Al-A'laa 87:19

Al-A'laa · from ayah 19

87:19

صُحُفِ اِبْرٰهِیْمَ وَمُوْسٰی ۟۠صُحُفِ اِبۡرٰهِيۡمَ وَمُوۡسٰى

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The scriptures of Abraham and Moses.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'laa

All translations of 87:19

ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

— مولانا فتح محمد جالندہری

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کی کتابوں میں

— مولانا محمد جوناگڑہی

ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جو) ابراہیم اور موسٰی (علیہما السلام) کے صحائف ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ اور ابراہیم کے صحیفوں میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

(یعنی) ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کے صحیفوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) ابراہیم اور موسیٰ (e) کے صحیفوں میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں

— محترمہ رفعت اعجاز

the Scrolls of Abraham and Moses.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the scripts of Ibrahim and Musa.

— Muhammad Taqi Usmani

the scripts of Ibrahim and Musa.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Scriptures of Ibrahim and Musa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The scriptures of Abraham and Moses.

— Saheeh International

the Scriptures of Abraham and Moses.

— Muhammad Sarwar

The scriptures of Ibrahim and Musa.

— Muhammad Habib Shakir

Writs of Ibrahim and Musa.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 87:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 14–19

جس نے صلوۃ کو بروقت ادا کیا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس نے رذیل اخلاق سے اپنے تئیں پاک کرلیا احکام اسلام کی تابعداری کی نماز کو ٹھیک وقت پر قائم رکھا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کی خوشنودی طلب کرنے کے لیے اس نے نجات اور فلاح پالی رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے وحدہ لا شریک ہونے کی گواہی دے اس کے سوال کسی کی عبادت نہ کرے اور میری رسالت کو مان لے اور پانچوں وقت کی نمازوں کی پوری طرح حفاظت کرے وہ نجات پا گیا (بزار) ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس سے مراد پانچ وقت کی نماز ہے حضرت ابو العالیہ نے ایک مرتبہ الو خلدہ سے فرمایا کہ کل جب عید گاہ جاؤ تو مجھ سے ملتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْلٰی 18 یہ دوسرا مقام ہے جہاں قرآن میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ کے صحیفوں کی تعلیم کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے پہلے سورة نجم رکوع 3 میں ایک حوالہ گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–19

ان ھذا لفی الصحف الاولی۔ صحف ابراہیم وموسی، یعنی اس سورت کے سب مضامین یا آخری مضمون یعنی آخرت کا بہ نسبت دنیا کے خیر اور بقیٰ ہونا پچھلے صحیفوں میں بھی موجود تھا جسکا بیان آگے یہ فرمایا کہ حضرت ابراہیم اور موسیٰ ؑ کے صحیفوں میں یہ مضومن تھا، حضرت موسیٰ ؑ کو تورات سے پہلے کچھ صحیفے بھی دیئے گئے تھے وہ مراد ہیں اور ہوسکتا ہے کہ صحف موسیٰ سے تورات ہی مراد ہو۔ صحف ابراہیمی کے مضامین آجری نے حضرت ابوذرغفاری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ابراہیم ؑ کے صحیفے کیسے اور کیا تھے آپ نے فرمایا کہ ان صحیفوں میں امثال عبرت کا بیان تھا، ان میں سے ایک مثال میں ظالم بادشاہ کو مخاطب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

قرآن کی تعلیم تمام نبیوں کی تعلیم ہے: یعنی پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہیں بتا رہے ہیں یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں ہے۔ تمام اگلے نبیوں اور رسولوں نے بھی یہی تعلیم دی ہے کہ اصل زندگی آخرت ہی کی زندگی ہے اور وہاں آدمی کا اپنا ہی عمل کام آئے گا، کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ سورۂ نجم میں یہی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے: أَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوسٰی ۵ وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَٰٓی ۵ أَلَّا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی (النجم ۵۳: ۳۶-۳۸) ’’کیا اس کو اس تعلیم کی خبر نہیں ملی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے اور ابراہیم کے جس نے ہر بات پوری کر دکھائی کہ کوئی جان بھی کسی دوسری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–19

17۔ 1 کیونکہ دنیا اور اس کی ہر چیز فانی ہے، جبکہ آخرت کی زندگی دائمی اور ابدی ہے، اس لئے عاقل فانی چیز کو باقی رہنے والی پر ترجیح نہیں دیتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–19

