Al-Ghaashiya 88:6

Al-Ghaashiya · from ayah 6

88:6

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ ۟ۙلَـيۡسَ لَهُمۡ طَعَامٌ اِلَّا مِنۡ ضَرِيۡعٍۙ

اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

For them there will be no food except from a poisonous, thorny plant

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Ghaashiya

All translations of 88:6

خار دار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے لئے سوائے کانٹے دار درختوں کے اور کچھ کھانے کو نہ ہوگا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کے لیئے ایک کانٹے دار جھاڑ کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے لئے خاردار خشک زہریلی جھاڑیوں کے سوا کچھ کھانا نہ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا مگر ضریع سے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

خار دار سوکھی گھاس کے علاوہ ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان کے کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوگی سوائے ایک ایسی خاردار سوکھی گھاس کے

— مولانا اسحاق مدنی

انہیں کوئی کھانا نہ ملے گا بجز خاردار (درخت) کے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ہوگا ان کے لیے کھانے کو کچھ بھی سوائے خاردار جھاڑیوں کے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور خار دار جھاڑ کے علاوہ ان کے لیے کوئی کھانا نہ ہوگا

— محترمہ رفعت اعجاز

They shall have no food except bitter dry thorns

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

There will be no food for them except from a thorny plant

— Muhammad Taqi Usmani

There will be no food for them except from a thorny plant

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

No food will there be for them but from Dari`,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

No food for them save bitter thorn-fruit

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For them there will be no food except from a poisonous, thorny plant

— Saheeh International

They will have no food other than bitter and thorny fruit

— Muhammad Sarwar

They shall have no food but of thorns,

— Muhammad Habib Shakir

No food shall be theirs save bitter thorn,

— Abdul Majid Daryabadi

No food will there be for them but a bitter Dhari'

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 88:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–7

سب کو ڈھانپنے والی حقیقت غاشیہ قیامت کا نام ہے اس لیے کہ وہ سب پر آئیگی سب کو گھیرے ہوئے ہوگی اور ہر ایک کو ڈھانپ لے گی ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ ایک عورت کی قرآن پڑھنے کی آواز آئی آپ کھڑے ہو کر سننے لگے اس نے یہی آیت ھل اتک پڑھی یعنی کیا تیرے پاس ڈھانپ لینے والی قیامت کی بات پہنچی ہے ؟ تو آپ نے جواباً فرمایا نعم قد جآءنی یعنی ہاں میرے پاس پہنچ چکی ہے اس دن بہت سے لوگ ذلیل چہروں والے ہوں گے پستی ان پر برس رہی ہوں گی ان کے اعمال غارت ہوگئے ہوں گے انہوں نے تو بڑے بڑے اعمال کیے تھے سخت تکلیفیں اٹھائی تھیں وہ آج بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگئے ایک مرتبہ حضرت عمر ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–8

سورة الْغَاشِیَة 3 قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا ہے کہ جہنم کے لوگوں کو زقوم کھانے کے لیے دیا جائے گا کہیں ارشاد ہوا ہے کہ ان کے لیے غسلین (زخموں کے دھو ون) کے سوا کوئی کھانا نہ ہوگا، اور یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ انہیں خاردار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا۔ ان بیانات میں در حقیقت کوئی تضاد نہیں ہے۔ ان کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور مختلف قسم کے عذاب ان کو دیے جائیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ زقوم کھانے سے بچنا چاہیں گے تو غسلین ان کو ملے گا، اس سے بھی بچنا چاہیں تو خاردار گھاس کے سوا کچھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لیس لھم طعام الا من ضریع یعنی اہل جہنم کو کھانے کے لئے ضریع کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ ضریع دنیا میں ایک خاص قسم کی خار دار گھاس ہے جو زمین پر پھیلتی ہے کوئی جانور اس کے پاس نہیں جاتا بدبو دار زہریلی کانٹوں والی ہے (کذافسرہ عکرمہ و مجاہد، قرطبی) جہنم میں گھاس درخت کیسے۔ یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے گا کہ گھاس درخت تو آگ سے جل جانے الی چیزیں ہیں جہنم میں یہ کیسے رہیں گی کیونکہ جس خالق ومالک نے ان کو دنیا میں پانی اور ہوا سے پالا ہے اس کو یہ بھی قدرت ہے کہ جہنم میں ان درختوں کی غذا آگ ہی بنا دے وہ اسی سے پھلیں پھولیں۔ ایک شبہ کا جواب۔ قرآن میں اہل جہنم کی غذا کے بارے میں مختلف چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ یہاں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دوزخیوں کی غذا: پانی کے بعد یہ اس کھانے کا ذکر ہے جو دوزخ میں ان کو ملے گا۔ فرمایا کہ ان کو کھانے کی کوئی چیز وہاں میسر نہیں آئے گی۔ صرف ضریع چابیں گے اور اس پر کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ ’ضَرِیْعٌ‘ ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔ مقصود کلام یہاں حصر نہیں ہے کہ ان کا کھانا صرف ’ضَرِیْعٌ‘ ہو گا۔ بلکہ یہ استثنائے منقطع ہے۔ حصر کا مضمون اس صورت میں پیدا ہوتا جب ’ضَرِیْعٌ‘ کسی درجے میں بھی کوئی کھانے کی چیز ہوتی۔ جب وہ سرے سے طعام میں داخل ہی نہیں ہے تو استثناء سے صرف یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کھانے کی کوئی چیز جب انھیں میسر نہیں آئے گی تو بھوک سے بے بس ہو کر وہ ’ضَرِیْعٌ‘ زہر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 6–14

