Ash-Shams 91:14

Ash-Shams · from ayah 14

91:14

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا— فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا ۟فَكَذَّبُوۡهُ فَعَقَرُوۡهَا ۙفَدَمۡدَمَ عَلَيۡهِمۡ رَبُّهُمۡ بِذَنۡۢبِهِمۡ فَسَوّٰٮهَا

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they denied him and hamstrung her. So their Lord brought down upon them destruction for their sin and made it equal [upon all of them].

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:14

مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان لوگوں نے اپنے پیغمبر کو جھوٹا سمجھ کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں، پس ان کے رب نے ان کے گناہوں کے باعﺚ ان پر ہلاکت ڈالی اور پھر ہلاکت کو عام کر دیا اور اس بستی کو برابر کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر بھی انہوں نے پیغبر کو جھٹلایا، اور اس اونٹنی کو مار ڈالا نتیجہ یہ کہ ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر سب کو برابر کردیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہوں نے اسے جھٹلایا پھر ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں تو ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب تباہی ڈال کر وہ بستی برابر کردی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو انہوں نے اس (رسول) کو جھٹلا دیا، پھر اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کی وجہ سے ان پر ہلاکت نازل کر دی، پھر (پوری) بستی کو (تباہ کر کے عذاب میں سب کو) برابر کر دیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اسے جھٹلا دیا، پس اس (اونٹنی) کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پیس کر ہلاک کردیا، پھر اس (بستی) کو برابر کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

لیکن انہوں نے رسول کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہ کی پاداش میں ایسی آفت نازل کی کہ انہیں زمین بوس کرکے برابر کردیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر اپنا عذاب الٹ دیا اور ان کا ستھرائوکر دیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر انہوں نے جھٹلا دیا اپنے پیغمبر کو اور ہلاک کر ڈالا اس اونٹنی کو سو تباہی نازل فرما دی ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور پیوند خاک کردیا اس نے ان کو (ہمیشہ ہمیشہ کے لئے)

— مولانا اسحاق مدنی

پر انہوں نے پیغمبر ہی کو جھٹلایا اور اس اونٹنی کو مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان پر ان کے گناہ کے سبب ہلاکت نازل کی پھر اسے عام کردیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کردیا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے اس کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو ہلاک کر کے برابر کردیا)

— محترمہ رفعت اعجاز

But they rejected his statement as a lie and hamstrung the she-camel. For that crime their Lord rumbled down upon them, utterly razing them to the ground.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But they rejected him and killed her, so their Lord sent eradicating torment upon them because of their sin, and made it equal for all.

— Muhammad Taqi Usmani

But they rejected him and killed her, so their Lord sent eradicating torment upon them because of their sin, and made it equal for all.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then they denied him and they killed it. So their Lord destroyed them because of their sin, Fasawwaha!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But they denied him, and they hamstrung her, so Allah doomed them for their sin and rased (their dwellings).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they denied him and hamstrung her. So their Lord brought down upon them destruction for their sin and made it equal [upon all of them].

— Saheeh International

However, they rejected him and slew her. So their Lord completely destroyed them and their city for their sins.

— Muhammad Sarwar

But they called him a liar and slaughtered her, therefore their Lord crushed them for their sin and levelled them (with the ground).

— Muhammad Habib Shakir

Then they belied him, and they hamstrung her; wherefore their Lord overwhelmed them for their crime, and made it equal.

— Abdul Majid Daryabadi

Then they rejected him (as a false prophet), and they hamstrung her. So their Lord, on account of their crime, obliterated their traces and made them equal (in destruction, high and low)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 91:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–15