ان ھذا ............................ موسیٰ اس سورت میں جو مضامین آئے ہیں وہ اس عظیم عقیدہ کے بنیادی اصول ہیں اور یہ وہی بنیادی اصول دعوت ہیں اور اصول دین ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کتابوں اور صحیفوں میں مذکور ہوئے تھے۔ یہ کہ سچائی ایک ہے ، عقیدہ ایک ہے ، اصول دین ایک ہے یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب ادیان ایک اللہ کی طرف سے ہیں۔ وہ ایک ہی ارادہ اور مشیت ہے جس نے ابراہیم اور مولیٰ (علیہما السلام) کو اور پھر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کا ارادہ کیا ہے۔ سچائی ایک ہے ، تو اس کا سرچشمہ بھی ایک ہے۔ ہاں ادیان میں فروعی اختلاف ہیں لیکن وہ اس لئے کہ شریعت و قانون میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 18–19

10 یعنی یہ مضمون (" قد افلح من تزکی " سے یہاں تک) اگلی کتابوں میں بھی مذکور ہے۔ جو کسی وقت منسوخ نہیں ہوا، نہ بدلہ گیا، اس اعتبار سے اور زیادہ مؤکدہ ہوگیا۔ (تنبیہ) بعض روایات ضعیفہ میں ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر " تورات " کے علاوہ دس صحیفے نازل ہوئے تھے خدا جانے کہاں تک صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ صُحُفِ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی۔ } ”یعنی ابراہیم اور موسیٰ e کے صحیفوں میں۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے صحائف تو آج بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں ‘ البتہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف کا آج بظاہر کہیں نشان نہیں ملتا۔ اس حوالے سے میری رائے یہ ہے اور میں اپنی اس رائے کا اظہار قبل ازیں بھی متعدد بار کرچکا ہوں کہ ہندوئوں کے اپنشد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحائف ہی کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

12 یعنی جو صحائف سیدنا ابراہیم کو عطا ہوئے اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات سے پہلے عطا ہوئے (جو کہ بعض اقوال کے مطابق دس دس تھے) ان میں یہ مضمون قد افلح سے خیر وابقی تک مذکور تھا۔ یہ مضمون نہ کبھی منسوخ ہوا اور نہ بدلا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–19

11۔ صحف موسیٰ (علیہ السلام) سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل شدہ اصلی صحیفے ہیں۔ یعنی یہ جزاء وسزا اخروی کا مضمون کچھ آج کا نوپیدا نہیں، حضرات انبیاء کے ذریعہ سے جو تعلیمات الہی دنیا کو پہنچی ہیں، یہ اس کا جزوہمیشہ رہا ہے۔ (آیت) ” صحف ابرھیم “۔ ابراہیمی نوشتے بھی آج اسی طرح گم ہیں، جس طرح گم ہیں، جس طرح اور بہت سے انبیاء کے صحیفے۔ البتہ 1892 ء ؁ میں، ام، آرجیمس نے یونانی زبان سے ایک قدیم ” صحفیہ ابراہیمی “۔ کا ترجمہ کیمبرج سے شائع کیا تھا، اور پھر اور بھی یورپی زبانوں میں اس کے ایڈیشن نکلے تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی (آیت) ” وموسی “۔ صحف موسیٰ (علیہ السلام) سے مراد وہی اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–19

فذکر ان نفعت الذکری یعنی وعظ و نصیحت وہاں کریں کہ جہاں محسوس ہو کہ نصیحت فائدہ مند ہوگی، یہ وعظ و نصیحت کا ایک اصول اور ادب بیان فرما دیا۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

صحف ابراہیم و موسیٰ ۔ الصحف الاولٰی سے بدل بعض ہے۔ بزار نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب آیت : ان ھذا لفی الصحف الاولٰی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ سب ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں تھا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ : اِنَّ ھٰذَا میں اس تمام مضمون کی طرف اشارہ ہے جو اس سورت میں بیان کیا گیا ہے۔ بعض احناف نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز کے اندر فارسی زبان میں قرآن پڑھنا جائز ہے کیونکہ اللہ نے بقدر تیسیر قرآن پڑھنے کا نماز میں حکم دیا ہے ‘ پھر یہ بھی فرمایا کہ : ان ھذا الفی الصحف الاولٰی اور انہ لفی زبر الاوّلین اور ظاہر ہے کہ قرآن کی یہ عربی عبارت تو گزشتہ آسمانی کتابوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–19

