وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۟ۙوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَةٌ
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Some] faces, that Day, will be humbled,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
وُجُوْهٌ یَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ ۟ۙوُجُوۡهٌ يَّوۡمَئِذٍ خَاشِعَةٌ
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[Some] faces, that Day, will be humbled,
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
کچھ چہرے اُس روز خوف زدہ ہونگے
اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے
اس دن بہت سے چہرے ذلیل ہوں گے
بہت سے چہرے اس دن اترے ہوئے ہوں گے۔
کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے،
اس دن کتنے ہی چہرے ذلیل و خوار ہوں گے،
اس دن کئی چہرے ذلیل ہوں گے۔
اس دن کچھ چہرے خوف زدہ ہوں گے
اس دن کتنے چہرے اترے
کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے
(بہت سے) چہرے اس روز ذلیل ہوں گے
بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔
کتنے چہرے اس دن ذلیل
Some faces that Day shall be downcast with fear,
Many faces that day will be humbled,
Many faces that day will be humbled,
Some faces that Day will be Khashi`ah.
On that day (many) faces will be downcast,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[Some] faces, that Day, will be humbled,
On that day the faces of some people will be humbly cast down,
(Some) faces on that day shall be downcast,
Faces on that Day shall be downcast,
Some faces, that Day, will be humiliated,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
سورة الْغَاشِیَة 2 چہروں کا لفظ یہاں اشخاص کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے، اور انسان پر اچھی یا بری کیفیات بھی گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے، اس لیے " کچھ لوگ " کہنے کے بجائے " کچھ چہرے " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
معارف و مسائل وجوہ یومذ خاشعة عاملة ناصبة قیامت میں دو فریق مومن و کافر الگ الگ ہوجائینگے انکے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ ان کے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ اس آیت میں کافروں کے چہروں کا ایک حال یہ بتلایا ہے کہ وہ خاشعہ ہوں گے، خشوع کے معنے جھکنے اور ذلیل ہونے کے ہیں۔ نماز میں خشوع کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھکے اور ذلت و پستی کے آثار اپن وجود پر طاری کرے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و تذلل اختیار نہیں کیا اس کی سزا ان کو قیامت میں یہ ملے گی کہ وہاں ان کے چہروں پر ذلت اور رسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ دوسرا اور تیسرا حال ان کے چہروں کا یہ بیان فرمایا کہ…
Read the full tafseer →ان لوگوں کا حال جو قیامت سے نچنت رہے: اوپر کا سوال، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، طلب جواب کے لیے نہیں بلکہ صرف تنبیہ کے لیے تھا کہ سننے والے اس کو اچھی طرح سن لیں۔ اس کے بعد قرآن نے خود ہی اس کا جواب دیا کہ اس دن کتنے چہرے بالکل اترے اور تھکے ہارے ہوں گے۔ ’خَاشِعَۃٌ‘ کے معنی جھکے ہوئے، پست اور اداس کے ہیں۔ ’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔ ’وُجُوْہٌ‘ سے مراد اگرچہ اشخاص ہیں لیکن ان کو…