یہ ایک کانٹے دار درخت ہوتا ہے جسے خشک ہونے پر جانور بھی کھانا پسند نہیں کرتے، بہرحال یہ بھی زقوم کی طرح ایک نہایت تلخ، بدمزہ، اور ناپاک ترین کھانا ہوگا جو جزو بدن بنے گا نہ اس سے بھوک ہی مٹے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–16

1: یہ ”غاشیہ“ کا ترجمہ ہے، اور اسی وجہ سے اس سورت کا نام غاشیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 6–7

لیس لھم ............................ من جوع (7:88) ” خاردار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لئے نہ ہوگا جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ “” ضریع “ کے معنی کے بارے میں دوقول ہیں ، ایک یہ کہ یہ ایک درخت ہوگا جو جہنم کے اندر ہی پیدا ہوگا جیسا کہ خود قرآن مجید میں زقوم آیا ہے کہ وہ ایک درخت ہے ، جو جہنم کی تہہ میں پیدا ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے جو زمین کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے ، اور جب یہ سبز ہوتی ہے تو اسے شبرق کہتے ہیں اور جب اسے کاٹ لیا جائے اور خشک ہو تو ضریع کہتے ہیں ، اسے اونٹ چرتے ہیں۔ جب یہ خشک ہو تو اونٹ بھی اسے کھا نہیں سکتے کیونکہ اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ غرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 " ضریح " ایک خاردار درخت ہے دوزخ میں جو تلخی میں ایلوے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے۔ جب دوزخی بھوک کے عذاب سے چلائیں گے تو یہ چیز کھانے کو دی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 2–6

آیت 2{ وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَۃٌ۔ } ”بہت سے چہرے اس دن ذلیل ہوں گے۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة القیامہ اور سورة عبس میں بھی آچکا ہے۔ سورة القیامہ میں اس صورت حال کا نقشہ یوں دکھایا گیا ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ - وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍم بَاسِرَۃٌ - تَظُنُّ اَنْ یُّفْعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ۔ } ”کچھ چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے ‘ اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے اور کچھ چہرے اس دن افسردہ ہوں گے۔ خیال کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ سلوک ہونے والا ہے“۔ جبکہ سورة عبس میں یہی کیفیت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ - ضَاحِکَۃٌ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 دوزخیوں کی مختلف غذائیں :۔ ضَرِیْعٌ ایک خار دار گھاس جس کا ذائقہ انتہائی تلخ اور بوناگوار ہوتی ہے اور جب سوکھ جاتی ہے تو زہر بن جاتی ہے۔ عربی میں اسے شبرق بھی کہتے ہیں۔ اہل دوزخ کی یہی غذا ہوگی۔ واضح رہے کہ قرآن میں بعض مقامات پر اہل دوزخ کی خوراک تھوہر کا درخت ذکر ہوئی ہے اور بعض مقامات پر غسلین بھی زخموں کا دھو ون اور اس مقام پر ضریع بتائی گئی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو یہ ہوسکتی ہے کہ مختلف قسم کے مجرموں کی خوراک مختلف ہو، دوسری وجہ اختلاف زمانہ ہے یعنی کسی دور میں ایک قسم کی خوراک دی جائے گی اور دوسرے دور میں دوسری قسم کی اور اس کی تیسری وجہ تنوع بھی ہوسکتی ہے۔ یعنی کبھی ایک خوراک دی جائے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–7