(16۔ 19) بلکہ یہ لوگ آخرت پر دنیوی زندگی اور اس کے صلہ کو فوقیت دیتے ہیں، حالانکہ ثواب آخرت دنیوی ثواب سے بدرجہا بہتر اور پائیدار ہے، یہ مضمون جو قد افلح سے بیان کیا ہے یہ پہلے لوگوں کی کتابوں میں ہے، یعنی حضرت ابراہیم کے صحیفوں میں اور موسیٰ کی توریت میں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 16–19

(بل توثرون الحیوۃ الدنیا…: فرمایا، آخرت کی بھلائی کے کاموں میں تم اس لئے کوتاہی کرتے ہوئے کہ دنیا کے مشغلوں کو چھوڑنا تمہیں شاق گزرتا ہے، حالانکہ تم اسے نہ بھی چھوڑو گے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گی، کیونکہ وہ باقی رہنے والی نہیں ہے اور اگر آخرت کو اختیار کرلو گے تو وہ تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گی، پھر سوچ لو کسے ترجیح دینی چاہیے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

صحف ابراھیم وموسی۔ سے مراد وہ کتابیں ہیں جو ان پر نازل ہوئیں، ان سے یہ مراد نہیں کہ بعینہ یہی الفاظ ان صحیفوں میں تھے بلکہ مقصود معنی ہے یعنی ان کلام کا معنی ان صحیفوں میں تھا، آجری نے حضرت ابوذر سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے عرض کی یارسول اللہ، صحف ابراہیم سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا، وہ سب امثال تھیں اے بادشاہ جس نے تسلط جمایا ہوا ہے آزمائش میں مبتلا ہے اور دھوکہ میں ڈالا گیا ہے میں نے تجھے اس لیے دنیا میں نہیں بھیجا کہ تو دنیا کو ایک دوسرے کے اوپر جمع کرے بلکہ میں نے تجھے اس لیے بھیجا ہے کہ تو مظلوم کی دعا کی مجھ سے لوٹائے میں اس کی دعا کو نہیں لوٹاؤں گا اگرچہ وہ کافر کے منہ سے نکلے اس سے مراد…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 18–19

84۔ البزار وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی صحف ابراہیم وموسی۔ بیشک یہی پہلے صحفیوں میں ہے یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سب ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔ 85۔ سعید بن منصوروعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت ان ہذا لفی الصحف الاولی کے بارے میں روایت کیا کہ یہ سورة ابراہیم اور موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفوں میں ہے۔ اور ابن مردویہ کے الفاظ ہیں اور یہ سورة اللہ تعالیٰ کا یہ قول و ابراہیم الذی وفی (النجم آیت 37) سورة کے آخر تک ابراہیم اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى: ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 18–19

﴿اِنَّ هٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى ۙ0018 صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَ مُوْسٰى (رح) 0019﴾ (بلاشبہ یہ ان صحیفوں میں ہے جو پہلے نازل کیے گئے جو ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفے تھے) ۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ ھٰذَا کا ارشاد ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى ۙ0014﴾ سے لے کر ﴿ وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ؕ0017﴾ تک جو مضامین بیان ہوئے ان سب کی طرف ہے۔ صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت ابوذر ؓ سے ایک حدیث نقل کی ہے جس کے آخر میں یہ ہے کہ انہوں نے خدمت عالی میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا ابراہیم اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیفوں میں سے آپ پر کچھ نازل ہوا ہے آپ نے فرمایا : ہاں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–19

10:۔ ” ان ھذا “ یہ دونوں دعو وں پر دلیل نقلی ہے۔ مسئلہ توحید جس طرح اس سورت میں مذکور ہے اور دنیا کی بےثباتی اور آخرت کے دوام وبقاء کا مضمون اسی طرح یہ دونوں مضمون پہلے آسمانی صحیفوں یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیہما الصلوۃ والسلام کے صحیفوں میں بھی مذکور تھے۔ ” صحف ابراہیم وموسی “ الصحف، الاولی سے بدل ہے۔ سورة الاعلی میں آیات توحید 1 ۔ ” سبح اسم ربک الاعلی “ تا ” فجعلہ غثاء احوی “۔ نفی شرک فی التصرف 2 ۔ ” انہ یعلم الجھر وما یخفی “۔ نفی شرک فی العلم سورة اعلی ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 14–19

