Al-Ghaashiya 88:5

Al-Ghaashiya · from ayah 5

88:5

تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍ ۟ؕتُسۡقٰى مِنۡ عَيۡنٍ اٰنِيَةٍؕ

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

They will be given drink from a boiling spring.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:5

کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور نہایت گرم چشمے کا پانی ان کو پلایا جائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہیں کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نہایت جلتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(انہیں) کھولتے ہوئے چشمہ سے (پانے) پلایا جائے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پلائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

انہیں کھولتے ہوئے پانی کے چشمہ سے پینے کو پانی دیا جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کھولتے چشمہ کا پانی پلائے جائیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان کو پانی پلایا جائے گا ایک نہایت ہی کھولتے چشمے سے

— مولانا اسحاق مدنی

کھولتے ہوئے چشمے سے انہیں پانی پلایا جائے گا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہیں پلایا جائے گا پانی ایک کھولتے ہوئے چشمے سے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

— محترمہ رفعت اعجاز

their drink shall be from a boiling spring.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They will be made to drink water from a boiling spring.

— Muhammad Taqi Usmani

They will be made to drink water from a boiling spring.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will be given to drink from a boiling (Aniyah) spring,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They will be given drink from a boiling spring.

— Saheeh International

and will be made to drink from a fiercely boiling spring.

— Muhammad Sarwar

Made to drink from a boiling spring.

— Muhammad Habib Shakir

Given to drink of a spring fiercely boiling.

— Abdul Majid Daryabadi

The while they are given, to drink, of a boiling hot spring,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 2–5

سورة الْغَاشِیَة 2 چہروں کا لفظ یہاں اشخاص کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے جسم کی نمایاں ترین چیز اس کا چہرہ ہے جس سے اس کی شخصیت پہچانی جاتی ہے، اور انسان پر اچھی یا بری کیفیات بھی گزرتی ہیں ان کا اظہار اس کے چہرے سے ہی ہوتا ہے، اس لیے " کچھ لوگ " کہنے کے بجائے " کچھ چہرے " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

ناراً حامیہ، حامیہ کے لفظیمعنے گرم کے ہیں اور آگ کا گرم ہونا اس کا طبعی حال ہے پھر اس کی صفت خاصہ بیان کرنا یہ بتلانے کے لئے ہے کہ اس آگ کی گرمی دنیا کی آگ کی طرح کسی وقت کم یا ختم ہونے والی نہیں بلکہ یہ حامیہ دائماً ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 4–5

یہ اس چیز کا بیان ہے جو اس بدحواسی کا سبب بنے گی جو اوپر مذکور ہوئی یعنی وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے اور کھولتے چشمے کا پانی پئیں گے۔ ’اٰنِیَۃٌ‘ کے معنی ہیں جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہو۔ قرآن مجید کے دوسرے مقامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں مجرموں کی جس بدحواسی و پریشان حالی کا ذکر ہے اس کا تعلق اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہو گی کہ وہ دوزخ میں ڈالے جانے والے ہیں۔ سورۂ قیامہ میں تصریح ہے کہ وَوُجُوۡہٌ یَوْمَئِذٍ بَاسِرَۃٌ ۵ تَظُنُّ أَنۡ یُفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ (القیامہ ۷۵: ۲۴-۲۵) ’’ اور اس دن بہت سے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ وہ گمان کرتے ہوں گے کہ ان پر کمر توڑ دینے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

یہاں وہ سخت کھولتا ہوا پانی مراد ہے جس کی گرمی انتہاء کو پہنچی ہوئی ہو۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

تسقی .................... انیة (5:88) ” کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا “۔ ان یہ کے معنی انتہائی گرم ، کھولتا ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 4–5

13 یعنی جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی، بےاختیار پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو۔ اس وقت ایک گرم کھولتے ہو گے چشمہ کا پانی دیا جائے گا جس کے پیتے ہی ہونٹ کباب ہوجائیں گے۔ اور آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرپڑیں گی۔ پھر فوراً درست کی جائیں گی اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے۔ العیاذباللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے“۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–5

