Ash-Shams 91:15

Ash-Shams · from ayah 15

91:15

وَلَا یَخَافُ عُقْبٰهَا ۟۠وَلَا يَخَافُ عُقۡبٰهَا

اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He does not fear the consequence thereof.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juzع

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:15

اور اسے (اپنے ا س فعل کے) کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه نہیں ڈرتا اس کے تباه کن انجام سے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ کو اس کے کسی برے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے پیچھا کرنے والے کا اسے خوف نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اﷲ کو اس (ہلاکت) کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہوتا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ اس (سزا) کے انجام سے نہیں ڈرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور وہ ایسی تباہی کے انجام سے ڈرتا نہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ نہیں ڈرتا کہ اس کے پیچھے کیا ہوگا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ ڈرتا نہیں اپنے کئے کے انجام سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس کے آخیر (نتیجہ) سے اسے کوئی اندیشہ نہیں پیدا ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کو (اللہ کو) ان سے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He has no fear of its sequel.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And He has no fear of its consequence.

— Muhammad Taqi Usmani

And He has no fear of its consequence.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He feared not the consequences thereof.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He dreadeth not the sequel (of events).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He does not fear the consequence thereof.

— Saheeh International

God is not afraid of the result of what He had decreed.

— Muhammad Sarwar

And He fears not its consequence.

— Muhammad Habib Shakir

And He feared not the consequence thereof

— Abdul Majid Daryabadi

And for Him is no fear of its consequences.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 91:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–15

آل ثمود کی تباہی کے اسباب : اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بطغواھا کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہوگئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہوگیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں اسی کے بارے میں فرمان ہے فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقرثمودیوں کی آواز پر یہ آگیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشَّمْس 11 یعنی اللہ دنیا کے بادشاہوں اور یہاں کی حکومتوں کے فرمانرواؤں کی طرح نہیں ہے کہ وہ کسی قوم کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کے وقت یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اس اقدام کے نتائج کیا ہوں گے۔ اس کا اقتدار سب سے بالا تر ہے اسے اس امر کا کوئی اندیشہ نہیں تھا کہ ثمود کی حامی کوئی ایسی طاقت ہے جو اس سے بدلہ لینے کے لیے آئے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

فدمدم علیھم ربھم بذنبہم فسوھا، دمدمہ کا لفظ ایسے سخت عذاب کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی شخص یا قوم پر بار بار آتا ہے یہاں تک کہ ان کو بالکل فنا کردے۔ اور فسوھا کا مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب پوری قوم پر محیط ہوگیا جس میں مرد و عورت بچہ بوڑھا سب برار ہوگئے۔ آخر میں فرمایا ولا یخاف عقبھا، یعنی حق تعالیٰ کا عذاب اور کسی قوم کو تباہ کردینے کے معاملے کو دنیا کے معاملات کی طرح نہ سمجھ کہ اس میں بڑے سے بڑا بادشاہ صاحب قوت و شوکت بھی جب کسی قوم کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جس میں پوری قوم کی ہلاکت ہے تو اس کو خود بھی یہ خطرہ رہتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے بقایا یا انکے حامی لوگ ہم سے انتقام لیں اور بغاوت کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اللہ تعالیٰ کو کسی چیز کا اندیشہ نہیں: یعنی اللہ تعالیٰ جب اسی طرح کسی قوم کو تباہ کر دیتا ہے تو اپنی اس سنت کے مطابق کرتا ہے جو اس نے اس دنیا کی مصلحت اور بہبود کے لیے اپنے محیط کل علم اور اتھاہ قدرت کے تحت ٹھہرا رکھی ہے اس وجہ سے نہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلہ میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے اور نہ یہ ڈر ہوتا ہے کہ کوئی اس کو چیلنج کر سکتا ہے۔ وہ کسی کے آگے نہ مسؤل ہے اور نہ کسی کا اس پر زور ہے۔ اس سے ضمناً ان لغویات کی بھی نفی ہو جاتی ہے جو تورات کی کتاب پیدائش میں اس کے راویوں نے ملائے ہیں، مثلاً ’’اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یہ کام ایک شخص قدار نے کیا تھا لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا، اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی، جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ 14۔ 2 ان کو ہلاک کردیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ 14۔ 3۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کردیا گیا یا زمین کو ان پر برابر کردیا یعنی سب کو تہ خاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: جب انسانوں کا کوئی لشکر کسی بستی میں تباہی مچائے تو اسے خوف بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس سے انتقام نہ لے، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو ہلاک کرتا ہے تو اسے کسی کے انتقام کا کوئی خوف نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