آل ثمود کی تباہی کے اسباب : اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بطغواھا کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہوگئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہوگیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں اسی کے بارے میں فرمان ہے فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقرثمودیوں کی آواز پر یہ آگیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشَّمْس 9 قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر اس کی تفصیل یہ بتائی گئی ہے کہ ثمود کے لوگوں نے حضرت صالح کو چلینج دیا تھا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی (معجزہ) پیش کرو۔ اس پر حضرت صالح نے ایک اونٹنی کو معجزے کے طور پر ان کے سامنے حاضر کردیا اور ان سے کہا کہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے، یہ زمین میں جہاں چاہے گی چرتی پھرے گی، ایک دن سارا پانی اس کے لیے مخصوص ہوگا اور دوسرا دن تم سب کے لیے اور تمہارے جانوروں کے لیے رہے گا، اگر تم نے اس کو ہاتھ لگایا تو یاد رکھو کہ تم پر سخت عذاب نازل ہوجائے گا۔ اس پر کچھ مدت تک ڈرتے رہے۔ پھر انہوں نے اپنے سب سے زیادہ شریر اور سرکش سردار کو پکارا کہ اس اونٹنی کا قصہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–15

فدمدم علیھم ربھم بذنبہم فسوھا، دمدمہ کا لفظ ایسے سخت عذاب کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی شخص یا قوم پر بار بار آتا ہے یہاں تک کہ ان کو بالکل فنا کردے۔ اور فسوھا کا مطلب یہ ہے کہ یہ عذاب پوری قوم پر محیط ہوگیا جس میں مرد و عورت بچہ بوڑھا سب برار ہوگئے۔ آخر میں فرمایا ولا یخاف عقبھا، یعنی حق تعالیٰ کا عذاب اور کسی قوم کو تباہ کردینے کے معاملے کو دنیا کے معاملات کی طرح نہ سمجھ کہ اس میں بڑے سے بڑا بادشاہ صاحب قوت و شوکت بھی جب کسی قوم کے ساتھ ایسا معاملہ کرتا ہے جس میں پوری قوم کی ہلاکت ہے تو اس کو خود بھی یہ خطرہ رہتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے بقایا یا انکے حامی لوگ ہم سے انتقام لیں اور بغاوت کرنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا‘۔ یعنی انھوں نے جس طرح پہلے عذاب کی دھمکی کو جھٹلایا تھا اسی طرح پیغمبر کی اس آخری وارننگ کی بھی کوئی پروا نہیں کی بلکہ ان کی تکذیب کر دی کہ یہ محض ایک دھونس اور ڈراوا ہے۔ چنانچہ جو کچھ کرنا تھا بے دھڑک کر گزرے۔ ’عقر‘ کے معنی اونٹ کی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ اس کے بعد اونٹ لازماً مر جاتا ہے اس وجہ سے لازم معنی کے طور پر قتل کر دینے کے معنی میں بھی یہ آتا ہے لیکن لفظ کا اصل مفہوم وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا ایک نکتہ: یہاں ایک بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اونٹنی کے قتل کا ارتکاب قوم کے اندر سے اگرچہ ایک ہی شخص نے کیا لیکن اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 14–15

14۔ 1 یہ کام ایک شخص قدار نے کیا تھا لیکن چوں کہ اس شرارت میں قوم بھی اس کے ساتھ تھی اس لیے اس میں سب کو برابر کا مجرم قرار دیا گیا، اور تکذیب اور اونٹنی کی کوچیں کاٹنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی، جس سے یہ اصول معلوم ہوا کہ ایک برائی پر نکیر کرنے کے بجائے اسے پسند کرتی ہو تو اللہ کے ہاں پوری قوم اس برائی کی مرتکب قرار پائے گی اور اس جرم یا برائی میں برابر کی شریک سمجھی جائے گی۔ 14۔ 2 ان کو ہلاک کردیا اور ان پر سخت عذاب نازل کیا۔ 14۔ 3۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا، کسی کو نہیں چھوڑا، چھوٹا بڑا، سب کو نیست ونابود کردیا گیا یا زمین کو ان پر برابر کردیا یعنی سب کو تہ خاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: قوم ثمود کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ نے ایک اونٹنی پیدا فرمائی تھی، اور لوگوں سے کہا تھا کہ ایک دن کنویں سے یہ پانی پئے گی اور دوسرے دن تم پانی بھر لیا کرنا، لیکن اس قوم کا ایک سنگدل شحص نے جس کا نام ”قدار“ بتایا جاتا ہے، اونٹنی کو قتل کردیا، اس کے بعد اس قوم پر ایسا عذاب آیا تفصیل کے لیے دیکھئے سورة اعراف : 73 اور اس کا حاشیہ 4: یعنی سب فنا ہوگئے اور کوئی باقی نہیں بچا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