3 بعض مفسرین نے اس آیت کو آخرت سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایسے لوگوں کے گلوں میں طوق اور پاؤں میں بیڑیاں ہوں گی۔ اسی حال میں کبھی انہیں کسی بلندی پر چڑھنے کا حکم دیا جائے گا اور کبھی اترنے کا۔ اسی محنت و مشقت کی وجہ سے وہ تھک کر چور ہوجائیں گے۔ اور بعض نے اسے دنیا سے متعلق کیا ہے اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ دنیا میں محنت اور ریاضت کرکے تھک چکے ہوں گے لیکن ان کے نیک اعمال بھی شرک یا کسی دوسری وجہ سے برباد ہوجائیں گے تو ایسے لوگ بھی اپنے انجام سے سخت خوفزدہ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–7

2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–5

وجوہ یومئذ خاشعۃ یہاں ” چہرے “ کا لفظ اشخاص کے معنی میں اسعتمال ہوا ہے، اس لئے کہ انسانی جسم کی نمایاں ترین چیز چہرہ ہے اور انسان پر اچھی بری کیفیات کا اثر اولاً چہر ہے ہی پر نمایاں ہوتا ہے، اس لئے ” کچھ لوگ “ کہنے کے بجائے ” کچھ چہرے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

تسقی من عین انیۃ . ان کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ : اٰنیہ کا معنی ہے گرمی کی آخری چوٹی پر پہنچا ہوا ‘ جس کے اوپر گرمی کی کوئی ڈگری نہ ہو۔ بیہقی نے بحوالہ حسن بصری (رح) لکھا ہے کہ جس چیز کی گرمی آخری نمبر پر پہنچ جائے اور اس کے اوپر گرمی کا کوئی درجہ نہ ہو تو عرب کہتے ہیں : قَدَ اَنِیَ حَرُّہٗ ۔ اس چیز کی گرمی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ فرمایا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ ابتداء آفرنیش سے جہنم اس چشمہ پر دہک رہی ہے اس لیے اس کی گرمی آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے : دوزخی ‘ دوزخ میں پیاسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–7

(4۔ 7) اور پھر جہنم میں داخل ہوں گے اور دوزخ میں کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلائے جائیں گے اور ان کو ماسوائے ایک خاردار درخت کے اور کوئی کھانا نصیب نہیں ہوگا، ضریع یہ مکہ کے راستہ میں ایک خاردار درخت ہے جب یہ ہرا اور تازہ ہوتا ہے تو اسے اونٹ کھاتے ہیں اور خشک ہوجانے کے بعد بلی کے ناخنوں کی طرح ہوجاتا ہے، غرض وہ درخت نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی کو دور کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

تسقی من عین آنیہ۔ الآنی سے مراد وہ چیز ہے جس کی گرمی انتہا کو پہنچ جائے، یہ ایناء سے مشتق ہے جس کا معنی تاخیر ہے اس معنی میں ہے، آئیت واذیت تو دیر سے آیا اور تو نے اذیت دی، آناہ یونیہ ایناء اسے گرم کیا، اسے روکا اور اسے موخر کیا، اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے یطوفون بینھا وبین حمیم ان۔ الرحمن) وہ گردش کرتے رہیں گے جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان۔ من عین آنیہ۔ کا معنی تفاسیر میں یہ کیا گیا ہے اس کی گرمی انتہا کو پہنچے ہوئی ہے اگر اس کا قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر گرے تو وہ پگھل جائیں حضرت حسن بصری نے کہا، آنیہ سے مراد ہے اس کی گرمی اپنے کمال کو آپہنچی ہے جب سے اسے تخلیق کیا گیا ہے اس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

11۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من عین اٰنیۃ یعنی اس کی حرارت اور گرمی حد کو پہنچی ہوئی ہے اور وہ اس کے پینے کا وقت ہے آیت الا من ضریع یعنی خش کانٹے دا جھاڑ ہے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت من عین اٰنیہ سے مراد ہے کہ اس کی گرمی انتہا پر ہوگی کہ اس کے اوپر کوئی اور گرمی اور حرارت نہیں ہوگی۔ 13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰنیۃ سے مراد ہے حاضرۃ یعنی موجود۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[تُسْقٰى: انھیں پینے کو دیا جائے گا ][ مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ : ایک انتہائی (گرم) چشمے سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍؕ005﴾ (انہیں کھولتے ہوئے چشموں سے پلایا جائے گا) ۔ ان آیات میں نافرمانوں کے احوال بیان فرمائے ہیں جو وہاں پیش آئیں گے۔ اول تو یہ فرمایا کہ بہت سے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا میں جو ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کو اور اس کی مخلوق کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کو کہا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے اور ذرا سا جھکاؤ بھی انہیں گوارا نہ تھا۔ قیامت کے دن انہیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔ سورة القلم میں فرمایا ﴿خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ﴾ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چھائی ہوگی) ۔ ﴿وَ قَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ 0043﴾ (اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 4–5