کذبت ثمود ................................ عقبھا قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جیسے بادشاہان دنیا کو کسی بڑی قوم یا جماعت کی سزا دہی کے بعد احتمال ہوتا ہے کہ کہیں ملک میں شورش برپا نہ ہوجائے، یا انتظام ملکی میں خلل نہ پڑے اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں کا کوئی اندیشہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی کون سی طاقت ہے جو سزا یافتہ مجرموں کا انتقام لینے کے لئے اس کا پیچھا کرے گی ؟ العیاذباللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15{ وَلَا یَخَافُ عُقْبٰٹہَا۔ } ”اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا۔“ اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فعل کے کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے کہ اس کے بعد کیا ہوگا ؟ وہ پوری کائنات کا مالک اور خالق ہے ‘ وہ جو چاہے کرے۔ اس نے اس پوری قوم کو ختم کردیا اور ان کی جگہ دوسری قوم کو لے آیا۔ اس سورت میں پہلے انسانی نفس اور ضمیر کے حوالے سے انسان کی انفرادی کامیابی اور ناکامی کا ذکر ہوا اور پھر قوم ثمود کی مثال دے کر قوموں کی اجتماعی کامیابی اور ناکامی کے معیار کے بارے میں بھی بتادیا گیا۔ اس سورت کے مضمون کا تسلسل اگلی سورت میں بھی نظر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 یعنی دنیا دار بادشاہ جب کسی دوسری قوم یا ملک پر حملہ کرتے یا ان سے اپنا بدلہ لینا چاہتے ہیں تو اپنی اس کارروائی کے نتائج و عواقب پر نظر رکھتے ہیں کہ مثلاً اس حملہ کا رد عمل کیا ہوگا ؟ کہیں ہماری اپنی ہی رعیت تو اس کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہوگی ؟ یا مخالف قوت ہمارے حملہ کے رد عمل کے طور پر کیا کچھ کارروائی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے غرض بیسیوں قسم کے خیالات ان کے ذہن میں آتے ہیں جن کا توڑ وہ پہلے سوچ لیتے ہیں لیکن اللہ جب کسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی بات کو سوچنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

8۔ یعنی جیسا کہ بعض دنیوی ملوک و سلاطین کو بعض وقت سزا دینے میں طرح طرح کے مفسدوں کے اندیشے ہوتے ہیں، اس احکم الحاکمین کو کسی طرح کی بھی خرابی یا ابتری کا اندیشہ نہ ہوا۔ اس میں تردید آگئی اس مسیحی اور مشرکانہ عقیدہ کی کہ خدا کو بھی اپنے افعال پر کبھی ندامت اور پچھتاوا ہوتا ہے۔ (آیت) ” فسوھا “۔ یعنی سزائے ہلاکت کو ساری قوم پر عام کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–15

فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ایک معجزہ کی فرمائش کی، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس کی برکت سے پہاڑ سے ایک دس مہینہ کی گابھن اونٹنی نکلی اور اس نے بچہ دیا، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اس اونٹنی کا خیال رکھنا اس کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ عذاب الٰہی نازل ہوجائے گا ایک دن پانی پینے کی اس کی باری ہوگی اور ایک دن تمہارے سب جانوروں کی، لیکن ان ظالموں نے اس کی پروانہ کی اور قد اربن سالف نامی ایک شخص کو اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے لئے آمادہ کرلیا اور اس سخص نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا یخاف عقبھا . لا یخاف کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اللہ کو اس تباہی یا ثمود کی بربادی کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا کہ وہ کسی قدر رحم فرماتا (اور کسی کو زندہ چھوڑ دیتا) ۔ ضحاک ‘ کلبی اور سدی نے کہا : لا یخاف کی ضمیر اشقٰی کی طرف راجع ہے اور کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اذا نبعث اشقاھا ولا یخاف عقبٰھا۔ یعنی سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے فوری تیار ہوگیا اور اس کے نتیجہ کی طرف سے اس کو کچھ خوف نہ ہوا۔ دمدم یا انبعث کے فاعل سے یہ جملہ حال ہے اور واؤ حالیہ ہے۔ سورۃ الشمس ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) سو اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کو قتل کرنے اور حضرت صالح ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے ان سب کو ہلاک کر ڈالا اور پھر عذاب کو چھوٹے بڑے سب کے لیے عام کردیا اور اللہ کو اس ہلاک کرنے میں کسی سے اندیشہ نہیں ہوا، یا یہ کہ ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا اور ان کو اس کے انجام کا اندیشہ نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ولا یخاف عقبھا :”ھا“ ضمیر کا مرجع وہ ”’ مدمۃ“ ہے جو ”فدمدم علیھم ربھم“ کے ضمن میں موجود ہے۔ یعنی دنیا کے بادشاہ کسی کو قتل کرتے ہیں تو ڈرتے ہیں کہ نامعلوم اس کا انجام کیا ہوگا ؟ مقتول کا کوئی وارث بدلا لینے کے لئے نہ اٹھ کھڑا ہو یا ملک میں بغاوت نہ ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسا کوئی خطرہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا جب کہ اسے یہ کوئی خوف نہیں تھا کہ کس کی جانب سے عذاب کا رد عمل پہنچے گا۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، حضرت حسن بصری اور مجاہد کا قول ہے : عقباھا میں جو ضمیر ہے فعلۃ (عمل) کی طرف لوٹ رہی ہے جس طرح اس جملہ میں ہے۔ من اغتسل یوم الجمعۃ فبھاونعمت۔ جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اس نے بہت اچھا عمل کیا یہاں بھی ھاء ضمیر سے مراد فعلۃ اور خصلۃ ہے ضحاک، سدی اور کلبی نے کہا، یہ ضمیر عاقر کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی وہ آدمی جس نے کونچیں کاٹ دی تھیں وہ اپنے کیے کے انجام سے نہ ڈرا۔ حضرت ابن عباس کا بھی قول ہے کہ کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اس کی تقدیر یہ بنے گی، اذانبعث اشقاھا ولایخاف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

35۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولایخاف عقبہا سے مراد ہے کہ وہ ہمارا رب ہے جسے ان کے انجام کا کوئی خوف نہیں جو کچھ اس نے ان کے ساتھ کیا۔ 36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت ولا یخاف عقبہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی اس کے انجام سے خوفزدہ نہیں ہوا جو کچھ اس نے کیا اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔ 37۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے آیت ولا یخاف عقبہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی اپنے انجام سے نہیں ڈر جس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا يَخَافُ : اور وہ نہیں ڈرتا ] [عُقْبٰهَا : اس کے نتیجے سے ] نوٹ۔ 5: آیت۔ 15 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو تباہ کرتا ہے، تو اپنی اس سنت کے مطابق کرتا ہے جو اس نے اس دنیا کی مصلحت اور بہبود کے لیے اپنے علم اور قدرت کے تحت ٹھہرا رکھی ہے اس وجہ سے نہ اس کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ نتیجہ کے اعتبار سے اس کے اس فیصلے میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے اور نہ یہ خوف ہوتا ہے کہ اس کو کوئی چیلنج کرسکتا ہے۔ اس سے ضمنی طور پر ان لغو بیانات کی بھی نفی ہوجاتی ہے جو تو رات کی کتاب پیدائش میں اس کے راویوں نے ملائے ہیں۔ مثلاً ” اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے تصور اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (رح) 0015﴾ اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا یعنی اللہ تعالیٰ جس کسی کو ہلاک فرمائے کچھ بھی سزا دینا چاہے وہ اپنی مشیت و ارادہ کے مطابق سزا دے سکتا ہے وہ دنیا والے ملوک اور اصحاب اقتدار کی طرح نہیں جو مجرمین سے اور مجرمین کی اقوام سے بعض مرتبہ ڈر جاتے ہیں اور سزا نافذ کرنے میں تامل کرتے ہیں اور یہ سوچتے کہ اگر ہم سزا دینے کا اقدام کریں تو کہیں یہ اقوام بغاوت پر نہ اتر آئیں اور ہمارا اقتدار کھٹائی میں نہ پڑجائے۔ وھذا آخر تفسیر سورة الشمس وللہ الحمد قولہ تعالیٰ ﴿وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾ ای ضوء ھا کما اخرجہ الحاکم وصححہ عن ابن عباس والمراد اذا اشرقت وقام سلطانھا ﴿وَ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ ” ولا یخاف “ اللہ تعالیٰ قوم ثمود کی بیخ کنی اور ہلاکت و تباہی کے انجام سے کوئی خوفزدہ نہیں تھا تاکہ ان پر کچھ رحم فرماتا نہ اسے کوئی خطرہ تھا کہ اس سے انتقام لیا جائے گا یا اسے ملامت کی جائے گی۔ ای عاقبتھہما وتبع تھا کما یخاف العاقبون من الملوک عاقبۃ ما یفعلونہ وتبعتہ (روح ج 30 ص 146) ۔ سورة الشمس ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگیا جس نے تزکیہ حاصل کرلیا اور وہ ناکام ہوا جس نے نفس کو مٹی میں ملا دیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے جو مختلف چیزیں پید ا کی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ارادہ ہے جس کی بنا پر انسان عمل کرتا ہے۔ اگر ارادہ اچھا ہو تو اچھے کام انجام پاتے ہیں او اگر ارادہ اور نیت بری ہو ، تو برے کام سر زد ہوتے ہیں۔ یہ ارادہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اسباب پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا۔ صرف خدا تعالیٰ ” خالق کل شیء “ ہی اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ چاند ، سورج ، دن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا يَخَافُ عُقْبٰہَا۝ 15 ۧ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–15