2۔ (کہ یہی دو مقصد غذا کے ہوسکتے ہیں) (آیت) ” لیس ...... ضریع “۔ طعام کا حصر آیت میں حصر اضافی ہے، مقصود صرف ایسی غذاؤں کی نفی ہے، جو جزوبدن بن سکیں، کھانے کے لائق ہوں، معدہ وطبیعت کے لیے قابل قبول ہو کر بھوک کی تکلیف دور کرسکیں، (آیت) ” عاملۃ ناصبۃ “۔ لفظی معنی نساک اہل کتاب مروی ہیں، یعنی اہل کتاب میں سے بڑی بڑی ریاضتیں کرنے والے۔ ھولآء النساک من الیھود والنصاری کمااخرجہ ابن ابی حاتم عن ابن عباس ؓ (روح) اور انہیں ابن عباس ؓ صحابی سے متعلق صحیح بخاری میں یہ مذکور ہے کہ آپ ان الفاظ سے نصاری مراد لیتے ہیں۔ وقال البخاری قال ابن عباس ؓ عاملۃ ناصبۃ النصاری (ابن کثیر) بعض نے وسعت دے کر کل اہل باطل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–8

لیس لھم طعام الامن ضریع قرآن مجید میں کہیں فرمایا گیا کہ دو زخیوں کو زقوم کھانے کو دیا جائے گا اور کہیں ارشاد ہوا کہ غسلین ملے گا اور یہاں فرمایا گیا کہ انہیں (ضریع) خار دار سوکھی گھاس کے سوا کچھ کھانے کو نہ ملے گا ان میں درحققیت کوئی تضاد نہیں ہے، مطلب یہ ہے کہ جہنم کے بہت سے درجے ہوں گے جن میں مختلف قسم کے مجرمین اپنے جرائم کے لحاظ سے ڈالے جائیں گے اور ان کو مختلف قسم کے عذاب دیئے جائیں گے، اس سے یہ شبہ دور ہوگیا کہ دوزخیوں کو دوزخ میں مختلف قسم کی غذائیں دی جائیں گی ؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اور اس آیت میں حصر کے ساتھ فرمایا گیا کہ ان کو ضریع کے علاوہ کچھ نہ ملے گا یہ حصر حقیقی نہیں بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لیس لھم طعام الا من ضریع . ان کی خوراک ضَرِیْع کے علاوہ کچھ نہ ہوگی۔ عبداللہ بن احمد نے باسناد نہشل ( علیہ السلام) ضحاک کی روایت سے حضرت عبداللہ بن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضریع ایک چیز ہے ایلوے سے زیادہ تلخ ‘ مردار سے زیادہ بدبو دار اور آگ سے زیادہ گرم ‘ شوک یعنی کانٹے کی طرح ہوگی۔ جب کسی کو کھلائی جائے گی تو نہ اس کے پیٹ میں اترے گی ‘ نہ منہ تک اٹھ کر آئے گی (بیچ میں پھنس جائے گی) نہ فربہی پیدا کرے گی ‘ نہ بھوک کو دفع کرے گی اور اس کے درمیان اس کو (کھولتا) پانی پلایا جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول بیان کیا ہے کہ ضریع زقوم (تھوہر) ہے۔ ترمذی اور بیہقی نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–7

(4۔ 7) اور پھر جہنم میں داخل ہوں گے اور دوزخ میں کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلائے جائیں گے اور ان کو ماسوائے ایک خاردار درخت کے اور کوئی کھانا نصیب نہیں ہوگا، ضریع یہ مکہ کے راستہ میں ایک خاردار درخت ہے جب یہ ہرا اور تازہ ہوتا ہے تو اسے اونٹ کھاتے ہیں اور خشک ہوجانے کے بعد بلی کے ناخنوں کی طرح ہوجاتا ہے، غرض وہ درخت نہ فربہ کرے گا اور نہ بھوک ہی کو دور کرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 6–10