Read the full tafseer →4۔ 1 یعنی کافروں کے چہرے، خاشعۃ جھکے ہوئے، پست اور ذلیل، جیسے نمازی، نماز کی حالت میں عاجزی سے جھکا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →وجوہ یومئذ .................................... من جوع یہاں نعمتوں کے منظر سے قبل عذاب کا منظر دکھایا گیا کیونکہ سوال قیامت کی ہولناکیوں سے متعلق تھا ، بتایا جاتا ہے کہ لوگ سخت خوف کی حالت میں ہوں گے ، تھکے ہارے اور ڈر سے سہمے ہوں گے ۔ انہوں نے پوری زندگی جدوجہد میں گزاری ، تھک اور ہار گئے لیکن ان کے اعمال کھوٹے نکلے اور کسی نے بھی ان کو قبول نہ کیا ، عاقبت بھی خراب ہوئی اور مصیبت اور خسارے کے سوا کچھ نہ ملا۔ چناچہ ان کی تھکاوٹ اور پریشانی اور درماندگی میں اضافہ ہی ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
12 یعنی آخرت میں مصیبتیں جھیلنے والے اور مصیبت جھیلنے کی وجہ سے خستہ ودرماندہ، اور بعض نے کہا کہ " عاملۃ ناصبۃ " سے دنیا کا حال مراد ہے۔ یعنی کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے " خسر الدنیا والاخرۃ " اسی کو کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " (کافر لوگ) جو دنیا میں (بڑی بڑی) ریاضت کرتے ہیں (اللہ کے ہاں) کچھ قبول نہیں ہوتی۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے“۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ…
Read the full tafseer →2 اس دن تمام مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو اس دنیا میں اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے۔ اور دوسرے وہ جو نافرمان اور باغی ہوں گے۔ نافرمان لوگوں کا پہلے ذکر فرمایا چونکہ ان لوگوں کو اپنی کرتوتوں کا علم ہوگا۔ لہذا اعمال نامے دیئے جانے اور حساب کتاب اور فیصلہ سے پہلے ہی ان کے چہرے اترے ہوئے اور خوفزدہ ہوں گے کیونکہ انہیں اپنا انجام نظر آ رہا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
وجوہ یومئذ خاشعۃ یہاں ” چہرے “ کا لفظ اشخاص کے معنی میں اسعتمال ہوا ہے، اس لئے کہ انسانی جسم کی نمایاں ترین چیز چہرہ ہے اور انسان پر اچھی بری کیفیات کا اثر اولاً چہر ہے ہی پر نمایاں ہوتا ہے، اس لئے ” کچھ لوگ “ کہنے کے بجائے ” کچھ چہرے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →وجوہٌ . تنوین کثرت کو ظاہر کر رہی ہے ‘ بہت چہرے یا تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہی ہو یعنی کافروں کے چہرے۔ چہروں سے مراد ہیں ‘ چہروں والے۔ یومئذ . اس روز۔ اس کا تعلق غاشیہ سے ہے یعنی غاشیہ کے دن بہت چہرے۔ خاشعۃ . غم اور حقارت کی وجہ سے ذلیل
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2۔ 3) قیامت کے دن منافقین اور کافروں کی صورتیں عذاب سے ذلیل اور عذاب میں جانے والی خستہ اور درماندہ ہوں گی، یا یہ کہ دنیا میں مصیبت زدہ اور آخرت میں خستہ اور درماندہ ہوں گے اور یہ جماعت راہبوں اور گرجا والوں کی ہے یا یہ کہ خارجی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(ھل اتک حدیث الغاشیۃ…:”الغاشیۃ“ ”غشی یغشی“ (س) سے اسم فاعل ہے، ڈھانپ لینے والی۔ مراد قیامت ہے جو ہر چیز پر چھا جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وجوہ یومئذ خاشعیہ، عاملۃ الناصبہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا رسول اللہ تک ان کی خبر نہیں پہنچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا، یومئذ سے مراد یوم قیامت ہے۔ سفیان نے کہا، خاشعہ سے مراد عذاب کے ساتھ ذلیل کرنا ہے ہر کمزور پست ہمت عاجزی کرنے والا ہوتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، خضع فی صلاتہ، جب اس نے نماز میں سرجھکایا اور عاجزی کا اظہار کیا، خشع الصورت آواز پست ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخشعت الاصوات للرحمن۔ طہ 108) اللہ تعالیٰ کے حضور آوازیں پست ہیں۔ وجوہ (چہروں) سے مراد اصحاب وجوہ ہیں قتاہ اور ابن زید نے کہا، آگ میں عاجز و ذلیل ہوں گی۔ اس سے مراد تمام کفار کے وجوہ ہیں یہ…
Read the full tafseer →5۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ یعنی آخرت میں کتنے چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبہ سے مراد ہے کہ یہود و نصاری ڈرویں گے اور ان کی مشقت ان کو نفع نہیں دے گی۔ آیت تسقی من عین اٰنیۃ یعنی ایسے چشمے سے پلایا جائے گا جو شدت سے کھول رہا ہوگا۔
