وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی ۟ۙوَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ
رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the night when it covers
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
The Night · Meccan · 21 ayahs · 1 ruku
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی ۟ۙوَالَّيۡلِ اِذَا يَغۡشٰىۙ
رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے
— Fateh Muhammad Jalandhari
By the night when it covers
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 17 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Lail
قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے
رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے
قسم ہے اس رات کی جب چھا جائے
قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔
اور رات کی قسم جب چھائے
رات کی قَسم جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے)،
قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے !
رات کی قسم جب وہ چھا جائے
شاہد ہے رات جب کہ چھا جاتی ہے
قسم ہے رات کی جب کہ وہ چھا جائے
قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لے
قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے۔
رات کی قسم جو دن کو چھپالے
By the night when it enshrouds,
I swear by the night when it covers (the sun) ,
I swear by the night when it covers (the sun) ,
By the night as it envelops.
By the night enshrouding
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
By the night when it covers
By the night when it covers the day,
I swear by the night when it draws a veil,
By the night when it envelopeth,
By the Night as it conceals (the light);
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–11
نیکی کے لیے قصد ضروری ہے : مسند احمد میں ہے حضرت علقمہ شام میں آئے اور دمشق کی مسجد میں جاکر دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ الٰہی مجھے نیک ساتھی عطا فرما پھر چلے تو حضرت ابو الدرداء سے ملاقات ہوئی پوچھا کہ تم کہاں کے ہو تو حضرت علقمہ نے کہا میں کوفے والا ہوں پوچھا ام عبد اس سورت کو کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے کہا والذکر والانثٰی پڑھتے تھے، حضرت ابو الدرداء فرمانے لگے میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یونہی سنا ہے اور یہ لوگ مجھے شک و شبہ میں ڈال رہے ہیں پھر فرمایا کیا تم میں تکئے والے یعنی جن کے پاس سفر میں حضور ﷺ کا بسترہ رہتا تھا اور راز دان ایسے بھیدوں سے واقف جن کا علم اور کسی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
سورة الَّیْل 1 یہ وہ بات ہے جس پر رات اور دن اور نر و مادہ کی پیدائش کی قسم کھائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح رات اور دن اور نر اور مادہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اور ان میں سے ہر دو کے آثار و نتائج باہم متضاد ہیں، اسی طرح تم لوگ جن راہوں اور مقاصد میں اپنی کوششیں صرف کر رہے ہو وہ بھی اپنی نوعیت کے لحاظ سے مختلف اور اپنے نتائج کے اعتبار سے متضاد ہیں۔ اس کے بعد کی آیات میں بتایا گیا کہ یہ تمام مختلف کوششیں دو بڑی اقسام میں تقسیم ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