(لیس لھم طعام الا من ضریع :”ضریع“ ایک خار دار پودا ہے جو تازہ ہو تو اہل حجاز اسے ”شبرق“ کہتے ہیں اور خشک ہو تو ”ضریع“ جو سخت زہریلا ہوتا ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، سورة :(ھل اتاک …) ، بعد ج : 31931)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لیس لھم طعام الامن ضریع۔ لھم کی ضمیر سے مراد جہنمی ہیں جب پہلے ان کے مشروب کا ذکر کیا اب ان کے کھانے کا ذکر کیا عکرمہ اور مجاہد نے کہا، ضریع ایک ایسی جڑی بوٹی ہے جس کے کانٹے ہوتے ہیں جو زمین کے ساتھ لگی ہوتی ہے جب تک وہ تر ہوتوا سے شبرق کہتے ہیں جب وہ خشک ہوجائے تو اسے ضریع کہتے ہیں کوئی جانور اور چوپایہ اس کے قریب نہیں جاتا اور نہ ہی اسے کھاتا ہے وہ قاتل زہر ہے یہ سب سے خبیث اور براکھانا ہے عام مفسرین کی یہی رائے ہے مگر ضحاک کی رائے مختلف ہے اس نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جسے سمندر باہر پھینکتا ہے جسے ضریع کہتے ہیں یہ انسانوں کی بجائے حیوانوں کی خوراک ہے جب اونٹ اسے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–8

14۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیس لہم طعام الا من ضریع ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا یعنی کانٹے دار اور خشک۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش کی لغت میں ضریع کو موسم بہار میں شبرق کہتے ہیں جس کا معنی ہے کانٹے دار جھاڑ اور گرمی کی موسم میں ضریع کہتے ہیں۔ 16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سے مراد ہے شبرق جو کانٹے دار بوٹی جو زمین پر بچھی ہوتی ہے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سلم کو کہتے ہیں اور یہ کانٹے ہوتے ہیں اور وہ کیسے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ: نہیں ہوگا ان کے لیے کوئی کھانا ][ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ : مگر ایک خاردار درخت سے ] (آیت۔ 6) وُجُوْہٌ کی لفظی رعایت کے تحت لَیْسَ لَھَا آنا چاہیے تھا لیکن یہاں معنوی رعایت کی گئی ہے اس لیے لَھُمْ آیا ہے۔ (آیت۔ 11) لَاغِیَۃً اسم الفاعل کے وزن پر صفت ہے۔ اس کا موصوف محذوف ہے جو کَلِمَۃً ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍۙ006﴾ (ان کے لیے ضریع کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا) ۔ گزشتہ آیت میں ان کے پینے کی چیز بتائی اور اس آیت میں ان کا کھانا بتایا۔ لفظ ضریع کا ترجمہ خاردار جھاڑ کیا گیا ہے۔ صاحب مرقاۃ لکھتے ہیں : ” ضریع “ حجاز میں ایک کاٹنے دار درخت کا نام ہے، جس کی خباثت کی وجہ سے جانور بھی پاس نہیں پھٹکتے۔ اس کو کھالے تو مرجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : الضریع شی فی النار شبہ الشوک امر من الصبرو انتن من الجیفة واشد حرًا من النار۔ (معالم التنزیل) یعنی ضریع دوزخ میں ایک ایسی چیز ہوگی جو کانٹوں سے مشابہ ہوگی ایلوے سے زیادہ کڑوی اور مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–7

5:۔ ” لیس لہم “ دوزخیوں کے مشروب کا ذکر کر کے ان کے طعام کا ذکر فرمایا۔ ” ضریع “ ایک خاردار پودا ہے زمین پر مفروش، نہایت زہریلا کوئی جانور یا چوپایہ اس کے قریب بھی نہیں جاتا۔ سرسبز ہو تو شبرق اور خشک ہونے پر ضریع کہلاتا ہے۔ قال عکرمۃ و مجاھد الضریع نبت ذو شوک لاصق بالارض تسمیہ قیش الشبرق اذا کان رطبا، فاذا یبس فھو الضریع، لاتقربہ دابۃ ولا بھیمۃ ولا ترعاہ، وھو سم قاتل، وھو اخبث الطعام واشنعہ، علی ھذا عامۃ المفسرین (قرطبی ج 20 ص 29) ۔ دوزخیوں کو کھانے کے لیے ضریع کی قسم کا خاردار اور بدبودار نہایت زہریلا پودا دیا جائے گا جو کھانے والے کو موٹا کرے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–16