Read the full tafseer →[وُجوهٌ يَّوْمَىِٕذٍ : کچھ چہرے (کچھ لوگ) اس دن ][ خَاشِعَة : عاجزی کرنے والے ہیں ] ترکیب : (آیت۔ 2 ۔ 3 ) ۔ وُجُوْہٌ حالانکہ نکرہ ہے لیکن یہاں یہ مبتدا ہے۔ مفہوم کی ادائیگی کے تقاضے کے تحت اس کو معرفہ کے بجائے نکرہ لایا گیا ہے۔ خَاشِعَۃٌ اس کی خبر ہے۔ آگے عَامِلَۃٌ اور نَاصِبَۃٌ کو بھی اگر اس کی خبر مانیں تو مفہوم بنتا ہے کہ کچھ چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں، عمل کرنے والے ہیں، محنت کرنے والے ہیں یہ مفہوم خلاف واقعہ ہے۔ اور اگر عَامِلَۃٌ اور ناصِبَۃٌ کو وُجُوْہٌ کی صفت مانیں تو پھر مفہوم بنتا ہے کہ کچھ عمل کرنے والے محنت کرنے والے چہرے اس دن عاجزی کرنے والے ہیں۔ اور یہی مفہوم حضرت عمر ؓ سے…
Read the full tafseer →﴿ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ002﴾ (اس دن چہرے جھکے ہوئے ہوں گے) ۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ003﴾ (مصیبت جھیلنے والے دکھ تکلیف اٹھانے والے ہوں گے) ۔ ﴿ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةًۙ004﴾ (جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” وجوہ یومئذ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے لے کر ” زرابی مبثوثۃ “ تک ” الغاشیہ “ کا بیان ہے۔ والجملۃ الی قولہ تعالیٰ مبثوثۃ استیناف وقع جوابا عن سؤال نشا من الاستفہام التشویقی کانہ قیل من جہتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وما اتی فی حدیثھا، ما ھو ؟ فقیل وجوہ الخ، قال ابن عباس ؓ لم یکن اتاہ ﷺ حدیثہا فاخبرہ سبحانہ عنہا فقال جل وعلا : وجوہ یومئذ (روح ج 30 ص 112) ۔ ” خاشعۃ “ ذلیلۃ من الحزن والھوان (مظہری) ۔ ” عاملۃ ناصبۃ “ ای تعمل اعمالا شاقۃ تتعب فیہا وھی جر السلاسل والاغلال والخوض فی النار الخ۔ (ابو السعود) ۔ اور ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی کفار مراد ہیں (کبیر) ۔ کفار و مشرکین دنیا میں نہ تو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →وُجُوْہٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَۃٌ 2 ۙ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معنی چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ عَامَلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ۔ (الغاشیۃ : 2، 3) (کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ سخت مشقت میں نڈھال، تھکے ہارے ہوں گے۔ ) قیامت کے منکرین کا حال چہروں سے مراد چہروں والے ہیں۔ لیکن انھیں چہروں سے یاد فرما کر درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے چہروں سے ان کے اندر کا خوف اور غم پوری طرح نمایاں ہوگا۔ ویسے بھی انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے۔ اس لیے چہرہ بول کر اس کی پوری شخصیت مراد لی جاتی ہے۔ دنیا میں یہ لوگ قیامت کا نام سننے کے روادار نہ تھے۔ اور آج قیامت آجانے کے بعد ان کے چہروں پر وہ احساسات پڑھے جاسکتے ہیں جو ان پر گزر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…
Read the full tafseer →شدائد سے چھانے والی : 2 : وُجُوْہٌ یَّوْمَپذٍ خَاشِعَۃٌ (بہت سے چہرے اس روز ذلیل ہونگے) وجوہؔ سے کفار کے چہرے مراد ہیں۔ چہرے کو خاص اس لئے کیا کیونکہ غم و خوشی کا اثر چہرے میں خوب مستحکم ہوتا ہے۔ یَّوْمَپذٍ (جس دن وہ ڈھانپ لے گی) خَاشِعَۃٌ ذلیل ہونگے اس وجہ سے کہ ان چہرے والوں پر ذلت و رسوائی چھا جائے گی۔
Read the full tafseer →2 ۔” وجوہ یومئذ “ یعنی قیامت کے دن۔ ” خاشعۃ “ ذلیل ہونگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…
