Ash-Shams 91:13

Ash-Shams · from ayah 13

91:13

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقْیٰهَا ۟ؕفَقَالَ لَهُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَسُقۡيٰهَا

تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the messenger of Allah [Salih] said to them, "[Do not harm] the she-camel of Allah or [prevent her from] her drink."

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:13

تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اوراُس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہیں اللہ کے رسول نے فرما دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری کی (حفاﻇت کرو)

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو اللہ کے پیغمبر نے ان سے کہا کہ : خبردار ! اللہ کی اونٹنی کا اور اس کے پانی پینے کا پورا خیال رکھنا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ان سے اللہ کے رسول نے فرمایا اللہ کے ناقہ اور اس کی پینے کی باری سے بچو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان سے اﷲ کے رسول نے فرمایا: اﷲ کی (اس) اونٹنی اور اس کو پانی پلانے (کے دن) کی حفاظت کرنا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ان سے اللہ کے رسول نے کہا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری (کا خیال رکھو)۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو اللہ کے رسول نے انہیں کہا : اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری (کے معاملہ میں بچو)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو اللہ کے رسول نے آگاہ کیا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری سے خبر دار !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو کہہ دیا تھا ان سے اللہ کے رسول نے کہ (خیال رکھنا اور) بچ کر رہنا اللہ کی اونٹی اور اس کے پانی پینے کی باری سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں سے اللہ کے رسول نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے سے خبردار رہنا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا کہ (خبردار !) یہ اللہ کی اونٹنی ہے اور یہ اس کے پانی پینے کا دن ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اللہ کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار رہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Then Allah's Messenger warned them: “Hands off the she-camel and her drink!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, the Messenger of Allah said to them, :Be careful of Allah‘s she-camel and her right to drink.

— Muhammad Taqi Usmani

So, the Messenger of Allah said to them, :Be careful of Allah‘s she-camel and her right to drink.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But the Messenger of Allah said to them: "Be cautious! That is the she-camel of Allah! (Do not harm it) and (bar it not from having) its drink!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the messenger of Allah said: It is the she-camel of Allah, so let her drink!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the messenger of Allah [Salih] said to them, "[Do not harm] the she-camel of Allah or [prevent her from] her drink."

— Saheeh International

The Messenger of God told them, "This is a she-camel, belonging to God. Do not deprive her of her share of water".

— Muhammad Sarwar

So Allah's apostle said to them (Leave alone) Allah's she-camel, and (give) her (to) drink.

— Muhammad Habib Shakir

Then the apostle of Allah said Unto them: beware of the she-camel of Allah and her drink.

— Abdul Majid Daryabadi

But the Messenger of Allah said to them: "It is a She-camel of Allah! And (bar her not from) having her drink!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 91:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–15

آل ثمود کی تباہی کے اسباب : اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بطغواھا کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہوگئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہوگیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں اسی کے بارے میں فرمان ہے فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقرثمودیوں کی آواز پر یہ آگیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–13

سورة الشَّمْس 7 اوپر آیات میں جن باتوں کو اصولاً بیان کیا گیا ہے اب انہی کی وضاحت ایک تاریخی نظیر سے کی جا رہی ہے۔ یہ کس بات کی نظیر ہے اور اوپر کے بیان سے اس کا کیا تعلق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے دوسرے بیانات کی روشنی میں ان دو بنیادی حقیقتوں پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے جو آیات 7 تا 10 میں بیان کی گئی ہیں۔ اولاً ان میں فرمایا گیا ہے کہ نفس انسانی کو ایک ہموار و مستقیم فطرت پر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کا فجور اور اس کا تقوی اس پر الہام کردیا۔ قرآن اس حقیقت کو بیان کرنے کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فجور وتقوی کا یہ الہامی علم اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہر شخص خود اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–13

ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا، یعنی بامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا۔ تزکیہ کے اصلی معنے باطنی پاکی کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرلیا اور محروم ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل میں دھنسادیا لفظ دسی، دس سے مشتق ہے جس کے معنے زمین میں دفن کردینے کے ہیں کما قال تعالیٰ ام ید سہ فی التراب اور بعض مفسرین نے یہاں زکی اور دسی دونوں میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع کرکے معنے یہ کئے ہیں کہ بامراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا، اور نامراد و محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’فَقَالَ لَہُمْ رَسُوۡلُ اللہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیَاہَا‘۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے دیکھا کہ فی الواقع یہ بدبخت عذاب کی دیوار توڑ دینے پر تل ہی گیا ہے تو انھوں نے آخری تنبیہ فرمائی کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کی پانی پینے کی باری سے خبردار رہیو، ورنہ عذاب الٰہی آ دھمکے گا۔ ’نَاقَۃَ اللّٰہِ‘ کا نصب بربنائے تحذیر ہے۔ یعنی یہاں کوئی فعل محذوف مانیں گے جو آگاہ اور خبردار کر دینے کے معنی میں ہو گا۔ فعل کے حذف کر دینے میں یہ بلاغت ہے کہ سامع کی پوری توجہ اصل بات پر مرکوز کر دی جائے۔ کسی خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے یہ اسلوب ہماری زبان بلکہ ہر زبان میں موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یعنی اس اونٹنی کو کوئی نقصان نہ پہنچائے، اسی طرح اس کے لئے پانی پینے کا جو دن ہو، اس میں بھی گڑ بڑ نہ کی جائے، اونٹنی اور قوم ثمود دونوں کے لیے پانی کا ایک دن مقرر کردیا گیا تھا اس کی حفاظت کی تاکید کی گئی لیکن ان ظالموں نے اس کی پروا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 9–13

2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورة الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 11–15

کذبت ثمود ................................ عقبھا قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی خبردار اس کو قتل نہ کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا۔ پانی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ بظاہر اسی سبب سے وہ اس کے قتل پر آمادہ ہوئے تھے۔ اور " اللہ کی اونٹنی " اس اعتبار سے کہا کہ اللہ نے اس کو حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت کا ایک نشان بنایا تھا۔ اور اس کا احترام واجب کیا تھا۔ یہ قصہ پہلے " اعراف " وغیرہ میں گزر چکا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13{ فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـہَا۔ } ”تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا کہ خبردار ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے اور یہ اس کے پانی پینے کا دن ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 ذکر قوم ثمود :۔ انہیں اللہ کے رسول یعنی صالح (علیہ السلام) نے پہلے ہی تاکید کردی تھی کہ اللہ کی اس اونٹنی کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا۔ اور اسے اللہ کی اونٹنی اس لیے کہا کہ یہ ان کا منہ مانگا معجزہ تھا اور قدآور اور عظیم الجثہ اونٹنی ایک پہاڑ کے اندر سے ان کے مطالبہ پر نمودار ہوئی تھی۔ چونکہ یہ اونٹنی ان لوگوں کے مویشیوں جتنا پانی اکیلی ہی پی جاتی تھی اور پانی کی وہاں قلت بھی تھی۔ لہذا صالح (علیہ السلام) نے باری مقرر کردی تھی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی تاکید کردی تھی کہ اس کے پانی پینے اور اور باری کے معاملہ میں کسی طرح کی گڑ بڑ نہ کرنا ورنہ تم پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا اور یہ قصہ پہلے متعدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

7۔ یعنی اسے قتل نہ کرنا اور پانی پینے سے نہ روکنا۔ (آیت) ” ناقۃ اللہ “۔ یعنی اونٹنی جو اللہ کی طرف سے ایک دلیل نبوت کا کام دے رہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 13–15

فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) کی قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) سے ایک معجزہ کی فرمائش کی، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس کی برکت سے پہاڑ سے ایک دس مہینہ کی گابھن اونٹنی نکلی اور اس نے بچہ دیا، حضرت صالح (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اس اونٹنی کا خیال رکھنا اس کو نقصان نہ پہنچانا ورنہ عذاب الٰہی نازل ہوجائے گا ایک دن پانی پینے کی اس کی باری ہوگی اور ایک دن تمہارے سب جانوروں کی، لیکن ان ظالموں نے اس کی پروانہ کی اور قد اربن سالف نامی ایک شخص کو اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے لئے آمادہ کرلیا اور اس سخص نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقال لھم رسول اللہ . پس ان سے اللہ تعالیٰ کے رسول یعنی حضرت صالح نے فرمایا۔ ناقۃ اللہ . اللہ کی (غیبی) اونٹنی کو چھوڑ دو اور اس کو قتل کرنے سے ڈرو۔ اللہ کی طرف ناقہ کی اضافت سے اونٹنی کی عظمت کو ظاہر کرنا اور سخت ڈرانا مقصود ہے۔ و سقیھا . اور اونٹنی کے پانی پینے سے بھی تعرض نہ کرو۔ پانی پر سے اس کو واپس نہ کرو اور دکھ پہنچانے کے لیے اس کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ ورنہ عذاب عظیم میں گرفتار ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–13

(11۔ 13) قوم ثمود نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے حضرت صالح کو جھٹلایا جب کہ اس قوم کے سب سے بڑے بدبخت یعنی قدار بن سالف اور مسدع بن مصر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ کونچیں کاٹنے سے پہلے حضرت صالح نے فرمایا کہ اللہ کی اس اونٹنی کو اسی طرح رہنے دو اور اس کے پانی پینے میں خلل اندازی مت کرو چناچہ انہوں نے حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور پھر اس اونٹنی کو مار ڈالا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(فقال لھم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیھا :”ناقۃ اللہ“ (اللہ کی اونٹنی) فعل محذوف ”اتقوا“ کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ نسبت اس اونٹنی کے شرف اور خصوصیت کی وجہ سے ہے، (جیسے ”بیت اللہ“ میں ہے) ورنہ سب اونٹنیاں اللہ ہی کی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 11–14

طغوی سے مراد طغیانی ہے، اس کا معنی نافرمانی میں حد سے نکل جاتا ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے حضرت ابن عباس سیمروی ہے، طغوی سیمراد وہ عذاب ہے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو عذاب ان پر آیا تھا اس کا نام طغوی تھا، کیونکہ عذاب ان پر سرکش ہوگیا تھا، محمد بن کعب نے کہا، طغواھا کا معنی ہے سب کے سب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر ہے اس طریقہ پر اسے اس لیے لایا گیا کیونکہ آیات کے سروں کے اعتبار سے یہ زیادہ موافق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی اصل طغیاھا ہے مگر جب فعلی اسمی ہو تو اس کی یاء کو واؤ سے بدل دیتے ہیں تاکہ اسم اور وصف کے درمیان فرق کیا جائے، عام قراءت طاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–14

31۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت کذبت ثمود بطغوہا اور ثمود نے اپنی سرکشی سے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا کے بارے میں روایت کیا کہ و عذاب جو قوم ثمود پر آیا اس کا نام طغویٰ تھا۔ پھر فرمایا کہ قوم ثمود نے اپنے عذاب کو جھٹلایا۔ 32۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کو ذبح کیا۔ اور فرمایا آیت اذانبعث اشقہا جبکہ ان کا بڑا بدبخت اٹھا۔ یعنی اس کے لیے ایک بدخلق آدمی اٹھا جو اپنی جماعت میں ابو زمعہ کی مثل قوی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ : تو کہا ان لوگوں سے اللہ کے رسول (علیہ السلام) نے ][ نَاقَةَ اللّٰهِ : (محتاط رہو) اللہ کی اونٹنی سے ][ وَسُقْيٰهَا : اور اس کے پینے (کی باری ) سے ] (آیت۔ 13) ۔ نَاقَۃَ اللّٰہِ میں نَاقَۃَ کی نصب بتارہی ہے کہ اس کا فعل محذوف ہے جو کہ اِحْذَرُوْا (تم لوگ محتاط رہو) ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْيٰهَاؕ0013﴾ (تو اللہ کے رسول یعنی صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی اونٹنی سے اور اس کے پانی سے دور رہنا اس کے پانی پینے کو چھوڑے رکھو) ۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ ” فقال لہم “ ناقۃ، منصوب علی التحذیر ہے ای احذروا عقر ناقۃ اللہ (روح) ۔ سقییٰ ، پانی کا حصہ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اللہ کی اونٹنی کو قتل کرنے اور اس کے پانی کے حصے کو حاصل کرنے سے احتراز کرو ورنہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہایت دردناک عذاب سے ہلاک کردئیے جاؤ گے۔ یا ” ناقۃ اللہ “ سے پہلے احفظوا مقدر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پانی کی باری کی حفاظت کرو (الشیخ (رح) تعالی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–15

