Al-Ghaashiya 88:4

Al-Ghaashiya · from ayah 4

88:4

تَصْلٰی نَارًا حَامِیَةً ۟ۙتَصۡلٰى نَارًا حَامِيَةً

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will [enter to] burn in an intensely hot Fire.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:4

تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه دہکتی ہوئی آگ میں جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جائیں بھڑکتی آگ میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

دہکتی ہوئی آگ میں جا گریں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

گرم آگ میں داخل ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

دہکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہیں داخل ہونا ہوگا ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی آگ میں

— مولانا اسحاق مدنی

جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ داخل ہوں گے دہکتی ہوئی آگ میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

they shall burn in a Scorching Fire;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will enter into the scorching fire.

— Muhammad Taqi Usmani

They will enter into the scorching fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will enter into Fire, Hamiyah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will [enter to] burn in an intensely hot Fire.

— Saheeh International

They will suffer the heat of the blazing fire

— Muhammad Sarwar

Entering into burning fire,

— Muhammad Habib Shakir

They shall roast into the scalding Fire,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 88:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–5

سورة الْغَاشِیَة 2 چہروں کا لفظ یہاں اشخاص کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے، اور انسان پر اچھی یا بری کیفیات بھی گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے، اس لیے " کچھ لوگ " کہنے کے بجائے " کچھ چہرے " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

ناراً حامیہ، حامیہ کے لفظیمعنے گرم کے ہیں اور آگ کا گرم ہونا اس کا طبعی حال ہے پھر اس کی صفت خاصہ بیان کرنا یہ بتلانے کے لئے ہے کہ اس آگ کی گرمی دنیا کی آگ کی طرح کسی وقت کم یا ختم ہونے والی نہیں بلکہ یہ حامیہ دائماً ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

یہ اس چیز کا بیان ہے جو اس بدحواسی کا سبب بنے گی جو اوپر مذکور ہوئی یعنی وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے اور کھولتے چشمے کا پانی پئیں گے۔ ’اٰنِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں مجرموں کی جس بدحواسی و پریشان حالی کا ذکر ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ وہ دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں۔ سورۂ قیامہ میں تصریح ہے کہ وَوُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ۵ تَظُنُّ أَنۡ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ (القیامہ ۷۵: ۲۴-۲۵) ’’ اور اس دن بہت سے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 3–4

3۔ 1 یعنی انہیں اتنا پر مشقت عذاب ہوگا کہ اس سے ان کا سخت برا حال ہوگا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ دنیا میں عمل کر کے تھکے ہوئے ہونگے یعنی بہت عمل کرتے رہے، لیکن وہ عمل باطل مذہب کے مطابق بدعات پر مبنی ہونگے، اس لئے عبادت اور سخت اعمال کے باوجود جہنم میں جائیں گے۔ چناچہ اس مفہوم کی روح سے حضرت ابن عباس نے (عَمِلَۃ، نَّاصِیَۃ) سے نصاریٰ مراد لئے ہیں (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

عاملة ناصبة (3:88) ” سخت مشقت کر رے ہوں گے ، تھکے جاتے ہوں گے “۔ دنیا میں وہ صرف اپنے نفس اور اپنی اولاد کے لئے جدوجہد کررہے ہوں گے ، دنیا اور دنیا کی طمع اور آز کے لئے تھکے ہوں گے۔ پھر آج انجام ان کے سامنے ہے کہ دنیا میں ان کو مل گیا جو ملنا تھا ، مگر آخرت میں تاریکی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب یہ آخرت کا سامنا ذلیل ہوکر کررہے ہیں ، تنگ ہیں ، خائب و خاسر ہیں اور مایوس ہیں۔ اور اس ذلت اور خواری کے ساتھ پھر درد ناک عذاب۔ تصلی ................ حامیة (4:88) ” شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے “۔ یہ اس کا مزہ چکھیں گے اور مشقتیں برداشت کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

13 یعنی جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی، بےاختیار پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو۔ اس وقت ایک گرم کھولتے ہو گے چشمہ کا پانی دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ہونٹ کباب ہوجائیں گے۔ اور آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑیں گی۔ پھر فوراً درست کی جائیں گی اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ العیاذباللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے“۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

