اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا ۟اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰٮهَا
جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the most wretched of them was sent forth.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا ۟اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰٮهَا
جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا
— Fateh Muhammad Jalandhari
When the most wretched of them was sent forth.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھا
جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا
جب ان میں کا بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا
جب ان کا سب سے سنگدل شخص اٹھ کھڑا ہوا۔
جبکہ اس کا سب سے بدبخت اٹھ کھڑا ہوا،
جبکہ ان میں سے ایک بڑا بد بخت اٹھا،
جب اس کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا۔
جبکہ ان کا سب سے بڑا بدبخت بپھر اٹھا
جب کہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بد بخت
جب کہ بپھر کر اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بدبخت شخص
جب کہ اس (قوم) کا سب سے بڑا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا۔
جب اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے شقی انسان۔ م
جب ان میں سے ایک نہایت بد بخت اٹھا
when their arch-criminal rose up in rage.
when rose up the one who was most wretched of them.
when rose up the one who was most wretched of them.
When their most wicked went forth.
When the basest of them broke forth
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
When the most wretched of them was sent forth.
when the most corrupt of them incited them (to commit evil).
When the most unfortunate of them broke forth with
What time the greatest wretch of them rose up.
Behold, the most wicked man among them was deputed (for impiety).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–15
آل ثمود کی تباہی کے اسباب : اللہ تعالیٰٰ بیان فرما رہا ہے کہ ثمودیوں نے اپنی سرکشی، تکبر و تجبر کی بناء پر اپنے رسول کی تصدیق نہ کی۔ محمد بن کعب فرماتے ہیں بطغواھا کا مطلب یہ ہے کہ ان سب نے تکذیب کی لیکن پہلی بات ہی زیادہ اولیٰ ہے، حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ نے بھی یہی بیان کیا ہے، اس سرکشی اور تکذیب کی شامت سے یہ اس قدر بدبخت ہوگئی کہ ان میں سے جو زیادہ بد شخص تھا وہ تیار ہوگیا اس کا نام قدار بن سالف تھا اسی نے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں اسی کے بارے میں فرمان ہے فنادوا صاحبھم فتعاطی فعقرثمودیوں کی آواز پر یہ آگیا اور اس نے اونٹنی کو مار ڈالا، یہ شخص اس قوم میں ذی عزت تھا شریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
سورة الشَّمْس 7 اوپر آیات میں جن باتوں کو اصولاً بیان کیا گیا ہے اب انہی کی وضاحت ایک تاریخی نظیر سے کی جا رہی ہے۔ یہ کس بات کی نظیر ہے اور اوپر کے بیان سے اس کا کیا تعلق ہے، اس کو سمجھنے کے لیے قرآن مجید کے دوسرے بیانات کی روشنی میں ان دو بنیادی حقیقتوں پر اچھی طرح غور کرنا چاہیے جو آیات 7 تا 10 میں بیان کی گئی ہیں۔ اولاً ان میں فرمایا گیا ہے کہ نفس انسانی کو ایک ہموار و مستقیم فطرت پر پیدا کر کے اللہ تعالیٰ نے اس کا فجور اور اس کا تقوی اس پر الہام کردیا۔ قرآن اس حقیقت کو بیان کرنے کے ساتھ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ فجور وتقوی کا یہ الہامی علم اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ ہر شخص خود اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