(نام اور کوائف ) اس سورة کا نام سورة الغاشیۃ ہے۔ اس کی پہلی آیت میں غاشیہ کا لفظ مذکور ہے ۔ اسی سے سورة کا نام ماخوذ ہے ۔ یہ سورة بھی مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھبیس 26 آیات ہیں ۔ یہ سورة بانوے 92 الفاظ اور تین سو اکیاسی 181 حروف پر مشتمل ہے۔ (موضوع) سابقہ سورتوں کی طرح اس سورة میں قیامت ہی کا ذکر ہے۔ گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر کیا تھا ۔ ایک وہ گروہ جس کے دل میں خدا کا حوف موجود ہے ۔ وہ تو قرآن کریم کی نصیحت کو حاصل کرے گا ۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو بدبخت ہے۔ وہ قرآن پاک کی نصیحت سے کنارہ کش رہے گا ۔ ان دو گروہوں کے ذکر کے بعد اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَيْسَ لَہُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ۝ 6 ۙ طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا [ الأحزاب/ 53] ، وقال تعالی: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–7

ترکیب ¦ ھل بمعنی قد وبہ قال قطرب وقیل استفہامیۃ الغاشیۃ القیامۃ وسمیت بھا لا نھا تغشی الخلائق باھوالھا وقال سعید بن جبیر و محمد بن کعب الغاشیۃ النار تغشی وجوہ الکفار وعن ابن عباس انھا من اسما القیامۃ وعنہ انھا الساعۃ وجوہ الخ الجملۃ مستانفۃ وجوہ مرفوع علی الابتداء وان کان نکرۃ لوقوعہ فی مقام التفصیل خاشعۃ خبرہ۔ یومئذ ظرف للخبر۔ عاملۃ وصف لھا وکذانا صبۃ تصلی قراء الجمہور بفتح التاء مبنیا للفاعل وقریٔ بضمھا مبینا للمفعول والضمیر راجع الی الوجوہ والمرادواصحابھا وھی خبر آخر للمبتداء وکذ الشقی لیس لہم الجملۃ مستانفۃ لبیان حال اھل النار الامن ضریع یجوزان یکون فی موضع نصب علیٰ اصل الباب وان یکون…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 6–7

لَیْسَ لَہُمْ طَعَامٌ اِلاَّ مِنْ ضَرِیْعٍ ۔ لاَّیُسْمِنُ وَلاَ یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ ۔ (الغاشیۃ : 6، 7) (ان کے کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ہوں گے۔ جو نہ موٹا کریں گے اور نہ بھوک ہی کو مٹائیں گے۔ ) ضَرِیْعٍ ، ایک خاردار زہریلی جھاڑی ہے جس کو کوئی جانور نہیں چھوتا۔ اہلِ جہنم کی غذا ان بدنصیبوں کو پینے کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی ملے گا اور کھانے کو صرف جھاڑ کانٹے ملیں گے۔ اس سے یہ غلط فہمی نہ ہو کہ قرآن کریم کے بیان میں تضاد معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سورة دخان میں فرمایا گیا ہے کہ ان شجرۃ الزقوم۔ طعام الاثیم ” بیشک زقوم کی جھاڑی گنہگاروں کی غذا ہوگی۔ “ سورة الحاقہ میں فرمایا گیا ہے ولاطعام الا من غسلین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–7

فہم القرآن ربط سورت : الاعلیٰ کے آخر میں اچھے اور برے انجام کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ آخرت ہر اعتبار سے بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے اس کا ذکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے صحائف میں بھی موجود ہے۔ الغاشیہ میں برے لوگوں کی سزا اور نیک لوگوں کی جزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ الغاشیہ کا معنٰی ہے ہر طرف سے لوگوں کو ڈھانپ لینے والی۔ قیامت کی ہولناکیاں اور اس کے اثرات اس قدرہمہ گیر ہوں گے کہ جاندار تو درکنار زمین و آسمانوں کی کوئی چیز بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گی۔ قیامت کی ہمہ گیر شدّت اور ہولناکیوں کو واضح کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ کیا آپ کے پاس ہر چیز پر چھا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ (ان کو سوائے ایک خار دار جھاڑی کے اور کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا) ضریعٌؔ یہ ایک نبات ہے جس کے تروتازہ پودے کو اشُبْرِقْ بولتے ہیں۔ جب وہ خشک ہو تو ضریع کہلاتا ہے۔ وہ ہلاک کن زہریلا ہوتا ہے۔ اقسامِ عذاب : عذاب کئی اقسام کے ہونگے اور معذب لوگوں کے بھی طبقات ہونگے۔ ان میں بعض زقوم کھائیں گے۔ بعض غسلین کھائیں گے۔ بعض کو ضریع کھانے کو ملے گی پس اس آیت اور دوسری آیت میں تناقض نہیں۔ وَلَا طَعَامٌ اِلَّامِنْ غِسْلِیْنٍ ۔ ] الحاقۃ : 36 [