3 بعض مفسرین نے اس آیت کو آخرت سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ اسی حال میں کبھی انہیں کسی بلندی پر چڑھنے کا حکم دیا جائے گا اور کبھی اترنے کا۔ اسی محنت و مشقت کی وجہ سے وہ تھک کر چور ہوجائیں گے۔ اور بعض نے اسے دنیا سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں محنت اور ریاضت کرکے تھک چکے ہوں گے لیکن ان کے نیک اعمال بھی شرک یا کسی دوسری وجہ سے برباد ہوجائیں گے تو ایسے لوگ بھی اپنے انجام سے سخت خوفزدہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–7

2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–5

وجوہ یومئذ خاشعۃ یہاں ” چہرے “ کا لفظ اشخاص کے معنی میں اسعتمال ہوا ہے، اس لئے کہ انسانی جسم کی نمایاں ترین چیز چہرہ ہے اور انسان پر اچھی بری کیفیات کا اثر اولاً چہر ہے ہی پر نمایاں ہوتا ہے، اس لئے ” کچھ لوگ “ کہنے کے بجائے ” کچھ چہرے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تصلی نارا حامیۃ . وہ گرم آگ میں داخل ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آگ تپائی جائے گی اور اللہ کے دشمنوں پر اس کو بھڑکایا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–7

(4۔ 7) اور پھر جہنم میں داخل ہوں گے اور دوزخ میں کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلائے جائیں گے اور ان کو ماسوائے ایک خاردار درخت کے اور کوئی کھانا نصیب نہیں ہوگا، ضریع یہ مکہ کے راستہ میں ایک خاردار درخت ہے جب یہ ہرا اور تازہ ہوتا ہے تو اسے اونٹ کھاتے ہیں اور خشک ہوجانے کے بعد بلی کے ناخنوں کی طرح ہوجاتا ہے، غرض وہ درخت نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی کو دور کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 3–4