ترکیب ¦ بطغوھا الباء للسببیۃ الطغویٰ فعلی من الطغیان والوا ومبدلۃ من یاء مثل التقویٰ ومن قال طغوت کانت الواو اصلا۔ ثمود فاعل کذبت والجار فی بطغوھا یتعلق بکذبت اذا ظرف لکذبت او للطغویٰ انبعث مطاوع بعث یقال بعثت فلانا علی الامر فانبعث لہ ومعناہ انتدب لذلک وقام بہ ناقۃ اللہ منصوب بفعل محذوف ای ذرواناقۃ اللہ او احذروا وسقیاھا معطوف علیہ والاضافۃ فی ناقۃ اللہ للتشریف کبیت اللہ فدمدم فی الصحاح ومدمت الشیء اذا الزقعۃ بالتراب والدمدمۃ تضعیف العذاب یقال دمدمت علی الشیء ای اطبقت علیہ دمدم علیہ القبر ای اطبقہ فسوھا والضمیریعودالی الدمدمۃ ای فسؤی الدمدمۃ علیھم وعمھم بھا فا شتملت علی صغیرھم وکبیرھم وقیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْـٰوھَـآ۔ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـھَا۔ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـھَا۔ فَـکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا 5 ص لا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰھَا۔ وَلاَ یَخَافُ عُقْبٰـھَا۔ (الشمس : 11 تا 15) (ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جبکہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے زیادہ بدبخت۔ تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار۔ مگر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر ایسی آفت توڑی کہ ان کا ستھرائو کردیا۔ اور وہ نہیں ڈرتا ان کے تباہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : نفس کو خاک آلود کردینے والے لوگوں کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو، میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اسے انجام کا خطرہ نہ ہوا : 15 : وَلَا یَخَافُ عُقْبٰھَا ( اور اللہ تعالیٰ کو اس ہلاکت کے اخیر میں کسی خرابی کا اندیشہ نہیں ہوا) اللہ تعالیٰ کو اس ہلاکت والے کام کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اس اندیشہ کے بغیر کہ کسی کی طرف سے کوئی خرابی اس کو پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ کوئی بادشاہ کسی کو سزا دے تو اس کی طرف سے ہر وقت اس کو خطرہ لگا رہتا ہے۔ کہ کہیں بدلے کیلئے نہ اٹھ کھڑا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنی ملک اور ملک میں کیا لا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلوْنَ ] الانبیاء : 23[ اس سے کون پوچھ سکتا ہے۔ کہ یہ کیوں کیا۔ وہ تمام سے پوچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” قدمدم علیھم ربھم “ عطاء اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں، پس ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ان کے رب نے پھر ان کو ہلاک کردیا۔ مدرج فرماتے ہیں ” الدمدمۃ “ جڑ سے اکھاڑنے کے ساتھ ہلاک کرنا۔ ” بذنبھم “ ان کے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرنے اور اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کی وجہ سے۔ ” فسواھا “ پس ہلاکت کو ان سب پر برابر کردیا اور عام ہلاکت بھیجی کہ ان میں سے کوئی بھی نہ چھوٹ سکا اور فرائؒ فرماتے ہیں ” سوی الدمۃ “ اور ان کے چھوٹوں بڑوں پر عذاب نازل کیا یعنی ان کے درمیان برابری کردی۔ ” ولا یخاف عقباھا “ اہل مدینہ اور اہل شام نے فلافاء کے ساتھ پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے اور باقی حضرات نے وائو کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 16۔ یہ اونٹنی کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ثمود نے حضرت صالح سے ایک دن پہاڑ میں سے ایک حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا اور حضرت صالح کی دعاء سے حاملہ اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس کے پیٹ سے بچہ بھی پیدا ہوا۔ ثمود کے شہر میں پانی کی کشش تھی اس واسطے حضرت صالح نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیاکرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پیا کریں جس کنویں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ اس کا نام ثمود نے اونٹنی والا کنواں رکھ دیا تھا صالح نے باری جو ٹھہراثی تھی اسی باری کے دن کسی طرح کی شرارت کرنے سے حضرت صالح نے ثمود کو ڈرایا ہے جس کا ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا) اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔ یعنی اس کے تاوان سے وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جب کہ وہ قہر والا اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا وہ اس میں حکمت والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(12) اللہ پاک کے فیصلے کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ڈرتا نہیں اپنے کیے کے انجام سے " جیسا کہ دنیا کے بادشاہوں وغیرہ کو ہوتا ہے، اسی لیے وہ کوئی فیصلہ کرنے اور ایکشن لینے سے قبل اس کے انجام و نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں اور ایکشن کرنے کے بعد بھی وہ ڈرتے ہیں کہ پتہ نہیں کب اس کے خلاف آواز اٹھے گی، اور اس کا ری ایکشن اور رد عمل کیا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر حضرت حق جل مجدہ ایسے تمام اندیشوں اور مخاوف و مخاطر اور اس طرح کے تمام خیالات و تصورات سے پاک وبالا تر اور وراء الوراء ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، کیونکہ نہ اس کے فیصلے اور حکم میں کسی غلطی کا کوئی امکان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