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔ تو فرمایا ” لیس لھم طعام الا من ضریع “۔ ضریع کی تفسیر مجاہد، عکرمہ اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ کانٹوں والے پودے زمین سے چمٹے ہوئے ۔ اس کا نام قریش شبرق رکھتے تھے۔ پھر جب خشک ہوجاتا تو اس کا نام ضریع رکھتے اور یہ خبیث ترین کھانا اور بدمزہ ہوتا ہے اور یہ عوفی کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں جب وہ خشک ہوجاتا ہے تو جانور اس کے قریب نہیں جاتے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں بہرحال دنیا میں تو ضریع خشک کانٹے ہوگئے ہوں اس کے پتے ہوں اور وہ آخرت میں آگ کے کانٹے ہوں گے۔ حدیث میں ابن عباس ؓ سے آیا ہے کہ ضریع جہنم میں ایک چیز ہے جو کانٹوں کے مشابہ ہے۔ ایلوہ (کوڑتما) سے زیادہ کڑوا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حضرت عبد اللہ بن 3 ؎ عباس کے قول کے موافق غاشیۃ قیامت کا نام ہے غشاء کے معنی پردے کے ہیں قیامت کی سختیاں لوگوں کی عقل اور ان کے حواس پر پردہ کی طرح چھا جائیں گی جس سے وہ بالکل بدحواس ہوجائیں گے اس لئے قیامت کو غاشیہ کہا گیا۔ آدمی کے اعضاء میں منہ ایک بڑی دکھاوے کی چیز ہے اس لئے منہ کا ذکر کرکے سارا بدن اس سے مراد لیا گیا ہے اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ھل کے معنی قد کے ہیں حاصل یہ ہے کہ اے نبی اللہ کے قیامت کے دن نیک و بد جو کچھ حالت گزرے گی اس کا حال تم کو اور تمہاری امت کو اکثر آیات قرآنی سے معلوم ہوچکا ہے پھر اس حالت کی تفصیل فرمائی جس کا حاصل یہ ہے کہ اہل دوزخ اس دن طرح طرح سے خوار ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–7

رہا ان کا طعام تو (لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍ ۔ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍ ) خاردار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں ہوگا۔ جو موٹا کرے گا نہ بھوک مٹائے گا۔ یہ اس وجہ سے کہا گیا کہ کھانے سے دو امور میں سے ایک مقصود ہوتا ہے۔ کھانے والے کی بھوک مٹانا اور اس کی بھوک کی تکلیف دور کرنا یا اس کے بدن کو موٹا کرنا اور اس کے کھانے میں دونوں امور کے لیے کوئی فائدہ نہیں بلکہ یہ کھانا کرواہٹ، بدبو اور گھٹیا پن میں انتہا کو پہنچا ہوا ہوگا ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 6–7

(5) دوزخیوں کا کھانا ضریع، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں ان کے لیے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوگا سوائے اس کے "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " ضریع " اصل میں زمین پر پھیلی پڑی ایک خاص قسم کی ایسی خادار گھاس کو کہا جاتا ہے جو کہ خشک ہوچکی ہو، خشک ہونے سے قبل اسے عرب " شبرق " کہتے ہیں۔ یہ نہایت گندی اور بدبودار گھاس ہوتی ہے، قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ بڑی خبیث اور بری خوراک ہوگی جو اہل دوزخ کو کھلائی جائے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ ( روح، قرطبی، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر اور خازن وغیرہ) یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اہل دوزخ کے لیے جو " ضریع " کی خوراک کا ذکر یہا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–16