خلاصہ تفسیر قسم ہے رات کی جبکہ وہ آفتاب کو اور دن کو) چھپالے، اور (قسم ہے) دن کی جبکہ وہ روشن ہوجاوے (اور قسم ہے) اس (ذات) کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا (مراد اللہ تعالیٰ ہے آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک تمہاری کوششیں (یعنی اعمال) مختلف ہیں (اور اسی طرح ان کے ثمرات بھی مختلف ہیں) سو جس نے (اللہ کی راہ میں مال) دیا اور اللہ سے ڈرا اور اچھی بات (یعنی ملت اسلام) کو سچا سمجھا تو ہم اس کو راحت کی چیز کے لئے سامان دیدیں گے (راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب اور محل ہے اسی لئے یسریٰ کہہ دیا گیا ورنہ یسریٰ کے معنی ہیں آسان چیز) اور جس نے (حقوق واجبہ سے) بخل کیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ہر چیز کے جوڑے جوڑے ہونے سے قیامت پر استدلال: یہ رات اور دن، نر اور مادہ کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس طرح کی قَسمیں جو قرآن میں آئی ہیں ان کی ہم جگہ جگہ وضاحت کرتے آ رہے ہیں کہ یہ کسی دعوے پر شہادت کے لیے آئی ہیں۔ رات اور دن، نر اور مادہ میں نسبت زوجین کی ہے اور یہ دونوں مل کر اس مقصد کو پورا کرتے ہیں جس کے لیے خالق نے ان کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر خلا ہے جو جوڑے کے ساتھ مل کر ہی پورا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر ان کے وجود کی نہ کوئی افادیت باقی رہتی اور نہ ان کی صلاحیتوں کی کوئی توجیہ ہو سکتی۔ قرآن نے ان اضداد کے اندر توافق کے پہلو سے توحید پر بھی دلیل پیش کی ہے جس کی وضاحت اس کے محل میں ہو…
Read the full tafseer →1۔ 1 یعنی افق پر چھا جائے جس سے دن کی روشنی ختم اور اندھیرا ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1: کوششوں سے مراد اعمال ہیں اور مطلب یہ ہے کہ انسانوں کے اعمال مختلف قسم کے ہیں، اچھے بھی اور برے بھی، اور ان اعمال کے نتائج بھی مختلف ہیں، جیسا کے آگے آرہا ہے، یہ بات کہنے کے لئے رات اور دن کی قسم کھانے کا شاید یہ مقصد ہے کہ جس طرح رات اور دن کے نتائج مختلف ہیں، اسی طرح نیکی اور بدی کے نتائج بھی مختلف ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے نر اور مادہ کی خاصیتیں الگ الگ رکھی ہیں، اسی طری اعمال کی خاصیتیں بھی جدا جدا ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ان سعیکم .................................... تردی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے بھی تمہاری مساعی مختلف ہیں ، اپنے اسباب اور محرکات کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں ، اپنے رخ اور سمت کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں اور نتائج کے اعتبار سے بھی مختلف ہیں۔ اس زمین پر بسنے والے انسانوں کے مزاج بھی مختلف ہیں۔ ان کے تصورات و افکار بھی مختلف ہیں ، ان کے ذوق اور مشرب بھی مختلف ہیں ، اس کی ترجیحات بھی مختلف ہیں۔ اور لوگوں کی حالت یوں لگتی ہے کہ گویا ان میں سے ہر شخص شاید ایک علیحدہ سیارے کا باشندہ ہے۔ یہ تو ہے ایک حقیقت ، لیکن ایک دوسری حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے ، وہ یہ کہ ان تمام افراد بشریت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
9 یعنی جس طرح دنیا میں رات اور دن، نر اور مادہ، مختلف و متضاد چیزیں پیدا کی گئی ہیں، تمہارے اعمال اور کوششیں بھی مختلف و متضاد ہیں۔ پھر ان مختلف اعمال و مساعی پر ظاہر ہے ثمرات و نتائج بھی مختلف ہی مرتب ہوں گے جن کا ذکر آگے آتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ } ”قسم ہے رات کی جب وہ ڈھانپ لیتی ہے۔“ یعنی تمام چیزوں پر تاریکی کا پردہ ڈال دیتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1۔ یعنی حق تعالیٰ نے (آیت) ” اذا یغشی “ یعنی رات دن کو اور آفتاب کی روشنی کو ڈھانپ لے۔ آیت نے اس پہلوکو روشن کردیا کہ رات اور دن، اندھیرا اور اجالا، نر اور مادہ، غرض کائنات کے سارے اضداد کی خالق وہی ایک ذات ہے، (آیت) ” وما “۔ ما یہاں من کے مرادف ہے۔ وما بمعنی من (جلالین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے رات کی جب وہ اپنی تاریکی سے آسمان اور زمین کی ہر شئی پر چھا جائے اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہو (یعنی) جب کہ وہ واضح اور ظاہر ہو اور اذا دونوں جگہ ظریفیت کے لئے ہے اور اس میں عامل فعل قسم ہے اور ما بمعنی من یا مصدریہ ہے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ پیدا کئے (یعنی) آدم و حواء یا مذکر و مئونث کو پیدا کیا اور خنثیٰ مشکل ہمارے نزدیک ہے (مگر) اللہ کے نزدیک وہ مذکر یا مئونث ہے لہٰذا وہ شخص جس نے قسم کھائی کہ وہ مرد اور عورت سیبات نہ کرے گا تو وہ خنثیٰ مشکل سے کلام کرنے سے حانث ہوجائے گا، یقیناً تمہاری کوشش (یعنی)…
Read the full tafseer →والیل اذا یغشی . یعنی رات کی قسم جب وہ سورج کو یا دن کو ڈھانک لیتی ہے ‘ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے : یغشی اللّیل النھار یا جب وہ ہر چیز کو ڈھانک لیتی ہے اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے۔ اذا یغشٰی کا تعلق فعل قسم محذوف سے ہے یا مضاف محذوف سے اور اذا ظرف زمان ہے اور اللیل کی صفت ظرفیہ نہیں ہے بلکہ اذا کا معنی ہے وقت۔ یہ پوری تفصیل اذا یغشاھَا میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(1۔ 3) قسم ہے رات کی جب وہ دن کی روشنی کو چھپا لے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے اور قسم ہے اس ذات کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا۔ شان نزول : وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى، وَالنَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰى الخ۔ ابن ابی حاتم نے حکم بن ابان عن عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص کا کھجوروں کا درخت تھا اور کھجور کی شاخیں ایک محتاج بال بچوں والے کے مکان پر تھیں چناچہ جب وہ شخص باغ میں آتا اور کھجور کے درخت پر چڑھتا تاکہ اس کا پھل توڑے تو بعض اوقات کوئی کھجور نیچے گر جاتی تھی جس کو اس محتاج کے بچے اٹھا لیتے تو فوراً درخت سے اتر کر کھجور کو ان کے ہاتھوں میں سے لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(والیل اذا یغشی): یعنی ان چیزوں کی قسم جو اس نے پیدا کیں، نر ہیں یا مادہ !”الذکر والانثی“”ماخلق“ سے بدل ہے۔ ایک ترجمہ یہ بھی ہے کہ اس ذات کی قسم جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا ! تیسرا ترجمہ ہے، نر اور مادہ کو پیدا کرنے کی قسم !
Read the full tafseer →(واللیل اذایغشی) قسم ہے رات کی جب وہ چھاجائے۔ فعل کا مفعول ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کا مفعول معلوم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا مفعول بہ النھار (دن) ہے ایک قول یہ کیا گیا، اس کا مفعول بہ الارض (زمین) ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا مفعول بہ الخلائق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے اس نے ہر شی کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لیا۔ سعید نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور اور ظلمت کو پیدا کیا پھر ان دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کیا، اس نے تاریکی کو سخت سیاہ اور نور کو انتہائی روشن بنادیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة واللیل اذا یغشی مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ بیہقی نے اپنی سنن میں جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر کی نمازوں میں آیت ولیل اذا یغشی اور اس جیسی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ دنیا کے درخت کے بدلے جنت میں کھجور کا درخت 4۔ ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی کا کھجور کا درخت تھا اور اس کی شاخیں ساتھ والے ایک غریب اور عیال دار آدمی کے گھر میں تھیں۔ وہ آدمی جب آتا اور اپنے گھر داخل ہو کر کھجور پر چڑھتا تاکہ اس سے پھل کو توڑے کبھی…