کذبت ثمود ................................ عقبھا قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ " ولاتمسوھا بسوء فیاخذکم عذاب الیم " (اس اونٹنی کو برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ سخت دردناک عذاب میں پھنس جاؤ گے) ان لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھا۔ پیغمبر کی تکذیب کی اور اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔ آخر وہی ہوا جو حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو مٹا کر برابر کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14{ فَکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَاص } ”تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔“ { فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰٹہَا۔ } ”تو الٹ دیا ان پر عذاب ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور سب کو برابر کردیا۔“ ان کے جرمِ عظیم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب استیصال نازل فرمایا اور پوری قوم کو ایک ساتھ پیوند خاک کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

13 یعنی ان لوگوں نے سیدنا صالح (علیہ السلام) کی تنبیہ کو چنداں اہمیت نہ دی اور اس تنبیہ کو جھوٹ ہی سمجھا۔14 اونٹنی کو ہلاک کرنے والا صرف ایک شخص قدار بن سالف تھا جو خود بھی زانی اور ایک زانیہ عورت کا عاشق تھا۔ اسی زانیہ عورت کی انگیخت پر اس نے اس کام کا بیڑا اٹھایا تھا۔ پھر ساری قوم کے لوگوں سے خفیہ مشورے کرکے ان کو ہمنوا بنا لیا تھا۔ اسی لیے اونٹنی کو ہلاک کرنے کی نسبت پوری قوم کی طرف کی گئی ہے اور عذاب بھی صرف اونٹنی کو ہلاک کرنے والے پر نہیں بلکہ ساری قوم پر آیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 14–15

8۔ یعنی جیسا کہ بعض دنیوی ملوک و سلاطین کو بعض وقت سزا دینے میں طرح طرح کے مفسدوں کے اندیشے ہوتے ہیں، اس احکم الحاکمین کو کسی طرح کی بھی خرابی یا ابتری کا اندیشہ نہ ہوا۔ اس میں تردید آگئی اس مسیحی اور مشرکانہ عقیدہ کی کہ خدا کو بھی اپنے افعال پر کبھی ندامت اور پچھتاوا ہوتا ہے۔ (آیت) ” فسوھا “۔ یعنی سزائے ہلاکت کو ساری قوم پر عام کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–15

فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ایک معجزہ کی فرمائش کی، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس کی برکت سے پہاڑ سے ایک دس مہینہ کی گابھن اونٹنی نکلی اور اس نے بچہ دیا، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اس اونٹنی کا خیال رکھنا اس کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ عذاب الٰہی نازل ہوجائے گا ایک دن پانی پینے کی اس کی باری ہوگی اور ایک دن تمہارے سب جانوروں کی، لیکن ان ظالموں نے اس کی پروانہ کی اور قد اربن سالف نامی ایک شخص کو اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے لئے آمادہ کرلیا اور اس سخص نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فکذبوہ . لیکن حضرت صالح کی طرف سے عذاب کی دھمکی کو انہوں نے سچا نہ مانا۔ فعقروھا . اور سب نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں (قتل کردیا) قتل کرنے والا اگرچہ ایک ہی تھا لیکن مشورۂ قتل میں سب شریک تھے۔ اس لیے قتل کرنے کی نسبت سب کی طرف کردی۔ مقاتل نے کہا کہ قتل کرنے والے نو آدمی تھے کیونکہ اشقٰی اگرچہ اسم تفضیل واحد ہے مگر اسم تفضیل اگر مضاف ہو تو واحد بھی مراد ہوسکتی ہے اور جمع بھی۔ حضرت صالح نے فرمایا : تین روز تک تو تم زندگی سے بہرہ اندوز ہو ‘ پہلے دن صبح کو تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ اور تین روز کے بعد تم سب ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ فدمدم علیھم ربھم . تین روز کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 14–15

