Explained with ayahs 1–7
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت
غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…
Read the full tafseer →سورة الْغَاشِیَة 1
مراد ہے قیامت، یعنی وہ آفت جو سارے جہاں پر چھا جائے گی۔ اس مقام پر یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ یہاں بحیثیت مجموعی پورے عالم آخرت کا ذکر ہو رہا ہے جو نظام عالم کے درہم برہم ہونے سے شروع ہو کر تمام انسانوں کے دوبارہ اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت سے جزا و سزا پانے تک تمام مراحل پر حاوی ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ کو اس محیط عام واقعہ کی کچھ خبر پہنچی ہے (مراد اس واقعہ سے قیامت ہے کہ تمام عالم کو اس کا اثر محیط ہوگا اور مقصود اس استفہام سے تشویق ہے جس سے کلام کے سننے کا اہتمام پیدا ہو، آگے بصورت جواب اس خبر کی تفصیل ہے یعنی) بہت سے چہرے اس روز ذلیل اور مصیبت جھلتے خستہ (اور درماندہ) ہوں گے (اور) آتش سوزاں میں داخل ہوں گے (اور) کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلائے جاویں گے (اور) ان کو بجز ایک خاردار جھاڑ کے اور کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا جو نہ (تو کھانے والوں کو) فربہ کرے گا اور نہ (ان کی) بھوک کو دفع کر دے گا (یعنی انہ اس میں غذا بننے کی صلاحیت ہے نہ بھوک رفع کرنے کی، اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر…
Read the full tafseer →قیامت اور احوال قیامت کی تصویر:
اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ کسی چیز کے ہول و ہیبت یا اس کی عظمت و شان کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ یہاں جو خطاب ہے اگرچہ عام بھی ہو سکتا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ مخاطب نبی ﷺ ہی ہیں چنانچہ اسی پر عطف کر کے آگے فرمایا ہے:
’فَذَکِّرْ إِنَّمَا أَنۡتَ مُذَکِّرٌ‘ (۲۱)
(تم یاددہانی کر دو، تم تو صرف ایک یاددہانی کر دینے والے ہو)۔
’غَاشِیَۃٌ‘ کے معنی ڈھانک لینے والی اور چھا جانے والی کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کی صفت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی آفت ایک ہمہ گیر آفت ہو گی جو سب پر چھا جائے گی، کسی کو بھی اس سے مفر نہیں ہو…
Read the full tafseer →1۔ 1 غاشیہ سے مراد قیامت ہے، اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں تمام مخلوق کو ڈھانک لیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →ھل اتک .................... الغاشیة
” اس آغاز کے ذریعہ یہ سورت دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرتی ہے اور اس کائنات میں جو نشانات الٰہیہ موجود ہیں ان کی طرف متوجہ کرتی ہے اور یہ بتاتای ہے کہ انسان نے قیامت میں حساب دینا ہے اور جزاء وسزا سے دوچار ہونا ہے۔ اور یہ یقینی امر ہے۔ استفہامی تاکیدی یا تقریری کے ذریعہ اس بات کو نہایت تاکید سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس استفہامی انداز میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اس سورت سے قبل اس امر کی بار بار تاکید اور تذکیر کی گئی ہے۔ اس لئے یہاں قیامت کو ایک نیا نام دیا گیا ہے۔ الغاشیہ (چھاجانے والی) یعنی ایک ایسی مصیبت جس کی ہولناکیاں لوگوں پر چھاجائیں گی۔ یہ ایک نیا نام ہے لیکن…
Read the full tafseer →11 یعنی وہ بات سننے کے لائق ہے۔ (تنبیہ) " غاشیہ " (چھپالینے والی) سے مراد ہ۔ قیامت ہے جو تمام مخلوق پر چھا جائے گی اور جس کا اثر سارے عالم پر محیط ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 1{ ہَلْ اَتٰٹکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ۔ } ”کیا پہنچ چکی ہے آپ ﷺ کے پاس اس ڈھانپ لینے والی آفت کی خبر ؟“
یعنی قیامت کی خبر ‘ جو پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