دوزخ کی سختیاں اور جنت کے نظارے تشریح : ان آیات میں جو مرنے کے بعد زندہ ہونا ' قیامت کا آنا میدان حشر میں لوگوں کی حالت ' اچھے لوگوں کا پر سکون ہونا ' بہترین زندگی کی خوشخبری ' جنت کا آنکھوں دیکھا نقشہ بیان کرنا ' اسی طرح برے لوگوں کی پریشانی اور ان کو ملنے والے عذاب جہنم کا نقشہ کھینچنا یہ سب غیب کی باتیں ہیں جو اللہ قادر مطلق الہ العٰلمین نے کتاب مقدس قرآن پاک میں بتائی ہیں۔ کیونکہ بتانے والا بھیجنے والے کا بہترین نبی آخر الزمان ہیں اور لانے والا اللہ کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبرائیل امین اور وہ کتاب کہ جس کی قسم اللہ نے خود اٹھائی ہے کہ ہرگز نہ بدلنے والی بہترین کتاب ہدایت اور تمام کائنات کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–26

سورة الغاشیہ۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ آپ ﷺ کو قیامت کا حال سنائیں جو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اس روز بہت سے چہروں پر ذلت چھارہی ہوگی جو دنیا میں محنت ومشقت اور مجاہدوں اور ریاضات کی تھکن سے چور ہوکرحشر میں پہنچیں گے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں ڈالے جائیں گے اور کھولتا ہواپانی پینے کو اور اذیت ناک چیزیں کھانے کو دی جائیں گی جن سے نہ تو بھوک ہی ختم ہوگی اور نہ بدن کی تعمیر کا کام کریں۔ شریعت حقا کے خلاف مجاہدے دنیا میں مشقت اور آخرت میں عذاب کی ذلت کا سبب ہیں۔ یعنی غذا بھی ایک صورت عذاب ہی کی ہوگی مراد کفار ہیں جو زندگی بھر مشقت اٹھا کر دنیاحاصل کرتے ہیں اور آخرصرف تباہی نصیب ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یہ کہ ایک کانٹے دار جھاڑی ہے۔ قریش کی زبان میں اگر تر ہو تو اسے شبریق اور سوکھ جائے تو ضریع کہا جاتا ہے۔ وہ سوکھ کر اس قدر زہریلی اور بدبو دار ہوجاتی ہے کہ کوئی جانور اس کے قریب تک نہیں جاتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(88:6) لیس لہم طعام الا من ضریع لا یسمن ولا یغنی من جوع۔ یہ جملہ مستانفہ ہے اہل نار کے حال کے بیان میں۔ حال ان کا یہ ہوگا کہ ان کی خوراک ضریح کے علاوہ کچھ نہ ہوگی۔ ضریع کے متعلق حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ :۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ ضریع ایک چیز ہے ایلوے (ناگ پھنی خاندان کا ایک پودا) سے زیادہ تلخ، مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے زیادہ گرم۔ شوک یعنی کانٹے کی طرح ہوگی۔ جب کسی کو کھلائی جائے گی تو نہ اس کے پیٹ میں اترے گی نہ منہ تک اٹھ کر آئے گی۔ (بیچ میں پھنس جائے گی) نہ فربہی پیدا کرے گی اور نہ بھوک کو دفر کرے گی اور اس کے درمیان اس کو (کھولتا ہوا) پانی پلایا جائے گا۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–26

لغات القرآن۔ الغاشیۃ۔ ڈھانپ لینے والی ( قیامت) ۔ عین انیۃ۔ کھولتا چشمہ۔ ضریع۔ کانٹے والی گھاس۔ لا یسمن۔ نہ موٹا کرے گا۔ ناعمۃ۔ تروتازہ۔ نمارق۔ گائو تکیے، موٹے گدے۔ زرابی۔ گدے۔ مبثوثۃ۔ بکھرے ہوئے۔ پھیلے ہوئے۔ الابل۔ اونٹ۔ خلقت۔ بنایا گیا۔ پیدا کیا گیا۔ رفعت۔ بلند کیا گیا۔ نصبت۔ جما دیا گیا۔ سطحت ۔ بچھائی گئی۔ مصیطر۔ مسلط ہونے والا۔ حاکم۔ ایاب۔ پلٹنا۔ تشریح : قرآن کریم میں قیامت کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک نام ” غاشیہ “ بھی ہے۔ غاشیہ کے معنی چھپالینے، چھا جانے اور ہوش و حواش اڑا دینے والی کے آتے ہیں یعنی ایک ایسی اچانک آفت جو نظام کائنات کو درہم برہم کرکے ہر چیز کو اپنے اندر چھپا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