(14۔ 15) سو اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کو قتل کرنے اور حضرت صالح ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے ان سب کو ہلاک کر ڈالا اور پھر عذاب کو چھوٹے بڑے سب کے لیے عام کردیا اور اللہ کو اس ہلاک کرنے میں کسی سے اندیشہ نہیں ہوا، یا یہ کہ ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا اور ان کو اس کے انجام کا اندیشہ نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) فکذبوہ فعقروھا : اگرچہ ایک آدمی نے کونچیں کاٹ کر اسے ہلاک کیا تھا، لیکن چونکہ ساری قوم اس کے ساتھ تھی بلکہ انھی کے کہنے پر اس نے یہ کام کیا تھا، اسلئے ان سب کو مجرم قرار دیا گیا اور فرمایا کہ ”انہوں نے اس کو کونچیں کاٹ دیں۔“ (2) فدمدم علیھم ربھم بذنبھم فسوھا : قاموس میں ہے :”’ مم القوم کدمدمھم و دمدم علیھم طحنھم فاھلکھم“”’ مدم علیھم“ اس نے انہیں پیس کر ہلاک کردیا۔ اونٹنی کو مار ڈالنے کے تین دن بعد ان پر ایک زبردست غیبی چیخ کے ساتھ عذاب آیا اور وہ اس طرح نابود ہوگئے جیسے کبھی وہاں تھے ہی نہیں، صرف صالح ؑ اور الہ ایمان بچے۔ سورة ہود (62 تا 68) ، اعراف (73 تا 79) اور سورة شعراء (141 تا 159)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–14

طغوی سے مراد طغیانی ہے، اس کا معنی نافرمانی میں حد سے نکل جاتا ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے حضرت ابن عباس سیمروی ہے، طغوی سیمراد وہ عذاب ہے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو عذاب ان پر آیا تھا اس کا نام طغوی تھا، کیونکہ عذاب ان پر سرکش ہوگیا تھا، محمد بن کعب نے کہا، طغواھا کا معنی ہے سب کے سب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر ہے اس طریقہ پر اسے اس لیے لایا گیا کیونکہ آیات کے سروں کے اعتبار سے یہ زیادہ موافق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی اصل طغیاھا ہے مگر جب فعلی اسمی ہو تو اس کی یاء کو واؤ سے بدل دیتے ہیں تاکہ اسم اور وصف کے درمیان فرق کیا جائے، عام قراءت طاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

31۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت کذبت ثمود بطغوہا اور ثمود نے اپنی سرکشی سے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا کے بارے میں روایت کیا کہ و عذاب جو قوم ثمود پر آیا اس کا نام طغویٰ تھا۔ پھر فرمایا کہ قوم ثمود نے اپنے عذاب کو جھٹلایا۔ 32۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کو ذبح کیا۔ اور فرمایا آیت اذانبعث اشقہا جبکہ ان کا بڑا بدبخت اٹھا۔ یعنی اس کے لیے ایک بدخلق آدمی اٹھا جو اپنی جماعت میں ابو زمعہ کی مثل قوی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَكَذَّبُوْهُ : پھر انھوں نے جھٹلایا ان (رسول (علیہ السلام) ) کو ][ فَعَقَرُوْهَا : تو انھوں نے ٹانگیں کاٹیں اس (اونٹنی) کی ][ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ : پس دھمادھم برسایا ان پر (عذاب)][ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ : ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ][ فَسَوّٰىهَا : تو اس نے برابر کردیا اس (قوم) کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یعنی اس اونٹنی کو کچھ نہ کہو اس کی باری کا جو دن ہے اس میں پانی پینے دو لیکن ان لوگوں نے نہ مانا ﴿ فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا 1۪ۙ۬ ﴾ (سو وہ برابر تکذیب پر جمے رہے اور اونٹنی کو کاٹ ڈالا) ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ اونٹنی کو کاٹ ڈالا بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے یوں بھی کہا ﴿يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ 0077﴾ (اے صالح لے آ وہ عذاب جس کی ہمیں تو دھمکی دیتا ہے اگر تو پیغمبروں میں ہے) لہٰذا ان لوگوں پر عذاب آ ہی گیا۔ ﴿ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ0014﴾ (سو ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پوری طرح ہلاک کردیا اور ہلاکت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” فکذبوہ “ لیکن ان کافروں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو عذاب کی دھمکی میں جھٹلایا اور اونٹنی کو قتل کردیا۔ فکذبوہ ای صالحا فیما او عدھم من نزول العذاب ان عقروھا (مظہری ج 10 ص 272) ۔ ” فدمدم علیہم ربہم “ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی وجہ سے ان پر ہلاکت خیز اور بیخ عذاب نازل فرمایا اور چونکہ ساری قوم قتل کے فعل پر خوش تھی اس لیے سب کو تباہ وبرباد کردیا گیا۔ الدمدمۃ الا ھلاک باستیصال (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگیا جس نے تزکیہ حاصل کرلیا اور وہ ناکام ہوا جس نے نفس کو مٹی میں ملا دیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے جو مختلف چیزیں پید ا کی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ارادہ ہے جس کی بنا پر انسان عمل کرتا ہے۔ اگر ارادہ اچھا ہو تو اچھے کام انجام پاتے ہیں او اگر ارادہ اور نیت بری ہو ، تو برے کام سر زد ہوتے ہیں۔ یہ ارادہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اسباب پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا۔ صرف خدا تعالیٰ ” خالق کل شیء “ ہی اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ چاند ، سورج ، دن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَكَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْہَا۝ 0ڃ فَدَمْدَمَ عَلَيْہِمْ رَبُّہُمْ بِذَنْۢبِہِمْ فَسَوّٰىہَا۝ 14 كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے عقر عُقْرُ الحوض والدّار وغیرهما : أصلها ويقال : له : عَقْرٌ ، وقیل : ( ما غزي قوم في عقر دارهم قطّ إلّا ذلّوا) «4» ، وقیل للقصر : عُقْرَة . وعَقَرْتُهُ أصبت :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–15