(1) عاملۃ ناصبۃ…: کافر دنیا میں جتنی محنت بھی کرے وہ قیامت کے دن گرد و غبار کی طرح اڑا دی جائے گی۔ (دیکھیے فرقان : 23) یہی حال دکھاوا کرنے والے اور سنت کو چھوڑ کر خود ساختہ عمل کرنے والے کا ہے کہ سخت محنت کے باوجود جہنم میں جائے گا۔ (دیکھیے سورة کہف کا آخری رکوع مع تفسیر) اسی مفہم کے پیش نظر ابن عباس ؓ عنہمانے ”عاملتہ ناصبۃ“ سے مراد نصاریٰ لئے ہیں۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة (ھل اتاک حدیث الغاشیۃ) (بعد ح : 3831) نصرانی راہبوں کی شدید ریاضتیں مشہور ہیں، مگر وہ قیامت کے دن ان کے کسی کام نہیں آئیں گی۔ اسی طرح جو لوگ خود ساختہ ورد وظیفے یا عبادتیں کرتے ہیں یا اپنے بنائے ہوئے طریقوں پر عبادت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تصلی ناراحامیہ۔ ان چہروں کو آگ کی تپش اور لپک پہنچے گی، حامیہ سے مراد سخت گرم ہے یعنی اسے طویل مدت تک روشن کیا گیا اور جلایا گیا اسی سے یہ جملہ بولا جاتا ہے، حمی النھار حمی التنور حمیا۔ یعنی اس کی گرمی شدید ہوگی، کسائی نے کہا، اشتد حمی الشمس وحموھا کا معنی ایک ہی ہے ابوعمرو، ابوبکر اور یعقوب نے ضمہ کے ساتھ تصلی پڑھا ہے جبکہ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اسے تصلی بھی پڑھا گیا ہے اس بارے میں گفتگو، اذالسماء انشقت۔ میں پہلے گزرچکی ہے ماوردی نے کہا، اگر یہ کہا جائے اس کی صفت حمی سے لگانے کی کیا وجہ ہے جبکہ قوم آگ تو گرم ہی ہوتی ہے۔ جب کہ یہ تو اس کے احوال میں سے کم حالت ہے تو اس ناقص صفت کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تصلی نارا حامیہ دہکتی آگ میں گریں گے۔ یعنی وہ داخل ہوں گے انتہائی دہکتی آگ میں آیت تسقی من عین اٰنیۃ یعنی ایسے چشمے سے پلایا جائے گا کہ جس کی گرمی انتہادرجہ کی ہوگی لیس لہم طعام الا من ضریع یعنی آگ کے درخت میں سے۔ 10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت من عین اٰنیۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پکنا اور کھولنا اس وقت سے ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً : وہ گریں گے ایک دہکنے والی آگ میں ] (آیت۔ 4 ۔ 5) تَصْلٰی اور تُسْقٰی واحد مؤنث کے صیغے ہیں۔ وَجُوْہٌ جمع مکسر ہے، اس لیے لفظی رعایت کے تحت واحد مؤنث کے صیغے آئے ہیں۔ تُسْقٰی، ثلاثی مجرد اور باب افعال، دونوں کا مجہول ہوسکتا ہے کیونکہ دونوں کے مضارع مجہول ہم شکل ہوجاتے ہیں۔ اگر ثلاثی مجرد سے مانیں تو مطلب ہوگا، ان کو پلایا جائے گا۔ اگر باب افعال سے مانیں تو مطلب ہوگا انھیں پینے کو دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةًۙ004﴾ (جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے) ۔ لفظ حامیة کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کا معنی ہے ” انتہائی گرم “ جو حمیت النار سے ماخوذ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری یہ آگ (جس کو تم جلاتے ہو) دوزخ کی آگ کا سترھواں حصہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا (جلانے کو تو) یہی بہت ہے، آپ نے فرمایا (وہاں اس کے باوجود) دنیا کی آگ سے دوزخ کی آگ گرمی میں 69 درجہ بڑھی ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ ” تصلی “ ، ” حامیۃ “ نہایت تند و تیز آگ جو اللہ کے دشمنوں پر بھڑک اٹھے گی۔ ” قال ابن عباس قد حمیت فھی تتلظی علی اعداء اللہ۔ (مظہری، کبیر) ۔ ” تسقی من عین انیۃ “ جب ان کو جہنم کی شدید ترین گرمی میں پیاس لگے گی تو ان کو ایک ایسے چشمے سے پانی پلایا جائے گا جس سے نہایت گرم اور کھولتا ہوا پانی ابل رہا ہوگا۔ ” انیۃ “ نہایت گرم۔ بلغت نتہاہا فی الرچ (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تَصْلٰى نَارًا حَامِيَۃً۝ 4 ۙ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال : أُولئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَواتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۔ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 4، 5) (وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ اور کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انھیں پلایا جائے گا۔ ) اوپر جن لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے چہرے بری طرح اداس اور اترے ہوئے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چہروں کے بگاڑ کا سبب یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے احوال پر جب غور کریں گے تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہمارا انجام جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور پھر انھیں حشر میں پیش آنے والے معاملات سے بھی پوری طرح اس کا اندازہ ہوجائے گا۔ تو اس خوف کی وجہ سے جو ان کی اندرونی کیفیت ہوگی اس کا عکس ان کے چہروں پر پڑ رہا ہوگا۔ چناچہ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً (وہ آتش سوزاں میں داخل ہونگے) وہ اس آگ میں داخل ہونگے اور جو مدت مدید بھڑکائی گئی۔ جس کی گرمی کا مقابلہ کوئی حرارت و گرمی نہیں کرسکتی۔ قراءت : ابوبکر اور ابوعمرو نے تُصلٰی پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” تصلیٰ نارا “ اہل بصرہ اور ابوب کرنے ” تصلیٰ “ تاء کی پیش کے ساتھ پڑھا ہے اللہ تعالیٰ کے قول ” تسقی من عین انیۃ “ کا اعتبار کرتے ہوئے اور دیگر حضرات نے تاء کی زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” حامیۃ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تحقیق وہ گرم کی گئی ہوگی۔ پس وہ اللہ کے دشمنوں پر شعلے مارے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً ) دہکتی آگ میں داخل ہوں گے۔ یعنی اس کی حرارت بہت سخت ہوگی جو ان کو ہر جگہ سے گھیر لے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(3) دولت ایمان سے محروم لوگوں کا انجام دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو داخل ہونا ہوگا ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی بھڑکتی ہوئی آگ میں "۔ ایسی ہولناک اور اس قدر دہکتی بھڑکتی آگ کہ اس کا یہاں پر اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم جن لوگوں کا آخری انجام یہ ہونے والا ہے ان کو اگر دنیاوی زندگی کی اس چند روزہ فرصت میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس کے برعکس ایمان و یقین کی دولت سے سرشار جو شخص اس ہولناک عذاب سے بچ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرشار و سرفراز ہوگیا وہ کس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 7 مفسرین کہتے ہیں کہ اس چشمہ کا پانی اس قدر گرم ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ کسی پہاڑ پر گرجائے تو وہ پگھل جائے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:4) تصلی نارا حامیۃ یہ جملہ بھی وجوہ کی خبر ہے (دہکتی ہوئی آگ میں پڑے ہوں گے) تصلی۔ صلی سے (باب سمع) مصدر۔ مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ آگ میں پڑیں گے۔ وہ آگ میں داخل ہوں گے۔ نارا حامیۃ موصوف و صفت مل کر تصلی کا مفعول۔ حامیۃ : حمی (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث بمعنی دہکتی ہوئی۔ گرم تیز۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