Read the full tafseer →[وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى: قسم ہے رات کی جب وہ چھا جاتی ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
یہ سورة اللیل کی تیرہ آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی تین آیات میں قسم ہے اور چوتھی آیت میں جواب قسم ہے، اولاً رات کی قسم کھائی جب کہ وہ دن پر چھا جائے پھر دن کی قسم کھائی جب وہ روشن ہوجائے پھر اپنی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ003﴾ (اور قسم ہے اس کی جس نے نر کو اور مادہ کو پیدا کیا) ۔ پھر بطور جواب قسم ارشاد فرمایا ﴿اِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتّٰىؕ004﴾ (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں) ۔ انسان کی عام طور سے دو ہی صنفیں ہیں ایک مذکر اور مونث (نر اور مادہ) اور عمل کرنے والے انسان ان ہی دو جماعتوں پر منقسم ہیں اور اعمال دن میں ہوتے ہیں یا رات میں زمانہ کے دونوں حصوں کی اور بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
تقسیم جہو عملیہ در حیات انسانی وترتب ثمرات سعادت وشقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” والیل اذا یغشی ....... الی ......... ولسوف یرضی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں فوز و فلاح اور شقاوت وبدنصیبی کے اسباب پر کلام تھا اور یہ کہ انسانی نفس اگر طہارت وتزکیہ سے آراستہ ہو تو اس پر دنیا کی عزت وسربلندی اور آخرت کی کامیابی نصیب ہوتی ہے اور اگر نفس کو شہوات کی گندگی میں آلودہ کرلیا جائے تو انسانی شرف سے محرومی کے بعد دنیا کی تباہی اور عذاب آخرت میں مبتلا ہونے کے سوا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا، اور دنیا میں بڑی سے بڑی طاقت ور قومیں اسی شقاوت وبدنصیبی کا شکار ہو کر ہلاک ہوئیں اور تاریخ عالم اس کی گواہی دیتی ہے، تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
2:۔ ” والیل “ رات جو اپنی تاریکی میں ہر چیز کو چھپا لیتی اور دن جو رات کی تاریکی رخصت ہونے کے بعد روشن ہوجاتا ہے دونوں اس پر شاہد ہیں کہ تمہاری سعی عمل مختلف ہے جس طرح رات اور دن کے آثار جداگانہ ہیں اسی طرح تمہارے اعمال بھی مختلف ہیں۔ وما خلق الذکر والانثی “ اسی طرح اللہ نے جو نر و مادہ پیدا کیا ہے وہ اس پر شاہد ہے جس طرح نر و مادہ کے آثار و خواص مختلف ہیں اسی طرح تمہاری سعی عمل بھی مختلف ہے کوئی فیاض ہے کوئی کنجوس، کوئی ماننے والا ہے کوئی منکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
پہلی سورة کے ساتھ ربط اس سورة کا مضمون بھی پہلی سورة کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلی سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی تھی کہ مختلف چیزوں کے اثرات پڑنے سے انسان کے دل میں ارادہ پیدا ہوتا ہے اور یہی ارادہ انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ہے ارادہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہر نفس میں فطری طور پر تقویٰ اور فجور کا الہام بھی کیا ہے۔ لہٰذا جو لوگ اچھے کام کا ارادہ کریں گے وہ اصحاب تزکیہ میں شمار ہوں گے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے نفوس کو پاک کیا ، برے اعمال اور برے عقیدے سے انہیں بچائے رکھا۔ برخلاف اس کے جو لوگ اپنے نفوس کو برے اعتقاد اور برے عمل سے آلودہ کریں گے۔ ان کا شمار اصحاب…