‘21 یعنی ایسا غارت کیا کہ ان میں کوئی چھوٹا یا بڑا زندہ نہ بچا، صرف وہ لوگ بچے جو حضرت صالح پر ایمان لائے … یہ مطلب اس صورت میں ہے جب ” سواھا “ میں ” ھا “ کی ضمیر قوم کے لئے ہو بعض مفسرین نے اسے ” زمین “ کے لئے قرار دیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا ” انہیں زمین سے ملا دیا “ اور بعض نے اسے ملک میں شورش برپا ہوجائے … ” عقباھا میں ” ھا “ کی ضمیر تابہ کرنے کے عمل کے لئے بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی پروا نہ ہوئی کہ انہیں تباہ کرنے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:15) ولا یخاف عقبھا : عقبی۔ انجام، بدلہ، عاقبت۔ مضاف ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کفار کو سزا دینے کا فعل ہے۔ مضاف الیہ ۔ جملہ حالیہ ہے۔ ای فعل ذلک وھولا یخاف عقبھا۔ اس نے یہ کیا درآں حالیکہ اسے اس کے انجام کو کوئی ڈر نہ تھا۔ لایخاف میں فاعل کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) لا یخاف کی ضمیر فاعل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کو اس تباہی یا قوم ثمود کی بربادی کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ (2) ضحاک، سدی، کلبی نے کہا کہ لا یخاف کی ضمیر فاعل اشقی کی طرف راجع ہے۔ اور کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا۔ اذا نبعث اشقھا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