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگیا جس نے تزکیہ حاصل کرلیا اور وہ ناکام ہوا جس نے نفس کو مٹی میں ملا دیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے جو مختلف چیزیں پید ا کی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ارادہ ہے جس کی بنا پر انسان عمل کرتا ہے۔ اگر ارادہ اچھا ہو تو اچھے کام انجام پاتے ہیں او اگر ارادہ اور نیت بری ہو ، تو برے کام سر زد ہوتے ہیں۔ یہ ارادہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اسباب پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا۔ صرف خدا تعالیٰ ” خالق کل شیء “ ہی اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ چاند ، سورج ، دن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَالَ لَہُمْ رَسُوْلُ اللہِ نَاقَۃَ اللہِ وَسُقْيٰہَا۝ 13 ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] وقال : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفاً [ المرسلات/ 1] ( ر س ل )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–15

ترکیب ¦ بطغوھا الباء للسببیۃ الطغویٰ فعلی من الطغیان والوا ومبدلۃ من یاء مثل التقویٰ ومن قال طغوت کانت الواو اصلا۔ ثمود فاعل کذبت والجار فی بطغوھا یتعلق بکذبت اذا ظرف لکذبت او للطغویٰ انبعث مطاوع بعث یقال بعثت فلانا علی الامر فانبعث لہ ومعناہ انتدب لذلک وقام بہ ناقۃ اللہ منصوب بفعل محذوف ای ذرواناقۃ اللہ او احذروا وسقیاھا معطوف علیہ والاضافۃ فی ناقۃ اللہ للتشریف کبیت اللہ فدمدم فی الصحاح ومدمت الشیء اذا الزقعۃ بالتراب والدمدمۃ تضعیف العذاب یقال دمدمت علی الشیء ای اطبقت علیہ دمدم علیہ القبر ای اطبقہ فسوھا والضمیریعودالی الدمدمۃ ای فسؤی الدمدمۃ علیھم وعمھم بھا فا شتملت علی صغیرھم وکبیرھم وقیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–15

کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْـٰوھَـآ۔ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـھَا۔ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـھَا۔ فَـکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا 5 ص لا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰھَا۔ وَلاَ یَخَافُ عُقْبٰـھَا۔ (الشمس : 11 تا 15) (ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جبکہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے زیادہ بدبخت۔ تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار۔ مگر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر ایسی آفت توڑی کہ ان کا ستھرائو کردیا۔ اور وہ نہیں ڈرتا ان کے تباہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : نفس کو خاک آلود کردینے والے لوگوں کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو، میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13 : فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ (تو ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے فرمایا) رسول اللہ سے صالح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ نَاقَۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی اونٹنی سے خبر دار رہنا) نحو : یہ تحذیر کی وجہ سے منصوب ہے اے احذروا عقرھا۔ اس کی کونچیں کاٹنے سے خبردار رہو۔ وَسُقْیٰھَا (اور اس کے پانی پینے سے) یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں الاسد الاسد۔ نحو : سابقہ فعل پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13 ۔” فقال لھم رسول اللہ “ صالح (علیہ السلام) نے ” ناقۃ اللہ “ یعنی تم اللہ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے ڈرو اور زجاج (رح) فرماتے ہیں منصوب ہے اس معنی کی بناء کہ تم چھوڑ دو اللہ کی اونٹنی کو ” ذرواناقۃ اللہ “…” وسقیاھا “ اس کے پانی کی باری کو۔ یعنی تم اللہ کی اونٹنی کو چھوڑ دو اور اس کے پانی پینے کی باری کو۔ پس تم اس کے پانی پینے کے دن میں چھیڑ چھاڑ نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–15

