بخاری (رح) نے حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کی یہ عادت تھی کہ جب احرام باند ھ لیتے تھے تو گھروں میں میں دروازوں سے نہ آتے تھے بلکہ پچھواڑے سے آیا کرتے تھے۔ ( اس کی وجہ انہوں نے یہ سوچی تھی کہ جن دروازوں سے آلودۂ معاصی و نجاسات ہو کر جاتے آتے ہیں احرام کی حالت میں انہی دروازوں سے آنا جانا برا ہے) اس پر حق تعالیٰ نے آیہ کریمہ : و لیس البرّبان تاتوا البیوت [ الایۃ ] نازل فرمائی اور ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت جابر ؓ کی روایت بیان کی ہے حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ قریش خمس کہلاتے تھے انصار اور تمام عرب تو احرام کی حالت میں گھروں میں دروازوں سے نہ جاتے تھے اور قریش دروازوں سے آمد و رفت رکھتے تھے ایک روز ایسا اتفاق ہوا کہ جناب رسول اللہ بستان میں تھے جب آپ وہاں سے تشریف لانے لگے تو دروازہ سے نکلے حضور کے ساتھ قطبہ بن عامر انصار بھی نکلے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ قطبہ ایک فاجر شخص ہے اور وہ بھی آپ کے ہمراہ دروازہ سے نکلا آپ نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ کام کیوں کیا ؟ اس نے عرض کیا یا رسول ﷺ اللہ میں نے آپ کو جس طرح کرتے دیکھا اسی طرح میں نے بھی کیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں دین باطل سے الگ ہوں قطبہ نے عرض کیا جو آپ کا دین ہے وہی میرا بھی دین ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی اس طرح نقل کیا ہے اور عبدبن حمید نے قیس بن جبیر سے بھی اس کو روایت کیا ہے لیکن عبد بن حمید کی سند میں بجائے قطبہ بن عامر کے رفاعہ بن تابوت ہے علامہ بغوی (رح) نے اس قصہ کو اس طرح ذکر کیا ہے کہ ایک روز جناب رسول ﷺ اللہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور آپ کے پیچھے رفاعہ بھی گئے اور دروازہ سے اندر داخل ہوئے زہری نے اس کا شان نزول اس طرح بیان کیا ہے کہ چند انصاری جب عمرہ کا احرام باندھتے تھے تو اس کا التزام رکھتے تھے کہ ہمارے اور آسمان کے درمیان میں کوئی چیز (چھت و سائبان وغیرہ) حائل نہ ہو اور جب کوئی شخص اپنے گھر سے نکل کر عمرہ کا احرام باندھ لیتا تھا اور پھر اس کو گھر جانے کی ضرورت ہوتی تھی تو دروازہ سے نہ جاتا تھا کیونکہ اگر دروازہ سے جائے گا تو چھت حائل ہوجائے گی اس لیے گھر میں جانے کی یہ تدبیر نکالی تھی کہ دیوار کو توڑ کر اندر جاتا تھا اور وہاں جا کر جو کام ہوتا تھا گھر والوں سے کہہ کر چلا آتا تھا جب رسول ﷺ اللہ نے حدیبیہ کے دنوں میں عمرہ کا احرام باندھا اور آپ حجرہ میں دروازہ سے اندر تشریف لے گئے اور آپ کے پیچھے ایک شخص انصاری بنی سلمہ میں سے بھی گیا اس سے آگے پھر وہیقصہ ہے جو اول حدیث میں گذر چکا ہے۔ و لیس البر کا و یسئلونک پر عطف ہے اس سے الگ نہیں ہے (اس لیے ربط کی ضرورت ہے) تو ان دونوں قصوں میں ربط کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ لوگوں نے شاید یہ دونوں باتیں ایک وقت میں ہی دریافت کی ہوں اور یا یوں کہو کہ جب اول انہوں نے چاند کا حال کہ جو ان کو کچھ نافع نہیں تھا اور نہ علم نبوی کے مناسب تھا دریافت کیا اور جو بات ان کے لیے نافع اور مفید تھی اور علم نبوت کے متعلق بھی تھی اس کا سوال نہ کیا اس لیے مناسب ہوا کہ اس کو بطور عطف کے ذکر کردیا جائے گویا یہ فرما دیا کہ لائق یہ ہے کہ ایسی ایسی باتیں پوچھیں اور گھروں میں آنے جانے کے قصہ کو ما قبل سے مربوط ہونے کی ایک اور بھی وجہ لطیف ہے وہ یہ ہے کہ ممکنات کے حقائق کا بےسود سوال کرنا ایسا ہی ہے جیسے گھر میں پچھواڑے سے جانا اور دروازہ کو چھوڑ دینا کیونکہ علوم کے اندر مشغول ہونا ایسا ہے جیسے گھر میں داخل ہونا اور ظاہر ہے کہ گھر میں داخل ہونے اور گھر سے منتفع ہونے کے لیے دروازہ موضوع ہے اس طرح حقائق میں فکر کرنے اور مشغول ہونے کا موضوع لہٗ ان حقائق کے منافع اور پھر ان سے صانع کو دریافت کرنا ہے نہ مباحث ہیئت وغیرہ کو حاصل کرنے کی تکلیف اٹھانا ان سے تو کوئی دینی فائدہ وابستہ نہیں۔
وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى ( بلکہ نیکی اس کی ہے جو پرہیزگاری کرے) اس کے صحت حمل کی وجہ سے اور قرأت کا اختلاف رکوع لیس البر میں بیان ہوچکا اس لیے حاجت اعادہ کی نہیں۔
وَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا ۠ ( اور آؤ گھروں میں ان کے دروازوں کی طرف سے) یعنی گھروں میں احرام کی حالت میں ہمیشہ کی طرح دروازوں سے داخل ہو۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ ( اور ڈر واللہ سے) یعنی جو اشیاء تم پر حرام کردی گئیں ان سے بچو۔
لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ( تاکہ نیکی سے فائز ہو) واحدی نے بروایت ابو صالح حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ جب کفار نے نبی ﷺ کو سال حدیبیہ میں بیت اللہ سے روک دیا اور پھر مشرکین نے اس پر صلح کی کہ سال آئندہ آپ پھر تشریف لائیں اور جب سال آئندہ ہوا تو حضور ﷺ نے مع اصحاب کے عمرۃ القضاء کی تیاری کی اس وقت یہ خوف ہوا کہ شاید کفار بدعہدی کریں اور مثل سال سابق اللہ سے روک دیں اور قتال شروع کردیں اور صحابہ بالا حرام میں قتال کو مکروہ جانتے تھے اس تردد اور پریشانی کو دفع کرنے کے لیے حق تعالیٰ نے آیت ذیل نازل فرمائی۔
Ayah 2:190وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ (لڑو اللہ کی راہ میں)
الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ ( ان سے جو تم سے لڑائی کریں) ان سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن سے لڑائی کا اندیشہ ہو۔
وَلَا تَعْتَدُوْا ( اور زیادتی نہ کرو) یعنی عورتوں اور بچوں اور بہت بوڑھوں اور راہبوں اور صلح کرنے والوں کو قتل نہ کرو۔ بریدہ ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ جب کہیں لشکر بھیجتے تھے ( بطور وصیت) فرماتے کہ اللہ کے نام پر اور اللہ کی راہ میں غزوہ کرو جو اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان سے قتال کرو اور قتال میں حد سے مت تجاوز کرو اور بد عہدی نہ کرو اور عورت اور بچہ اور بوڑھے کو قتل نہ کرو۔ اس حدیث کو بغوی (رح) نے روایت کیا ہے اور مسلم نے ایک حدیث طویل اسی مضمون کی نقل کی ہے اس میں اس قدر مضمون اور ہے کہ مثلہ نہ کرو اور بچہ کو قتل نہ کرو اور عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ نے بچوں اور عورتوں کے قتل سے نہی فرمائی ہے اور انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے (لشکر بھیجنے کے وقت) فرمایا کہ اللہ کے نام پر اور رسول اللہ کی ملت پر جاؤ بہت بوڑھے کو اور بچے کو اور عورت کو قتل نہ کرنا اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا اور غنائم کو جمع کرلینا اور اپنے سب حالات کو درست رکھنا اور احسان کرنا بیشک نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتے ہیں۔ اس حدیث کو ابو داؤد نے روایت کیا ہے اس تفسیر کے موافق یہ ایت محکم ہوگی منسوخ نہ ہوگی۔ ابن عباس اور مجاہد کا بھی یہی قول ہے۔
بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ابتداء اسلام میں حق تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو مشرکین کے قتل کرنے سے روک دیا تھا پھر جب حضور مدینہ کو ہجرت فرماگئے تو اس آیت میں حکم دیدیا جو تم سے قتال کرے اس سے تم بھی قتال کرو۔ ربیع فرماتے ہیں کہ جہاد کے بارے میں یہ آیت اوّل نازل ہوئی پھر اس کے بعد یہ حکم ہوگیا۔ اقتلوا المشرکین کافۃ یعنی تمام مشرکین کو قتل کرو خواہ ان میں سے کوئی تم سے قتال کریں یا نہ کریں اس تقدیر پر ولا تعتدوا کے معنی یہ ہوں گے کہ تم ابتداء قتال کی مت کرو اس تفسیر پر یہ آیت منسوخ ہوگی۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ ( بیشک اللہ نہیں دوست رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو) یعنی اللہ حد سے بڑھنے والوں کے ساتھ ارادہ خیر کا نہیں کرتا۔
Ayah 2:191وَاقْتُلُوْھُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ ( اور مار ڈالو ان کو جہاں کہیں پاؤ) مقاتل بن حبان کا قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ولا تقاتلوھم عند المسجد الحرام سے میں کہتا ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں بلکہ مخصص ہے اقتران کی وجہ سے جیسا کہ ارشاد باری : و احل اللہ البیع و حرام الربٰوا اس لیے کہ ناسخ متراخی ہوتا ہے ثقف کسی شئ کو تیزی سے اچھی طرح پالینا علم ہو یا عمل یہ لفظ غلبہ کو متضمن ہے تو معنی یہ ہیں کہ جس جگہ ان کے قتل پر تم قادر ہو۔
وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ( اور نکال دو ان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے) یعنی مکہ سے اور یہ فتح مکہ کے دن ان لوگوں کے ساتھ کیا گیا جو مسلمان نہ ہوئے تھے۔
وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ( اور فساد قتل سے بڑھ کر ہے) فتنہ سے مراد کفار کا خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنا اور مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنا۔ اشد کے یہ معنی ہیں کہ باعتبار گناہ کے اللہ کے نزدیک بہت برا ہے اور قتل سے یہ مطلب ہے کہ مسلمان ان کو قتل کریں اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ قتل ایک خاص وقت میں مباح کردیا تھا۔ علامہ ابن جریر نے حضرت مجاہد اور ضحاک اور قتادہ اور ربیع اور ابن زید کا قول اسی طرح نقل کیا ہے۔
وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ( اور نہ لڑو ان سے مسجد حرام کے پاس) یعنی حرم کے پاس۔
حَتّٰى يُقٰتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ ( جب تک کہ نہ لڑیں وہ تم سے اس جگہ پس اگر وہ لڑیں تم سے ‘ تو قتل کرو ان کو) یعنی حرم میں اگر وہ قتال شروع کریں تو تم بھی ان سے وہیں لڑو۔ حمزہ اور کسائی نے وَلَا یَقاتلوھم حتی یقتلوکم فان قتلوکم الخ میں لا تقتُلُوْا یَقْتُلُوْا قَتَلُوْاکو چاروں جگہ بغیر الف کے پڑھا ہے اس تقدیر پر یہ الفاظ قتل سے ہوں گے مقاتلہ سے نہ ہوں گے اور معنی یہ ہوں گے کہ مت قتل کرو بعض کفار کو جب تک کہ وہ نہ قتل کریں تم سے بعض کو۔ چناچہ عربقتَلَنَا بنو فلان ( ہم کو فلاں قبیلہ نے قتل کیا) بولتے ہیں اور مراد یہ لیتے ہیں کہ ہمارے میں سے بعض کو قتل کیا اور باقی قراء نے اول کے تین مقاموں میں الف سے پڑھا ہے اور آخر میں بےالف پڑھا ہے بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا کہ بلد حرام میں ابتداء قتال کی کرنا حلال نہ تھی پھر آیت : وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ( اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد) سے یہ حکم منسوخ ہوگیا یہ قول قتادہ کا ہے مقاتل نے فرمایا ہے کہ اس حکم کو سورة برأۃ کی آیت سیف نے منسوخ کیا ہے۔
