عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۟ۙعَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Working [hard] and exhausted.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۟ۙعَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Working [hard] and exhausted.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya
سخت مشقت کر رہے ہونگے
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے
(اور) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہوں گے
مصیبت جھیلتے ہوئے، تھکن سے چور۔
کام کریں مشقت جھیلیں،
(اﷲ کو بھول کر دنیاوی) محنت کرنے والے (چند روزہ عیش و آرام کی خاطر سخت) مشقتیں جھیلنے والے،
محنت کرنے والے، تھک جانے والے۔
سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے ہوں گے
اور تھکے ہارے ہوں گے۔
مشقت اٹھانے والے تھکے ماندے ہوں گے
مصیبت جھلیتے ہوں گے خستہ ہوں گے
مشقت زدہ تھکے ماندے۔
سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے ہوں گے
be toiling and worn-out;
laboring, exhausted.
laboring, exhausted.
Laboring, weary.
Toiling, weary,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Working [hard] and exhausted.
troubled and tired as a result of their deeds in the past.
Laboring, toiling,
Travailing, worn.
Labouring (hard), weary,-
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–7
سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
سورة الْغَاشِیَة 2 چہروں کا لفظ یہاں اشخاص کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے، اور انسان پر اچھی یا بری کیفیات بھی گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے، اس لیے " کچھ لوگ " کہنے کے بجائے " کچھ چہرے " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
معارف و مسائل وجوہ یومذ خاشعة عاملة ناصبة قیامت میں دو فریق مومن و کافر الگ الگ ہوجائینگے انکے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ ان کے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ اس آیت میں کافروں کے چہروں کا ایک حال یہ بتلایا ہے کہ وہ خاشعہ ہوں گے، خشوع کے معنے جھکنے اور ذلیل ہونے کے ہیں۔ نماز میں خشوع کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھکے اور ذلت و پستی کے آثار اپن وجود پر طاری کرے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و تذلل اختیار نہیں کیا اس کی سزا ان کو قیامت میں یہ ملے گی کہ وہاں ان کے چہروں پر ذلت اور رسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ دوسرا اور تیسرا حال ان کے چہروں کا یہ بیان فرمایا کہ…
Read the full tafseer →’عَامِلَۃٌ‘ کے معنی محنت سے نڈھال اور ’نَاصِبَۃٌ‘ کے معنی تھکے ہارے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس دن جب ان کی توقع کے برعکس یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ان کو اپنے اعمال کی پاداش میں جہنم میں پڑنا ہے تو ان کے چہرے فق ہو جائیں گے، ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3۔ 1 یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہوگا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہونگے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہونگے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چناچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے (عَمِلَۃ، نَّاصِیَۃ) سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