ان سات قسموں کے بعد جواب قسم میں فرمایا قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا، یعنی بامراد ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کرلیا۔ تزکیہ کے اصلی معنے باطنی پاکی کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اطاعت کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرلیا اور محروم ہوا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو گناہوں کی دلدل میں دھنسادیا لفظ دسی، دس سے مشتق ہے جس کے معنے زمین میں دفن کردینے کے ہیں کما قال تعالیٰ ام ید سہ فی التراب اور بعض مفسرین نے یہاں زکی اور دسی دونوں میں ضمیر فاعل اللہ کی طرف راجع کرکے معنے یہ کئے ہیں کہ بامراد ہوا وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا، اور نامراد و محروم ہوا وہ جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہوں…
Read the full tafseer →’إِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاہَا‘۔ یہ ان کے طغیان کی تفصیل ہے۔ ’اَشْقٰی‘ سے اشارہ ثمود کے لیڈر قدار کی طرف ہے جس کی شقاوت پوری قوم کی تباہی کا سبب ہوئی۔ ’انبعاث‘ کے معنی اٹھنے اور کمربستہ ہونے کے ہیں اور اس سے مراد اس کا اس جرم کے لیے کمربستہ ہونا ہے جس نے پوری قوم پر قہر الٰہی کے دروازے کھول دیے۔ اس اجمال کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔۱ جب قوم ثمود کے پیغمبر۔۔۔ حضرت صالح۔۔۔ نے لوگوں کو عذاب سے ڈرایا تو قوم نے سرکشی کے سبب سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو اس عذاب کی کوئی نشانی دکھا دی جائے ورنہ وہ ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان کے مطالبہ پر ایک اونٹنی نامزد کر دی…
Read the full tafseer →12۔ 1 جس کا نام مفسرین قدار بن سالف بتلاتے ہیں سب سے بڑا شقی اور بدبخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
2: نفس کو پاکیزہ بنانے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کے دل میں جو اچھی خواہشات اور اچھے جذبات پیدا ہوتے ہیں، انہیں ابھار کر اس پر عمل کرے اور جو بری خواہشات اور جذبات پیدا ہوتے ہیں انہیں دبائے اسی طرح مسلسل مشق کرتے رہنے سے نفس پاکیزہ ہو کر وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جس کا ذکر سورة الفجر کی آخری آیتوں میں گذرا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
کذبت ثمود ................................ عقبھا قوم ثمود اور ان کے نبی حضرت صالح علہی السلام کی کہانی قرآن مجید میں کئی مقامات پر آتی ہے۔ ہر مقام پر ہم نے اس پر بات کی ہے اور ابھی سورة الفجر میں ، اسی پارے میں یہ کہانی گزری ہے۔ تفصیلات ان مقامات پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں صرف یہ کہا گیا ہے کہ قوم ثمود نے صرف اپنی سرکشی کی وجہ سے اپنے نبی کی تکذیب کی۔ اور اس سرکشی کے سوا کوئی اور جواز اس کے لئے نہ تھا۔ واقعہ یوں ہوا کہ ان میں سے ایک نہایت ہی شقی القلب شخص اٹھا اور اس نے ناقتہ اللہ کو قتل کردیا۔ یہ شخص ان میں نہایت سنگدل اور سرکش تھا کہ وہ اس قدر عظیم جرم کے ارتکاب کے لئے تیار ہوگیا۔ حالانکہ ان…
Read the full tafseer →5 یہ بدبخت قذاربن سالف تھا۔
Read the full tafseer →آیت 12{ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰٹہَا۔ } ”جب اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے شقی انسان۔“ م وہ شخص اپنی قوم کے لوگوں کے کہنے پر اس اونٹنی کو ہلاک کرنے پر کمربستہ ہوگیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس قوم کے مطالبے پر بطور معجزہ پیدا کیا تھا۔