(گذشتہ سے پیوستہ ) سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا ذکر ہوا اور اس کی صفات کمال کا بیان ہوا۔ اس کے بعد انسان کی طبعی ضرورت ہدایت اور اس کے حصول کے ذرائع کا تذکرہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مثال کے ذریعہ سمجھایا کہ جس طرح جانوروں کے لیے اللہ نے چارے کا بندوبست کیا ہے ۔ اسی طرح نوع انسانی کے لیے ہدایت کا انتظام بھی کردیا ہے ۔ اس کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم آپ کو کتاب یعنی قرآن پاک اس طرح پڑھا دیں گے کہ آپ بھولیں گے نہیں ۔ البتہ جو چیز اللہ تعالیٰ خود بھلا دینا چاہیں گے وہ آپ کی یاداشت سے خارج کردی جائیگی اور آپ کو حکم ہوا ۔ کہ آپ تبلیغ کا حق ادا کرتے رہیں ۔ لوگوں کو نصیحت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

صُحُفِ اِبْرٰہِيْمَ وَمُوْسٰى۝ 19 ۧ صحف الصَّحِيفَةُ : المبسوط من الشیء، کصحیفة الوجه، والصَّحِيفَةُ : التي يكتب فيها، وجمعها : صَحَائِفُ وصُحُفٌ. قال تعالی: صُحُفِ إِبْراهِيمَ وَمُوسی [ الأعلی/ 19] ، يَتْلُوا صُحُفاً مُطَهَّرَةً فِيها كُتُبٌ قَيِّمَةٌ [ البینة/ 2- 3] ، قيل : أريد بها القرآن، وجعله صحفا فيها كتب من أجل تضمّنه لزیادة ما في كتب اللہ المتقدّمة . والْمُصْحَفُ : ما جعل جامعا لِلصُّحُفِ المکتوبة، وجمعه : مَصَاحِفُ ، والتَّصْحِيفُ : قراءة المصحف وروایته علی غير ما هو لاشتباه حروفه، والصَّحْفَةُ مثل قصعة عریضة . ( ص ح) الصحیفۃ کے معنی پھیلی ہوئی چیز کے ہیں جیسے صحیفۃ الوجہ ( چہرے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 14–19

ترکیب ¦ بل اضراب عن کلام مقدر یدل علیہ السیاق ای انتم لا تفعلون ذلک بل تو ثرون اللذات الفانیۃ العاجلۃ الحاصلۃ فی الدنیا علی الدار الآخرۃ ونعماھا الباقیۃ والآخرۃ مبتداء خیر وابقی خبر والجملۃ حال من فاعل تو ثرون ‘ صحف ابراھیم اللخ بدل من الصحف الاولیٰ ۔ تفسیر ¦ کفار دنیا پرست کہتے تھے کہ ہم کو تزکیہ اور ذکر اور نماز میں کوئی فلاح نہیں معلوم ہوتی کیا ہم عقل و ادراک نہیں رکھتے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے یا یوں کہو کہ وہ بھی تزکیہ کے مدعی تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے تمہیں عقل و ادراک کیا نہیں بل بلکہ تم تؤثرون الحیوۃ الدنیا دنیا کی چند روزہ زندگانی اور اس کے لذات فانیہ کو آخرت اور اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–19

اِنَّ ھٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰی۔ صُحُفِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی۔ (الاَعلٰی : 18، 19) (بیشک یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی ہے۔ (یعنی) ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ ) ایک ہی حقیقت کی سب کو تلقین کی گئی یعنی آنحضرت ﷺ قریش اور دیگر مخالفین کو جن حقائق سے آگاہ فرما رہے ہیں وہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں۔ کیونکہ عام طور پر نئی باتیں جلدی قبول نہیں کی جاتیں، بلکہ یہ تو وہ حقائق ہیں جو ان صحیفوں میں بھی نازل کیے گئے تھے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کیے گئے اور آج بھی اسفارِتورات میں موجود ہیں۔ یہ دوسرا مقام ہے جہاں قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–19