Read the full tafseer →وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى 1 ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترکیب ¦ والیل الواو للقسم اذا العامل فیھا معنی القسم والنھار عطف علیہ وما خلق الخ معطوف علی السابق وما مصدریۃ عند مقاتل والمعنی واقسم خلق الذکر والانثیٰ ۔ وعند الجمھور موصولۃ ای والذی خلقھما وما بمعنی من فقدا قسم بنفسہ الکریمۃ ان سعیکم لشتی جواب القسم ای عملکم مختلف فمنہ عمل للجنۃ ومنہ عمل للنارا ومنکم مومن ومنکم کافر السعی العمل وشتی جمع شتیت کمرضی جمع مریض والشتات ھوالافتراق ومعناہ مختلف لتباعد لبعض عن البعض۔ وسعیکم مصدر مضاف فیفید العموم فھو جمع معنی فاما من الخ شرط سنیسرہ الخ جواب والسین فی الموضعین للتسویف وھو من اللہ محقق والحسنی ای الخصلۃ الحسنیٰ اتشتمل کل فعل محمود من التوحید والایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی۔ وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی۔ وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی۔ اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی۔ (الیل : 1 تا 4) (اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے۔ اور قسم ہے دن کی جبکہ وہ چمک اٹھے۔ اور قسم ہے نر و مادہ کی آفرینش کی۔ بیشک تمہاری کوششیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ ) تخالف اور تضاد کے باوجود ان میں قدر مشترک سے استدلال ہم کئی دفعہ یہ بات واضح کرچکے ہیں کہ قسم بالعموم قرآن کریم میں دلیل اور گواہ کے طور پر آتی ہے اور اس کے بعد کا جملہ جوابِ قسم اور دعویٰ ہوتا ہے جسے ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ اس سورة میں بھی پروردگار نے تین قسمیں کھائی ہیں۔ رات کی جب وہ چھا جائے اور دن کی جب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
فہم القرآن ربط سورت : الشمس کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے فسق وفجور کرنے والوں کو کس طرح پکڑا۔ سورة الّیل کی ابتداء میں تین قسمیں کھانے کے بعد بتلایا کہ ہم نے انسان کو مذکر اور مؤنث کی صورت میں پیدا کیا ہے، جس طرح جنس کے اعتبار سے انسان مختلف ہیں اسی طرح ان کی کوششیں بھی مختلف اور انجام بھی مختلف ہوں گے۔ اس سورت کا آغاز بھی تین قسموں کے ساتھ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ رات کی قسم ! جب دن کی روشنی کو اپنی تاریکی میں چھپا لیتی ہے، دن کی قسم ! جب وہ رات کی تاریکی کو ختم کرنے کے بعد پوری طرح روشن ہوجاتا ہے اور اس ذات کی قسم ! جس نے نر اور مادہ یعنی مذّکر اور مؤنث پیدا کیے ہیں۔ جس طرح آپس…
Read the full tafseer →1 : وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی (قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھپالے) نمبر 1۔ جس کو چھپایا گیا وہ یا تو سورج ہے جیسا اس ارشاد میں : والیل اذا یغشٰھا ] الشمس : 4[ نمبر 2۔ دن جیسا اس آیت میں فرمایا یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَار ] الاعراف : 54[ نمبر 3۔ ہر چیز جس کو رات اپنے اندھیرے سے چھپالے جیسا اس ارشاد میں ہے۔ اذا وقب ] الفلق : 3 [۔
Read the full tafseer →1 ۔” واللیل اذا یغشیٰ “ یعنی دن کو تاریکی کے ساتھ ڈھانپ لے۔ پس اس کی روشنی چلی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1۔ 11۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے اور حضرت آدم و حوا اسی طرح ان کی اولاد میں مرد و عورت کے پیدا کرنے کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کا حاصل یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کے عمل مختلف ہیں کوئی عقبیٰ میں نیک کام کا بدلہ پانے کے یقین اور اسی نیت سے اچھے کام کرتا ہے ایسا شخص اپنی نیکی کا پورا ثمرہ عقبیٰ میں بھی پائے گا اور دنیا میں بھی ایسے شخص کو دن بدن نیکی کی توفیق اللہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور کوئی عقبیٰ کی جزا کے انکار کے سبب سے نیک کاموں کی طرف متوجہ نہیں ہوتا بلکہ نیک کاموں کے کرنے سے بےپروائی ظاہر کرتا ہے ایسا شخص اپنا کیا عقبیٰ میں بھگتے گا۔ اور دنیا میں جبراً اللہ تعالیٰ اس کو…