Read the full tafseer →11 یہ قوم کا سب سے زیادہ بدبخت شخص کون تھا ؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ عبداللہ بن زمعہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں صالح پیغمبر کی اونٹنی اور اس شخص کا ذکر کیا جس نے اس اونٹنی کو زخمی کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو بدبخت اس کام کے لیے تیار ہوا وہ ایک جری، شریر اور مضبوط شخص (قدار بن سالف) تھا جو اپنی قوم میں ابو زمعہ کی طرح تھا (بخاری۔ کتاب التفسیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
6۔ (مخالفت رسول اور قتل ناقہ پر) قوم ثمود، پیغمبر صالح (علیہ السلام) ۔ ناقہ صالح، سب پر حاشیے سورة الاعراف (پ 8) میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
فالھمھا فجور ھا وتقوھا الہام کا مطلب یا تو یہ ہے کہ انہیں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ سے خیر و شر کی پہچان کرا دی، یا مطلب یہ ہے کہ ان کی عقل و فطرت میں خیر و شر، نیکی اور بدی کا شعور ودیعت فرما دیا، تاکہ وہ نیکی کو اختیار کریں اور بدی سے اجتناب کریں۔
Read the full tafseer →اذا نبعث اشقھا . یعنی ثمود نے (عملی) تکذیب اس وقت کی جب ان میں سے سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ انبعاث کا معنی ہے تعمیل امر کے لیے جلد تیار ہوجانا۔ قتل کا مشورہ قوم والوں نے دیا تھا ‘ اللہ نے خود فرمایا ہے : فتادوا اصاحبھم ......۔ اس شخص کا نام قذار بن سالف تھا۔ اس کا رنگ سرخ ‘ آنکھیں نیلی اور قد چھوٹا تھا اور چونکہ دوسروں نے صرف مشورہ دیا تھا اور یہ قتل کا ذمہ دار بن گیا اس لیے اس کی بدبختی دوسروں سے بڑھ گئی۔ بخاری (رح) نے حضرت عبداللہ ؓ بن زمعہ کی خود شنید روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوران خطبہ میں ناقہ کا اور اس کو قتل کرنے والے کا تذکرہ کیا اور فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) قوم ثمود نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے حضرت صالح کو جھٹلایا جب کہ اس قوم کے سب سے بڑے بدبخت یعنی قدار بن سالف اور مسدع بن مصر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ کونچیں کاٹنے سے پہلے حضرت صالح نے فرمایا کہ اللہ کی اس اونٹنی کو اسی طرح رہنے دو اور اس کے پانی پینے میں خلل اندازی مت کرو چناچہ انہوں نے حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور پھر اس اونٹنی کو مار ڈالا۔
Read the full tafseer →(اذا نبعث اشقھا : جن لوگوں کے مویشی زیادہ تھے ان پر یہ پابندی بہت شاق گزری اور انہوں نے اس اونٹنی کو کاٹ ڈالنے پر اتفاق کرلیا، مگر اس کا کام کا بیڑا ان کے سب سے بڑے بدبخت نے اٹھایا۔ تاریخ اور شعر عرب میں اس کا نام قدار بن سالف بیان کی اگیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
طغوی سے مراد طغیانی ہے، اس کا معنی نافرمانی میں حد سے نکل جاتا ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے حضرت ابن عباس سیمروی ہے، طغوی سیمراد وہ عذاب ہے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو عذاب ان پر آیا تھا اس کا نام طغوی تھا، کیونکہ عذاب ان پر سرکش ہوگیا تھا، محمد بن کعب نے کہا، طغواھا کا معنی ہے سب کے سب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر ہے اس طریقہ پر اسے اس لیے لایا گیا کیونکہ آیات کے سروں کے اعتبار سے یہ زیادہ موافق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی اصل طغیاھا ہے مگر جب فعلی اسمی ہو تو اس کی یاء کو واؤ سے بدل دیتے ہیں تاکہ اسم اور وصف کے درمیان فرق کیا جائے، عام قراءت طاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
31۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت کذبت ثمود بطغوہا اور ثمود نے اپنی سرکشی سے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا کے بارے میں روایت کیا کہ و عذاب جو قوم ثمود پر آیا اس کا نام طغویٰ تھا۔ پھر فرمایا کہ قوم ثمود نے اپنے عذاب کو جھٹلایا۔ 32۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کو ذبح کیا۔ اور فرمایا آیت اذانبعث اشقہا جبکہ ان کا بڑا بدبخت اٹھا۔ یعنی اس کے لیے ایک بدخلق آدمی اٹھا جو اپنی جماعت میں ابو زمعہ کی مثل قوی…