میں کہتا ہوں کہ میرے نزدیک حق یہ ہے کہ اس آیت کا حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہے قتال کی ابتداء کرنا حرم میں اب بھی ویسے ہی حرام ہے اور یہی قول مجاہد اور بہت سے علما کا ہے اس قول کی تائیدبخاری و مسلم کی یہ حدیث کرتی ہے کہ ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اللہ نے فتح مکہ کے روز فرمایا کہ اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کی پیدائش کے دن باحرمت کیا ہے اس لیے قیامت تک اللہ کا حرام کردہ حرام رہے گا مجھ سے پہلے کسی کو اس میں قتل و قتال کی اجازت نہ ہوئی اور میرے واسطے بھی دن کی ایک ساعت کے لیے صرف حلال ہوا ہے اس کے بعد بد ستور قیامت تک حرام ہے یہاں کی گھاس کا کانٹا وغیرہ (تک بھی) نہ کاٹا جائے نہ یہاں کا شکار بھگایا جائے۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مکہ میں ہتھیار اٹھانا کسی کو حلال نہیں۔ (اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے)
كَذٰلِكَ جَزَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ ( یہی سزا ہے کافروں کی) یعنی جیسا انہوں نے کیا ہے ویسا ہی ان کے ساتھ کیا جائے۔
Ayah 2:192فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ( پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے) یعنی اگر یہ قتال اور کفر سے باز رہیں تو گذشتہ خطا میں اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور بندوں پر رحمت کرنے والا ہے۔
Ayah 2:193وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ( اور لڑو ان سے یہاں تک کہ نہ باقی رہے فساد اور رہ جائے طریقہ ایک اللہ کا) وقاتلوھم میں ضمیر ھممشرکین کی طرف راجع ہے فتنہ سے مراد شرک اور فساد ہے۔ ویکون الدین .... یعنی اطاعت اور عبادت اللہ وحدہٗ لا شریک کی راہ جائے غیر کو معبود نہ بنایا جائے ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ مجھ کو قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک کہ لوگ شہادت دیں کہ سو اے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں جب ان امور کو کریں گے تو اپنی جان و مال کو مجھ سے بچالیں گے لیکن ان کے جان و مال میں اگر حق اسلام ہوگا تو وہ باوجود ان امور کے لیا جائے گا اور ان کا حساب اللہ پر ہے اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔ علامہ بغوی نے فرمایا کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بت پرست سے اسلام ہی قبول کیا جائے اسلام سے اگر انکا کرے گا تو قتل کردیا جائے گا۔
میں کہتا ہوں کہ اس آیت سے یہ مستنبط نہیں ہوتا کیونکہ کفر میں بت پرست اور مجوسی اور کتابی سب برابر ہیں دین مقبول تو حق تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے اور فتنہ جس طرح بت پرست سے ہوتا ہے ایسا ہی کتابی اور مجوسی سے بھی ہوتا ہے اور اطاعت اور قبول جزیہ سے دونوں کا فتنہ جاتا رہتا ہے اور جزیہ کا ثبوت اللہ تعالیٰ کے قول : حتی یعطو الجزیہ الخ سے ہوتا ہے اگر یہ آیت نہ ہوتی تو کسی سے بھی جزیہ قبول نہ کیا جاتا۔ جب اس آیت سے اہل کتاب سے جزیہ کا لینا معلوم ہوتا تو مجوسی اور بت پرست سے بھی لینا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قیاساً ثابت ہوا کیونکہ دین باطل کے اندر سب شریک ہیں اور سوئے ابوحنیفہ (رح) کے اور ائمہ کے نزدیک ثابت نہیں ہوا اور عنقریب سورة توبہ میں ہم جزیہ کا مسئلہ ذکر کریں گے۔
فَاِنِ انْتَهَوْا ( پھر اگر وہ باز آجائیں) یعنی اگرچہ جزیہ دے کر حرب اور شرک سے باز رہیں تو پھر ان پر قتل اور قید کرنے اور لوٹنے کی راہ نہیں فان انتھوا کی فا تعقیب کی ہے اور