Read the full tafseer →یہ اللہ تبارک وتعالی کی طرف سے زمانے کی قسم ہے جس میں بندوں کے احوال کے تفاوت کے مطابق ان کے افعال واقع ہوتے ہیں۔ فرمایا (وَالَّيْلِ اِذَا يَغْشٰى) رات کی قسم۔ جب وہ چھا جائے۔ یعنی جب تمام مخلوق کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لے۔
Read the full tafseer →(1) رات کی قسم جبکہ وہ چھا جائے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے، یعنی وہ چھا جائے ہر طرف اور ہر چیز پر، اور گھپ اندھیرا ہوجائے اور سورج کی روشنی اور اس کے آثار مٹ جائیں اور اس طرح دن اور رات کے ان دونوں عظیم الشان نشان ہائے قدرت کے تقابل و تضاد پوری طرح واضح ہوجائے، سو دن کے بعد رات کی آمد، اور دن کی روشنی کی سفید چادر کو لپیٹ کر رات کی سیاہ چادر کو تان دینے کے اس عمل کے اندر نگاہ عبرت و بصیرت رکھنے والوں کے لیے عظیم الشان سامان غور و فکر اور نشانہائے قدرت و حکمت ہیں، جو حضڑت حق خالق مجدہ کی وحدانیت ویکتائی اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان دلائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة اللیل۔ آیات 1 تا 21۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے رات کی جب چھاجاتی ہے اور دن کی جب روشن ہوتا ہے اور اس کی جس نے بقائے نسل کے لیے ایک جیسے دو بندوں کو نرومادہ پیدا فرمادیا یعنی یہ سب نظام اس بات پر گواہ ہے کہ تمہاری محنت ومشقت بھی دو طرح سے ہے جس طرح رات کا اثر تاریکی اور دن کا اجالا ہے یانر کا کام الگ اور مادہ کے اوصاف الگ ہیں ایسے ہی تمہارے کردار کے نتائج دو طرح کے ہیں کہ جن لوگوں نے دینے کارویہ اپنایا اور اللہ کی محبت اور قربت کی تلاش میں اپنایا اور ارشادات نبوی کی تصدیق کی دل سے زبان سے اور کردار سے۔ دینے کارویہ۔ زندگی کا مدار دینے پر ہے سورج ، چاند ، ہوا ، بادل ، بارش ، روئیدگی ، پیداوار سب…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اس کا اندھیرا پھیل جائے۔
Read the full tafseer →(92:1) والیل اذا یغشی : جملہ قسمیہ ہے۔ اذا۔ ظرف زمان۔ بمعنی جب۔ یغشی مضارع واحد مذکر غائب۔ مفعول یغشی محذوف ہے۔ اس کی یہ صورتیں ہوسکتی ہیں۔:۔ (1) یغشی کا مفعول الشمس ہے۔ جیسا کہ والیل اذا یغشھا (91:3) میں آیا ہے۔ قسم ہے رات کی جب سورج کو ڈھانپ لے (2) یا النھار اس کا مفعول ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے یغشی الیل النھار رات سورج کو ڈھانپ لے۔ (7:54) (3) یا اس کا مفعول ہے ہر چیز جو رات کے اندھیرے میں چھپائی جاتی ہے جیسے آیت زیر مطالعہ۔ قسم ہے رات کی جب وہ (ہر چیز پر) چھا جائے۔ (ترجمہ تفسیر ضیاء القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
لغات القرآن۔ شتی۔ مختلف۔ الگ الگ۔ نیسر۔ ہم آسان کردیں گے۔ العسری۔ تنگی۔ تردی۔ وہ نیچے گرا۔ تلظی۔ بھڑک دار۔ یجنب۔ بچ جائے گا۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں رات، دن، نر اور مادہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جس طرح رات دن سے اور نر مادہ سے الگ اور مختلف چیزیں ہیں اسی طرح دنیا میں جتنے بھی انسان، ان کے گروہ اور قومیں ہیں وہ اپنے عمل اور کوششوں میں بہت مختلف ہیں۔ رات کے وقت دن کا تصور اور دن میں رات کا تصور ممکن نہیں ہے۔ نر مادہ ہوسکتا اور مادہ نر نہیں ہوسکتی اسی طرح نیکی اور برائیوں پر چلنے والے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے یکساں نہیں ہوسکتے۔ ایک وہ شخص ہے جو نہایت خلوص اور اللہ کی رضا کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