ترکیب ¦ بطغوھا الباء للسببیۃ الطغویٰ فعلی من الطغیان والوا ومبدلۃ من یاء مثل التقویٰ ومن قال طغوت کانت الواو اصلا۔ ثمود فاعل کذبت والجار فی بطغوھا یتعلق بکذبت اذا ظرف لکذبت او للطغویٰ انبعث مطاوع بعث یقال بعثت فلانا علی الامر فانبعث لہ ومعناہ انتدب لذلک وقام بہ ناقۃ اللہ منصوب بفعل محذوف ای ذرواناقۃ اللہ او احذروا وسقیاھا معطوف علیہ والاضافۃ فی ناقۃ اللہ للتشریف کبیت اللہ فدمدم فی الصحاح ومدمت الشیء اذا الزقعۃ بالتراب والدمدمۃ تضعیف العذاب یقال دمدمت علی الشیء ای اطبقت علیہ دمدم علیہ القبر ای اطبقہ فسوھا والضمیریعودالی الدمدمۃ ای فسؤی الدمدمۃ علیھم وعمھم بھا فا شتملت علی صغیرھم وکبیرھم وقیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْـٰوھَـآ۔ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـھَا۔ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـھَا۔ فَـکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا 5 ص لا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰھَا۔ وَلاَ یَخَافُ عُقْبٰـھَا۔ (الشمس : 11 تا 15) (ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جبکہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے زیادہ بدبخت۔ تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار۔ مگر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر ایسی آفت توڑی کہ ان کا ستھرائو کردیا۔ اور وہ نہیں ڈرتا ان کے تباہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : نفس کو خاک آلود کردینے والے لوگوں کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو، میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