Read the full tafseer →[اِذِ انۢبَعَثَ : جب اٹھ کھڑا ہوا ][ اَشْقٰىهَا : ان کا زیادہ شقی ] نوٹ۔ 4: آیات۔ 12 ۔ اور 14 ۔ پر غور کرنے سے ایک خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ اونٹنی کے قتل کا ارتکاب قوم کے اندر سے ایک ہی شخص نے کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا مجرم پوری قوم کو ٹھہرایا اور اس کی سزا بھی پوری قوم کو دی۔ اس سے قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے جرم میں پوری قوم کو سزا دیتا ہے اگر قوم اس جرم پر راضی ہو۔ اس کے وبال سے صرف وہی لوگ بچتے ہیں جو اپنے مقدور بھر اس کی اصلاح کے لیے جو کرسکتے ہوں وہ کر گزریں اور اگر کچھ نہ کرسکتے ہوں تو ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس سے بیزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
﴿كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ0011﴾ (قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے جھٹلایا) یعنی ان کی سرکشی نے انہیں اس پر آمادہ کردیا کہ اللہ کے رسول کی تکذیب کردی اور اللہ کی توحید اللہ کی عبادت کی طرف جو انہوں نے بلایا اس میں انہوں نے ان کو جھوٹا بتادیا، وہ لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) سے جھگڑتے رہے ان سے کہا کہ اگر تم نبی ہو تو پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ جب پہاڑ سے اونٹنی برآمد ہوگئی تو اب اس کے قتل کرنے کے لیے مشورے کرنے لگے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتادیا تھا کہ دیکھو ایک دن تمہارے کنویں کا پانی یہ اونٹنی پیے گی اور ایک دن تمہارے جانور پئیں گے اور یہ بھی بتادیا کہ اسے برائی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
6:۔ ” کذبت ثمود “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” طغوی “ سرکشی، نافرمانی میں حد سے نکل جانا۔ ای بطغیانہا وھو خروجہا عن الحد فی عصیان قالہ مجاد وقتادۃ وغیرھما (قرطبی ج 20 ص 78) اور باء سببیہ ہے (روح) ۔ قوم ثمود نے سرکشی کی وجہ سے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ اذنبعث اشقاہا جب کہ ان میں کا سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے اٹھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ وہ کامیاب ہوگیا جس نے تزکیہ حاصل کرلیا اور وہ ناکام ہوا جس نے نفس کو مٹی میں ملا دیا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اللہ نے جو مختلف چیزیں پید ا کی ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے دل میں مختلف خیالات پیدا ہوتے ہیں انسانیت کا خلاصہ اور نچوڑ ارادہ ہے جس کی بنا پر انسان عمل کرتا ہے۔ اگر ارادہ اچھا ہو تو اچھے کام انجام پاتے ہیں او اگر ارادہ اور نیت بری ہو ، تو برے کام سر زد ہوتے ہیں۔ یہ ارادہ کس طرح پیدا ہوتا ہے۔ اس کے اسباب پر کوئی حاوی نہیں ہو سکتا۔ صرف خدا تعالیٰ ” خالق کل شیء “ ہی اس پر حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ چاند ، سورج ، دن…
Read the full tafseer →اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىہَا 12 بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