حضرت صدیق اکبر کا ایمان۔ (ف 1) شان نزول۔ روساء مکہ میں سے دو شخص بہت مالدار تھے ایک تو حضرت صدیق اکبرؓ ایک امیہ بن خلف لیکن دونوں کی حالت مختلف تھی ، حضرت ابوبکر صدیق مسلمان اور انبیاء کے بعد سب سے افضل، اور اپنا جان مال راہ خدا میں لٹانے والے تھے اور یہ کم بخت کافر انتہا درجہ کا بخیل اور گستاخ تھا، حضرت بلال اسی کے غلام تھے اور خفیہ ایمان لاچکے تھے ، امیہ بن خلف کو جب اس امر کی اطلاع ہوئی تو غلاموں کو حکم دیا کہ دن چرھے بلال ؓ کے تمام جسم پر ببول کے کانٹے چبھو دیا کرو اور جب دھوپ تیز ہوجائے تو اس کو دھوپ میں چت لٹا کر سرے سے پیر تک گرم پتھر پاٹ دیا کرو کہ ہل نہ سکے، اور گرداگرد آگ سلگادیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الیل 1 ۔ یعنی جس طرح تاریک رات اور روشن دن میں اختلاف ہے اور خدا کی اس تقسیم میں اختلاف ہے اللہ تعالیٰ نے مرد کو بھی پیدا کیا اور عورت کو بھی ۔ نر کو بھی اور مادہ کو بھی ۔ اسی طرح کفر و ایمان کی مساعی یکساں نہیں ہیں ۔ نہ فطرت اور ساخت کے اعتبار سے اور نہ نتائج وثمرات کے اعتبار سے ۔ کفر ہمہ تاریکی ہے اور ایمان ہمہ روشنی ۔ کفر انوثیت اور نامرادی ہے اور ایمان جرات وجسارت ۔ نتائج وثمرات کے لحاظ سے بھی دونوں مختلف ہیں ۔ وہ شخص جو دولت ایمان سے بہرہ مندی کی وجہ سے اس کی راہ میں اپنا مال صرف کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور ہر نیک بات کی عمل سے تصدیق کرتا ہے ۔ اس کے لئے تیسیر کی نعمتیں اس کی طرف…
Read the full tafseer →(1) قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ ڈھانک لے - یعنی دن اور آفتاب کو یہ وقت تمام حیوانات کے سکون کا وقت ہوتا ہے ہر قسم کی حرکت اور ہر قسم کا اضطراب بند ہوتا ہے دن کی تمام چہل پہل اور کاروبار بند ہوتا ہے فاسق کو اپنے فسق وفجور کا موقعہ ملتا ہے اور ایک نیک اور عبادت گزار کو عبادت کا موقعہ میسر آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ف 4۔ تکلیف کی چیز سے بدعمل اور بواسطہ بدعمل کے دوزخ مراد ہے کہ عسر کا سبب اور محل ہے، اس لئے اس عسر کو عسری کہہ دیا گیا۔ اور سامان دینے سے مراد دونوں جگہ یہ ہے کہ اچھے یا برے کام اس سے بےتکلف سرزد ہوں گے اور ویسے ہی اسباب جمع ہوجائیں گے اور پھر نیک اعمال کا سامان جنت ہونا اور اعمال بد کا سامان دوزخ ہونا ظاہر ہی ہے۔ حدیث میں ہے فاما من کان من اھل السعادة فسیسیر لعمل اھل السعادة و کذا فی الشقاوة۔
Read the full tafseer →قسم ہے رات کے رب کی جب وہ چھا جائے 1 ؎ جیسا کہ گزشتہ سورت میں بھی بیان ہوا ہے اور اس سے قبل بھی کہ رات کا چھا جانا اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے ایک نشان ہے کہ جس علاقہ کو سورج چھوڑ دیتا ہے اس علاقہ پر رات چھا جاتی ہے اور پھر جوں جوں وہ جتنا جتنا چھوڑ تا جاتا ہے رات بھی اس کے پیچھے اتنے علاقہ کو ڈھانپتی چلی جاتی ہے اور یہ کام اس ترتیب سے جاری وساری ہے کہ اس کے لیے جو نظام بنایا گیا ہے اس میں ایک لمحے کا فرق بھی نہیں پڑتا اور یہ حالت انسان کو باور کراتی ہے کہ اس نظام کا بنانے والا اور اس کو چلانے والا کوئی ہے اور یقینا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1 This is that for which an oath has been sworn by the night and the day, and the creation of the male and the female. It means to say: Just as the night and the day, and the male and the female, are different from each other, and their effects and results are mutually contradictory, so are the aims and objects for which men are endeavouring and struggling; different in their nature and contradictory with regard to their results. In the following verses, it has been told that all these divided endeavours are divided into two main kinds.
Read the full tafseer →