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کے مقابلے میں جنتی لوگوں کا کردار۔ وہ شخص جہنم سے بچ جائے گا جس نے اپنے آپ کو پاک رکھا، اور اپنے رب کو یاد رکھا اور اس کے حضور پنجگانہ نماز ادا کرتارہا۔ ” تَزَکیّٰ “ سے پہلی مراد کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ گناہوں سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ آدمی فرض نماز ادا کرتا رہے اور ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھے۔ رب کو یاد کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ زبان سے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ “ پڑھے اور توبہ کا ورد کرتا رہے مگر عملی طور پر کفر و شرک اور نافرمانی کے کاموں میں مبتلا رہے۔ ذکر کا پہلا مقصد یہ ہے کہ ہر حال میں اپنے رب کے احکام کو یاد رکھے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : صُحُفِ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی (ابراہیم اور موسٰی کے صحیفوں میں) نحو : یہ صحف اولیٰ سے بدل ہے۔ صحف ِابراہیم و موسیٰ (علیہما السلام) : اثر : صحف ابراہیم (علیہ السلام) میں یہ بات تھی۔ عقل مند کیلئے مناسب ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اپنے زمانے کو پہچانے اور اس کی قدر کرے اور اپنی حالت کی درستی پر متوجہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” پھر صحیفوں کو بیان کرتے ہوئے فرمایا ” صحف ابراھیم و موسیٰ “ عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ سورت ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) کے صحیفوں میں تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان دو رکعتوں میں جن کے بعد وتر پڑھتے تھے۔ ” سبح اسم ربک الاعلیٰ “ اور ” قل یایھا الکافرون “ پڑھتے تھے اور وتر ” قل ھواللہ احد “ اور ” قل اعوذ برب الفلق “ اور ” قل اعوذ برب الناس “ پڑھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 14–19

14۔ 19۔ حاصل یہ ہے کہ جو شخص توحید پر قائم رہا اور اللہ کی یاد دل میں رکھ کر پانچوں وقت کی نماز اس نے ادا کی اس کے لئے عقبیٰ میں بلاشک بھلائی ہے اللہ کی یاد دل میں رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عبادت میں دنیا کا دکھاوا اور ریا کاری نہ ہو۔ بعض علماء نے اللہ کی یاد سے زبانی یاد لے کر وذکر اسم ربہ سے تکبیر تحریمہ کے فرض ہونے کا مطلب نکالا ہے مکی آیتوں میں فقط توحید اور نماز کا ذکر اس واسطے ہے کہ روزہ حج زکوٰۃ یہ چیزیں ہجرت کے بعد مدینہ کے قیام میں فرض ہوئی ہیں قد افلح من تزکی کی تفسیر بعض مفسروں نے صدقہ فطر سے جو کی ہے ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیت ان آیتوں میں سے جن کا نزول عمل سے پہلے ہے جیسے آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–19

(اِنَّ هٰذَا) بیشک یہ۔ یعنی وہ اوامر حسنہ اور اخبار محستحسنہ جو اس سورة مبارکہ میں تمہارے سامنے ذکر کیے گئے۔ ( لَفِي الصُّحُفِ الْاُوْلٰى۔ صُحُفِ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰى) پہلے صحیفوں میں ہیں۔ یعنی ابراہیم اور موسیٰ کے صحیفوں میں۔ جو دونوں محمد مصطفیٰ کے بعد تمام انبیا ومرسلین میں سب سے زیادہ شرف کے حامل رسول ہیں۔ پس یہ اوامر ہر شریعت میں موجود ہیں کیونکہ یہ دنیا اور آخرت کے مصالح کی طرف لوٹتے ہیں اور ہر زمان ومکان میں ان مصالح کی حاجت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–19