11۔ 16۔ یہ اونٹنی کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ثمود نے حضرت صالح سے ایک دن پہاڑ میں سے ایک حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا اور حضرت صالح کی دعاء سے حاملہ اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس کے پیٹ سے بچہ بھی پیدا ہوا۔ ثمود کے شہر میں پانی کی کشش تھی اس واسطے حضرت صالح نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیاکرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پیا کریں جس کنویں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ اس کا نام ثمود نے اونٹنی والا کنواں رکھ دیا تھا صالح نے باری جو ٹھہراثی تھی اسی باری کے دن کسی طرح کی شرارت کرنے سے حضرت صالح نے ثمود کو ڈرایا ہے جس کا ان آیتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ ) تو اللہ کے رسول، یعنی صالح نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ( وَسُقْيٰهَا) یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ نے تمہارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 13–14

(11) قوم ثمود کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلا دیا اپنے رسول کو اور ہلاک کردیا اس اونٹنی کو، تو اس کے نتیجے میں ان کے رب نے ان پر تباہی نازل فرما دی اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پیوند خاک کردیا، سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جرم سے رضا مندی اس میں شرکت کے مترادف ہوتی ہے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان میں سے ایک ہی شخص نے کیا تھا جس کا نام قدار بن سالف تھا، لیکن چونکہ اس نے یہ کام ان سب کی رضا ورغبت کے مطابق کیا تھا، اس لیے اس کی نسبت ان سب کی طرف فرمائی گئی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ جرم سے رضا کی بنا پر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 19 اس کی تفصیل سورة شعر میں یہ بیان ہوئی : قال ھذہ نافۃ لھا شرب ولکم شرب یوم معلوم (صالح نے) کہا کہ یہ اونٹنی ہے۔ ایک دن اس کے پانی پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔ “ (آیت :155)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:13) ناقۃ اللہ وسقیھا۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں۔ فعل محذوف ہے ای فقال لہم رسول اللہ ذروا او احذ رواناقۃ اللہ وسقیھا خدا کے رسول نے ان سے (قوم ثمود سے) کہا۔ خدا کی اونٹنی کو اور اس کے پانی پینے کو نہ چھڑو۔ یعنی نہ تو اس کو کسی قسم کی جسمانی گزند پہنچاؤ اور نہ اس کی پانی پینے کی باری کو چھیڑو۔ سقیا : سقی سے اسم ہے۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مضاف الیہ اس کا پانی پینا۔ اس کو پانی پلانا۔ اس کے پانی پینے کا انتظام یا طریقہ کار۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 9–13

طریقہ فلاح ونجات کیا ہے ؟ (ف 2) اس میں کوئی شک نہیں کہ فراغ اور نجات اسی کے واسطے ہے جو نفس کو پاکیزہ بنائے گناہوں کی نجاست سے پاک کرے اور توبہ صدق دل سے کرکے نیک کاموں میں مشغول ہو، یہ بات جب ہی حاصل ہوتی ہے کسی پیر متبع شریعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مجاہدہ میں مشغول ہوتا ہے بغیر اس کے نفس کا پاکیزہ رہنا بہت مشکل ہے افسوس ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کو علم تصوف کا شوق نہیں رہا بلکہ شوق بالکل جاتا ہی رہا، وہابیت اور نیچریت کے دریا ایسے موج زن ہوگئے کہ لوگوں کے دلوں سے تصوف کا شوق دھودیا، اب اتباع سنت اسی کا نام ہے کہ نفس کو بےقید رکھاجائے اور اس پر دین داری کا وہ گھمنڈ ہے کہ تمام دنیا کو بےایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–13