(ف 1) جب دوزخ کی گرمی ان کے باطن میں سخت تشنگی پیدا کرے گی بےاختیار پیاس پیاس پکاریں گے کہ شاید پانی پینے سے یہ تشنگی دور ہو، اس وقت ایک گرم کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی دیاجائے، اور جب وہ پانی پلایاجائے گا انتڑیاں کٹ کر گرپڑیں گی اور وہی پانی ان کے سرپرڈالا جائے گا جس سے جسم کے اندر تک حرارت پہنچ کر دل اور جگر سب نکل پڑے گا پھر ہر دوزخی کو اصلی حال پر لایاجائے گا اور اسی طرح ہمیشہ عذاب میں گرفتار رہیں گے، اور جب دوزخی بھوک کے عذاب سے جلائیں گے تو یہ کانٹوں دار گھانس ان کو نگلائی جائے گی جو تلخی میں ایلوئے سے زیادہ اور بدبو میں مردار سے بدتر اور گرمی میں آگ سے بڑھ کر ہے جب ان کے حلق میں پھنس جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 2–19

[2] چہروں سے مراد لوگ ہیں، ان کو چہروں سے تعبیر کیا گیا ہے کہ مقصود ان کی اندرونی کیفیات کو ظاہر کرنا ہے اور کیفیات کا نمایاں اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–21

سورة الغاشیۃ قیامت کے کئی نام قرآن میں آئے ہیں اور سب کو اس کی مختلف خصوصیات پر دلالت کرتے ہیں ۔ خاشیہ کے معنی ڈھانپ لینے اور چھا جانے کے ہیں ۔ مناسبت یہ ہے کہ قیامت کیا حوال اور شدائد کسی شخص کو بھی مستثنیٰ نہیں کریں گے اور ہر ایک کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ان سے دوچار ہو خاشیہ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ دن فیصلہ اور احتساب کا ہوگا ۔ کچھ چہرے ایسے ہوں گے کہ ان پر ذلت برس رہی ہوں گی اور دنیا میں انہوں نے جتنے کام کئے تھے ، آج یہ محسوس کریں گے کہ وہ بجز القب اور بوجھ کیا ور کوئی حیثیت نہیں رکھتے ۔ غذا ان کی ناقص اور تکلیف دہ ہوگی ۔ پانی ملے گا تو وہ کھولتا ہوا ۔ اور کھانا پائیں گے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کا کھانا سوائے خار دار جھاڑ کے اور کچھ نہ ہو گا 6 ؎ (ضریع) خار دار جھاڑ ۔ کانٹے ہی کانٹے۔ چناچہ صحیح بخاری میں ہے کہ ( ضریع) ایک گھاس ہے جس کو شبرق بھی کہا جاتا ہے اور یہی گھاس جب سوکھ جاتی ہے تو اہل حجاز اس کو ( ضریع) سے موسوم کرتے ہیں اور یہ ایک قسم کا زہر ہے۔ ( بدر الدین یمنی) ایک بدبودار گھاس ہے جس کو سمندر کنارے پر ڈال دیتا ہے۔ ( عمدۃ القاری) خیال رہے کہ اس جگہ سورة الغاشیہ ہی میں ( ضریع) کا لفظ آیا ہے جس کا مفہوم اوپر بیان کیا گیا ورنہ دوسری جگہ قرآن کریم میں اس کو ( شجرۃ الزقوم) (44 : 43) (من شجر من زقوم) (56 : 52) اور زقوم کو ہمارے ہاں تھوہر (Cactus) سے موسوم کیا جاتا ہے جو کانٹے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ (There will be no food for them except from a thorny plant...88:6) The only food available for the inmates of Hell would be dari`. In the world, this is a kind of thorny grass that spreads on the ground. No animal goes near it. It is foul-smelling, poisonous and thorny. [ As interpreted by ` Ikrimah, Mujahid, and quoted by Qurtubi ]. How will Grass or Tree Survive in Hell One may ask the question that the grass or trees are among things that burn in fire. How will they survive in Hellfire? The answer is that the Supreme Creator Who cherished and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–8

3 At some places in the Qur'an it has been stated that the dwellers of Hell will be given zaqqum to eat; at another place it has been said that they will have no other food but glhislin (washing from wounds) , and here that "their only food will he thorny, dry grass." There is, in fact, no contradiction between these statements. This may as welt mean that Hell will have many different compartment in which different categories of the criminals will be lodged according to their crimes, and subjected to different punishments. This may also mean that if they try to avoid zaqqum they will be given…

Read the full tafseer →