Read the full tafseer →1 غَاشِیَۃً : غَشَی بمعنی ایک چیز پر دوسری چیز کا چھا کر اسے ڈھانپ لینا اور غشی ایسی حالت کو کہتے ہیں جبکہ انسان کے ہوش و حواس زائل ہوجائیں اور غاشیہ بمعنی وہ چیز جس کی ہیبت ہر شخص پر چھا جائے گی۔ ہوش و حواس گم کردینے والی اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Read the full tafseer →1۔ سورة کی ابتداء سوالیہ جملہ سے خطاب عرب کے عین اسلوب بیان کے مطابق ہے اس طرز خطاب سے مقصود سامعین کے دل میں مزید اشتیاق و جستجو پیدا کرنا، نیز موضوع خطاب کی اہمیت جتلانا ہے۔ (آیت) ” الغاشیۃ “۔ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، وہ دن صحیح معنی میں غاشیہ ہی ہوگا کہ اس کا اثر تمام عالم کو محیط ہوگا، اور کوئی چیز بھی اس سے باہر نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، کیا تجھے چھا جانے والی قیامت کی خبر پہنچی (قیامت کو غاشیہ) اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ہولناکیوں کے ذریعہ پوری مخلوق پر چھا جائے گی، کچھ چہرے اس روز ذلیل ہوں گے دونوں جگہ شخصیات کو وجوہ سے تعبیر کیا گیا ہے، سخت محنت جھیل رہے ہوں گے طوق اور زنجیروں کی وجہ سے سخت محنت و مشقت جھیل رہے ہوں گے، وہ سخت آگ میں جھلس رہے ہوں گے (تصلیٰ ) تاء کے ضمہ اور فتحہ دونوں کے ساتھ ہے، نہایت گرم کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کے لئے دیا جائے گا ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کوئی غذذا نہ ہوگی، (ضریع) ایک قسم کی کانٹے دار گھاس ہے…
Read the full tafseer →ھل اتک . استفہام تقریری ہے ‘ یعنی بیشک آپ کے پاس آگئی۔
حدیث الغاشیہ ایسی ساعت جس کی شدتیں اور ہولناکیاں ہر چیز پر چھا جائیں گی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ الغاشیہ سے مراد آگ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار لیکن الغاشیہ کے بعد چونکہ صرف کافروں ہی کا ذکر نہیں بلکہ مؤمنوں کی حالت کا بھی بیان ہے ‘ اس لیے الغاشیہ سے ساعت ہی مراد لینی صحیح ہے۔
Read the full tafseer →محمد آپ کو قیامت قائم ہونے کی کچھ خبر پہنچی، یا یہ کہ دوزخ کی جو کہ دوزخیوں کو گھیر لے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ھل اتک حدیث الغاشیۃ…:”الغاشیۃ“ ”غشی یغشی“ (س) سے اسم فاعل ہے، ڈھانپ لینے والی۔ مراد قیامت ہے جو ہر چیز پر چھا جائے گی۔
Read the full tafseer →ھل اتاک حدیث الغاشیہ
ھل، قد کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، ھل اتی علی الانسان حین من الدھر۔ الدھر) یقینا انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے یہ قطرب کا قول ہے معنی یہ ہے اے محمد یقینا آپ کے پاس قیامت کی خبر آچکی ہے جو اپنی ہولناکیوں کے ساتھ مخلوقات پر چھاجائے گی یہ اکثر مفسرین کا نقطہ نظر ہے، سعید بن جبیر اور محمد بن کعب نے کہا، الغاشیہ سے مراد آگ ہے جو کفار کے مونہوں تک جاپہنچے گی، یہ ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے اس کی دلیل، وتغشی وجوھھم النار۔ ابراہیم) آگ ان کے چہروں پر چھاجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے مخلوقات پر چھاجائے گی ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد…
Read the full tafseer →1۔ مالک ومسلم وابو داوٗد والنسائی وابن ماجہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ کے ساتھ اور کون سی سورة پڑھتے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے۔
2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الغاشیہ سے مراد ہے قیامت۔
3۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ کیا آپ کے پاس سب پر چھاجانے والی قیامت کا حال پہنچا اس سے مراد ہے قیامت آیت وجوہ یومئذد خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ۔ کتنے چہرے اس دن ذلیل و خوار ہوں گے مشقت میں مبتلا ہوں گے اور آگ میں پڑے ہوں گے۔ آیت تسقی من عین…
Read the full tafseer →[هَلْ اَتٰىكَ : کیا پہنچی آپ ﷺ کے پاس ][ حَدِيْثُ الْغَاشِـيَةِ : اس چھا جانے والی (قیامت) کی بات ]
نوٹ۔ 1: پہلی آیت میں سوال ہے کیا آپ 1 کو پہنچی۔ اس انداز میں جو سوال ہوتا ہے وہ جواب طلب کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ کسی چیز ہیبت یا اس کی عظمت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ آگے وُجُوْہٌ سے مراد اگرچہ افراد ہیں لیکن ان کو تعبیر وُجُوْہٌ سے اس لیے کیا ہے کہ ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔ اور کیفیات کا اظہار سب سے زیادہ نمایاں طریقہ پر چہروں ہی سے ہوتا ہے۔ (تدبر قرآن)