[6] یہ ہے وہ بات جن پر ان چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی، دن کا اجالا اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اسی طرح نفس انسانی میں نیکی اور بدی کے متقابل احساسات ودیعت فرمائے اور الہامی طور سے ان دونوں کا فرق سمجھا دیا۔ پھر جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات، آسمان اور زمین ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح نفس کی پرہیزگاری اور بدکرداری ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں۔ لیکن بھلائی اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–13

کامیاب کون ہے ؟ سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مظاہر فطرت کو پیش فرمایا ہے کہ تم ان پر غور کرو اور بتاؤ کہ انسان کو منصہ شہود پر لانے کا مقصد کیا ہے ۔ آفتاب کو دیکھو اور دھوپ ملاحظہ کرو چاند کو دیکھو جب کہ وہ غروب آفات کے بعد اس کی جگہ بقع ارض کو نور وضیا بخشتا ہے ۔ دن کو دیدہ عمق سے دیکھو جب کہ خدا اس کو لوگوں کے لئے جلوہ گر کرتا ہے ۔ رات کو دیکھو جب کہ وہ آفتاب کی روشنی پر چھاجاتی ہے ۔ آسمان کی بلندیوں کو دیکھو اور اس ذات کے متعلق سوچو جس نے اس کو پیدا کیا ہے ۔ زمین کو دیکھو اور یہ ملاحظہ کرو کہ اس ذات نے کیونکر اس کو ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ پھر نفس انسانی کی منزلوں کی طرف نظریں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(13) اس پر اللہ کے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی سے اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار رہنا - اونٹنی چونکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک نشان تھا اس لئے اس کی شرافت کی وجہ سے اس کو ناقتہ اللہ کہا جیسے کعبہ کو بیت اللہ کہتے ہیں، یہ تشریفی اضافت ہے اور چونکہ پانی کے لئے جو باری مقرر تھی وہ باری کا تقرر ہی قوم کی ناگواری کا سبب تھا اس لئے اس کو تصریحاً فرمایا۔ وسقیھا مطلب یہ تھا کہ اونٹنی کو اور اس کی باری کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا ورنہ تم کو خدا کا عذاب گھیر لے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–13

ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کے رسول صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری کا خیال کرو 13 ؎ صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس اونٹنی کو جس پر وہ تبلیغ کا کام کرتے تھے قوم کے لیے ایک نشان قرار دے دیا اور یہ بات آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ارشاد فرمائی تھی اور اس اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی قرار دیا اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم مسجد کو اللہ کا گھر ، اوقاف کو وقف اللہ ، غربا و مساکین کے لیے خرچ کرنے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی طرح اس اونٹنی کو جس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک نشانی بتایا گیا ، اللہ کی اونٹنی قرار دیا ہے اور اس کی اونٹنی کے پانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–13

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is 'inner cleanliness', signifying 'he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.' Verse [ 10] signifies 'he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived'. The word dassa is derived from the basic word dass' which denotes 'to bury in the ground' as for instance it occurs elsewhere in the Qur'an, thus: أَمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 At other places in the Qur'an the following details, are given: The people of Thamud challenged the Prophet Salih to present a sign (a miracle) if he was truthful. Thereupon the Prophet presented a she-camel miraculously before them and warned them to the effect: "This is Allah's she-camel. She will graze at will in the land. One day will be for her to drink and one day for you and your cattle. If you molest her, you will be punished with a scourge." This proved to be a deterrent for some time. Then they appealed to their most wicked and rebellious, chief to put an end to the she-camel, and…

Read the full tafseer →