نماز کا افتتاح ذکر الٰہی سے ہو قول باری ہے (قد افلح من تزکی وذکر اسم ربہ فصلی۔ فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی) حضرت عمر ؓ بن عبدالعزیز اور ابوالعالیہ سے مروی ہے کہ ” وہ شخص فلاح پا گیا جس نے صدقہ فطر ادا کیا اور پھر عید کی نماز کے لئے نکل گیا۔ “ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز سے پہلے تم صدقہ فطرادا کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (وذکراسم ربہ فصلی ) سے تمام اذکار کے ذریعے نماز کے افتتاح کے جواز پر استدلال کیا جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(19) صحف ابراہیم و موسیٰ کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا یعنی " ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں "۔ جس سے اس کی عظمت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، اس لیے ان ہدایات و ارشادات کو دل و جان سے اپنانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس طرح دارین کی سعادت و سرخوئی سے سرفرازی نصیب ہوسکے، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے متعدد دوسرے نبیوں کے صحیفے اسفار تورات کی شکل میں موجود ہیں، اگرچہ تورات میں بہت کچھ تحریفات ہوچکی ہیں اور ان کی حیثیت تاریخ کی کتابوں سے زیادہ نہیں رہ گئی، تاہم ان سب میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 6–19

اللہ بہترین امتحان لینے والا ہے تشریح : نبی کریم ﷺ قرآن پاک کے ان الفاظ کو جو جبریل وحی کے ذریعے سناتے تھے اس خوف سے کہ وہ بھول نہ جائیں جلدی جلدی دہرانے لگتے اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی پاک ﷺ کو یقین دلایا کہ آپ وحی کو غور سے سنا کریں ہم خود ہی آپ کو یاد کرانے کا ذمہ لیتے ہیں آپ بےفکر رہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قرآن حرف بحرف آپ کے حافظہ میں محفوظ کردیا گیا تھا اور یہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے اس کے بعد اعمال کے بارے میں اور انسان کے انجام کے بارے میں ذکر ہے نیکی اور بدی ' اچھائی اور برائی ' سچائی اور جھوٹ ' روشنی اور اندھیرا ' کفر اور ایمان ' فرشتہ اور شیطان یہ شروع دن سے پیدا کئے گئے ہیں اور ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–19

سورة الاعلی۔ آیات 1 تا 19۔ اسرار ومعارف۔ اپنے پروردگار کے اعلی نام کی پاکی بیان کیجئے جس نے مخلوق کو عدم سے وجود بخشا کچھ بھی نہ تھا پھر سب کچھ پیدا فرمایا۔ مسئلہ : جب یہ آیہ مبارکہ نازل ہوئی تو آپ نے اسے سجدے کے لیے مقرر فرمایا۔ پھر تمام اجسام کو ایک انتہائی مناسب اندازے کے مطابق شکل و صورت دی اور جس کو جس کام کے لیے بنایا اسے اس کام کی استعداد بھی بخشی اور اس کی طرف میلان بھی عطا فرمایا۔ قدرت کا عطیہ۔ یہ سارے نظام کائنات میں مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ہر ذرے کو صورت ، شعور ، اور فطری کام کی استعداد عطا کرکے ایسا میلان بخشا کہ سوج ، چاند ، ستارے ، بادل ، ہوا ، جمادات ونباتات ہر ایک شے اپنے وقت…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(87:19) صحف ابراہیم و موسیٰ یہ بدل ہے الصحف الاولی سے یعنی منجملہ اور آسمانی کتابوں کے حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ (علیہما السلام) کے صحیفے بھی تھے ان میں بھی یہی مضمون مذکور ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–19

لغات القرآن۔ سنح۔ تسبیح کر۔ قدر۔ اندازہ کیا۔ المرعی۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ غثائ۔ کوڑا۔ کباڑ۔ احوی۔ سیاہ۔ نقری۔ ہم پڑھائیں گے۔ لا تنسی۔ تو نہ بھولے گا۔ یسری۔ آسانی۔ ذکر۔ سمجھا دے۔ ذکر کر۔ یتجنب۔ وہ بچے گا۔ الاشقی۔ بدنصیب۔ بدقسمت۔ افلح۔ کامیاب ہوا۔ تزکی۔ جس نے تزکیہ کیا۔ اپنے آپ کو پاک صاف کیا۔ تو ثرون۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ اختیار کرتے ہو۔ ابقی۔ باقی رہنے والا۔ تشریح : ان آیات ہی میں شروع سے لے کر آخر تک نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے خطاب کرے ہوئے چند بنیادی اصولوں کی تعلیم دی گئی ہے۔ فرمایا۔ ٭اے نبی ﷺ ! آپ اپنے اس پروردگار کی پاکیزگی یعنی حمدو ثنا بیان کرتے رہییے جو سب سے بلندو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 18–19