Read the full tafseer →یہاں سے سورة الغاشیہ شروع ہو رہی ہے۔ الغاشیہ سے قیامت مراد ہے جو غشہ غشی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ قرآن مجید میں قیامت کو بہت سے ناموں سے موسوم فرمایا ہے جن میں ایک نام الغاشیہ بھی ہے، اس کا معنی ہے ” ڈھانک دینے والی “ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ قیامت کو الغاشیہ اس لیے فرمایا کہ وہ لوگوں پر اپنی سختیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اس کے دل ہلا دینے والے احوال و اھوال (یعنی خوف زدہ کردینے والے حالات ہر طرف سے گھیر لیں گے) ۔ ﴿ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِؕ001﴾ میں جو لفظ ھَلْ ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ قد کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس قیامت کی خبر آچکی ہے اور بعض حضرات…
Read the full tafseer →2:۔ ” ھل اتاک “ ھل بمعنی قد ہے یا استفہام تقریر ہے۔ دونوں کا حاصل یہ ہے کہ آپ کو الغاشیہ کا حال اس سے پہلے معلوم ہوچکا ہے۔ یا استفہام اپنے اصل پر ہے اور اس سے پہلے آپ کو غاشیہ کا علم نہیں تھا اور استفہام سے مقصود تعجیب و تشویق ہے۔ گویا اس سوال کے جواب میں عرض کیا گیا الغاشیہ کی خبر مجھے معلوم نہیں، وہ کیا ہے تو کہا گیا وجوہ الخ۔ ” الغاشیہ “ سے قیامت مراد ہے جو اپنے شدائد و اہوال کی وجہ سے سب پر حاوی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف )
اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔
(موضوع)
سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِـيَۃِ 1 ۭ
هَلْ
: حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله :
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمامِ وَالْمَلائِكَةُ
[ البقرة/ 210] ، لْ يَنْظُرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…
Read the full tafseer →ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ۔ (الغاشیۃ : 1)
(کیا تمہیں چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے۔ )
قیامت اور احوالِ قیامت کی تصویر
یہاں ضمیر واحد سے خطاب آنحضرت ﷺ کو بھی ہوسکتا ہے اور ہر مخاطب کو بھی۔ آنحضرت ﷺ کو اگر خطاب مانا جائے تو تب بھی روئے سخن کفار ہی کی طرف ہے جو قیامت کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اور اگر ہر فرد کو اس کا مخاطب سمجھا جائے تو پھر براہ راست منکرینِ قیامت سے خطاب ہے۔ مقصود دونوں صورتوں میں سوال کا جواب طلب کرنا نہیں بلکہ قیامت کی عظمت و شان کا اظہار اور اس کی ہیبت کو نمایاں کرنا ہے۔
غَاشِیَۃ کے معنی ڈھانک لینے والی اور چھا جانے والی کے ہیں۔ یہاں یہ لفظ قیامت کی صفت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن
ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔
الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…
Read the full tafseer →1 : ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ (آپ کو اس محیط عام واقعہ کی کچھ خبر پہنچی ہے) ھلؔ یہ قد کے معنی میں ہے۔ الغاشیہ ؔ وہ بڑی مصیبت جو اپنے شدائد و مصائب کے ساتھ تمام پر چھا جائے گی اور اس کی ہولناکیاں سب کو ڈھانپ لیں گی۔ مراد اس سے قیامت ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ آگ مراد ہے۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا تغشی وجوہھم النار ] ابراہیم : 50[
Read the full tafseer →1 ۔” ھل اتاک حدیث الغاشیۃ “ تحقیق آپ (علیہ السلام) کے پاس قیامت کی خبر آئی ہے جو اپنی ہولناکیوں سے ہر چیز کو ڈھانپ لے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی قیامت کے احوال اور اس کی مصیبت خیز ہولناکیوں کا ذکر کرتا ہے کہ قیامت تمام مخلوق کو اپنی سختیوں سے ڈھانپ لے گی، لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا وسزا دی جائے گی لوگ الگ الگ دو گروہوں میں بٹ جائیں گے ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ جہنم کو سدھارے گا پس اللہ تعالیٰ نے دو گروہوں کے وصف سے آگاہ فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(2) اس روز ناکام و نامراد لوگوں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے "۔ چہروں سے یہاں پر مراد ہیں چہروں والے، ای اصحاب الوجوہ۔ چہرہ چونکہ انسانی جسم کا سب سے اشرف عضو ہوتا ہے اس لیے اس کا اطلاق فرما کر اس سے پورا انسان مراد لیا گیا ہے جو کہ عربی زبان و محاورہ کا ایک معروف اور بلیغ اسلوب ہے، سو جن لوگوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر حق سے منہ موڑا ہوگا اور انہوں نے اس دنیا میں اپنی رضا ورغبت سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور خشوع و خضوع کا شرف حاصل نہیں کیا ہوگا وہ بدلہ و جزا کے اس دن میں اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے
تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔
آیات 1 تا 26۔
اسرار ومعارف۔
آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔
شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔
یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →ف 5 قیامت کو ” چھا جانے والی “ اس لئے فرمایا کہ اس کی دہشت تمام دلوں پر چھا جائیگی۔
Read the full tafseer →(88:1) ہل اتک حدیث الغاشیۃ : ہل استفہام اقرار ہے۔ یعنی بیشک تمہارے پاس آگئی۔ یا ہل بمعنی قد بھی ہوسکتا ہے یعنی تحقیق تمہارے پاس آچکی ہے۔
اتک : اتی : اتیان (باب ضرب) مصدر سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تیرے پاس آئی۔ آچکی۔ آگئی۔
حدیث الغاشیۃ مضاف مضاف الیہ مل کر اتی کا فاعل۔ حدیث بمعنی بات الغاشیۃ : غشی وغشاء (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ ہر چھپا لینے والی۔ ڈھانک لینے والی۔ چھا جانے والی چیز۔ یہ اصل و صفی معنی ہے لیکن مراد قیامت ہے۔ اس لئے کہ اس کی ہولناکیاں سب پر چھا جائیں گی۔ (جلالین ، المفردات )
حاصل مطلب یہ کہ لغوی اعتبار سے وصفی معنی تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔
الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔
تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →(ف 1) اے محبوب ﷺ قیامت کے دن نیک وبد پر جو کچھ حالت گذرے گی اس کا حال تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اور اس دن طرح طرح سے خوار ہوں گے۔ اور اہل جنت طرح طرح کی عزت اور راحت پائیں گے۔
Read the full tafseer →[1] مراد ہے قیامت یعنی وہ آفت جو سارے جہان پر چھا جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ
قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو
خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(1) اے پیغمبر کیا آپ کو اس عام طور پر ڈھانک لینے والی مصیبت کی خبر پہنچی ہے - غاشیہ ایک ایسے واہیہ اور واقعہ ہائلہ کو کہتے ہیں جس کا اثر عام اور محیط ہو مراد اس سے قیامت ہے استفہام بغوض اہتمام ہے کہ وہ چیز نہایت اہم ہے آگے اس کی تفصیل ہے۔
غاشیہ اس آگ کو بھی کہتے ہیں جو منکروں کے منھوں کو ڈھانک لے گی ہوسکتا ہے کہ اس غاشیہ سے مراد اہل دوزخ ہوں جن کی کثرت اور جن کا اژدہام دوزخ کو ڈھانک لے گا پہلا قول زیادہ صحیح اور راجح ہے۔
Read the full tafseer →کیا آپ ﷺ کو دنیا پر چھا جانے والی کی بھی خبر پہنچی ہے
1 ؎ (الغاشیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث۔ ہر طرف سے گھیر لینے والی ، عقوبت اور چھا جانے والا عذاب ۔ مراد اس سے قیامت ہے کیونکہ بلندیوں اور پستیوں میں کوئی چیز ایسی نہ رہے گی جس پر قیامت کی ہلاکت آفرینیوں کا اثر نہ ہوگا جیسا کہ اس سے پہلے کئی بار گزر چکا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا پورا نقشہ بدل دیا جائے گا اور قیامت یکبارگی سب کو ڈھانپ لے گی اور اس طرح کی افراتفری پیدا ہوگی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا اور نہ ہی کسی کا کوئی غم خوار ہوگا کہ اس کی خبر گیری کرے۔ خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح مخاطب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں…
Read the full tafseer →1 "The over-shadowing calamity": the Resurrection which will overshadow the whole world. One should know that here the Hereafter as a whole is being depicted, which comprehends aII the stages from the upsetting of the present system to the resurrection of all human beings and the dispensation of rewards and punishments from the Divine Court.
Read the full tafseer →