4:۔ ” تصلی “ ، ” حامیۃ “ نہایت تند و تیز آگ جو اللہ کے دشمنوں پر بھڑک اٹھے گی۔ ” قال ابن عباس قد حمیت فھی تتلظی علی اعداء اللہ۔ (مظہری، کبیر) ۔ ” تسقی من عین انیۃ “ جب ان کو جہنم کی شدید ترین گرمی میں پیاس لگے گی تو ان کو ایک ایسے چشمے سے پانی پلایا جائے گا جس سے نہایت گرم اور کھولتا ہوا پانی ابل رہا ہوگا۔ ” انیۃ “ نہایت گرم۔ بلغت نتہاہا فی الرچ (بیضاوی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَۃٍ۝ 5 ۭ سقی السَّقْيُ والسُّقْيَا : أن يعطيه ما يشرب، والْإِسْقَاءُ : أن يجعل له ذلک حتی يتناوله كيف شاء، فالإسقاء أبلغ من السّقي، لأن الإسقاء هو أن تجعل له ما يسقی منه ويشرب، تقول : أَسْقَيْتُهُ نهرا، قال تعالی: وَسَقاهُمْ رَبُّهُمْ شَراباً طَهُوراً [ الإنسان/ 21] ، وقال : وَسُقُوا ماءً حَمِيماً [ محمد/ 15] ( س ق ی ) السقی والسقیا کے معنی پینے کی چیز دینے کے ہیں اور اسقاء کے معنی پینے کی چیز پیش کردینے کے ہیں تاکہ حسب منشا لے کر پی لے لہذا اسقاء ینسبت سقی کے زیادہ طبغ ہے کیونکہ اسقاء میں مایسقی منھ کے پیش کردینے کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ پینے والا جس قد ر چاہے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 4–5

تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۔ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ۔ (الغاشیۃ : 4، 5) (وہ دہکتی آگ میں پڑیں گے۔ اور کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انھیں پلایا جائے گا۔ ) اوپر جن لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے چہرے بری طرح اداس اور اترے ہوئے ہوں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے چہروں کے بگاڑ کا سبب یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں گزاری ہوئی زندگی کے احوال پر جب غور کریں گے تو انھیں معلوم ہوجائے گا کہ ہمارا انجام جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔ اور پھر انھیں حشر میں پیش آنے والے معاملات سے بھی پوری طرح اس کا اندازہ ہوجائے گا۔ تو اس خوف کی وجہ سے جو ان کی اندرونی کیفیت ہوگی اس کا عکس ان کے چہروں پر پڑ رہا ہوگا۔ چناچہ ان…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

5 : تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ (کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلائے جائیں گے) پانی کے ایسے چشمے سے جس میں انتہائی حرارت ہوگی۔ وجہ ثانیث : ان صفات و افعال میں تانیث کا استعمال وجوہؔ کی وجہ سے ہے۔ اور وجوہ سے مراد اصحاب وجوہ ہیں۔ اس کی دلیل اگلی آیت ہے۔ جس میں ھم ؔ ضمیر جمع لوٹائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” تسقی من عین انیۃ “ حرارت میں انتہا کو پہنچا ہوا۔ تحقیق اس پر جہنم جلائی گئی ہے جب سے پیدا کی گئی ہے۔ پس وہ اس کی طرف دھکیلے جائیں گے پیاسے۔ مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اگر اس کا ایک قطرہ دنیا کے پہاڑوں پر گرجائے تو وہ پگھل جائیں یہ تو ان کا مشروب ہے، پھر ان کے کھانے کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ ) ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایاجائے گا۔ یعنی انتہائی گرم۔ (وان یستغیثوا یغاثوا بما کالمھل یشوی الوجوہ۔ الکھف 29) اور اگر وہ فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے ان کی فریاد رسی کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے کے مانند ہوگا جو چہروں کو بھون ڈالے گا۔ پس یہ ہوگا ان کا مشروب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(4) دوزخیوں کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو پانی پلایا جائے گا ایک نہایت ہی کھولتے ہوئے چشمے سے جو اس قدر کھولتا ہوگا کہ بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو اور بگاڑ کر رکھ دے گا ان کی شکلوں کو، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الکہف 29 پ 15) اگر وہ لوگ پینے کے لیے پانی مانگیں گے تو ان کو ایسا تیل کی تلچھٹ جیسا گرم پانی پلایا جائے گا جو بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو، بڑا ہی برا پانی ہوگا وہ اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا وہ، اور وہ پانی پی لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ان کی انتڑیوں کو، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، محمد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 4–5