فَلَا عُدْوَانَ ( تو کسی پر زیادتی نہیں) اس میں فا جزائیہ ہے۔
اِلَّا عَلَي الظّٰلِمِيْنَ ( سوائے ظالموں کے) یعنی جو ان میں سے شرک اور حرب پر باقی ہیں ان پر اب بھی قتل اور قید کی زیادتی باقی ہے۔ ابن عباس ؓ نے عدوان کی تفسیر اسی طرح کی ہے ( یعنی راہ نہیں ہے) جیسا کہ آیت ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی میں بھی عدوان کی یہی تاویل ہے اور یا یہ کہا جائے کہ عدوان ( زیادتی) کی جزاء کا مشاکلۃ کے طور پر عدوان نام رکھ دیا گیا ہے جیسا کہ آیت : فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدٰی علیکم ( زیادتی کرو اس پر جیسا کہ زیادتی کی اس نے تم پر) میں جزائے اعتداء کا نام اعتداء قرار دیا ہے۔
میں مفسر کہتا ہوں کہ اس آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر کفار قتال سے باز رہیں تو پھر زیادتی کرنے کا گناہ ان پر ہی ہے جو ظالم ہیں یعنی اگر تم نے باز رہنے والوں سے تعرض کیا تو تم ظالم ہو گے اس تفسیر پر یہ معنی پہلے معنی کے بالکل عکس ہوگئے۔ مقداد بن اسود ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جناب سرور کائنات کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ اگر میری کسی کافر سے مڈبھیڑ ہوجائے اور دونوں آپس میں لڑیں پھر وہ میرے ایک ہاتھ پر تلوار مار کر اس کو کاٹ ڈالے پھر کسی درخت کی آڑ میں مجھ سے بچ جائے اور جب میں اس کو قتل کرنے کا قصد کروں تولا الہ الا اللہ بول اٹھے تو آیا میں اس کو اس کلمہ کے کہنے کے بعد قتل کروں فرمایا اس کو مت قتل کر کیونکہ بالفرض اگر تو نے قتل کردیا تو قتل کرنے سے پہلے جو تیرا مرتبہ تھا وہ اب اس کا ہے اور کلمہ پڑھنے سے پہلے جس مرتبہ میں وہ تیرا اب ( قتل کرنے کے بعد) ہوگا۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور سرور کائنات ﷺ اور آپ کے اصحاب ؓ عمرہ کی نیت سے مدینہ منورہ سے ذیقعد 6 ھ میں چلے اور ہدی ان کے ساتھ تھی جس وقت حدیبیہ میں پہنچے تو حضور کو مشرکین نے روک لیا آخر کار اہل مکہ سے اس پر مصالحت ہوئی کہ اس سال تو آپ تشریف لے جاویں اور سال آئندہ تشریف لائیں جناب رسول اللہ تشریف لے گئے اور اگلے سال ذیقعدہ 7 ھ میں پھر تشریف لائے اور عمرہ ادا فرمایا اور مکہ معظمہ میں تین شب قیام فرمایا مشرکین آپ کے روکنے پر فخر کرتے تھے اس پر حق تعالیٰ نے ذیل کی آیت کریمہ نازل فرمائی۔
Ayah 2:194اَلشَّهْرُ الْحَرَام بالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ ( حرمت کا مہینہ بدلہ میں ہے حرمت کے مہینے کے اور حرمت کی چیزوں میں برابری سرابری ہے) پہلی الشھر الحرام سے مراد ذیقعدہ 7 ھ ہے جس میں مکہ میں گئے اور عمرہ ادا کیا اور دوسرے الشھر الحرام سے چھ ذیقعدہ 6 ھ ہے کہ جس میں مشرکین نے روک لیا تھا قصاص کے معنی مساوات (برابری) کے ہیں مطلب یہ ہے کہ حرمت کی شیے میں برابری جاری ہوتی ہے اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ آیت گذشتہ : وقاتلوا فی سبیل اللہ الخ کے لیے بمنزلہ علت کے ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب سائل آئندہ جناب رسول اللہ عمر کہ کے لیے تشریف لے گئے تو مسلمانوں کو یہ خوف ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ مشرکین اپنا عہد پورا کریں اور سال گذشتہ کی طرح پھر بیت اللہ سے روکیں اور حرم اور احرام اور ماہ حرام میں قتال واقع ہوجائے اس پر حق تعالیٰ نے آیت : الشھر الحرام بالشھر الحرام الخ نازل فرمائی مطلب یہ ہوا کہ اے مسلمانو ! اگر مشرکین ماہ حرام کی حرمت کی پرواہ نہ کریں اور تم سے قتال کریں و تم بھی قتال کرو کیونکہ یہ ان کے کرتوت کا بدلہ ہے یہ تفسیر مضمون لا حق فمن اعتدی ..... کے بہت مناسب ہے۔
فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَيْكُمْ ۠ ( جو زیادتی کرے تم پر تم زیادتی کرو اس پر اسی قدر کہ اس نے تم پر زیادتی کی) یعنی اگر کوئی با حرمت مقام باحرمت ماہ اور احرام کی حالت میں تم پر زیادتی کرے تم اس پر زیادتی کرو۔ اعتداء ( زیادتی) کی جزاء کو اعتدا کہنا صرف لفظی مشابہت سے۔
وَاتَّقُوا اللّٰهَ ( اور ڈرتے رہو اللہ سے) یعنی جس شئ کی تم کو اجازت نہیں دی گئی اس میں اللہ سے ڈرو۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ ( اور جانو اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے) یعنی ان کی مدد (1) [ یعنی اللہ نہ جسم ہے نہ جسمانی نہ وہ کسی چیز میں حلول کرسکتا ہے۔ ہاں ہر چیز اس کے زیر حکم ہے اس لیے متقین کے ساتھ خدا کے ہونے کا حقیقی مفہوم یہاں مراد نہیں نہ معیت زمانیہ مقصود ہے نہ معیت مکانیہ بلکہ اس کی مدد اور نصرت کا ساتھ ہونا اور اصلاح حال فرمانا مراد ہے۔] کرتا ہے اور ان کے حال کی اصلاح فرماتا ہے۔
Ayah 2:195وَاَنْفِقُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ ( اور خرچ کرو اللہ کی راہ میں اور نہ ڈالو اپنے ہاتھوں کو ( یعنی اپنے آپ کو) ہلاکت میں) سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے۔ بایدیکم میں با زائد ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اصل کلام اس طرح تھا کہ لَا تلقوا انفسکم بایدیکم ( یعنی اپنی جانوں کو اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں نہ ڈالو) (1) [ یعنی دوسرے مفعول پر بجائے فی کے الیٰ اس لیے استعمال کیا کہ یہاں القاء کا سادہ معنی مراد نہیں ہے بلکہ ڈالنے سے مراد ہے ڈال کر پہنچانا یعنی اپنے نفسوں کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت نہ پہنچاؤ اور چونکہ پہنچاؤ فعل۔ مفعول دوئم پر الیٰ کو چاہتا ہے اس لیے لا تلقوا کے بعد الی التھلکۃ فرمایا۔] القا کا تعدیہ الیٰ سے اس واسطے ہوا ہے کہ الغا معنی انتہا کو شامل ہے (2) [ یعنی القا کا مطلق معنی تو ہے ڈالنا خواہ برائی میں یا اچھائی میں لیکن اگر القی بیدہ کہا جائے تو برائی اور ضرر میں ڈالنے کو ہی کہتے ہیں۔] اور القی بیدہ عرب جب ہی بولتے ہیں جب کوئی شر اور ضرر رساں چیز میں اپنے کو مبتلا کردے۔ تھل کہ اور ہلاک ہم معنی ہیں بعض نے کہا جس شأ کا انجام کار ہلاک ہو اس کو تھلکۃ کہتے ہیں اور بعض نے فرمایا ہے جس شیئ سے بچنا ممکن ہو اس کو تھلکۃ کہتے ہیں اور جس سے ناممکن ہو اس کو ہلاک بولتے ہیں امام بخاری نے حضرت حذیفہ ؓ کی روایت بیان کی ہے کہ آیت وَلَا تلقوا ...... جہاد کے اندر خرچ کرنے کے باب میں نازل ہوئی ہے۔ ابو داؤد اور ترمذی اور بن حبان اور حاکم وغیرہ نے حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا قصہ یوں ہوا تھا کہ جب حق تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دیا اور حامی اسلام بکثرت ہوگئے تو ہم میں سے بعض لوگوں نے ایک دوسرے سے سرگوشی کی اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا ( یعنی جہاد کی ضرورت نہیں) اور اس زمانہ قتال میں ہمارے بہت سے مال جو برباد اور تباہ ہوگئے آؤ ان کا کچھ تدارک کریں اور ان کی دیکھ بھال کریں۔ اس کے رد فرمانے کو حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ تھل کہ سے مال کی اصلاح اور تدارک نقصان اور جہاد چھوڑ بیٹھنا مراد ہے۔