خواہشات نفسانی کی پیروی اور انبیاء کرام کی نافرمانی سے ہلاکت و بربادی۔ (ف 1) دیکھو نفس کو سرکش بنانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم ثمود نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی اس قوم میں جب سب سے زیادہ بدبخت مخالفت پیغمبر آمادہ ہواحقیقت میں خواہش نفسانی کا اتباع کرتے کرتے مباحات سے تجاوز کرکے فسق پر نوبت پہنچتی ہے جب فسق حد سے زیادہ گذرجاتا ہے تو اس کی شامت سے طبعیت کفر کی طرف مائل ہوجاتی ہے اور جس وقت نفس غالب ہوجاتا ہے تو کسی عمدہ سے عمدہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت مفید نہیں ہوتی، دیکھو جب قوم ثمود نے سرکشی کی تو اللہ کے رسول نے ان کو سمجھایا اور کہا یہ اللہ کی اونٹنی ہے اس سے تعرض نہ کرو، اس کے پانی کے حصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[7] اگرچہ اونٹنی کو ایک آدمی نے ہلاک کیا تھا لیکن کیونکہ یہ فعل اس نے قوم کے مطالبے پر کیا تھا جیسا کہ سورة قمر میں مذکور ہے اس لئے پوری قوم ہلاک کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–15

ف 1: قوم ثمود کا ذکر ہے کہ جب انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں ۔ حالانکہ انہوں نے پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ تم اس کو پانی پینے سے نہ روکنا اور اسکا خیال رکھنا ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکا اور ان کو پیغمبر ﷺ کی نافرمانی میں ہلاک کرڈالا اور اللہ اس نوع کے انجام سے قطعاً خائف نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سرکش اور نافرمان قوموں کا مٹ جانا ہی بہتر ہے ۔ حل لغات :۔ فالھمھا ۔ یہ الہام ، الہام فطرت ہے جس میں ساری نوع انسانی مساوی ہے ۔ جس کی وجہ سے نیکی اور برائی میں قلب امتیاز کرتا ہے ۔ دسھا ۔ دبا دیا ۔ گاڑ دیا قدمدم ۔ مسلسل ہلاکت نازل کی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اور اللہ تعالیٰ کو قوم وثمود کی ہلاکت کے انجام سے ذرا اندیشہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ڈرتا پیچھا کرنے سے۔ یعنی جس طرح دنیوی بادشاہ ڈرتے ہیں کہ کسی کو سزا دینے سے ہمارے ملک میں بغاوت ہوجائیگی یا مقتول کے حمایتی کھڑے ہوجائیں گے اور ہمارا پیچھا کریں گے۔ اس آیت کی تفسیر اور بھی کئی طرح کی گئی ہے لیکن عبداللہ بن عباس ؓ سے یہی معنی مروی ہیں۔ نبی کریم ﷺ اس سورت کے بعد قدافلح من زکھا کی مناسبت سے فرمایا کرتے تھے۔ اللھم انی اعوبک من العجز والکسل والبخل والھم و عذاب القبر اللھم اب نفسی تقوھا وزکھا انت خیر من زکھا انت ولیھا ومولھا ۔ اللھم انی اعوبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ راحت کی چیز سے نیک عمل اور بواسطہ نیک عمل کے جنت مراد ہے کہ یسر کا سبب و محل ہے اسی لئے یسری کہہ دیا گیا ورنہ یسری کے معنی آسان چیز ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ان کے انجام کی بھی پرواہ نہ کی 15 ؎ یہ شروع سے سنت چلی آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو بھیجا اور جس قوم کی طرف بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی و رسول آیا اور قوم نے رسول کی بات کو ماننے سے انکار کردیا تو انجام کار قوم کو غرق کیا گیا ۔ آپ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے سارے نبیوں اور رسولوں کے تذکار پڑھ کر پڑھ لیں کہ نہ ماننے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا کہ اس دنیا میں ان کو عذاب الٰہی میں غرق کردیا گیا اور یہی حال قوم ثمود کے ساتھ بھی ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب ان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَ‌بُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا (... so their Lord sent eradicating torment upon them, and made it equal for all. And He has no fear of its consequence....91:14). The word damdama refers to such tormenting scourge as is unleashed on a person or a nation again and again, until it destroys or crushes them completely. Fa-sawwaha signifies that the scourge overtook the entire nation, men, women, children, and young and old. In conclusion, the verse says: وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا 'Allah has no fear of its consequence'. It means that Divine torment that destroys a nation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 That is, Allah is not like the kings of the world and the rulers of governments, who, when they want to take some action against a people, are compelled to consider what will be the consequences of their action. Allah's power is supreme. He had no apprehension that some supporting power of the Thamud would come out to avenge itself on Him.

Read the full tafseer →