ترکیب ¦ بطغوھا الباء للسببیۃ الطغویٰ فعلی من الطغیان والوا ومبدلۃ من یاء مثل التقویٰ ومن قال طغوت کانت الواو اصلا۔ ثمود فاعل کذبت والجار فی بطغوھا یتعلق بکذبت اذا ظرف لکذبت او للطغویٰ انبعث مطاوع بعث یقال بعثت فلانا علی الامر فانبعث لہ ومعناہ انتدب لذلک وقام بہ ناقۃ اللہ منصوب بفعل محذوف ای ذرواناقۃ اللہ او احذروا وسقیاھا معطوف علیہ والاضافۃ فی ناقۃ اللہ للتشریف کبیت اللہ فدمدم فی الصحاح ومدمت الشیء اذا الزقعۃ بالتراب والدمدمۃ تضعیف العذاب یقال دمدمت علی الشیء ای اطبقت علیہ دمدم علیہ القبر ای اطبقہ فسوھا والضمیریعودالی الدمدمۃ ای فسؤی الدمدمۃ علیھم وعمھم بھا فا شتملت علی صغیرھم وکبیرھم وقیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْـٰوھَـآ۔ اِذِ انْبَعَثَ اَشْقٰـھَا۔ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیٰـھَا۔ فَـکَذَّبُوْہُ فَعَقَرُوْھَا 5 ص لا فَدَمْدَمَ عَلَیْہِمْ رَبُّھُمْ بِذَنْبِہِمْ فَسَوّٰھَا۔ وَلاَ یَخَافُ عُقْبٰـھَا۔ (الشمس : 11 تا 15) (ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا۔ جبکہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے زیادہ بدبخت۔ تو اللہ کے رسول نے ان لوگوں سے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے خبردار۔ مگر انھوں نے اس کو جھٹلا دیا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر ایسی آفت توڑی کہ ان کا ستھرائو کردیا۔ اور وہ نہیں ڈرتا ان کے تباہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
فہم القرآن ربط کلام : نفس کو خاک آلود کردینے والے لوگوں کا انجام۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) مبعوث فرمائے گئے۔ صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وہی فرمایا جو ان سے پہلے انبیاء کرام فرمایا کرتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے ڈرایا اور بار بار سمجھایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں، اللہ تعالیٰ نے جو امانت میرے ذمہ لگائی ہے اسے نہایت ذمّہ داری اور دیانتداری کے ساتھ تم تک پہنچا رہا ہوں اور تم میری امانت ودیانت سے واقف ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رسول ہونے کی حیثیت سے میری تابعداری کرو، میں اپنی تابعداری اور نبوت کے کام پر تم سے کسی…
Read the full tafseer →12 : اِذِا نْچبَعَثَ اَشْقٰھَا (جب کہ اس قوم میں جو سب سے بڑا بدبخت تھا اٹھ کھڑا ہوا) انبعثؔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کیلئے کھڑا ہوا۔ اشقیٰ ثمود کے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا۔ اس کا رنگ زرد، نیلا، قد چھوٹا۔ نحو : اذا یہ کذّبَتْ کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ بطغوٰی کی وجہ سے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →12 ۔” اذا نبعث اشقاھا “ یعنی کھڑا ہوا اور ” انبعاث “ طاعت میں جلدی کرنا کسی وجہ سے۔ یعنی انہوں نے عذاب کو جھٹلایا اور صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ اس وجہ سے کہ ان میں سے بدبخت کھڑا ہوا اور وہ قدار بن سالف ہے وہ سرخ وزرد رنگ والا نیلی آنکھوں والا، چھوٹے قد کا تھا، کھڑا ہوا، اونٹنی کی کونچیں کاٹنے، عبداللہ بن زمعہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اور آپ (علیہ السلام) نے اونٹنی اور اس کی کونچیں کاٹنے والے کا ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اذا نبعث اشقاھا “ اس کے لئے ایک قوی شخص بدخلق اپنے اہل میں غالب، ابوزمعہ کی مثل کھڑا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 16۔ یہ اونٹنی کا قصہ تفصیل سے سورة اعراف میں گزر چکا ہے حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ ثمود نے حضرت صالح سے ایک دن پہاڑ میں سے ایک حاملہ اونٹنی کے پیدا ہونے کا معجزہ چاہا اور حضرت صالح کی دعاء سے حاملہ اونٹنی پیدا ہوئی اور پھر اس کے پیٹ سے بچہ بھی پیدا ہوا۔ ثمود کے شہر میں پانی کی کشش تھی اس واسطے حضرت صالح نے یہ بات ٹھہرا دی تھی کہ ایک روز وہ اونٹنی پانی پیاکرے اور ایک روز لوگوں کے جانور پیا کریں جس کنویں سے یہ اونٹنی پانی پیتی تھی ‘ اس کا نام ثمود نے اونٹنی والا کنواں رکھ دیا تھا صالح نے باری جو ٹھہراثی تھی اسی باری کے دن کسی طرح کی شرارت کرنے سے حضرت صالح نے ثمود کو ڈرایا ہے جس کا ان آیتوں…