میں کہتا ہوں معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے مسلمانو ! اگر تم جہاد چھوڑ بیٹھے تو تمہارا دشمن تم پر غالب آجائے گا پھر تم ہلاک ہوجاؤ گے۔ علامہ بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد پھر ابو ایوب انصاری ؓ ہمیشہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے حتیٰ کہ شہید ہو کر قسطنطنیہ کی شہر پناہ کے نیچے مدفون ہوئے قسطنطنیہ والے ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے ہیں اور ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص مرگیا اور اس نے جہاد نہ کیا اور نہ اس کے جی میں کبھی جہاد کا خیال آیا تو وہ نفاق کی ایک شاخ لے کر مرا۔
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت بخل اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی یہ قول حذیفہ اور حسن اور قتادہ اور عکرمہ اور عطا کا ہے اور ابن عباس کا بھی یہی قول ہے چناچہ طبرانی نے بسند صحیح ابو جبیرہ بن ضحاک سے روایت کیا ہے کہ لوگ اللہ کی راہ میں صدقہ کرتے تھے اور خوب فقراء کو دیتے تھے اتفاق سے ایک مرتبہ قحط نے گھیر لیا لوگوں نے صدقہ و خیرات کرنی چھوڑی دی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور محمد بن سیرین اور عبیدہ سلمانی (رح) فرماتے ہیں کہ تھل کہ میں ہاتھوں کو ڈالنے سے مراد اللہ کی رحمت سے نا امیدی ہے۔ چناچہ ابو قلابہ نے کہا ہے کہ طبرانی بسندصحیح نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کی ہے کہ لوگوں کی حالت یہ تھی کہ جب کسی سے گناہ سرزد ہوجاتا تھا تو وہ کہتا تھا کہ بس اللہ تعالیٰ مجھ کو نہ بخشیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت وَلَا تلقوا۔۔ نازل فرمائی۔ یہ حدیث حضرت براء بن عازب کی روایت سے بھی آئی ہے۔
وَاَحْسِنُوْا ڔ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ( اور نیکی کرو بیشک اللہ محبت کرتا ہے نیک لوگوں سے) یعنی اپنے اعمال اور اخلاق کو درست اور نیک کرو اور حاجتمندوں سے بھلائی کرو۔ جاننا چاہئے کہ خوبی عبادات میں بھی ہوتی ہے اور معاملات میں بھی عبادات کی خوبی وہ ہے جو ایک طویل حدیث کے تحت میں حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے جناب رسول اللہ سے دریافت کیا یا رسول اللہ فرمائیے خوبی کیا چیز ہے فرمایا خوبی یہ ہے کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کر کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے کیونکہ اگر تو اس کو نہیں دیکھتا تو وہ تجھ کو دیکھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حضور قلب اور خشوع اور خضوع سے عبادت کر اور معاملات میں خوبی وہ ہے جس کی صراحت رسول اللہ نے فرمائی ہے کہ جو تو اپنے لیے پسند کرتا ہے وہ ہی لوگوں کے لیے پسند کر اور جو اپنے لیے برا جانتا ہے وہ ہی لوگوں کے لیے برا جان اس حدیث کو امام احمد نے معاذ بن جبل سے روایت کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ ہوں اس حدیث کو اصحاب سنن نے ابوہریرہ سے روایت کیا ہے اور احمد نے عمرو بن عنبسہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تم میں سب سے زیادہ پیارا وہ ہے جس کے اخلاق پسندیدہ ہوں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام امور میں خوبی کردار کو قرض فرمایا ہے پس جب تم قتل کرو تو اس کو اچھی طرح کرو ( یعنی مثلاً ناک کان مت کاٹو بچہ عورت بڈھے کو مت قتل کرو) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو چھری کو تیز کرلو اور جانور کو راحت دو اس حدیث کو مسلم نے شداد بن اوس ؓ سے روایت کیا ہے۔