14 : فَکَذَّبُوْہُ (پس انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا) اس بات میں جس میں ان کو ڈرایا گیا۔ کہ اگر تم یہ کر ڈالوگے۔ تو عذاب اتر پڑے گا۔ فَعَقَرُوْھَا (پھر اس اونٹنی کو مارڈالا) نحو : ھاؔ کی ضمیر اونٹنی کی طرف راجع ہے۔ اور فعل کی نسبت تمام قوم کی طرف کی گئی حالانکہ قاتل تو ایک تھا۔ اس کی نظیر دوسری آیت میں ہے۔ فنا دوا صاحبھم فتعاطی فعقر ] القمر : 29[ تو اس آیت نے بتلا دیا کہ اس میں ان تمام کی رضا مندی شامل تھی اس لئے نسبت فعل تمام کی طرف درست ہے۔ فَدَمْدَمَ عَلَیْھِمْ رَبُّھُمْ (تو ان کے رب نے ان پر ہلاکت نازل فرمائی) ان کو بالکل ملیا میٹ کردیا۔ بِذَنْچبِہِمْ (ان کے گناہ کے سبب) ان کے اپنے گناہ کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 16۔ یہ اونٹنی کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ثمود نے حضرت صالح سے ایک دن پہاڑ میں سے ایک حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا اور حضرت صالح کی دعاء سے حاملہ اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس کے پیٹ سے بچہ بھی پیدا ہوا۔ ثمود کے شہر میں پانی کی کشش تھی اس واسطے حضرت صالح نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیاکرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پیا کریں جس کنویں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ اس کا نام ثمود نے اونٹنی والا کنواں رکھ دیا تھا صالح نے باری جو ٹھہراثی تھی اسی باری کے دن کسی طرح کی شرارت کرنے سے حضرت صالح نے ثمود کو ڈرایا ہے جس کا ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس انہوں نے اپنے نبی حضرت صالح کو جھٹلایا (فَعَقَرُوْهَا 1 فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ ) پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔ یعنی ان کو برباد کردیا اور سب کو عذاب کی لپٹ میں لے لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھار اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گانہ جواب دینے والا۔ ( فَسَوّٰىهَا) ان پر اس بستی کو برابر کردیا۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

(11) قوم ثمود کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلا دیا اپنے رسول کو اور ہلاک کردیا اس اونٹنی کو، تو اس کے نتیجے میں ان کے رب نے ان پر تباہی نازل فرما دی اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پیوند خاک کردیا، سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جرم سے رضا مندی اس میں شرکت کے مترادف ہوتی ہے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان میں سے ایک ہی شخص نے کیا تھا جس کا نام قدار بن سالف تھا، لیکن چونکہ اس نے یہ کام ان سب کی رضا ورغبت کے مطابق کیا تھا، اس لیے اس کی نسبت ان سب کی طرف فرمائی گئی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ جرم سے رضا کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 20 اونٹنی کو اگرچہ تنہا قدار بن سالف نے مارا لیکن چونکہ اسے پوری قوم کی پشت پناہی حاصل تھی بلکہ اس نے قوم ہی کے مطالبہ پر اونٹنی کو مارا تھا، اسلئے سبھی لوگ مجرم گردانے گئے اور یوں کہا گیا کہ ” انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:14) فکذبوہ فعقروھا :تعقیب کا ہے۔ پس۔ سو، ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع حضرت صالح (علیہ السلام) ہیں۔ عقروا ماضی جمع مذکر غائب عقر (باب ضرب) مصدر سے۔ عقر بمعنی کونچیں کاٹنا۔ کونچیں کہتے ہیں پاؤں کے پٹھوں کو جو پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں۔ عرب کا دستور تھا کہ اونٹ کو حلال کرنا ہوتا تو پہلے اس کی کونچیں کاٹتے تاکہ بھاگ نہ جائے۔ پھر اس کو نحر کرتے۔ (یعنی حلال کرتے) ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ناقۃ (اونٹنی) ہے۔ فدمدم علیہم ربھم بذنبھم :تعقیب کا ہے دمدم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب دمدمۃ (فعللۃ) مصدر سے۔ جس کے معنی ہیں ہلاک کرنا۔ غلبہ ہونا۔ اس نے الٹ مارا۔ اس نے تباہی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 14–15

خواہشات نفسانی کی پیروی اور انبیاء کرام کی نافرمانی سے ہلاکت و بربادی۔ (ف 1) دیکھو نفس کو سرکش بنانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قوم ثمود نے اپنے پیغمبر کی تکذیب کی اس قوم میں جب سب سے زیادہ بدبخت مخالفت پیغمبر آمادہ ہواحقیقت میں خواہش نفسانی کا اتباع کرتے کرتے مباحات سے تجاوز کرکے فسق پر نوبت پہنچتی ہے جب فسق حد سے زیادہ گذرجاتا ہے تو اس کی شامت سے طبعیت کفر کی طرف مائل ہوجاتی ہے اور جس وقت نفس غالب ہوجاتا ہے تو کسی عمدہ سے عمدہ نصیحت کرنے والے کی نصیحت مفید نہیں ہوتی، دیکھو جب قوم ثمود نے سرکشی کی تو اللہ کے رسول نے ان کو سمجھایا اور کہا یہ اللہ کی اونٹنی ہے اس سے تعرض نہ کرو، اس کے پانی کے حصے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–15