Read the full tafseer →(اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا) یعنی قبیلے کا بدبخت ترین شخص، قدار بن سالف، اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس جرم پر اتفاق کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(9) تاریخی شہادت کا حوالہ و ذکر : سو اوپر آفاقی اور نفسی دلائل کے ذکر کے بعد اب اس کی تائید کے لیے تاریخ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس کی شہادت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر یعنی انہوں نے جھٹلایا اپنے رسول اور اس پیغام حق و ہدایت کو جس کے نتیجے میں بالآخر وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، والعیاذ باللہ۔ سو یہ برائی کے برے انجام کی ایک تاریخی نظیر ہے کہ بدبخت قوم کو اس کی اپنی سرکشی اور بدچلنی کی بنا پر ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور اس طرح کہ اب اس کا کوئی نام و نشان تک باقی نہیں رہا، اب ان کو صرف قصوں کہانیوں اور وعظوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
“18 یعنی اس نے اونٹنی کو ٹھکانے لگانے کا بیڑا اٹھایا۔ اس کا نام عموماً مفسرین نے قدار بن سالف بتایا ہے۔
Read the full tafseer →(91:12) اذا نبعث اشقھا : اذ ظرف زمان ہے کذبت کا یا طغوی کا۔ انبعث بعث کی انفعالی حالت کو ظاہر کرنے کے لئے باب انفعال سے لایا گیا ہے۔ کسی فعل کو رضا مندی اور فرمانبرداری سے کرنا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انبعاث (افعال) مصدر سے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ اشقھا : اشقی افعل التفضیل کا صیغہ۔ بڑا بدبخت۔ شقادۃ سے جس کے معنی بدبختی کے ہیں۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ کا مرجع قوم ثمود ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا بدبخت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
طریقہ فلاح ونجات کیا ہے ؟ (ف 2) اس میں کوئی شک نہیں کہ فراغ اور نجات اسی کے واسطے ہے جو نفس کو پاکیزہ بنائے گناہوں کی نجاست سے پاک کرے اور توبہ صدق دل سے کرکے نیک کاموں میں مشغول ہو، یہ بات جب ہی حاصل ہوتی ہے کسی پیر متبع شریعت کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر مجاہدہ میں مشغول ہوتا ہے بغیر اس کے نفس کا پاکیزہ رہنا بہت مشکل ہے افسوس ہے کہ اس زمانے میں لوگوں کو علم تصوف کا شوق نہیں رہا بلکہ شوق بالکل جاتا ہی رہا، وہابیت اور نیچریت کے دریا ایسے موج زن ہوگئے کہ لوگوں کے دلوں سے تصوف کا شوق دھودیا، اب اتباع سنت اسی کا نام ہے کہ نفس کو بےقید رکھاجائے اور اس پر دین داری کا وہ گھمنڈ ہے کہ تمام دنیا کو بےایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
[6] یہ ہے وہ بات جن پر ان چیزوں کی قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئیں۔ اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی، دن کا اجالا اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اسی طرح نفس انسانی میں نیکی اور بدی کے متقابل احساسات ودیعت فرمائے اور الہامی طور سے ان دونوں کا فرق سمجھا دیا۔ پھر جس طرح سورج اور چاند، دن اور رات، آسمان اور زمین ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح نفس کی پرہیزگاری اور بدکرداری ایک دوسرے سے مختلف اور اپنے آثار و نتائج میں متضاد ہیں۔ لیکن بھلائی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