نیک کام کرنے کی دشواری اور اس کی فضیلت۔ (ف 2) فرمایا کہ کتنے لوگ ہیں جو دنیا میں محنتیں کرتے کرتے تھک جاتے ہیں مگر ان کی سب محنتیں طریق حق پر نہ ہونے کی وجہ سے سب اکارت ہیں یہاں بھی تکلیفیں اٹھائیں اور وہاں بھی مصیبت میں رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین اسلام پر نہ تھے بت پرست تھے یاکتابی کافر مثل راہبوں اور پجاریوں کے انہوں نے محنتیں بھی اٹھائیں مشقتیں بھی جھیلیں اور نتیجہ یہ ہوا کہ جہنم میں گئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) نہایت تیز آگ میں داخل ہوں گے - حامیہ اس آگ کو کہتے ہیں جس میں انتہائی درجہ کی حرارت اور سوزش ہو ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان محتیوں کی جماعت کو ایک بھڑکی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا 4 ؎ ان کو اس آگ کی نذر کیوں نہ کیا جاتا جب کہ وہ دنیا میں اپنی خواہشات اور جذبات کی قید میں پڑے رہے تھے اور وہ جذبات اور خواہشات میں تو ہیں جن کو اس وقت جلتی ہوئی آگ میں بدل دیا گیا ہے کیونکہ ان کے اعمال محض ان کی خواہشات ہی تھیں وہ اعمال اسلام کے اعمال کب تھے کہ ان کا کوئی اجر اور ثواب ان کو ملتا ۔ دنیا میں ان لوگوں نے جس طرح کی ریاضت کی تھی اور مجاہدات میں دن رات مصروف رہے ہیں اور چلہ کشیاں کرتے رہے ہیں ان سے بھی ان کا مقصود دنیا کی کمائی تھا اور وہ انہوں نے خوب کمائی اور اس دھوکا بازی سے لوگوں کو خوب لوٹا اور ان مکاریوں اور فریب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

نَارًا حَامِيَةً (...[ the ] scorching fire...88:4). The word حَامِيَةً hamiyah literally means 'hot' and 'scorching'. Although this is the natural property of fire that needed no mention, yet the specific reference to this quality of the fire brings out the point that the fire of Hell cannot be compared to the fire of this world. The heat of the fire of this world, some time or the other, is reduced or ends. But the fire of Hell is everlasting and eternal. Its heat will neither reduce nor end.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

2 Some faces : some persons, so said for the face is the most conspicuous part of the human body by which man s personality is judged and which reflects the good or bad states through which man passes.

Read the full tafseer →