[7] اگرچہ اونٹنی کو ایک آدمی نے ہلاک کیا تھا لیکن کیونکہ یہ فعل اس نے قوم کے مطالبے پر کیا تھا جیسا کہ سورة قمر میں مذکور ہے اس لئے پوری قوم ہلاک کردی گئی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 14–15

ف 1: قوم ثمود کا ذکر ہے کہ جب انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی مخالفت کی اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں ۔ حالانکہ انہوں نے پہلے سے کہہ رکھا تھا کہ تم اس کو پانی پینے سے نہ روکنا اور اسکا خیال رکھنا ۔ تو اللہ کا غضب بھڑکا اور ان کو پیغمبر ﷺ کی نافرمانی میں ہلاک کرڈالا اور اللہ اس نوع کے انجام سے قطعاً خائف نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سرکش اور نافرمان قوموں کا مٹ جانا ہی بہتر ہے ۔ حل لغات :۔ فالھمھا ۔ یہ الہام ، الہام فطرت ہے جس میں ساری نوع انسانی مساوی ہے ۔ جس کی وجہ سے نیکی اور برائی میں قلب امتیاز کرتا ہے ۔ دسھا ۔ دبا دیا ۔ گاڑ دیا قدمدم ۔ مسلسل ہلاکت نازل کی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(14) اس پر بھی انہوں نے پیغمبر یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا پھر ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر سخت ہلاکت نازل فرمائی اور اس ہلاکت کو سب پر یکساں کردیا - یعنی ہلاکت کو سب پر عام کردیا نہ کوئی صغیر بچا نہ کبیر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عذاب میں سب کو برابر کردیا اور سب کو مٹا دیا ہم نے صاحب مدارک سے لیا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ اس ہلاکت کے اخیر میں کسی خرابی نکلنے کا کا کسی سے اندیشہ نہیں ہوا جیسے ملوک دنیا کے بعض اوقات کسی قوم کو سزا دینے کے بعد احتمال ہوتا ہے کہ اس پر کوئی شورش و خلل ملکی مرتب نہ ہو، ثمود اور اونٹنی کا مفصل تذکرہ سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں 14 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ جس چیز سے ان کو صالح (علیہ السلام) نے منع کیا اس کو انہوں نے بڑے شوق و ذوق سے کیا اور آپ کی مخالفت میں وہ وہی کام کرنے پر تل گئے جس سے صالح (علیہ السلام) نے ان کو منع کیا تھا۔ (فعقروھا) عفر کے معنی ہیں اس نے کونچیں کاٹ دیں عفر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب۔ کونچیں کہتے ہیں پائوں کے پٹھوں کو جو پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں ۔ عربوں میں دستور تھا کہ جب وہ اونٹ کو ذبح کرتے تھے پہلے اس کی کونچیں کاٹ دیتے تاکہ وہ بھاگ نہ پائے پھر اس کو نحر کرتے تھے اور پھر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–15

فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَ‌بُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا (... so their Lord sent eradicating torment upon them, and made it equal for all. And He has no fear of its consequence....91:14). The word damdama refers to such tormenting scourge as is unleashed on a person or a nation again and again, until it destroys or crushes them completely. Fa-sawwaha signifies that the scourge overtook the entire nation, men, women, children, and young and old. In conclusion, the verse says: وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا 'Allah has no fear of its consequence'. It means that Divine torment that destroys a nation…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 According to Surah Al-A`raf: 77, after they had killed the she-camel, the people of Thamud said to the Prophet Salih: "Bring the scourge with which you threatened us." And according to Hud: 65, the Prophet Salih said to them: "Well, you have only three more days to enjoy yourselves in your houses This is a limit that will not prove false. "

Read the full tafseer →