ف 7 مفسرین کہتے ہیں کہ اس چشمہ کا پانی اس قدر گرم ہے کہ اگر اس کا ایک قطرہ کسی پہاڑ پر گرجائے تو وہ پگھل جائے۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:5) تسقی من عین انیۃ۔ یہ جملہ بھی وجوہ مبتدا کی خبر ہے۔ ان کو کھولتے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ تسقی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ سقی (باب ضرب) مصدر سے۔ اسے پایا جائے گا ۔ وہ پلائی جائے گی۔ عین انیۃ موصوف و صفت۔ سخت ابلتا ہوا چشمہ۔ سخت کھولتا ہوا چشمہ۔ انیۃ : انی (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ انی الشیء اس کا وقت قریب آگیا۔ وہ اپنی انتہاء اور پختگی کو قریب پہنچ گئی۔ انی الحیم پانی حرارت میں اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ عین انیۃ : میں عین (بوجہ عمل من (حرف جار) مجرور ہے اور انیۃ اپنے موصوف کی مطابقت میں۔ فائدہ : خاشیۃ ، عاملۃ، ناصبۃ : اسم فاعل کے صیغے واحد مؤنث ہیں۔ لیکن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 1) جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی بےاختیار پیاس پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو، اس وقت ایک گرم کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی دیاجائے، اور جب وہ پانی پلایاجائے گا انتڑیاں کٹ کر گرپڑیں گی اور وہی پانی ان کے سرپرڈالا جائے گا جس سے جسم کے اندر تک حرارت پہنچ کر دل اور جگر سب نکل پڑے گا پھر ہر دوزخی کو اصلی حال پر لایاجائے گا اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے، اور جب دوزخی بھوک کے عذاب سے جلائیں گے تو یہ کانٹوں دار گھانس ان کو نگلائی جائے گی جو تلخی میں ایلوئے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے جب ان کے حلق میں پھنس جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(5) وہ ایک کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلائے جائیں گے - یہ شاید اسی گرم پانی کا چشمہ ہوگا جس کو دوسری جگہ حمیم فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کو کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلایا جائے گا 5 ؎ ( انیۃ) سخت کھولی ہوئی انتی سے جس کے معنی سخت کھولنے اور پکنے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ عین جس کے معنی چشمہ کے ہیں اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور عربی زبان میں اس کی مؤنث کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ گزشتہ آیات میں کفار کی دوزخی زندگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا ان مخالفین و معاندین کو فرشتے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آگ میں بھنے جا رہے ہوں گے اور ان کو پیاس کی شدت ہوگی اور پینے کی پانی ملے گا ۔ وہ ایسے چشمے سے ان کو پلایا جائے گا جو گرمی کی شدت کے باعث کھول رہا ہوگا اور کھانے کے لئی ان کو جو کچھ پیش کیا جائے گا اس کا ذکر آگے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

نَارًا حَامِيَةً (...[ the ] scorching fire...88:4). The word حَامِيَةً hamiyah literally means 'hot' and 'scorching'. Although this is the natural property of fire that needed no mention, yet the specific reference to this quality of the fire brings out the point that the fire of Hell cannot be compared to the fire of this world. The heat of the fire of this world, some time or the other, is reduced or ends. But the fire of Hell is everlasting and eternal. Its heat will neither reduce nor end.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 2–5

2 Some faces : some persons, so said for the face is the most conspicuous part of the human body by which man s personality is judged and which reflects the good or bad states through which man passes.

Read the full tafseer →