(ف 1) قد افلح من تزکی۔ سے یہاں تک ایسامضمون ہے کہ اس کی ترغیب خدا کی طرف سے ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں اور تورات میں بھی موجود ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–19

[11] یعنی آخرت دو حیثیتوں سے دنیا کے مقابلے میں قابل ترجیح ہے۔ ایک یہ کہ اس کی راحتیں اور لذتیں دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہیں اور دوسرے یہ کہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–19

ہمہ گیر صداقت 1: غرض یہ ہے کہ صداقت ہمہ گیر ہے ۔ ابراہیم اور موسیٰ (علیہم السلام) نے بیک آواز جو چیز اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کے سامنے پیش کی ، وہ یہ تھی کہ کامیابی اسی شخص کے مقدر ہے جو پاکباز ہے ۔ جو خیال وفکر سے لے کر اعمال وجوارح تک پاکیزگی اور تقویٰ کو اپنا شعار بنالیتا ہے ۔ جس کا قلب پاک ہے ۔ جس کا خیال پاک ہے ۔ جس کا استدلال شوائب ضلالت سے پاک ہے اور جس کا عمل خلوص اور پاکیزگی ہے ۔ جو ہر آن اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اپنی عقیدت ونیاز مندی کے جذبات کا اظہار کرتا ہے ۔ یعنی وہ جس کو ذوق عبادت بےقرار کردیتا ہے اور مجبور کرکے اس کے حضور میں کھڑا کردیتا ہے ۔ جس کی جبین اس کے آستانہ جلال پر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) جو ابراہیم (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفے ہیں - یعنی قدافلح من تزکیٰ سے لے کر خیر وابقی تک صرف قرآن ہی کا دعویٰ اور مضمون نہیں بلکہ پہلے اوراق اور گزشتہ صحائف میں بھی یہ مضمون ذکر کیا گیا ہے ان صحائف سے مراد حضرت الراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف ہیں۔ حضرت ابوذر ؓ نے دریافت کیا یارسو اللہ ﷺ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی ایسی چیز بھی نازل فرمائی ہے جس کا سابقہ صحائف میں ذکر ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا قدافلح من تزکیٰ سے پڑھ یہاں تک انہوں نے آخر آیت تک پڑھا۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہے آپ عام طریقہ سے وتروں میں سو رہ اعلیٰ اور سو رہ کافرون اور سورة قل ہو اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–19

ف 5۔ روح المعانی میں عبد بن حمید کی روایت سے حدیث مرفوع مذکور ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر دس صحیفے نازل ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر قبل توراة کے دس۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں 19 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) پر جو صحائف اترے وہ تورات کی شکل میں موجود ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) پر جو صحائف نازل ہوئے ان کا علیحدہ کچھ پتہ نہیں چلتا ہاں تو رات ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک عرصہ بعد نازل ہوئی ہے اس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کی تعلیم ذکر کردی گئی ہو تو یہ دوسری بات ہے جیسے قرآن کریم میں تورات اور انجیل کا بہت سا حصہ آچکا ہے اگرچہ تصحیف شدہ تورات اور اناجیل کا کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو ان اصل کتابوں میں بھی موجود ہے اگرچہ ان کے ماننے والوں نے اس میں بہت تحریف کردی ہے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا ذکر اس جگہ قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 18–19

إِنَّ هَـٰذَا لَفِي الصُّحُفِ الْأُولَىٰ صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ (Indeed this is [ written ] in the earlier divine scripts, the scripts of Ibrahim and Musa....87:18, 19] In other words, either all the themes of this Surah or its last theme, that the Hereafter is much better and much more durable than this life, was written in the earlier Divine scriptures. It is further explicated that this theme was written in the scriptures of Prophets Ibrahim and Musa (علیہما السلام) . Probably, it refers to other scriptures that were given to Prophet Musa (علیہ السلام) before Torah. It is also…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18 This is the second place in the Qur'an where reference has been made to the teachings of the Books of the Prophets Abraham and Moses. The first reference was trade in section 3 of Surah An-Najm above.

Read the full tafseer →