کامیاب کون ہے ؟ سورۃ الشمس میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مظاہر فطرت کو پیش فرمایا ہے کہ تم ان پر غور کرو اور بتاؤ کہ انسان کو منصہ شہود پر لانے کا مقصد کیا ہے ۔ آفتاب کو دیکھو اور دھوپ ملاحظہ کرو چاند کو دیکھو جب کہ وہ غروب آفات کے بعد اس کی جگہ بقع ارض کو نور وضیا بخشتا ہے ۔ دن کو دیدہ عمق سے دیکھو جب کہ خدا اس کو لوگوں کے لئے جلوہ گر کرتا ہے ۔ رات کو دیکھو جب کہ وہ آفتاب کی روشنی پر چھاجاتی ہے ۔ آسمان کی بلندیوں کو دیکھو اور اس ذات کے متعلق سوچو جس نے اس کو پیدا کیا ہے ۔ زمین کو دیکھو اور یہ ملاحظہ کرو کہ اس ذات نے کیونکر اس کو ہمارے پاؤں تلے بچھایا ہے ۔ پھر نفس انسانی کی منزلوں کی طرف نظریں…
Read the full tafseer →(12) جب کہ اس قوم میں جو سب سے زیادہ بدبخت تھا وہ اٹھ کھڑا ہوا - یعنی جو اونٹنی بطور معجزہ حضرت صالح (علیہ السلام) کو دی گئی اور جس کی حفاظت کا سخت حکم تھا اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے قذار بن سالف جو اشقی قوم کا تھا وہ کھڑا ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–13
ف 1۔ یعنی اس کو قتل مت کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا، چونکہ ارادہ قتل کا اصل سبب یہی پانی کی باری تھی اس لئے اس کی تصریح فرمائی، اور اللہ کی اونٹنی اس لئے کہا کہ خدائے تعالیٰ نے اس کو دلیل نبوت بنادیا اور اس کے احترام کو واجب فرمایا۔
Read the full tafseer →جب ان میں سے ایک بد بخت اٹھ کر کھڑا ہو گیا 12 ؎ قوم نے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور پھر جھٹلاتی ہی چلی گئی اور انجام کار قانون الٰہی حرکت میں آیا اور وہ مہلت جو صالح (علیہ السلام) کی قوم کو دی گئی تھی اس کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا تو اس نے یعنی صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو اطلاع کردی کہ میری یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے پھر میں تبلغ کا کام کرتا ہوں کہ اگر تم نے اس کو چنگے چرنے کی اجازت دی اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائی تو تم اپنی جگہ کام کرتے رہو گے لیکن اگر تم نے اس اونٹنی کو قتل کیا تو گویا تم نے عذاب الٰہی کو دعوت دے دی اور جس نے عذاب الٰہی کو دعوت دی کیا اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿9﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿10﴾ (success is really attained by him who purifies it, and failure is really suffered by him who pollutes it....91:10). This is the subject of the seven oaths. The primitive meaning of tazkiyah is 'inner cleanliness', signifying 'he who obeyed Allah and purified his inner and outer selves.' Verse [ 10] signifies 'he who caused his soul to sink in the swamp of sins will be deprived'. The word dassa is derived from the basic word dass' which denotes 'to bury in the ground' as for instance it occurs elsewhere in the Qur'an, thus: أَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
7 The things stated in principle in the above verses, are now being explained by as historical precedent or what it is a precedent and how it relates to what has been stated above, one should consider well in .the. light of the other statements of the Qur'an the two basic truths which have been expressed in w. 7-10. Firstly, in these it has been stated that attar creating the human self on balanced and sound nature, Allah inspired it with its fujur and its tagva. The Qur'an along with stating this truth also makes explicit that this inspirational knowledge of fujur and tagva is not enough for…
Read the full tafseer →