عاملة ناصبة (3:88) ” سخت مشقت کر رے ہوں گے ، تھکے جاتے ہوں گے “۔ دنیا میں وہ صرف اپنے نفس اور اپنی اولاد کے لئے جدوجہد کررہے ہوں گے ، دنیا اور دنیا کی طمع اور آز کے لئے تھکے ہوں گے۔ پھر آج انجام ان کے سامنے ہے کہ دنیا میں ان کو مل گیا جو ملنا تھا ، مگر آخرت میں تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب یہ آخرت کا سامنا ذلیل ہوکر کررہے ہیں ، تنگ ہیں ، خائب و خاسر ہیں اور مایوس ہیں۔ اور اس ذلت اور خواری کے ساتھ پھر درد ناک عذاب۔ تصلی ................ حامیة (4:88) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے “۔ یہ اس کا مزہ چکھیں گے اور مشقتیں برداشت کریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
12 یعنی آخرت میں مصیبتیں جھیلنے والے اور مصیبت جھیلنے کی وجہ سے خستہ ودرماندہ، اور بعض نے کہا کہ " عاملۃ ناصبۃ " سے دنیا کا حال مراد ہے۔ یعنی کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے " خسر الدنیا والاخرۃ " اسی کو کہتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " (کافر لوگ) جو دنیا میں (بڑی بڑی) ریاضت کرتے ہیں (اللہ کے ہاں) کچھ قبول نہیں ہوتی۔ "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–6
آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے“۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
3 بعض مفسرین نے اس آیت کو آخرت سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ اسی حال میں کبھی انہیں کسی بلندی پر چڑھنے کا حکم دیا جائے گا اور کبھی اترنے کا۔ اسی محنت و مشقت کی وجہ سے وہ تھک کر چور ہوجائیں گے۔ اور بعض نے اسے دنیا سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں محنت اور ریاضت کرکے تھک چکے ہوں گے لیکن ان کے نیک اعمال بھی شرک یا کسی دوسری وجہ سے برباد ہوجائیں گے تو ایسے لوگ بھی اپنے انجام سے سخت خوفزدہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–7
2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
وجوہ یومئذ خاشعۃ یہاں ” چہرے “ کا لفظ اشخاص کے معنی میں اسعتمال ہوا ہے، اس لئے کہ انسانی جسم کی نمایاں ترین چیز چہرہ ہے اور انسان پر اچھی بری کیفیات کا اثر اولاً چہر ہے ہی پر نمایاں ہوتا ہے، اس لئے ” کچھ لوگ “ کہنے کے بجائے ” کچھ چہرے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →عاملۃ ناصبہ . مشقت کرنے والے ‘ تھکے ہوئے یعنی دوزخ میں۔ نصب کا معنی تھکنا۔ حسن بصری (رح) نے فرمایا : انہوں نے دنیا میں اللہ کے لیے کام نہیں کیا ‘ تو دوزخ میں اللہ نے ان سے مشقت لی اور طوق و زنجیر کا بار ڈال کر تھکا دیا۔ قتادہ کا بھی یہی قول ہے اور عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : وہ دوزخ میں اس طرح دھنس جائے گا جس طرح اونٹ دلدل میں دھنس جاتا ہے۔ کلبی نے کہا : مُنہ کے بل ان کو دوزخ میں کھینچا جائے گا۔ ضحاک ؓ نے کہا دوزخ میں لوہے کے پہاڑ پر چڑھے گا۔ بعض لوگوں نے کہا : عاملۃ اور ناصبۃ سے بت پرست اور کتابی کافروں میں سے وہ تارک الدنیا درویش مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
(2۔ 3) قیامت کے دن منافقین اور کافروں کی صورتیں عذاب سے ذلیل اور عذاب میں جانے والی خستہ اور درماندہ ہوں گی، یا یہ کہ دنیا میں مصیبت زدہ اور آخرت میں خستہ اور درماندہ ہوں گے اور یہ جماعت راہبوں اور گرجا والوں کی ہے یا یہ کہ خارجی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