Read the full tafseer →جہنمیوں کے وصف میں فرمایا (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ ) اس دن یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے (خَاشِعَةٌ) ذلت، فضیحت اور رسوائی کیوجہ سے جھکے ہوئے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(2) اس روز ناکام و نامراد لوگوں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے "۔ چہروں سے یہاں پر مراد ہیں چہروں والے، ای اصحاب الوجوہ۔ چہرہ چونکہ انسانی جسم کا سب سے اشرف عضو ہوتا ہے اس لیے اس کا اطلاق فرما کر اس سے پورا انسان مراد لیا گیا ہے جو کہ عربی زبان و محاورہ کا ایک معروف اور بلیغ اسلوب ہے، سو جن لوگوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر حق سے منہ موڑا ہوگا اور انہوں نے اس دنیا میں اپنی رضا ورغبت سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور خشوع و خضوع کا شرف حاصل نہیں کیا ہوگا وہ بدلہ و جزا کے اس دن میں اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 6 یعنی طرح طرح کے عذاب جھیلتے جھیلتے درماندہ و خستہ حال ہوں گے۔
Read the full tafseer →(88:2) وجوہ یومئذ خاشعۃ : وجوہ ۔ وجہ کی جمع ۔ چہرے۔ کثرت کو ظاہر کرنے کے لئے تنوین لائی گئی ہے ۔ یعنی بہت سے چہرے۔ یا تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہو۔ یعنی کافروں کے چہرے ، چہروں سے مراد ہیں چہروں والے۔ ای اصحاب وجوہ۔ یومئذ۔ اس روز۔ اس کا تعلق غاشیۃ سے ہے یعنی غاشیہ کے دن بہت سے چہرے۔ خاشعۃ : خشوع (باب سمع) مصدر سے۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ذلیل ہونے والی۔ خوار، عاجزی کرنے والی۔ دب جانے والی۔ غم اور حقارت کی وجہ سے ذلیل ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اس روز قیامت کے دن، بہت سے چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
نیک کام کرنے کی دشواری اور اس کی فضیلت۔ (ف 2) فرمایا کہ کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر نہ تھے بت پرست تھے یاکتابی کافر مثل راہبوں اور پجاریوں کے انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں مشقتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(2) بہت سے چہرے اس دن ذلیل و خوار۔
Read the full tafseer →اس دن کتنے چہرے اترے ہوئے ہوں گے 2 ؎ دنیا میں جب انسان نے قدم رکھا اس وقت سے لے کر آج تک کتنی گروہ بندیاں بن چکی ہیں اور پھر ایک طرح کی گروہ بندیاں نہیں مذہب کے نام پر بھی ہیں ، سیاست کے نام پر بھی ، خاندانی گروہ بندیاں بھی ہیں اور پیشوں کے لحاظ سے بھی ، ملک و ملت کے نام پر بھی ، زبان اور رنگت کے نام پر بھی لیکن جس چیز کا نام قیامت ہے اس روز یہ ساری گروہ بندیاں ختم کردی جائیں گی اور ان میں سے کسی کا نام لے کر بھی ان کو نہیں بلایا جائے گا بلکہ پوری انسانیت کو تین گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا جیسا کہ اس کی وضاحت سورة الواقعہ میں کردی گئی ہے۔ ایک ان میں مقربین کا گروہ ہوگا جن کو ( سابقون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Commentary وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ (Many faces on that day will be humbled, working hard, exhausted...88:3). On the Day of Judgment, there will be two separate groups of people, believers and unbelievers, and their faces will be different. This verse describes the faces of the unbelievers. They will be downcast. The word khashi` ah from the root word khusha' means to humble, humiliate, cast down'. This is the meaning of casting oneself down before Allah in prayer. People who did not cast themselves down before Allah in this world, their faces on the Day of Judgement…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2 Some faces : some persons, so said for the face is the most conspicuous part of the human body by which man s personality is judged and which reflects the good or bad states through which man passes.
Read the full tafseer →