(1) عاملۃ ناصبۃ…: کافر دنیا میں جتنی محنت بھی کرے وہ قیامت کے دن گرد و غبار کی طرح اڑا دی جائے گی۔ (دیکھیے فرقان : 23) یہی حال دکھاوا کرنے والے اور سنت کو چھوڑ کر خود ساختہ عمل کرنے والے کا ہے کہ سخت محنت کے باوجود جہنم میں جائے گا۔ (دیکھیے سورة کہف کا آخری رکوع مع تفسیر) اسی مفہم کے پیش نظر ابن عباس ؓ عنہمانے ”عاملتہ ناصبۃ“ سے مراد نصاریٰ لئے ہیں۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة (ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) (بعد ح : 3831) نصرانی راہبوں کی شدید ریاضتیں مشہور ہیں، مگر وہ قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ اسی طرح جو لوگ خود ساختہ ورد وظیفے یا عبادتیں کرتے ہیں یا اپنے بنائے ہوئے طریقوں پر عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وجوہ یومئذ خاشعیہ، عاملۃ الناصبہ۔ حضرت ابن عباس نے کہا رسول اللہ تک ان کی خبر نہیں پہنچی تھی تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا، یومئذ سے مراد یوم قیامت ہے۔ سفیان نے کہا، خاشعہ سے مراد عذاب کے ساتھ ذلیل کرنا ہے ہر کمزور پست ہمت عاجزی کرنے والا ہوتا ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، خضع فی صلاتہ، جب اس نے نماز میں سرجھکایا اور عاجزی کا اظہار کیا، خشع الصورت آواز پست ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، وخشعت الاصوات للرحمن۔ طہ 108) اللہ تعالیٰ کے حضور آوازیں پست ہیں۔ وجوہ (چہروں) سے مراد اصحاب وجوہ ہیں قتاہ اور ابن زید نے کہا، آگ میں عاجز و ذلیل ہوں گی۔ اس سے مراد تمام کفار کے وجوہ ہیں یہ…
Read the full tafseer →کفار کی عبادات فائدہ مند نہیں 7۔ عبدالرزاق وابن المنذر والحاکم نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک راہب کے پاس سے گذرے کچھ دیر ٹھہرے تو راہب کو آواز دی گئی اور اس سے کہا گیا یہ امیر المومنین ہیں۔ پس وہ ظاہر ہوا تو وہ ایک انتہائی تکلیف اور مشقت میں انسان تھا اور اس نے دنیا کو چھوڑ رکھا تھا یعنی وہ کمزور ہوچکا تھا۔ جب عمر ؓ نے اس کو دیکھا تو رونے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ یہ تو نصرانی ہے انہوں نے فرمایا میں جانتا ہوں لیکن مجھے اس پر رحم آگیا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آگیا آیت عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ۔ محنت کرنے والے تھکنے والے دھکتی ہوئی آگ میں گریں گے۔ پھر فرمایا…
Read the full tafseer →[عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ: جو عمل کرنے والے محنت کرنے والے تھے ]
Read the full tafseer →﴿عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ﴾ (بہت سے چہرے مصیبت جھیلنے والے دکھ تکلیف اٹھانے والے ہوں گے) صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن ؓ وغیرہما سے نقل کیا ہے کہ اس سے قیامت کے دن کے سلاسل و اغلال یعنی زنجیروں اور بیڑیوں کو لے کر چلنا اور دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اترنا اور اس کے اثر سے خستہ ہونا مراد ہے اور حضرت عکرمہ ؓ سے اس کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیا میں عمل کرتے ہیں (دنیاوی اعمال بھی اور عبادت کے لائن کی ریاضتیں بھی کرتے ہیں اور اس میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں لیکن چونکہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر نہیں اس لیے یہ سب کچھ ضائع ہوگا اور کفر پر موت آنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
3:۔ ” وجوہ یومئذ “ یہ تخویف اخروی ہے۔ یہاں سے لے کر ” زرابی مبثوثۃ “ تک ” الغاشیہ “ کا بیان ہے۔ والجملۃ الی قولہ تعالیٰ مبثوثۃ استیناف وقع جوابا عن سؤال نشا من الاستفہام التشویقی کانہ قیل من جہتہ (علیہ الصلوۃ والسلام) وما اتی فی حدیثھا، ما ھو ؟ فقیل وجوہ الخ، قال ابن عباس ؓ لم یکن اتاہ ﷺ حدیثہا فاخبرہ سبحانہ عنہا فقال جل وعلا : وجوہ یومئذ (روح ج 30 ص 112) ۔ ” خاشعۃ “ ذلیلۃ من الحزن والھوان (مظہری) ۔ ” عاملۃ ناصبۃ “ ای تعمل اعمالا شاقۃ تتعب فیہا وھی جر السلاسل والاغلال والخوض فی النار الخ۔ (ابو السعود) ۔ اور ” وجوہ “ سے اصحاب الوجوہ یعنی کفار مراد ہیں (کبیر) ۔ کفار و مشرکین دنیا میں نہ تو خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ 3 ۙ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ عَامَلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ۔ (الغاشیۃ : 2، 3) (کچھ چہرے اس دن خوفزدہ ہوں گے۔ سخت مشقت میں نڈھال، تھکے ہارے ہوں گے۔ ) قیامت کے منکرین کا حال چہروں سے مراد چہروں والے ہیں۔ لیکن انھیں چہروں سے یاد فرما کر درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے چہروں سے ان کے اندر کا خوف اور غم پوری طرح نمایاں ہوگا۔ ویسے بھی انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے۔ اس لیے چہرہ بول کر اس کی پوری شخصیت مراد لی جاتی ہے۔ دنیا میں یہ لوگ قیامت کا نام سننے کے روادار نہ تھے۔ اور آج قیامت آجانے کے بعد ان کے چہروں پر وہ احساسات پڑھے جاسکتے ہیں جو ان پر گزر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…
Read the full tafseer →دنیا میں برے اعمال : 3 : عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ (مصیبت جھیلتے خستہ ہونگے) وہ آگ میں اتنا کام کریں گے کہ جس سے تھک جائیں گے وہ کام زنجیریں کھینچنے اور طوق گھسیٹنے اور بار بار آگ میں گھس جانے کا ہوگا جس طرح اونٹ کیچڑ میں گھستے ہیں اور ان کا آگ کی وجہ سے مسلسل بلند ہونا اور پھر اس کی گہرائی میں گر جانا۔ ایک قول : یہ ہے کہ دنیا میں برے اعمال کیے اور ان سے لذت حاصل کرتا رہا اور خوش عیشی میں پڑا رہا وہ ان اعمال کی وجہ سے مشقت میں مبتلا ہوگا۔ ایک قول یہ ہے یہ گر جائوں کے پادری و راہب ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خشیت اختیار کی اور عمل کیے مسلسل روزے سے اپنے اعمال میں مشقت برداشت کی۔ پے در پے تہجد کی…
Read the full tafseer →3 ۔” عاملۃ ناصبۃ “ عطائؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یعنی جب لوگوں نے عمل کیا اور دنیا میں دین اسلام کے علاوہ بتوں کی عبادت کرنے والوں میں سے اور اہل کتاب کے کفار جیسے راہبین وغیرہم نے اپنے آپ کو تھکایا اللہ تعالیٰ ان سے گمراہی میں ان کی کوششوں کو قبول نہ کریں گے۔ وہ جہنم میں داخل ہوں گے قیامت کے دن اور یہ سعید بن جبیر اور زید بن اسلم رحمہما اللہ کا قول ہے اور نصب کا معنی عمل میں مشقت کا طریقہ اپنانا اور عکرمہ اور سدی رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ ” عاملۃ “ دنیا میں معاصی کے کام کرنے والے ” ناصبۃ “ آخرت میں جہنم میں اور ان میں سے بعض نے کہا ہے ” عاملۃ “ جہنم میں ” ناصبۃ “ اسی جہنم میں۔ حسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…
Read the full tafseer →(عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ) سخت محنت کرنے والے، تھکے ماندے۔ یعنی عذاب میں سخت تھکے ہوئے ہوں گے ان کو چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور آگ ان کے چہروں کو ڈھانپ لے گی۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۔ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ) میں اس معنی کا احتمال ہے کہ دنیا کے اندر مشقت اٹھانے والے چہرے اس روز جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا کے اندر (ان کی مشقت یہ تھی) کہ وہ بڑے عبادت گزار اور عمل کرنے والے تھے۔ مگر چونکہ اس عمل میں ایمان کی شرط معدوم تھی اس لیے عمل قیامت کے دن اڑتا ہوا غبار بنجائے گا۔ یہ احتمال معنی کے اعتبار سے اگرچہ صحیح ہے مگر سیاق کلام اس پر دلالت نہیں کرتا بلکہ پہلے معنی ہی قطعی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
(2) اس روز ناکام و نامراد لوگوں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے "۔ چہروں سے یہاں پر مراد ہیں چہروں والے، ای اصحاب الوجوہ۔ چہرہ چونکہ انسانی جسم کا سب سے اشرف عضو ہوتا ہے اس لیے اس کا اطلاق فرما کر اس سے پورا انسان مراد لیا گیا ہے جو کہ عربی زبان و محاورہ کا ایک معروف اور بلیغ اسلوب ہے، سو جن لوگوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر حق سے منہ موڑا ہوگا اور انہوں نے اس دنیا میں اپنی رضا ورغبت سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور خشوع و خضوع کا شرف حاصل نہیں کیا ہوگا وہ بدلہ و جزا کے اس دن میں اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–16
دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
ف 6 یعنی طرح طرح کے عذاب جھیلتے جھیلتے درماندہ و خستہ حال ہوں گے۔
Read the full tafseer →(88:3) عاملۃ : ناصبۃ ، عاملۃ ، عمل (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث، عمل کرنے والی۔ محنت کرنے والی۔ (تھکی ہوئی) ۔ ناصبۃ (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ، عاجز، مصیبت میں مبتلا ہونے والی۔ یہ بھی وجوہ مبتداء کی خبر ہے ۔ یعنی قیامت کے دن بہت سے چہرے (یا چہرے والے) اپنے دنیاوی اعمال کی وجہ سے ذلیل و خوار ہوں گے اور مشقت سے عاجز اور مصیبت میں مبتلاء ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
نیک کام کرنے کی دشواری اور اس کی فضیلت۔ (ف 2) فرمایا کہ کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر نہ تھے بت پرست تھے یاکتابی کافر مثل راہبوں اور پجاریوں کے انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں مشقتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–19
[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–21
سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…
Read the full tafseer →(3) مشقتیں جھیلتے ماندہ اور خستہ ہوں گے۔ یعنی چہروں کی حالت یہ ہوگی کہ ذلیل و خوار ہوں گے جہروں پر تعب اور مشقتوں اور محنتوں کے آثار نمایاں ہوں گے اور ماندگی اور ختگی اور تھکاوٹ ظاہر ہورہی ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی مصیبت چہروں سے ظاہر ہورہی ہوگی۔
Read the full tafseer →وہ محنت کرنے والے تھے لیکن آخرت میں تھکے ہوئے ہوں گے 3 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بہت محنت و مشقت کرتے رہے تھے لیکن ان کی ساری محنت و مشقت دنیا کی خاطر تھی اس میں آخرت کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا ہوگا کیونکہ قیامت کے تو وہ منکر تھے اور اس کو مانتے ہی نہ تھے اس لیے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں عمل کر کے تھک گئے ، انہوں نے جو کچھ دین کے نام پر کیا وہ بھی بدعات تھیں جن کا نام انہوں نے یا ان کے آبائو اجداد نے یا انکے پیروں اور مرشدوں نے اور مذہبی پروہتوں نے ان کو باور کرایا ہوگا کہ یہ دین کے کام ہیں حالانکہ ان کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوگا۔ اس وقت آپ غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
Commentary وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ (Many faces on that day will be humbled, working hard, exhausted...88:3). On the Day of Judgment, there will be two separate groups of people, believers and unbelievers, and their faces will be different. This verse describes the faces of the unbelievers. They will be downcast. The word khashi` ah from the root word khusha' means to humble, humiliate, cast down'. This is the meaning of casting oneself down before Allah in prayer. People who did not cast themselves down before Allah in this world, their faces on the Day of Judgement…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2 Some faces : some persons, so said for the face is the most conspicuous part of the human body by which man s personality is judged and which reflects the good or bad states through which man passes.
Read the full tafseer →